Baaghi TV

Category: متفرق

  • موجودہ  کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    موجودہ کراچی کے حالات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    کراچی ،وہ شہر تھا جسے روشنیوں اور ستاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا بدقسمتی سے اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے میرا کراچی
    پاکستان بھر سے ہر قوم و ذات کے لوگ میرے کراچی میں روزگار کمانے آتے تھے یہ وہ شہر تھا جس کو بہترین دنیا کے شہروں میں چوتھا نمبر حاصل تھا پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میرے شہر قائد کو،

    کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سابقہ سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی پیرس کا منظر پیش کرنے لگا جی ہاں وہ مصطفیٰ کمال جس نے اپنے نظامت کے پانچ سال دن رات ایک کر کے کراچی کی خوب خدمت کی جب لوگ راتوں کو سوتے تھے مصطفیٰ کمال انکی صبح بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل رہے 2005 سے 2010 کا یہ دورانیہ کراچی والوں کیلئے تاریخ کا سب سے بہترین وقت رہا ہے یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال میئر کراچی بنے اور دل و جان سے کراچی والوں کی خدمت کی کیا لیاری ایکسپریس وے جہاں چھتیس ہزار گھر نالوں پر بنے ہوئے تھے وہاں کے رہائشیوں کو مختلف آبادیوں میں آباد کیا یہاں بات ختم نہیں ہوتی کٹی پہاڑی جو پختون بھائیوں کا گڑھ تھا وہاں لوگ جانے سے ڈرتے تھے وہاں پہاڑی توڑ کر راستہ بنانے والے بھی یہی مصطفیٰ کمال ہی تھی آج کراچی والوں کو مصطفیٰ کمال کی یاد تو آتی ہوگی..

    بہرحال یہ وقت تھا جب کراچی شہر دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی کا 16 واں نمبر ہے کراچی کے نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے سیاست کو چمکانے کے واسطے کراچی کو لاوارث بنا دیا استعمال کرکے اللّه پاک میرے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسی باکردار قیادت اور باصلاحیت کردار سے نوازے آمین۔

  • فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل

    بھارت میں 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کی جانب سے شادی کے لیے دیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق چند دن قبل ایک بھارتی لڑکی کے بھائی اور ان کی سہیلی نے ان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اخبارات میں رشتے کے لیے ایک اشتہار شائع کروایا۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ اشتہار مزاحیہ تھا اور مذاق میں ہی دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو شادی کے لیے 25 سے 28 سال کے امیر لڑکے کی تلاش ہے۔

    مذکورہ اشتہار بھارت کے متعدد چھوٹے اخبارات میں شائع کروایا گیا اور یہ اشتہار انگریزی زبان میں شائع کروایا گیا اشتہار میں بتایا گیا کہ سوشل سیکٹر میں ملازمت کرنے والی 30 سالہ فیمنسٹ لڑکی کو جس کے بال چھوٹے ہیں اور ناک بھی چھیدی ہوئی ہے، اسے شادی کے لیے 25 یا پھر زیادہ سے زیادہ 28 سال کی عمر کے لڑکے کی تلاش ہے۔

    اشتہار میں دولہے کی دیگر شرائط میں لکھا گیا تھا کہ اس کے پاس پیسہ ہونا چاہیے، کم از کم 20 ایکڑ رقبے پر فارم ہاؤس ہونا چاہیے اور یہ کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک بیٹا ہے جس کا اچھا کاروبار بھی ہونا چاہیے ساتھ ہی اشتہار میں ایک ای میل ایڈریس دیا گیا تھا کہ جس پر امیدواروں کو رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
    https://twitter.com/awryaditi/status/1404665961718841347
    مذکورہ اشتہار اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جب کہ ایک کامیڈین اداکارہ نے اسے ٹوئٹ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے اسے ری ٹوئٹ کرنا شروع کردیا بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح اس اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ رچا چڈھا نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا تاہم اس اشتہار کے پیچھے کون لوگ ہیں اس متعلق انڈیا میں خاصی چہ میگوئیاں ہوئیں اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ اشتہار درست بھی تھا۔
    https://twitter.com/RichaChadha/status/1404693333599920130?s=20
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اشتہار شائع کروانے والی لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے بھائی نے ان کی 30 ویں سالگرہ پر مذاق کے طور پر مذکورہ اشتہار شائع کروایا، کیوں کہ بھارت میں عام طور پر جب کسی لڑکی کی عمر 30 سال ہوجاتی ہے تو اس پر شادی کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں ای میل پر کم از کم 60 ای میل موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں جہاں شادی کی پیش کش کی گئی، وہیں ان پر سخت تنقید بھی کی گئی کہ خود زیادہ عمر کی ہیں مگر انہیں لڑکا کم عمر چاہیے۔

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    مذکورہ لڑکی کے مطابق بعض افراد نے انہیں’سونے کی متمنی‘ اور ’منافق‘ تک کہا کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی ایک امیر خاوند کی تلاش میں ہیں ورامیر لڑکے سےشادی کرنے کے بجائے خود پیسے کمانے کے مشورے بھی دیئے جب کہ بعض خواتین نے انہیں فیمنسٹ ہونے کی وجہ سے بھی غصے سے بھرپور ای میل کیے-

    کچھ لوگوں نے اس کے اشتہار کو ’زہریلا‘ قرار دیا اور یہ کہ وہ خود تو فربہ لگتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ تمام فیمنسٹس بے وقوف ہوتے ہیں۔ ایک خاتون تو اس قدر ناراض ہوئیں کہ انھوں نے دھمکی دی کہ میرا بھائی مذکورہ لڑکی کو 78 ویں منزل سے نیچے پھینک دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جہاں اب بھی 90 فیصد شادیاں ارینجڈ یعنی بغیر پسند کے ہوتی ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ایک امیر دولہا چاہتا ہے اس اشتہار میں یہ دیکھنے کے لیے بہت سے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور وہ مشتعل ہو بھی گئے۔

    مزکورہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اشتہار نے بہت سے لوگوں کی انا کو نقصان پہنچایا ہے ن کے مطابق آپ ایسی باتیں اونچی آواز میں نہیں کہہ سکتے۔ مرد ہر وقت ایک دراز، سمارٹ اور خوبصورت دلہنیں مانگتے ہیں۔ وہ اپنی دولت کے بارے میں شیخیاں بھگارتے ہیں۔ مگر جب صورتحال بدلتی ہے تو پھر وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک عورت اس طرح کا معیار کیسے طے کر سکتی ہے۔

    لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار اس صورتحال پر ایک طنز تھا اور میرے خیال میں اس اشتہار پر وہی لوگ خفا ہوئے ہیں جنھیں ایسے اشتہارات میں ایسی سمارٹ، خوبصورت بیگمات کی تلاش ہوتی ہے۔

    اور جو اس طنز پر بھی مشتعل ہوئے ہیں ان سے لڑکی کا ایک سوال ہے کیا آپ روزانہ اخبارات میں ایسے اشتہارات پڑھنے کے بعد ایسی ای میلز تمام ایسی مطلوبہ دلہنوں کو بھی بھیجتے ہیں جو انتہائی پرکشش اور امیر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو یہ پدرشاہی ختم کرنی ہو گی۔

  • دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    دولہا کی نظر کمزور، دلہن نے شادی سے انکار کر دیا ، بارات خالی ہاتھ واپس

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں دلہن نے شادی سے انکار کردیا کیونکہ اس کے ہونے والے شوہر کی نظر اتنی زیادہ کمزور تھی کہ وہ چشمے کے بغیر اخبار بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق خبروں کے مطابق، اتر پردیش کے علاقے صدر کوتوالی میں قصبہ جمال پور ے ارجن سنگھ نے اپنی بیٹی ’ارچنا‘ کی شادی اور قصبہ بنشی کے ’شیوم‘ سے طے کی تھی اور دونوں کے گھر والے تیاریوں میں مصروف تھے۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کی تعلیم کو اولیت دی گئی۔ شِیوم مقررہ وقت پر بارات لے کر پہنچا تو اس کی عینک اس کی شادی میں رکاوٹ بن گئی۔

    شادی کی تقریبات میں دلہن کے گھر کی عورتوں نے دیکھا کہ دولہا نے زیادہ تر وقت چشمہ لگایا ہوا تھا جس پر انہیں اندازہ ہوا کہ شاید وہ چشمے کے بغیر ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتا۔

    رشتہ طے کرتے وقت لڑکے والوں نے یہ بات نہیں بتائی تھی، لہذا ان عورتوں نے عین شادی والے دن دولہا کا ’’امتحان‘‘ لینے کا فیصلہ کیا۔

    تاہم دلہن نے بھی دولہا کو عینک میں دیکھا تو کہا کہ وہ کمزور نظر کے آدمی کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی۔ دلہن نے شرط رکھی کہ اگر دولہا بنا عینک کے اخبار پڑھ دے تو وہ شادی کرلے گی۔

    شِیوم نے دلہن کی شرط پوری کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام ہوگیا۔دلہن کے اس طرح انکار پر باراتیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو دلہن کے گھر والوں نے بارات کو ہی خالی ہاتھ واپس لوٹادیا۔

    اس کے بعد انہوں نے مقامی تھانے میں دولہا کے گھر والوں کے خلاف شکایت بھی درج کروا دی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں دولہا کی اس ’’خرابی‘‘ کے بارے میں نہ بتا کر دھوکا دیا گیا جبکہ دولہا والے شادی کے انتظامات پر دلہن والوں کے اخراجات کی رقم، جہیز میں دی گئی بھاری نقدی اور دولہا کےلیے موٹر سائیکل سمیت دوسرا تمام ساز و سامان واپس کرنے سے انکاری ہیں۔

    شکایت درج کرنے سے پہلے مقامی پولیس نے یہ مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دولہا والوں کے تعاون نہ کرنے پر پولیس میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    لڑکی کے والد ارجن سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لڑکے کی نظر اتنی کمزور ہوگی۔ جب میری بیٹی کو اس بارے میں پتا چلا تو اس نے فوراً شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم نے بھی اس کا ساتھ دیا-

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

  • نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    نیوز اینکر نے براہ راست نشریات کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا

    لیوکاسا : نیوز اینکر نے براہ راست نیوز بلیٹن کے دوران تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی افریقا کے ملک زمبیا میں نجی ٹی وی چینل (کے بی این ) ٹی وی سے تعلق رکھنے والے نیوز اینکر کلیمینا کبیندا نے براہ راست نشریات میں تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔

    اینکر نے بلیٹن کے اختتام پر کہا ہم انسان ہیں، ہمیں تنخواہ دی جانی چاہیے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے، مجھے اور میرے کچھ ساتھیوں کو تنخواہ نہیں دی جا رہی، ہمیں تنخواہ ملنی چاہیے۔


    بعد ازاں کلیمینا کبیندا نے نیوز بلیٹن کا ویڈیو کلپ اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردیا اور لکھا کہ ہاں میں نے لائیو ٹی وی پر ایسا کیا، کیونکہ بہت سے صحافی اس بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں آواز نہیں اٹھانا چاہیے۔

    نیوز ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنےبیان میں اینکر کے الزامات کا جواب نہیں دیا سی ای او کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اینکر کلیمینا نشے کی حالت میں تھے-

