Baaghi TV

Category: متفرق

  • دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    دولت عثمانیہ کا آغاز و ارتقا .تحریر: محمد سمیع اللہ

    عثمانیوں کا تعلق ایک ترکمانی قبیلے سے ہے۔ جو ساتویں صدی ہجری بمطابق تیرھویں صدی عیسوی کو کردستان میں آباد تھا۔ اور پیشے سے چرواہا تھا۔ چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولیوں نے عراق اور ایشیائے کوچک کے مشرقی علاقوں میں حملے کئے تو عثمان کا دادا سلیمان اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کر کے کردستان سے اناضول کے علاقوں میں ا بسا اور اخلاط کے شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ یہ 617ھ 1220ء کی بات ہے عثمان کا دادا سلیمان 627ھ بمطابق 1230ء کو فوت ہوا اور اپنے منجھے بیٹے ارطغرل کو اپنا جانشین بنایا ارطغرل اناضول سے شمال مغرب کی جانب مسلسل بڑھتا رہا اسکے ساتھ تقریبا سو خاندان اور چار سو سے زائد شہسوار تھے۔
    عثمان کا والد ارطغرل جب منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لئے یہاں سے نکلا تو اس وقت اسکے ساتھ چار سو کے قریب خاندان تھے۔ راستے میں ایک جگہ اچانک شوروغوغا بلند ہوا۔ ارطغرل جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ مسلمانوں اور نصرانیوں کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہے اور بیزنطنی عیسائی مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ ارطغرل کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اپنی پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ آگے بڑھے اور اپنے ہم مذہب و ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے۔ ارطغرل نے اس زور سے حملہ کیا کہ نصرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور اسکی پیش قدمی مسلمانوں کے لئے فتح کا سبب بن گئی۔ جب معرکہ کارزار ختم ہوا تو سلجوقی اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے ارطغرل اور اسکے دستے کی بروقت پیش قدمی کی تعریف کی اور انہیں رومی سرحدوں کے پاس اناضول کی مغربی سرحدوں میں ایک جاگیر عطا کی۔ اس طرح انہیں موقع دیا کہ وہ رومی علاقوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سلجوقی سلطنت کی توسیع کا موجب بنے۔ سلجوقیوں کو ارطغرل اور اسکے قبیلے کی صورت میں ایک طاقتور حلیف مل گیا۔ جنہوں نے رومیوں کی خلاف جہاد میں انکا پورا پورا ساتھ دیا۔اس ابھرتی ہوئی سلطنت اور سلاجقہ روم کے درمیان ایک گہرہ تعلق پیدا ہو گیا جس کا سبب رومی تھے جو انکے مشترکہ دشمن تھے اور مذہب و عقیدہ میں انکے مخالف تھے۔
    ارطغرل جب تک زندہ رہا محبت کا یہ تعلق باقی رہا۔ارطغرل کی وفات کے بعد اسکے بیٹے نے بھی سلطنت سلجوقیہ کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
    عثمان کی پیدائش::
    656ھ بمطابق 1258ء کو ارطغرل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام عثمان رکھا۔اسی عثمان کی طرف عثمانی سلطنت منسوب کی جاتی ہے۔ یہ اسی سال کی بات ہے جب ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا۔ بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔مسلمانوں نے بڑی بڑی مصیبتیں دیکھی۔ منگولوں نے شہر میں تباہی مچا دی۔
    انہوں نے مرد عورتیں بزرگ بچے حتی کہ جو بھی ملا اسے قتل کر ڈالا سوائے نصرانیوں کہ یا ان لوگوں کہ جنہوں نے ان کے ہاں پناہ لی۔
    یہ بہت واقعہ اور عظیم حادثہ تھا۔ جس سے انت مسلمہ کو گزرنا پڑا۔ ایک ایسی امت جو اپنی نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے کمزور ہو گئی۔ اور اسکی طاقت جاتی رہی۔تاتاریوں نے دل کھول کر خون ریزی کی اور بےشمار انسانیت کو قتل کیا۔مال و دولت کو لوٹا۔ گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ان مشکل حالات میں جب امت مسلمہ کڑے وقت سے گزر رہی تھی دولت عثمانیہ کا مؤسس عثمان پیدا ہوا ۔
    عثمان میں اعلی قائدانہ صلاحیتیں

