Baaghi TV

Category: متفرق

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا انٹارکٹیکا میں کھونے والا بٹوہ 53 سال بعد اسے واپس مل گیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کے رہائشی اور سابق نیوی اہلکار91 سالہ پال گریشم کا بٹوہ1960 میں انٹارکٹیکا میں ڈیوٹی کے دوران کھو گیا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ پال اپنے بٹوے کو بھول گئے لیکن 53 سال بعد انٹارکٹیکا میں امریکی بیس کی تعمیرِ نو کے دوران پال کا کھویا ہوا بٹوہ ملا جس میں پال کا نیوی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، منی آرڈر کی رسیدیں وغیرہ موجود تھیں۔

    53 سال بعد بٹوہ ملنے پر پال گریشم نے حیرت و خوشی کا اظہار کیا ہے-

  • اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نہ کریں،چھیپا کے جھولے میں ڈالیں،بے اولادوں کی گود بھریں، خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپاکی اپیل۔۔

    آج کراچی میں ایک نومولود بچے کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔۔۔

    بلدیہ مواچھ گوٹھ پل کے پاس کچھرا کنڈی سے ایک نومولود بچے کی نعش ملنا انسانیت سوز فعل ہے،۔۔۔رمضان چھیپا

    خداکے واسطے،معصوم بچوں کوقتل نہ کریں، نالے اور کچرا کنڈیوں میں پھینک کرانہیں خونخوار درندوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں،۔۔۔رمضان چھیپا

    نومولود بچوں کوکچرا کنڈی اور نالوں میں پھینکنے کے بجائے، انہیں چھیپا سینٹرز پر نصب چھیپا جْھولے میں ڈال دیں،۔۔۔رمضان چھیپا کی اپیل

  • انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    سوشل میڈیا پر انوکھے انداز میں سجائی گئی کار کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو اپنی دلچسپ سجاوٹ کے باعث صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی :مشہور کہاوت ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تاہم اس بات کی سچائی اور حقیقت کا اندازہ سوشل میڈیا پر وائرل انوکھے طریقے سے سجائی گئی گاڑی کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو ایک چھوٹے سے فارم ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے اس کو نہ صرف رنگ برنگے پرندوں مختلگ رنگوں کے اسٹیکرز سے سجائی گئی ہے بلکہ اس کے فرنٹ پر پاکستان کا جھنڈا ، کینو ،گائے میزائلز اور انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی اور دیگر چیزوں کے ڈھانچے بھی آویزاں کئے گئے ہیں-

    جبکہ کار کے ٹائروں کو بھی خوبصورتی کے ساتھ سجایاگیا ہے-

    کار کے مالک کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا آدھا شوق پورا ہے اور اس پر 4 لاکھ روپے کا خرچہ آ چکا ہے اور ابھی 4 لاکھ س کے اوپر اور لگے گا تب اس کی سجاوٹ پوری ہو گی-

    کار کے مالک کا مزید کہنا تھا کہ ابھی لوگ اس کی گاڑی کو جاتے جاتے دیکھتے ہیں جب پوری تیار ہو جائے گی تو لوگ کھڑے ہو کر دیکھیں گی-

  • مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    پاک بحریہ نے علاقائی بحری ہم آہنگی کو فروغ دینے اور دیگر معاملات میں مطابقت کو بڑھا نے کے لیے2007 میں بحری مشقوںکے سلسلے کی میزبانی کا آغاز کیا۔ لفظ ‘امن’ پاکستان کی قومی زبان اردو سے لیا گیا ہے۔ پاک بحریہ کی میزبانی میں اس مشق کے تحت 45 سے زائد ممالک کی بحری افواج کو ایک نعرے "امن کے لئے متحد” کے تحت مدعو کیا جاتا ہے جس کا مقصد کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا اور سمندری اور بحری آپریشنزمیں باہمی تعاون اور ثقافتی روابط کا فروغ ہے۔