    انہوں نے کہا کہ کے بی این نے ملازمین کی شکایات کے لیے ایک بہترین نظام بنا رکھا ہے جہاں کوئی بھی ملازم اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے، لیکن اینکر نے براہ راست بلیٹن میں ایسا کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی مزید تحقیقات کرائیں گے کہ اینکر کو نشے کی حالت میں نیوز بلیٹن کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

  • یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    سڈنی: آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی ہیں جو مینڈکوں سے باتیں کرنے کےلیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی نے مینڈکوں کی طرح ٹرانےمیں مہارت حاصل کی ہے وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

    پروفیسرمائیکل ماہونی نے”رائٹرز” کو بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں-

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی 240 انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً 30 فیصد کی بقاء کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی،سائٹرائڈ فنگس اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے ماہونی نے کہا کہ عالمی سطح پر تمام خطوں میں ورٹیبریٹس میں سب سے زیادہ خطرہ مینڈکوں کو ہے۔

    70 سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی 15 انواع بھی دریافت کرچکے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مینڈکوں کی کچھ انواع کو ناپید ہوتے بھی دیکھا ہے-

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    ماہونی نے کہا ، "شاید میرے کیریئر کا سب سے افسوسناک حصہ یہ ہے کہ ایک نوجوان کی حیثیت سے ، میں نے ایک مینڈک کو دریافت کیا اور اس کے دو سال کے اندر ہی پتہ چلا کہ مینڈک ناپید ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی اس سے آگاہی حاصل کرلی کہ ہمارے کچھ مینڈک کتنے کمزور ہیں۔ ہمیں اپنے رہائش گاہوں کو دیکھ کر یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہے۔”

    انہوں نے کہا ، "ہم نے ان کے تباہ کن نقصان کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو کچھ کیا وہ آسٹریلیائی مینڈکوں کے لئے پہلا جینوم بینک قائم کرنا ہے۔”

    ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    اس عمر رسیدگی میں بھی ماہونی اپنے شاگردوں کو مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھاتے ہیں۔ البتہ ماہونی یا ان کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مینڈکوں کی زبان سمجھنے کا دعویدار نہیں۔

    ماہونی کے تحفظ کے اس جذبے نے ان کے طلباء کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ان میں سے ایک ، سائمن کلو نے ، 2016 میں ماہونی کے اعزاز میں ایک نئے دریافت مینڈک کا نام "ماہونی ٹاڈلیٹ” رکھا تھا۔

  • سنیک ویڈیو اپیلیکیشن ،ایک نئی سازش،‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    سنیک ویڈیو اپیلیکیشن ،ایک نئی سازش،‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    سنیک ویڈیو اپیلیکیشن ،ایک نئی سازش،‏تحریر ۔ عمالقہ حیدر

    ایک نئی سازش جسے مسلمان نوجوان کمائی کا زریعہ سمجھ رہے ہیں
    🙏ایک مرتبہ یہ لازمی پڑھیں……………..
    ہم میں سے کچھ لوگ پیسے کی محبت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں۔۔ کہ جائز و نا جائز کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔ ایک تازہ مثال snack video appہے ہر وقت اس کی تشہیر کی جا رہی ہے اور اب تو یہ آفر آگئی ہے کے ایپ انسٹال کریں اور پیسے حاصل کریں۔۔امت کے نوجوان بچے اور تقریبا ہر عمر کے افراد اسے ڈاؤنلوڈ کر رہے ہیں بات یہی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ دوسروں کو invite کریں اور پیسے حاصل کریں۔۔جتنا ٹائم آپ بے حیائی کو دیکھیں گے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع ہوتے رہیں گے۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی ، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ( کا بوجھ ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔
    ہم اندھا دھند کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ایک لمحہ کیلیئے سوچیں تو سہی اگر ہم نے ایک بندے کو انوائیٹ کیا اور اس نے آگے 10 کو،ان 10 نے آگے 20 کو اور ایسے یہ سلسلہ چلتا رہا ہم اپنے کاندھوں پے کن کن کے گناہوں کا بوجھ لاد کر لے جائیں گے اور کس کس کے بوجھ کے حصہ دار بنیں گے خدارا اسے یہاں سٹاپ کریں اس ظلم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو۔ بھی بچائیں سورہ نور میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے

    اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
    جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔
    تو میرے آقا کے امتیوں خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاو اس پیغام کو اتنا زیادہ پھیلائیں جتنا یہ ایپ اور اس طرح کی دوسرے بےحیائی پھیلانے والی ایپس پھیل رہی ہیں کیا پتا کل روز قیامت آقاصلى الله عليه واله وسلم کے ان ساتھیوں میں نام آجاۓجو آپ کو محبوب ہیں اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین اور ایسے نادیدہ بوجھ سے ہمیں بچا لے۔۔۔ آمین

  • ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ماہرین آثار قدیمہ نے ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق نئے حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی یونیورسٹی کے ماہرین نے 1930 میں چین سے ملنے والی انسانی کھوپڑی پر مزید تحقیق کی تھی۔

    ماہرین کے مطابق زمانہ قدیم کے ڈریگن مین کی آنکھیں مربع شکل اور منہ بڑا تھا ڈریگن مین نامی اس دور کے انسان کا دماغ آج کے انسان سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس کے آئی سوکٹ مربع شکل کے تھے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سال پہلے زمین پر موجود انسان کے دانت بھی بڑے تھے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ راملہ شہر کے نزدیک دریافت کی جانے والی باقیات ایک انتہائی قدیم انسانوں کی نسل کے ’آخری بچ جانے والوں‘ کی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محققین کی ٹیم کے مطابق یہ انسان اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل پھیل گئی تھی اور انھی کی نسل سے یورپ میں نینڈرتھل آئے تھے سائنسدانوں نے اپنی اس دریافت کو ’نیشر رملاہ ہومو‘ کا نام دیا ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہلا مے نے کہا کہ اس دریافت کے انسانی ارتقا کی کہانی بدل سکتی ہے، بالخصوص نینڈرتھل نسل کے انسانوں کے بارے میں نینڈرتھلز کے ارتقا کو عمومی طور پر یورپ سے جوڑا جاتا ہے یہ سلسلہ اسرائیل میں شروع ہوا ہمارا خیال ہے کہ یہاں کا ایک مقامی گروپ اس آبادی کا ذریعہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نیشر رملہ نسل کے لوگ مشرق وسطی سے پھر یورپ منتقل ہوتے چلے گئے۔‘