    شجاعت و حوصلہ مندی: جب بیزنطینوں نے مورصہ، مادانوس، ادرہ، نوس، کتہ، کستلہ، کے نصرانی امراء کو 700ھ 1301ء میں دولت عثمانیہ کے مؤسس عثمان سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معاہدہ تشکیل دینے کی دعوت دی اور نصرانی امراء نے انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نوزائدہ سلطنت کو ختم کرنے کے لئے ایکا کر لیا۔تو عثمان اپنی فوجوں کو لیکر آگے بڑھا خود جنگوں میں گھس گیا اور صلیبی فوجوں کو تتر بتر کر کے شجاعت و بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا کہ عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی۔
    حکمت و دانائی:
    عثمان جب اپنی قوم کا رئیس اعظم مقرر ہوا تو اس نے بڑی عقل ودانائی کا مظاہرہ کیا اور سلطان علاء الدین کی نصرانیوں کے خلاف مدد کی۔ بہت سے ناقابل شکست شہروں اور قلعوں کو فتح کرنے میں اسکے ساتھ رہا اسی وجہ سے دولت سلاجقہ روم کے فرمانروا سلجوقی سلطان علاءالدین نے اسے بڑی عزت دی اسے اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور اپنے ماتحت علاقوں میں اپنے نام کا خطبہ پڑھنے کی اجازت دی۔
    اخلاص و اللہیت : عثمان کے زیر نگیں علاقوں کے قریب بسنے والے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ دین اسلام کا ایک مخلص سپاہی ہے تو وہ اسکی مدد کو کمربستہ ہو گئے اور ایک ایسی اسلامی سلطنت کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے متحد ہو گئے جو اسلام دشمن سلطنت کے سامنے نا قابل عبور دیوار بن کر کھڑی ہو گئی
    صبر واستقامت:
    جب عثمان نے قلعوں اور شہروں کو فتح کرنا شروع کیا تو یہ صفت ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر سامنے آئی 707ھ میں اس نے یکے بعد دیگرے کتہ، لفکہ، اق، حصار، قوج حصار کے قلعے فتح کئے۔ 712ھ میں کبوہ، یکیجہ طراقلوا اور تکرر بیکاری وغیرہ قلعے فتح کیے۔
    عدل وانصاف:
    اکثر ترکی مراجع جنہوں نے عثمانیوں کی تاریخ قلم بند کی ہے بتاتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے بیٹے بانی دولت عثمانیہ قرہجہ حصار میں قاضی مقرر کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب 684ھ 1285 ء میں مسلمانوں کا اس شہر پر قبضہ ہوا۔عثمان نے ایک جھگڑے میں ایک مسلمان کی خلاف فیصلہ سناتے ہوئے بیزنطنی نصرانی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔بیزنطینی کو اس سے بڑا تعجب ہوا اور اس نے عثمان سے پوچھا کہ آپ نے میرے حق میں کیسے فیصلہ سنا دیا جبکہ میں آپ کے دین پر نہیں ہوں تو عثمان نے اسے جواب دیا کہ ہمارا دین ہمیں انصاف کرنے کا کہتا ہے تو میں کیسے نہ انصاف کروں عثمان کے اس عدل و انصاف کی بدولت اس شخص اور اسکی قوم کو ہدایت نصیب ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
    وعدہ کی پابندی:
    وعدہ کی پاسداری کا انہیں بڑا خیال تھا وہ جو وعدہ کرتے پورا کرتے۔ قلعہ اولوباد کے بازنطینی امیر نے جب عثمانی سپاہ کے ہاتھ میں قلعے کی چابیاں دیں تو یہ شرط عائد کی کہ کوئی عثمانی سپاہی پل سے گزر کر قلعے میں داخل نہیں ہو گا۔ عثمان نے اسکا پورا پورا التزام کیا اور اسکے جانشینوں نے بھی اس عہد کو نبھایا۔
    عثمان کا دستور حکمرانی:
    دولت عثمانیہ کے بانی عثمان کی زندگی جہاد اور دعوت دین کے لئے عبارت تھی۔ علماء اسلام امیر کو گھیرے رکھتے تھے اور سلطنت میں شرعی احکام کی تنفیذ اور انتظامی امور کی

  • ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

    ‏افغان باشندے یا افغان طالبان یہ دونوں ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ روس جب اسی کی دہائی میں افغانستان کو فتح کرنے آیا تو امریکہ نے افغان لوگوں کو وہاں کے باشندے قرار دیا اور انکی مدد کی تاکہ روس کو شکست ہو۔ البتہ ایسا ہوا بھی لیکن امریکہ کی مدد سے زیادہ افغان باشندوں کی جنگجو سوچ نے مدد کی اور انہوں نے اس وقت کے بہترین روسی ٹینکس کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا اور روس کو شکست فاش ہوئی اور بدلے میں روس کو اپنی ریاستوں سے ہاتھ دوھونا پڑا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی افغانی باشندے طالبان کہلائے گئے۔ روس تو چلو دس سال رہا افغانستان میں لیکن امریکہ تقریبا بیس سال رہا اور اسکی جنگی صلاحیت روس سے بھی زیادہ طاقتور تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہی جو روس کے ساتھ ہوا لیکن روس نے تو کوئی مدد نہیں کی اس بار امریکہ کے خلاف تو امریکہ کس کو الزام دے سکتا ہے اپنی شکست کا؟ امریکہ کو شکست اس لئے ہوئی کہ اس بار بھی امریکہ فوج کی لڑائی طالبان سے نہیں بلکہ افغانی باشندوں سے تھی جو کبھی ہار نہیں مانتے۔ اب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو طالبان یعنی افغانی باشندوں کو سول جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

