شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا
سیول نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے کروز میزائل فائر کیے ہیں، جس سے حالیہ میزائل تجربات کے درمیان علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ بدھ کو شمالی کوریا نے Pulhwasal-3-31، ایک نئے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ کیا، شمالی کوریا نے 2022 کے آغاز سے لے کر اب تک ایک سو سے زیادہ میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے تجربے تشویش کو جنم دیتے ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا مقصد یوکرین پر روس کے حملے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے اور ساتھ ہی ساتھ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ خاص توجہ شمالی کوریا کی جانب سے ہائپرسونک میزائلوں کا تعاقب ہے، جو نسبتاً کم اونچائی پر چلتے ہوئے آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ ہائپرسونک میزائلوں کا اہم فائدہ رفتار کے بجائے ان کی چالبازی میں مضمر ہے، جو انہیں روایتی میزائل ڈیفنس سسٹم کے خلاف مضبوط بناتا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پانچ سالہ منصوبے میں ہائپرسونک ہتھیاروں کی حفاظت کو ایک اہم مقصد کے طور پر شناخت کیا ہے جس کا مقصد فوجی طاقت کو تقویت دینا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹھوس ایندھن والے ICBMs اور ایٹمی آبدوز کی ترقی ہے۔ ان پیش رفتوں کے پیچھے سٹریٹجک ہدف میزائل شیلڈز اور ارلی وارننگ سسٹم کو روکنا ہے، جس سے شمالی کوریا کی جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔
یہ تیز رفتار میزائل شمالی کوریا کے ابھرتے ہوئے جوہری خطرات کے جواب میں جنوبی کوریا اور امریکہ کے مشترکہ جوہری ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے فیصلے کے موافق ہیں۔ پیانگ یانگ نے نہ صرف متعدد میزائل تجربات کیے ہیں بلکہ ایک جاسوس سیٹلائٹ بھی لانچ کیا ہے، جو علاقائی سلامتی کی حرکیات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
جغرافیائی سیاسی صف بندیوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، چین شمالی کوریا کی حمایت کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور جاپان جنوبی کوریا کی حمایت کر رہے ہیں۔ اتحادوں کا یہ پیچیدہ جال خطے میں عدم استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بالادستی کے لیے کوشاں عالمی طاقتوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات، خاص طور پر ہائپر سونک ہتھیاروں کا تعاقب، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے اور بنیادی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“
توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔
23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔
یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔
بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔
بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔
پاکستا ن پر ایران کے حالیہ حملہ ، جو اس نے علیحدگی پسند گروپ جیش العدل پر کیا، نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے اقدام کے پیچھے محرکات پر سوالیہ نشان چھوڑ اہے۔ ایران کا یہ حملہ عسکریت پسند تنظیم پر سٹریٹجک حملے کے بجائے علامتی دکھائی دیتا ہے،
واقعات کا سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے اور شام میں میزائل داغے۔ ایران کے جیش العدل پرحملے کے نتیجے میں کم از کم دو بچوں کی المناک موت واقع ہوئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے فوی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے.
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس پر ایران کا حملہ عالمی سطح پر بھی بات ہوئی، تجزیہ کار ان جارحانہ چالوں کی وجہ ایران کو درپیش بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں سید رازی موسوی کا حالیہ قتل، اس کے بعد ایران کے IRGC کے مرحوم سربراہ قاسم سلیمانی کی یادگار پر حاضری دینے والے سوگواروں پر تباہ کن حملہ، جس کا دعویٰ افغانستان کی ISIL نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ ایران کو مزید حملوں کا خطرہ ہو، مزید برآں، جیش العدل کی جانب سے راسک پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، جس کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے نے مزید تناؤ پیدا کر دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ انٹیلی جنس کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اپنی سرحدوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں مسلسل شکایات کے باوجود، صورتحال سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہیں بڑھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر ایران کے حملے کے روز ہی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بیک وقت مشترکہ بحری کارروائیاں کر رہے تھے۔
