Baaghi TV

Category: متفرق

  • پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

    پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی
    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک حسین ترین ملک ہے، جیسے اللہ سبحانہ و تعالی نے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، سمندر، زرخیر میدان، دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملکِ پاکستان بدترین عالمی حدت کا شکار ہے،ماحولیاتی مطالعات سروے  کے مطابق پاکستان  عالمی حدت سے متاثرہ دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ پاکستان میں عالمی حدت کے حوالے سے بہت کم لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں..

    زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کا نام عالمی حدت ہے۔ ہماری زمین کے ماحول میں کچھ ایسی گیسز پائی جاتی ہیں جو نیم مستقل لیکن دیرپا رہتی ہیں یہ گیسز قدرتی طور پر نہیں بلکہ زمین پر انسانی تجربات کے باعث مثلاً صنعتی ترقی ، آبادی میں اضافے ، جنگلات کی کٹائی اور انتہائی آلودگی پھیلانے والے فوسیل ایندھن کے استعمال سے ہم آہنگ ہے۔ جس کی وجہ سے قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے اور یہی عالمی حدت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔۔

     سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں بنیادی طور پر جوچھ گیسیں اضافہ کررہی ہیں ان میں سب سے بڑاحصہ کاربن ڈائی اکسائیڈکاہے۔ جبکہ میتھین، نائٹڑس آکسائیڈ، ہائیڈرو فلورو کاربن اورسلفر اکسا فلورائیڈ با الترتیب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اور چھٹے نمبرپرہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک مرکب سالمہ ہے جس جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عددایٹموں سے ملکر تشکیل پاتا ہے یوں یہ تین ایٹمی سالمہ سورج کی توانائی کوجذب کرکے اس کے اخراج کے نتیجے میں تپش میں اضافہ کرتاہے۔

    مکرمی! پاکستان میں اگر عالمی حدت سے پیدا ہونے والے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لئے جلایا جاتا ہے اور یہ عالمی حدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے۔کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یوں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث کرہ ارض پرقائم حفاظتی غلاف جسے اوزون لیئر کا نام دیا جاتا ہے اس میں سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ انسان ترقی کے نام پر اپنی تباہی کا انتظام خود کرتا آ رہا ہے اور آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اسے کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ اور میتھین، دونوں گلوبل وارمنگ کا سبب ہیں۔ یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتی ہیں جو سورج سے حرارت کو زمین پر آنے تو دیتا ہے، لیکن واپس نہیں جانے دیتا، جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑتا ہے۔

    عالمی حدت کے باعث انسان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے مثلاً زمین کے درجہ حرارت کے باعث برفانی تودوں کا تیزی سے پگھلنے سیلاب کے خطرات پیدا ہورہے ہیں ،اس کی وجہ سے سمندروں کا پانی گرم سے گرم تر ہو رہا ہے، اس کے اثرات پاکستان میں بسنے والی ہر مخلوق پر پڑیں گے عالمی حدت پانی کے چکر کو متاثر کرتی ہے ، اور اس کے ساتھ پینے کے پانی تک رسائی ہوتی ہے تو ، بیماریوں خصوصا سانس اور جلد کی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی حدت کو روکا نہیں گیا توو وہ مقام آ سکتا ہے کہ کہ زمین پر انسانوں کی بود و باش مشکل ہو جائے گی ،اس کا حل صرف اور صرف درخت لگانا ہے۔

    عالمی حدت پر کنٹرول کا ایک نسخہ اب ہماری دسترس میں ہے وہ ہے "درخت لگانا” ۔ درخت نہ صرف صدقہ جاریہ ہیں بلکہ اس وقت پاکستان اوردنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں درخت انسانوں کے دوست اور زمین کا زیور ہیں ۔درخت انسانوں کو نہ صرف آکسیجن، سایہ، پھل ،میوہ جات اور ایندھن مہیا کرتے ہیں بلکہ یہ ماحول کو آلودگی سے بھی بچاتے ہیں، زمین کو زرخیز کرتے ہیں، جنگلی حیات کا مسکن ہیں، زمینی کٹائو میں کمی لاتے ہیں ،سیلاب کو روکتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم رکھتے ہیں،درخت دن کے وقت کاربن گیس جذب کر کے آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں ۔ درخت ماحولیات کو سازگار اور موسم کو اعتدال پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں.

    درخت ہمارے قدرتی ماحول کو آلودگی اور عالمی حدت سے بچاتے ہیں۔ مگربدقسمتی سے پاکستان میں شب و روز درختوں کو بے دردی کے ساتھ کاٹے جارہا ہے، جس سے فضا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن یقینی طور پر بگڑ سکتاہے اور یہ عالمی حدت میں اضافہ کا اہم سبب بن جائے گا کیونکہ جس حساب سے درختوں کی کٹائی ہوگی، اس تناسب سے پیڑ پودے نہیں لگائے جائیں گے۔ ہم روزانہ اپنے آس پاس میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ کے سبب جس بے دردی کے ساتھ درختوں کو کاٹا جاتا ہے، اس کے مقابلے نئے پیڑ پودے نہیں لگائے جاتے۔ بہرحال یہ بات قطعاً فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج پاکستان میں عالمی حدت کے لیے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو بھی اہم سبب مانا جاتا ہے۔ 

    پاکستان کو عالمی حدت کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے شجر کاری کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے”اگر قیامت قائم ہو جائے، اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو، اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلے پودا لگانے کی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے کو لگا دے” اگر کوئی شخص ایک پودا لگائے تو اس کو قیامت تک اس کا اجر ملتا رہے گا لہٰذا ضروری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے مشن میں حکومت کی مکمل معاونت کریں اورجہاں بھی وزیر اعظم عمران کے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت دس بلین درخت لگانے کا پروگرام منعقد ہو بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔اس سے ثواب بھی ملے گا آکسجن بھی ملے گی سایہ بھی ملے گا۔نہ صرف درخت لگا کر جان چھڑانی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرنی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے ہر فرد ایک درخت لازمی لگاٸیں ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا عمل پاکستان کو عالمی حدت کے تباہ کن اثرات سے بچانے کا سبب ہوگا۔ اور یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے کہ جس کا فاٸدہ ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا۔

    اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
    جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

    اللہ پاک ﷻہمارے ملک پاکستان کو سر سبز و شاداب رکھے ۔آمین!!

  • اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    اسامہ بن لادن فریڈم فائٹر یا دہشتگرد .تحریر: عمار احمد عباسی

    وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو اور پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افغان میڈیا کو دیا گیا انٹرویو دونوں میں ایک چیز کی مماثلت ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو جائے مگر اس تناظر میں طالبان کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب افغان صحافی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسامہ بن لادن کا پوچھا کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا تو کیا آپ بھی اسامہ کو شہید سمجھتے ہیں؟؟ جس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے اسامہ ماضی بن چکا ہے مگر صحافی کے اسرار کرنے پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے افغان عوام کے لیے کوئی تشدد کا راستہ نہیں اپنایا جس کا مطلب کہ انہوں نے اِسے دہشتگرد ماننے سے انکار کر دیا ۔ چلیں ماضی کے کچھ حصوں کا زکر کرتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ اسامہ بن لادن کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہا جائے۔

    جب نائن الیون کا واقعہ ہؤا تو القاعدہ نے اس کی زمہ داری قبول کی جس کے نتیجے میں امریکی افواج نے افغانستان میں چڑھائی کر دی مگر اُس وقت میں دنیا کی بہترین اور موجودہ دور میں بھی دنیا کی بہترین ٹاپ تین خبرایجنسی میں سے ایک "Reuters” ہے جس نے نائن الیون حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو دہشتگرد لکھنے سے انکار کر دیا جس پر پوری دنیا کو تشویش ہوئی اور امریکہ نے بھی اس پر بھرپور احتجاج کیا مگر "Reuters” انتظامیہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن مسلم دنیا کے لیے فریڈم فائٹر ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے موٹیویشن ہے اِس لیے ہم اُسے دہشتگرد نہیں لکھیں گے۔

    مگر سچ تو یہ ہے کہ سویت یونین کی افغان چڑھائی کے دوران اسامہ بن لادن کو سعودی عرب سے بلایا گیا اور امریکہ نے اسلحہ فراہم کیا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ساتھیوں کو افغان جہاد میں امریکہ کے کہنے پر استعمال کیا اور امریکہ نے ہر سہولت فراہم کی اور یوں امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو شکست ہو گئی مگر پھر اس افغان جہاد کے بعد اسامہ بن لادن کو بطور فریڈم فائٹر متعارف کرایا گیا مگر جب اس عرصے میں امریکی اسلحہ جو پاکستان نے محفوظ کر لیا تھا اس کو اجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہی تباہ اور ناکارہ کر دیا گیا۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد تھا تو اس وقت دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا کہ جب اس نے افغان جہاد میں سویت یونین کے خلاف جہاد کیا اور کئی لوگوں کو مارا تو کیا یہ سب درست تھا؟؟ اگر آپ کے نزدیک دہشتگردی کی تعریف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مخالف قوتوں کے خلاف لڑنا بہادری اور امریکہ اور اس کی حامی قوتوں کے خلاف لڑنا دہشتگردی ہے تو آپ کو اپنی اس دہشتگردی کی تعریف پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔۔ جب ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا گیا تو بہت سے سوالات اٹھائے گئے مگر سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ اسامہ کے معاملے میں انسانی حقوق کیوں نہیں برقرار رکھ پایا؟؟ بن لادن کو قتل کرنے کے بجائے اسے صدام حسین کی طرح پروسیکیوشن کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟؟ کیا مہذب معاشرے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو سراہا جاتا ہے؟؟حقیقت تو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو اس طرح قتل کر کے مسلم دنیا میں ہیرو بنا دیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں لوگ اسے آج بھی ہیرو اور فریڈم فائٹر مانتے ہیں۔کسی معصوم اور بے گناہ کی جان لینا دہشتگردی ہے اس کا تعلق کسی رنگ و نسل سے نہیں ہوتا مگر افغان جہاد کے بعد اور نائن الیون کے بعد اس دوران کچھ لوگوں کو یہ چیز نظر کیوں نہیں آئی کہ داڑھی سے انکار پر لوگوں کی گردنیں اُڑا دی گئی اور ان کے ساتھ فٹبال کھیلا گیا یہ سب چیزیں نائن الیون کے بعد ہی کیوں نظر آئیں؟؟
    امریکی مفادات میں کسی کو فریڈم فائٹر یا دہشتگرد کہنا زوال کی نشانی ہے۔

  • پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    پاکستان میں جنسی تشدد کی اہم وجوہات اور انکا سد باب .تحریر : حسن ساجد

    باغی ٹی وی ویب سائٹ کے توسط سے راقم الحروف نے اپنی گزشتہ تحریر کے ذریعے پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ کی طرف ارباب اختیار اور عوام الناس کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ میں باغی ٹی کی انتظامیہ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ پر میری تحریر کو شائع کیا۔ بڑھتا ہوا جنسی تشدد ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے سے پہلے اس کی ممکنہ وجوہات کو تلاش کرنا اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند اہم وجوہات اور ان کا ممکنہ میری حل آج کی تحریر کا حصہ ہے۔

    1- ماحول، معاشرہ اور شعور:
    کسی بھی جاندار کی طبیعت، مزاج، کردار اور اوصاف پر اس کے ماحول اور معاشرہ کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر سلیم الفطرت اور معصوم ہوتا ہے۔ انسان خیر اور شر دونوں چیزیں اپنے معاشرے اور اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر نیکوکار یا بدکار نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف ایک انسان ہوتا ہے، معاشرہ ہی اس کو اچھائی یا برائی کی جانب راغب کرتا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں منفی سوچ اور منفی روایات فروغ پا رہی ہیں جن کو سیکھ کر ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک جب بری صحبت کا شکار یہ نوجوان اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خیر اور شر کی تمیز بھول جاتے ہیں تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو باکردار بنانے اور اس لعنت سے چھٹکارہ پانے کے لیے ان کے ذہنوں سے منفی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تربیت کے اس فقدان کا خلا پر کرنا ہوگا جس کی بدولت وہ ایک انسان کی بجائے وحشی درندے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم معاشرے سے منفی سوچ اور منفی رویوں کو ختم کیے بغیر اس برائی اور اس جیسی دیگر برائیوں سے نہیں بچ سکتے ۔

    اس معاملے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے سے پہلے اس برائی کے متعلق شعور اور اس سے متعلق آگہی کا ہونا ضروری ہے مگر ہمارے نوجوان میں شعور اور آگہی کی کمی ہے ۔ جس کے باعث ہم ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے سے قاصر ہیں۔ معاشرتی برائیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مثبت روایات کا امین اور تہذیب و اخلاقیات کا پاسدار ایک صحت مند، مہذب، باشعور اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیں جو مثبت سوچ کی حامل ایک ایسی نوجوان نسل تیار کرے جن میں ایسی خرافات بالکل موجود نہ ہوں۔ اور اس طرز کے صحت مند اور تہذیب یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے گندی اور فحش گفتگو سے پرہیز کریں۔ ان کے سامنے اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو نہ تو خود کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کرنے دیں۔ ہم ان کے اندر مثبت سوچوں کو پروان چڑھائیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد فراہم کریں۔