    مگر حقیت بلکل اس کے برعکس ہے۔ امریکہ سے زیادہ طالبان نے سیکھا ہے اس جنگ سے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات اتنے اچھے سے استعمال کیے کہ امریکہ کا کوئی مطالبہ بھی امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے مطالبات بھی منوا لئے اور امریکہ کو معاہدے کا پابند بھی کرلیا۔ اب نیٹو ممالک کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان سول حکومت کو گرا کر لوگوں کا خون بہائیں گے جو کہ بلکل غلط ہے۔ اصل میں یہ امیج اشرف غنی نے بنایا ہے طالبان کا مگر جن شہروں پر طالبان نے اب قبضہ کیا ہے وہ وہاں موجود لوگوں کی مدد سے کیا ہے اور زیادہ تر شہروں میں ایک قطرہ خون بھی نہیں بہا۔ اس سے صاف ظاہر ہے اگلے الیکشن میں حکومت طالبان کی ہوگی یعنی اصل میں لوگوں کی منتخب کی گئی حکومت۔ اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اس حکومت کو قبول کرے گا تو یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہاں قبول کرے گا آج نہیں توکل۔ اس ایشیائی خطے میں اگر امن قائم رکھنا ہے تو امریکہ اور بھارت کا اثرورسوخ ختم کرنا ہوگا جو کہ امریکہ کے جانے سے ہوجائے گا۔ساری عسکریت پسندی اور شدت پسندی بھارت اور امریکہ کے تعاون سے کی گئی اور اس خطے کا امن برباد کرکے اسلحہ کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مجھے یقین ہے طالبان کی حکومت سے لوگوں کے حالات بدلیں گے اور اسکا اثر پاکستان پر یقینا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جیسے بھی ہوں وہ ہوتے تو بھائی بھائی ہی ہیں نا.

  • تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    تبدیلی یا دھوکہ، تحریر:نوید شیخ

    اب پتہ نہیں یہ افواہ ہے یا یہ خبر جان بوجھ کر گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پھیلائی جا رہی ہے ۔ کہ عمران خان نے اپنے چند انتہائی بااعتماد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد قبل از وقت انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ اور شاید اس سال کے آخر میں یا پھر اگلے سال کے آغاز میں نئے الیکشن ہو جائیں ۔

    ۔ یہ بھی دیکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کے وزراء میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعے ایک نیا ’’بیانیہ‘‘ تشکیل دیتے نظر آرہے ہیں۔ جس میں اپوزیشن کو ہمشیہ کی طرح ’’چور اور لٹیرے‘‘کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اپنے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے کرنا تو بہت کچھ تھا مگر حالات ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتیں بگاڑ پیدا ہی بہت زیادہ کرگئی ہیں ۔ پر عمران خان ڈٹ گیا ہے ۔ وہ ان چوروں اور لیٹروں کے سامنے نہیں جھک رہا ہے ۔۔ یہاں تک کہ عمران خان امریکہ کیا ، بھارت کیا ، کسی کو گھاس نہیں ڈال رہا ہے ۔ اور پھر وہ ہی جنرل مشرف والا فارمولا لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے لیے pakistan first ہے ۔ یہ مسلسل گزشتہ کئی روز سے انٹرویو دیے گئے ہیں جس کا واحد ایجنڈا امریکہ ، افغانستان اور بھارت تھا اس کے بعد سے ٹیم عمران خان کپتان کو ایسا رہنما ثابت کرنے پر لگی ہوئی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا ناکہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا ۔۔۔جو نہ امریکہ کے آگے جھکتا ہے ۔ نہ مودی کی پرواہ کرتا ہے ۔ نہ کسی مافیا سے ڈرتا ہے ۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کی سنتا ہے ۔ اور نہ ہی پارٹی میں کسی بغاوت سے گھبراتا ہے ۔

    ۔ سچی بتاوں تو مجھے نہیں پتہ کہ عمران خان قبل ازوقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم نہیں کہ امریکہ کے سامنے وہ یوں ہی ڈٹے رہیں گے یا نہیں ۔ ۔ پر اس سب شور شرابے ، قصے کہانیوں اور سازشوں کے بیچ میں ایک مسئلہ ہے جس پر جان بوجھ کر کسی کی نظر نہیں جانے دی جارہی ہے ۔ وہ ہے روز بروز عوام کی زندگی اجیرن ہونا ۔ صرف بجٹ پیش ہونے اور بجٹ پاس ہونے کے آس پاس کے پندرہ دنوں میں پیٹرول دو دفعہ مہنگا ہوگیا ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر نہ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے نہ یہ معلوم کہ یہ لوڈ شیڈنگ ختم کیسے ہوگی ۔ ۔ لوگوں اور میڈیا کو گول گول دوسری چیزوں میں گھمانے کا ایک گھن چکر جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے اقتدار کے روز اوّل سے عمران حکومت بازار میں کسادبازاری لائی۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بجلی ، پیڑول اور گیس کی قیمتوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوا۔ روزمرہّ استعمال کی اشیائے کی بڑھتی قیمتوں نے صرف کم آمدنی والوں کی ہی کمر نہیں توڑی اچھے اچھوں کے چینخیں نکوا دی ہیں ۔۔ اگر ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو عمران خان کو قبل از وقت انتخاب بارے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