جہاں ایران کے حملے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستان کا فوری ردعمل افغانستان کو ایک اشارہ دیتا ہے۔ چین کے دونوں ممالک میں مفادات کے ساتھ ہر طرح کے تصادم کا خطرہ قابل فہم نہیں لگتا۔ امید ہے عالمی برادری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے ہمارے سیارے پر بڑے پیمانے پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے اثرات شدید موسمی واقعات سے لے کر آرکٹک سمندر کی برف میں خطرناک حد تک کمی تک ہیں۔ یہ اثرات مختلف ڈگریوں کے باوجود پوری دنیا میں قابل مشاہدہ ہیں۔
شدید موسمی واقعات، شدید گرمی اور سردی کی لہروں کی خصوصیت تیزی سے عام ہو گئے ہیں۔ طویل اور زیادہ شدید گرمی کی لہریں مٹی کو خشک کر کے،پانی کی فراہم پر اضافی دباؤ ڈال کر، خشک سالی کو بڑھاتی ہیں ، یہ مشرقی افریقہ جیسے خطوں میں واضح ہے، جہاں چالیس برسوں سے بدترین خشک سالی جاری ہے۔ انسانی سرگرمیاں خاص طور پر گرم موسم کے دوران پانی کے لیے زرعی مطالبات، پانی کے وسائل پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (IPCC) اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنگل کی آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، زمین اور پودوں کی نمی ختم ہو جاتی ہے، جس سے جنگل کی آگ کے اگنیشن اور تیزی سے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا باعث بنتی ہے، مویشیوں کو متاثر کرتی ہے۔ فصلوں کے کھیتوں میں پانی بھر جانے کے نتیجے میں فصلوں میں نمایاں نقصان ہوتا ہے
آرکٹک، خاص طور پر، سمندری برف میں زبردست کمی ہو رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آرکٹک 2040 تک برف سے پاک ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے منظر نامے سے عالمی سطح پر گرمی کی لہروں میں شدت آتی ہے، جس سے خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے،ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک برف اور پرما فراسٹ کے پگھلنے سے بڑی مقدار میں میتھین خارج ہوتی ہے، جو ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے، جس سے عالمی حدت کی شرح کو تباہ کن فیڈ بیک لوپ میں بڑھایا جاتا ہے۔
سمندر کی گرمی گلوبل وارمنگ کا واضح اشارہ ہے، جو سمندر کی سطح میں اضافے اور برف کے پگھلنے میں تیزی لانے میں معاون ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، نتیجے کے اثرات میں آب و ہوا سے متعلق خطرات کا بڑھ جانا اور 2050 تک کئی سو ملین لوگوں کے لیے غربت میں اضافہ شامل ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے لاحق کثیر جہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتوں، تنظیموں اور افراد کو پائیدار طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، اور ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنا چاہیے جو بدلتی ہوئی آب و ہوا میں تخفیف اور موافقت پذیر ہوں۔ بے عملی کے نتائج سنگین ہیں، اور یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور لچکدار مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کریں۔
حالیہ مہینوں میں، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، حوثیوں نے اسرائیل جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں کے پیچھے بنیادی محرک حوثیوں کی حماس کے لیے حمایت نظر آتی ہے، کیونکہ حوثیوں نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ اسرائیل کی طرف جانے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا، سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر ایک شدید حملے کے بعداسرائیل نے فلسطین پر حملہ کیا اور وہاں سے شروع ہونےوالی دشمنی اب بھی جاری ہے
حوثیوں نے اپنی ابتدائی کوشش میں نومبر میں اسرائیل کے لیے ایک مال بردار جہاز پر قبضہ کیا،اس کے بعد کارگو جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے حملےکئے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں میں نومبر اور دسمبر کے درمیان 500 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے کئی بڑی تجارتی کمپنیوں نے خطے میں کارگو کی ترسیل روک دی۔ جس کی وجہ سے دسمبر سے کارگو کی قیمتوں میں دس گنا اضافہ ہوا ،
حوثیوں کی کاروائیوں کو دیکھا جائے تو انہیں ایران کی بھی حمایت حاصل ہے، تاکہ عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے، ایک زیادہ قابل فہم مقصد ملکی حمایت حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ خود کو اسرائیل کو چیلنج کرنے والی ایک مضبوط قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے، حوثیوں کا مقصد یمنیوں کو متحد کرنا اور حریف گروپوں کو بے اثر کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر اہم ہو جاتی ہے کیونکہ دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف اختیار نہیں کیا ، جس سے حوثیوں کی علاقائی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت ،جارح حوثی موقف سعودی عرب کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حوثیوں کے حملوں کے وسیع جغرافیائی سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر اسرائیل کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ حملے مختلف پراکسیوں کا فائدہ اٹھا کر تہران کے جوہری پروگرام سمیت علاقائی تنازعات پر ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
