Baaghi TV

Category: متفرق

  • امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان کے حالات فائنل راؤنڈ میں داخل ہوچکے ہیں، اور یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے جس کا اثر اب کابل سے بھارت اور امریکہ تک بھی جائے گا۔ اصل تو اس خانہ جنگی کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کر کے ہمارےملک پاکستان کو ترقی سے روکنا۔ اب امریکہ نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے ان کے ٹاپ کے جرنیل کا یہ کہنا ہے کہ حالات بے قابو ہوچکے ہیں، افغان مجاہدین 100 سے زائد اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرچکے ہیں،اور وہ کابل سے 60 میل دور ہیں، جنرل آسٹن ملر کا یہ کہنا تھا، اب وہاں خانہ جنگی ہونے جارہی ہے
    خانہ جنگی امریکہ نے اسی صورت میں کرنی تھی کہ افغان طالبان کابل پر چڑھائی کریں اور ہم حملہ آور ہوجائیں. جیسے پہلے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے اور پاکستان کے ہر گلی کوچے میں دہشتگردی پھیل گئی تھی، دشمن کے سلیپر سیل ایکٹو ہوگئے تھے تو اب بھی امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو اکیلا کرنا چاہتا ہے، عمران خان نے کہا تھا اگر خانہ جنگی ہوئی پاکستان اپنا بارڈر سیل کردے گا اور یہ امریکہ کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ نے پھر پاکستان میں آزادی کی تحریک چکو جنم دینے کیلے بلوچ کارڈ استعمال کیا اور بلوچستان کو آزاد کرو کی تحریک شروع کرنے کاپلاں کیا، ہمارے گمنام ہیروز نے امریکی خواب چکنا چور کردی۔

    اب امریکہ کا پلان خطرناک ہے۔ وہ پوری دنیا کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے جارہا ہے اور عمران خان کو اب مزید سکینڈلز کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے. اب امریکہ اس کارڈ کو کھیلنے جارہا ہے کہ پاکستان پر یہ الزام لگائے گا کہ میں نے پاکستان کے وزیراعظم سے دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کے لیے فوجی اڈے مانگے تھے تو پاکستان نے دہشتگردوں کو پناہ دی اور ہمیں فوجی اڈے نہیں دیے اور پاکستان نے ان دہشتگردوں کو ہمارے خلاف افغانستان میں استعمال کیا، ایسی رپورٹ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعے شائع بھی کرواچکا ہے حال ہی میں۔

    تو اب امریکہ پاکستان کو بدنام کرکے اور پھر بغیر بتائے اوباما آپریشن یعنی کہ جیسے اسامہ بن لادن کے خلاف ایک جعلی آپریشن کیا اور پاکستان پر داغ لگایا اب وہی صورت حال امریکہ پیدا کرنے جارہا ہے، وہ پاکستان میں بغیر بتائے گھسے گا، ہماری خفیہ ایجنسی اس تاک میں بیٹھی ہوئی ہیں کہ اب ہم انھیں بھرپور جواب دیں گے اور پلٹ کر جواب دیں گے۔

    بھارت بھی اپنے شہریوں کو کہہ چکا ہے، افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے جارہی ہے اب اپنی حفاظت کریں اور بھارت یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ دہشتگردی گروپ ان کو اغواء اور نشانہ بنا رہے ہیں، صرف یہ دکھانے کیلئے کہ پاکستان ان دہشتگردوں کی معاونت کررہا ہے، اور اس وقت بھارت میں بالکل پلوامہ والے حالات ہیں، مودھی اب ایک اور الیکشن جیتنے کیلئے اپنے ہی فوجیوں اور لوگوں کو مروائے گا اور الزام پاکستان پر لگائے گا۔ اس سارے پلان کے ساتھ اب دشمن میداں میں اتر رہا ہے۔ عمران خان واضح کر کے ہیں ہم جواب دینے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب چین اور روس پاکستان کے لیے ہر طرح کھڑے ہونے کیلے تیار ہیں اور وہ پاکستان کی اس جنگ میں بھرپور مدد کریں گے جس کی تشویش امریکہ کو بھی ہے۔

  • مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے بھارت میں کرونا شور زراکم ہورہا ہے تو مودی نے پھر دوبارہ وہ ہی پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ ہی حربے ، وہی پرانے طریقہ واردات اور وہ ہی اپنی اوقات دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ مودی ایک بار پھر پاکستان مخالف ، چین مخالف اور کشمیر مخالف جذبات کو ابھارنے کا گھناونا کھیل شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو پھر اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے کہ ان کی نظر مودی کی کرونا پر نااہلی ، لداخ اور کشمیر ، جو اس نے بھارت کا معاشی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس پر نہ جائے ۔

