Baaghi TV

Category: متفرق

  • 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی حجری آثار پرمشتمل مشہور سیاحتی مقام پر ایک چوٹی ملی ہے جہاں ماضی کے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لیوزین یونیورسٹی کی ارضیات داں، شارلوٹ پروڈ کا کہنا ہے کہ چارِن گھاٹی (کینویئن) میں ایک مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہےجہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ یوں یہ بہت نایاب جگہ ہے اور زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    ’یہاں مٹی اور گرد کے پرتیں ہیں جو یوریشیائی برِاعظم میں طویل عرصے کا موسمیاتی راز فاش کرتی ہیں اس عرصے میں یہاں کی زمین نے زمین، فضا اور سمندرکے موسمیاتی اتارچڑھاؤ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی یہ جگہ ایک طرح کا لِٹمس ٹیسٹ ہے جو بحرِآرکٹک میں میٹھے پانی کے بہاؤ، اور نمی والی ہواؤں کی خشکی تک منتقلی جیسے معاملات کا پورا احوال اس جگہ محفوظ ہے۔

    شارلوٹ نے اپنی تحقیق کمیونکیشنز ارتھ اینڈ اینوائرمنٹ میں شائع کی ہیں 80 میٹر طویل زمینی ٹکڑے پر پلائیوسین اور پلائسٹوسین دور کی کہانی لکھی ہے، ان میں پلائیوسین کا دور 50 لاکھ سال سے 26 لاکھ سال پرانا ہے اوراسی زمانے میں انسانی سرگرمیاں موسم پراثرانداز ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق سے ہم زمین پر آب و ہوا کی تبدیلی کا مستقبل بھی جان سکتے ہیں۔

    اس طرح پہلی مرتبہ وسط ایشیا کا آب و ہوا میں اہم کردارسامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہم سمندری تحقیق سے ہی اس عمل کو سمجھ رہے تھے اور یوں قازقستان کا یہ علاقہ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تحقیق سے قدیم موسمیاتی پس منظر کی نقشہ سازی کرنے میں بہت مدد ملے گی یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔

    چارِن گھاٹی کے سلسلے میں لگاتار مٹی کے انبارموجود ہیں اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہیں غائب نہیں۔ یہاں کی مٹی میں ماہرین نے مختلف معدنیات، عناصر اور آئسوٹوپس کا مطالعہ کیا ہے۔ قدیم مقناطیسی مطالعے اور یورینیئم ڈیٹنگ سے جمع شدہ ارضیاتی آثار کا ریکارڈ اور عمر معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ پانچ ملین سال میں یہاں کی خشکی بتدریج بڑھی ہے-

    جبکہ پلائیوسین کے ابتدائی عہد میں یہاں کی مٹی خاصہ پانی موجود تھا۔ تاہم بعد میں وسط طول البلد کی مغربی ہواؤں اور سائبیریا کے بلند دباؤ والے موسمیاتی سسٹم سے یہاں کئی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

    بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جگہ پر مزید تحقیق سے زمین کی موسمیاتی آب بیتی کے کئی راز کھلیں گے۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں ہاتھیوں کا ایک گروہ گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب چلے جا رہا ہے ہاتھیوں کے گشت کرتے اس جھنڈ نے پورے چین میں شہرت حاصل کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ہاتھیوں کے اس جھنڈ کو ژیانگ کے قصبے کے قریب چین میںایک جنگل میں سوتے ہوئے دیکھے گئے کیونکہ اس علاقے میں تیز بارشیں ہوئی تھیں اور ان بارشوں کی وجہ سے ان کے سفر کرنے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ہاتھی گذشتہ 15 ماہ سے سفر کر رہے ہیں اور اپنے مخصوص علاقے سے 500 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہیں۔

    ادھر چین کے حکام ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو بہت سے جنگلات، کھیتوں،شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    بی بی سی نے سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے غوالے سے بتایا کہ حکومت نے ان ہاتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں کو جنوب مغرب کی طرف جانے دینے کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    ماضی میں ان ہاتھیوں کا رخ موڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن لگتا ہے کہ اب یہ ہاتھی واپس اپنے علاقے کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبےمیں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔

    اس جھنڈ میں بچوں سمیت 15 ہاتھی ہیں یونان صوبے کے آگ بجھانے والے ادارے کے اہلکاروں کے مطابق ایک نر ہاتھی جھنڈ سے الگ ہو کر چار کلو میٹر دور موجود ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان جانوروں نے لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کھڑی فصلیں اپنی خوراک بنا لی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے راستے میں عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا اور کئی جگہوں پر گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اپنی سونڈیں ڈالیں۔

    یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہاتھیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑ کر سفر کیوں اختیار کیا ہے اور اس معاملے میں پوری دنیا نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی اب نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے اس سے پہلے ہاتھیوں نے کبھی اتنا طویل سفر طے نہیں کیا ہے۔

  • سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    رومانیہ: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ آج سے تقریباً ایک کروڑ سال پہلے زمین پرایک اتنی بڑی جھیل بھی تھی جس کا رقبہ موجودہ بحیرہ احمر زیادہ تھا۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان اس جھیل کو ’’پیراٹیتھیس سی میگا لیک‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جو غالباً زمین کی تاریخ میں سب سے بڑی جھیل رہی ہوگی۔

    تازہ تحقیق میں برازیل، روس، رومانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کے ماہرینِ ارضیات پر مشتمل ایک ٹیم نے پیراٹیتھیس (Paratethys) جھیل میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ارضیاتی شہادتیں یک جا کیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھیل کے رقبے میں کمی بیشی کا اندازہ لگایا جاسکے۔

    دو نئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کا قدیم جسم کس طرح شکل پایا اور آس پاس کی تبدیلیوں نے کس طرح ہاتھیوں ، جرافوں اور دیگر بڑے جانروں کو جنم دیا جو آج سیارے میں گھومتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیراٹیتھیس جھیل کے بارے میں ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں یہ ایک سمندر تھا جو ارضیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث باقی سمندر سے بتدریج الگ ہوگیا اور اس کے ارد گرد خشکی آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی کیمپس میں ساو پالو یونیورسٹی کے پیالو بحر سائنس دان ڈین پالکو اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں جمع کیے تمام شواہد کی روشنی میں انہیں معلوم ہوا کہ آج سے ایک کروڑ سال پہلے اس جھیل کا رقبہ سب سے زیادہ، یعنی 28 لاکھ مربع کلومیٹر تھا اور یہ (حالیہ زمانے کے) اٹلی میں ایلپس پہاڑی سلسلے سے لے کر وسط ایشیا میں قازقستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    یہ وہ خطہ ہے جو آج کے بحیرہ روم سے بڑا ہے ، وہ اس ہفتے سائنسی رپورٹس میں لکھتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں مزید تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس جھیل میں ایک بار 1.77 ملین مکعب کلومیٹر سے زیادہ پانی موجود تھا ، جو آج کے سب سے تازہ اور نمکین پانی کی جھیلوں کو ملا کر حجم کے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

    لیکن آب و ہوا میں ردوبدل کی وجہ سے اس جھیل نے کم سے کم چار مرتبہ اپنے 5 لاکھ سال کی زندگی میں کم سے کم چار مرتبہ سکڑنا شروع کیا اور اس سے پہلے پانی کی سطح 7 کروڑ 55 لاکھ سے 7.9 ملین سال پہلے کے درمیان 250 میٹر تک خشک گئی تھی نتیجتاً اس سے کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن گئیں جن کے درمیان وسیع اور خشک علاقہ موجود تھا۔ اس طرح پیراٹیتھیس جھیل کا خاتمہ ہوا۔

    اس سب سے بڑے واقعہ کے دوران ، اس جھیل نے اپنے پانی کا ایک تہائی پانی اور اس کی سطح کے دو تہائی حصے سے زیادہ کھو دیا اس نے جھیل کے وسطی طاس میں پانی کی نمکینی تہہ چھوڑی جو آج کے بحیرہ اسود کے خاکہ کو قریب سے مماثلت دیتی ہے ، اس میں تقریبا ایک تہائی نمک موجود ہے ، جو آج کے سمندر میں سمندری پانی کے برابر کی سطح پر ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بات اس لیے بھی معقول لگتی ہے کیونکہ پیراٹیتھیس جھیل کی جگہ سے کئی طرح کی سمندری جانوروں کے رکازات (فوسلز) ملے ہیں جن میں وہیل بھی شامل ہے بعد ازاں اس کے رقبے میں (ایک جھیل کی حیثیت سے) کمی بیشی ہوتی رہی جو آج سے ایک کروڑ سال پہلے سب سے زیادہ ہوگیا۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    اگر آج زمین پر موجود تمام جھیلوں کا پانی یکجا کرلیا جائے، تب بھی پیراٹیتھیس جھیل کا پانی اس سے بھی دس گنا زیادہ رہا ہوگا-

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • 1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    ہانگ کانگ: گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں لکڑی کی کرسی کی نیلامی 85 لاکھ ڈالر (تقریباً 130 کروڑ پاکستانی روپے) میں ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، اس بیش قیمت لکڑی کی کرسی کا تعلق 17 ویں صدی عیسوی کے چین سے ہے جسے چینی ’’منگ شاہی خاندان‘‘ کے کسی بادشاہ کےلیے بنایا گیا تھا۔

    یہ کرسی ہلکی پھلکی لیکن مضبوط لکڑی سے بنائی گئی ہے جبکہ اسے فولڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کی کرسیاں ’’چائنیز ژیاؤیی‘‘ بھی کہلاتی ہیں جو آج بھی بنائی جاتی ہیں اور مہنگے داموں میں فروخت ہوتی ہیں۔

    تاہم آج سے سیکڑوں سال پہلے کے چینی بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد جب شکار پر جاتے تھے تو اسی قسم کی کرسیاں ان کے سامان میں لازماً شامل ہوتی تھیں چائنیز ژیاؤیی پر کندہ کاری کا باریک اور انتہائی نفیس کام کیا جاتا تھا شکار گاہ میں پہنچنے کے بعد یہ کرسیاں کھول دی جاتی تھیں مگر اِن پر صرف اور صرف بادشاہ یا شاہی خاندان کے افراد ہی بیٹھ سکتے تھے-

    اسی بناء پر یہ ’’شاہی شکاری کرسی‘‘ بھی کہلاتی تھی جسے شاہی خاندان سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بیجنگ کے عجائب گھر سے دسمبر 2018 میں ایسی ہی ایک اور شاہی شکاری کرسی تقریباً 40 لاکھ ڈالر (تقریباً 62 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوئی تھی لیکن ہانگ کانگ کے ’’کرسٹیز‘‘ نیلام گھر سے چائنیز ژیاؤیی کی حالیہ نیلامی نے سابقہ ریکارڈ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے دبا خردبینی جرثومہ پھر سے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : روس میں فزیوکیمیکل اینڈ بائیلوجی پرابلمز کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق برف میں ہزاروں سال سے دبا خوردبیبی جرثومہ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    جیسے ہی سائنس دانوں نے مستقل برف (پرمافروسٹ) میں دبے اس کثیرخلوی لیکن خردبینی جان دار کو برف سے الگ کیا تو وہ زندہ ہوگیا اور نسل بڑھانے لگا سائنسدانوں کے مطابق اس سے ہم برف میں خلوی تباہ کاری سے بچنے کی نئی راہ تلاش کرسکتے ہیں اور اس سے ہم انسان بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    اس ادارے سے وابستہ حیاتیات داں اسٹاس مالاوِن کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق مشکل سے ملنے والا ثبوت پیش کرتی ہے کہ کس طرح کثیرخلوی جاندار سیکڑوں ہزاروں سال برف میں موت جیسی خوابیدگی کے باوجود زندہ رہتے ہیں اور ان میں استحالے (میٹابولزم) کا پورا نظام بھی شروع ہوجاتا ہے۔

    ’روٹیفائر‘ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    اس جاندار کا نام ’روٹیفائر‘ ہے جو پوری دنیا کے تالاب اور جوہڑوں میں عام پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کی یہ خاصیت سامنے آچکی تھی لیکن ہزاروں برس تک ان کے زندہ رہنے کے ثبوت پہلی مرتبہ ملے ہیں زیرِ تجربہ جان دار آرکٹک پرمافراسٹ سے ملا ہے جہاں پہلے ہی قدیم خرد نامے مل چکے ہیں، جن میں وائرس، پودے اور زردانے بھی شامل ہیں۔

    جس جگہ سے یہ روٹیفائر ملا ہے وہاں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جانور کم سے کم 24 ہزار سال قدیم ہے۔ زندہ ہونے کے بعد اس جانور نے غیرجنسی کلوننگ سے اپنی نسل بھی بڑھانی شروع کردی جسے ’پارتھینوجنیسس‘ کہا جاتا ہے۔

  • چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین ابھرتی ہوئی طاقت نہیں بلکہ ایک قوت، تحریر، نوید شیخ

    چین اب ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا۔ بلکہ یہ ایک قوت بن چکا ہے جو کئی طریقوں سے امریکہ کو تمام معاملوں میں ٹکر دے رہا ہے۔

    ۔ تین چار چیزیں ایسی ہیں جو امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں میں چین کے خطرے کو بھانپتے ہوئے کی گئیں ہیں ۔ اور منظر کافی واضح ہو گیا ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک تو ابھی کی خبر ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت اور عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ نے اسٹریٹجک مسابقتی ایکٹ
    2021 امریکی سینیٹ میں پیش کردیا ہے ۔ اب اس بل کے تحت اگلے چار سال تک ہر سال 300 ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
    ایکٹ میں معیشت، ٹیکنالوجی، سیکورٹی سمیت متعدد شعبوں میں چین کو امریکا کا اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک پورے ایشیا بحرالکاہل میں نیوی گیشن اور تجارتی آزادی کے لیے بِلا روک ٹوک رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب اس بل سے چند روز قبل ہی جوبائیڈن کا ایک اور نیا حکم نامہ آیا تھا جو محسوس ہوتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے دور کا تسلسل ہے ۔ جس میں 31چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی تھی ۔ اب اس نئے حکم نامے کے بعد امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد 59 ہو گئی۔ ۔ پھر گزشتہ ہفتہ ہی جوبائیڈن نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ دیا ۔ جس کی مالیت 6ٹریلین ڈالرز تھی ۔ ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے اسے “انتہائی مہنگا” بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔۔ مگر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ بجٹ امریکی عوام میں براہ راست سرمایہ کاری ہے اور اس سے ہماری قوم کی معیشت مستحکم ہوگی اور طویل مدتی مالی صحت میں بہتری آئے گی۔

    ۔ دراصل امریکہ کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کہ وہ اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلا رہا ہے آخر عالمی تھانیداری قائم رکھنے کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔

    ۔ اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پینٹاگون کے لیے 1.5ٹریلین ڈالرز کی رقم مختص کی گئی۔ جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ڈبل ہے ۔ ۔ اب اگر عالمی فوجی اخراجات کو دیکھا جائے تو اس میں امریکا کا حصہ تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ امریکا نے 2020ء میں فوجی مقاصد کے لیے 2019ء کے مقابلے میں 4.4 فیصد زیادہ رقوم خرچ کیں اور ان کی مالیت 778 بلین ڈالر رہی ۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جس تیزی سے امریکہ اسلحہ کی تیاری میں لگاہوا ہے یا جس طرح امریکہ دفاع پر پیسے خرچ کر رہا ہے اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی جا رہی ہے ۔ جیسے کوئی بڑی جنگ ہونے والی ہے ۔ جس کی امریکہ نے پہلےہی تیاری شروع کر دی ہے ۔

    ۔ کیونکہ یہ صرف جوبائیڈن ہی نہیں ان سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجی اخراجات میں مسلسل تین سال تک اضافہ ہی ہوتا رہا۔
    حالانکہ اس سے قبل جب باراک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ تو ان کی صدارت کے مجموعی طور پر آٹھ سالہ دور میں امریکی فوجی بجٹ سات سال تک مسلسل کم ہوتا رہا تھا۔

    ۔ تو لوگوں کا یہ سوال کرنا بجا دیکھائی دے رہا ہے کہ کچھ تو ہے جو امریکہ اب خوب دفاع پر پیسہ لگا رہا ہے ۔ جبکہ آپ دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہر جگہ مسائل ہی مسائل دیکھائی دیتی ہے ۔ اور امریکہ بہادر مشرق وسطی سے لے کر فارایسٹ ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، افریقہ اور پھریورپ تک میں مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ عالمی منظر نامے پر کہیں چین امریکہ کے سامنے کھڑا ہے تو کہیں روس اس کو آنکھیں دیکھا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ اگر غور کریں تو دنیا بھر میں اب علاقائی طاقتیں امریکی اتھارٹی کو چیلنج کرتے دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ۔ پر ایسا نہیں کہ امریکہ کو یہ سب معلوم نہیں ہے ۔ امریکہ کو بدلتے ہوئے حالات دیکھائی بھی دے رہے ہیں اور وہ اپنی پوری کوششوں میں بھی لگا ہوا ہے کہ کسی طرح یہ دنیا
    unipolar
    ہی رہے اور
    multi polar
    نہ بنے ۔

    ۔ آپ دیکھیں جیسے جیسے امریکہ کرونا سے
    recover
    کررہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنا اصل رنگ و روپ دیکھانے لگا ہے ۔ ابھی اس کا حالیہ منظر دنیا اسرائیل اور فلسطین والے معاملے میں دنیا دیکھ چکی ہے ۔ اب آنے دنوں میں بھارت کو مکمل طور پر چین کے سامنے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے جو بھارت کے ہمسایہ ممالک ہیں ان پر امریکہ اپنا اثر رسوخ جماتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ۔ چاہے پھر وہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا سری لنکا ۔ ان سب کو امریکہ نے اپنی
    stick
    دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ جبکہ
    carrot
    وہ اب صرف بھارت کو ہی دے رہا ہے ۔

    ۔ ابھی فی الحال سفارتی محاذ پر چین کو امریکہ ہر جگہ
    engage
    کرنے کی کوششوں میں ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ جلد کوئی
    diaster
    رونما ہوجائے ۔ کیونکہ حادثے رونما ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔

    ۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں چین بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھا ہوا ہے ۔ جس طرح امریکہ چین پر وار کر رہا ہے اب چین کی زبان میں بھی تلخی آنا شروع ہوچکی ہے ۔ ابھی حالیہ جوبائیڈن کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر چین نے سخت موقف اپنایا کہ امریکا کو نہ ہی سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق سنجیدہ سائنسی تحقیقات میں دلچسپی ہے۔

    ۔ یہاں تک کہ امریکہ کی تحقیقات کے جواب میں الٹا چینی وزارت خارجہ نے میری لینڈ میں واقع امریکی تحقیقاتی لیب میں وائرس بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ
    Fort Detrick
    تجربہ گاہ سمیت پوری دنیا میں موجود امریکا کی
    200
    سے زیادہ لیبز میں ایسے کونسے خفیہ راز پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے امریکا پوری دنیا کو جواب دہ ہے۔

    ۔ اب جب سے جوبائیڈن نے انکوئری والا اعلان کیا ہے ۔ حالیہ ہفتوں میں دنیا میں اس پراپیگنڈہ کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔

    ۔ دوسرا امریکہ کواڈ گروپ کو چین کے خلاف بطور ہیتھیار استعمال کرنے کے چکروں میں ہے جبکہ اس کواڈ گروپ کی وجہ سے چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کشیدگی کی جانب گامزن ہیں ۔

    ۔ straits of malacka
    کے حوالے سے تفصیلی وی لاگز میں کر چکا ہوں ۔ بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں بھی چین کے مشکات پیدا کرنے کی مکمل تیاری ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان پر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کافی پریشر کو بڑھایا جارہا ہے ۔ اس کی ایک کڑی تو یہ ہے کہ ابھی تک امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے باضابطہ کوئی بات نہیں کی ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے روایت تھی کہ جو بھی امریکہ صدر ہوتا وہ ٹیلی فون پر کم ازکم اپنے اتحادی سے بات کرتا تھا ۔

    ۔ جہاں امریکہ خطے میں اپنے نئے اتحادی تلاش کررہا ہے تودوسری جانب چین ایشیاء میں
    strong
    معاشی سٹریٹیجک پارٹنرشپ قائم کررہا ہے ۔ سی پیک میں چین ایران اورافغانستان کو شامل کرنا چاہتاہے ۔

    ۔ اگر آپ معاشی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق قوت خرید کے اعتبار سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ جبکہ
    nominal GDP
    کے اعتبار سے دیکھیں تو چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن دوسری بڑی ہونے کے باوجود بھی چین اور امریکی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا فرق ہے۔ حالانکہ امریکہ میں یہی جی ڈی پی صرف پنتیس کروڑ آبادی کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ چین کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے قریب ترین اگر کسی ملک کی معیشت ہے تو وہ چین ہی ہے اور اگر کوئی ملک یہ فرق تیزی سے کم کرتا جا رہا ہے تو وہ بھی چین ہی ہے۔ کیونکہ دیکھائی دے رہا مزید چند سالوں کی بات ہے کہ چین امریکہ کو پچھاڑ دے گا ۔

    ۔ کیونکہ ایک طرح سے دیکھیں تو چین امریکہ سے بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے جو اپنے جی ڈی پی کا 97 فیصد قرضے کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ چین اپنے جی ڈی پی کا صرف تیرہ فیصد بیرونی قرض کی مد میں ادا کرتا ہے۔ چین کے پاس foreign reserves3.3 ٹرلین ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

    ۔ چین کا دفاعی بجٹ دو سو پندرہ ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے مقابلے بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود چین امریکی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں اپنے ہتھیاروں کو اپنی صلاحیت سے تیار کرتا ہے۔

    ۔ چین کے نئے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ اور اس منصوبے سے جڑے سی پیک جیسے دوسرے پراجیکٹس نے امریکہ کے سپرپاور سٹیٹس کیلئے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ چین ایسا تاثر نہیں دیتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو چین کی معاشی اور دفاعی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گا۔ کیونکہ اس منصوبے کی حفاظت کیلئے چین کو عالمی طور فوجی اڈوں کا جال بچھانا پڑے گا جس کی ایک مثال افریقہ ملک جبوتی میں چین کا پہلا فوجی اڈا ہے۔ ایسا ہی وہ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا ، میانمار ، پاکستان اور ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے ۔

    ۔ سیاسی لحاظ سے دیکھیں تو چین اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور عالمی سطح بڑا فیصلہ چین کی مرضی کے بغیر پاس نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے اپنے شمالی اور مغربی ہمسایوں سے اچھے تعلقات اس کی طاقت ہیں۔ جبکہ جنوب میں بھارت سے خراب تعلقات اور مشرقی سمندر میں جزائر کی ملکیت پر کئی ممالک سے تنازعات چین کی کمزوری ہیں۔ لیکن چین اپنی فوجی اور معاشی طاقت سے سمندر میں نئے جزائر اور فوجی اڈے بنا رہا ہے۔ یہ ہی وہ چیزیں ہیں جو امریکہ کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں ۔
    ۔ دراصل امریکہ اس وقت دنیا میں say کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے اور اپنے پرانے کردار کو بحال کروانے کے لیے وہ تڑیاں بھی لگا رہا ہے ۔ دھونس بھی استعمال کر رہا ہے اور پریشر بھی بڑھا رہا ہے ۔ پر دیکھتے ہیں کہ امریکہ اپنا پرانا وقار اور قد کاٹھ بحال کروا پاتا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ چین ، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کی شکل میں اس وقت کئی قوتیں امریکہ کے ساتھ سینگ پھسانے کو تیار دیکھائی دیتی ہیں ۔

  • افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل ایک مرتبہ پھر انتہائی غیریقینی صورت حال سے دوچار نظرآتاہے۔ بین الافغان مذاکرات پچھلے دومہینوں سے تعطل کاشکار ہیں جس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ فریقین کے درمیان پرتشدد کاروائیوں میں بے پنا اضافہ ہورہا ہے ۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو مارنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ طالبان نے توحالیہ ہفتوں کے دوران اپنی کاروائیوں میں اتنی شدت لائی ہے کہ ملک کے کئی صوبوں میں انہوں نے زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

    ۔ دیکھا جائے توپچھلے بیس برسوں کے دوران افغانستان پہلی مرتبہ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک افغان باڈر پر باڑ مکمل کر لی جائے گی ۔ کیونکہ افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ۔ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

    ۔ اس سے پہلے پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

    ۔ دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    ۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ عیارامریکہ کوافغان حکومت اورنہ ہی طالبان عزیز ہیں بلکہ اپنے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں ۔ کیونکہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی اس لیے امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کردی ہے ۔

    ۔ افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔

    ۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پر دی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پر بات ہونا تھی اور امن کے لیے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے استنبول نہ جانے کا اعلان کیا۔

    ۔ بائیڈن کے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد طالبان قیادت نے فیصلہ کیا کہ مکمل فوجی انخلا تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ تھی کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل پر قبضہ مشکل نہیں ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اب نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

    ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

    ۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔

    ۔ افغان فورسز کو اب تک امریکی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی جو طالبان کو پیش قدمی سے روکے ہوئے تھی۔
    11
    ستمبر کو جب انخلا مکمل ہوجائے گا تو یہ مدد بھی ختم ہوجائے گی جبکہ افغان فضائیہ کا امریکی اور نیٹو مددگاروں کے بغیر قابل پرواز رہنا بھی محال نظر آتا ہے۔

    ۔ ایسی صورتحال میں افغان فوجیوں کا وفاداری بدلنا اور جنگی سرداروں یا طالبان کی اطاعت قبول کرنا ممکنہ منظرناموں میں شامل ہے۔

    ۔ امریکا فوجیوں کے انخلا کا
    44
    فیصد عمل مکمل کر چکا ہے۔ دراصل جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

    ۔ افغانستان میں اہم ہوائی اڈے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوج اور رسد کا سب سے زیادہ دارومدار تھا وہ بھی خالی کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس دنوں تک بگرام بیس افغان فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔

    ۔ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔

    ۔ اسکے بعد نظر آرہا ہے کہ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کریں اور کابل کی طرف دبائو بڑھائیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اندرونی اور سرحدوں پر سیکورٹی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے ۔ اور ہماری معیشت تو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

    ۔ حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

    ۔ افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔ اسی لیے طالبان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔ اب وہ فرنٹ فٹ پر نظر آتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت افغانستان میں
    30
    فیصد سے زیادہ علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ افغان حکومت کا عمل دخل
    40/45
    فیصد علاقے تک محدود ہے۔

    ۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس وقت اشرف غنی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ وہ مغربی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں ہیں امریکیوں کے نکلتے ہی اگلے دن کابل حکومت گِرے نہ لیکن آخر کارہونی تو ہو کر رہے گی۔

    ۔ اس وقت مغربی افواج کی مدد کرنے والے بہت سے افغانی مغربی ویزوں کے متلاشی نظر آتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کوطالبان حکومت سے بچا کر یورپ اور امریکا میں آباد کر سکیں۔

    ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

    ۔ اس لیے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

    ۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی گزشتہ تاریخ دہرانے کا ارادہ کیا ہے جس کے بعد افغانستان میں خون خرابے کا بازار گرم ہواتھا۔

    ۔ اس بار پھر امریکہ افغانستان کو آگ میں جھونک کرجارہا ہے اور یہ ایسے وقت اور حالات میں کیا جارہا ہے کہ نہ تو امن معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل ہورہا ہے اور نہ حالات میں بہتری کی کوئی کرن نظر آرہی ہے۔

    ۔ کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

    ۔ کابل انتظامیہ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

    ۔ دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔

    ۔ اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔

    ۔ کیونکہ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد جاپان اور بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی، کابل کی موجودہ انتظامیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی اور فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا اور امریکا خطے میں نئے چار فریقی اتحاد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

    ۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کو بہت سوچ سمجھ اور غیر معمولی مہارت سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ دور اندیش قیادت ایسے ہی موقعوں پر بہترین فیصلے کرکے قومی قیادت کی اہل کہلا سکتی ہے۔ چیلنجز بہت ہیں۔خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں،خدا کرے پاکستان سُر خرو ہو۔

  • خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    جنوبی افریقا : خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا کی رہائشی 37 سالہ سیتھول نامی خاتون نے بیک وقت 10 بچوں کو جنم دیا جن میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔

    ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام بچے زندہ ہیں مگر قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے اُن کا وزن کم ہے تاہم ان کی صحت خطرے سے باہر ہے –

    ڈاکٹر کے مطابق ان بچوں کو چند ماہ کے لیے انکیبیوٹر پر رکھا جائے گا تاکہ وہ صحت مند ہوسکیں-

    اگر افریقی خاتون کے بچے زندہ بچ گئے تو وہ ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل افریقی ملک مالی کی 25 سالہ خاتون حلیمہ سیسی نے 5 مئی کو افریقی ملک مراکش میں بیک وقت 9 بچوں کو جنم دیا تھا، ان کے ہاں 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوئی تھیں جبکہ ان سے قبل 2009 میں امریکی خاتون نادیہ سلیمان کے ہاں پیدا ہونے والے 8 ہی بچے زندہ ہیں۔

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات،تحریر : سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • 5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    کمبوڈیا میں 5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرکے ہزاروں انسانی جانیں بچانے والا ’ہیروچوہا‘ اس سال اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کےمطابق کمبوڈیا نے 5 سال قبل میگاوانامی اس چوہے کی خدمات بیلجیم کے ایک فلاحی ادارے APOPO سے حاصل کی تھی۔ یہ ادارہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے چوہوں کو بارودی سرنگوں اور بموں کی شناخت کرنے کی تربیت دیتا ہے۔

    اپنی پانچ سالہ ملازمت میں میگاوا نے2 لاکھ 25 ہزار اسکوائر میٹر سے زائد رقبے کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا، 31 فٹ بال کے میدانوں جتنے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور 38 ایسے دھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکے، میگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سے ادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کا فریضہ سر انجام دیا۔

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا۔

    میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    یہ ایوارڈ یا گولڈ میڈل برطانیہ کی جانوروں کی بہبود کی بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیم پیپلز ڈسپینسری برائے سِک اینیملز (PDSA) نے زمین کے نیچے چھپائی گئی بارودی سرنگوں کو سونگھ کر انہیں امدادی ورکروں کے ہاتھوں تلف کرنے پر بھی دیا گیاتھا-

    میگاوتی چوہے کی عمر آٹھ سال ہے اور اس کو بارودی سُرنگ کی بُو سُونگھنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ اب یہ بہادر اور ذہین چوہا اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہے اور اس کو خطرناک بارود کو تلاش کرنے کی ڈیوٹی سے جلد فارغ کر دیا جائے گا کیونکہ اب میگاوا اپنے فرائض سے سبکدوش ہوکر بقیہ زندگی چین و سکون سے گزارنا چاہتا ہے۔