اختتامی نوٹ: بحیرہ احمر کے بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے پیچیدہ محرکات ہیں، جن میں حماس کی حمایت شامل ہے، ملکی سیاسی تحفظات ہیں اور ایران اور اسرائیل دونوں کے لیے ممکنہ جغرافیائی سیاسی فوائد ہیں۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ان حرکیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے
جاپان کے سیاسی منظر نامے کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب استغاثہ نے تحقیقات شروع کیں کہ آیا متعدد قانون سازوں کو چندہ جمع کرنے میں غیر ظاہر شدہ فنڈز موصول ہوئے ہیں جن کی رقم لاکھوں ڈالر ہے جو کہ پارٹی کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدہ اس کے اثرات سے دوچار ہیں جسے ان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو دہائیوں میں نشانہ بنانے کے لیے سب سے اہم مالیاتی سکینڈلز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
اس اسکینڈل کی وجہ سے پہلے ہی کابینہ کے کئی وزراء مستعفی ہو چکے ہیں، جس سے جاپانی وزیراعظم کی انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت میں زبردست کمی آئی ہے، جو اب 20% کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اکتوبر 2021 میں جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ حمایت کی سب سے نچلی سطح ہے، جس نے ان کی قیادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ان کی حکومت کو انتشار میں ڈال دیا ہے،
میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 500 ملین ین ($3.52 ملین) غائب فنڈز پچھلے پانچ سالوں میں کئی درجن قانون سازوں کو منتقل کیے گئے، جن میں اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہیں۔ یہ الزامات پہلی بار ایک سال قبل حزب اختلاف کی جاپانی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ ایک اخبار کی رپورٹ میں سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد، ایک ماہر تعلیم نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ٹوکیو ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز آفس میں متعدد مجرمانہ شکایات درج کرائیں۔ [رائٹرز]
جاپان میں سیاسی اسکینڈل حکمران جماعت کے منظر نامے کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے، خاص طور پر اس دھڑے کو متاثر کرتا ہے جس نے تاریخی طور پر کافی مالیاتی محرک کی حمایت کی ہے۔ یہ پیشرفت بینک آف جاپان کے لیے کئی دہائیوں کی انتہائی کم شرح سود سے باہر نکلنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
بحران کا جواب دیتے ہوئے، جاپانی وزیر اعظم کشیدا نے اپنی کابینہ کو از سر نو بنانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا، جس کا مقصد فنڈ ریزنگ اسکینڈل سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اور اپنی پریشان انتظامیہ کے لیے عوامی حمایت کو بحال کرنا ہے۔ جاپان میں جاری بحران جاپانی وزیراعظم کے پالیسی ایجنڈے کے لیے بھی خطرہ ہے، جو ووٹروں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بنائے گئے اقدامات کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے دفاعی توسیع کے منصوبوں میں رکاوٹ ہے۔
اہم سوال اب باقی ہے: کیا فومیو کیشیدا اس بحران کا مقابلہ کر سکیں گے، یا بڑھتا ہوا دباؤ انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دے گا، قوم کو نئی قیادت کی تلاش میں چھوڑ دے گا؟ سامنے آنے والے واقعات بلاشبہ جاپان کے سیاسی منظر نامے کے مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے
اگر آپ کا بچہ سنتا ہے، بولتا نہیں ہے تو گھبرائیے مت، اللہ پر امید رکھیں، دعا کریں، بچے کے ٹیسٹ کروائیں، اور کوکلیئر امپلانٹ کروا لیں، جس سے بچہ نہ صرف سننے لگے گا بلکہ بولنے بھی لگے گا اور عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرے گا
سماعت کا نہ ہونا، ایک معذوری، والدین پریشان ہو جاتے ہیں، چند برس تک اس کا کوئی علاج نہیں تھا، اب سائنس نے ترقی کی تو سماعت کے نہ ہونے کا ایسا علاج آ گیا جو مہنگا تو ہے تا ہم کامیاب ترین علاج ہے،پاکستان میں سینکڑوں بچے علاج کروا چکے اور اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی میں ایسے کئی ہسپتال ہیں جہاں آپریشن کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بچوں کی زندگی نارمل ہو جاتی
سماعت سے محروم بچوں کا علاج کیسے؟
سماعت سے محروم بچوں کے علاج کو "کوکلیر امپلانٹ” کہتے ہیں، اگر کسی بچے کی سماعت نہیں ہے تو سب سے پہلے اس کو آلہ سماعت کم از کم تین ماہ تک باقاعدگی سے لگوائے جاتے ہیں، آلہ سماعت سے بچہ نہ سنے تو پھر ڈاکٹر کوکلیر امپلانٹ کا کہتے ہیں، کوکلیر امپلانٹ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں بچے کے سر میں کان کے پیچھے ایک ڈیوائس لگائی جاتی ہے، ایک ڈیوائس اس کے اوپر، یعنی باہر والی طرف لگائی جاتی ہے، اس آپریشن کے بعد بچہ سننے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ کاپاکستان میں خرچہ لاکھوں میں ہے، بلکہ اس وقت 25 سے تیس لاکھ ایک اندازے کے مطابق ایک آپریشن کا خرچ آتا ہے کیونکہ اس آپریشن کے دوران جو ڈیوائس بچے کو لگائی جاتی ہے وہ کافی مہنگی ہے.
