Baaghi TV

Category: متفرق

  • فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی زرخیز سرزمین پاکستان نے کرکٹ میں ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد دنیائے کرکٹ کو زبردست تیز ترین باؤلرز دئی۔ فضل محمود سے شروع ہونے والا سلسلہ سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، محمد سمیع، وہاب ریاض سے ہوتا ہوا 19 سالہ نوجوان شاہین شاہ آفریدی تک بِلا تعطل جاری ہے۔ شاندار اسپین باؤلنگ اور اس میں جدت لانے کا سہرا بھی پاکستانی جادوگر باؤلرز کا کارنامہ رہا۔ گگلی ماسٹر عبدالقادر، مشتاق احمد، دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق اور جادوگر سعید اجمل کے بعد شاداب خان کی صورت میں آج بھی بیٹسمینوں پر اپنا سحر طاری کیے ہوئے ہیں۔


    دوسری طرف جہاں بیٹنگ پاکستان کی ہر دور میں کمزوری رہی ہے وہیں پاکستان نے ورلڈ کلاس بیٹسمین بھی پیدا کیے ہیں۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد، ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، جاوید میانداد، لفٹی سعید انور، لیجنڈری انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، مصباح الحق کے بعد فخر زمان، امام الحق اور رنز مشین بابر اعظم نمایاں ہیں۔
    حالیہ ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے کیریئر کے تیز ترین 3 ہزار رنز مکمل کر کے ورلڈ ریکارڈ میں ہاشم آملہ کے بعد دوسرے نمبر اور ایشیاء سے پہلے نمبر پر نام درج کروانے والے بابر اعظم موجودہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 24 سالہ نوجوان بابر اعظم نے یہ اعزاز اپنے کیریئر کے 70 ویں میچ میں 68 اننگز کھیل کر حاصل کیا۔ شرمیلے اور دھیمے مزاج کے بابر کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق خاندان سے ملا۔ پندرہ اکتوبر 1994ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم مشہور کرکٹر اکمل برادران (کامران اکمل، عمر اکمل اور عدنان اکمل) کے کزن ہیں۔