    ۔ کیونکہ اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ جب جب وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سب سے مشکل چیلنج ہے اور ساتھ ہی یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ تو گھی اور آئل کی قیمت میں سات روپے فی کلو اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ عوام نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو موقع ہی اس لیے دیا تھا کہ یہ مہنگائی سے نجات دلائے گی کرپشن کا خاتمہ کرے گی اور کڑا احتساب کرے گی ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو زبوں حال معیشت ملی تھی۔ پر اب حکومتی عوؤں کے مطابق اس میں مضبوطی آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ پر اب بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے کہ معیشت اس سے کہیں زیادہ تباہ ہو چکی ہے جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تین سال سے مہنگائی پر قابو پانے کی امید دلائی جا رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ نہ صرف قابو میں نہیں آ رہی بلکہ مزید بھی پھن پھیلائے جا رہی ہے۔ ادھر بیروزگاری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    ۔ مجھے تو یہ ایک لطیفہ لگتا ہے پتہ آپ اس کو کیسے لیتے ہیں ۔ اگر آپکو یاد ہو تو ان چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی اسمبلی میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔پتہ نہیں اب انھوں نے ٹیکس لگایا ہے یا نہیں پر ہر چیز اپنے آپ مہنگی ضرورہورہی ہے ۔ چاہے پھر وہ آٹا ہو ، چینی ہو ، دالیں ہو یا سبزیاں اور پھل ہوں ۔ ۔ کہا گیا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا مگر بجٹ کے دوسرے دن انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی۔ بجٹ کے چوتھے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    ۔ اس لیے اب عوام حکومتی گورننس اور وعدوں دونوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو حکومت انتخابات میں عوام سے خیر کی امید نہ رکھے۔ حکومت کو سرپٹ دوڑتے مہنگائی کے گھوڑے کو لگام ڈالنا ہو گی۔ کیونکہ ملکی معیشت کو حکمرانوں کی نظر سے دیکھیں تو سب اچھا کی نوید ہے۔جب کہ غریب طبقے کی آنکھوں سے دیکھیں تو ہر آنے والا دن زندہ رہنے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایک مزدور، دیہاڑی دار، راج مستری، چھوٹا بلڈر، کسی دکان پر بارہ پندرہ سو روپے روزانہ کی ملازمت کرنے والے کے لیے ایک دن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہیں، چائے پراٹھا کے دام بڑھ گئے، تھڑے پر ملنے والی چائے کا کپ تیس روپے کا ہوگیا ہے۔ مسالے مہنگے، دالیں، سبزیاں، ادرک، پیاز، دارچینی، الائچی، سونف، مچھلی، دودھ ، دہی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ کوئی خاتون خانہ ایسی نہیں ملے گی جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ نہ ہو، کاروبار ٹھپ، تاجر پریشان، نان، ڈبل روٹی کے ریٹ ہوشربا ہوگئے ہیں ۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مٹن کو بھول گیا ہے کیونکہ بیف اور چکن بھی اس کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔۔ ان حالات میں جب لوگ اقتصادی ترقی، ڈالروں کی برسات جیسے بیانات سنتے ہیں اور اپنے شب وروز دیکھتے ہیں تو انھیں افسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار زمینی حقائق سے کس قدر بے بہرہ ہیں، یا اتنے سنگ دل اور بے حس ہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ملک میں غریب خانے، مسافر خانے، مفت کھانے کھلا کر ملکی معیشت یا اقتصادی نظام کے مضبوط قلعے نہیں بنا ئے جاسکتے۔ باتیں تو حکمران غربت کے خاتمہ اور ایشین ٹائیگر بننے کی کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کو معاشی آسودگی نہیں دے سکتے۔ مہنگائی کے لیے جس ٹائیگر فورس کو لائے تھے، اس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ کہاں گئی ٹائیگر فورس۔۔ اس حکومت سے عوام کو امیدیں تھیں، شاید اب بھی ہے لیکن کوئی تو ایسی خبر سنائی دے جس سے غریب کو یقین آجائے کہ وہ اچھے دن بھی آئیں گے۔ جس کے خواب عمران خان نے دیکھائے تھے ۔

  • بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 2۔۔۔تحریر: طلعت کاشف سلام

