Baaghi TV

Category: متفرق

  • طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    جنوبی افریقہ کے ملک سیرا لیون کے 24 سالہ موجد امانوئیل آلیو منسارے نے فالتو کاٹھ کباڑ استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد کار بنا لی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ کار تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہےامانوئیل نے اپنی اس ایجاد کو ’’تصوراتی کار‘‘ (امیجی نیشن کار) کا نام دیا ہے جس میں واحد نئی چیز شمسی پینل ہے جو کار کی چھت پر لگا ہوا ہے۔

    کار بہت چھوٹی سی ہے جس میں اوسط جسامت کے صرف ایک فرد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے دروازے اور پہیے تک کباڑیئے کی دکان سے خریدے ہوئے سستے سامان پر مشتمل ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    کار کا انجن بنانے کےلیے امانوئیل نے پرانی اور استعمال شدہ چیزوں کو مرمت کرکے نہ صرف مہارت سے آپس میں جوڑا بلکہ اس انجن کے ساتھ کلچ، بریک، ایکسلریٹر اور گیئر باکس تک کا اضافہ کردیا تاکہ ضرورت پڑنے پر کار کی رفتار تبدیل کرنے کے علاوہ اسے ’’ریورس گیئر‘‘ میں بھی ڈالا جاسکے۔

    علاوہ معذور افراد بھی یہ کار بہ آسانی خود ڈرائیو کرسکتے ہیں یعنی انہیں اس کےلیے کسی دوسرے ڈرائیور کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    امانوئیل کا کہنا ہے کہ یہ کار ایجاد کرنے میں انہیں کئی سال لگ گئے جبکہ اس پر 500 ڈالر کی مجموعی لاگت آئی ہے لیکن اب وہ باقاعدگی سے شہر کے آس پاس گاڑی چلاتے ہیں۔

    مستقبل میں وہ اسے مزید بہتر بناتے ہوئے اپنے ملک میں صاف ستھری اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    امانوئیل نے کہا کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قابل تجدید ذرائع نقل و حمل کی ضرورت ہے تاکہ اپنے باشندوں کے لئے صاف ستھری ہوا کو یقینی بنایا جاسکے۔ فضائی آلودگی کی بات کی جائے تو افریقہ کو دنیا کا 17 واں انتہائی کمزور ملک قرار دیا گیا ہے –

    امانوئیل نے کہا کہ لوگوں کا خیال تھا "تصوراتی کار” کے خود تعلیم یافتہ انجینئر اور موجد کو ان کے خیال کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ میں نے گھر سے دی گئی پاکٹ منی جمع کی اور اس پر خرچ کی-

    رپورٹ کے مطابق امانوئیل نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا تھا کہ جب لوگوں نے انہیں کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر اس کے لئے کار آمد اشیاء ڈھونڈتے دیکھتے تو چتے تھے کہ میں۔ تاہم ، وہ اپنے جدید منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے اور مذاق کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا-

    ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی مرمت خود کرنے والا کنکریٹ

  • روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

    ۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

    ۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

    ۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

    ۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

    ۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

    ۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

    ۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
    کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
    جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

    ۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

  • نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    ونود مہتا نامور بھارتی صحافی اور مشہور میگزین آئوٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے۔ ان کی خودنوشت "لکھنو بوائے "نے بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ونود مہتاکا شمار دلیر، بااصول اورڈٹ جانے والے ایڈیٹروں میں کیا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ صحافتی تجربے کی روشنی میں انہوں نے نوجوان صحافیوں کے لئے چند مشورے تحریر کئے۔ ونود مہتا سوال اٹھاتے ہیں: "کیا صحافی کو انقلابی ہونا چاہیے؟ ونود کے خیال میں یہ خیال رومانوی ہونے کے باوجود غیر عملی ہے۔ آپ کسی بڑے کاز کے لئے کام کرنے والے انقلابی ہیں یا کسی خاص ایجنڈے کے بغیر انقلابی مزاج رکھتے ہیں، دونوں صورتوں میں ایسی انقلابی رومانویت سے دور رہیں۔ ریڈیکل ازم کا بھی ٹکٹیں جمع کرنے کی طرح خاص وقت اور جگہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی میں کسی نے کوئی انقلابی پمفلٹ لکھا ہو، مگر وقت کے ساتھ اسے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جرنلزم میں ایسے شوریدہ سروں یا سر پھروں کے لئے جگہ نہیں۔ ایک بات البتہ سمجھناضروری ہے کہ چی گویرا ٹائپ ہٹ اینڈ رن قسم کی صحافت کی ضرورت نہیں، مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ روایتی گھسی پٹی سوچ کے غلام بن جائیں۔ اہم طاقتور لوگ جب صبح اٹھتے اور اخبار پڑھتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کی تصدیق ہو، اسے چیلنج نہیں کیا جائے۔ آپ کو مگر یہ چیلنج کرنا چاہیے۔ صحافیوں میں بھیڑ چال کا رواج (Herd Mentality)ہے، کوئی ایک کچھ کرے تو سب پیروی کرتے ہیں۔ ایک اچھے صحافی کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس نے کب ان کا حصہ بننا ہے اور کب اکیلا شکار کرنا ہے۔

    ونود مہتا آگے چل کر دو ممتاز مغربی لکھاریوں کی کوٹیشن دیتا ہے، پہلی کے مطابق، جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں، اس پر روایتی نقطہ نظر جان لیں اور پھراپنی تحریر میں اس کے خلاف دلائل دیں۔ دوسری کوٹیشن دلچسپ ہے، "جب شک میں ہوں تب حملہ آور ہوں۔”
    کیا سیاستدان اور صحافی دوست ہوسکتے ہیں؟ ونود مہتا کا جواب نفی میں ہے، مگر ان کے مطابق جارج اورویل (اینمل فارم ناول کے مصنف)بننے کی ضرورت نہیں، وہ جب ٹربیون اخبار کے بک ایڈیٹر تھے تو کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک نہیں ہوتے تھے کہ مصنف سے ملاقات دیانت دارانہ تبصرے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ ونود مہتا آگے جا کر نکتہ اٹھاتے ہیں کہ سیاستدانوں اور صحافیوں دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے نہایت مختلف بلکہ متضاد ہے۔ سیاستدان بیشتر اوقات حقائق یا سچ کو توڑموڑ کر، کچھ خفی کچھ جلی انداز میں پیش کرتے ہیں جبکہ صحافی کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو سچ سامنے آئے۔ اس لئے سیاستدانوں سے قربت کے بجائے اہم یہ ہے کہ آپ سچ کے کتنے قریب ہیں؟