    2010ء سے زرعی ترقیاتی بنک کی ٹیم سے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کرنے والے بابر نے U19 اور پاکستان اے کی نمائندگی کی۔ اپنی پر اثر بیٹنگ سے سب کے دل موہ لینے والے نوجوان نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 31 مئی 2015ء کو پاکستان کے دورے پر آئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف قدافی اسٹیڈیم میں کھیلا۔ جہاں 60 بالز پر 54 کی اننگز کھیل کر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ بابر نے 16ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں اپنی پہلی سینچری ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 ستمبر 2016ء کو شارجہ میں اسکور کی جب وہ 131 بالز پر 120 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ایک روزہ مقابلوں کی اس سیریز کے اگلے دو میچز میں بھی بالترتیب 123 اور 117 رنز اسکور کیے جو ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم تھا۔
    اس سے پہلے 7 ستمبر 2016ء کو اولڈ ٹریفٹ کے گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف T20 کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے 11 بالز پر *15 اسکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ جبکہ محدود اوورز کے اس کھیل میں پہلی ففٹی ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی T20 کیریئر کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اسکور کی جہاں 37 بالز پر ناقابل شکست *55 رنز کی اننگز کھیلی۔ ویسٹ انڈیز کے اسی دورے میں 23 اکتوبر 2016ء کو دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بابر نے پہلی اننگز میں 69 اور دوسری اننگز میں 21 رنز اسکور کیے۔ محدود اوورز کی کرکٹ کے برعکس اپنی پہلی سینچری کے لیے بابر کو زیادہ انتظار کرنا پڑا نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی میزبانی میں کھیلے گئے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اس فارمیٹ کی پہلی سینچری اسکور کی۔ 24 نومبر کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 263 بالز پر *127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو اب تک اس فارمیٹ میں اس نوجوان کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔
    بابر اعظم اب تک 21 ٹیسٹ میچز کی 40 اننگز میں 5 بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ایک سینچری اور 11 ففٹیز کی مدد سے 1235 رنز اسکور کر چکے ہیں۔ جہاں ان کی اوسط 35.29 ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 144 چوکے اور 7 چھکے لگانے والے بابر فیلڈنگ کرتے ہوئے 16 کیچز بھی پکڑ چکے ہیں۔
    ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت محدود اوورز کے کھیل میں بابر کی شاندار مہارت خوب نکھر کر نظر آئی۔ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اب تک 71 میچز کی 69 اننگز میں دس بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 52.83 کی شاندار اوسط اور 85.97 کے مضبوط سٹرائیک ریٹ سے 3117 رنز اسکور کیے ہیں۔ جس میں 10 سینچری اور 14 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ 268 چوکے اور 27 چھکے لگانے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور *125 ناٹ آؤٹ ہے جو 9 اپریل 2017ء پر ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا۔ اس دوران بابر نے مخالف ٹیمیوں کے 35 کیچز بھی پکڑے۔ کرکٹ ماہرین بابر اعظم کا تقابل دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ویراٹ کوہلی سے کرتے ہیں تیز ترین ایک ہزار، دو ہزار اور پھر تین ہزار رنز مکمل کرنے میں بابر اعظم ہندوستانی کھلاڑی ویراٹ کوہلی سے کہیں آگے ہیں۔ T20 انٹرنیشنل رینکنگ میں نمبر ون پر موجود بابر اعظم اب تک 30 میچز میں 7 بار ناقابل شکست رہتے ہوئے 54.22 کی بھاری اوسط سے 1247رنزجڑ چکے ہیں۔ اس فارمیٹ میں 128.96 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے بابر نے 124 چوکے اور 18 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ T20 میں 10 بار 50 کا ہندسہ عبور کرنے والے بابر کا سب سے بڑا اسکور *97 ناٹ آؤٹ رہا جو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف 2 اپریل 2018ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بنایا گیا۔ اس طرز کی کرکٹ میں 14 کیچز بھی ان کے کھاتے میں درج ہیں۔
    نوجوان بابر اعظم واقعی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں اگر وہ اسی طرح لگن اور محنت سے کھیلتے رہے تو آنے والے دنوں میں بےشمار ملکی اور بین الاقوامی بیٹنگ ریکارڈ ان کے نام ہوں گے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ ایوان سےمنظور کروایا۔ یہ بجٹ گو کہ مشکل ترین معاشی حالت میں پیش کیا گیا لیکن اس سے عمران خان کے وژن، سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کو سنے اور پڑھے بغیر مسترد کردیا۔ اور مافیا کے ساتھ ملکر مسلسل پروپیگنڈہ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آج تک نہ تو اپوزیشن مگر نہ ہی کسی مافیا نے وفاقی بجٹ کو پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ سادہ لوح عوام جن کی خاطر عمران خان نے اپنی پرکشش اورآرام دہ زندگی کو خیر باد کہہ کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی کبھی کبھار ان کی باتوں میں پھسل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ غریب دوست بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ سہولیات اور مراعات غریب عوام کے لیے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
    54000 تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔
    1 تا 16 سکیل کےوفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ 17 تا 20 سکیل کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ
    انڈسٹری کے فروغ کے لیے 80 بلین مختص تاکہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا ہو۔
    انصاف ہاؤسنگ سیکم
    15 ملین غریب لوگوں کےلئے انصاف صحت کارڈز کا اجراء
    توانائی کے شعبے کے لیے 80 بلین مختص
    معذور افراد کے لیے کنوینس الاونس 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ماہانہ مقرر
    قرآن مجید کی اشاعت کے لیے اعلی کوالٹی کے کاغذات پر ڈیوٹی معاف
    کم از کم ماہانہ تنخواہ 17500مقرر
    قبائلی اضلاع کے لیے 110 بلین مختص
    انسانی تعلیم وترقی کے لیے 58 بلین مختص
    کامیاب جوان پروگرام کے لیے 110 بلین مختص
    46 بلین کراچی کے لیے مختص
    کوئٹہ کی ترقی کے لیے 41 بلین کا پراجیکٹ 30 بلین پانی اور خوبصورتی کے لیے
    عورتوں اور بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے 500 کفالت سنٹروں کا قیام
    ہر ماہ 80000 لوگوں کو سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی
    راشن کارڈز کے ذریعے 1 ملین لوگوں کو خوراک کی فراہمی
    75 فیصد صارفین بجلی 300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کے لیے 200 بلین سبسڈی ،
    کیا کبھی ان نکات پر کسی نے بات کی ہے؟ کیا میڈیا نے کبھی ان نکات کے بارے عوام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے؟ کیا کبھی کسی سماجی تنظیم نے غریب پرور بجٹ پر مباحثہ کا انعقاد کیا ہے؟ افسوس کہ یہاں بغض عمران خان کی وجہ سے اپوزیشن اور مافیا نے اس بجٹ کے غریب دوست نکات پر بات نہیں کی۔ الٹا جھوٹی خبروں، افواہوں، اور پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اسی پروپیگنڈے، جھوٹ اور افواہوں کی پشت پر اپنی کرپشن کو چھپا رہے ہے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی کرپشن کو چھپا نہیں سکتے۔
    موجودہ انتہائی مشکل معاشی حالات میں عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر حماد اظہر کا شکریہ ادا نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔

  • کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    رانا ثناء اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کر لیا اور اس کی گاڑی سے 15 کلو اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کرلی اس پر اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے شاید *چور مچائے شور* اسے ہی کہتے ہیں.
    ماڈل ٹاون سانحہ کا مرکزی کردار اور پنجاب میں دہشت گردوں کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے والے غنڈے کی چرس سمیت گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ ہم آج تک قاتلوں کو کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے رہے ہیں
    بصری آلودگی کی انتہاء دیکھیے کہ ہم یہ سب جانتے بوجھتے کرتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ نونی ہے یا پیپلی، یہ غنڈے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ بنارسی ٹھگ باریاں لیتے اور عوام کو لوٹتے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ قاتل ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے

    ہم جانتے تھے کہ یہ نونی اور پیپلی پاکستان پر قافیہ تنگ کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی اصل وجہ یہی خونی درندے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    کیونکہ ہم تعلیم یافتہ نہ تھے، کاش ہم تعلیم یافتہ ہوکر باشعور ہوتے تو ملک آج تک اندھیروں میں دھکے نہ کھاتا
    اور یہ سب ہم سے زیادہ یہ بنارسی ٹھگ جانتے تھے شاید اسی لیے انہوں نے ہمارا نظام تعلیم کرائے پر دیئے رکھا تاکہ ہم اردو اور انگلش میڈیم، آکسفورڈ او اور اے لیول، اور اسی طرح کے دیگر جھمیلوں میں الجھے رہیں اور اصل مسئلے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہ جائے
    اور یوں ہماری اسمبلیاں ہوں یا پارلیمنٹ، مقننہ ہو یا اپوزیشن، کسی بھی جگہ باشعور اور تعلیم یافتہ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا گیا، جو بھی یہاں پہنچے ذہنی غلام اور اپنے ضمیروں کا سودا کر کے آنے والے تھے
    شاید آپ کو "پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” کا مطالعہ کرنا چاہیے
    اس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، لیکن صرف ہم ہی بھگت رہے ہیں یا سارا وطن بھگت رہا ہے، اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کا جواب ہمیں روزانہ اور بلاناغہ بارہا مرتبہ
    جھنجھوڑتا ہے لیکن ہم بحیثیت قوم بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں اور جب ایسی مِلّـی بے حسی طاری ہوتی ہے تو بڑے سانحات کی راہ از خود ہموار ہوجایا کرتی ہے۔
    اور اب کان پکڑ لیجیے قبل اس سے کہ کان پکڑوا دئے جائیں۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    تعریف

    یہ درد اکثر سر کے نصف حصہ میں دائیں یا بائیں جانب ہوتا ہے.
    بعض اوقات سارے سر میں درد ہوتا ہے.
    شقیقہ کے معنی ایک شق یعنی ایک طرف کے ہیں.
    یہ درد طلوع آفتاب سے شروع ہو کر دوپہر تک بڑھتا ہے اور جوں ہی زوال آفتاب شروع ہوتا ہے تو کم ہوتا جاتا ہے.

    اسباب

    تھکاوٹ، کمزوری، کثرت حیض، خرابی نظر، کثرت جماع، قبض اور بے خوابی اس کے اسباب ہیں.
    یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے.

    علامات

    درد کے شروع ہونے سے پہلے طبیعت سست ہو جاتی ہے.
    یہ عموماً پندرہ سے پچیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے.
    اس میں دماغ کی رگیں پھیل جاتی ہیں.
    دماغ میں خون زیادہ مقدار میں پہنچتا ہے.
    سر گھومنے لگتا ہے اُبکائیاں آتی ہیں. مریض روشنی اور آواز برداشت نہیں کرتا اور چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے.

    علاج

    درد شروع ہونے سے پہلے اور درد کی حالت میں کوئی غذا کھانے کو نہ دیں.
    مریض کو مکمل آرام کرائیں.