    ۔ یوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا ہے ۔ اور ایک بار پھر بھارت کی جانب سے war mongering
    جاری ہے ۔ حالانکہ جو حقائق ہیں وہ واضح اشارہ ہیں کہ یہ کام کسی اندر کے بندے جیسے RAWکا ایک نیا رچایا ہوا ڈرامہ ہے بلکل پلوامہ جیسا جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تھا ۔ اور اس کا بھی ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آڑ میں مودی اور بھارت بڑی بڑی ڈیلیں کرنے کے درپے پر بھی ہے ۔ ۔ حالانکہ جو سوال بنتا تھا کہ مودی جی جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو رافیل سے لے کر پتہ نہیں کون کون سے سسٹم اور ریڈار ۔۔۔ غریب بھارتیوں کے پیسے خرچ کر لا کر دیے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے ۔ آخری کیسے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملے ہو گئے ۔ کیا سب بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے ۔ اور RAW کیا کر رہی تھی ۔ دراصل یہ وہ ہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ماضی کی طرح ان حملوں کا الزام پاکستان پر اس لیے عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک جانب چین ، لداخ اور کشمیر کے معاملات مودی سے بالکل کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں تو دوسری جانب کرونا پر خراب کارکردگی اور معیشت کا مودی نے جنازہ نکال دیا ہے ۔

    ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کے جموں ائیر بیس پر پانچ منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو زور دار دھماکے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے ہتھکنڈوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔۔ ایک دھماکے سے بھارتی فضائیہ کے اڈے کی عمارت کی چھت اڑ گئی جبکہ دوسرا دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا۔ دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ پورے جموں ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ائیر فورس اسٹیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا تھا۔

    ۔ حریت پسندوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ کے اڈے پر بم گرانے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے۔ دھماکوں کے شبہے میں دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ سرکاری طور پر اگرچہ بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صرف دو اہلکار زخمی ہوئے لیکن دھماکوں کے فوری بعد ایک سے زائد ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔ قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ میڈیا کو جائے وقوعہ میں داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ یہ بھارت کی اپنی ایجنسیوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ بھارتی اخباروں میں شائع اور ٹی وی چینلز میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ صرف ائیر فورس اور پولیس کے دعوئوں پر مبنی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا ۔ پولیس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کشمیری مجاہدین بارودی مواد کی منتقلی کیلئے ڈرونز کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ دھماکوں کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حق میں ان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ جس میں مودی مکمل ناکام رہا ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت عرصہ دراز سے بھارتی جیلوں میں قید اپنی بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خود ارادیت اور آزادی مانگتے ہیں۔ اس جرم میں اب تک نہ صرف 80ہزار سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے سیاسی قائدین کی طرح بھارتی قید و بند کی صعوبتیں ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور جو کشمیری قید نہیں ہیں وہ دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں۔ جس کو بھی سات سو روز گزر چکے ہیں بلکہ اب تو اس محاصرے کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں ۔

    ۔ یہاں میں اپنے ان بعض نادان دوستوں کا بھی ذکر کردوں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ مودی نے جو کشمیریوں کا اجلاس بلایا تھا اس میں اور کچھ نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تو بحال کر دی جائے گی لیکن اس اجلاس میں نہ تو حقیقی کشمیری سیاسی قیادت کو جیلوں سے رہا کرکے مدعو کیا گیا نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پر بات کی گئی۔ اس طرح یہ بے معنی اجلاس بھی ایک ڈرامہ اور گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہی ثابت ہوا۔۔ اس اجلاس میں مدعو کئے گئے چند معروف کشمیری قائدین نے بھی مودی سرکار کو ٹھینگا دکھایا۔ یوں یہ بے معنی اجلاس بے مقصد انجام سے دوچار ہوا جو مودی سرکار کی ناکامی کا باعث بنا۔۔ اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کی جھوٹی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ ۔ چلیں اگر یہ مان بھی لیں کہ ڈرون پاکستان کی طرف سے آئے تھے تو کنڑول لائن کے پاس تو بات سمجھ آتی ہے ۔ یہ اتنی دور جموں میں ڈرون کیسے پہنچے ۔ یہ سوال بھارت میں کوئی بھی حکومت اور فضائیہ سے نہیں پوچھ رہا ہے ۔ ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کو اس میں بھی آئی ایس آئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ دراصل اس سب الزام تراشی کی وجہ ہے ۔ اب اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ، بھارتیوں کو خوف میں مبتلا کرکے ۔ بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاری میں ہے ۔ ۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے تو دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا۔ جس کا نامlaser based directed energy weaponتھا ۔ یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ DRDO کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے microwave کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو jaming system بھی کہا جاتا ہے ۔

    ۔ بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ بھارت نے اس ضمن میں تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم computerized ہے۔ اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت میں کورونا نے جس طرح تباہی مچائی ۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور مودی کی اس ضمن میں کارکردگی جو رہی وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لی ہے کہ لاشیں جلانے کے لئے نہ شمشان گھاٹوں میں جگہ ملتی تھی نہ ان کی چتائوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں دستیاب تھیں۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، امرتسر، چندی گڑھ، میزو رام، حیدرآباد سمیت اترپردیش اور راجستھان میں مودی سرکار کی ناکامی کا یہ عالم رہا کہ کورونا ویکسین تو کیا متاثرین کو آکسیجن تک میسر نہیں تھی۔