    ماہرین کی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے ممبران کوئی چار لاکھ برس قبل موجود تھے محققین کو اس نسل میں اور یورپ میں ملنے والے نینڈرتھلز نسل سے بھی پہلے کے انسانوں میں کچھ مماثلت نظر آئی ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ریچل سارگ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم نے لیوانت (بحیرۂ روم کا مشرقی علاقہ) میں رہنے والے ماضی کے انسانوں میں سے کوئی تعلق جوڑا ہوقاسم، زوتیاہ اور تبون کی غاروں سے ایسے کئی انسانی فوسلز ملے ہیں جنھیں ہم اس زمانے میں موجود ہیں انسانوں کے کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کر سکت۔ لیکن ان کی شکلوں کا نوشیر رملا سے ملنی والی نئی باقیات سے موازنہ کرنے سے (نئے انسانی) گروہ میں ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے ڈاکٹر مے کے مطابق یہ انسان نینڈرتھل نسل کے آباؤ اجداد تھے۔

    ’یورپی نینڈرتھل دراصل یہاں لیوانت سے شروع ہوئے تھے اور پھر یورپ ہجرت کر گئے، جبکہ انسانوں کے دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے رہے۔

    پروفیسر اسرائیل ہرشکوٹز کہتے ہیں کہ باقی کچھ افراد مشرق میں انڈیا اور چین کی طرف نکل گئے۔ اس طرح وہ یورپ میں قدیم مشرقی ایشیائی انسان اور نینڈرتھلز کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والے کچھ فوسلز کی خصوصیات نیشر راملہ کی طرح نینڈرتھل سے ملتی جلتی ہیں۔

    محققین کہتے ہیں کہ ان کے دعوے اس بنیاد پر ہیں کہ اسرائیل میں ملنے والے فوسلز اور یورپ اور ایشیا سے ملنے والے فوسلز میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، اگرچہ ان کا یہ دعویٰ متنازعہ ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس سٹرنگر حال ہی میں چینی انسانی باقیات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    پروفیسر کرس سٹرنگرکہتے ہیں کہ نیشر رملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ زحتلف سپیشیز اُس وقت خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتی تھیں اور اب ہمارے پاس مغربی ایشیا میں بھی یہی کہانی ہے تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسرائیل کے کچھ پرانے فوسلز کو نینڈرتھلز سے جوڑنا ایک دور کی کوڑی ہے۔ میں نیشر رملہ اور چین کے فوسلز کے مابین کسی تعلق کی بات پر بھی حیران ہوں۔‘

    نیشر رملہ کی باقیات ایک ایسی جگہ سے ملی تھیں جو کبھی ایک سنک ہول ہوا کرتا تھا، اور اس علاقے میں قدیم انسان آیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علاقہ رہا ہو جہاں وہ جنگلی جانوروں، گھوڑوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہوں، جسکا اشارہ ہزاروں پتھر کے آلے اور شکار کیے گئے جانوروں کی ہڈیوں سے ملتا ہے۔

    یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسی زیدنر کے ایک تجزیے کے مطابق یہ اوزار بھی اسی انداز میں بنائے گئے تھے جس طرح اس وقت کے جدید انسان نے اپنے لیے بنائے تھے یہ حیران کن بات ہے کہ قدیم انسان بھی اسی طرح کے آلات استعمال کر رہے تھے جو عموماً ہومو سیپیئنز یا موجودہ نسل کے انسان استعمال کرتے تھے۔‘

    ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ آلات کو (بنتا) دیکھ کر یا زبانی طریقے سے سیکھ کر ہی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا بالکل سادہ نہیں ہے اور اس میں انسان کی مختلف سپیشیز کے درمیان بہت سا انتشار، روابط اور تعامل شامل ہے۔‘

    یاد رہے کہ چند ماہ قبل مشرقی کینیا کے ایک غار میں چھوٹے بچے کی ہڈیاں ملی تھیں جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ افریقہ میں سب سے قدیم تدفین ہے۔

    یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا تھا لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    اس بچے کی عمرعمر 2 ½ اور 3 سال کے درمیان تھی ایک اندازے کے مطابق باقیات 7 8ہزار سال پرانی ہیں۔

    شواہد بتاتے ہیں کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا ٹانگیں جوڑ کر سینے کی طرف اکٹھی کی گئی تھیں۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

  • امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    امن و محبت کی علمبردار۔۔۔۔ ایف سی فورس پاکستان ! تحریر:ذیشان ہوتی