    سفوف اکسیر دافع درد شقیقہ

    کشنیز خشک 30 گرام
    کلونجی 10 گرام
    اسطوخودوس 50 گرام
    فلفل سیاہ 15 گرام

    چاروں اجزاء کو بایک پیس کر سفوف بنائیں۔

    مقدار خوراک

    3 تا 6 گرام
    صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔

  • کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان

    کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان

    انگلستان کا موسم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بارے پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ کب °360 ڈگری کی پِھرکی لے نہ تو اعداد وشمار اور تیکنیک کی باریکیوں میں پھنسے تجزیہ نگار بتا سکتے ہیں نہ جدید ٹیکنالوجی "Unpredictable team” کی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ ہونی کو انہونی اور ناممکن کو ممکن بنانا کوئی ان سے سیکھے، غیر متوقع نتائج دینے میں ٹیم پاکستان بین الاقوامی کرکٹنگ سرکل میں ہمشیہ بریکنگ نیوز کی صورت مرکز نگاہ رہتی ہے۔
    ورلڈ کپ سے قبل پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی لگا تار دو سیریز وائٹ واش ہو گئے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان کی بے نام (بے بی) ٹیم سے ہار گئے۔ اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ پریشان تو تھے ہی، رہی سہی کسر ویسٹ انڈیز کے خلاف نکل گئی جب گرین شرٹس صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو کر باآسانی سات وکٹوں سے شکست کھا گئے تو ورلڈ کپ میں کچھ اچھا کرنے کی سب امیدیں ٹوٹ گئیں۔ لیکن دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ٹیم پاکستان نے 3 جون کو نوٹنگھم کے کرکٹ گراؤنڈ پر اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ” اور ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کو گھر میں گھس کر مار دیا تو امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن ہو گئے۔ 7 جون کو سری لنکا بمقابلہ پاکستان برسٹل کے کرکٹ گراؤنڈ میں جیت بارش کے نام درج ہوئی اور 16 جون کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں ہندوستان سے بری ہار پر ہر کوئی اس ٹیم کو کوسنے لگا اور معاملات کھیل سے نکل کر کھلاڑیوں کی ذاتیات اور ان کے اہل خانہ پر گالم گلوچ تک پہنچ گئے۔ غصیلے شائقین کرکٹ کا کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹرز سابقہ لیجنڈ انضمام الحق خاص طور پر نشانہ بنے۔ اور جب اگلا میچ آسٹریلیا سے بھی ہارا تو شائقین کرکٹ کا غم و غصہ بجا تھا لیکن۔۔!
    سوشل میڈیا سے ریگولر میڈیا تک عوام، ریٹائرڈ سابقہ پلیئرز، تجزیہ نگار، سیاست دان غرض ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نہایت منفی انداز میں نکالنے لگے جو من حیث القوم ہمارے لیے واقعی قابل تشویش بات ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے صرف افغانستان کی ٹیم تھی اور ٹیم پاکستان کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہونے کے تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ جبکہ کچھ سر پِھرے اب بھی 92 کے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلان کناں تھے۔ ٹویٹر پر کسی دیش بھگت نے لکھا کہ میری والدہ بتاتی ہیں جب 92 میں پاکستان اپنا پانچواں میچ ہارا تھا تو اس دن ہم نے ٹینڈے پکائے ہوئے تھے اور آج 2019 میں بھی پانچویں میچ کی ہار اور ٹینڈے ہی پکے ہیں۔
    اور پھر ابھی تک ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے۔ شاہینوں نے اونچی پرواز لی اور 23 جون کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ساوتھ افریقہ کی ٹیم کو پھینٹا لگانے کے بعد 26 جون کو اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو بھی رگید ڈالا تو ایک بار پھر دنیا ورطہ حیرت تھی۔ لیکن ابھی عشق کے دو امتحان اور بھی ہیں افغانستان اور بنگلادیش کے خلاف باقی بچے دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ہی ٹیم پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ جہاں بالخصوص بنگلادیش کے خلاف پوری طاقت لگانی ہو گی وہ ٹیم 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے شاندار کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اور ٹیم پاکستان کو گزشتہ چار میچز میں لگا تار شکست کا مزہ بھی چکھا چکی ہے جہاں سال 2015ء میں اظہر علی کی کپتانی میں دورہ بنگلادیش پر تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیاء کپ مقابلوں میں سرفراز احمد کی کپتانی میں شکست بھی شامل ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم پاکستان کے برابر جبکہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر وہ ہم سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن یہاں بھی اگر مگر کی صورتحال کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ انگلینڈ کو اپنے آئندہ دو میچز (بمقابلہ ہندوستان و بمقابلہ نیوزی لینڈ) میں سے کم از کم ایک میچ ہارنا بھی ہو گا۔ جو کہ پاکستان سے پِٹنے کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا سے بھی شکست کھا کر شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
    کون کہاں کھڑا ہو گا یہ تو اگلے ہفتے ہی پتہ چلے گا البتہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان کو جب بھی "Underestimate” کیا گیا تو ہمیشہ ٹیم پاکستان نے "Strike” کرتے ہوئے مخالف کو "Surprise” دیا ہے اور یہ رِیت کھیل کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی شامل ہے۔
    1992ء کا ورلڈ کپ ہو یا 2017ء کی چیمپیئن ٹرافی ٹیم پاکستان ہمیشہ ایسے سرپرائز دینے کے لیے مشہور ہے۔ کیا اس بار بھی ایسا ہونے والا ہے۔۔۔۔ یا سرفراز دھوکہ دے گا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ چند روز تک سب سامنے آ جائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے "تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے” کے نغمے گاتے شائقین کرکٹ کو اس ٹیم سے بے لوث محبت ہے۔

  • بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔

    بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔

    ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر دنیا میں ہونے والے چرچوں کا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان بلاشبہ دنیا کو ہر طرح سے سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی 360 درجے کی Unpredictibility کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا , ہارنے پر آئیں تو برادرانہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت آئ سی سی رینک بورڈ پر پڑی دسویں نمبر کی افغان ٹیم سے ہار جائیں اور اگر دھول چٹانے کا ارادہ کر لیں تو نمبر ون کو بھی اڑا کے رکھ دیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس کم بیک کی تعریف دوست دشمن ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اپنے اتحاد اچھی پلاننگ اور کھلاڑیوں پر اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے ایک ایسی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا جو اس ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ نہیں ہاری تھی ۔ آئ سی سی سکور بورڈ پر پوائنٹ سکورنگ کا یہ سفر بطور ٹیم ایک ساتھ پرفارم کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ حارث سہیل اور اور
    بابر اعظم کی پائیدار بیٹنگ اور محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی کی جنہیں شہنشاہ آفریدی کہا جا رہا ہے کی خوبصورت باؤلنگ نے اس میچ کو یادگار بناتے ہوے ٹیم کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیے۔ یہ میچ ایک Must Win میچ تھا جس میں ہار یا جیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے یا اس دوڑ کاحصہ بنے رہنے کا فیصلہ کرتی۔ اس میچ نے جہاں ٹیم سلیکشن اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا وہیں ٹیم کی جانب سے پاکستان کو جتانے کے لیے پیش کیاجانیوالا جذبہ بھی قابل قدر قرار پایا۔

    اگر بیٹنگ لائن کی بات کریں تو پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے پریشر کے باوجود شاندار سینچری مکمل کی اور مشکل پچ پر جہاں بال ڈیڑھ ڈیڑھ گز تک سپن ہو رہی تھی نہایت عقلمندی سے پریشر پوائنٹس کھیلے۔ ایسی مشکل پچ پر حارث سہیل کی بابر اعظم کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ اور Run Chase نے پاکستان کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جاندار باؤلنگ نے اس وکٹری کے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 19 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سات لگاتار اوورز جن میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور تین وکٹیں حاصل کیں کمال کے تھے۔فریدی کی جانب سے Maiden Overs , نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو دھبڑدوس کرنا , بہترین باؤلنگ ٹیکنیکس کا استعمال اور ہارڈ لیگ پر بے مثال باؤلنگ کا مظاہرہ اس ورلڈ کپ کے بہترین باؤلنگ سپیلز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔

    اس بہترین کارکردگی سے جہاں کھلاڑیوں کے اپنے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اجتماعی طورپر بھی مزید پر اعتماد ہوئی ہے۔ بابر اور حارث کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آفریدی صاحب کی باؤلنگ نے گیم پر قوم کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب ٹیم نے ان پر اعتماد کیا اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر محو گردش ایک خوبصورت اور محظوظ کرنے والا جملہ جو اس بلاگ کے لکھنے کا باعث بھی بنا نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ

    "نیوزی لینڈ والے تیاری عامر کی کر کے آئے تھے پیپر میں آفریدی آ گیا ”

    اس جملے کو پڑھنے کے بعد چہروں پر ابھرنے والی دلکش مسکراہٹوں کو ہمارا سلام ۔۔۔

  • لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں …  ناصر بیگ چغتائی

    لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی

    ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
    ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
    اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
    پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
    اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
    1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
    2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
    3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
    4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
    5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
    6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
    کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
    دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
    یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
    یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟


    Nasir Baig Chughtai

  • صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    ”کیپ ٹائون ” کا ان پڑھہ سرجن مسٹر ” ھیملٹن ” جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھوا آئیے بتاتے ہیں ______
    کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
    اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو

    ”ماسٹر آف میڈیسن“

    کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
    جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
    اور
    نہ ہی لکھ سکتا تھا…..

    لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
    "ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
    جو ایک غیر معمولی استاد، اور
    ایک حیران کن سرجن ہے، اور
    جس نے میڈیکل سائنس
    اور
    انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ” ہیملٹن ” کا نام لیا،
    اور
    پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔

    یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
    ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں ” سنیٹانی ” میں پیدا ہوا۔
    اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
    بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن” آگیا۔ ان دنوں ” کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی ” میں تعمیرات جاری تھیں۔
    وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
    اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا
    اور
    خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔
    وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا

    تو

    وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ ……
    اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، ……..
    وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، . ……

    وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا ……
    پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
    اور
    وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔

    یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسررابرٹ جوئز” زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ:

    "جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،”

    انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا،اسے بے ہوش کیا،
    لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
    چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔

    پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ‘ہیملٹن’ گھاس کاٹ رہا تھا،
    پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ” ہیملٹن” نے گردن پکڑ لی،

    یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن
    ” ہیملٹن ”
    زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔

    دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
    اور
    اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا
    اور
    نہ ہی شکایت کی۔

    پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا
    اور
    اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

    ” ہیملٹن ” کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔

    1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ” ڈاکٹر برنارڈ ” یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔

    ” ہیملٹن ” ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ” ڈاکٹر برنارڈ”
    کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔

    اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
    اور
    آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا….

    چنانچہ
    بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔

    وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
    لیکن
    وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

    1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی. …..جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔

    اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،

    آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
    اور
    مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے
    تو
    اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ” ہیملٹن ” کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن ‘ہیملٹن” ہوتا ہے“

    ” ہیملٹن ” نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
    اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
    وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
    ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
    لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،

    ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،

    اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
    اور
    سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا…….

    پھر

    اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
    اور
    اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

    وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔
    وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
    وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا
    اور
    اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد
    اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
    اور
    اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں….“

    میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
    ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“

    نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:

    ”صرف ایک ہاں سے‘

    جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا
    اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
    تو
    وہ مرتے دم تک مالی رہتا.

    یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

    ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.

    جبکہ

    ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

    ” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
    یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
    جبکہ
    کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

    "” ہیملٹن”” اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔

    ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا

    تو

    کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
    لیکن
    اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
    اور
    سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لیے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں، جس دن "” ہیملٹن”” کی طرح کام شروع کردیا
    تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے،
    بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے

  • 100 بیماریوں کا ایک ہی حل …  محمد فہد شیروانی

    100 بیماریوں کا ایک ہی حل … محمد فہد شیروانی

    قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے مطابق پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو Foot Reflexogy
    کہا جاتا ہے۔پاؤں کو مخصوص جگہ سے دبانے اور مساج کرنے سے 100 مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج بغیر آپریشن اور دوائی کے کیا جا سکتا ہے۔اس طریقہ علاج کے حیران کن مثبت نتائج کی وجہ سےاس وقت عموماً پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے مختلف بیماریوں کا نہ صرف علاج کیا جارہا ہے بلکہ اس سے اعضاء کو بھی ٹھیک کیا جا رہا ہے۔
    مغلیہ دور سلطنت میں خود کو صحتمند اور چست رکھنے کا راز بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
    وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں۔
    میرے رشتے کے نانا 90 سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ گاؤں میں رہتے ہیں اور ساری زندگی سے کھیتی باڑی کر رہے ہیں۔ ان کی نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار ان سے ان کی صحت کا راز دریافت کیا تو بتانے لگے کہ مجھے ایک حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کرو۔ بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔
    لہذا روزانہ رات کو پاؤں پر مالش کے عمل کو اپنا چاہیے تاکہ ہم بھی صحت مند و چست وتوانا زندگی بسر کر سکیں