    کیا ایک صحافی کو اپنا استعفاجیب میں ڈال کر پھرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں یہ بہت مشکل سوال ہے، آپ کی ایک فیملی ہے جس کے اخراجات برداشت کرنے ہیں، گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، بنک کی قسطیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ایک دیانت دار صحافی کی زندگی میں کم از کم ایک موقعہ ایسا آتا ہے جب وہ ایسا کرنے کا سوچتا ہے۔ ونود مہتا یہاں پر مشورہ دیتا ہے کہ آپ سب ایڈیٹر، فیچر رائٹر، رپورٹر، فوٹوگرافر، اسٹنٹ ایڈیٹر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کو اپنے کام میں بہترین ہونا چاہیے۔ میڈیا کے تمام تر مسائل اور نئے آنے والے بے تہاشا نوجوانوں کے باوجود آج بھی کوالٹی ایک نایاب صفت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر کرنے کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج بھی میں کوئی اچھی تحریر دیکھوں تو اسے دو بار پڑھتا ہوں۔ پہلی بار اس کی کوالٹی جانچنے جبکہ دوسری بار اس کے انداز تحریر اور مہارت کو بغور دیکھنے کے لئے۔ اس لئے یقین رکھیں کہ اگر آپ ایک بہترین صحافی ہیں تو آپ بے روزگار ہوسکتے ہیں، مگر یہ مدت مختصر ہوگی کیونکہ مارکیٹ میں اچھے صحافی کی شہرت بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور کوئی نہ کوئی ضرور آپ کی مہارت سے استفادہ کرنا چاہے گا۔
    گر غلطی ہو جائے تب صحافی کو کیا کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں بعض اوقات صحافی خود کو بے عیب اور پرفیکٹ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس رفتار سے خبریں آتی ہیں، ان پر کام ہوتا، فائنل ٹچ دیا جاتا ہے، اتنے مختصر وقت میں پرفیکٹ کام کرنا ممکن ہی نہیں۔ اخبار ہے ہی نامکمل، عجلت میں کئے گئے کام کی پراڈکٹ۔ حتیٰ کہ مضامین، تجزیے، کالم، اداریے وغیرہ بھی بہت بار نہایت عجلت میں، ڈیڈ لائن پریشر کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ آپ کے پاس مکمل ڈیٹا نہیں، اعداد وشمار چیک کرنے کا وقت نہیں مل پاتا، حتیٰ کہ لفظوں کی املا درست کرنا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کرشمہ ہی ہے کہ فائنل پراڈکٹ (اخبار یا ٹی وی نیوزبلیٹن)کا تاثر اتنا برا نہیں، وہ خاصا موثر ہوتا ہے۔ کوئی صحافی مکمل اور خامیوں سے پاک نہیں، اس حقیقت کو سب سے پہلے ذہن میں لے کر چلیں۔ نیویارک ٹائمز جیسا اخبار جو اپنی خبر کی تحقیق کے لئے کئی مراحل پر مشتمل پراسیس اختیار کرتا ہے، اس نے بھی عراق جنگ کے حوالے سے بالکل غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں،۔ وہ صدر بش کے وائٹ ہائوس ٹیم کے ہاتھوں استعمال ہوگئے اور اس پر نیویارک ٹائمز کو بعد میں اپنے قارئین سے معذرت کرنا پڑی۔ اصول یہ ہے کہ غلطی ہو تو اسے تسلیم کریں۔ چھپانے یا کمزور عذر تراشنے کے بجائے مانیں۔ اپنے قارئین سے واضح الفاظ میں معذرت کریں۔ البتہ صحافی کو غلطیاں دہرانی نہیں چاہیں۔ میرے حساب سے تین سال میں ایک آدھ غلطی کی گنجائش بن سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

    صحافی کو اپنی انا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں اسے تالے میں بند کرکے رکھ دینا چاہیے۔ صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اسے کیسے ٹھیک کیا جائے، اسی وجہ سے کچھ صحافی مستقل قسم کے ناصح بن جاتے ہیں۔ بعض ایڈیٹر سمجھتے ہیں کہ وہ ملک چلارہے ہیں یاقوم کے لئے ایجنڈا سیٹ کر سکتے ہیں۔ ایڈیٹر(اور کالم نگار) بھول جاتے ہیں کہ ان کے دھماکہ خیز ادارئیے اور دھواں دھار کالم زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی زندگی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اخبارکھڑکیوں کے ٹوٹے شیشوں کو ڈھانپنے کے کام آتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم صحافیوں کا سماج میں کچھ اثرہے مگر اس سے کہیں کم جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ایک بڑے مغربی صحافی نے کہا تھا، "صحافی شراب سے زیادہ خودپسندی کے ہاتھوں برباد ہوتے ہیں۔” ہم صحافی میچ میں بہترین سیٹ حاصل کرتے ہیں، یہی کافی ہے، جمہوریت کے کھیل میں ہم کھلاڑی نہیں، اپنا کردار سمجھ لینا چاہیے، اسے مکس کرنا مصیبت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔
    کیا صحافی کو اپنا سٹائل بہتر کرنے پر وقت اور پیسہ صرف کرنا چاہیے؟ ونود مہتا لکھتے ہیں کہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ آپ کسی بھی زبا ن میں لکھتے ہوں، اس میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے۔ ایک زمانے میں سب ایڈیٹر اپنے رپورٹر کی خبر میں اس کے اسلوب کی دلکشی کا جائزہ ضرور لیتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں، مگر آج بھی ایک اچھی سٹوری اگر بہترین طریقے سے لکھی گئی ہو تو اس کا تاثر بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک بڑی سٹوری کمزور اسلوب کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی بڑے ناول نگار کا اسلوب اپنا لیں یا بڑی مرصع نثر لکھیں جس میں مشکل مترادفات ہوں۔ نہیں اس کے بجائے مشہور ادیب ہیمنگوئے کے الفاظ یاد رکھیں کہ سیدھے سادے الفاظ ہی بہترین ہوتے ہیں۔ آپ کی زبان سادہ اوردلچسپ ہونی چاہیے۔ خوش ونت سنگھ اس پر خاص توجہ دیتا تھا کہ اس کی تحریر زیادہ سے زیادہ رواں اور قابل مطالعہ ہو۔ اسی وجہ سے خوشونت کو ناپسند کرنے والے بھی اسے پڑھتے ضرور تھے۔ ادب میں ممکن ہے کوئی مشکل اور ثقیل نثر کے باوجوداپنا کام چلا لے، مگر مین سٹریم صحافت میں یہ عیاشی ممکن نہیں۔ لکھنے والے کو اپنے پہلے فقرے سے قاری کو انوالو کر لینا چاہیے۔ اس لئے تحریرکا آغاز بہت توجہ اور محنت سے اچھا بنا کر لکھنا چاہیے۔ اگر اپنے پہلے پیرے میں قاری کو گنوا بیٹھے تو سب کچھ ضائع ہوگیا۔
    ونود مہتا نے معروف برطانوی صحافی، مصنف جارج اورویل کا دلچسپ اقتباس نقل کیا، اورویل لکھتے ہیں ” دو باتیں ایسی ہیں جو کسی لکھنے والے کے لئے قاتل ہیں۔ کٹر روایتی پن لکھنے والے کے لئے تباہ کن ہے، چاہے رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ دونوں انتہائوں کا سخت روایتی پن تحریر کو بے رنگ اور بے کشش، مصنوعی بنا دیتا ہے۔ تحریر کی دوسری سب سے بڑی خامی اس میں دیانت داری کا فقدان ہے۔ اگر کسی کی اصل سوچ اور جس کا وہ پرچار کرنے لگا ہے، اس میں فرق ہے تب مصنف اپنی تحریر میں گھسی پٹی اصطلاحات اور بلند بانگ الفاظ استعمال کر کے اسے مصنوعی بنا دے گا۔ جیسے کسی کتاب پر فرمائشی تبصرہ یا کالم لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، ایسی تحریر کمزور ہی ہوتی ہے۔
    ونود مہتا کے مطابق اچھا لکھنا کسی سکول میں نہیں سیکھا جا سکتا، بہت بار اپنے وجدان پر بھروسا کرنا پڑتا ہے، تاہم جارج اورویل نے لکھنے والے کے لئے چند اصول وضع کئے، ان میں سے سب سے اہم یہ کہ اگر آپ کے پاس اپنی بات کہنے کے لئے مختصر جملہ ہے تو اس کی جگہ کبھی طویل جملہ استعمال نہ کریں۔ لکھنے کے بعد اگر کسی لفظ کو کاٹا جا سکتا ہے تو اسے ضرور کاٹ دیں۔ پامال الفاظ اور جملے استعمال نہ کریں۔

  • معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    دہشت گردی معاشرے کا وہ واحد مسئلہ ہے جو کسی بھی قوم اور ملک کے لیے بدنامی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تنزلی کا سبب بنتی ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی ایک برائی ہے یہ ایک بڑا گناہ ہے دہشت گردی کے لفظ سے ہی اسکا مطلب لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے مکروہ اور ناپاک مقاصد کے لیے خوف و ہراس پیدا کر کے لوگوں پر رعب طاری کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جاسکے
    دہشت گردوں کے دل مردہ، دماغ اور صلاحیت عقل سے عاری ہوتی ہے یہ انسانی روپ میں چٔھپے وہشی بھیڑیے ہوتے ہیں دہشتگردی کا مسئلہ پوری دنیا کے لیے مشترک ہے
    بدقسمتی سے پاکستان کو بھی اس ناسور، برائی، ( دہشت گردی) سے سامنا رہا ہے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نبردآزما ہے، پاکستان ملک میں امن کی خاطر دہشتگردوں سے جنگ کررہا ہے
    پاکستان اور پاکستانی قوم کو دہشت گردوں نے بدنام کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، دہشت گردوں نے اپنی ناکام، اور ناپاک کاروائیوں کی بدولت بازاروں، دینی درسگاہوں، حتیٰ کہ مساجد تک نہیں چھوڑی، حالانکہ ہمارے قرآن پاک میں ارشاد ہے
    ترجمہ:
    کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا
    اگر دینِ اسلام اسکی مکمل نفی کررہا ہے تو ناجانے دہشت گرد اس اہم فرمان کو جھٹلا کر کیوں اس میں کود پڑتے ہیں
    ہر مذہب میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے
    جتنے بھی صحیفے اتارے گئے چاروں آسمانی کتابوں ( تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک) کسی میں بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق اور پیغام دیا گیا
    میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دہشت گرد کونسی مخلوق یا پھر کونسے جہان سے ہیں جو آئے روز اپنے ناپاک عزائم کرتے ہیں لوگوں کی زندگی اجبیران کرتے ہیں معاشرے میں نفرت کی ہوا کو بھڑکاتے ہیں

    گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا، جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں دھکیلا گیا جس کی وجہ پاکستان کو اسکی بھاری قیمت چکانا پڑی
    یہ وہ دہشت گردی ہی تھی جس کے لیے پاکستانی فورسز نے دن رات ایک کر کے پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹانے کے لیے بلا خوف نڈر ، بہادر اور بے باک بن کر بے پناہ قربانیاں دی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ملک کی خاطر شہید ہونے کو ترجیح دی تاکہ پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنا سکیں، ملک کو امن کی جانب گامزن کرسکیں ، تاکہ ملک کو ترقی کی جانب پروان چڑھا سکیں، تاکہ پاکستان کا مستقبل نیک شگون ثابت کرسکیں
    تاکہ پاکستانی قوم سکون، سٔکھ، اور چین کی زندگی بسر کر سکیں
    الحمدللہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کوششوں کے باعث
    آج پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ہے مساجد، عبادت گاہیں دہشت گردی سے پاک ہیں ہر پاکستانی سکون و اطمینان کی زندگی بسر کررہا ہے کھیلوں کے میدان آباد ہیں، دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کو ترجیح دے رہی ہیں، بلوچستان امن کا گہوارہ بن چکا، کراچی کے لوگ قربانیوں کی بدولت سکون کی فضاء میں جی رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کردیا گیا

    دہشتگردوں کے ناپاک عزائم مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث دہشتگرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں عالمی برادری پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے، پاکستان کو امن کی جگہ قرار دیا جارہا ہے،
    دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز جن میں پولیس، ایف سی، رینجرز، اور افواجِ پاکستان نے دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ پروگرام تشکیل دیا اور اسکی بدولت ملک امن و امان، سلامتی، اور سکون کا مرکز بنا، انکی لازوال قربانیاں قوم پر احسان ہیں پاکستان کو اس دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے جتنی بھی قربانیاں دی گئی قوم اپنے شہداء کی مقروض ہے

    بے شک شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ایک سپاہی شہید ہوکر ہی قوم کو امن کی زندگی میسر کرتا ہے قربانی دے کر ہی ملک کا سہارا بنتا ہے

    ایک ایک قربانی قوم شہیدوں کی یاد رکھی ہوئی ہے شہید اس ملک کا سرمایہ ہیں، فخر ہیں، ہمارے سروں کے تاج ہیں،

    دعا ہے کہ اللّٰهُ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور ہمارے جوانوں کی غیبی امداد فرمائے آمین

  • گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی کیونکہ پنجاب کا کلچر بہت ہی سوبر اور مہذبانہ ہے ۔
    جہاں حضرت بلھے شاہ جیسے صوفی بزرگ ہو اس کا کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    بلھے شاہ زہر دیکھ کے پیتا تے کی پیتا
    عشق سوچ كے کیتا تے کی کیتا
    دِل دے كے دِل لین دی آس رکھی
    وی بلھیا پیار اہو جیا کیتا تے کی کیتا..
    مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
    ڈھیندا جو کچھ ڈھا دے
    اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
    رب دلاں وچ رھیندا..

    جس دھرتی میں حضرت وارث شاہ جیسے بزرگ سو رہے ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    کئی بول گئے شاخ عمر دی تے،ایتھے آہلھناکسے نہ پایا ای

    کئی حکم تے ظلم کما چلے،کس نے ساتھ لدایا ای

     وڈی عمر اولاد والا ،جس نوح  طوفان منگایا ای

    ایہہ روح قلبوت دا ذکر سارا،نال عقل دے میل ملایا ای

    اَگے ہیر نہ کسے نے کہی ایسی، شعر بہت مرغوب بنایا ای

    وارث شاہ میاں لوکاں کملیاں نوں،قصہ جوڑ ہشیار سنایا ای

    جہاں پر حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ ہستیاں ہوں صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہو
    اند بوٹی مشک مچایا جاں پُھلن تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جیں ایہ بوٹی لائی ہو​
    الف اللہ پڑھیوں پڑھ حافظ ہویوں ناں گیا حجابوں پردا ہُو
    پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں بھی طالب ہویوں زر دا ہُو
    سئے ہزار کتاباں پڑھیاں پر ظالم نفس نا مردا ہُو
    باہجھ فقیراں کسے نا ماریا باُہو ایہ چور اندر دا ہُو..
    جواب الف اللہ چنبے دی بوٹی
    عشق دریا محبت وچ تھی مردانہ تریئے ہو
    جتھے لہر غضب دیاں ٹھاٹھاں قدم اتھائیں دھرئیے ہو
    اوجھڑ جھنگ بلائیں بیلے ویکھو ویکھ نا ڈریئے ہو
    نام فقیر تد تھیندا باہو جد وچ طلب دے مریئے ہو
    ایہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ہو
    ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ہو
    شوق دا دیوا بال ہنیرے متاں لبھے وست کھڑاتی ہو
    مرن تھیں اگے مر رہے باہو جنہاں حق دی رمز پچھاتی ہو۔۔

    جہاں پر حضرت بابا فرید شکر گنج جیسے بزرگ صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    فریدا،، خاک نہ نندیئے خاکو جیڈ نہ کوئ
    جیوندیاں پیراں تھلے مویاں اوپر ہوئ
    اٹھ فریدا وضو ساج صبح نماز گزار
    جو سر سائیں نہ نیویں سو سر کپ اتار

    جہاں پر حضرت میاں محمد بخش جیسے صوفیانہ شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔۔

    آدردا وچ خالی خانے پا وچ دخل مکاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبوباں نوں وداع کریندیاں مشکل بچدیاں جاناں
    ؂بے شرمی دے حلوے نالوں ساگ جماں دا چنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وفاسجن دے نالوں سنگ چُوہڑے دا چنگا
    ؂پاٹا چولا لیرولیر ، سی لیندا اے درزی۔۔۔۔۔۔ دل دا محرم کوئی نہ ملیا جو ملیا سو غرضی
    ؂ٹہا دے مسجد مندر ٹہادے جو کجھ ٹہیندا۔۔۔۔۔۔اک بندیاں دا دل نہ ٹہاویں ربّ دلاں وچ رہندا
    ؂حرص طمع دے گھوڑے چڑھیوں، ڈھلیاں چھڈ لگاماں۔۔۔۔۔۔ گھرنوں واگاں موڑ اسوارا ، سر تے پے گئیاں شاماں
    ؂گئی جوانی آیا بڑھاپا پیاں سب پیڑاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہن کس کم محمد بخشاؔ سونف جوائن ہریڑاں

    جہاں پر باباگرونانک جیسے لوگ ہیں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    گرو نانک کی تعلیمات سے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک کی بنیاد، بقول کول اور سامبھی، مقدس جنم سکھی پر ہے جس کے مطابق سکھ مت 15ویں صدی میں اسلام اور ہندو مت کی ہم آہنگی کی کوشش یا معاشرتی احتجاج کی تحریک نہیں، بلکہ نانک کی تعلیمات اور سکھ مت خدا کی طرف سے الہام تھا۔ دوسرا نظریہ، بقول سنگھا، کہتا ہے کہ ’’سکھ مت اوتار کا نظریہ یا پیغمبری کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا محور گرو کا تصور ہے جو خدا کا مظہر نہیں ہوتا اور نہ ہی پیغمبر ہوتا ہے۔ وہ تو بس ایک روشن روح ہوتا ہے۔‘‘
    مقدس جنم سکھیاں نانک نے خود نہیں لکھی تھیں، بلکہ بعد ازاں ان کے پیروکاروں نے تحریر کی تھیں جن میں تاریخی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا اور نانک کی شخصیت کو محترم بناکر پیش کرنے کی غرض سے متعدد داستانیں اور قصے تخلیق کیے گئے۔ کول اور سامبھی واضح کرتے ہیں کہ سکھ مت میں ’مکاشفہ‘ کی اصطلاح صرف نانک کی تعلیمات سے مخصوص نہیں، بلکہ اس میں تمام سکھ گروؤں کے علاوہ ماضی، حال اور مستقبل کے مرد و عورتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جنھیں مراقبے اور غور و فکر کے ذریعے الہامی طور پر علم حاصل ہوا۔ سکھ مکاشفات میں غیر سکھ بھگتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جو نانک سے کی پیدائش سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے اور ان کی تعلیمات سکھ صحیفوں میں شامل ہیں۔ منڈیر کے مطابق، ادی گرنتھ اور جانشین سکھ گرووؤں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ سکھ مت ’’خدا کی طرف سے آوازیں سننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ یہ انسانی دماغ کی خاصیت تبدیل کرنے سے متعلق ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت براہ راست مشاہدہ اور روحانی کاملیت مل سکتی ہے۔‘‘ گرو نانک نے تاکید کی کہ تمام انسان بغیر کسی رسوم یا مذہبی پیشواؤں کے، خدا تک براہ راست رسائی پاسکتا ہے۔

    جہاں پر شاہ حسین جیسے بزرگ صوفی ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔
     ہوویں تاں عشق کماویں راہ عشق سوئی دا ٹکا،دھاگہ ہویں تاں ہی جاویں باہر پاک اندر آلودہ، کیہا توں شیخ کہاویں کہے حسین جے فارغ تھیویں،تاں خاص مراتبہ پاویں عاشق بننا ہے تو عشق حقیقی اختیار کر عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ کی مانند ہے ، دھاگے کی۔۔

    خواجہ غلام فرید جیسے بزرگوں کا کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

     والیاں، ربّ لائے نیں ساون،
    کائی مینہہ میہر دے وسّ گئے ۔

    ٹر گئے یار دناں دے،
    ن کوئی پتہ نشانی دسّ گئے ۔

    اونہا ویلے سانوں چیتے آون،
    جدوں نال اساں دے ہسّ گئے ۔

    غلام فرید اوہ سجن ناہ نیں،
    جہڑے چھوڑ ستی نوں نسّ گئے

    جہاں پر ایسے بزرگ اور صوفی بستے ہو میری نظر میں اس زمین کا کلچر گالی نہیں ہوسکتا ۔ شیخ روحیل اصغر کو اس کا جواب دینا ہو گا یا اس کو معافی مانگنی چاہیے کیونکہ
    پنجاب کے تمام پنجابیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
    پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گئے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔
    سرسوں کا ساگ مکھن اور مکئی کی روٹی سب سے مقبول پنجابی کھانا ہے اس کے علاوہ ساون میں مسی تندوری روٹی بھی شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے
    اس کے علاوہ یہاں کا لباس پگڑی اور شلوار قمیض ہے۔
    پنجاب کے لوگ ہنس مکھ اور خوش مزاج اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والے ہیں اس بیان کے بعد شیخ روحیل اصغر کافی وقت تک سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنے رہے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں اور تمام لوگوں سے معافی مانگیں جن جن کے جذبات مجروح ہوئے ہیں

    تحریر: احسن ننکانوی

  • سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    دوسرا حصہ
    سلطان محمد الپ ارسلان (بہادر شیر)

    طغرل بیگ کی وفات کے بعد اسکے بھتیجے الپ ارسلان سلطان کے مسند پر فائز ہوا وہ بھی طغرل بیگ کی طرح ایک نہایت مدبر، تجربہ کار لیڈر اور جرات مند شخصیت کا مالک ایک مخلص قائد تھا اس نے ملکی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے ایک نہایت ہی دانشمندانہ پالیسی اختیار کی جو علاقے سلجوقی سلطنت کے زیر نگیں تھے پہلے انکے استحکام کو یقینی بنایا اسکے بعد بیرونی دنیا کی طرف پیش قدمی کی۔ سلطان الپ ارسلان ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ اور اپنی پڑوسی میسحی سلطنتوں میں اسلام کی اشاعت کے لیے بے قرار رہتا تھا اسکی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ارمن اور روم کے علاقے اسلامی قلم رو میں شامل ہوں دراصل وہ ایک مخلص مجاہد تھا اور اسلامی جہاد کی روح ہی وہ واحد عامل ہے جسکی بدولت الپ ارسلان کو شاندار کامیابیاں ملی اور اسکی جہادی سرگرمیوں نے دینی رنگ اختیار کیا
    سلجوقی سلطنت کا یہ عظیم مجاہد ایک مخلص جہادی شخصیت اور میسحی علاقوں میں اسلام کی اشاعت کے لے بے حد حریض انسان کی شکل میں نمودار ہوا اور سلطنت بیزنطینیہ کے بہت سارے علاقوں پر اسلام کا علم لہرا دیا
    الپ ارسلان اپنی مملکت کی سرحدوں کو وسیع کرنے سے پہلے سات سال کے عرصہ تک اپنی مملکت کے دوردراز کے علاقوں کے حالات کا جائزہ لیتا رہا اور جب ان علاقوں میں امن وامان کی صورت حال سے مطمئن ہو گیا تو اپنے عظیم مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئے پلاننگ شروع کر دی۔ ان کے سامنے ایک ہی ہدف تھا سلجوقی سلطنت کے پڑوس میں واقع مسیحی علاقوں کو فتح کرنا ، مصر میں فاطمی بدولت کے اقتدار کو ختم کرنا اور تمام اسلامی دنیا کو عباسی خلفاء اور سلجوقی اقتدار کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنا۔ الپ ارسلان نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا اور اس لشکر کی قیادت کرتا ہوا ارمن اور جوجیا کی طرف روانہ ہوا۔ یہ علاقے بہت جلد انکے ہاتھوں فتح ہوئے۔ الپ ارسلان آگے بڑھا اور شام کے شمالی علاقے پر یورش حلب مرداسی حاکم تھا۔ اس سلطنت کی بنیاد 414ھ بمطابق 1023ء میں صالح بن مرداس نے رکھی تھی۔ یہ شیعہ سلطنت تھی۔ الپ ارسلان نے مرداسی سلطنت کا محاصرہ کیا اور اس سلطنت کے فرمانروا محمود بن صالح بن مرداس جو مجبور کیا کہ وہ مصر کی فاطمی خلیفہ کی بجائے عباسی خلیفہ کی حکومت کو تسلیم کرے اور لوگوں کو اس حکومت کی احکام کا پابند کیا اسکے بعد الپ ارسلان نے ایک ترکی نژاد قائد اتنسز بن اوق خوارزمی کو جنوبی شام پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا خوارزمی نے فاطمیوں سے رملہ اور بیت المقدس چھین لئے لیکن عسقلان پر قبضہ نہ کر سکا جسے مصری حدود میں داخلہ کے لئے ایک بہت بڑے دروازے کی حیثیت حاصل تھی اس طرح سلجوقی بیت المقدس کے اندر خلیفہ عباسی اور سلجوقی سلطان کے مرکز کے قریب ہو گئے۔

    426ھ میں مکہ مکرمہ کے گورنر محمد بن ہاشم کا قاصد سلطان الپ ارسلان کے دربار پہنچا۔ قاصد نے اطلاع دی کہ شریف مکہ خلیفہ القائم پاشا اور سلطان الپ ارسلان کے نام کا خطبہ دے رہا ہے اور آئندہ سے وہ عبیدی سلطنت کی بجائے عباسی خلافت کے احکامات کی پابندی کرے گا۔ قاصد نے یہ بھی بتایا کہ مکہ شریف میں آئندہ حئی علی خیرالعمل کے الفاظ اور دوسرے شیعی الفاظ اذان میں نہیں دہرائے جائے گئے سلطان نے شریف مکہ کے قاصد کی بڑی عزت افزائی کی۔ تیس ہزار دینار گورنر مکہ کی خدمت میں ارسال کئے۔ اور کہلا بھیجا کہ اگر گورنر مدینہ ایسا کرے گا تو اسکی خدمت میں بیس ہزار دینار پیش کئے جائے گئے ۔
    الپ ارسلان کی ان فتوحات نے رومی شہنشاہ ڈومانوس ڈیوجیس کو آتش زیر پا کر دیااور اس نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی شہنشاہیت کا دفاع کرے گا۔ سو اس مقصد کی خاطر اس نے اپنی پوری فوج سلجوقیوں کے خلاف جنگ میں جھونک دی۔ رومی اور سلجوقی فوجوں میں کئی خونریز معرکے ہوئے۔ "ملاذکرد” کا معرکہ ان سب میں زیادہ اہم ہے جو 463ھ بمطابق اگست 1070 ء کو برپا ہوا

    اس معرکے میں روم کا بادشاہ ڈومانوس پہاڑ کی مانند لشکروں کو لیکر روانہ ہوا۔ ان لشکروں میں روم، روس، برطانیہ، اور کئی دوسرے ملکوں کے سپاہی شریک تھے۔ ڈومانوس کی جنگی تیاریاں بھی خوب تھی اس لشکر میں 35 بطریق بھی شریک تھے۔ اور ہر بطریق کے ساتھ دو دو لاکھ گھوڑ سوار تھے۔ 35ہزار فرنگی اور 15 ہزار دوسرے جنگ جو اسکے علاؤہ تھے جو قسطنطنیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اسکے علاؤہ ایک لاکھ نقب لگانے والے، ایک لاکھ کھدائی کرنے والے، ایک ہزار روز جاری، چار سو بیل گاڑیوں جن پر فوجوں کی وردیاں، اسلحہ، گھوڑوں کی زینیں، منجنیقیں، قلعہ شکن آلات لدے ہوئے تھے۔ ان منجنیقیوں میں ایی منجنیق ایسی بھی تھی جس کو ایک ہزار دو سو آدمی چلاتے تھے ڈومانوس یہ سب لاؤ لشکر لیکر اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کا مقصد لیکر آگے بڑھا تھا۔ اسکو اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ فتح سے پہلے ہی اسلامی علاقے اس نے بطریقوں کو جاگیر میں دینے کا اعلان کیا حتیٰ کہ بغداد بھی ایک بطریق کے نام کر دیا۔ انکا پروگرام یہ تھا کہ جب عراق اور خراسان کے علاقے فتح ہو جائیں گئے تو وہ یکبارگی حملہ کر کے شام کے علاقے مسلمانوں سے واپس لے لیں گئے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے اور تقدیر ہنس رہی تھی ۔ سلطان الپ ارسلان اور رومی فوجوں کا آمنا سامنا الزھوہ کے مقام پر بدھ کو ہوا۔ ذیقعد کے اس مہینے کے ابھی پانچ دن باقی تھے۔ رومی فوج کی کثرت دیکھ کر الپ ارسلان کچھ پریشان ہوا۔ لیکن فقیہیہ ابو نصر محمد بن عبدالماک بخاری نے انکو حوصلہ دیا اور کہا: سلطان محترم! جمعہ شریف کے روز جب خطباء جمعہ کے خطبے پڑھ رہے ہوں اور مجاہدین کے لئے دعائیں مانگ رہے ہوں عین اس وقت دشمن پر حملہ کر دیں۔ اللہ کریم مسلمانوں کی دعاؤں کے طفیل سلطان کو فتح عطا فرمائے گا۔

    جب وہ وقت آیا اور دونوں لشکر میدان میں اترے تو الپ ارسلان گھوڑے سے اترا۔ زمین پر سر رکھ کر اور اپنی پیشانی کو خاک کو آلود کر کے بارگاہ خداوندی میں فتح و نصرت کے لئے ملتجی ہوا۔ اللہ کریم نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ اور نصرانیوں کے سروں کو جھکا دیا۔ مسلم سپاہ نے کشتوں کے پشتے لگا دئیے رومی بادشاہ اور سپہ سالار فوج ڈومانوس گرفتار ہوا۔ اسے ایک رومی غلام نے گرفتار کیا۔ جب بادشاہ کو سلطان کے حضور پیش کیا گیا تو سلطان نے اپنے ہاتھ سے اسے تین کوڑے مارے اور پوچھا: اگر میں گرفتار ہو کر تیرے سامنے پیش ہوتا تو تو میرے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟ ڈومانوس نے کہا: میں تم سے انتہائی برا سلوک کرتا۔ الپ ارسلان نے کہا: میرے بارے میں تیرا کیا گمان ہے ؟ ڈومانوس بولا۔ تو یا تو مجھے قتل کر دے گا یا اپنے ملک میں میری تشہیر کرے گا یا معاف کر دے گا یا فدیہ لیکر رہا کر دے گا۔ الپ ارسلان چنے کہا: میرا ارادہ یہ ہے کہ تجھ کو معاف کر دوں اور فدیہ لیکر چھوڑ دوں۔ لہذاسلطان نے پندرہ لاکھ اشرفیاں لیکر اسے آزاد کر دیا۔ جب ڈومانوس روانہ ہونے لگا تو سلطان نے اسے پینے کے لئے مشروب دیا۔ وہ سلطان کے اس نیک سلوک سے بہت متاثر ہوا۔زمین بوس ہوا۔ تعظیم بجا لایا۔ سلطان نے ازراہِ عنایت دس ہزار دینار فدیے سے چھوڑ دئیے۔خود اس کی پیشوائی کے لئے دور تک چلا قید بطریقوں میں سے ایک کو آزاد کر کے اسکے ساتھ کر دیا۔ اسکے علاؤہ ایک محافظ دستہ ساتھ دیا تاکہ کوئی گزند نہ پہنچائے۔سلطان الپ ارسلان کا ایک مختصر سا لشکر جسکی تعداد پندرہ ہزار تھی ڈومانوس کے ایک لاکھ سے زائد کے لشکر کو شکست فاش کرنا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اس واقعے نے رومیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
    الپ ارسلان ایک متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔ فتح کے مادی اور معنوی ہر دو اسباب سے استفادہ کرتا تھا۔ علماء اکرام کی ہم نشینی سے بہرہ ور ہوتا۔ ان کی نصیحتوں کو گوش ہوش سے سنتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا تھا۔ اسلام کا یہ بطل جلیل اور عظیم سپہ سالار ایک باغی کے ہاتھوں شہید ہوا۔اس باغی کا نام یوسف خوارزمی تھا
    ۔ آپ کا سن وفات 10 ربیع الاول 465ھ بمطابق 1072 ء ہے۔ آپ مروکے شہر میں اپنے باپ کے پہلو میں دفن ہوئے اور ملک شاہ کو اپنا جانشین چھوڑا۔

  • تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    پانی قدرت کے خزانوں میں سے انسان کے لئے ایک نعمت ہونے کے ساتھ کرہ ارض پر زندگی کے وجود کے لئے بھی لازمی ہے مگر بدقسمتی سے دنیا بھر پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ماضی میں سیاسی اختلافات اور اس اہم ترین مسئلے پر قابو پانے کے لئے فنڈز مختص نہ کئے جانے کے باعث نئے ڈیمز تعمیر کرنے کا معاملہ ہمیشہ التوا کا شکار رہا اور یوں گلیشیرز کے تیزی سے پگھلائو کی وجہ سے پانی کی ایک بڑی مقدار ذخیرہ نہ ہونے کے باعث سمندر کی نظر ہو کر ضائع ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے مگر کسی بھی دور حکومت میں مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔کسی بھی حکومت نے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ صوبائی سطح پر منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مستقل پالیسی پانی کی تقسیم کے حوالے سے موجود نہیں اگر واٹر منیجمنٹ کے حوالے سےسائنسی بنیادوں پر کوئی طریقہ کار موجود ہوتا توصوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ کبھی سر نہیں اٹھاتا مگر ماضی کی طرح کچھ دنوں سے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر تنازعہ میں شدت آئی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے نہ صرف نئے ڈیمز کی تعمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہےبلکہ وزیراعظم عمران خان صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تمام صوبوں کو پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کے حوالے سے ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت تمام صوبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے، وزیراعظم عمران خان ان دس سالوں کو نئے ڈیمز تعمیر کرنے کی دہائی قرار دے چکے ہیں اور حکومت اگلے دس سالوں میں 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
    حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ اپریل کے دوران پنجاب میں پانی کی قلت45 فیصد اور سندھ میں 9 فیصد تھی جبکہ ان دنوں پنجاب کو 22 فیصد اور سندھ کو 17فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔پنجاب میں 2 فیصد پانی کوہ سلیمان سے شامل ہو کر بڑھا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھرپانی کی فراہمی کے حوالے سے سندھ حکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کو پٹ فیڈر کینال سے 7600 کیوسک پانی ملنا چاہئے مگر سندھ کی جانب سے تقریباً 6 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے اسی طرح کیر تھر کینال سے 2400 کیوسک کے بجائے 1800 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے مطابق حالیہ دنوں سندھ کی جانب سے ان دونوں نہروں میں 55 فیصد پانی کم چھوڑا جارہا ہے۔حکومت بلوچستان ذرائع نے بتایا کہ پانی کی کمی کے باعث حالیہ صورتحال میں سندھ سے ملحق بلوچستان کے زرعی علاقوں میں 76 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے کا خطرہ ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے پانی چوری کا معاملہ سندھ حکومت اور مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی تقسیم کے فارمولے کو منصفانہ بنایا جائے، صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے لئے جدید آلات نصب کئے جائیں تاکہ کسی بھی صوبے کی عوام کے حقوق پامال نہ ہوں پانی کی نگرانی کا نظام آن لائن کیا جانا چاہئے تاکہ حقائق پر مبنی ڈیٹا ہمیشہ دستیاب ہو جبکہ تمام صوبوں میں بڑے ڈیمز کی تعمیراور زیر تعمیر ڈیمز کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی آسکے۔ پانی کو بچانے اور اس نعمت خدا وندی کے بہترین استعمال کے لئے ہمیں پانی کے استعمال میں جدت لانے کی بھی ضرورت ہے، کچے نالوں،گڑھوں اور نہروں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کی آبپاشی میں پانی خاصی مقدار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پانی کو ری سائیکل کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے کے ساتھ سیوریج کا گندا پانی فصلوں میں شامل ہو کر انہیں آلودہ نہ بنائے۔ ہمیں اپنے کاشتکاروں کو جدید آبپاشی کے نظام سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کم پانی سے بہتر اور زیادہ فصلیں اگائیں۔ پانی کے ضیاع کو روکنےاور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے پاس 190 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی بنا کر عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو آنے والے سالوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں قحط کی تباہ کاریوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

  • سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    کسی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کی بالادستی لازم و ملزوم ہے ۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    اگر اسلامی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کا بہت اہم مقام ہے اگر ہم پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں عدل و انصاف کی بالادستی واضح نظر آئے گی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر فرمایا
    خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
    اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس کے الگ مقام کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ اور اسلامی قوانین کی بالادستی ہے
    لیکن افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے
    17 جون 2014 لاہور ماڈل ٹاؤن کے مقام پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر پنجاب پولیس کی جانب سے تجاوزات کے نام پر معصوم اور نہتے لوگوں کے خلاف آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    اگر بات صرف تجاویزات کی تھی تو چودہ معصوم لوگوں کا بے گناہ قتل کرنے کا کیا مقصد؟؟
    اس سانحہ کو تقریبا سات سال گزر چکے ہیں مگر آج تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ورثا انصاف حاصل کرنے میں نا کام ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اپنے ہی معصوم لوگوں پر دشمنوں کی طرح اندھا دھند گولیاں نہیں برساتا یقینا اس عمل کے لیے لیے حکومت کی طرف سے احکامات کا ملنا واضح ہے ۔ یاد رہے 2014 میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی

    کیا شریف برادران نہتے لوگوں سے اتنے ڈرگئے تھے کہ خادم اعلی کو قاتل اعلی بننا پڑا ۔ وزیر قانون پنجاب کو قانون کی دھجیاں اڑانی پڑیں اور وزیراعظم نواز شریف کی زبان کو تالے لگ گئے ۔
    پنجاب پولیس کی جانب سے بزرگوں خواتین اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور ان کو زخمی بھی کیا گیا مجھے یاد ہے تنزیلہ امجد کی والدہ جو کہ حاملہ تھیں وہ بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کیے گئے مظالم میں شہید ہوئیں تنزیلہ امجد نے اپنی شہید ماں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عدل مہیا کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکایا صرف ایک بار نہیں بار بار کھٹکایا گیا مگر خاموشی۔
    افسوس ہے اس نظام پہ کہ جہاں غریب کے لیے سزا اور امیر کے لیے معافی
    ایک تو انصاف فوری مہیا حاصل نہیں ہوتا اگر حاصل ہو بھی جائے تو غریب کی جیب کے برداشت سے باہر کی بات ہے جہاں سابقہ وزیر اعظم کی بیٹی کی درخواست پر چھٹی والے دن عدالت لگ جاتی ہے اور وہاں دوسری طرف قوم کی بیٹی تنزیلہ انصاف کی راہ دیکھتی رہ جاتی ہے اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو کیا تنزیلہ قوم کی بیٹی نہیں ؟؟
    کیا قوم کی بیٹی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے والد کا وزیراعظم اور چچا کا وزیراعلیٰ ہونا ضروری ہے

    یہاں انصاف بکتا ہے یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    اگر کوئی سچ میں حقیقی تبدیلی چاہتا ہے تو اس کےلیے ضروری ہےکہ نظام عدل کو بہتر بنایا جائے ،فوری اور سستا انصاف مہیا کیا جائے۔

  • مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    ابھی ایک دن گزارا نہیں تھا کہ مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ کر دیا گیا ہے ۔ G7 بارے تو میں آپکو گزشتہ ویڈیو میں بتا چکا ہوں ۔ اب نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی چین کو مستقل سکیورٹی چیلنج قراردیا گیا ہے ۔ اب نیٹو نے پہلی بار چین کے فوجی مقاصد کے بھرپور مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

    ۔ اس وقت لگ ایسا رہا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف میڈیا وار تو آغاز کر دیا ہے کیونکہ جیسے وہ ہر فورم پر اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ چین کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ جیسے ہر فورم پر امریکہ یہ نہیں بھولتا کہ وباء ، انسانی حقوق ، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تائیوان کا ذکر لازمی ہو ۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ تو میرے حساب سے اس وقت چین کو میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ایک جارحیت کا سامنا ہے ۔ اب وہ اس کو counter کیسے کرتا ہے یہ دیکھنا ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں مغربی ذرائع ابلاغ اس وقت بڑے طریقے سے ایک مقصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور چین کو ایک نیا دشمن ایک نیا خطرہ بنا کر دنیا کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی عوامی رائے کو اس حوالے سے mouldکیا جاسکے ۔ ایسا ہی یہ ممالک سب سے پہلے روس کے ساتھ پھر افغانستان ، لیبیا ، شام اور عراق کے معاملے میں کرچکے ہیں ۔

    ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی دوبارہ متحرک ہوچکے ہیں۔ جمہوریتیں اور آمریتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔۔ جمہوریت اور آمریت والا تو ایک منجن ہی ہے حقیقت میں یہ ممالک کسی بھی اور ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کہ وہ ان کے اثر و رسوخ سے باہر نکل جائے۔ چین اور روس اس وقت بالعموم دنیا کے تمام ملکوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں جس سے ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی طور قبول نہیں۔

    ۔ اس تمام صورتحال میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے بھی مسائل میں اضافے روز بروز بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جس طرح چین کو لے کر دنیا میں polarizationبڑھتی جارہی ہے ۔ اور جو پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی چین اور روس کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں تو پاکستان بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ ہم چین کے اہم اتحادی ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر پریشر کے ساتھ ساتھ سازشوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ۔ کیونکہ سی پیک one belt one roadمنصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جس تیزی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور مغربی ممالک کے highest dignitaries پاکستان کے دورے کرر ہے ہیں اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ چین بھی یقینی طور پر زیر بحث آیا ہوگا۔

    ۔ دیکھا جائے تو معاشی اور دفاعی دونوں جانب سے پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ ایک جانب بھارتی جارحیت تو دوسری جانب افغانستان کی روز بروز بگڑتی صورتحال ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑی ہے ۔ سونے ہر سہاگہ معاشی مبجوریوں کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، یورپی یونین اور امریکہ کے محتاج بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملی تو ملک نے چلنا نہیں اور یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہماری تجارت رکی تو تب بھی ہم کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے تو آنے والے دنوں میں خوفناک منظر دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی ہے ۔ ہر عالمی فورم اور معاملے میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔ چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا تھا ۔

    ۔ ساتھ ہی سی پیک ایسا منصوبہ ہے جس پر تقریباً قومی اتفاق رائے ہے اس کے لئے چین نے جو پیکج دیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اور یہ آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں تسلسل سے چلتا آرہا ہے ۔ اب آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر امریکہ کی جانب سے پریشر بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے کہ with us or against us
    تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی tricky ہوچکی ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان اس وقت کسی کی بھی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر تفصیل میں جائیں تو چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹو رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چین اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہا ہے اور روس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا ہے۔ بیجنگ کے تیزی کے ساتھ جوہری میزائل بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا ۔ ۔ نیٹو کے سربراہ jens stoltenbergجینس سٹولٹنبرگ نے توتنیہہ کی ہے کہ چین نیٹو کی عسکری اور تیکنیکی صلاحیتوں کے ’قریب‘ پہنچ رہا ہے۔ ۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین اور روس کی جانب سے لاحق نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ روس اور چین ہماری توقعات کے مطابق نہیں چل رہے ۔ جوبائیڈن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چین کو کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو بھرپور رسائی دینی چاہیے۔ کیونکہ شفافیت کے بغیر ایک اور وبا پھیل سکتی ہے۔

    ۔ جرمن چانسلر anglina merkhal نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ تو فرانسیسی صدر mackron کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔ دوسری جانب چین نے نیٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کی امن ترقی پر بہتان لگا رہے ہیں۔ اور زور دیا کہ چین کسی کے لیے چیلنج نہیں پیش کرے گا لیکن اگر کوئی چیلنج ہمارے قریب آیا تو ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھے بھی نہیں رہیں گے۔ درحقیقت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور نیٹو کو خدشہ ہے کہ چین یورپی ممالک کی سکیورٹی اور ان کے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو چین کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی پریشان ہے۔ اصل میں چاہے یہ نیٹو ہو یا جی سیون ممالک یا
    quadگروپ ان سب کے پیچھے تو امریکہ ہی ہے ۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جی سیون کی طرح نیٹو 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد ہے جو امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟

    ۔ اس حوالے سے نیٹو سیکٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں
    2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030initiative کا اہم حصہ ہے۔۔ دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔ اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری process پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی artifical intelligence کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

    دراصل امریکا سمیت چند ملکوں کے مذموم مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عالمی وبا کے باعث دنیا کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی مگر اس کے بجائے امریکہ اپنی سیاست کے ذریعے دنیا کو تقسیم کر رہا ہے ۔ اس مصنوعی محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے عالمی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ۔ مگر ایسا نہ ہورہا ہے نہ ہونے کی امید ہے ۔

  • ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں
    لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے” کی صدائیں پہلے بلند ہو جاتی ہیں
    قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن پہلے سج جاتے ہیں
    آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں:-
    "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔”

    مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟

    فرسودہ روایات کو بدلو۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟” قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں

    تہیہ کر لیں کہ آئندہ اگر کبھی کسی جنازے میں شرکت کرنا پڑی تو خواہ ہزار کلومیٹر کر کے کیوں نہ جائیں۔اور عزیز و اقارب ہی کیوں نہ پکائیں۔ میت والے گھر سے کھانا نہیں کھانا۔ خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔ اس سے پہلے کہ معاشرتی نظام ہی لپیٹ میں آ جائے