    آج وعدے کے مطابق دوسری قسط لکھنے جا رہی ہوں، اور ان شاءاللہ ابھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔

    اچھا ایک بات سچ سچ بتائیں کیا آپ نے بچپن میں کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کے بھاگے ہیں😅
    یہ شرارت میری ہر روز کی چلتے پھرتے معمول کا حصہ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے، باہر کھیلتے ہوئے کبھی کوئی موقع جانے نہیں دیتی تھی۔
    پاکستان میں جب تھی تو بیل بجا کے معصوم بن کے چلنا شروع کردیتی تھی۔

    اور جب ابوظہبی میں تھی، تو شروع میں بڑی ٹینشن ہوئی کے اب یہ شرارت کیسے کروں، پر جی طلعت بیگم شرارت نہ کریں یہ تو ممکن ہی نہیں تھا اب سوچیں میرے شیطانی دماغ نے کیا طریقہ ڈھونڈا ھو گا۔

    سوچیں سوچیں ہاہاہاہاہاہاہا
    جی جناب ھم ابوظہبی میں اپارٹمنٹس میں رہتے تھے، اور وہاں بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کے بعد انٹرکام ھوتے تھے جیسے یہاں ہوتے ہیں۔ اور اس زمانے میں کیمرے بھی نہیں ہوتے تھے۔ سوچیں میرے شرارتی یا شیطانی دماغ نے کیا سوچا، جی بلکل میں جب نیچے جاتی یا اوپر آتی، آتے جاتے 3 سے 4 لوگوں کو انٹرکام کردیتی۔ وہ فون اٹھا کے ہیلو ہیلو چیختے رہتے اور ھم(میں اور میری بہنیں) سایڈ میں چھپ کے انکے فون بند کرنے کا انتظار کرتے جیسے ہی بند ھوتا واپس جا کے اسے دوبارہ فون مار دیتے، اور پھر باہر جا کے کھیلنا شروع کردیتے، ایک بار تو ایک بندے نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، وہ بیچارہ نیچے تک آگیا اور ھم وہاں معصوم بنے کھیلتے رہے۔ میری بڑی بہن مجھے اس حرکت سے بہت روکا کرتی تھی، پھر جب مزا آتا تو خود بھی ساتھ شامل ھو جاتی تھی۔

    یہ تو تھی ایک شرارت اب شرارت کا دوسرا لیول بھی سنیں، ویسے اب سوچتی ہو تو اپنی حرکتوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کے بیچارے عربیوں، گوروں کے ساتھ ملباریوں کو بھی خوب تنگ کیا، ھمارے سامنے والے اپارٹمنٹ میں ایک امریکن فیملی رہتی تھی، میرے ابو اور پڑوسی دونوں اتصالات میں جوب کرتے تھے۔ ایک دن  انکا نمبر ابو کی ڈائری سے چوری کیا اور اسکے بعد نیچے گروسری شاپ میں فون کرکے پیپسی لانے کا کہا اور اپنے بجائے اسکا فون نمبر اور اپارٹمنٹ نمبر دے دیا، اور جب بیچارہ ملباری پیپسی دینے ایا تو میجک آئی سے انکھ لگا کے باہر دیکھتی رہی ہاہاہاہاہاہاہا وہ بیچارہ سامنے والا بھی اتنا اچھا تھا کے اس نے خاموشی سے پیپسی لے کے اسے پیسے دے دئے، اور جب میں نے یہ دیکھا تو ہر روز یہ کچھ نہ کچھ آرڈر کرنے لگی۔ اور وہ معصوم بس یہی کہتا کے میں نے تو آرڈر نہیں کیا تھا پر چلو تم آگئے ہو تو دے دو۔

    آپ بھی سوچتے ہونگے کے اتنی سوبر دیکھنے والی طلعت بچپن میں شیطان کی پڑیا تھی۔ ویسے میرا بس چلے تو بیل بجانے والی حرکت ابھی بھی کروں، یقین کریں جب میں کبھی کوئی شرارت کرنے کا سوچ بھی رہی ہوتی تو میری بیٹی میرا چہرا دیکھ کے ہی سمجھ جاتی کے مما کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے اور وہ پہلے ہی کہنا شروع کر دیتی، نو مما پلیز نو ہاہاہاہاہاہاہا
    چلیں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، پھر لیں گے ایک اور دوسری شرارت کے ساتھ۔۔۔

  • بلوچستان اور فاٹا  اللہ تعالیٰ کا  انمول تحفہ  اور پاک فوج  کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    بلوچستان اور فاٹا اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ اور پاک فوج کی انتھک محنت کا ثمر.تحریر: امان الرحمٰن

    رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی بلند پہاڑوں ، چشموں اور معدنیات سے مالا مال فطرت کا تحفہ ہے۔ اس سے متصل خیبر پختونخوا میں فاٹا کا علاقہ ہے۔ بلوچستان میں وزیرستان اور فاٹا دونوں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں مشترک ہیں۔ سوویت یونین اور پھر امریکہ کے ذریعہ افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ، افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوگئی۔ آج بھی ، پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 300،000 سے زیادہ ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تر وزیرستان اور فاٹا سے آئے تھے۔ وہ بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے پاکستان آتے جاتے تھے

    منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ
    جب پاکستانی عوام اور حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے تھے ، کچھ مجرم ذہنیت پسند لوگوں نے آزادانہ تحریک کا فائدہ اٹھایا اور تینوں ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کردی۔ جنگ سے تباہ حال بے روزگار افغانوں نے بھی منشیات بنانا شروع کردیا ، کچھ مقامی افراد بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ان مجرموں کا لالچ بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ دہشت گردوں کے حامی بن گئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا موقع کبھی نہیں کھوتا ہے۔ بھارت نے وزیرستان کے اسمگلروں کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گردوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا اور پورے پاکستان میں بم دھماکے کیے ، جس سے ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ بلوچستان سے ہندوستانی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات نے ہندوستان کا بدصورت چہرہ پوری دنیا کو ظاہر کردیا۔ کلبھوشن نیٹ ورک کو ختم کرنے کے بعد ، پاکستانی فوج نے وزیرستان سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے فوجی آپریشن شروع کیا۔

    آپریشن ضرب عضب
    آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 180 بچے شہید ہوگئے۔ تب پوری قوم نے پاک فوج سے مطالبہ کیا کہ ان درندوں کو اس ظلم کی سزا دی جائے۔ اس دن کی حکومت کے حکم پر پاک فوج نے وزیرستان اور فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلے میں ، مقامی افراد کو نکال لیا گیا اور انہیں پناہ گاہوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کا سب سے انوکھا اور مشکل فوجی آپریشن شروع کیا۔ ایک طویل جنگ کے بعد ، دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔ اس کارروائی میں ہزاروں دہشتگرد ہلاک اور سیکڑوں پاکستانی فوجی شہید ہوگئے۔
    اس آپریشن کا تیسرا مرحلہ۔ مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی بھی مکمل ہوچکی ہے ، لیکن پاک فوج ابھی بھی علاقے میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔

    آپریشن ضرب عضب نے علاقے سے 90٪ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد زندگی معمول پر آرہی ہے۔ اسکول اور کالج بنائے جارہے ہیں۔ میران شاہ میں پاکستان مارکیٹ نامی ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے تباہ حال علاقے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ علاقہ مکین ان سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردوں کی یلغار روکنے کے لئے پاک فوج سے پاک افغان بارڈر پر جرمانے کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔

  • افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
    فرش کے سارے خداؤں سےالجھ بیٹھا ہوں
    عمران خان جہاں ایک طرف دنیا کے سامنے ہیرو بن کر ابھر ہیں اور دنیا میں واحد مرد مجاہد ہے جس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور سپرپاور کو نو مور کہا۔ کل جیسے ہاؤس میں کھڑے ہوکر عمران خان نے اپنی 74 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی پالیسی بیان کی جس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں حرام کردیں. اس کے بعد امریکہ کا پہلا خطرناک وار اسرائیل کی شکل میں لانچ ہوچکا ہے اور ایک ایسا عمران خان کے خلاف افغان طالبان سے منسوب کرکے سکینڈل لانچ کیا اور اس سکینڈل کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اسرائیل کے جریدے ہیرٹز نے یہ انکشاف کیا ہے اب طالبان یہ فیصلہ کریں گے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کہانی بہت پیچیدہ ہے, کیا پاکستان نے طالبان کے دباؤ میں آکر فوجی اڈوں کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے؟ پوری قوم یہ جاننا چاہتی ہے، تو اسکا آج مکمل جواب آپکو ملے گا۔ ہمارے ہمسائے ملک میں اس وقت خانہ جنگی کا راونڈ ون شروع ہوچکا ہے جو کہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے لیکن پاکستان نے جیسے ہی بروقت فیصلے کیے امریکہ کے خواب چکنا چور کردیے، امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ناکام ہوا تو اس نے نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم ایک ہوجاتی ہے اور ہم اس دہشتگرد ناجائز ملک سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا۔ اور یہی وجہ ہے آج پاکستانی قوم عربوں سے اس وجہ نفرت کرنا شروع ہوگئ ہے کہ انھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کیا اور امت مسلمہ کا سودا کیا۔

    یہ اسرائیل کو پتا ہے کہ جب ہمارا گندہ نام عمران خان کے ساتھ جڑے گا تو عمران خان کی مقبولیت پاکستان میں کم ہوگی، کیونکہ پاکستان میں چند اشرافیے کے لوگ عمران خان کو یہودی ایجنٹ بھی کہتے ہیں تو یوں عمران خان کے خلاف پوری قوم کھڑی ہوجائے گی۔ 2001 میں جب امریکہ پر حملہ ہوا تو پوری دنیا امریکہ کو گود میں بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے امریکہ کو حکم دیا کو وہ افغانستان پر چڑھائی کردے، پاکستان نے اس وقت افغان طالبان کو کہا اگر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردو تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے لیکن افغان طالبان نہ مانے۔ امریکہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ یہی 2001 والی صورتحال دوبارہ پیدا ہوچکی ہے، اب امریکہ حافظ سعید اور طالبان لیڈرز کو پاکستان سے مانگ رہا ہے لیکن پاکستان اب ڈٹ گیا ہے، کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ نے امریکہ کے زیر اثر ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان داعش کو پاک افغان بارڈر پر پناہ دے رہا ہے اور پاکستان انھیں افغانستان میں استعمال کررہا ہے، امریکہ کا پلان یہ ہے کہ وہ پہلے پاکستان کو بدنام کرے پھر اقوام متحدہ اسے حکم دے گا کہ تم افغانستان پر بھی چڑھ دوڑو اور پاکستان پر بھی یہ ساری گیم امریکہ رچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بدلے یہ پاکستان کو کہا جارہا ہے کہ اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرتا ہے تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کہ افغان طالبان اور حافظ سعید کوہمارے حوالے کردو اور ہم پھر بغیر بتائے آپریشن نہیں کریں گے۔ لیکن پاکستان اب کسی جنگ میں شرکت کرنے کیلئے تیار نہیں، اور امریکہ اپنے پینترے چلنے کی پوزیشن میں ہے وہ ہے اسرائیل ماڈل۔ لیکن پاکستان نے کمال کے پتے کھیلے کہ اگر افغان طالبا ن بھی طاقت کے زور پر آئیں گے ہم اپنا بارڈر سیل کردیں گے جو بڑا مثبت اشارہ تھا پوری دنیا کو، تو امریکہ کو لگ کہاں سے رہی ہے وہ اسے سمجھ نہیں آرہی ہے

  • افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    اٹھارہ سالوں سے جاری جنگ بلآخر پچھلے سال اختتام پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ امریکا اور طالبان میں کامیاب مذاکرات ہوئے۔۔۔
    کل تک پوری دنیا یہ سمجھتی تھی امریکی فوج افغانستان پر قابض ہوکر طالبان کا خاتمہ کر دے گئی لیکن اللّه کی مدد جس کے ساتھ ہو پھر پوری دنیا بھی ایک ہو جائے کچھ نہیں کر سکتی یہی مدد طالبان کے ساتھ اللّه کی طرف سے ملی اور طالبان پوری دنیا میں سرخرو ہوئے۔۔۔
    وہ دور بھی ایک دور تھا جب حضرت ملا محمد عمر رح کی قیادت میں طالبان نے اپنی فتوحات کی ابتدا کی آج پوری دنیا نے یہ دیکھا کے طالبان کبھی دنیاوی خداؤں کے آگے نہیں جھکی امریکا جو اپنے آپکو سپر نیوکلیئر پاور کہتی نہ تھکتی تھی آج وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہے۔۔
    طالبان نے حضرت ملا محمّد عمر رح کی قیادت میں جب افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی تو ایسا لگتا تھا حضرت سیدنا عمرؓ کی خلافت کا وہ سنہرا دور دوبارہ شروع ہوا
    اللّه پاک ملا عمر رح کے درجات بلند فرمائے

    اب ایک بار پھر طالبان اپنی بہترین حکمت عملی کے تحت افغانستان میں فتوحات حاصل کر رہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں عنقریب طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان اور طالبان پر جمی ہے اور میری نیک خواہشات طالبان کے ساتھ ہیں۔
    اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔
    آمین

  • کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    برٹش کولمبیا: کینیڈا میں ایک اور سابقہ بورڈنگ اسکول کے باہر سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق بچوں کی عمر 7 سے 15 سال کے درمیان ہے جنہیں 1890 سے لیکر 1970 کے درمیان کیتھولک چرچ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول میں زبردستی کینیڈین معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے تعلیم دی جاتی تھی۔

    19 ویں صدی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب بچوں کو زبردستی مسیحی بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم دی جاتی تھی تاہم اس دوران ہزاروں بچے بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کینیڈا کی ریاست سسکیچوان میں سابق بورڈنگ اسکول سے 751 اجتماعی قبریں دریافت کی گئی تھیں جب کہ مئی کے آخر میں بھی ایک اسکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں برٹش کولمبیا میں قائم سکول1978 میں بند کردیا گیا تھا اس حوالے سے کینڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ بچوں کی باقیات ایک پرانے بورڈنگ سکول سے برآمد ہوئیں بچوں کی اموات کب ہوئیں ،تحقیقات کی جائیں گی-