    فرنٹیئر کور (ایف سی) ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو پاک-افغان اور پاک-ایران بارڈر سے منسلک حساس علاقوں اور قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے فرائض ادا کر رہی ہے۔
    سال2001 کے بعد خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع سمیت پورا صوبہ پڑوسی ملک افغانستان کے قریب تر ہونے کی وجہ سے دہشتگردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہزاروں لوگوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں اور کئی لاکھ خاندان بھی متاثر ہوئے۔ ان مشکل حالات میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی ادارے جہاں قبائلی علاقوں کی سرحدوں کا دفاع کر رہے تھے وہیں پختون روایات سے باخبر فرنٹیئرکور نے قبائلی علاقوں میں دہشتگردی سے متاثرہ لوگوں کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کے تحفظ میں آئی جی ایف سی سے لیکر فرنٹیر کور کے جوان تک ہر شخص بہ نفس نفیس شامل رہا جس نے ملک کے دفاع اور عوام کے تحظ کی قسم کھائی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سمیت پورے پاکستان کو مستقل طور پر دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایف سی نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز کیا جسکو انتہائی مہارت اور خوش اسلوبی کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
    ایف سی کے افسران بشمول جوانوں نے ارض مقدس کی سرحدوں کا نہ صرف جوانمردی سے دفاع کیا بلکہ دہشتگردی کے ناسور سے متاثرہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ بھی برقرار رکھا تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو جو ایک انتہائی شفیق اور بہترین عمل تھا۔ ایف سی نے عوام سے سناشائی کو بڑھایا اور ان میں گھل ملنے کے لئے ان کی ہر غمی خوشی میں شرکت کی۔ اس کی ایک بڑی مثال حالیہ ضلع مہمند کے زیارت ماربل کا حادثہ تھا جب فرنٹیر کور نے عوام کے دکھ کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے آنسؤں کو پونچھنے اورانہیں دلاسہ دینے کے لئے نہ صرف اپنا کندھا پیش کیا بلکہ ان کے خاندان کی مالی مدد بھی کی اور ساتھ ساتھ ان کے گھر کے ایک فرد کو ایف سی میں بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
    فرنٹیر کور کی عوامی خدمت کا سلسلہ یہی پر نہیں رکتا بلکہ ایف سی نے قبائلی علاقوں میں بے شمار ترقیاتی اور خوشحالی کے منصوبے بھی شروع کیے۔ فرنٹیئر کور نے دہشتگردی سے متاثر ان علاقوں کے سکولوں اور کالجوں از سر نو تعمیر اور بحال کیا جن کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا تاکہ قبائلی بچے تعلیم جیسی نعمت سے محروم رہیں۔ ایف سی نے دہشت گردوں کی اس سازش کو ہر بچے کے لیے مفت اور آسان تعلیمی رسائی سے ناکام بنایا۔ کیونکہ فرنٹیئر کور کو معلوم ہے کہ قبائل محب وطن پاکستانی ہیں اور انکے بچے پاکستان کا روشن مستقبل۔ اور کل کو یہ تعلیم یافتہ بچے بھی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار کریں گے۔ اسی لیے قبائلی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے فریضہ کو اہم اور ترجیحاتی بنیادوں پر لیتے ہوئے پاک فوج، ایف سی اور حکومتی مشران کی بدولت قبائلی علاقوں میں سینکڑوں نئے معیاری تعلیمی ادارے بنائے گئے اور بیسیوں جزوی یا مکمل طور پر تباہ شدہ اداروں کو از سر نو تعمیر کروایا تاکہ ان بچوں کو جو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے۔ اعلی تعلیم کے کیے قائم کیے جانے والے اداروں میں سے ایک مثال مامد گٹ کیڈٹ کالج ضلع مہمند کی ہے۔ جس میں قبائلی بچے بین الاقوامی معیار کی تعلیم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
    قبائلی علاقوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ چند قدم کا فاصلہ خراب سڑکوں کی وجہ سے گھنٹوں میں طے کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو آمدو رفت میں دقت کا سامنا تھا بلکہ دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں کے متاثرہ کاروبار کو سہارا دینے کی بھی اشد ضرورت تھی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے ایف سی کے مشران نے لوکل کنٹریکٹرز اور حکومت کی مدد سے امتیازی مواصلاتی نظام کا جال بچھانا شروع کردیا۔ سینکڑوں کلومیٹر طویل قومی سطح کی بہترین کشادہ سڑکیں بنائی گئیں اور ساتھ ساتھ تباہ شدہ مارکیٹوں کو ایک نئی شکل دے دی جو جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ اب جس کی بدولت لوگوں کے کاربار میں بھی بہتری آئی ہے اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔

    قبائلی علاقوں میں امن بحالی کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اولین ترجیح میں تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ دینا تھا تاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کو آباد کرکے نئی زندگی شروع کرسکیں ۔ اس مقصد کیلئے ایف سی کی نگرانی میں شفاف سی ایل سی پی سروے کا آغاز کیا گیا جس میں دو علاقائی مشران، ایک ڈیٹا انٹری آفیسر، ایک انجنئیر اور ایک ایف سی کیپٹن شامل تھا۔ پانچ افراد پر مشتمل اس کمیٹی نے متاثرہ خاندانوں کا شفاف ڈیٹا اکھٹا کیا جسکی بنیاد پر پی ڈی ایم اے کیجانب سے جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے مالکان کو فی خاندان ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے اور مکمل تباہ شدہ مکان والے کو چار لاکھ روپے کا امدادی معاوضہ دیا جاچکا ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد خاندان مقیم تھے تو انکو فی خاندان کے حساب سے مندرجہ بالا معاوضہ مل چکا ہے اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔
    قبائلی عوام کو صاف پانی کی فراہمی ایک خواب تھا جسکو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ایف سی نے ہر قبائلی ضلع میں صاف پانی کے سینکڑوں پلانٹس لگائے تاکہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    چونکہ ان علاقوں میں جدید طبی و حفظان صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کا فقدان تھا تو یہاں کے عوام کو علاج معالجے کے لیے مجبوراً پشاور اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا تھا۔ اب ہر تحصیل میں بی ایچ یو اور ہر ضلع میں دور جدید کا ہیڈکوارٹر ہسپتال موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف سی کیجانب سے فری میڈیکل کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے تحت فرنٹیئر کور جدید ترین میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتی ہے اور دور پار کے دیہاتی علاقوں تک ضروری اور اہم علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔

    قبائلی علاقوں میں اکثر قوموں کے مابین تصادم اور دشمنیوں کا طویل سلسلہ چلا آ رہا تھا جس سے علاقائی لوگوں کو شدید مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اس شیطانی روایت کو توڑنے اور قبائلی عوام کو متحد رکھنے کیلئے ایف سی مشران اور علاقائی ملکان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی بدولت آج تک سینکڑوں تنازعات قبائلی روایات کے مطابق امن و عافیت سے حل کروائے گئے ہیں۔
    خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے جنکی ضروریات کو دیکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کے ہر تحصیل میں ویٹرنری ہاسپٹل اور زرعی مراکز بنائے گئے ہیں۔

    دہشت اور خوف کی فضا میں جوان ہوتی ہوئی قبائلی نسل کی ذہنی نشوونما کے لیے ایف سی مشران نے نہ صرف کھیلوں کے میدان بنائے بلکہ ان نوجوانوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی گئی تاکہ انکو سپورٹس کٹس خریدنے میں آسانی ہو۔قبائلی علاقوں میں جاری ترقیاتی سفر کی داستان بڑی طویل ہے جسکو ایک آرٹیکل میں سمیٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ جاری اعدادوشمار کے مطابق امن بحالی کے بعد تقریبا 2900 ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے جن میں ایف سی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ان شاء اللہ فرنٹیئرکور ایسے ہی عوام کی خدمت جاری رکھے گی اور میں ایف سی کے ناقابل فراموش کردار پر انکو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں
    پاکستان زندہ باد

  • ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    ابلیس کا دربار . تحریر:عمالقہ حیدر

    شیاطین کی انٹر نیشنل کانفرنس کچھ دیر تک شروع ہونے والی ہے دور دراز سے اور ہر ملک سے جنات جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس انٹر نیشنل کانفرس کی سب سے بڑی حیرانی یہ ہے کہ جنات کا سب سے بڑا امیر اس کانفرنس سے خطاب کرے گا یہ امیر ہر سو سال بعد ایک بڑے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے اور خطابت کے بعد پھر سو سال نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس لیے آج کا اجتماع شیاطین کے لیے بہت اہم ہے کروڑوں شیاطین اپنے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے بےتابی سے اجتماع کیطرف رواں دواں ہیں پھر اپنے امیر کی وعظ و نصیحت کو اپنے پلو باندھ کر اس پر عمل ہر صورت کرتے ہیں چاہیے اس کی خاطر خون کی ندیاں بھی بہانی پڑ جائیں اس لیے کچھ انسانوں کی دنیا میں بھی گروپ اس بڑے اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جو اس ابلیسی خطاب سے اپنی سماعتوں کو تسکین دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آئیے شیاطین کے امیر کی بارعب اور گرج دار آواز میں اس کا خطاب سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    *میرے کارندوں آپ جانتے ہیں کہ پچھلہ سو سالہ ہدف جسطرح نے کامیابی سے طے کیا ہے اس کی کارکردگی پر میری آتما بہت خوش ہے۔ جسطرح آپ نے اسلام میں فرقہ پرستی کو ہوا دی اور مسلمان کو مسلمان سے دور کیا اس کی اب مثال نہیں ملتی اور اس کی اور کامیابی کیا ہو۔ ایک ہی اللہ اور ایک رسول اور ایک قرآن رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں وجہ صرف آپکی بھڑ کائ ہوئ فرقہ پرستی کی آگ ہے ۔ہمیں اگر ڈر ہے تو صرف اسلام سے ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو ہماری ابلیسی پالیسی میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس آگ کو مزید تیز کر کے اسلام کو منتشر کر دو لیکن آج کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرنے کا مقصد یہ لے کر آیا ہوں کہ اب آپ نےمزید اسلام کو کیسے کمزور کرنا ہے تاکہ اس کا نام بھی مٹ جائے کیونکہ ہماری فرقہ پرستی کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کی نئ نسل ہماری اس پالیسی سے خوب واقف ہو گئ ہے ۔نئے نوجوان دوسرے کے مسلک کو ادب سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے نئ پالیسی کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے اگلے سو سالہ کا سوچنا ہے کہ اسلام کے مقلدین کی کیسے دھجیاں آڑانی ہیں یہی وہ دین ہے جو مضبوط ہو گیا تو ہماری دھجیاں اڑا دے گا۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کو ہم نے جسطرح بے منزل راہوں کا مسافر بنایا ہے اس کی مثال دینا مشکل ہے___

    سنو میرے پیرکارو ۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام کے سینے میں مضبوط ترین اگر کوئ چیز محفوظ ہے تو وہ شرم و حیا اگر آج اسلامی تہزیب زندہ ہے تو اسی خوبی کی وجہ سے ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے یورپ میں عورت کا استعمال کر کے یورپ کا خاندانی اور معاشرتی نظام تباہ کیا اب دیکھو وہاں ماں بہن اور بھائ میں شرم و حیا ختم ہو گئ ہے بھائ کی بہن دوستوں کے ساتھ جہاں جائے کوئ روک تھام نہیں عورت کو ہم نے پورن انڈسٹری میں پہنچا کر اسے آزادی نسواں دی ۔اب دیکھو عورت یورپ میں اپنی من چاہی زندگی گزار کر ہماری پالیسی کی آئینہ دار ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مشن ہے جو ہر دن مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے___