کوکلیر امپلانٹ
سماعت کے قابل بنانے والے آلے کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے سماعت سے محروم بچے ہر آواز سے روشناس ہو سکتے ہیں اور ایسے بچے جو دونوں کانوں سے سن نہیں سکتے اور ہئیرنگ ایڈز بھی ان کے لیے مؤثر نہیں ہوتے وہ کوکلیئر امپلانٹ کی بدولت نارمل زندگی گزار سکتے ہیں،کوکلیئر امپلانٹ جدید آلہ ہے اور اگر کوئی بالکل بہرا بھی ہو جائے تو اس کی مدد سے وہ سن سکتا ہے، یہ کان کے اندر لگتا ہے اور ایک پیچیدہ آپریشن کے زریعے بچے کو سماعت کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ آلہ صرف امریکہ، اسٹریلیا اور آسٹریا ہی بنا رہے ہیں
سپیچ تھراپی
کوکلیر امپلانٹ آپریشن کے بعد بچے کو سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ کروانا پڑتی ہے، سپیچ کے بعد بچہ سننے اور پھر بولنے لگ جاتا ہے، کوکلیر امپلانٹ آپریشن کےبعد سپیچ تھراپی بہت ضروری ہے، اگر آپریشن کے بعد سپیچ نہ کروائی گئی تو یوں سمجھیں آپریشن کا مقصد فوت ہو گیا، سپیچ تھراپی کے ساتھ ساتھ بچے کو والدین کی توجہ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے، والدین کو بھی چاہئے کہ آپریشن کے بعد بچے سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں.
بچے کی عمر 5 برس سے کم
کوکلیر امپلانٹ، پانچ برس سے کم عمر بچوں کا ہوتا ہے، اگر بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کرتے، اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد کا کہنا ہے کہ ” پانچ سال سے بچے کی عمر زیادہ ہو جائے تو آپریشن کامیاب نہیں ہوتا، اس صورت میں زیادہ عمر کے افراد کا آپریشن ہو سکتا ہے اگر سماعت پیدائشی طور پر ہو بعد میں بیماری یا حادثے کی صورت میں سماعت ختم ہوئی ہو”
بحریہ ٹاؤن نے بھی لاہور کے ہسپتال میں کوکلیر امپلانٹ شروع کئے تھے جو پہلے مفت کئے گئے، پھر والدین سے بھی قیمت وصول کرنا شروع کر دی گئی،اب اگر والدین قیمتا علاج کروانا چاہتے ہیں تو بحریہ ٹاؤن لاہور ہسپتال میں ہو سکتا ہے،
اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں بھی کوکلیر امپلانٹ کا آپریشن کیا جاتا ہے، ڈاکٹر جواد احمد ایسے بچوں کا آپریشن کرتے ہیں، سی ڈی اے میں حکومت پاکستان کے تعاون سے سینکڑوں بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں، نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کے لئے حکومت نے فنڈ دینا شروع کیا تھاجو ڈائریکٹ وزیراعظم ہاؤس سے منظور ہوتا تھا تا ہم عمران خان کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے فنڈز ختم کر دیئے گئے اور یہ پروجیکٹ بیت المال منتقل کر دیا گیا، بیت المال کے تعاون سے آپریشن اب بھی جاری ہیں تا ہم اسکے لئے کافی تگ و د و کرنی پڑتی ہے کیونکہ بچے زیادہ ہیں، اور پیسے کم ہیں.
لاہور کے گھرکی ہسپتال، چلڈرن ہسپتال سے بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے
کراچی سے آغا خان ہسپتال، انڈس ہسپتال سے سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کروایا جا سکتا ہے،
پاک فوج بھی سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کر رہی ہے، اگر بچے کے والدین فورسز میں ہیں تو انہیں اپنے بچے کا پاک فوج کے ہسپتال سے ہی آپریشن کروایا جانا چاہئے جو پنڈی سے ہوتا ہے،پاک فوج کے ہسپتال میں پہلا کوکلیر ایمپلانٹ ایک سپاہی کو 2017 میں نصب کیا گیا تھا اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر اس اہم طبی سہولت کا دائرہ پیدائشی طور پر سماعت سے محروم بچوں تک بڑھایا گیا اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ 200 واں کامیاب کوکلیر ایمپلانٹ آرمی میڈیکل کور کی زبردست کارکردگی ہے،
سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنیوالے ڈاکٹرجواد احمد نے خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے ہسپتال پاکستان بھر کا وہ پہلا سرکاری ہسپتال ہے جس میں مستحق افراد کے لیے یہ انتہائی مہنگی سرجری بالکل مفت کی جا رہی ہے، کیپیٹل اسپتال میں آڈیٹری امپلانٹ کا شعبہ 2016 میں قائم ہوا تھا اور اس میں اب تک سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا آپریشن کیا جا چکا ہے،