    بحر ہند کو مختلف سیکورٹی اور جیو اسٹریٹیجک تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ساحلی ریاستوں بشمول پاکستان کو بیشتر چلینجز کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں سے علاقائی منظر نامے پر متعدد مسائل ابھر رہے ہیں جیساکہ عسکری علاقے (ops enduring freedom)، صومالیہ کے قریب بحری قزاقی، یمن تنازعہ، داعش کا اُبھرنا، ایران – مغربی ممالک اورسعودی عرب کے بدلتے تعلقات، عرب اسپرنگ اور لیوانت میں بد امنی جو علاقائی امن و استحکام کے لئے باعث تشویش ہیں۔ اس کے علاوہ ،غیر روایتی خطرات بحر ہند میں مزید پیچیدہ اور مشکل چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ غیر روایتی خطرات کا دائرہ وسیع اور روایتی خطرات سے وابستہ ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی ،غیر مرتب شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU)، غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ، بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی شامل ہیں۔
    2007 میں پاک بحریہ کی جانب مشق امن کی میزبانی شروع کی گئی جس کے بعد ہر دو سال میں یہ مشق منعقد کی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ساتویںکثیر المکی مشق2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امن مشق کئی حصوں اور پروگرامز پر مشتمل ہے۔ سمندری فیر میں آپریشنل اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور اس مشق کے ذریعے روایتی اورغیر روایتی خطرات کے خلاف ردعمل ، حکمت عملی ، تکنیک اور طریقہ کار کی تخلیق کے مقاصدکے لیے وی بی ایس ایس(VBSS) ، نیول گن فائر ، بحری قزاقی کا مقابلہ ، اینٹی سب میرین مشق ، مواصلات ، آپریشنز ، یکجا بورڈنگ اور ایئر ڈیفنس کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ مشق کے سی فیز میں ، جدید بحری مشقیں شامل ہوں گی جن میں کاو¿نٹر ٹیررازم آپریشنز ، میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز ، اینٹی پائریسی ، سطح آب سے فائرنگ کی مشقیں ، سرچ اینڈ ریسکیو مشقیں اور بین الاقوامی فلیٹ ریویوشامل ہیں۔

    ہاربر فیز میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس ، میری ٹائم ٹیرراِزم ڈیمو، پیشہ ورانہ امور پر ٹیبل ٹاپ ڈسکشن اور بندرگاہ میں متعدد ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دھماکہ خیز مواد کی آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم، اسپیشل آپریشن فورسز اور دیگر سمندری یونٹس اس مشق میں جدید ہتھیاروں اور جدید تکنیکی سازوسامان کا ا ستعمال سیکھیں گے۔

    ‘مشق امن’ کے خیال نے متعدد سمندری ممالک کو اپنی طرف راغب کیا جو پرامن باہمی بقاءاور مشترکہ تعاون کے لئے دنیا کے سمندروں کے مشترکہ استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ مشق میں شریک ممالک کی تعداد پنتالیس سے زیادہ ہو گئی تھی جو کہ 2007 میں اٹھایئس ممالک سے شروع ہوئی تھی۔

    امن سیریز کی اب تک چھ مشقیں منعقد ہوچکی ہیں اور ساتویں مشق فروری، 2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مشق نے نہ صرف پاکستان کے قومی وقار اور عزت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس مشق میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ عالمی برادری نے علاقائی امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے اقدام کوسراہا ہے۔ مزید یہ کہ ،مشق امن کے شرکاءکی بڑھتی ہوئی تعدادخطے کے ممالک کی جانب سے بحر ہند میں ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی پاکستان کی کاوشوں میں تعاون کا عندیہ بھی ہے۔

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

  • خوابوں کی تعبیر

    خوابوں کی تعبیر

    مرے ہوئے سانپ

    ساجد : کاہنہ نو لاہور

    خواب :میں اور میری ہونے والی بیوی کھیتوں کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے میں نے وہاں پر نالے میں بیت سارے سانپ دیکھے جو مر چکے تھے لیکن مگرمچھ وغیرہ ہم سے ڈر کر بھاگ گئے ہیں-

    تعبیر:آپ کے خواب کی تعبیر اچھی ہے ان کے اوپر کچھ جادو کے اثرات تھے جو نماز یا ذکر و اذکار کی وجہ سے اور جب ان کی شادی ہوئی اس وجہ سے وہ تمام اثرات زائل ہو گئے جو شیاطین تھے چھوٹے چھوٹے وہ مر گئے یا بھاگ گئے اور مگر مچھ وہ بڑا شیطان تھا جو انہیں اس ان کی طرف لا رہا تھا یہ ان لوگوں سے خلاصی پائیں گے جو ان کو اذیت دینا چاہ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات دے دی ہے-

    پُرانا گھر دیکھنا

    شعیب مسعود:لاہور

    خواب: میں نے دیکھا ہے کہ میں رات کے وقت پرانے گھر میں جاتا ہوں اور ساتھ تمام پرانی چیزوں اور پرانی جگہوں کو دیکھتا ہوں-

    تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے حالات بدتر ہو سکتے ہیں ان پر مصیبتیں آ سکتی ہیں اور پرانے گھر سے مراد قبرستان بھی ہے موت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے پرانے گھر سے ویران گھر بھی مراد ہے حالات کا بگڑ جانا اور خستہ حالی افسردہ حالی اور روزانہ کی بنیاد پر مصیبیتیں آنا شروع ہو جانا مراد ہے کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑے گااس کے برعکس اگر نیا گھر دیکھیں تو اس کا مطلب اچھے حالات کی طرف اشارہ ہوگا-

    خواب کی تعبیر جاننے کے لئے اپنا خواب اپنے نام اور شہر کے نام کے ساتھ 03030204604 پر واٹس ایپ کریں-

  • مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر کی وزارت آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ماہرین نے ملک کے شمالی حصے میں دو ہزار سال پرانی ایسی حنوط شدہ لاشیں دریافت کی ہیں جن کے جبڑوں کے درمیان سنہری زبان رکھی ہوئی تھیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق مصر اور ڈومینک رپبلک کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے اسکندریہ کے شہر کے قریب تاپوسیریس میگنا کے مندر میں سولہ ایسے مقبرے دریافت کئے ہیں جو پتھر کی چٹانیں کاٹ کر بنائے گئے تھے۔

    اس طرح کے مقبرے یونانیوں اور رومیوں کے دورے میں بنائے جاتے تھے ان مقبروں میں سے ایسی مخروط شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں محفوظ بنانے میں احتیاط نہیں برتی گئی تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی زبانوں کی جگہ سونے کا ملمع چڑھا زبان کی شکل کا تعویذ رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ بعد از مرگ اپنے دیوتا اوسائرس کی عدالت میں بول سکیں قدیم مصر میں اوسائرس مُردوں کو انصاف دینے والا اور زمین کے اندر کا دیوتا تصور کیا جاتا تھا۔

    سانتو ڈیمنگو یونیورسٹی کے رکن اورمذکورہ مقبرے دریافت کرنے والے ماہرین کی ٹیم کے سربراہ کیتھلین مارٹنیز نے بتایا کہ اس دیوتا کا عکس ایک ڈبے پر بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک مخروط شدہ لاش رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ اس مخروط شدہ لاش کا سر اس ڈبے میں رکھا ہوا تھا جس پر ایک تاج، سینگھ اور کوبرا سانپ کے عکس بھی بنے ہوئے تھےتابوت کے اوپر بنے نقش و نگار میں ایک ہار کی تصویر بھی شامل تھی جس میں ایک باز یا شاہین کا سر لٹکا ہوا تھا جو کہ دیوتا ہورس کی علامت ہے۔

    اسکندریہ کے آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل خالد ابو الحمد نے کہا کہ تاپوسیریس مگنا میں آثار قدیمہ کی کھدائی میں انھیں ایک خاتون کے جنازوں پر پہنے جانے والے نقاب، آٹھ طلائی پھولوں کی چادر کی سونے کی پتیاں اور سنگ مرمر کی سلیں بھی ملیں جو یونانی اور رومی دور کی ہیں۔

    آثار قدیمہ کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس ہی مقبرے سے ایسے سکے بھی ملے تھے جن پر ملکہ کلوپطرہ ہفتم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    کلوپطرہ ہفتم یونانی زبان بولنے والی پطلیموسی سطلنت کی آخری ملکہ تھیں جو مصر میں 51 قبل از مسیحی سے 30 قبل از مسیح تک قائم رہی۔ کلوپطرہ کی موت کے بعد مصر روم کے دائر اختیار میں چلا گیا۔

  • گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    ڈی کروز فیملی کے نام سے مشہور ایک خاندان کا نام ایک طویل العمرخاندان کے طور پراب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈی کروز خاندان کے تمام 12اراکین کراچی میں پیدا ہوئے اور اب ان کی اکثریت مختلف ممالک میں آباد ہے۔ بہن بھائیوں کی اوسط عمر 75 سے 97 برس ہے اور اگر ان کی عمروں کو جمع کیا جائے تو وہ مجموعی طور پر 1042 برس اور 325 دن بنیں گی۔ اس لحاظ سے ان 12 افراد کو مجموعی طور پر سب سے زائد عمر والا خاندان کہا گیا ہے۔

    2018 میں پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوا تو سب سے چھوٹی بہن 75 سالہ جینیا نے اپنے ایک بھانجے کی بات د ہرائی جس میں اس نے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت سب غیریقینی انداز میں ہنسے لیکن دو سال بعد 15 دسمبر 2020 کو خود گنیز نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ایک سند سے نوازا۔

    جینیا کے مطابق یہ ایک خوشگوار لمحہ تھا اور تمام بہن بھائیوں کا شمار ملکر ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔ ڈی کروز خاندان کے بہن بھائی سوئزرلینڈ، امریکہ ، کینیڈا اور لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن اب بھی وہ سال میں تین مرتبہ ضرور ملتے ہیں۔

    تاہم 2020 میں عالمی وبا کے دوران انہوں نے زوم اورآن لائن ملاقاتیں ہی کیں۔ اب ہر روز وہ لند کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے زوم کانفرنس میں جمع ہوکر گفتگو کرتےہیں۔

    جینیا جب ڈیڑھ سال کی تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اس طرح 22 برس میں 12 بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولی جس کے بعد ان کی والدہ نے تمام بچوں کی پرورش کی اور انہیں پروان چڑھایا۔

    ڈی کروز خاندان کے افراد کی تفصیلات کچھ یوں ہے:

    ڈورین، 3 ستمبر 1923، پیٹرک 30 ستمبر 1925، جینی وی، 4 جولائی 1927، جوائس، 2 مارچ 1929، رونی، 24 اگست 1930، بیرِل، 26 اگست 1932، جو، یکم جون 1934، فرانسیسکا، 17 ستمبر 1936، التھیا، 24 جولائی 1938، ٹیریسا، 9 جون 1940، روزمیری، 30 مارچ 1943، یوجینیا، 24 اکتوبر 1945۔

    ان نو بہنوں اور تین بھائیوں کے والد کا نام مائیکل اور والدہ کا نام سیسیلیا تھا۔

  • پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    آج سے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں اٹک و فتح جنگ شہر کے درمیان ”کالا چٹا پہاڑ“ نامی سلسلہ کوہ واقعہ ہے لاکھوں سال قبل ان میں سے بیشتر علاقے سمندر کا حصہ تھے اور یہیں یہ حیرت انگیز جانور گہرے پانیوں میں شکار کیا کرتا تھا۔

    باغی ٹی وی : وہیل کو عام طور پرمچھلی لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ وہیل کا شمار دودھ پلانے والے جانوروں یعنی ممالیہ میں ہوتا ہے جبکہ وہیل کے ارتقائی آباؤ اجداد آج سے کروڑوں سال پہلے خشکی پر اُن علاقوں میں رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔

    آج سے کروڑوں سال پہلے، خشکی پر رہنے والے، وہیل کے یہ آبا و اجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں/ بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے جنہیں پاکی سیٹس Pakicetus کہا جاتا ہے-

    یہ ایک گوشت خور شکاری جانور تھا جو کہ لمبوترے جسم، لمبی تھوتھنی، مظبوط جبڑوں اور تیز دانتوں کے ساتھ ساتھ ایک لمبی دم رکھتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ خشکی کا جانور تھا لیکن شکار کے لیے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ پانی میں بھی گزارا کرتا تھا۔

    اس کے لمبے شکل کی جسامت اسے تیرنے اور غوطہ لگانے میں مدد دیتی تھی جیسے کچھ مچھلیاں لمبے جسم کی حامل ہوتی ہیں۔

    ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پاکی سیٹس کی جسمانی لمبائی 7 فٹ تک ہوا کرتی تھی جبکہ اس کے وزن کا اندازہ 50 پاؤنڈ تک لگایا گیا ہے۔

    بنیادی طور پر اس کی خوراک مچھلی اور آبی جانوروں پر مشتمل ہوتی تھی تاہم اس کی خوراک میں کچھ زمینی جانور بھی شامل ہوسکتے تھے۔

    پاکی سیٹس کا پہلا ڈھانچہ سال1981 میں اٹک میں کالا چٹا پہاڑ سے برآمد ہوا تھا۔ یہ جانور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک معمہ تھا کیونکہ اس کا جسم زمینی جانوروں سے ملتا جلتا تھا جبکہ کھوپڑی کسی وہیل جیسی تھی اور اس کے گھٹنے کی ہڈیاں سبزی خور جانوروں سے مشابہہ تھیں۔

    سال2001 میں اس کے مزید ڈھانچے برآمد کیے گئے جو کہ کافی حد تک مکمل تھے۔ طویل تحقیقات کے بعد 2009میں اس جانور کو آج کی وہیل کا جد امجد قرار دیا گیا تاہم اس پر تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں-

    کہا جاتا ہے کہ پاکی سیٹس کی معدومی کا اندازہ 4 کروڑ 10 لاکھ سال قبل کا ہے معدومی کی کوئی کنفرم وجوہات کا اندازہ تو نہیں مگر غالب امکان یہی ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں اس کی معدومی کا سبب بنی ہوں گی۔

  • امریکی خاتون نے مسلسل 100 دن ایک ہی لباس کیوں پہنا؟

    امریکی خاتون نے مسلسل 100 دن ایک ہی لباس کیوں پہنا؟

    سارہ رابن کول نامی امریکی خاتون نے دنیا کو بچانے کے لیے ایک ہی لباس مسلسل 100 روز تک پہنے رکھا۔

    باغی ٹی وی : ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن سے تعلق رکھنے والی سارہ رابن کول نامی اس خاتون نے یہ لباس اس لیے اتنا لمبے عرصے تک پہنا کیونکہ وہ کچھ بھی اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتیں۔

    تاہم سوشل میڈیا پر اس لباس کے ساتھ سارہ نے اپنی تصاویر شیئر کیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ ایک لباس کو کبھی پینٹ تو کبھی اسکرٹ کے ساتھ زیب تن کیے ہوئے ہیں۔

    امریکی خاتون کا یہ اقدام 100 روزہ لباس چیلنج کی ایک کڑی تھا جو بدلتے فیشن کے خلاف تھا اور اس کا مقصد کرہ ارض کو محفوظ بنانا ہے۔

    اپنے اس چیلنج کا آغاز انھوں نے گزشتہ سال 16 ستمبر کو کیا تھا، جس کا اختتام کامیابی کے ساتھ 25 دسمبر کو کیا۔