    آج کی اگلی سو سالہ پالیسی یہ ہے کہ اب آپ نے اہل مسلم خواتین کے دماغوں میں تحریک آزادی کا تخیل دینا ہے تاکہ وہ حدود و قیود اور حجاب جیسی گھٹیا اور روایتی انداز کو توڑ دے تاکہ مسلم خواتین سب سے پہلے ایک خاوند کی بیوی کہلانے سے نکلے اور اسے یہ حق دینے کی تقویت دینی ہے کہ۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ اور اس جیسے شاندار نعرے اس کی روح تک اتار دینے ہیں۔ اور کچھ میرے پیروکار نے مزید Tikokاور BIGO LIV جیسے نئے راستوں سے مزید روشناس کرانا ہے کیونکہ ہم جب تک بے حیائ اور برہنہ تراکیب کو عام نہیں کریں گے اسلام کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی اس کے لیے مزید پورن گرافی کو عام کرو۔یہی وہ راستہ جس کے ذریعے اس اسلام کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
    تاکہ یہ جنسی تحریک دماغوں میں رچ بس جائے۔ خاندانی رشتوں کی تمیز ختم ہو ۔اس مشن کی پہلی کامیابی یہ ہو گی کہ جب بہن بھائ میں جنسی
    گفتگو میں کوئ ہچکچاہٹ نہ ہو تو سمجھو کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ۔ہمارا یہ مشن اس صدی میں مقبول ترین ہو گا کیونکہ میری آنکھیں آنے والے زمانے میں بہت کامیابیاں دیکھ رہی ہیں آپس میں اتفاق میں رینا اہل مسلم کی طرح تفرقوں سے دور رہنا اور اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹنا کیونکہ اگر اسلام مضبوط ہو گیا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ‏ماڈرن شیر . تحریر:عمالقہ حیدر

    ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئی.
    لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،،
    لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی.
    کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکا افتتاح کیجیے ،،
    شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے.
    ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،
    لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئی جھوٹے دعوے مشہور کیے ہیں.
    ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،،
    آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،
    اور آپکو روشن خیالی کا دشمن سمجھا جا رہا ہے ،،
    آپ بیوٹی پارلر کا افتتاح کریں گے تو آپکے متعلق یہ افواہیں دم توڑ دیں گی،،

    شیر نے ایک لمحہ لومڑی کی باتوں پہ سوچا اور پھر افتتاح میں آنے کی حامی بھر لی ،،

    شیر نے بیوٹی پارلر کا فیتہ کاٹا ،، ریچھ ،، لگڑ بگڑ ،، بھینسے ،، گائے ،، زیبرا ،،ہرن ،، وغیرہ نے خوب تالیاں بجائیں ،،
    اسٹیج سیکرٹری بندر تھا پہلے اس نے خوب اچھل اچھل کر داد دی ،،
    پھر مائک پہ آ کر اعلان کیا ،،
    ” شہنشاہ دوراں
    آج آپ نے اس محفل میں آکر ثابت کر دیا ھے.
    کہ آپ ایک روشن خیال بادشاہ ہیں ،،
    بناؤ سنگھار کی اس محفل کی سرپرستی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ احساس جمال سے بہرور ہیں ،،
    یوں آپکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ جو یک طرفہ تھا زائل ہو گیا ہے ،،
    شیر کو یہ سب باتیں بڑی عجیب لگ رہی تھی لیکن جب سب نے تالیاں بجانی شروع کیں تو شیر کو بھی اچھا لگنے لگا ،،

    تقریب کے بعد لومڑی لہنگا پہن کر سٹیج پہ آئی اور پورے سات بار جھک کر بادشاہ کو سلامی دی ،، اور کہا
    ” یہ باندی آپکی آمد کا شکریہ ادا کرتی ہے ،،
    اب آپکی آمد کی خوشی میں یہ باندی ایک مجرہ پیش کرتی ہے ،،
    پھر لومڑی نے جی بھر کر مجرا پیش کیا.
    مجرا ایسا تھا کہ لومڑی نے میدان سے دھوئیں اٹھا دئیے ،،
    شیر پہلے تو حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا پھر اسکو بھی لطف آنے لگا ،،
    یہ تقریب صبح تک جاری رہی ،،

    دوسرے دن لومڑی ایک ایک جانور کے پاس گئی..
    اور کہا کہ اب تو شیر کی چیرہ دستیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،،
    شیر سے کوئی شریف جانور نہیں محفوظ ،،
    وہ شریف جانورں سے بھی مجرہ کراتا ہے ، پہلے تو اس کمبخت کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ نہ تھیں اب عزتیں بھی نہیں محفوظ ،،
    اس طرح کئی جانوروں کے ساتھ میٹنگز طے کرتے کرتے لومڑی نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دے دیا اس اتحاد میں چیتا بھڑیا سانپ بندر ریچھ سب شامل تھے ،

    ایک دن شیر کے غار میں لومڑی حاضر ہوئی.
    اور عرض کی ظلِ الہی اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ،،

    ظللِ الہی اس وقت ایک ہرن نوش جاں فرمانے کے بعد اونگھ رہا تھا بادشاہ دوراں نے غنودگی کے عالم میں کہا بولو ،،
    لومڑی نے دست بستہ کہا.
    کہ شہنشاہ ہر دلعزیز کی روشن خیالی کی دھوم تو ہر طرف ہی ہے ،
    لیکن چیتے ریچھ ہاتھی وغیرہ نے آپکے خلاف ایک کولیشن تشکیل دی یے ،
    خود اس میں آپکے قریبی دوست شامل ہیں.. آپ جانتے ہیں یہ کافی ظالم جانور ہیں ،،
    آپکا ان سے بیک وقت ٹکرانا مصلحت نہیں ہے.
    میرے پاس ایک ترکیب ہے.
    جس پہ عمل کرنے سے انکے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے ،،
    شیر نے غصے سے دھاڑتے ہویے کہا تجویذ پیش کیجائے ،

    ،لومڑی خوشامدی انداز سے بولی..
    بادشاہ سلامت آپکے خلاف سارہ پروپیگنڈہ آپکے دانتوں اور ناخن کی وجہ سے ہے ،،
    اس پہ شیر غصے سے داڑھا اور کہا تو کیا میں یہ نکلوا دوں ،،
    لومڑی بولی..
    خدا نہ کرے بادشاہ سلامت.
    لیکن اگر آپ صرف پنجوں کے ناخن کٹوا دیں اور سامنے والے تھوڑے سے دانت نکلوا دیں..
    تو آپکی طاقت بھی بحال رہے گی اور دشمن کا پروپیگنڈہ بھی مکمل خاک میں مل جایے گا ،

    ،، شیر نے سوچا کہ کہیں سارے جنگل کے اتحادی ملکر مجھ پہ حملہ نہ کر دیں..

    اس نے نہ چاہتے ہویے بھی لومڑی کی یہ تجویز مان لی.
    وہ بھول گیا کہ وہ ایک شیر ہے وہ بس ڈانس اور دوسرے محفلوں تک رہنے کا عادی ہو چکا تھا ،،

    ایک روز شیر شکار کرنے اپنی غار سے نکلا اور ایک ہرن کے پیچھے کئی کلومیٹر بھاگنے کے بعد اسکو قابو کیا ،،
    لیکن جب اسکے جسم میں اپنے ناخن گاڑھنا چاہے تو پنجے میں ناخن نہ ہونے کی وجہ سے پنجہ پھسل گیا..
    اس نے جلدی سے دانت ہرن کے گلے میں گاڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہؤا ،،

    اس جدوجہد کے دوران ہرنی کو بھی علم ہو گیا…
    کہ شیر فارغ ہے یہ بس نام کا شیر ہے..
    تو ہرنی نے شیر کو چار پانچ لاتیں اچھی رسید کر لیں اور وہاں سے بھاگ نکلی ،،

    شیر نے کئی جانوروں پہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک بھی جانور پہ داؤ نہ چلا شام تک بھوک سے برا حال ہو گیا تھا ،،

    نڈھال شیر گرتے پڑتے اپنے کچھار پہنچا اور اس وقت امید کی کرن دکھائی دی.
    جب اسکو دور سے لومڑی غار میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی…

    لومڑی نے بادشاہ سلامت کے آگے نہ سلام پیش کیا نہ عزت دی نہ اسکو ظل الہی یا عالی جاہ کہا نہ ہی شیر کو شہنشاہ دوراں کہا…
    ،، لومڑی نے طنزیہ انداز سے کہا بھوک تو بہت لگی ہو گی،
    شیر نے نقاہت سے کہا.
    ہاں بہت زیادہ تم میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو،
    میں نے تمہارے ہی مشورے پہ ناخن نکلوائے ہیں اور تمہارے ہی کہنے پہ سامنے کے دانت نکلوائے.
    اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے.
    کہ میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو ،،

    لومڑی نے یہ سنا تو ایک لمبا قہقہ لگایا اور شیر کو ایک لات رسید کر کے کہا..

    او بیوقوف چوپائے

    کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا ،،،،،،
    ہاں تمہارے ساتھ چونکہ ایک تعلق ہے ،،
    لہذا میں تیرے لیے گوشت تو نہیں لیکن گھاس کا انتظام کر سکتی ہوں ،،

    یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا ، اس نے لومڑی پہ اچانک حملہ کیا لیکن لومڑی پہلے سے تیار تھی وہ وہاں سے ہٹی اور شیر جو نڈھال تھا اسی جگہ گر پڑا ،،
    کچھ دن بعد لومڑی شیر کے پاس پھر آئی..
    شیر بے ہوشی کے عالم سے دو چار تھا.
    اس نے لومڑی کو دور سے دیکھا تو چلا کر کہا.

    مجھے گھاس کھانا بھی منظور ہے.
    اللہ کے لیے کہیں سے میرے لیے گھاس کا انتظام ہی کر دو..
    اب تو میں گھاس کے لیے گھومنے کے بھی قابل نہیں رہا ۔۔
    لومڑی نے شیر کی یہ بے بسی دیکھی تو لومڑی کی آنکھوں میں جیت کی چمک واضح دکھائی دی لومڑی نے شیر کو طنزیہ کہا..

    "گھاس بھی تب ہی مل سکتی ہے جب تم منہ سے میاؤں کی آواز نکالو ”

    یہ سن کر شیر کا جی چاہا کہ…
    زمین پھٹ جایے اور وہ اس میں دھنس جائے.
    لیکن جس کو اپنے وقار سے زیادہ اپنی جان عزیز ہو اسکی زمین میں دھنس جانے کی خواہش پوری نہیں ہؤا کرتی…

    چنانچہ شیر نے اپنا جی کڑا کر کے اپنے منہ سے میاؤں کی آواز نکالی اور پھر رحم طلب نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھنے لگا ،،

    لومڑی نے حقارت سے اسے دیکھا اور کہا یہ میاؤں کی آواز تم نے ٹھیک نہیں نکالی تم کچھ دن ریاضیت کرو پریکٹس کرو جس دن سے تم میاؤں کی صیحح آواز نکالنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اس دن سے تم کو گھاس باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جائے گی ،،

    آخری اطلاعات آنے تک شیر ابھی تک میاؤں میاؤں کی آواز نکالنے میں مصروف ہے…
    شیر اب تک میاؤں میاؤں کی اواز نکالنے میں کافی دسترس حاصل کر چکا ہے ،،۔۔

    یہ چالاک لومڑی یہود و ہنود ہیں اور شیر مسلم ممالک اور امت مسلمہ ہے.

    ان گنت کوتاہیوں اور مختلف ہتھکنڈوں میں پھنس کر امتِ مسلمہ بھول بیٹھی ہے کہ وہ ایک شیر ہے.
    سائنس و ٹیکنالوجی, پروڈکشن اور دفاعی امور میں ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا اور ہم نے بھی عقل و دانش کو سلائے رکھا اور مسلسل سوئے ہوے ہیں.

    آج یہ شیر بس میاؤں میاؤں کر رہا ہے ،،….
    بقول علامہ اقبال

    تھے تو آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو,
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو,