Baaghi TV

Category: متفرق

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات       بقلم :شمائلہ تنویر

    چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات بقلم :شمائلہ تنویر

    آؤ بچو سنو کہانی
    میں چیونٹیوں سے متعلق معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔

    بچپن میں ہم نے ایک سبق پڑھا تھا قطار بنائیں
    اس میں چیونٹیوں کے ٹیم ورک اور منظم ہو کر قطار بنانے کا ذکر تھا ، اور بھر کسی اور کتاب کے مطالعہ کے دوران معلومات میں اور اضافہ ہوا کہ جب چیونٹیوں کےکام کے دوران کوئی ایسا دشوار راستہ آ جائے تو ٹیم کی راہنمائی کرنے والی سردار چیونٹی انھیں خطرے کا سگنل دیتی ہےاور بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہوئے ایک پل بنا لیتی ہیں اور ساتھی چیونٹیاں ان کے اوپر سے گزر کر دشوار راستہ عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان تمام معلومات سے ہمیں نظم و ضبط ، محنت اور ٹیم ورک یعنی مل جل کر کام کرنے کا درس ملتا ہے
    میرے بچو!

    معلومات میں تھوڑا اور اضافہ کرتے ہیں
    سائنس دانوں نے
    دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد!ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا…

    اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے،

    اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں….
    زرا غور کیجئے قرآن مجید میں باربار ان تمام مشاہدات پر غور وفکر کا حکم دیا گیا ہے۔
    سوچنے کی بات..!
    ان سب کو یہ کس نے سکھایا…؟
    یقیناً ہمارے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے۔ میرے پیارے بچو یہ دعا کیجئے اے رب ہمارے علم میں اضافہ فرما، ہر وقت علم میں اضافہ کی دعا کیجئے اور اس ذات پاک کی پاکی بیان کیجیے….
    سبحان الله وَ بِحَمدہ
    سبحان اللہ العظیم…
    دعاؤں کی طالب
    شمائلہ تنویر

  • کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    سائنس دانوں نے کائی کوفوڈ سپلیمنٹ میں استعمال کرنے کے بعد اس کا ایک اور ماحولیاتی استعمال تلاش کرلیا ہے جی ہاں اب کئی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :سائنس جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نیدر لینڈ کی یونیورسٹی آف راکیسٹر کے محقیقین کائی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل ریسرچر سری کانتھ بالا سبرا مینیئن کا کہنا ہے کہ کائی سے بنے لباس مستقبل میں فیشن کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سہہ جہتی پرنٹنگ جاندار فنکشنل مادوں کی بناوٹ کے لیےایک طاقت ور ٹیکنالوجی ہے اور اس جان دار مادے کے ماحولیاتی اور انسانوں کے لیے بننے والی ایپلی کیشنز کے لیے بہت امکانات ہیں۔

    اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے-

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے کائی کو فوٹو سینتھیسز مادے میں پرنٹ کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر اور نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک استعمال کی۔

    فوٹو سینتھیسز مادے کو تخلیق کرنےکے لیے ہم نے بے جان بیکٹریل سیلولوز(پو دوں کے خلیوں کی دیواروں میں موجود نشاستہ) سے آغاز کیا بیکڑیل سیلولوز ایک نامیاتی مادہ ہے جو کہ بیکٹریا کی جانب سے پیدا اور خارج کیا جاتا ہے، بیکٹریل سیلولوز میں لچک، سختی، مظبوطی اور اپنی شکل میں رہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بیکٹریل سیلولوز کو بطور کپڑا اورخرد بینی کائی ( مائیکرو الجی) کو بطور روشنائی استعمال کیا اور پرنٹنگ کے لیے نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جاندار کائی کو بیکٹریل سیلولوز پر پرنٹ کیا۔

    خورد بینی کائی اور بے جان بیکٹیریل سیلولوز کے ملاپ کے نتیجے میں ایک ایسا انوکھا مادہ بنا جو کہ کائی کا فوٹو سینتھیسز معیاراور بیکٹریل سیلولوز کی مظبوطی رکھتا ہے، یہ مادہ سخت، لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست، بایو گریڈایبل اور بنانے میں سادہ ہے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ کائی سے بننے والے کپڑوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی آئے گی جبکہ اسے عام کپڑوں کی طرح بار بار دھونے کی ضرورت بھی نہیں پیش آئے گی جس سے پانی کی بچت بھی ہوگی۔

    یاد رہے کہ کائی کے کپڑے بنانےکے لیے ماضی میں بھی کئی تجربات کیے جاچکے ہیں تاہم ان کی کپڑوں کی پائیداری کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

  • گرم لاوے پر پکایا جانے والا  آتش فشانی پیزا

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    گوئٹےمالا: ڈیوڈ گارسیا نامی شیف 1,000 ڈگری سینٹی گریڈ جتنے شدید گرم لاوے پر پیزا بناتا ہے جو سوشل میڈیا پر ’آتش فشانی پیزا‘ اور ’لاوا پیزا‘ جیسے ناموں سے بھی مشہور ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق وسطی امریکی ملک گوئٹے مالا میں آتش فشاں ’پاکایا‘ اس سال فروری سے اُبل رہا ہے جس کی وجہ سے آس پاس رہنے والے لوگ شدید خوفزدہ ہیں لیکن ڈیوڈ گارسیا نامی ایک مقامی اکاؤنٹنٹ اور شوقیہ باورچی نے اسی گرم اور پگھلے ہوئے لاوے کو اپنا باورچی خانہ بنا لیا اور وہاں پیزا پکانا شروع کردیا۔

    اس پرخطر ماحول میں پیزا پکانا اپنے آپ میں جان جوکھم کا کام ہے تاہم اسی وجہ سے گارسیا کا ’لاوا پیزا‘ یا ’آتش فشانی‘ پیزا مشہور بھی ہے –

    گرم اور پگھلے ہوئے آتش فشانی لاوے پر پیزا پکانے کےلیے گارسیا نے عارضی میز کے علاوہ خصوصی کپڑوں، جوتوں اور برتنوں تک کا انتظام کیا ہوا ہے جو شدید گرمی برداشت کرسکتے ہیں۔

    تازہ پیزا پکانے کےلیے وہ آتش فشاں کے قریب ہی پیڑے بناتے ہیں اور انہیں خاص ٹرے میں پھیلا کر گرم سرخ لاوے پر جمی راکھ میں دس سے پندرہ منٹ کےلیے رکھ دیتے ہیں۔

    تیار ہوجانے کے بعد وہ مقامی گاہکوں اور سیاحوں کو گرما گرم پیزا بھی وہیں پیش کرتے ہیں ویسے تو اس پیزا کا باقاعدہ نام ’’پاکایا پیزا‘‘ ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ ’لاوا پیزا‘ اور ’وولکینک پیزا‘ (آتش فشانی پیزا) جیسے ناموں سے مشہور ہورہا ہے۔

  • صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے ماہرین نے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت کر لیں-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق ننگر پارکر سے ملنے والی جین مت کی 700 سال پرانی دو مورتیوں کو ’کیمیکل پراسیس‘ کے ذریعے محفوظ بنانے کے فیصلے کے بعد ان سمیت چھ دیگر مورتیوں کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے قدیم شہر ننگر پارکر میں نصف درجن کے قریب جین مندر خستہ حالت میں موجود ہیں، جن کی بحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ اور سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ذمہ ہے۔

    ننگر پارکر کی ایک طرف رن آف کچھ ہے تو دوسری طرف انڈیا کی ریاست گجرات۔ تقسیم سے قبل یہاں کے لوگوں کا انڈین ریاست گجرات سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تجارتی تعلق رہا ہے۔

    مگر ان مورتیوں کی حیدر آباد منتقلی پر تھر کی علمی و ادبی حلقوں نے اعتراض کیا ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مورتیوں کو ننگر پارکر میوزیم میں رکھا جائے۔

    اس پر محکمہ آثار قدیمہ کے ڈی جی منظور قناصرو نے غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک تو ان مورتیوں کی مرمت کرنی ہے، دوسرا اس وقت ننگر پارکر میں سٹاف نہیں۔ ’جیسے ہی وہاں سٹاف کی تعیناتی ہو گی، مورتیاں منتقل کردی جائیں گی۔‘

    ننگرپارکر شہر میں واقع قدیم جین مندر کی بحالی کے کام کے دوران وہاں سے پانچ مورتیاں برآمد ہوئی تھیں۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز سے منسلک مندر کی بحالی میں شریک ایک ماہرکے مطابق بحالی کے دوران کھدائی کی گئی تو گربھاگرہ یعنی زیر زمین عبادت کے کمرے کا سراغ لگا، جس کا راستہ پتھر لگا کر بند کیا گیا تھا اسے ہٹا کر وہ جب اندر داخل ہوئے تو دو فٹ کی سفید ماربل کی مورتی ملی جو جین مذہب کے اوتار مہاویر کی ہے۔

    اس ماہر کے مطابق مندر کے ساتھ جو گئوشالہ ہے وہاں کھدائی کے دوران مزید پانچ مورتیاں ملیں، جو گولڈن سینڈ سٹون کی بنی ہوئی ہیں اور دس انچ سے لے کر دو فٹ کے قریب اونچی ہیں۔ یہ بھی مہاویر کی ہیں۔

    ننگرپاکر شہر میں واقع مندر کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے 13ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مہاویر مندر تھا اور اسی کی پوجا کی جاتی تھی۔

    یاد رہے کہ مہاویر یا مہاویرا جین دھرم کے چوبیسویوں اور آخری تیرتھانکر (گروؤں کا سلسلہ) ہیں، جن کی پیدائش چھٹی عیسوی میں بہار میں ہوئی تھی۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ جین دھرم کے لوگوں نے جب یہاں سے نقل مکانی کی تو اس سے قبل زیر زمین عبادت کے کمرے میں مہاویر کی مورتی رکھ کر دروازے کو بند کردیا ہو گا کیونکہ مندر کی یہی مرکزی مورتی ہے۔

    ان کا خیال ہو گا کہ یہ یہاں محفوظ ہو گی اور جب صورتحال بہتر ہو گی اور وہ واپس آئیں گے تو اپنی اصل جگہ پر لگا سکیں گے۔

    ننگرپارکر اور اس کے آس پاس میں بھوڈیسر، ویراہ واہ میں جین دھرم کے کئی مندر ہیں، جن میں پتھر اور ماربل کا کام کیا گیا ہے۔ بعض کے اندر کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں تاہم کسی بھی مندر کے اندر مورت موجود نہیں۔

    ایک قدیم مندر ویرا واہ شہر میں بھی واقع ہے سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کے مطابق یہ جین مندر شانتی ناتھا سے منسوب ہے، جو جین دھرم کی چھٹے تیرتھانکر تھے۔ ان کی پیدائش موجودہ میرٹھ شہر کے قریب شہر میں ہوئی تھی۔

    اس ماہر کے مطابق سنہ 1971 کی جنگ میں یہ علاقہ انڈین فوج کے قبضے میں رہا اور وہ یہ مورتی اپنے ساتھ لے گئے جو اس وقت ممبئی میوزیم میں موجود ہے۔

    جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار ماحول دوست تصور کیے جاتے تھے۔

    ننگر پارکر کے رہائشی اللہ نواز کھوسو ان لوگوں میں تھے جنھوں نے جین دھرم والوں کو یہاں دیکھا تھا۔ ان کا چند برس قبل انتقال ہوا۔

    انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جینی لوگ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ وہ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور سورج غروب ہونے سے قبل ہی کھانا کھا لیتے تھے۔

    وہ گھروں میں بتی یا دِیا روشن نہیں کرتے تاکہ کیڑے مکوڑے اس سے جل کر ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔

    اللہ نواز کھوسو کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی نے جینی لوگوں کو آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ پاکستان بننے کے سال میں وہ اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے چلے گئے۔ باقی جو چند خاندان موجود تھے وہ بھی 1971 میں چلے گئے۔

    حکمہ نوادرات کے سابق سیکریٹری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ننگر پارکر اور پاری نگر جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہےاسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر تیرھویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کرائے۔

    ’موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

  • گیارہ سو سال پُرانی نظم شئیر کرنے پر چینی کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    گیارہ سو سال پُرانی نظم شئیر کرنے پر چینی کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    بیجنگ: متنازعہ نظم شیئر کرنے سے چینی کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق چین میں غذائی اشیا تقسیم کرنے والی مشہور کمپنی مائی توان کے سی ای او، وینگ چِنگ نے گیارہ سو سال قبل لکھی گئی ایک نظم چینی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تاہم ایک دن بعد ڈیلیٹ بھی کردی تھی-

    لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ چینی حکومت نے اس نظم کو اپنے خلاف قرار دیا اس کے بعد حکومت نے کمپنی کی بعض بے ضابطگیوں کو نوٹس لیا جو ایک نقصان دہ کریک ڈاؤن تھا۔

    پیر کے روز کمپنی کے حصص 5.3 فیصد گرگئے بلکہ اگلے روز یہ شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی اس طرح کمپنی کو کم سے کم ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    وینگ نے اپنی پوسٹ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فین فاؤ پر پوسٹ کی تھی جو بعد میں ہٹادی گئی انہوں نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ اپنی نظم سے ای کامرس صنعت کے درمیان سخت مسابقت اور خطرناک حریفوں کا حوالہ دے رہے تھے نہ کہ ان کا نشانہ سرکار تھی۔

    وینگ نے چند اشعار پر مبنی کلاسیکی نظم منتخب کی تھی جو چینی بادشاہ چِن شائی ہوانگ کے عہد میں کتابوں کو جلانے پر اس کی خاموشی کےردِ عمل میں ایک گمنام شاعر نے لکھی تھی۔ اس عمل میں وینگ یہ بھول گئے کہ چینی حکومت اس وقت بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری اور من مانی پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اس ضمن میں انٹرنیٹ سینسر شپ بھی عروج پر ہے اس سے قبل علی بابا کمپنی پر ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ارب 80 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بھی ہوچکا ہے۔

    واضح رہے کہ چِن شائی شہنشاہ جدید اور متحدہ چین کے بانی بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن وہ اپنی ذات میں بہت سخت اور آمرانہ مزاج کا حامل بھی تھا۔

  • راتوں رات سُپر ماڈل بننے والا نائجیریا کا بے گھر نوجوان

    راتوں رات سُپر ماڈل بننے والا نائجیریا کا بے گھر نوجوان

    لاگوس: قسمت ہوئی مہربان بے گھر نوجوان راتوں رات سُپر ماڈل بن گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائجیریا کا ابھرتا ہوا ماڈل ’علی اولاکومنی‘ آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے تک ایک بے گھر نوجوان تھا جو دن بھر میں چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتا تھا اور تھک ہار کر جہاں جگہ ملتی، وہیں سو جاتا۔

    اپریل کی ابتداء میں لاگوس کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ایفولابی، المعروف ’اے ایل‘ نامی کری ایٹیو ڈائریکٹر اوسون اسٹیٹ میں ایک پل کے نیچے اپنے تمام عملے سمیت موجود تھا۔

    یہ جگہ اس نے ایک تازہ فوٹو شوٹ کےلیے منتخب کی تھی لیکن جس ماڈل کو اس فوٹو شوٹ میں کام کرنا تھا، وہ کسی وجہ سے لوکیشن پر نہیں پہنچ سکا۔

    تیاری مکمل ہونے کی وجہ سے ایفولابی وہ فوٹو شوٹ کسی صورت میں منسوخ کرنا نہیں چاہتا تھا لہذا اس نے پل کے نیچے ہی چکر لگانا شروع کردیا۔

    کچھ دوری پر اسے پل کے نیچے سوتے ہوئے کچھ لوگ دکھائی دیئے جن میں سے ایک کا حلیہ اسے مطلوبہ ماڈل کے حساب سے موزوں ترین لگا ایفولابی نے فوراً اسے جگایا اور فوٹو شوٹ میں کام کرنے کی پیشکش کر ڈالی۔

    علی اولاکومنی نامی یہ نوجوان پہلے تو بوکھلایا لیکن جلد ہی سنبھل گیا اور اس نے ایفولابی کی پیشکش قبول کرلی اگلے ایک گھنٹے میں ماڈل کے کپڑے علی کو پہنائے گئے جو حیرت انگیز طور پر بالکل فٹ آئے۔ فوٹو شوٹ شروع ہوا اور کامیابی سے مکمل ہوگیا۔


    اگلے روز ایفولابی نے یہ واقعہ، تصاویر سمیت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کردیا ساتھ ہی اس نے علی کےلیے ایک علیحدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بنوادیا، جس کے فالوورز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔


    اسی اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے مختصر ویڈیو بھی شیئر کروا دی ہے جس کے پہلے حصے میں ’علی‘ کو پل کے نیچے سوتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ یکایک اس کی کایا پلٹ ہوجاتی ہے
    https://twitter.com/OgaLandlord_/status/1379074424306028547?s=20
    واضح رہے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ارشد ’’چائے والا‘‘ اور دینا نیر مبین کے ساتھ ہوا تھا جو سوشل میڈیا کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ گئے تھے-

  • 3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    لندن: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں 78 ہزار سال پرانی 3 سالہ بچے کی قبر دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔


    معروف تحقیقی مجلے ’نیچر‘ کی رپورٹ کے مطابق قبر کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قبر بنائی گئی، اس کے بعد قبر کے فرش پر پودوں کی پتیاں اور نرم شاخیں بچھائی گئیں، پھر بچے کو ان پر لٹایا گیا اور اس پر غالباً کسی درخت کی نرم چھال رکھ کر قبر کو بند کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ جنس ’ہومو‘ (Homo) سے تعلق رکھنے والی مختلف انواع کی آٹھ لاکھ سال تک پرانی باقاعدہ قبریں دنیا بھر میں دریافت ہوچکی ہیں البتہ جدید انسان یعنی ’ہومو سیپیئنز‘ (Homo sapiens) کی قدیم ترین اور باقاعدہ قبر یہی ہے جو 78 ہزار سال پرانی ہے۔

    قبر سے ملنے والی لاش کو ماہرین نے ’مٹوٹو‘ (Mtoto) کا نام دیا ہے جو سواحلی زبان کا لفظ ہے اور جس کا مطلب ’بچہ‘ ہے۔


    یہ قبر 2013ء میں ’پنجہ یا سعیدی‘ غار کے تقریباً دہانے پر دریافت ہوئی تھی جو 3 فٹ گہری ہے اور اس میں سے کسی بچے کی نہایت بوسیدہ ہڈیاں بھی برآمد ہوئیں تاہم یہ ہڈیاں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا نہ جاسکا۔ یہ کام پوری احتیاط سے 2017ء میں انجام دیا گیا۔

    فوٹو بشکریہ نیچر
    یہ ہڈیاں مزید تجزیئے کےلیے اسپین میں واقع انسانی ارتقاء کے تحقیقی مرکز بھجوا دی گئیں جہاں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مزید تین سال تک تحقیق کرنے کے بعد نہ صرف ان ہڈیوں، بلکہ آس پاس سے ملنے والے دیگر آثارِ قدیمہ کے بارے میں بھی اپنی معلومات کو حتمی شکل دی۔

    کیمیائی اور خردبینی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا۔


    ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا۔

    اگر یہ محض اتفاق نہیں تو یہ بات یقیناً توجہ طلب ہے کیونکہ میت کو سیدھی کروٹ دے کر دفنانا بہت سے مذاہب میں قدرِ مشترک ہے۔ ان مذاہب میں اسلام بھی شامل ہے۔

    غار میں ’مٹوٹو‘ کی قبر کے ارد گرد سے ملنے والی باقیات سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید اس بچے کی آخری رسومات بھی اسی غار میں، قبر کے آس پاس ادا کی گئی تھیں۔

  • اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر خاتون اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے لگی

    اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر خاتون اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے لگی

    میری لینڈ: امریکا میں ایک خاتون اپنے گھر کو آگ لگانے کے بعد باغیچے میں کرسی پر بیٹھ پر اطمینان سے گھر جلنے کا تماشا دیکھنے لگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ کی سیسل کاؤنٹی میں 47 سالہ گیل مٹ ویلی نے اپنے ہی گھر کو آگ لگا دی، اور پھر لان میں کرسی پر اطمینان سے بیٹھ کر گھر کو شعلوں میں گھرا ہوا دیکھنے لگی اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران خاتون لان میں کرسی پر فرصت سے بیٹھی مزے سے کتاب بھی پڑھتی رہی۔

    یہ دل دہلا دینے والی ویڈیو خاتون کے پڑوسی ایوری ہیمنڈ نے بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی، ویڈیو میں گھر کو جلانے والی خاتون پورچ میں ایک اور شخص کے ساتھ جھگڑا کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔

    عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ خاتون نے گھر میں متعدد جگہوں پر آگ لگائی، صرف یہی نہیں بلکہ لوگ یہ جان کر خوف زدہ ہو گئے کہ گھر کے اندر ایک شخص بھی موجود تھا۔

    پڑوسیوں کو گھر کے تہ خانے کی کھڑکی سے کسی کے مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر انھوں نے مذکورہ شخص کو گھر سے باہر نکالا، اسی دوران گھر کو آگ لگانے والی خاتون وہاں سے چلی گئی۔

    بعد ازاں پولیس نے خاتون کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا، خاتون کو گھر کو جان بوجھ کر آگ لگانے اور قتل کی کوشش کرنے کا فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

    پڑوسیوں نے آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کو بلایا محکمے نے بعد میں بتایا کہ گھر میں چار افراد کی رہائش تھی تاہم واقعے کے وقت گھر میں صرف دو افراد موجود تھے۔

  • انسٹاگرام پر مقبول ترین پرندہ

    انسٹاگرام پر مقبول ترین پرندہ

    حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ کون سے پرندوں کی تصاویر بہترین ہوتی ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق اُلو کے ایک دور کے رشتہ دار فراگ ماؤتھ کی تصاویر باقی پرندوں کی نسبت انسٹاگرام پر زیادہ مقبول ہوتی ہےفراگ ماؤتھ (یعنی مینڈک کی شکل کا پرندہ) عموماً برصغیر کے حصوں میں پایا جاتا ہے اور لوگ اسے اُلو ہی سمجھتے ہیں۔

    انسٹاگرام پر جانوروں کی فوٹوگرافی کے لاکھوں مداحوں نے اس فراگ ماؤتھ کی تصاویر کو پسند کیا ہے اس سے محققین بھی حیران ہیں تاہم اس تحقیق کے نتائج کو محققین نے ’ستم ظریفی‘ قرار دیا کیونکہ اس نسل کے شب بیدار پرندوں کو اکثر بدصورت سمجھا جاتا ہے۔

    جرمنی میں یونیورسٹی آف کونسٹانز کی سائیکالوجسٹ اور تحقیق کی سربراہ کیٹجا تھومس کہتی ہیں کہ اپنے چہرے کی خصوصیات کی بنا پر یہ (اُلو) کسی اور پرندے جیسا نہیں دکھتا۔