    2- والدین اور بچوں کے تعلقات میں کھچاؤ:-

    بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین اور بچوں کے تعلقات اکثر خاندانوں میں کھچاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلقات میں اعتماد کی جگہ سختی اور ڈر پایا جاتا ہے۔ جس کے باعث نہ تو بچے کھل کر اپنے مسائل کا اظہار اپنے والدین سے کر سکتے ہیں اور نہ ہی والدین بچوں کو دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں مسائل کو سن کر اس کا مؤثر حل نکالا جائے۔
    یہاں اس بات کا تذکرہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کہ میری نظر سے چند ایسے واقعات بھی گزرے ہیں جن میں بچوں نے جب والدین سے اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین سلوک کا تذکرہ کیا تو والدین نے ان کو اعتماد دینے اور ان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا ان کو ڈانٹ دیا کہ وہ متعلقہ شخص پر الزام تراشی کر رہے ہیں جس کی بدولت بظاہر شرافت کا لبادہ اوڑھے معاشرے کے مکروہ کرداروں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی اور بہت سے دیگر بچے انکی وحشت کا شکار ہوتے رہے۔ جب تک والدین ایسے مسائل پر اپنے بچوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان پر مؤثر انداز سے کوئی ایکشن نہیں لیں گے یا اپنے بچوں کی شکایات کو محبت سے دوستانہ ماحول میں سن کر ان کے مسائل اور شکایات کو دور کرنے کی مخلص کوشش نہیں کریں گے ہمارے معاشرے میں ایسے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔
    ایسے دلخراش واقعات سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کریں جس میں وہ بچوں کو ایسی پیش آنے والی اور دیگر تمام شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور جب بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو وہ بچوں کو ڈرانے یا دھمکانے کے بجائے ان کے ساتھ بہتر اور مثبت رویہ رکھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کریں۔

    3- غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب:-
    حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مبارک حدیث کا مفہوم ہے کہ “قریب ہے کہ تمہاری غربت تمہیں کفر تک لے جائے”۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی خرافات کے پیش آنے میں ایک بڑی وجہ غربت اور بے روزگاری بھی ہے۔ میرے نزدیک ایسے واقعات کے بڑھنے کی ایک وجہ غربت، بے روزگاری اور معاشی اضطراب ہے کیوں کہ غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں بے حد مصروف ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کی حرکات پر توجہ دیں یا اس سے ملنے جلنے والے افراد پر نظر رکھیں۔
    اب اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کو ٹینشن، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، معاشی اضطراب اور محرومیاں دے رہی ہے اور نوجوان اس ہیجانی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ فحش بینی، نشہ اور دیگر سماجی برائیوں کی نظر ہوجاتے ہیں۔ ایسے کام کرنے سے ان کے اندر منفی سوچوں کا رجحان بڑھتا ہے جو ان کو سماجی برائیوں مثلاً کرپشن بدعنوانی اور جنسی تشدد جیسے واقعات کی طرف ابھارتا ہے۔
    ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر اپنے معاشی مسائل کو حل کریں۔ بالخصوص نوجوان طبقہ کی کریئر کونسلنگ پر توجہ دی جائے تا کہ ہمارا نوجوان معاشی بدحالی کا شکار ہو کر سماجی خرافات کی نظر نہ ہو جائے۔

    4- کمزور قوانین اور سماجی بے حسی :-
    کمزور عدالتوں اور ناقص قانون سازی کے حوالہ سے ہم جہاں کرپشن اور بدعنوانی سمیت بہت سے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں وہیں جنسی تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں کے قوانین اور عدالتی کاروائیاں بہت کمزور ہیں۔ سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ رشوت اور دیگر افعال کے ذریعے ہم انصاف کو مظلوم کی پہنچ سے دور کر دیتے ہیں۔ اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی سماجی بے حسی کا شکار ہے۔ کیونکہ ہمیں صرف اپنا ہی درد محسوس ہوتا ہے دوسرے کے درد کو محسوس کرنے کا جذبہ ہم میں ناپید ہوچکا ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو محسوس کر کے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اپنے اوپر اس مصیبت کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
    ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم معاشرے میں احساس ذمہ داری، باہمی اخوت اور ایثار کا جذبہ پیدا کریں تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ ہمیں اپنے عدالتی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور ہمارے پولیس اور تھانہ کلچر کو بھی ہمیں ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ملزمان کو فورا پکڑا جائے اور مناسب سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں برائیوں کے خاتمے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    5- علاقائی تہذیب و ثقافت سے انحراف :
    مثل مشہور ہے کہ “جیسا دیس ویسا بھیس”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا لباس اور ہمارا طرز زندگی ویسا ہونا چاہیے جیسا اس معاشرے اور کمیونٹی کے باقی تمام لوگوں کا ہے جس میں ہم رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں مغربی طرز زندگی پر کاربند ہونا اور مغربی لباس زیب تن کر کے مکمل طور پر معمول کے مطابق زندگی گزارنا مشکل کام ہے۔ مغربی طرز کا لباس زیب تن کر کے جب بچے اور بچیاں باہر نکلتے ہیں تو خون سونگھنے والے ان درندوں کی نگاہیں ان بچوں کا تعاقب کرتی ہیں جو موقعہ ملتے ہی اپنی تسکین کا سامان پیدا کرلیتی ہیں۔
    ایسے واقعات کو مناسب انداز سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بالخصوص بچیوں کو ایشیائی طرز کا لباس پہنائیں جو ہماری روایات اور ہمارے اردگرد کے ماحول کے متصادم نہ ہو۔ میں وزیراعظم پاکستان کے مختصر لباس کی ممانعت پر دیئے گئے بیانہ کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ کیونکہ مختصر لباس زیب تن کرنا ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے خواتین اور بچیوں کا مختصر لباس مردوں میں درندگی ابھارنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا ہمیں بطور قوم اس کلچر اور اس رواج کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعار اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے خود بھی اسلامی لباس زیب تن کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسکی عادت ڈالیں۔

    6- ریاستی اداروں کا کردار:-
    مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کسی بھی ریاست کے چار اہم ستون ہیں۔ معاشرتی و اخلاقی تعمیر میں ان اداروں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے لوگوں کے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بےشمار واقعات کے ہو جانے کے بعد بھی ریاستی اداروں میں بھی اس مسئلہ کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے نام پر سیاست تو ہوئی ہے مگر کوئی ٹھوس اقدامات ہمیں نظر نہیں آئے جس کے ذریعے ہم اپنے مستقبل اپنے بچوں اور بچیوں کو اس آگ سے محفوظ رکھ سکیں۔ میڈیا پر بھی محض ٹی وی ریٹنگ بڑھانے اور واقعات کو اچھالنے کا کام ہوتا ہے واقعات کو حل کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روکتھام کے حوالے سے میڈیا بھی اپنا تعمیری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ میری ان تمام ریاستی اداروں میں بیٹھے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ “بچے محفوظ مستقبل محفوظ” کے اصول پر عمل پیرا ہو کر مقننہ، عدلیہ اور میڈیا میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ قانون سازی کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ مجرموں کے لیے مؤثر سزاؤں اور قانونی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ان واقعات کو روکا جا سکے۔ بحیثیت پاکستانی میری اپنی قوم سے بھی گزارش ہے کہ ہمارے بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے یوں ہی بے حسی دکھائی تو کل کو یہ آگ پھیل کر ہمارے گھر تک پہنچ جائے گی اور پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
    لہذا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں مل کر آج ہی اس برائی کو روکنا ہوگا تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو۔ اللہ پاک پاکستان کے ہر بچے اور ہر بیٹی کو محفوظ مستقبل عطا فرمائے اور اسے اس ملک کا وفادار اور باعزت شہری بنائے۔
    آمین

  • بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارتی ریاست میں زیادہ بچوں والے والدین کے لئے نقد انعام کا اعلان

    بھارت کی شمالی ریاست میزورام میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یوں تو کئی ریاستیں آبادی میں کمی کے لیے خصوصی مہم چلا رہی ہیں تاہم ایک ریاست ایسی بھی ہے جہاں معاملہ اس کے برعکس ہے اور زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

    شمالی ریاست میزورام کے کھیل کے وزیر رابرٹ روماویا نے اپنے حلقے میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ بھارتی روپے، ٹرافی اور تعریفی سند دینے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے بچے ہونے پر یہ انعام دیا جائے گا۔

    اس موقع پر رابرٹ روماویا نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں والے والدین کو انعام سرکاری خزانے سے نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے بیٹے کی ایک تعمیراتی کنسلٹنسی فرم ینگ میزو ایسوسی ایشن انعامات کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

    وزیر کھیل نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ ریاست میں بانجھ پن میں اضافے اور آبادی میں مسلسل کمی تشویشناک ہے جس سے مختلف قبائل اور برادریوں کی بقا خطے میں پڑ گئی جب کہ کئی شعبوں میں ترقی کے لیے ریاست کی آبادی میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔

    واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری میں میزورام کی آبادی 10 لاکھ 91 ہزار 14 تھی یعنی 21 ہزار 87 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس ریاست میں فی اسکوائر کلومیٹر 52 افراد رہتے ہیں۔ میزورام بھارت میں آروناچل پردیش کے بعد سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔

    ان کا یہ اعلان ایک متعدد عیسائی مذہبی گروہ کے رہنما صیہون چنا کی موت کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے جس کی 39 بیویاں اور 94 بچے تھے جن کے علاوہ کئی پوتے پوتیاں ہیں۔

    ایوارڈ اسکیم آسام حکومت کے سرکاری ملازمتوں کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر عمل درآمد کے بالکل برعکس تھی اور کہا ہے کہ سرکاری اسکیموں کے لئے بھی آہستہ آہستہ اسی طرح کے اصولوں کا اطلاق کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق مسٹر روئٹے شمال مشرق میں پہلے رہنما نہیں ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ بچوں والے جوڑوں یا خواتین کو نقد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا یا دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ "بیرونی افراد” اور تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہونے کے خدشے کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں۔

    میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیوں کی خودمختار ضلعی کونسل نے جنوری 2017 میں امیلیا سوہتن کو 17 بچوں کو جنم دینے کے لئے 16،000 ڈالر دیئے تھے جبکہ ڈوروتھیا خارانی اور فیلومینا سوہلنگپیا کو 15 بچوں کو جنم دینے پر 15،000 ڈالر دیئے گئے تھے۔ کونسل نے کہا ، یہ انعام دوسروں کے لئے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب تھا۔

    تقریبا ایک دہائی کے بعد ، منی پور میں غیر سرکاری تنظیموں نے زیادہ تر بچوں والی ماؤں کے لئے مقابلہ جات کا انعقاد شروع کیا۔ ایسے ہی ایک گروپ ، ارمدام کنبہ اپنبا لپ ، نے جولائی 2016 میں 10 اور 15 بچے پیدا کرنے والی 13 خواتین کو انعام سے نوازا تھا-

    جون 2018 میں ، وائی ایم اے کے صدر وانلالرواتا نے کہا کہ میزورم کو "بیبی بوم” کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میزوز نے "ہزاروں تارکین وطن مزدوروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا-

    جبکہ این ڈی ٹی وی کے مطابق آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بِسوا سرما نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست کی مالی معاونت سے چلنے والی کچھ اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے کے لئے دو بچوں کی پالیسی پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کرے گی۔

    2019 میں ، ریاستی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ جنوری 2021 سے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ سرکاری ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے آسام میں اس وقت پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دوسری ضروریات کے ساتھ دو بچوں کا معمول ہے۔

    چند روز قبل ، اتر پردیش لاء کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ بڑھتی آبادی پر ایک نظر رکھنی چاہئے کیونکہ اس سے ریاست میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم ، پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (پی ایف آئی) نے کہا ہے کہ بھارت کو چین کے اس دو بچوں کی پالیسی پر نظر ثانی سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس کا یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا زبردستی آبادی کی پالیسیوں سے بہتر کام کرتا ہے۔

    گذشتہ سال دسمبر میں ، مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہندوستان میں خاندانی بہبود کا پروگرام رضاکارانہ ہے۔

  • سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوقی سلطنت کا خاتمہ.تحریر: محمد سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت کے آخری طاقتور بادشاہ محمد شاہ کے انتقال کے بعد سلجوق سلطنت آہستہ آہستہ اپنے زوال کی جانب جانے لگی۔ ملک شاہ جب فوت ہوا تو اس نے اپنے پیچھے چار بیٹے چھوڑے۔ برکیاق، محمد ، سنجر اور محمود۔ محمود جو کہ بعد میں ناصر الدین محمود کے نام سے پہچانا گیا بچہ تھا۔ اسکے ہاتھ پر بحث کی گئی۔ کیونکہ اس کی ماں ترکان خاتون کو ملک شاہ کے دور حکومت میں بڑی قدر ومنزلت حاصل تھی۔ محمود تقریبا دو سال 485ھ بمطابق 1092 ء تا 487ھ بمطابق 1094ء تک حکمران رہا۔ کیونکہ انکا اور انکی والدہ کا وصال ہو گیا۔ ان کے بعد رکن الدین ابو المظفر برکیاق بن ملک شاہ آیا۔ اور 498ھ بمطابق 1105ء تک حکمراں رہا۔ پھر رکن الدین ملک شاہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ اور اسی سال اقتدار غیاث الدین ابو شجاع محمد کے ہاتھ لگا اور وہ 511ھ بمطابق 1118ء تک حکمراں رہا۔
    عظیم دولت سلجوقیہ کا آخری حکمراں غیاث الدین ابو شجاع محمد تھا۔ جس کا پایہ تخت مارواء النہر کا علاقہ تھا خراسان، ایران اور عراق کے علاقوں پر بھی اس کی حکمرانی تھی۔ بالآخر 511ھ بمطابق 1118ء کو شاہنات خوارزم کے ہاتھوں اسکا خاتمہ ہوا۔
    ماوراءالنہر سے سلجوقیوں کی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلاجقہ افتراق و انتشار کا شکار ہو گئے۔ اور ان کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی۔ انکی طاقت اس قدر کمزور ہو گئی کہ سلجوقی متعدد گروہوں اور باہم متصادم لشکروں میں تبدیل ہو گئے جو تخت و تاج حاصل کرنے کے لئے باہم دست و گریباں رہتے تھے۔ عظیم سلجوقی سلطنت چھوٹی چھوٹی امارات اور دول میں تبدیل ہو گئی۔ اور یہ امارات اور سلطنتیں کسی ایک سلطان کے اقتدار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی جیسا کہ طغرل بیگ سلطان الپ ارسلان ، ملک شاہ اور اسکے اسلاف کے دور میں متحد تھی۔ ہر ایک علاقہ خود مختار تھا۔ ہر ایک کا اپنا فرمانروا تھا اور ان میں کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں تھا۔
    اس افتراق و انتشار کے نتیجے میں مارواءالنہر میں ایک اور طاقت ابھر کر سامنے آئی۔ یہ خوارزمی سلطنت تھی جو ایک عرصہ تک منگولی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ خوارزمی سلطنت کے ساتھ سلجوقی امارات، عراق اور شام کے شمال میں قائم ہوئیں۔ جو اتابک امارات کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ اسی عرصہ میں سلاجقہ روم کی سلطنت سامنے آئی۔ یہ وہ سلطنت تھی جس نے صلیبی حملوں کو روکا اور ایشیائے کوچک کا شمال مغربی کونا دشمن کے دست وبرد سے محفوظ رکھا۔ لیکن یہ سلطنت منگولوں کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ نہ کر سکی اور بالآخر ان غارت گروں نے ان علاقوں میں تباہی مچا دی۔
    سلجوقی سلطنت کے سقوط میں چند عوامل کار فرما تھے اور یہی عوامل عباسی خلافت کے سقوط کا پیش خیمہ ثابت ہوئے
    ان عوامل میں چند ایک یہ ہیں