    ۔ لاکھوں بھارتی باشندے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑتے ہوئے ہلاک ہوتے رہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود جھوٹا بھارتی میڈیا بھی مودی سرکار کی اس تاریخی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکا۔۔ چین کے ساتھ تنازع میں بھی بھارت کو لینے کے دینے پڑے اور مار الگ سے کھائی۔ پاکستان کے ساتھ پنجہ لڑانے کی کوشش بھی بھارتی ناکامی پر ختم ہوئی۔ اگر پاکستان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھارت ابھی نندن کو آزاد کرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا جو پاکستان پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حماقت میں بھی بھارت کا منہ کالا ہوا۔ ۔ بھارتی معیشت مودی حکومت میں زوال پذیر ہے اور تجارتی گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ معیشت کی تباہی و بدحالی بھی مودی سرکار کی ایک اور بدترین ناکامی ہے۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی جانب سے بھارت کو ٹکا سا جواب ملنے پر جموں دھماکوں کے ایک اور رخ کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی کیا ہے۔ جس میں جموں دھماکوں کو بھارتی حکومت کا پلوامہ ۔ twoڈرامہ قرار دیا ہے۔ ان کا خدشہ بالکل درست ہے کیونکہ بھارت اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں وہ پلوامہ حملے کے ڈرامے کے بعد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

    ۔ پھر افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بھی وہ پاکستان کے خلاف جو امریکہ کو طالبان کے خلاف کاروائی کے لئے اڈے نہ دینے کا اعلان کر چکا ہے۔ کوئی نیا محاذ کھول سکتا ہے اس پس منظر میں جموں دھماکے دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن بھی اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے بھارت ایسا نہیں بلکہ دوسری طرح کا پڑوسی اورمخالف ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی یا بین الاقوامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر اس لئے عائد کرتا ہےتاکہ اس ناکامی سے دنیا اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔

  • سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں سمندر سے ملنے والا شیل ساڑھے 18000 ہزار روپے میں نیلام ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے اپڈا گاؤں میں دریائے گوداوری کے کنارے پر غیر معمولی طور پر نارنجی رنگ کا بڑا شیل پایا گیا ہے۔ سمندری شیل ، جو آسٹریلیائی بگل یا فلاز ترہی کے نام سے جانا جاتا ہے کی نیلامی 18،000 روپے میں کی گئی۔


    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق 27 جون کو سمندری مخلوق کی تصاویر ٹویٹر پر پوسٹ کی گئیں۔ شیل کی اس قسم کو سائنسی طور پر سرینکس آروینس کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ شیل دنیا کے سب سے بڑے سائز کے شیل کی نسل سے ہے ٕ۔ سیرنکس آروانس 91 سینٹی میٹر تک لمبا اور 18 کلو گرام تک وزنی ہوسکتا ہے۔ اس کے کنبے کی واحد نسل ہونے کی وجہ سے ، سرینکس آروانس سب سے بڑا زندہ شیل گیسٹروپڈ ہے۔

    یہ قسم عام طور پر شمالی آسٹریلیا اور قریبی علاقوں میں پاپو نیو گنی اور مشرقی انڈونیشیا میں پائی جاتی ہے۔ سرینک آروانس مقامی طور پر ان جگہوں پر عام ہے جہاں زیادہ مقدار میں مچھلی نہیں ہوتی ہے اور وہ کیڑے کھانے سے زندہ رہتے ہیں۔ چونکہ وہ کم سے کم 50 میٹر گہرائی کے ساتھ گہرے سمندر میں رہتے ہیں ، لہذا جب کبھی بڑی لہریں انھیں دھکیلتی ہیں تو ساحل پر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ، انواع کی محولیاتی نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کی سیاست دیکھتا آ رہا ہوں اوراس بارجب فلسطین پرظلم ہؤا توبا حیثیت ایک مسلمان ملک پاکستان اورپاکستانیوں کےدل افسردہ تھے پاکستان کی خارجہ پالیسی نےاس بار بڑے عرصے بع دکروٹ بدلی اوراس کی وجہ وزیراعظم پاکستان کی اقوامِ متحدہ وہ تقریرہے جس سےکئی ممالک کے دارالحکومتوں کی زمینیں ہل گئیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ میں دبنگ بیان خاص کرمقبوضہ کشمیراورفلسطین کےحوالےسےایک بہترین اورجامع بیان تھا پاکستان کی اہمیت کااندازہ آپ بین الاقوامی سطح پرافغانستان امن کےبارے کام اورکاوشوں اس کےعلاوہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت مسلم امہ کے لیے کتنی بہترین اوراہم ہے سے لگا سکتے ہیں

    یہی وجہ ہے کہ آج اوآئی سی ہومشرق وسطی کےممالک ہوں یہ بڑےادارے وزیراعظم کی کاوشوں کے بعد متحرک ہوئےاورآج وزیراعظم کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کےعرب ممالک کےساتھ تعلقات مزید بہترین ہورہے ہیں خراب ہوئے نہیں بس تاثرایسا دیا گیا کہ خراب ہین اوراس میں قصورپاکستان کے دشمنوں کا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صرف پاکستان کاہی نہیں بلکہ وہ چاہتےہیں کہ مسلم ممالک اورمسلم امہ جوکہ دنیا کے اس خطےمیں بڑی تعدا دمیں ہیں اپنا اثرپیدا کریں

    صرف اسلاموفوبیا اورنبی آخری الزماں حضرت محمدرسول ﷲ صلعم سے متعلق موضوع پروزیراعظم سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک مغرب کوکہ باورکرائیں کےاسلام امن کاپیغام ہےاورمغرب کوکوئی حق نہیں کےوہ اس طرح ہمارےپیارے نبی صلعم کی شان میں گستاخی کرےاوروزیراعظم چاہتےہیں کہ کوئی ایسی قرارداد یانظام لائین کہ پھرآئندہ کسی کی جرات ناہو