ڈاکٹر جواد احمد
کوکلیر امپلانٹ، جو کہ مہنگا ترین علاج ہے کے لئے، حکومت کی جانب سے یہ سہولت وفاقی ملازمین یا نادار افراد کے لیے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے سرجن، ای این ٹی اسپیشلسٹ، سپیچ تھیرپسٹس اور آڈیولوجسٹس پر مشتمل ایک ٹیم مریض کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتی ہے جس کے بعد اس کی سرجری کی جاتی ہے،ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک بچے کے دماغ میں اسپیچ سینٹر تیار ہو جاتا ہے اگر بچہ سن نہیں رہا تو اس کا اسپیچ سنٹر تیار نہیں ہو گا، جس کے بعد وہ پوری زندگی نہ تو سن سکے گا اور نہ ہی بول سکے گا، اس لیے پہلے دو سال میں یہ تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آیا بچہ سن رہا ہے یا نہیں۔
سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر جواد احمد کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر جواد احمدنے بتایا کہ” بہرے پن کے مریضوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک تو وہ جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی نہ تو سنا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بول سکتے ہیں اگر ایک سے تین سال کی عمر تک یہ تشخیص ہو جائے کہ بچہ سن نہیں رہا اور اس کے سننے کا نظام کام نہیں کر رہا تو اس کے اندرونی کان میں سرجری کے ذریعے کاکلیہ یا وہ الیکٹرانک آلہ امپلانٹ کر دیا جاتا ہے جو کان کے اندرونی پردے سے آواز کو دماغ کے سمعی مرکز تک پہنچاتا ہے، اس کی مدد سے سماعت سے مستقل طور پر محروم افراد سننے کے قابل ہو جاتے ہیں،دوسری قسم ان افراد کی ہے جو پیدائشی طور پر سن تو نہیں سکتے لیکن وہ والدین یا سپیچ تھیرپسٹس کی مدد سے آوازیں نکالنا سیکھ جاتے ہیں، انہیں عام طور پر پندرہ سال سے قبل سرجری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے،تیسرے گروپ میں وہ افراد آتے ہیں جو نارمل پیدا ہوتے ہیں اور ٹھیک طرح بول اور سن سکتے ہیں، لیکن کسی وجہ سے ان کی سماعت چلی جاتی ہے ایسے لوگوں کو بھی سرجری کے ذریعے دوبارہ سننے کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، کسی بھی عمر کے مریض کی یہ سر جری کی جا سکتی ہے،وہ ہر عمر کے مریضوں کی سرجری کر چکے ہیں لیکن سرجری کے لیے بہترین عمر تین سال ہوتی ہے”
سرکاری سطح پر سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن کب شروع ہوا
حکومت پاکستان کی جانب سے کوکلیر امپلانٹ کیسے شروع کیا گیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے،گیارہ جنوری2017ء کو اسلام آباد کے سکولوں کو بسیں فراہم کرنے کی تقریب تھی، تقریب میں اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بھی موجود تھے، تقریب میں ایک بچی بھی تھی جس کا نام ندا خان تھا،بچی نواز شریف کو ملی، مریم نواز نے بھی بچی کو اٹھایا ،پیار کیا،انکو بتایا گیا کہ بچی سن نہیں سکتی جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس کا علاج میں کرواؤں گا، نواز شریف کے ہی حکم پر اس بچی ندا کا اسلام آباد کے سی ڈی اے ہسپتال میں آپریشن کیا گیا جو کامیاب ہوا،بچی کا تعلق مردان سے تھا، کامیاب آپریشن کے بعد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں بچی ندا خان ،اسکے والدین اور آپریشن کرنیوالے ڈاکٹر جواد احمد سے ملاقات کی تھی
بیت المال سے سماعت سے محروم بچوں کے آپریشن
نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آئی، تحریک انصاف کی حکومت نے کوکلیر امپلانٹ کے فنڈز وزیراعظم ہاؤس سے بند کر دیئے اور بیت المال منتقل کر دیئے، جس کے بعد 22 نومبر 2019 کو بیت المال کے تعاون سے تحریک انصاف کی حکومت میں سماعت سے محروم بچوں کا آپریشن ہوا.ملتان کے رہائشی 3 سالہ عبداللہ جان اور اسلام آباد کی رہائشی 3 سالہ کشف عمران کو پاکستان بیت المال کی جانب سے کاکلئیر امپلانٹ فراہم کردیئے گئے۔دونوں بچوں کا آپریشن سی ڈی اے ہسپتال میں کیا گیا جس کا مکمل خرچ پاکستان بیت المال نے برداشت کیا۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بچے کے کان میں اذان دے کر کوکلئیر امپلانٹ کا افتتاح کیا۔ 3 سالہ عبداللہ جان اور کشف عمران نے جو اپنی زندگی میں پہلی آواز سنی وہ آذان کی آواز تھی۔
اب بھی بیت المال کے تعاون سے نادار افراد کے بچوں کے آپریشن ہو رہے ہیں تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس کے لئے الگ سے فنڈ مختص کرے، کیونکہ بیت المال کے فنڈز کا انتظا ر کرتے کرتے بچوں کی عمر پانچ برس سے زیادہ ہو جاتی ہے
مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں، سماعت سے محروم بچوں کی سماعت کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں،
نوٹ، اگر اس ضمن میں کوئی رائے، تجاویز ہو ں تو 03349755107 پر واٹس ایپ نمبر پر پیغام بھیجا جا سکتا ہے
جیسے ہی ہم پر نیا سال طلوع ہوتا ہے، ہماری خواہشات کے مطابق آنے والے مہینوں کے لیے اہداف طے کرنے کا رواج ہے۔ تاہم، اکثر و بیشتر، زندگی کی تیز رفتار فطرت ہمارے اچھے ارادے کے منصوبوں میں خلل ڈالتی ہے، جس سے ہمارے اہداف حاصل نہیں ہوتے۔مستحکم پیشرفت کو یقینی بنانے کے لیے حقیقت پسندانہ، وقت کے پابند معیارات قائم کرنے میں کلید مضمر ہے۔
قراردادوں کو توڑنے کے مشترکہ نقصان سے بچنے کے لیے، زندگی کے بہت سے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے، عملی اہداف کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔ مختلف ذمہ داریوں کو متوازن کرنا ایک ساتھ ہوا میں بہت سی گیندوں کو اچھالنے کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ اس چیلنج پر قابو پانے کے لئے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا مقصد چینی کی مقدار کو کم کرنا ہے، تو اپنے ماحول سے پرکشش میٹھے کو ختم کریں اور نظروں سے اوجھل رکھیں۔
باہمی چیلنجوں سے نمٹنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ رشتوں میں ہچکی آسکتی ہے، خواہ وہ دوستوں کے ساتھ ہو یا عزیزوں کے ساتھ۔ الزام لگانے کے بجائے، کھلی بات چیت شروع کرنا زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ ایک سادہ فون کال یا ایک نوٹ حیرت انگیز طور پر غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے، دوست کے غیر ضروری ناراض ہونے سے رو ک سکتا ہے۔ میری نظر میں بات چیت تنازعات کے حل کا ذریعہ ہے.
آپ کے اہداف کی طرف ہر چھوٹی سی پیش قدمی داد کی مستحق ہے۔ اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کی تعریف کرنا، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوںنہ ہو، کامیابی کے احساس کو فروغ دیتا ہے اور آپ کو متحرک رکھتا ہے۔ ہر قدم آگے بڑھ کر آپ کو آپ کی خواہشات کے قریب لاتا ہے، ایک مثبت رفتار پیدا کرتا ہے جو آپ کو آگے بڑھاتا ہے۔
ہم 2024 کے سفر کا آغاز کررہے ہیں، آئیے قابل حصول اہداف طے کرنے، رکاوٹوں کو توڑنے، رابطوں کو فروغ دینے، اور کامیابی کی طرف ہر قدم کا جشن منانے کا عہد کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم عزم کے ساتھ آگے بڑھنے والے چیلنجوں کو نیویگیٹ کر سکتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ایک سال کامیابیوں سے بھرا ہو۔
تعارف:
شادی کو کنٹرول کرنے والے اسلامی قانون کی پیچیدگیوں میں خلع کا تصور بہت اہمیت رکھتا ہے، جسے اکثر نکاح نامے میں نہیں لکھا جاتا، یہ شق بیوی کو شوہر سے علیحدگی کا اختیار دیتی ہے،خلع بہت سے لوگوں کے علم میں نہیں،شادی کی تقریب کے دوران، ذمہ دار مذہبی شخصیت، جسے اکثر مولوی کہا جاتا ہے، عام طور پر اس شق کو چھوڑدیتے ہیں، خلع کی شق بظاہر نظر انداز ہوتی ہے تا ہم یہ خواتین کے لیے تحفظ کا کام کرتی ہے، شادی کی تحلیل کے لیے قانونی ذرائع کا سہارا لینے کی ضرورت کو ختم کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر خلع کہا جاتا ہے۔
خلع کی کارروائی میں چیلنجز:
قانونی یقین دہانیوں کے باوجود کہ تین عدالتی تاریخوں کے بعد شوہر کی غیر موجودگی میں بھی طلاق دی جا سکتی ہے، عملی رکاوٹیں اکثر خلع کے مقدمات کے فوری حل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ مخالف وکلاء کی جانب سے تاخیری حربوں کی وجہ سے ان کیسز میں طوالت ہوتی ہے، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ بن جاتا ہے.
مالیاتی اثر:
شادی کے معاہدے میں بیان کردہ 25% اثاثوں کی واپسی خلع کے معاملات میں لازمی تھی۔ تاہم، حالیہ ترامیم شوہر کو 100% اثاثوں کی مکمل واپسی کا حکم دیتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شادی کے دوران بیوی کو دیے گئے کوئی بھی تحائف، ان کی نوعیت سے قطع نظر، قانونی طور پر ناقابل واپسی ہیں، جو مالی تحفظ کا ایک پیمانہ پیش کرتے ہیں۔
حق مہر اور عدالتی مداخلت:
حق مہر شادی کا تحفہ جو قرآن مجید کی سورۃ النساء میں بیان کیا گیا ہے،اصولی طور پرشادی کی تکمیل سے پہلے بیوی کو پیش کیا جانا چاہئے، حالانکہ اس شرط پر عمل بہت کم ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین کو انکا جائز حق، حق مہر نہیں دیا جاتا،سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ کے مطابق چھ برس تک بیویوں کو اگر حق مہر نہیں دیا جاتا تو ازالے کے لیے حق مہر جو واجب الادا ہے ،اسکے ساتھ شوہر کو ایک لاکھ جرمانے کی ادائیگی کے ساتھ ایک موقع فراہم کیا جاتا ہے، حق مہر شرعی تقاضا ہے اسے حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے.
قانونی مخمصے اور سماجی دباؤ:
پاکستانی دیوانی مقدمات ،نہ حل ہونے والے، کئی دہائیوں پر محیط ،چلتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں، قانونی کاروائی کے دوران بیوی کو اس کے ازدواجی گھر سے نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ قانونی فریم ورک کے اندر ایک شق ایک عورت کو اجازت دیتی ہے کہ وہ شادی کے بعد کسی بھی وقت متفقہ رقم یا تحفہ کی درخواست کر سکتی ہے، جو مالی وسائل کے لیے متبادل راستہ پیش کرتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر اس پر توجہ نہیں دی جاتی،
نتیجہ:
مساوی ،منصفانہ ازدواجی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اسلامی قانون میں خلع کی پیچیدگیوں اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی فقہ کے دائرہ کار میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بیداری اور وکالت کی اشد ضرورت ہے۔
خلع کے مزید جاننے کےلئے یاسمین آفتاب علی کا وی لاگ ضرور سنیے
تحریر:ارشاد احمد ارشد
شاعر مشرق ، حکیم الامت ، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے کہا تھا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
وہ افراد جن کو علامہ محمد اقبال نے ملت کا ستارہ قراردیا تھا ان میں سے ایک علامہ ابتسام الہی ظہر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر جواں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے فرزند ہیں اس اعتبار سے وہ قائد ابن قائد ہیں ۔ اپنے والد گرامی کی طرح علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کے لہجہ میں بھی وہی گھن گرج ، کلمہ حق کہنے کی وہی لگن ، اسلام کی سربلندی کی وہی تڑپ ، باطل کو للکارنے اور طوفانوں سے ٹکرا جانے کی وہی شدت وحدت اور امت کو بیدار کرنے کی وہی فکر موجزن ہے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کلمہ حق کی سربلندی کےلئے وقف کررکھی ہے ۔ وہ اس وقت پاکستان کی سیاست کی ایک موثر اور توانا آواز ہیں ۔ تمام مذہبوں جماعتوں کے سٹیج کی رونق ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ، بات کرنے کا طریقہ اور سلیقہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔وہ
نرم دم ِ گفتگو ، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل وپاکباز
کی عملی تصویر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیراعلیٰ پائے کے خطیب ، ادیب ، مدبر ، سیاستدان اور قرآن وسنہ موومنٹ کے چئیرمین ہیں ۔ قرآن وسنہ موومنٹ کا قیام اگر چہ کچھ ہی عرصہ قبل عمل میں لایا گیا تھا لیکن علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کی متحرک اور فعال شخصیت کے بدولت یہ اس وقت ایک ملک گیر جماعت بن چکی ہے ۔ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں قرآن وسنہ موومنٹ نے کامیاب اور شاندار جلسے کرکے خود کو منوالیا ہے ۔ ایسا ہی ایک جلسہ گذشتہ دنوں پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں بعنوان” نفاذ اسلام واستحکام پاکستان“ منعقد کیا گیا ۔
علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر خود بھی نوجوان ہیں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ نوجوان ان کے گرویدہ اور ہراول دستہ ہیں ۔ قرآن وسنہ کے ملک میں جہاں بھی پروگرام ہوں اس میں نوجوان پیش پیش ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ کو کامیاب کروانے اور اس کے انتظامات میں نوجوان پیش پیش تھے ۔ گوجرانوالہ کا منی سٹیڈیم تنگ داماں کا شکوہ کررہا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، جن کے جذبات آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ۔جلسہ سے کلیدی خطاب علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا تھا جو کہ بہت فکر انگیز اور ملک کو درپیش تمام مسائل کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ انھوں نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا پاکستان کے حصول کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔قیام پاکستان کے لیے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین نے تاریخ ساز قربانیاں دیں، اپنے گھروں کو، آبائی مکانات کو خیر باد کہا اور پاکستان آکر آباد ہوئے۔ان قربانیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست حاصل کی جائے جس میں اسلامی قوانین کے علمبرداری ہواور اسلام کا پرچم سربلند ہو ، جس کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کا بول بالا ہو ۔یہ خواب تھے جو پاکستان بنانے والوں نے دیکھے تھے لیکن بدقسمتی اور بد نصیبی کی بات ہے کہ بانیان پاکستان کے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ۔اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں ہر طرف فواحش ومنکرات کا دور درہ ہے ، شراب، جوئے، قمار بازی اور بدکاری کے اڈے کھلے ہوئے ہیں، بینکوں میں سودی لین دین کے کاونٹرزجاری و ساری ہیں۔ ان منکرات کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن حکومت ان کے خاتمہ کی بجائے ٹرانس جینڈر بل اور اس قسم کی دیگر خرافات کو پھیلانے میں مصروف ہے۔گذشتہ کچھ سالوں سے ملک میں” عورت مارچ “ کا انعقاد بھی شروع ہوچکا ہے جس سے ملک کے اسلامی ، تہذیبی، نظریاتی اور فکری ڈھانچے کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔” عورت مارچ “ جیسی خرافات کا نتیجہ ہے کہ ملک میں مختلف مقامات پر جنسی جرائم کے واقعات تشویشناک اور خوفناک حد تک بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ایک عرصہ پہلے قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی گی تھی لیکن تاحال اس پہ عمل نہیں ہو سکایہ اس لئے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں برائی ، بے حیائی اور جنسی جرائم کا خاتمہ نہیں ہے ۔
علامہ ابتسام الہی ظہیر نے مزید کہا کہ ملکی معیشت بھی ایک عرصے سے دھچکوں اور تنزلی کا شکار ہے۔جس کا نتیجہ ہے کہ غریب اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس گیا ہے ۔ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان سے سودی نظام ختم کرنا ہو گا۔ اسی طرح ملک میں برآمدات اورصنعت کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تجارتی اعتبار سے تاجروں کو ریلیف دے ،ملک میں کاروبار کے ذرائع اور مواقع بڑھائے جائیں تا کہ ملک میں مقیم لوگ بیرون ملک جانے کی بجائے پاکستان ہی میں اچھا روزگار تلاش کریں۔ ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے تاکہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔پاکستان کے دفاعی اثاثوں کا تحفظ کرنا جہاں عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے وہیں دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عوام کو بھی ہوشیار ،چوکنا اور بیدار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات کے اندر بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ان کی حمایت کیلئے بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعلقات رکھنے چاہئیں اور اپنی معیشت کو فروغ دینے لیے قرضوں کی بجائے خود داری کے راستوں پر چلنا چاہیے۔ پاکستان کی بقاءاور استحکام کے لیے اسلام اور آئین کی سربلندی انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان کا آئین۔۔۔۔ کتاب و سنت کی عملداری، پابندی اور سرفرازی کی ضمانت دیتا ہے لیکن بد نصیبی سے عرصہ دراز سے اس بات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ملک میںنظریاتی اعتبار سے کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اسلامی قوانین کی افادیت کو اہمیت نہیں دی۔ان حالات میں ملک کی تمام دینی جماعتوں کو ایک پیج پر آکر اللہ تبارک وتعالیٰ کی دین کی سربلندی کے لیے یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔سامعین سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ قیم الہیٰ ظہیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل قرآن وسنہ موومنٹ نے کہا کہ پاکستان کے نظریاتی استحکام ہی سے ملک ایمان و استحکام کے راستے پہ چلے گا۔نوجوانوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا اگر نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے تو اس صورت میں ہی پاکستان مستحکم ریاست کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل وفلسطین تنازعے کے حل کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور مظلوم فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے۔
جلسہ عام سے پروفیسر سیف الرحمن بٹ نائب صدر ، الشیخ عبدالرزاق اظہر چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ گوجرانولہ ، محمد نوریز ملک ناظم تعلقات عامہ قرآن وسنہ موومنٹ ، ڈاکٹر صلاح الدین چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ لاہور اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔جلسہ میں درج ذیل قراردادیں بھی منظور کی گئیں کہ ناموس صحابہ بل پاس کیا جائے اور اس حوالے سے تمام دینی طبقات یکسو اور متحد رہیں۔ انتخابات کو ملتوی یا موخر کرنے کی بجائے ان کا بروقت انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔ انتخابی دھاندلیوں کو روکنے کے لیے مضبوط اور ٹھوس منصوبہ بندی اختیار کی جائے۔ملک میں تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ایک قراردا کے ذریعے اسرائیلی مظالم کی بھرپور انداز سے مذمت کی گئی آخر میں فلسطینی بھائیوں کے لیے اظہار ِ یکجہتی کیا گیا اور نہایت ہی پر سوز طریقے سے فلسطین کے لیے دعا بھی کی گئی۔