    1) سلجوقی گھر کے اندر بھائیوں، چچاؤں، بیٹوں اور پوتوں کے درمیان تخت و تاج کے لئے چپقلش۔
    2) بغص امراء، وزراء اور اتابکوں کی طرف سے سلجوقی حکمرانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانا۔
    3) حکومتی امور میں خواتین کا عمل دخل۔
    4) عباسی خلفاء کا سلجوقی فوجی قیادت کے سامنے کمزور اور بے بس ہونا اور ہر طاقتور سلجوق تاجور کی حکومت کو تسلیم کر کے خطبہ میں اس کے نام کو شریک کرنے کی اجازت دے دینا اور اس سلسلے کی طرف احتیاط نہ کرنا۔
    5) سلجوقی سلطنت کا شام ، مصر اور عراق کو عباسی خلافت کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنے میں ناکام ہونا۔
    6) سلجوقیوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہنا۔ اسی چیز نے انکی قوت کا خاتمہ کیا اور عراق میں انکی سلطنت ختم ہو گئی۔
    7) سلجوقی سلطنت کے خلاف باطینیوں کی مذموم سازشیں اور سلجوقی سلاطین ان کے قائدین، زعماء کو دھوکے سے قتل کرنے کی انکی مسلسل کوششیں اور خونی حملے۔
    8) سمندر پار سے آنے والے صلیبی جنگجو اور سلجوقی سلطنت کا یورپ سے آنے والے وحشی لشکروں کے ساتھ ٹکراؤ ۔
    اسکے علاؤہ کئی دوسرے اسباب بھی تھے۔
    لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ اپنے دور حکومت میں انہوں نے عظیم کارنامے انجام دیے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
    1) سلجوقی سلطنت کی بدولت عباسی خلافت کا زوال دو صدیاں مؤخر ہو گیا۔ اگر سلجوقی نہ ہوتے تو شیعہ رافضیوں کے ہاتھوں بہت پہلے عباسی خلافت کا وجود مٹ جاتا۔
    مصریوں کی سلطنت عبیدی فاطمی سلجوقیوں کی طاقت کہ وجہ سے مشرق کے عرب مسلمانوں کو باطینی عبیدی رافضی سلطنت کے جھنڈے تلے جمع نہ کر سکی اور انکے مذموم مقاصد پورے نہ ہوئے۔
    3) دولت سلجوقی کی کوشیش اسلامی مشرق کے اتحاد کی تمہید اور پیش خیمہ تھی اور یہ اتحاد سنی سلطنت عباسی کے جھنڈے کے نیچے سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مکمل ہوا۔
    4) سلجوقیوں نے اپنے زیر نگیں خطے میں علمی اور انتظامی ترقی کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اور اس علاقے میں امن و امان قائم کیا۔
    5) بیزنطینی شہنشاہیت کی طرف سے ہونے والے صلیبی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کافی حد تک منگولی خطرے سے نمٹنے کی کوشش کی۔
    6) ان علاقوں میں سنی مذہب کی ترویج کی اور سنی علماء کی قدرومنزلت کو بڑھایا۔

  • تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    تھائی لینڈ: بھوکا ہاتھی گھرکی دیوار توڑ کر کچن میں گُھس گیا

    بنکاک: تھائی لینڈ میں کھانےکی تلاش میں بھوکا ہاتھی ایک گھر کی دیوار توڑ کر باورچی خانے میں گھس گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق یہ واقعی مغربی تھائی لینڈ کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ شور شرابے اور دیوار ٹوٹنے کی آواز سن کے رٹچر وان نامی ایک رہائشی کی آنکھ کھل گئی، جب وہ اصل ماجرا دیکھنے کے لیے اپنے باورچی خانے میں گئے تو سامنے موجود منظر انہیں حیران کرنے کے لیے کافی تھا کیوںکہ ایک ہاتھی ان کے باورچی خانے کی دیوار توڑ کر بن بلائے مہمان کی طرح اپنی سونڈ سے درازوں میں کچھ تلا ش کر رہا تھا۔

    رٹچر کا کہنا ہے کہ بون چوائے نامی یہ ہاتھی شاید کچھ کھانے کے لیے تلاش کر رہا تھا کیوں کہ وہ باورچی خانے کی درازوں سے چیزیں باہر نکال کر پھینک رہا تھا، اس نے برتن اور دیگر سامان کو بھی درازوں سے نکال کر فرش پر پھینک دیا تھا۔ اور آخر میں نے اس پلاسٹک کی تھیلیوں کو چبانا شروع کردیا۔ رٹچر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا لی۔

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    اس واقعے کے بارے میں کائینگ کراچین نیشنل پارک کےمنتظم اتھیپون تھائی مونکول کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نینشل پارک میں رہنے والے ہاتھی بون چوائے نے کھانے کی تلاش میں قریبی دیہات کا رخ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ رٹچر کے گاؤں میں گھس چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بون چوائے کا رٹچر کے باورچی خانے کا دورہ انہیں کافی مہنگا پڑا ہے اور تقریبا 50 ہزار بھات کا نقصان ہوا ہے۔

    تھائی لینڈ میں ہاتھیوں پر تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر جوشوا پلاٹنک کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک میں رہنے والے ہاتھیوں کے لیے قریبی دیہاتوں میں گنے اور بھٹے کی فصلوں پر حملہ بہت عام بات ہے اور یہ زیادہ تر رات میں کھیتوں پر حملہ کرتے ہیں،کسانوں اور ہاتھیوں دونوں کے لئے یہ واقعی ایک مشکل مسئلہ ہے-

    پلاٹنک کا کہنا ہے بہت سے دیہاتی ہاتھیوں کے لیے عقیدت اور ہمدردی رکھنے کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہتے وہ عام طور پر ہاتھیوں پر الزام نہیں لگاتے ہیں لیکن وہ اس مسلئے کا دیرپا حل چاہتے ہیں۔

    مقامی کمیونٹی کے رضاکار اور نیشنل پارک کے افسر مل کر ہاتھیوں کی نگرانی کرتے ہیں ، عموماً انہیں جنگلوں میں واپس بھیجنے کے لیے تیز شور اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ چین میں بھی حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ سامنے آیا ہے جو کہ گزشتہ 15 ماہ سے کسی نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے اور اپنے راستے میں آنے والی گنے اور بھٹے کی فصلوں کو تباہ کرچکا ہے، جب کہ حکام اس جھنڈ کے سفر کو ٹریک کرنے کے لیے ڈرون اور مقامی لوگوں کی مدد سے نگرانی کر رہے ہیں تاہم اس جھنڈ کے مستقل سفر کرنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ ہاتھیوں نے اب تک کیوں سفر کیا ہے پلاٹنک نے کہا ، "ایشیاء میں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں ، اور یہ ہاتھیوں کے رہائش گاہ میں دستیاب وسائل میں کمی اور انسانی پریشانی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی رکاوٹوں یا ہاتھیوں کو منتقل کرنے جیسے طریقوں سے صرف ایک قلیل مدتی اثر پڑے گا۔

    اگر آپ ہاتھیوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہ میں خوراک ، پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے ہیں (یا اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس وہ کہیں اور موجود ہیں) ، تو وہ ان وسائل کی تلاش میں رکاوٹوں اور دیہاتوں یا فصلوں کے میدانوں تک رسائی حاصل کریں گے۔

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول حاصل کر کے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں سے کیا مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کیوں سمجھتا ہے کہ وہ طالبان کی مخالفت کے باوجود ایسا کر لے گا۔ اس کے پاس امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں کس قسم کی طاقت بچ جائے گی اور طالبان اس وقت افغانستان میں کیا اور کس طرح پیش رفت کر رہے ہیں۔ اور امریکہ اس وقت افغانستان میں کس حد تک بے بس ہو چکا ہے۔
    افغانستان میں بدلتے ھالات نے اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور بھارت سے لے کر روس تک سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔
    امریکہ معاہدے کے باوجود پریشان ہے کہ اگر طالبان نے ان کے جانے کے فورا بعد کابل پر قبضہ کر لیا تو دنیا بھر میں ان کی بڑی سبکی ہو گی۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ ختم کیا تو انہوں نے کابل کی لوکل حکومت کو تین سال تک اقتدار قائم رکھنے کے لیئے سپورٹ کیا کیونکہ یہ روس کی عزت کا معاملہ تھا کہ اس کی حمایت یافتہ حکومت کچھ عرصہ بھی نہ چل سکی۔ لیکن جیسے ہی روس نے اس حکومت کی سپورٹ کم کی اس کا تختہ پلٹ دیا گیا۔لیکن آج امریکہ کے لیئے اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ امریکہ کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کابل پر طالبان نے فوری قبضہ کر لیا تو شائد یورپ اور امریکہ کو اپنے سفارت خانے چلانا بھی مشکل ہو جائے اور اس کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے۔

    امریکہ اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیئے چھ سو فوجی چھوڑ رہا ہے جس کو ایک جنرل لیڈ کرے گا جو امریکی سفیر کے ماتحت ہو گا۔لیکن اگر کابل ائیر پورٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے تو امریکی نہ افغانستان سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی آ سکتے ہیں ایسی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیئے صورٹھال بہت خراب ہو جائے گی۔ ترکی پر امریکہ کی پابندیوں کا بہت پریشر ہے اور ترکی اپنے تعلقات امریکہ سے ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ اس لیئے ترکی کی طرف سے ایک پروپوزل آیا ہے کہ اس کی افواج کابل ائیر پورٹ کو کنٹرول سنبھالیں گی تاکہ افغانستان کی Air space میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ترکی دوہزر تین سے افغانستان میں موجود ہے لیکن اس نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس کے بدلے وہاں Administration Education Health اور پولیس ٹریننگ میں کام کیا اسی لیئے طالبان نے بھی ترکی کی افواج پر حملہ نہیں کیا۔

    لیکن اب صورتحال اس لیئے گھمبیر ہو گئی ہے کہ طالبان کی مرضی کے بغیر ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا ہے۔ تاکہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ، یورپ اور امریکہ کو مدد فراہم کرے ان سے دیگر مراعات حاصل کی جا سکیں۔
    ایک تو امریکہ نے ترکی کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملے میں میدان گرم کیا ہو اہے۔دوسرا روس سے لیئے گئے S400 پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ تیسرا Mediterranean sea میں Greace سے تنازعات کی صورت میں یورپ سے تعلقات خراب ہیں۔ ان سب معاملات کو حل کرنے کے لیئے ترکی یورپ اور امریکہ کی افغانستان میں مدد کرنا چاہتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ کے افغانستان میں Diplomatic presence ترکی کی محتاج ہو جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ترکی کو کیا فائدہ ہو گا۔ جبکہ افغانستان میں نیٹو کے زیر اثر گزشتہ بیس سال مین افیم کی گاشت میں بیس گنا اضافہ ہو چکا ہے اور دنیا میں افیم کی تجارت کا 80% افغانستان سے جا رہا ہے۔ امریکہ کے اس منڈی میں مفادات کا تحفظ افغانستان کی Air space پر کنٹرول حاصل کیئے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکی یہ سب کیسے کرے گا۔ ترکی نے گزشتہ کئی سالوں میں اٖفغانستان میں مسجدیں تعمیر کی ہیں اور وہاں سکول بنائے ہیں اور وہاں ترکی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ترکی نے افغانستان میں اپنا Soft image بنانے میں کافی انویسٹ منٹ کی ہے۔ ساتھ میں ترکی کا قطر میں فوجی اڈا ہے اور قطر کو سعودی عرب کے خلاف ترکی نے کافی مدد فراہم کی ہے۔ قطر میں طالبان کا آفس ہی نہیں بلکہ قطر نے ایک Pro Qatar Taliban group بھی تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی Gen rasheed dostum کر رہا ہے اور یہ Uzbak origion کے افغان طالبان ہیں۔ ترکی قطر کے اثرو رسوخ کو بھی اس مقصد کے لیئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر ائیر پورٹ ترکی کے کنٹرول میں ہو گا تو بغیر کسی زمینی سفر کے امریکہ اور اس کے اتحادی۔۔ فوج اور دیگر ایکسپرٹ کی صورت میں Infiltrate کر سکتے ہیں۔

    اس وقت افغانستان کے حوالے سے جھوٹ اور افواوں کا بازار بھی گرم ہیں اور کئی مفاد پرست ٹولے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس میں سب سے برا ٹارگٹ سچ اور حقیقت ہے جس کو برے طریقے سے مسخ کیا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو افغان میں امریکی قبضہ کے بڑے Banificiary ہیں کبھی عورت کی آزادی پر شور مچا رہے ہیں تو کبھی اقلیتوں کے حقوق کا تو کبھی امریکی سلامتی کا۔۔ لیکن پس پردہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ لیکن افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف وہاں کے زمینی حقائق دیکھ کر وہاں کے لوگ ہی حل کر سکتے ہیں۔ پہلے پاکستان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ طالبان کو امریکی شرائط پر امن معاہدہ کرنے پر راضی کر یں تو پھر اشرف غنی جیدے دیگر مفاد پرست ٹولے نے پاکستان کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کرنا شروع کر دی۔ اشرف غنی نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ کے جانے کے بعد امریکہ کا کردار بہت محدود ہو جائے گا لیکن افغانستان مین امن اور جنگ پاکستان کے ہاتھ میں ہو گا۔ آپ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں یہاں کبھی بھی ائینی طور پر ایک سینٹرل حکومت صرف آئین کی بنیاد پر نہیں قائم ہو سکتی اس سے پہلے اگر سو سال سے زیادہ Ahmadzai/Muhammadzai monarchy نے حکومت قائم کی تو وہ بھی confederation of tribesتھی جس میں پشتونوں نے انہیں طاقت فراہم کی۔ طالبان ایک بہت بڑی فورس ہے اور اس کے بغیر نہ تو افغانستان میں مفاہمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن۔۔

    افغانستان میں عورتوں کے حقوق پر بہت شور مچایا جاتا ہے۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان سوسائٹی میں ایک عورت کو بحثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکے ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے اور ہر کوئی اپنا ایک مخصوص مقام رکھتا ہے۔
    امریکہ بظاہر اپنی فوجین افغانستان سے نکال رہا ہے لیکن Academi جس کا پرانا نام بلیک واٹر ہو ۔۔ افغانستان میں مسلحہ افراد کی بھرتی کر رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور جرمنی احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں تاکہ اس کے نیٹ ورک سے
    intelligence-gathering کا کام لیا جائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کابل ہی حفاظت اشرف غنی کے اقتدار کو بچانے کے لیئے کرنا چاہتا ہے اور اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اسے بچانے کے لیئے امریکہ کو اڈے دینا کون سی عقل مندی ہو گی۔ اس وقت طالبان کو چیلن کرنے والون میں امریکہ کے حمایت یافتہ کچھ طاقتور قبائل، ISIS, RAW, NDS ہیں جن کا حشر بھی وہی ہو گا جو نیٹو افواج کا ہوا اور افغانستان میں اس وقت اگر کوئی امن قائم کر سکتا ہے یا متحد کر سکتا ہے تو وہ صرف طالبان ہیں۔ اور ایسے وقت میں طالبان کو دھوکہ دینے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں دوبارہ سے تحریک طالبان جیسے گروپوں کی پرورش جس کا صرف اور صرف فائدہ بھارت کو ہی ہو گا۔. جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ جب آقا ہار گئے تو غلام کیا جنگ لڑیں گے۔ یعنی امریکہ کو ہرا دیا تو اس کی حمایت یافتہ افغان فورسس کیا لڑیں کی ۔ آئے روز خبریں آ رہی ہیں کہ افغان فورسسز پوری پوری فوجی چھاونیاں بمہ اسلحہ چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں ہیں اور یہ سب چیزیں طالبان کے کنٹرول میں آرہی ہیں۔غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امریکی فضائی تعاون سے جلد ہی محروم ہو جانے کے نتیجے میں افغان حکومتی فورسز کی ناکامی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ طالبان کمانڈر ملک پر جلد ہی مکمل کنٹرول کر لینے اور اپنے نظریے کے مطابق اسلامی ریاست دوبارہ قائم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امریکی افواج کے مئی میں حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے اب تک انہوں نے تقریباً تیس اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ غزنی صوبے کے ایک طالبان کمانڈر ملّا مصباح کا کہنا ہے کہ مغرور امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ دھرتی سے طالبان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ لیکن طالبان نے امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جب امریکی یہاں سے چلے جائیں گے تو وہ (حکومتی فورسز) پانچ دن بھی ٹک نہیں پائیں گی۔ جب آقاوں کو شکست ہو چکی ہے تو غلام اسلامی امارت کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے۔ طالبان نے حالیہ ہفتوں کے دور ان غزنی کے دو اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اہم صوبہ طالبان کے سابقہ مضبوط گڑھ قندھار کو ایک شاہراہ کے ذریعہ دارالحکومت کابل سے ملاتا ہے طالبان کی فوجی کامیابیوں نے ان خدشات کو تقویت فراہم کی ہے کہ امریکی اور ان کے دیگر اتحادیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہ ملک کے تمام شہروں پر بھر پور حملے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس نکلسن نے افغانستان میں کشیدگی میں اضافے سے متنبہ کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات میں جلد از جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ آنے والے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم بد قسمتی سے کشیدگی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں اس سے نہ صرف میدان میں بلکہ مذاکرات میں بھی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو گا۔

  • افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان میں اس وقت فیصلہ کن جنگ چھڑی ہوئی ہے اور سپرپاور ستمبر ۲۰۲۱ تک یہاں سے چلا جائے گا، لیکن اس سب میں ایک بات قابل غور ہے کہ امریکی فو جیں یہاں سے جارہی ہیں لیکن امریکہ یہاں ہی رہنا چاہتا ہے، عمران خان کو بیش بہا آفرز دی گئیں، لیکن پاکستان کی ریاست کی پالیسی یہ تھی اب کی بار کسی دوسرے ملک کی جنگ کو اپنے سر نہیں لینا، ہم نے اپنا بہت نقصان کرلیا ہے۔ یہ امریکہ کیلے بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے، کیونکہ پہلے ادوار میں پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوتا آیا ہے، اور ہم چند ٹکوں کی خاطر بکتے آئے ہیں۔ اب امریکہ کا کیا پلان ہے؟ وہ پاکستان سے اس کا بدلہ تو لے گا، مگر کیسے؟
    افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں وہ کبھی بھی غنی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں، تقریبا ۴۰ ڈسڑکٹ پر قابض ہوگئے ہیں، اس ساری صورتحال کے اندر تشویشناک مرحلہ پاکستان کے لئے ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان پر الزام لگا کر چھڑھ دوڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ افغان طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانا کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ سب کچھ پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو اس سارے عمل میں شامل نہیں ہونے دیااور پاکستان دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن لانے کا خواں نہیں ہے۔ کیونکہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی ڈو مور کی پالیسی اور پاکستان سے ڈرون حملوں کیلے فوجی اڈے اور فضائی حدود مانگنا یہ بھارتی لابی کے زیر اثر آتی ہے جو کہ نہ تو افغانستان میں امن چاہتا ہے اور نہ پاکستان کو ترقی کرنا دیکھنا چاہتا ہے۔ روس سے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جیسے امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑدیا تھا اور افغانستان کی خانہ جنگی کے اثرات سارے پاکستان پر آئے تھے۔ امریکہ اب پھر یہی سب کرنا چاہتا ہے لیکن اب خطے کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب خطے میں نئی عالمی طاقت چین کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ اس لیے افغانستان کو چھوڑکر جارہا ہے کہ چین کو افغانیوں کے ہاتھ مشکل میں ڈالا جائے۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے افغان سیکورٹی فورسز اور پولیس افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتی، خصوصا افغان طالبان ۷۰ فیصد علاقوں پر قابض ہیں۔ تو امریکہ ان کی ٹریننگ کیلے قطر سے فوجی اڈے مانگ رہا ہے اور وہاں امریکہ کی مشرق وسطی کی سب سے بڑی ائیر بیس موجود ہے۔ وقت آگیا ہے حکومت پاکستان، روس، چین اور ایران ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہو ا۔ گو کہ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے امریکی انخلا کے بعد یا اس سے پہلے اگر ضرورت پڑی تو چینی، روسی فورسز افغانستان جاسکتی ہیں، لیکن امریکہ ترکی کو یہاں لانے کی تیاریاں کر رہا ہے کیونکہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے۔ چین خود کو بلاوجہ جنگ میں نہیں دھکیلے گا اور دوسری جانب افغان طالبان کسی غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتے

    امریکہ بھارتی لابی کے زیر اثر آرہا ہے وہ افغانستان کو کسی صورت کوری ڈور نہیں بنے دے سکتا اور اس کا براہ راست اثر پاک امریکہ تعلقات پر آئے گا اور بھارت پاکستان پر پابندیاں لگوانے کیلے سرگرم ہے اور وہ اقوام متحدہ سے چند ٹکوں کے عوض امریکہ کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف رپورٹ شائع کروارہا ہے کہ پاکستان، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے اور انھیں افغانستان میں بھارتی انسٹالیشیز پر حملوں کیلے استعمال کر رہاہے لیکن ایسا کر کے بھارت خود اپنے پاوں پر کلہاڑی مار چکا ہے۔ اب بھارت افغان طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے بھی پاوں پکڑنے کیلے بھی تیار ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کرنے کیلے بھی تیار ہے لیکن یہ سب وہ اپنے مفاد کیلے کر رہا ہے کیونکہ مودھی کی ساری الیکشن کمپین کشمیر کے خلاف رہی ہے وہ ایسا کرکے ہندوں کو اپنا قاتل نہیں بنوانا جاہتا۔
    لیکن لب لباب یہ ہے کہ بھارت کی نہ صرف اب افغانستان سے چھٹی ہو رہی ہے اب وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلے استعمال نہیں کرسکے گا اور یہی چیز مودھی سرکار کو کھائی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا پاکستان کے کردار کو سراہے کہ پاکستان دنیا میں امن لانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کرے وگرنہ یہ افغانستان کی خانہ جنگی کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اورعالمی قوتوں کا مرکز اس وقت پاکستان بنا ہوا ہے ۔

  • بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    افریقہ میں ہیروں کے لیے مشہور ملک بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت ہوا ہے جس کا وزن 1098 قیراط ہے۔

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس ٹائم کے مطابق ایک ہزار قیراط سے زیادہ وزن کا ایک بہت بڑا ہیرا ، جو تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا ہو سکتا ہے جنوبی افریقہ کے ملک بوٹسوانہ میں دریافت ہوا ہے۔

    دی گارڈئین کے مطابق بوٹسوانہ حکومت اور ڈی بیئر گروپ کی مشترکہ طور پر کان کنی کی ڈیبوسوانہ کمپنی ، نے کان میں اس ماہ کے شروع میں 1،098.3 قیراط وزن کا اعلی معیار کا قیمتی پتھر نکالا گیا تھا۔

    بوٹسوانہ ہیروں کی وجہ سے ایک مشہور ملک ہے جہاں ڈیسوانہ کمپنی ایک عرصے سے ہیرے نکال رہی ہے۔ اس کمپنی کی تاریخ میں سب سے بڑا ہیرا ملا ہے جسے دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا کہا جارہا ہے۔

    اس سال یکم جون کو یہ ہیرا ملا ہے جسے فوری طور پر کمپنی کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ، لینیٹ آرمسٹرونگ نے صدر موگویتسی ماسیسی کےسامنےبھی پیش کیا گیا۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    ڈیبوسوانہ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا ہے،یہ ڈیبسوانا کی جانب سے 50 سال سے زیادہ کی اپنی تاریخ میں بازیافت کرنے والا سب سے بڑا ہیرا ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا 1905 میں جنوبی افریقہ سے ملا تھا جو 3106 قیراط کا تھا اسے ’کلینن‘ کا نام دیا گیا تھا۔ دوسرا بڑا ہیرا بھی بوٹسوانہ سے ملا ہے۔ یہ ہیرا ٹینس بال کے برابر ہے اور 1،109قیراط کا ہے جو 2015 میں ہاتھ آیا تھا۔

    لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ہمارے ابتدائی تجزیے سے یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہر معیار والا پتھر ہوسکتا ہے۔ ہم ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے کہ اسے ڈی بیئرز چینل کے ذریعہ فروخت کرنا ہے یا سرکاری اوکاوانگو ڈائمنڈ کمپنی کے توسط سے۔ یہ بہت غیرمعمولی اور نایاب ہے اور پوری قوم کے لئے ایک پرامید خبر بھی ہے-

    معدنیات کے وزیر ، لیفوکو موگی نے کہا ،ابھی تک اس ہیرے کا نام نہیں رکھا گیا ہے جس کی لمبائی 73 ملی میٹر، چوڑائی 52 ملی میٹر اور موٹائی 27 ملی میٹر ہے۔

    واضح رہے کہ دیبسوانا اینگلو امریکن ڈی بیئر اور بوٹسوان حکومت کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے جس کمپنی نے اسے دریافت کیا ہے وہ ہیروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ادارے ’ڈی بیئرز‘ کا ہی حصہ ہے بوٹسوانہ افریقہ بھر میں ہیروں کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے اور ڈیبسوانہ کمپنی جو بھی ہیرا فروخت کرتی ہے اس کی 80 فیصد رقم حکومت کو ملتی ہے۔ تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے سال 2020 سے اب تک وہاں کے ہیروں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی