Baaghi TV

Category: متفرق

  • تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    عورت کا تعلیم یافتہ ہونا معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے
    ایک عورت اگر پڑھی لکھی یے تو اس سے کا پورا گھر، پورا خاندان پڑھ لکھ سکتا ہے لیکن اگر عورت پڑھی لکھی نہیں تو اس کو کوئی پرواہ و دلچسپی نہیں ہوتی اس کے گھر میں کوئی پڑھا لکھا ہے یا نہیں اس کو بس اپنی زندگی گزارنے کی فکر ہوتی ہے باقی اس کے ارد گرد کیا ہوتا ہے اس کو پرواہ نہیں ہوتی عورت کے لیے تعلیم یافتہ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد کے لیے
    اس دور جدید میں عورت کے لئے دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے جس سے وہ دور جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکے اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقفیت ہو سکے اگر ایک عورت پرھی لکھی ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کو بھی پڑھا لکھا بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود کو کہا گیا ہے جہاں سے بچہ سب سے پہلے جو لفظ بھی سکتا ہے وہ بھی ماں ہی ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کی زندگی میں جو بھی آتا ہے بھلے وہ اچھا ہے یا برا اس کے پیچھے تربیت کا اثر ہوتا ہے وہ تربیت اس کو بادشاہ بھی بناتی ہے اور گداگر بھی

    "”کہتے ہیں نا ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے””
    وہ عورت اس کی ماں ہی ہوتی ہے جو اس کی تربیت ایسی کرتی ہے جس سے وہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے اگر ماں بچے کو شروع سے اچھا راستہ دیکھاتی ہے تو وہ ماں اس بچے کی بہترین خیر خواہ اور بہترین معلمہ ہوتی ہے اگر ہم تاریخ انسانیت کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے جس معاشرے جو بھی پڑھا لکھا ہوتا ہے بھلے وہ مرد ہو یا عورت اس کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو معاشرے میں اہم مقام دیا جاتا ہے

    تعلیم نسواں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کا مفہوم ہےجو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم وتربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۰۴۴۷)
    ایک بیٹی، رحمت اسی وقت بن سکتی ہے، جب کہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور ہو، وہ فاطمی کردار و گفتار کا پیکر ہو

    آج تعلیم گاہوں اور دینی تعلیمات کے متعدد ذرائع کے موجود ہونے کے باوجود، دینی تعلیم سے بے رغبتی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے، جس مذہب نے دینی تعلیم کو تمام مردوں عورتوں کے لیے فرض قرار دیا ہو اور جس مذہب میں علم وحکمت سے پُرقرآن جیسی عظیم کتاب ہو اور جس مذہب کی شروعات ہی ”اقرأ“ یعنی تعلیم سے ہوتی ہو، اسی مذہب کے ماننے والے دینی تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اور اگر بات عورتوں کی مذہبی تعلیم کی، کی جائے (نہ کہ محض عصری ومغربی تعلیم کی) تو معاملہ حد سے تجاوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے، کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مکتب ہوتا ہے

    تعلیم نسواں معاشرے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کے لیے مرد اگر گھر سے باہر رہ کر گھر کو سنبھالنے میں لگا رہتا ہے تو عورت گھر کی چاردیواری کے اندر اپنا فرض نبھا رہی ہوتی ہے مرد اگر پیشہ کماتا ہے تو عورت اس کے خاندان کی خدمت کر کے اس کا ساتھ دیتی ہے مرد اگر گرمی سردی میں باہر رہ کر کام کرتا ہے تو عورت گرمی کی تپتی دوپہر ہو یا سردی کی ٹھٹرتی رات ہو اس کے بچوں کو سنبھال رہی ہوتی ہے مرد گھر سے باہر اگر اپنے بچوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے تو عورت انہی بچوں کی تربیت کر کے قابل فخر بنا رہی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں اس دور میں تعلیم کا رحجان تو بہت ہے لیکن دینی تعلیم سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے

  • چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    کل امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور اٹلی نے جی سیون کے پلیٹ فارم سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے بعد ایک بار پھر مغرب اور مشرق آمنے سامنے آچکے ہیں کیونکہ اس میں واضح ٹارگٹ چین اور روس تھا ۔ جبکہ چین پر تو ایک طرح سے مغرب نے charge sheet لگانے کی کوشش کی ۔ کہ چین سے وائرس کیسے شروع ہوا ۔

    چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کیوں ہورہا ہے ۔تائیوان اور بھارت کے حوالے سے چین کا رویہ جارحانہ ہے ۔چین کے نظام میں شفافیت نہیں ہے ۔ اور سب سے اہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو بڑے کھلے الفاظ میں نشانہ بنایا ہے ۔ اب انھوں نے چین کے مقابلے میں ایک نیا منصوبہ لانے کا اعلان کیا اور اس OBOR (One Belt One Road)منصوبے کے مقابلے میں بڑے جارحانہ انداز میں پیش کیا جارہا ہے ۔ اس پر چین کی جانب سے تو بہت ہی سخت درعمل سامنے آیا ہے ۔ دراصل جی سیون ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد چین کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے چین کے خلاف سٹریٹیجک مقابلے کے موضوع پر بات چیت کی ہے جس کے بعدbuilt back better world ya B3W یعنی عالمی سطح پر تعمیر نو کے ایک نئے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

    ۔ اب جی سیون کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک 400 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ترقی پذیر دنیا میں انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بیجنگ نے دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے مغرب کا ماننا ہے کہ چین نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو مقروض کیا ہے اور وہ یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چین پر سنکیانگ صوبے میں جبری مشقت اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔اس جی سیون کے اعلامیہ میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو اس سال کے آغاز میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے چین کے خلاف مل کر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان میں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے افسران کے خلاف سفری پابندیاں، اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا شامل تھا ۔ چند ہفتے قبل بھی امریکہ نے مزید چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا ۔ اور کئی چینی کاروباری حضرات پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائی تھیں ۔ جبکہ چین نے اپنے خلاف لگنے والی پابندیوں کے جواب میں یورپی حکام پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

    ۔ چین نے حالیہ اعلامیہ کے بعد جی سیون کے عالمی رہنماؤں کو ورننگ دی ہے کہ وہ دن گئے جب چھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں۔ اور یہ کہ عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں۔

    ۔ یہ درحقیقت ایک پلان کا حصہ ہے کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن اپنے پیش رو ٹرمپ کی طرح سمجھتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کو فوری طور پر چین کے خلاف اتحاد مضبوط کرنا ہوگا۔ مگر جوبائیڈن کا طریقہ واردات ٹرمپ سے مختلف ہے ۔ جوبائیڈن اچھی اچھی باتیں کریں گے ۔ امیج اپنا اچھا رکھیں گے ۔ مگر چین کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیں گے ۔ سیاسی ، معاشی اور دفاعی ہر جانب سے چین کو کاری ضرب لگانے کی کوشش کریں گے ۔۔ مغرب کے خیال میں صدر بائیڈن کا build back better world منصوبہ چین کی ایک ایسی سکیم کا حریف بنے گا جس کی مدد سے کئی ملکوں میں ٹرین، سڑکیں اور بندرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ میرے خیال سے امریکہ بڑی ہوشیاری اور تیزی سے چین کا راستہ بند کرنے پر لگا ہوا ہے ۔ اگر آپ دیکھیں تو اس کی ابتداء وباء کے پھوٹنے کے بعد چین پر لگنے والے الزامات تھے ۔ امریکہ کی چین کے خلاف ٹریڈ وار تھی ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے امریکہ نے چین کے خلاف QUADگروپ کو منظم کیا ۔ بہت سے ایسے ممالک جہاں چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت بندگاہیں تعمیر کر چکا ہے یا کررہا ہے ۔ ان سب کو امریکہ نے کسی نہ کسی طرح engage کر لیا ہے یا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اس کی واضح مثال پاکستان ہے ۔ ایران ہے ، سری لنکا ہے اور بنگلہ دیش ہے ۔ جن پر اس وقت امریکہ کا سخت پریشر ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ چین کے منصوبے سے الگ ہوجائیں ۔

    ۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ مختلف محاذوں پر ناکامی کے بعد امریکہ اپنے اصل ازلی اتحادیوں کے ساتھ چین کے سامنے کھل کر آچکا ہے کہ اب اس کا مقابلہ کیا جائے گا ۔ کہ کسی طرح مشرق کے غلبے کو روکا جائے ۔۔ اس وقت مغرب اور مشرق کی ٹکراؤ کی کیفیت اتنی شدید ہوچکی ہے کہ آپ دیکھیں ویکسین کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کہ مغرب یعنی یورپ اور امریکہ میں چینی اور روسی ویکسین لگانے والوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ جس نے وہاں آنا ہو pizferلگوائے یا پھر astrazenca ۔ یعنی اب اس ویکسین پر نیا ڈرامہ شروع ہوگیا ہے۔
    مالی منافع اور کمپنیوں کے جھگڑے نے دنیا تقسیم کردی ہے۔۔ اس تمام معاملے کو تجارتی اور عالمی تھانیداری سے ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جس کو کہتے نا clash of civilizations اس وقت دنیا واضح طور پر دوحصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ابھی تک تو معاملہ زبانی کلامی اور اقدامات تک ہی محدود ہیں ۔ پر آگے چل کر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایک بہت بڑا war theatre تیار کیا جا رہا ہے ۔ اور کسی بھی جنگ سے پہلے جو صف بندیاں ہوتی ہیں وہ کی جا رہی ہیں ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو امریکہ چین والے معاملے پر جو میں نے گزشتہ ویڈیو کی تھی اس میں بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ اس سال کے لیے امریکہ تاریخی بجٹ 6 ٹریلین ڈالرز کا رکھا ہے ۔ جس میں
    1.5 ٹریلین ڈالر صرف پینٹاگون یعنی دفاع پر خرچ ہوگا ۔ جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے ۔ دراصل امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی اقدار غالب ہیں۔ اور دنیا پر ان کو ہی حکمرانی کاحق ہے ۔ کیونکہ یہ پاک صاف جمہوریت سے لبریز اور اعلی انسانی اقدار کی حامل ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب دنیا کو چینی سرمایہ کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ کہ جو سنکیانگ میں ہو رہا ہے جو تائیوان سے چین برتاؤ کر رہا ہے ۔ جس طرح چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ جو چین میں جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ اس لیے چین کا معاشی غلبہ کسی طور پر ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ مساویانہ مقابلے سے روکتا ہے۔۔ سننے میں مغرب کا یہ پراپیگنڈہ بہت اچھا لگاتا ہے ۔ پر اگر دیکھا جائے جس کی جانب چین بھی اشارہ کرتا ہے ۔ کہ مغرب کا دوغلا پن جب کشمیر ہویا فلسطین یا شام یا لیبیا یا افغانستان یا عراق وہاں پر آکر عیاں ہوجاتا ہے ۔ اور دنیا میں گزشتہ صدی اور اس صدی میں جتنا بھی خون خرابہ اور جنگیں برپا کی گئی ہیں بلکہ تھوپی کئی گئی ہیں وہ سب مغرب کی پیدا کردہ ہیں ۔ اس لیے امریکہ یا جی سیون ممالک جو کہہ رہے ہیں وہ صرف چین کے مقابلے کی بات نہیں بلکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت متبادل پیش کرنا ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کروانے کی ایک ناکام سی کوشش دیکھائی دیتی ہے کہ مغرب ہے تو ایک بھڑیا مگر انصاف پسند بھڑیا ہے ۔ جو بھیڑ بکریوں کو مارتا ضرور ہے مگر کسی قانون کے تحت ۔ پھر چاہے وہ آئی ایم ایف ہو ورلڈ بینک ہو یا اقوام متحدہ یا پھر سیکورٹی کونسل ہو ۔ جس سے اجازت لو ، قرارداد پاس کرواو اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی ملک پر weapons of mass destructionکا الزام لگا کر اس کو برباد کر دو ۔

    ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کہ عالمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مغرب کیسے رقم خرچ کرے گا ۔ کیونکہ جمہوریت میں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی عوام کا دیا ہوا ٹیکس دوسرے مملکوں میں انفراسٹکچر پر خرچ کرے ۔ ابھی تک صرف یہ ہی بات واضح ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے کے لیے مغربی طاقتوں کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہو گیا ہے۔ اور یہ تمام مغربی ممالک چین کا راستہ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

  • مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    وہ زمانے گئے جب جنگیں محاذوں پر آمنے سامنے لڑی جاتی تھیں، دور جدید میں جنگ کی اصطلاح ہی بدل چکی ہے اب مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی و فکری میدان میں بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کو بغیر جنگ کیئے غلام بنانے کے کچھ مخصوص طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایسی قوم کو بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی سازشوں سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان، بس یہ طریقہ سست اور صبر آزما ہے۔ اس مقصد کے لیئے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں اور نصاب کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ تاریخ ایک ہتھیار ہے (history is a weapon)۔ ایک قوم کو اس کی اساس سے دور کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ اسے نہتا کر دیا جائے مثال کے طور پر پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا،

    آج کچھ لوگ اس پر ہی سوال اٹھاتے بلکہ اس کو سرے سے رد کرتے نظر آتے ہیں، اب آپ سوچیں کہ پاکستان کی بنیادی اساس پر ہی سوالیہ نشان لگادیا جائے تو پاکستان کے وجود اور اسکی بقا کی کیا ضمانت ہوگی؟ ایک ڈیزائنڈ لٹریچر لوگوں کو با آسانی تاریخ سے دور کر کے ملکی دفاع کو کمزور کرسکتا ہے، بچوں/نوجوانوں کو ایجوکیشن کے نام پر mis-education دی جاتی ہے، تاریخ مسخ کر کے پڑھائی جاتی ہے اور انہیں آہستہ آہستہ وہ اصول سکھائے جاتے ہیں جو دشمن کو دوست دکھاتے ہیں، ایک مخصوص مائنڈ سیٹ پروان چڑھایا جاتا ہے جو ریاست/مذھب سے مخالفت اور بغاوت کا تصور ذہنوں میں راسخ کردیتا ہے، ظلم و استحصال کی داستانیں دہرا دہرا کر ایک پراگندہ biased ذہن بنادیا جاتا ہے جو اپنی عقل سے فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور اپنے رہبر/استاد کی بتائی باتوں پر ہی من و عن یقین رکھتا ہے، عدم برداشت کا انتہا پسندانہ رویہ انہیں اس حد تک لے جاتا ہے کہ پھر وہ اپنے نظریئے سے اختلاف کرنے والے کو بدترین دشمن گردانتے ہیں اور اس طرح کے لوگ پھر قومی دھارے میں شامل ہو کر ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں

    ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں کئی ایسے "گروہ” سرگرم ہیں جو اپنے مذموم عزائم اور بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے نئی نسل کی مائنڈ پروگرامنگ کر رہے ہیں جس کے ثمرات و اثرات ہمیں اپنے اردگرد دکھائی بھی دیتے ہیں کہ لوگ یا تو مذھب بیزار نظر آتے ہیں یا ریاست مخالف۔۔۔۔

    ابھی کا واقعہ لیجیئے تیس سال سے دس غیر قانونی ایرانی اسکولز چل رہے تھے بلوچستان میں جہاں اساتذہ بھی غیر ملکی تھے اور نصاب بھی۔۔۔ ان تیس سالوں میں کتنے بچے وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے ہونگے؟ وہ بچے ایران کے وفادار ہونگے یا پاکستان کے؟ اسی طرح یونیورسٹیز میں سیکولرازم کی ترویج و اشاعت جاری ہے، سعودی فنڈڈ مدارس بھی چل رہے ہیں اور دیگر سیاسی، مذھبی و لسانی قوم پرستی کے پروپیگنڈے کا سلسلہ بھی جاری ہے

    اب وہ وقت ہے پاکستانیوں کو اس برین واشنگ کا شکار ہونے سے روکا جائے!!
    یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہونے کے بعد دیگر کسی بھی قسم کے لٹریچر کو سرکاری منظوری کے بغیر ہرگز نہ پڑھایا جائے، بصورت دیگر یہ فرقوں اور قومیتوں میں بٹی قوم آپس میں ہی لڑ لڑ کے مر جائے گی اور دشمن فقط تماش بین ہونگے!!!

    از قلم: سیدہ
    ‎@SyedaSays__

  • زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کے کئی رنگ ہیں انہی رنگوں میں ایک رنگ موت ہے۔۔۔ موت کو ویسے ہمیشہ ہی کالی رات سا کہا جاتا ہے۔ اور ایسا رنگ جس کو ہم اوڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ مگر موت کا رنگ بھی ہمارے لئے ہی ہے۔ اور ہم پیدا ہوتے ہی اوڑھ چکے ہوتے ہیں۔۔۔ بس جب وقت آتا ہے اس وقت یہ رنگ ہمارے مکمل وجود پر چڑھ جاتا ہے اور پھر زندگی کے دوسرے رنگوں کو نگل جاتا ہے۔۔ کبھی لگتا ہے موت کا رنگ نیلا یا کالا ہے۔ مر جانے والوں کے ہونٹ اکثر نیلے یا کالے ہو جاتے ہیں۔ مگر مرنے والوں کے رنگ تو اکثر لال بھی ہو جاتے ہیں۔کبھی سفید بھی اور کبھی مکمل سپاٹ چہرے لیے ہوتے ہیں۔گو کہ موت بھی کئی رنگ رکھتی ہے۔اور اس موت کو دیکھنے والوں کے پاس صرف ایک رنگ بچتا ہے سفید رنگ جو مایوسی اور اداسی کے رنگ کو ساتھ ملا کر مسلسل آنسوؤں کی صورت میں بہتا رہتا ہے۔اور یہ رنگ پھر ختم ہی نہیں ہوتا۔ یوں تو مر جانے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔مگر جاتے جاتے وہ لوگ ہمیں بھی ساکت کر جاتے ہیں۔۔۔ منجمند کر جاتے ہیں میرے الفاظ کھو گئے۔ میری سوچ ختم ہو گئی۔میری باتیں ختم ہوگئی۔۔

    میرا دل خالی سا ہو گیا۔مجھے موت سے انکار نہیں مگر موت کے بعد جو سناٹا چھا جاتا ہے اس سے وحشت ضرور ہے وہ سناٹا جو ہمیں بولنے نہیں دیتا۔سننے نہیں دیتا کچھ کہنے نہیں دیتا کچھ کرنے نہیں دیتا، مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے زندگی تھم سی گئی  ہے۔ کچھ نہیں ہے کرنے کو نہ ہی کچھ کرنا اہم ہے۔ کتنی گھٹن ہوتی ہے جب سانس چل رہی ہو مگر ہم اسکے چلنے سے خود رُک سے گئے ہوں۔میں بھی ٹھہر سا گیا ہوں۔رک گیا ہوں۔۔۔ مجھے اس سرکس میں اب اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عجیب سی الجھن ہوتی ہے۔کہتے ہیں انسان کٹھ پتلی ہے۔اسکی ڈور اللہ کے پاس ہے وہ ہمیں جیسے چاہے چلا رہا ہے۔۔۔ مگر یہ دنیا تو واقعی قدرت کی سرکس ہے۔

    ایسی سرکس جہاں ایک یا دو نہیں سب کے سب جوکر ہیں۔مگر جب ایک مکمل جوکر بن کر اپنا کردار نبھا رہا ہوتا ہے تو باقی جوکروں کا کردار قہقہے لگانا ہے۔۔۔ پھر ان قہقہے لگانے والوں میں سے کوئی جوکر اپنا کردار نبھائے گا اور باقی جوکر تالیاں بجائیں  گے۔۔۔ اور یہ سرکس یونہی آباد رہتی ہے۔اور جوکر آتے جاتے رہتے ہیں۔ دنیا کا میلہ انہی جوکروں سے آباد ہے۔ دنیا کے رنگ انہی جوکروں سے قائم ہیں۔۔ یہ زندگی کی سرکس بھی بڑی ہی عجیب ہے دیکھا جائے تو تماشے ہزار اور محسوس کیا جائے تو غم ہزار۔۔۔

  • جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    ‏انڈیا کی جہاں اپنی معاشی صورتحال خراب ہے وہی اس کے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں یہ الگ بات ہے ساری دنیا اس پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہے۔دنیا میں ہی جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ساتھ ہی اس کے رہنے والوں پر سانس لینے کے لیے جگہ تنگ کر رکھی ہے۔پوری دنیا کو اس وقت کورونا سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے کشمیر کو کورونا کے ساتھ ساتھ کرفیو اور بھارتی جارحیت کا بھی سامنا ہے۔تقسیم ھند کے وقت پانچ سو باسٹھ ریاستیں تھیں جن میں ایک سو چالیس ریاستیں خود مختیار تھیں اور انکو مکمل آزادی تھی وہ انڈیا یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں لیکن تین ایسی ریاستیں تھیں جو کسی کے ساتھ الحاق نہیں چاہتی تھیں ان میں سے ایک کشمیر بھی تھا جس پر بعد میں بھارت نے ناجائز قبضہ کر لیا اور وہاں کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔گزشتہ سالوں میں کرفیو لگا کر کشمریوں کی داخلی خودمختاری کی آئینی شق ہٹا دی گئی اور کشمیریوں کی مزاحمت پر ان پر توڑے گئے ظلم کے پہاڑ سے دنیا کا ہر شخص واقف ہے۔ کشمیر پچھلے کئی سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔آج بھی کشمیر کی دیواروں پر "وی وانٹ فریڈم” کے الفاظ درج ہیں جو چیخ چیخ کر کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی ترجمانی کرتے ہیں۔

    برہان وانی کی شہادت کے بعد اس تحریک نے زور پکڑا اور کشمیری اپنی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑنے باہر آئے لیکن ان پر کے جانے والے ظلم کا سوچ کر انسان کی روح کپکپاتی ہیں۔کس طرح سے نہتے کشمیریوں پر آزادی کی آواز بلند کرنے پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔انکو انہی کے گھروں میں محصور کیا گیا اور انکو اشیاء خوردنوش اور چھوٹے بچوں کو دودھ تک سے محروم رکھا گیا مزید ظلم یہ کہ بیماروں کو ادویات کی سہولیات تک بند کر دی گئی۔حریت پسند راہنماؤں کو قید کر لیا گیا اور کس طرح سے آنسو گیس لاٹھی چارج اور پلٹ گن کا استعمال کیا گیا ۔کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کی جاتی رہی۔ان سب کے باوجود بھارت کشمیریوں سے نہ تو آزادی کی تمنا کم کر سکا ہے نہ ہی ان کے دلوں سے یہ نعرا مٹا سکا ہے "کشمیر بنے پاکستان”۔کیوں کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔آخر میں میں جام جازم بحثیت ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کے کشمیریوں کو ان کی خواہش کے آزادی ملنی چاہیے جو کہ انکا بنیادی حق ہے-

    تحریر: جام جازم

  • جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران ایک شخص کوایک پتھر ملا تھا،جس کے بارے میں مقامی افراد کادعوی ہے کہ یہ ہیرا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق 12 جون سے علاقے میں کھدائی کی جارہی ہے اور پیر کو ایک ہزار سے زیادہ ملک بھر سے لوگ اپنی قسمت آزمانے کیلئے جنوبی افریقہ کے کوزاولو – نٹل صوبے کے کوہلاٹھی گاؤں کا رخ کرچکے ہیں جہاں اس علاقے میں نامعلوم پتھروں کی دریافت کے بعد انہیں ہیرے ہونے کا یقین تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    12 جون کو ملک بھر سے لوگ اس گاؤں میں کھدائی کے لئے گئے جہاں ایک آدمی کو کھلے میدان میں پہلا پتھر ملا ، جسے کچھ لوگ کوارٹج کرسٹل سمجھتے ہیں –

    ایک کھودنے والے شخص منڈو سبیلو نے بتایا کہ اس نے دریافت ایک زندگی بدلنے والا تھا ، جب اس نے ایک مٹھی بھر چھوٹے پتھر دیکھے تھے-

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک…

    دو بچوں کے 27 سالہ والد نے کہا”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے گی کیونکہ کسی کے پاس مناسب ملازمت نہیں تھی ، میں عجیب و غریب ملازمتیں کرتا ہوں۔ جب میں ان کے ساتھ گھر واپس آیا تو ، (کنبہ) واقعی بہت خوش ہوا ،”

    بے روزگار سکھموبو مابھل نے اتفاق کیا ، انہوں نے مزید کہا: "میں نے اپنی زندگی میں کسی ہیرے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی چھوا تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    محکمہ بارودی سرنگوں نے پیر کے روز بتایا کہ وہ نمونے جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لئے ارضیاتی اور کان کنی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سائٹ پر بھیج رہی ہےمحکمہ نے بتایا کہ باقاعدہ تکنیکی رپورٹ مقررہ وقت پر جاری کی جائے گی تاحال حکام کی جانب سے ان پتھروں کے ہیرے ہونے کی ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ کی معیشت طویل عرصے سے بے روزگاری کی انتہائی کشمکش میں مبتلا ہے ، لاکھوں افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور 1994 میں فرقہ واریت کے خاتمے کے بعد تقریبا تین دہائیوں تک قائم سخت عدم مساوات میں کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وائرس وبا نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    کچھ لوگوں نے پتھر فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں ، جس کی ابتدائی قیمت 100 رینڈ (.2 7.29) سے 300 رینڈ تک یعنی 1100 پاکستانی روپے سے ساڑھے تین ہزار تک فروخت بھی کئے جارہے ہیں۔

    صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے ان تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مقام کو چھوڑ دیں تاکہ حکام کو مناسب معائنہ کرنے کی اجازت دی جا ئے ، خدشہ ہے کہ اس جگہ پر کھودنے والے افراد ممکنہ طور پر کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

  • ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    کہا جاتا ہے ایک دور میں دو لڑکی لڑکے تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے
    کوئی خبر نہیں تھی ایک کہاں سے اور دوسرا کہاں سے تھا
    سوشل میڈیا کا دور تھا دونوں سوشل میڈیا پے رہتے تھے لیکن دونوں کو کوئی خبر نہیں تھی کب کیسے ایک دوسرے سے دعا سلام ہوئی
    کب کیسے ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے
    پہلے صرف دعا سلام تھی پھر وہ دعا سلام دوستی میں بدلی
    پھر دوستی اتنی گہری ہوئی کہ دونوں ایک دوسرے سے 24 گھنٹے رابطے میں رہنے کے خواہش مند رہنے لگے
    آخر کچھ ایسے ہوا دونو کی دوستی ایک سٹیپ اور آگے نکل پڑی اور دونوں ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے
    دونوں کو پیار ہو گیا لیکن اظہار دونوں کرنے سے ڈرتے تھے
    دونوں کو اس بات کا با خوبی اندازہ تھا دونوں کا ملنا ممکن نہیں
    دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے
    ایک پاکستان کے ایک کونے تو دوسرے دوسرے کونے میں تھا
    دونوں کے کلچر الگ
    زبان الگ
    رہن سہن الگ
    پھر بھی دونو کے دل ایک تھے
    دونو ایک دوسرے کو چاہتے تو بہت تھے لیکن حالات و واقعات سے مجبور دونو ایک دوسرے کو مایوس ہو کر دیکھتے اور سنتے تھے
    دونوں اپنی اپنی جگہ پریشان تو ضرور تھے لیکن حوصلہ بھی بڑھاتے تھے ایک دوسرے کا
    درد ایک کو ہوتا تو پریشان دونوں ہوتے تھے
    پھر ایک دن ایسا بھی آیا لڑکے کے خاندان والوں نے لڑکے کی منگنی اس کی امنگوں کے خلاف کر دی پھر کیا تھا جو بچی کچی امید تھی وہ بھی دم توڑ گئی
    پھر تو دونو کو اس بات کی فکر کھانے لگا کیا بنے گا دوسرے کا
    لڑکی ہر وقت لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتی لیکن لڑکا پھر بھی سمجھ نہیں سکتا تھا اس نے بس ہر بات کو دل پے لے رکھا تھا
    ایسا وقت بھی آیا دونوں بیمار بھی رہنے لگے
    آخر وہ وقت بھی آیا لڑکے کی شادی کا وقت قریب آیا لیکن وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کو اپنے خاندان کے سامنے جھکنا پڑا اور خاموشی سے اپنا پیار اپنے دل میں رکھ کر وہ شادی کے لیے تیار ہو گیا
    لڑکی نے بار ہا کوشش کی لڑکے کو سمجھانے کی لیکن لڑکا پاگلوں کی طرح بس ایک ہی بات پے اٹکا تھا لیکن اس کو یہ بھی معلوم تھا وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا

    پھر دنیا کہتی ہے لڑکیاں بیوفا ہوتی ہیں لیکن یہاں ساری کہانی ہی الٹی ہو گئی

    (کہانی کا تعلق رائٹر سے نہیں ہے بلکہ کسی کی سنی ہوئی بات کو کہانی کی شکل دے دی)

  • خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    بیجنگ: چینی خاتون کی 8 انچ لمبی پلکیں جن کا وہ بھرپور خیال رکھتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ یو ٹیوب پر گنیز ورلڈ بک کے اکاؤنٹ سے 6 منٹس 19 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں چینی خاتون نے اپنی پلکوں کے بارے میں بتایا-

    انہوں نے بتا یا کہ ان کا نام یون جیانژیا ہے اور ان کا تعلق چین سے ہے انہوں نے لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز ورلڈ بک میں ریکارڈ اپنے نام کیا –

    انہوں نے بتایا اب ان کی پلکوں کی لمبائی 20 سینٹی میٹر ہے یو کے مطابق مجھے 2015 میں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ میری پلکیں بڑھ رہی ہیں۔

    خاتون کے مطابق اگرچہ شروع میں ان کے بڑھنے کی رفتار سست تھی لیکن وہ طویل سے طویل تر ہوتی گئیں میں اکثر سوچتی تھی کہ میری پلکیں آخر اتنی لمبی کیوں ہیں پھر مجھے یاد آیا کہ میں کچھ سال پہلے اپنی زندگی کے 480 دن پہاڑوں میں گزارے تھےتو میں نے خود سے نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے یہ پلکیں بدھا کی جانب سے تحفے میں دی گئیں ہیں-

    پھر میں نے یہ جاننے کے لئے کہ میری پلکیں دوسرے لوگوں کی پلکوں سے زیادہ لمبی کیوں ہیں ڈاکٹرز کے پاس گئی اور میں نے کئی ڈاکٹروں سے اس غیرمعمولی اضافے کی وجہ پوچھی تو وہ اس کی تسلی بخش جواب نہ دے سکے لیکن مجھے لگا وہ یہ دیکھ کر بہت حیران تھے-

    ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے اس کی جینیاتی وجہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے لیکن ان کے خاندان میں کوئی ایسا نہیں جس کی پلکیں اتنی بڑی ہوں، اس لیے وراثتی طبی عوامل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کیونکہ میری پلکیں قدرتی تھیں-

    میں روزانہ منہ دھونے کا کوئی آسان طریقہ اختیار کرتی تھی اور میری زندگی کی روٹین جاری تھی لیکن یہ گر کر دوبارہ سے بڑھ جاتی تھیں بعض اوقات تو بے احتیاطی سے کھینچنے سے گر جاتی ہیں-

    یو کے مطابق سب سے پہلے انہوں نے جون 2016 میں اپنا ریکارڈ قائم کیا تھا اور اس وقت ان کی پلکوں کی اوسط لمبائی 4.88 انچ تھی۔ جب وہ ڈاکٹروں کے پاس گئی تو بہت غور کے بعد اس کے پلکوں میں غیرمعمولی اضافہ تو نوٹ کیا گیا لیکن ڈاکٹر بہت تحقیق کے باوجود بھی اس کی وجہ بیان کرنے سے قاصرہیں تب میں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے افسران کو بتایا۔

    یو کے مطابق ان کی الٹی آنکھ کے اوپر کی پلک کو جب ناپا گیا ہے تو وہ 8 انچ طویل نکلی اور یوں انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔

     

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

  • سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    پانچویں صدی ہجری بمطابق گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوق سردار طغرل بیگ نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ سلطنت خراسان مارواءالنہر بلاد شام ایران عراق اور ایشیائے کوچک کے علاقوں پر مشتمل تھی اس سلطنت کا پہلا دارالحکومت ایران کا قدیم شہر رے تھا بعد ازاں عراق کا شہر بغداد میں منتقل کر دیا گیا

    اسی دوران خراسان مارواءالنہر بلاد شام اور ایشیائے کوچک میں چھوٹی چھوٹی سلجوق سلطنتیں وجود میں آئی جو ایران اور عراق میں سلجوقی سلطان کے تابع تھی

    سلجوقیوں نے بغداد کی عباسی خلافت اور اسکے مذہب اہل السنت والجماعت کی بھرپور مدد کی۔ یہ سلطنت ایک طرف ایران وعراق میں شیعہ بوہیمی اور دوسری طرف مصروشام میں عبیدی اثرونفوذ کے درمیان گھری زوال کے قریب پہنچ چکی تھی۔ سلجوقی سردار طغرل بیگ نے 447ھ میں بغداد کے اندر بوہیمی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور تمام شورشوں پر قابو پا لیا اور رافضیوں کے شیخ ابو عبداللہ الجلاب کو رفض میں غلو کی وجہ سے قتل کر دیا ۔

    طغرل بیگ جب ایک فاتح کی حیثیت سے عباسی خلافت کے دارالحکومت میں داخل ہوا تو خلیفہ قائم بامر اللہ نے اسکا شاندار استقبال کیا اسکو بےشمار قیمتی تحائف دئیے اسکے نام کا سکہ جاری کیا اسکو بےشمار القابات سے نوازا جا میں سلطان رکن الدین طغرل بیگ بھی شامل تھا اسکے نام کا خطبہ مسجدوں میں پڑھنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی اس قدر عزت افزائی کی وجہ سے سلجوقیوں کو پوری دنیا میں بےشمار قدر ومنزلت حاصل ہوئی اب وہ بغداد میں بوہیمیوں کی جگہ پر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ خلیفہ انکے ہر مشورے کو بطیب خاطر قبول کرتا تھا اور انکی عزت کرتا تھا

    8 رمضان المبارک 454 ھ بمطابق 1062 ء کو 70 سال کی عمر میں طغرل بیگ کا انتقال ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے طغرل بیگ نے خراسان ، ایران اور عراق کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے ہاتھ سے سلجوقی اقتدار اور غلبہ کا کام مکمل کر چکے تھے۔

    جاری ہے…..

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

  • ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ
    یوں تو ہم سب پلاسٹک اور کاربن کے اخاراج کے خطرات سے آگاہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کی آلودگی کو کم کرنے پر کام بھی کیا جارہا ہے۔ تا ہم ماحول کو نقصان پہنچانے والی ایک چیز ایسی ہے جس سے ہم سب بے خبر ہیں۔ ماحول کے لیے نقصان دہ اس شے کا ہم بے دریغ استعمال کر رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی تیاری کے لیے قیمتی درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ وہ چیز ہے پیپر اور ٹشو پیپر ۔

    ۔ دراصل جب نوے کی دہائی میں کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی ۔ لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ اور ٹشو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش لاحق ہے۔۔ چلیں کچھ اعداد وشمار دے دوں کہ دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے کاغذ اور ٹشو پیپر کی اتنی زیادہ مانگ سے تباہی آ رہی ہے۔ دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔

    ۔ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے۔ چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔۔ ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا recycle گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں امریکا میں ٹوائلٹ پیپرز کے بے تحاشہ استعمال نے کینیڈا کے جنگلات کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کیونکہ امریکا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے لیے کینیڈا میں موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو سالانہ2 کروڑ 80 لاکھ کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے برابر کاربن جذب کرتے ہیں۔ تاہم امریکا میں ٹشوز کی بے تحاشہ مانگ کی وجہ سے ان جنگلات کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ 1996 سے اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے 20 فیصد صرف امریکا میں استعمال ہورہے ہیں، دوسری جانب امریکیوں کو نرم ملائم ٹشوز بھی درکار ہیں جن کے لیے ٹشوز بناتے ہوئے اس میں دیگر مٹیریل استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے ٹشو بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وجہ ایک ہی ہے نرم ٹشوز کی مانگ میں اضافہ۔

    ۔ امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا۔ ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔۔ ماہرین کے مطابق ٹشوز بناتے ہوئے اگر اس میں استعمال شدہ recycle مٹیریل کی آمیزش کی جائے تو یہ عمل درختوں کی کٹائی میں کمی کرے گا تاہم ایسے ٹشوز سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔۔درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں ہے ۔ پیپرز اور ٹشو پیپرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع اپنانے ہوں گے ورنہ ہماری زمین پر موجود تمام درخت ٹشو پیپرز میں بدل جائیں گے۔