    فراگ ماؤتھ کافی نایاب ہوتے ہیں ہماری 20 ہزار تصاویر کے ڈیٹا بیس میں اس کی صرف 65 تصاویر سامنے آئیں۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید پرندوں میں دلچسپی لینے والے افراد اس کے ہر دیدار پر ڈھیروں لائیکس دیتے ہیں۔

    ڈاکٹر تھومس خود بھی ایک فوٹوگرافر ہی ہیں انھوں نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے کہ بہترین تصاویر کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں- انھوں نے ہر نسل کے پرندے کی تصاویر پر ملنے والے لائیکس کی مدد سے ان کی درجہ بندی کی ہے جس سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ رنگ برنگے بال و پر والے پرندوں کی درجہ بندی بہتر رہی۔

    سائیکالوجی سے متعلق جریدے آئی پرسیپشن میں وہ اپنی تحقیق میں لکھتی ہیں کہ ’ٹراکو اور ہد ہد کے سر پر تاج نما بال ہوتے ہیں اس لیے انھیں زیادہ لائیکس ملتے ہیں۔

    اب تک گہرے نیلے رنگ کے پرندے سب سے پُرکشش مانے گئے ہیں۔ دیگر تحقیقات کی طرح اس تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ سیاحت سے متعلق تصاویر میں لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔

    جبکہ سمندری پرندوں کو اس تحقیق میں زیادہ پُرکشش نہیں سمجھا گیا فہرست کے آخری حصے میں ’کم پُرکشش پرندوں‘ کا شمار کیا گیا جن میں سینڈ پائپر چڑیا، اویسٹر کیچر، بگلے اور گدھ شامل ہیں۔

    تاہم سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز یافتہ وائلڈ لائف فوٹوگرافر گریم پردی کے مطابق جو تصاویر زیادہ شیئر یا لائیک کی جائیں ان سے مراد یہ نہیں کہ پرندے اتنے ہی خوبصورت بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پُرکشش یا پیاری چیز انسانی فطرت کو متاثر کرتی ہے، جیسے بڑی آنکھیں۔

    گریم کے مطابق انسٹاگرام پر لوگ بڑی بلیاں (یعنی شیر) اور ہاتھی پسند کرتے ہیں مگر بعض اوقات مجھے کسی نیولے کی تصویر بہت اچھی لگتی ہے لیکن اس پر کوئی لائیک نہیں آتا اس لیے خوبصورت اور مقبول تصاویر کو یکساں نہیں سمجھا جاسکتا۔

    اس رائے سے انسٹاگرام کے اعداد و شمار بھی اتفاق رکھتے ہیں انسٹاگرام پر سب سے مقبول وائلڈ لائف فوٹوگرافر کے 69 لاکھ فالوورز ہیں۔ جبکہ ایک خوبصورت پومیریئن کتے (جس کا نام جِف پوم ہے) کو ایک کروڑ سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔

    وائلڈ لائف فوٹوگرافی، خاص کر پیارے جانوروں کی تصاویر، کی مدد سے لوگ تلخ حقیقتوں سے دھیان بٹا پاتے ہیں۔

    انسٹاگرام پر اب ایسے کئی وائلڈ لائف فوٹوگرافی کے اکاؤنٹ ہیں جو جانوروں اور پرندوں سے متعلق لوگوں کی آگاہی بڑھاتے ہیں۔ گذشتہ سال دی ایکالوجی پروجیکٹ نامی ادارے نے ان فوٹوگرافرز کی فہرست جاری کی تھی جو اپنی تصاویر کی مدد سے ’سماج میں مثبت سوچ کو فروغ‘ دیتے ہیں۔

    ڈاکٹر تھومس کے مطابق صرف وائلڈ لائف کی تصاویر دیکھ کر لوگوں پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص کر اِن وقتوں میں۔