    کچھ عرصہ پہلےجب پاکستان کےوزیرخارجہ جب فلسطین کےمسئلےپراقوامِ متحدہ گئےاوروہاں ترکی اوردیگرمسلم ممالک کےساتھ بہترین ڈپلومیسی کاکرداراداکیااورپھرجب بین الاقوامی خبروں کےچینل سی این این پرانٹرویو دیا جسے اس شوکی اینکرنےغلط رُخ دینے کی برابرکوشش کی اوروہ یہ تھاکہ میڈیا فلسطین کے مظالم نہیں دکھاتااوراثررکھنے والے افراد ہی میڈیا کوچلاتے ہیں جوکہ درست بات ہے لیکن اس اینکرنےاس کواینٹی سیمیٹیزم کانام دے دیا اینکروزیرخارجہ کی سچائی کوسننا نہیں چاہ رہی تھیں اوروہ اسرائیل کی طرف داری کرنے یا پھروزیرخارجہ کوغلط ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن ناکام ہوئیں پاکستان کی دبنگ ڈپلومیسی نےایک بارپھراپنا اثراوراہمیت دکھائی اورحقائق دکھائےجس سےاورمسلم ممالک نےبھی فوری جنگ بندی پرزوردیا

    اب آتےہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیرکےحوالےسےبھارت کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توکہتاہےمگروہیں ان پرظلم کرتاہےعورتوں کی بےحرمتی کرتاہےوزیراعظم پاکستان عمران خان نےبہت چاہاکےپاکستان بھارت میں تعلقات بہترہوں مگربھارت کارویہ ہمیشہ سےگھناؤنارہاہےکچھ عناصرغلط خبریں بھی نکالتے رہے کہ کشمیرپاکستان کے ہاتھ سے گیا اورحکومت پاکستان تجارت کرنے پرلگی ہے تومحترم میرے قارئین وزیراعظم صاحب نے یہ برملاکہا کہ پاکستان بھارت سے تجارت نہیں کرسکتا جب تک وہ کشمیر پر بات نہیں کرتا

    اب افغانستان کوزراگہری نظرسے دیکھتے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جوامریکہ کوامریکہ کی ہی مدد سے افغانستان سے نکالنے کا کام کررہا ہےاوردنیا پاکستان کی معترف بھی ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو زرا بڑے صفحے پردیکھیں توپاکستان کی اہمیت کا اندازہ آپ کو ہوگا

  • بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جیسا کے آپ عنوان دیکھ سکتے ہیں، بچپن کی شرارتیں،
    آج میں آپ سے اپنی بچپن میں کی ہوئی شرارتیں شیعر کرونگی۔

    ھم سب نے اپنے بچپن میں کبھی نہ کبھی کسی مقام پر شرارت کی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ھم لوگوں نے آج کے بچوں کے مقابلے میں کافی اچھا بچپن گزارا ہے۔ آج کے بچے پوری طرح سے الیکٹرانک بچپن گزار رہے ہیں، نہ باہر کھیلتے ہیں،نہ کسی سے ملتے ہیں، سارا دن ہاتھ میں یا تو کوئی الیکٹرانک ڈیوائیس ھوتی ہے یا گھر کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں لگے ہوتے ہیں۔ جو کے بچوں کو سوشل طور پر ایک دوسرے سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

    چلیں اس موضوع پر پھر کبھی بات کرینگے۔
    فلحال تو آپ کچھ میرے بچپن کے بارے میں جانیں۔

    مجھے بچپن میں خود کو لڑکا کہلانے کا بڑا شوق تھا، کیوں حیران ھو گئے نہ ہاہاہاہاہاہاہا جی ہاں یہ سچ ہے۔۔

    جب میں آٹھ یا دس سال کی تھی، اس وقت اپنے بھائی کے کپڑے پہن کے بھائی کے ساتھ میں نے سائیکل بھی چلائی، کنچے بھی کھیلے، کرکٹ بھی کھیلی اور پتنگ بھی آڑائی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بوائے کٹ بال اور کراچی کی خطرناک گرمی میں باہر کھیل کھیل کے رنگت بھی کالی سیاہ تھی، اسلیے کوئی سمجھ بھی نہیں پاتا تھا کے میں ایک لڑکی ہوں۔ وہ بھی کیا دن تھے، ہر چیز سے بےفکر سارا دن بھائی کے ساتھ آوارگی کھیل کود اور کوئی فکر نہیں، اور جب شام میں گندے پندے گھر واپس آتے تو آمی(مرحومہ) کی جھاڑ، اور ھم امی سے وعدہ کرتے کے کل نہیں جائینگے۔

    جب دوسری صبح ہوتی سب بھول بھال اسکول سے واپسی پر پھر سے بھاگ جاتے۔ امی کو اتنا تنگ کر رکھا تھا کے اپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

    اور پھر سے وہی کرکٹ میچ، یا سائیکل کی ریس شروع ھو جاتی۔ اور شام میں وہی ڈانٹ، مزے کی بات یہ ہے کے بھائی کے سارے دوست مجھ سے بڑے تھے اور میں چھپکلی کی پتلی دبلی، لیکن طلعت بیگم بچپن میں بھی کسی سے ہار نہیں مانتی تھیں، جب سائیکل کی ریس ھوتی تو سب سے بڑی والی سائیکل میں پکڑ لیتی تھی، نہ گرنے کا خوف نہ چوٹ لگنے کا ڈر۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کے بڑی سائیکل کے پہیے بڑے ہوتے اس لیے وہ تیز چلے گی اور میں جیت جاونگی ہاہاہاہا۔ یہ اور بات ہے کے زیادہ تر ہار جاتی تھی۔

    لیکن یہ سب شرارتیں جب یاد آتی ہیں تو اکیلے بیٹھے بیٹھے خود ہی ہونٹوں پر مسکراھٹ آجاتی ہے۔اور دل کرتا ہے کے کاش بچپن ایک بار پھر سے لوٹ آئے۔

    چلیں ابھی مجھے اجازت دیں، انشاءاللہ اس بچپن کی شرارت کو جاری رکھتے ہوئے کوشش کرونگی کے ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز آپ سب کو اپنی شرارتوں میں شامل کروں۔
    آج صرف شرارتوں کا انٹروڈکشن تھا پکچر ابھی باقی ہے۔
    اگلی قسط کا انتظار کریں۔

  • افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    افغانستان.غلطی کی گنجائش نہیں. تحریر:نوید شیخ

    پاکستان کی سات ہزار میں سے ساڑھے ہانچ ہزار کلومیٹر سرحدیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہیں جو کسی طور پر بھی محفوظ اور دوستانہ نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے بری طرح براہ راست متاثر ہو گا۔ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بیٹھے گا بھی یا نہیں۔ ۔ دوسری جانب بھارت نے جموں،کشمیر اور لداخ پر غاصبانہ قبضہ کرکے جنونی بھارتی قیادت خطہ کے حالات کو لہو لہان کردینا چاہتی ہے۔ ۔ تیسری طرف (FATF) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھ کر عالمی پریشر برقرار رکھا ہے۔ ۔ چوتھا اقتصادی طور پر پاکستان بدستور آئی ایم ایف کی کالونی بنا ہوا ہے۔۔ یہ بہت مشکل صورت حال ہے جس سے ملک کو بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ۔ اس وقت بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت میں بھی ایسے لوگ ہیں اور اپوزیشن میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ جو اپنے اپنے کام سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ حکومت والوں کا لہجہ اپوزیشن کا سا ہے اور اپوزیشن کا حکومت کا سا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہماری جمہوریت آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگنے میں لگی ہے۔ میری نظر میں اگر اس وقت پاکستان کا کوئی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے افغانستان کی موجودہ صورتحال ۔ کیونکہ آنے والوں سالوں اور دہائیوں میں جو بھی افغانستان کے حالات ہوں گے وہ پاکستان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوں گے ۔ مگر دوسری چیزوں کی طرح اس معاملے پر بھی ہمارے سیاستدانوں کو کچھ ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ رہی بات عوام کی تو وہ بھی لگتا ہے صرف ٹک ٹاک بنانےاور دیکھنے میں لگی ہے ۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ ہمارے دروازے پر کیا مصیبت دستک چکی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی بے ڈھنگا فیصلہ ملک کو ایک بار پھر شدید بحران سے دوچار کرے گا۔ قومی معیشت ویسے ہی کمزور ہے۔ کورونا وائرس نے بھی حالات کی خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب اگر افغانستان کے حوالے سے کوئی مہم جوئی ہوئی تو پاکستان کے لیے معاملات کو سنبھالنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بیانیے کا دور ہے اور انٹرنیشنل محاذ پر ہم ابھی تک وہ بیانیہ نہیں تشکیل دے پائے جو کہ دینا چاہیے تھا ۔

    ۔ آپ دیکھیں افغان فوج کا مورال گرا ہوا ہے اور اس معاملے میں افغانستان کے صدر پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ضائع نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس سال تک امریکا اور اُس کے اتحادیوں سے بھرپور امداد پانے کے باوجود افغان فوج کو اب تک اتنا مضبوط کیوں نہیں کیا جاسکا کہ وہ اتحادی افواج کے بعد ملک کو بہتر طور پر سنبھال سکے؟ اب یہ سوال کوئی نہیں اُٹھا رہا ہے اور ایک بار پھر سارا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اور شاید عنقریب آپکو پھر سے یہ سننے کو ملے کہ DO MORE ۔ پاکستان کے لیے ایک بار پھر فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔ اہم ۔۔۔ پیش رفت ۔۔۔ یہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کھل کر اور واضح پر سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھی صورت میں پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ چاہے وہ طالبان کے لیے ہو یا پھر امریکہ کے لیے ۔ پاکستان افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا مخالف بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتا وہاں مستقل اور پائیدار امن چاہتا ہے اور اسکے لیے ہر حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ پاکستان افغانستان میں عوامی تائید سے بننے والی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔ یقینی طور پر یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے ۔ ۔ پر اصل مسئلہ عالمی طاقتوں کا ہے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ۔ کیونکہ چین اور روس کے مفادات اپنی جگہ ہیں امریکہ کے مسائل اور اس کی ضروریات اپنی جگہ ہیں اس میں یہ تو طے ہے کہ ان تمام ممالک کو ہر حال میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جائے تو جائے کہاں ۔ یعنی ایک آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔ مگر اس حوالے سے دنیا کو قائل کرنا ، دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔ جتنا ایک اچھا فیصلہ کرنا ہے ۔

    ۔ کیونکہ اس نئی جنگ کے پس منظر بہت سے ممالک اپنی دشمنیاں بھی نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کو چوکنا اور ہوشیار بھی رہنا ہے کہ کہیں افغانستان کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ پاکستان ان کی نئی
    battle groundنہ بن جائے ۔ کیا آپ نے نوٹس کیا ہے گزشتہ چند دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ کیا ایک بار پھر سے بڑے شہروں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور ان سدباب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ امریکا جس طور بھارت سے روابط رکھتا ہے بالکل اُسی طور پاکستان کو بھی جگہ دے۔ وزیراعظم شاید بھولتے ہیں کہ بھارت نہ صرف یہ کہ بڑی منڈی ہے بلکہ دنیا کو بڑی تعداد میں ورک فورس فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔ بھارت کسی بھی طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہے۔ بدقسمی سے ہم نہیں ہیں ۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اندرونی اختلافات اور تضادات سے جان چھڑانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ۔ دوسری جانب بات سخت ہے پر آپ دیکھیں کہ پاکستانی سیاست کے کردار ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کو دن رات سیاسی حل تلاش کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ امریکہ تک کو عقل کے ناخن فراہم کرنے کے لیے سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہی ناخن حکومت ، عمران خان ، نواز شریف ، زدراری یا دیگر اپنے استعمال میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ بات تو کر دی ہے کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان وزیراعظم عمران خان کی بات مان لیں گے کیا طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے وہ اہداف ترک کر دیں گے۔ جن کے لئے وہ دہائیوں سے لڑ رہے ہیں؟۔ اس لیے اس چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان کی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ دارالحکومت کابل کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں اور دوسری طرف افغان قیادت امریکا کے در پر گری ہوئی ہے۔ معاملات بالکل واضح ہیں۔ ۔ افغان قیادت چاہتی ہے کہ امریکا اپنی افواج کا انخلا مکمل ہو جانے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ضامن کا کردار قبول کرے۔ طالبان پر قابو پانا تنہا افغان قیادت یا فوج کے بس میں نہیں ہے ۔ ایسے میں صدر اشرف غنی امریکا اور یورپ سے کوئی باضابطہ ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی جاتی رہے۔ ۔ پر سوال یہ ہے کہ امریکا کیوں چاہے گا کہ فوج نکالنے کے بعد بھی اس کا افغانستان کے معاملات سے کچھ تعلق رہے؟ اور بالخصوص ایسا تعلق جس میں ذمہ داری بھی نمایاں ہو؟ ۔ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ افغان حکومت کا انجام بھی سویت افواج کے انخلا ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کی طرح ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد امریکہ کے تشکیل کردہ داعش و القاعدہ گروہوں کے افغان طالبان کے ساتھ تصادم کی صورت میں ایک بڑی خانہ جنگی کا خطرہ ہے ۔ جس کے شعلوں سے پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر ہمسائے کسی صورت محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ شاید امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان بدامنی کے دلدل میں دھنسا رہے۔ کیونکہ جتنا اس خطے میں انتشار ہوگا چین کے سی پیک اور روس کے مفادات کو نقصان پہنچاتا رہے گا ۔ تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں خانہ جنگی امریکہ کے مفاد میں ہے اور وہ حالات کو اس جانب ہی موڑ رہا ہے کہ افغانستان خوفناک اور خون خوار خانہ جنگی کا شکار ہو جائے ۔ ۔ کیونکہ جوبائیڈن کا یہ بیان بڑا معنی خیز اور پریشان کن ہے ۔ کہ ہم افغانستان سے جارہے ہیں۔ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہوگا۔ افغان قیادت کے لیے یہ ٹکا سا جواب راتوں کی نیندیں اڑانے دینے کو کافی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے پریشانی کا سامان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں حالات خراب ہیں۔ ۔ اشرف غنی کی قیادت میں وہاں کی سیاسی قیادت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ اُس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا کہ مغرب کے مکمل انخلا کے بعد طالبان سے کیونکر نمٹا جاسکے گا۔

    ۔ اس لیے اب پاکستان کو افغانستان کے حوالے ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ معمولی سی غلطی ایک بار پھر ہمیں داخلی سلامتی کے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اپنائی جائے اور کسی بھی فریق کو بے جا طور پر نوازنے یا اُس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ رکھنے سے گریز کیا جائے۔۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز افغان معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسی بنائیں کہ پاکستان نقصان سے بچ جائے ۔ ورنہ نوشتہ دیوار اب سامنے لکھا دیکھائی دینے لگا ہے ۔ کیونکہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ دو راہے پر کھڑا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تمام فریق مطمئن و متفق نہیں ہونگے ۔ ورنہ امریکہ چلا جائے یا کوئی اور آ جائے۔ افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔

  • مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    مٹن کڑاہی کیوں نہیں کھلائی، دولہا بارات واپس لے گیا

    بھارت میں دلہن والوں کی جانب سے باراتیوں کو کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر دلہا بارات واپس لے گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں حالیہ چند دنوں میں عجیب و غریب وجوہات کی بنا پر بارات واپس لے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے حال ہی میں دلہن نے دلہا کی نظر کمزور ہونےکی وجہ سے شادی سے انکار کرتے ہوئے بارات کو خالی ہاتھ واپس کر دیا تھا-

    میڈیا کے مطابق اب ریاست اوڈیشا کے ضلع جے پور میں شادی کی تقریب میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب باراتیوں کو حسب وعدہ کھانے میں مٹن کڑاہی پیش نہیں کی گئی۔

    مٹن کڑاہی پیش نہ کرنے پر 27 سالہ دلہا رماکانت پترا اس پر نا صرف ناراض ہوگیا بلکہ شادی سے ہی انکار کردیا دلہن والوں نے دلہا اور اس کے گھر والوں کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن ودلہا مسلسل جھگڑا کرتا رہا اور بارات واپس لے گیا۔

    باراتی اپنے ایک عزیز کے گھر ٹھہرے اور راستے میں پڑنے والے ایک گاؤں کی لڑکی سے دلہا کی شادی کروا کر واپس اپنے گاؤں لوٹے تاکہ بارات خالی واپس آنے کا طعنہ نہ ملے۔

    ادھر دلہن والوں نے اس معاملے پر پولیس سے رجوع کرلیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دلہا دوسری شادی کر چکا ہے اور اب صلح صفائی کی بھی گنجائش نہیں بنتی۔

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

  • "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    "طبقاتی نظام میں فرق” تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    بد قسمتی سے ہمارا طبقاتی نظام معاشرے کا بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کے پسِ آئینہ جو عوامل کارفرما ہیں اُن سے ہر باشعور اِنسان آگاہ ہے مگر ایسی آگہی اور ادراک کا کیا کرنا جس میں ان مسائل کا حل ہی نہ ہو نہ ان کے تدارک کے لئے کوئی کارگر حکمت عملی تیار کی جا سکے اور تفریق کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ایسے حالات میں
    ہر شخص اپنے وسائل سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتا ہے تا کہ اس کے بچے نہ صرف اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں بلکہ معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہوں اور زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکیں
    لیکن دن رات کی تگ و دو اسے غریبی اور مفلسی کی زنجیروں میں جکڑ کر زہنی بیمار کر دیتے ہیں
    ایسے میں امیر طبقے کے لئے بہترین سہولیات ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے

    پروٹوکول، غریب رکشہ ڈرائیور کے لئے چالان کی ادائیگی لازم ہے جب کہ کسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر قانون کی دھجیاں بکھیرتے امیر زادے کے لئے نہیں کیوں کہ وہ صاحب حیثیت کی اولاد ہے اس کے ماموں چاچو کی فون کال ہمارے نظام سے ماورا ہے دن رات اسی طبقاتی تفریق کی الجھن مڈل کلاس بچوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے
    سکولز کالجز میں امیروں کے بچوں کے لئے الگ رولز دیکھ کر مڈل کلاس بچے رات کو اپنے والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں ایسے میں ان کے والدین انکو کیا بتائیں کہ ان کے سوال غلط نہیں مگر جواب بھی نہیں ہے

    پھر بھی غریب والدین اپنے بچوں کو سنہرے مستقبل کے حوالے سے خوب صورت خواب دیکھا کر آنے والے کل کے لئے مضبوط کرتے ہیں
    اور پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر جب کسی اچھی نوکری پر مامور ہوتے ہیں تو ان میں سے بیشتر اپنا ماضی بھول کر خود کو وی آئی پی کیٹیگری میں رکھ کر باقی سب کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں تو فرق کہاں اور کیسے کم ہو سکتا جب کہ انفرادی طور پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا
    اس طبقاتی تفریق میں کمی کے لئے حکومتی پالیسیز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ تعلیم علاج اور روزگار کے لئے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں ورنہ یہ فرق کبھی نہ ختم ہونے والی ایسی لکیر ہے جسے کوئی کبھی بھی نہیں مٹا سکتا۔

  • امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    امریکہ میں چوروں کے لئے نیا قانون نافذ ،چوروں کے وارے نیارے ہوگئے، پولیس بےبس عوام پریشان

    سان فرانسسکو: ریاست کیلیفورنیا میں نیا قانون منظور ہوا کہ اگر کوئی 950 ڈالر کے نیچے کوئی چیز چوری کرتا ہے تو پولیس چور کو روک نہیں یا اسے گرفتار نہیں کر سکتی –

    باغی ٹی وی : امریکہ میں کمیونزم اور سرمایہ داری ناکام ہوگئی ، اب جمہوریت کے ناکام ہونے کی باری ہے غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں 950 ڈالر سے کم کی چیزیں چوری کرنے پر پولیس چور کو نہ تو پکڑ سکتی یے اور نہ ہی روک سکتی ہے کیونکہ یہ غربت کو مجرم قرار دے رہا ہے کیلیفورنیا میں بہت سے دکانیں اس احمقانہ قانون کی وجہ سے بند ہورہی ہیں

    سان فرانسسکو میں وال گرین پرچون چین اسٹور سے سامان چوری کرتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا جب اسٹور پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دیکھا اور اسے جانے دیا۔ ویڈیو میں ایک شخص دکھایا گیا ہے جس کا چہرہ چھپا ہوا ہے اور وہ ایک بڑے تھیلے میں سامان اٹھا رہا ہے اور اپنے سائیکل پر بھاگ رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ، اور اس قانون کے غلط استعمال پر مباحثہ شروع ہوا ہے جس نے شمالی کیلیفورنیا کے شہر میں اس طرح کے واقعات کو جنم دیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر 2014 کے بعد جب اس شہر نے پروپوزیشن 47 نامی ایک متنازعہ قانون پاس کیا۔

    تجویز 47 کے تحت 950 ڈالر سے کم مالیت کا سامان چوری کرنا جرم نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سان فرانسسکو میں یہ ایک عام سی نظر بن گئی ہے ، کیونکہ نئے قانون نے جرائم پیشہ افراد کو عام لوگوں کے لئے محفوظ بنانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق ، اگر کوئی 950 ڈالر سے کم مالیت کی چیزیں چوری کرتا ہے تو ، پولیس کے پاس حوالے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ہے اور ملزم وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اگر ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوتا ہے تو ، شاید اسے بینچ کا وارنٹ مل جائے گا۔

    چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں اسٹور بند ہوگئے ہیں۔ اے بی سی نیوز کی خبر کے مطابق ، "شہر کے نگران اہشا صفائے نے کہا ،” پچھلے پانچ سالوں میں سترہ وال گرینز ، تقریبا ہر گیپ کے خوردہ فروشوں کی دکان ختم ہوچکی ہے ، سی وی ایس پر حملہ آور ہے۔

    وال گرین کے عہدے داروں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سان فرانسسکو اسٹورز میں شاپ لفٹنگ کے واقعات میں دوسرے شہروں کے اسٹوروں کے مقابلے میں چوری کے چار گنا زیادہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

    صافائی نے کہا کہ بہت سارے واقعات میں ، یہ کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ چور ایک دن میں متعدد مقامات پر حملہ کرتے ہیں۔ شہر میں اسٹورز بھی امریکہ کی جگہوں پر سیکیورٹی پر 35 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں نہ صرف اسٹور کرائم بلکہ پراپرٹی کے جرائم بھی سب سے زیادہ ہیں۔ صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اب منظم گروپس شاپ لفٹنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔

    دی نیویارک پوسٹکے مطابق شہر کے پولیس نے استغاثہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنی چیسہ بیوڈین نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پروجیکشن 47 منظور ہونے کے بعد سے گرفتاریوں کی تعداد پر مربوط قوانین کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ گرفتاری کے لئے صاف ہونے والے لاریسی کیسز کی تعداد 2018 میں 4.5 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 2.8 فیصد ہوگئی۔ تاہم ، نیویارک پولیس نے ، معاملات میں چار گنا زیادہ گرفتاری عمل میں لائی۔ سن 2018 میں ، سان فرانسسکو میں لارسی کیسز کی تعداد 18،363 رہی ، جبکہ 2020 میں یہ تعداد 11،062 ہوگئی۔
    https://www.youtube.com/watch?v=S6GcJ7sj7IY

  • بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان، ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن .تحریر:محمد مستنصر

    بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارت کا مرکز بھی ہے۔ بلوچستان کو قدرت نے محنتی اور جفاکش شہریوں سے بھی نوازا ہے جو پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
    مقامی بلوچ رہنمائوں، منتخب حکومت اور افواج پاکستان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خوشحالی لا کر بلوچستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مربوط حکمت عملی کے ساتھ بلوچستان کے لئے ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنیایا گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تک اس ترقیاتی پیکیج کے ثمرات پہنچیں۔
    حکومت بلوچستان کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 16 ڈیم تعمیر کرے گی جبکہ زیتون کا ایک پروسیسنگ یونٹ اور تین پروسیسنگ یونٹ کھجور کے لئے بنائے جائیں گے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ مقامی کاشتکاروں کو زیتون اور کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
    کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اور قیام امن تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور بلوچستان کے بچوں کو حصول تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے چھ لاکھ چالیس ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی اور وہ بڑے شہروں میں اساتذہ سے منسلک ہوں گے۔ وسیلہ التلیم پروگرام کے تحت 83،000 بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ حکومت کی طرف سے لڑکوں کے لئے ماہانہ وظیفہ 1500 روپے اور لڑکیوں کے لئے 2 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بلوچستان کے 35 ہزار نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی ہے جس کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں پانچ ڈیجیٹل لائبریریوں کا دوسرا مرحلہ قائم کیا جائے گا۔
    بلوچستان کے لئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج کے مطابق علاقے کی 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اب تک صرف 12 فیصد شہریوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ شہریوں کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لئے 3،083 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر کام کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران کیا جائے گا۔

    عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے بلوچستان بھر میں 200 صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو صحت نشونما پروگرام کے تحت صحت بخش خوراک مہیا کی جارہی ہے۔
    نہ صرف بلوچستان بلکہ خطے کی معاشی خوشحالی کا مرکز سمجھے جانے والے گوادر کی ترقی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے جس کے لئے اولڈ سٹی ٹاؤن میں طویل مدتی نکاسی آب کے نظام، پانی کی فراہمی اور طویل مدتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مقامی آبادی کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ ہونے کے ساتھ انہیں دور جدید کی تمام تر سہولیات میسر آ سکیں۔ صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے صوبائی محکمہ کھیل اور ثقافت صوبہ بھر میں 33 اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔بلاشبہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی تعمیر وترقی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا ہوتا رہا بلکہ بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بھی خاصا پیچھے رہا مگر دیر آید درست آید کے مصداق موجودہ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنا کر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی سنجیدہ کوششیں قابل تعریف ہیں۔