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد

  • پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔ ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ۔ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟۔ لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

    ۔ کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔ ۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ ۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔

    ۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ ۔ حالت یہ ہے کہ quad اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔

    ۔ اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔ ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔ آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

    ۔ دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔ دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔

    ۔ امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔ ۔ روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔

  • ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    جہاں ایک طرف باہر ممالک میں ڈپریشن کو باقاعدہ بیماری تسلیم کرکے اس کا علاج کیا جارہا وہی پاکستان میں اس بیماری پر بہت کم لوگ بات کرتے یا اس کو مانتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں ڈپریشن کوئی بیماری نہیں یہ کردار کی کمزوری ہے یا پھر انسان کے کسی گناہ کا احساس جو اسکو پریشان کرتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کے مالی حالات اور اردگرد کا ماحول ناساز ہے تو یہ بھی ذہنی تناؤ اور دباؤ کا باعث بنتا ہے ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہیں سب سے پہلے مالی پریشانی پاکستان میں 25 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے گھریلوں مسائل ہوں یا شادی کا نا ہونا ایسے میں خواتین میں غصہ پایا جاتا ہے کہا جاتا ہے غصہ نارمل انسان کو آتا ہے جو کافی حد تک ٹھیک ہے مگر بات بات پر غصہ، ناراضگی، بیزاری، یہ ڈپریشن کی علامات ہیں ڈپریشن کے نتیجے میں کچھ افراد کو ذہنی بے چینی، تشویش، ناکارہ ہونے یا منفی خیالات کا سامنا ہوتا ہے
    سونے میں مشکل ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر تھکاوٹ اور جسمانی توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کے لیے رات کو سونا بھی آسان نہیں ہوتا
    آدھے سر کا درد بھی ڈپریشن سے جڑا ہوا ہوسکتا ہے، ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے سر کے درد کی شکایت عام ہوتی ہیں،بہت سارے ایسے کیسز بھی ہمیں پاکستان میں دیکھنے کو ملے جہاں طلبہ نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کی جب والدین اپنے بچوں پر پریشر ڈالتے ہیں کے تم نے نمایاں کامیابی حاصل کرنی ہے تب وہ اسٹوڈنٹ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ناکام ہونے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں ڈپریشن کے مریض یا تو بہت زیادہ بولتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں ایسے میں انکی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے جو خاموش ہیں ان سے بات کی جائے ہوسکتا ہے وہ پہلے کسی سے بات نا کرنا چائیں بہت سے کیسز میں ڈپریشن کے شکار لوگوں نے کسی کو کچھ نا بتایا بلکہ خودکشی کو ترجیح دی ایسے لوگوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان سے پوچھا جائے کے آخر پریشانی کیا ہے ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری مریض پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج جبکہ سائیکیٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگرچہ ڈپریشن کو کم کرنے یا ختم کرنے کی ادویات اور کونسلنگ سے خودکشی کرنے کی سوچ میں کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ ہر مریض کے لیے بہترین علاج نہیں ہے ایسے مریضوں کو ایک خاص وقت لگتا ہے اس بیماری سے باہر آنے میں جس میں گھر والے، دوست اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
    ایک برطانوی باکسر نے اپنے انٹرویو میں بتایا کے وہ ڈپریشن کا شکار ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے انہونے نشہ لینا شروع کردیا وہ کہتے کے انکو محسوس ہوتا جیسے وہ خود کو کچھ وقت میں مار لینگے، بہت سے لوگ شراب، ڈرگس، کا استعمال شروع کردیتے ہیں لوگوں سے میل جول ترک کرکے وہ خود کو تنہا نشے کا عادی بنالیتے جسکا انجام ایک دن خودکشی ہوتا ہے جب کوئی نارمل انسان اچانک خاموش ہوجاے یا بہت زیادہ بات کرنے لگے غصہ کرنے لگے تو ہم اسکو دھتکار دیتے ہیں نفساتی کہہ کر اگنور کرتے جو غلط ہے ایسے مریضوں کو اکیلا نا چھوڑیں ان پر نظر رکھیں ان کی حرکات پر نظر رکھیں احساس کمتری جلن حسد یہ سب انسان کو ڈیریشن کا شکار بنا دیتا ہے
    ڈپریشن سے کیسے باہر نکلا جاے
    اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں تو آپ اچھی خوراک لیں وقت پر مکمل نیند پوری کریں موبائل کا استعمال ضرورت سے بہت زیادہ نا کریں باقاعدہ واک کریں فیملی دوستوں میں وقت گزاریں اور اپنے آپ کو خوش رکھیں لیکن اگر ڈپریشن کی علامات بہت زیادہ ہے جس کے باعث آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آرہی ہے تو اسکی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو پروفیشنل کی مدد لینی ہوگی اور اس میں دیر نا کریں کوئی آپکا پیارا اس بیماری کا شکار ہے تو لازمی اسکی مدد کریں