Baaghi TV

Category: متفرق

  • روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات

    روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ،رئیسی سے ملاقات
    روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔ اسرائیل ٹائمز کے مطابق ان کی ملاقات کے دوران، پوتن نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے لئے ‘نیک خواہشات’ کا پیغام پہنچایا، اورگزشتہ سال کے دوران کی جانے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا،

    دونوں رہنماؤں کے مابین جن اہم موضوعات پر بحث کی گئی ان میں سے ایک حماس اسرائیل تنازعہ تھا، جو غزہ میں شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روسی صدر نے مشرق وسطیٰ کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران اس جاری جنگ اور اس میں دوسرے ممالک کو شامل کرنے کی صلاحیت پر بات کی جس سے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روس کے بڑے حملے کے باوجود، وہ غزہ کے تنازعے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، جس سے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے لیے اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف مہم میں اس کی شمولیت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا روس، جو اس وقت یوکرین پر مغربی بلاک کے ساتھ جنگ میں ہے، متضاد موقف اپنا رہا ہے؟

    2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، وہ ایران کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، دونوں ممالک کو مغرب کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے

    مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی کم قرار دیتے ہوئے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار کے دفتر (یو این ایس سی او) کے حکام نے صورتحال کو حل کرنے کی کوشش میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا ہے تاہم، ان کوششوں کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے، کیونکہ تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے کردار کو روک تھام سے زیادہ رد عمل کا حامل قرار دیا ہے۔

    یوکرین اور مشرق وسطی کے تنازعات میں روس کی دوہری مصروفیت کے ساتھ، مشرق وسطی کی صورت حال پیچیدہ ہے، اس کے محرکات اور اتحاد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کوششیں جو اگرچہ موجودہ ہیں تا ہم کچھ لوگوں کے نزدیک خطے میں دیرینہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

  • روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں آئندہ 2024 کے صدارتی انتخابات لڑنے کا بھی اعلان کیا، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے وہ کم از کم 2030 تک اقتدار میں رہیں گے۔ یہ انتخابات 15 سے 17 مارچ 2024تک ہوں گے، اور ان الیکشن میں تقریباً 110 ملین ووٹرز اپنی رائے دیں گے، تاہم، تاریخی رجحانات کم ٹرن آؤٹ دکھاتے ہیں، 2018 کے انتخابات میں 67.5 فیصد ووٹرز کی شرح ریکارڈ کی گئی۔

    پوتن نے 1999 میں بورس یلسن کی جگہ صدارت سنبھالی تھی اور اس کے بعد وہ جوزف اسٹالن کے بعد روس کے سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے رہنما بن گئے ہیں۔ مارک گیلیوٹی کی کتاب، "Putin’s Wars” میں 2000 کی دہائی سے اب تک کی روس کی فوجی مصروفیات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ روسی سیاسی اور سلامتی کے امور کے معروف اسکالر Galeotti نے دو چیچن جنگوں، شامی تنازعے میں روسی مداخلت، جارجیا پر حملہ، کریمیا کا الحاق، اور یوکرین میں وسیع تنازعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
    Galeotti کا کام حالیہ تنازعات سے آگے بڑھتا ہے، جو روس کی اعلیٰ ترین اور فرسودہ مسلح افواج کو دوبارہ منظم کرنے میں کامیاب وزراء دفاع کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لے رہے ہیں، پوتن کے پہلے وزیر دفاع، سرگئی ایوانوف (2001–2007) نے فوجی جرنیلوں کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے پر ایک کنٹریکٹ آرمی کی وکالت کی۔

    میں قارئین کی توجہ ایک نقطے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گی، غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے،ارد گردجانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے امداد بند ہو رہی ہے۔ حماس نے ایرانی مالی معاونت سے یہ حملہ شروع کیا جو آگ کی طرح پھیل گیا، غزہ کو قبضے میں لے لیا گیا، بالکل اسی وقت جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہونے والا تھا جس سے فلسطینیوں کو زیادہ فائدہ اور یقیناً ایران کو نقصان ہوگا، اس حملے کے بعد آگ پھیل گئی، اسرائیل کی طرف سے ردعمل کو شاید اچھی طرح سمجھا گیا تھا، اس تباہی کے گرد گھومنے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس نے دنیا کو ٹکرایا، یوکرین کو ذیلی متن میں لے گیا اور آخر کار اسے روس سے لڑنے کے لیے کمزور بنا دیا۔
    آخر سیاست ایک گندا کھیل ہے

  • بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بابری مسجد کاانہدام ۔۔۔غیرت ِ مسلم کا امتحان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    6دسمبر1992ء …تاریخ کاوہ دلخراش اور افسوسناک دن ہے جب مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی‘مغل بادشاہ وسپہ سالار ظہیرالدین بابرکے عہد(1528ء ) کی بنائی گئی 500 سالہ تاریخی بابری مسجد کوانتہاپسنداور جنونی ہندؤوں نے شہیدکردیا۔ان انتہاپسندہندؤوں کادعویٰ تھا کہ بابری مسجد ان کے خداراما(1500 ق م)کی جائے پیدائش ہے‘ یہاں گیارہویں صدی عیسوی میں مندرتعمیر کیاگیاتھا بعدمیں اسے گراکربابری مسجد بنائی گئی۔ ہندؤوں نے بابری مسجد کواپنے خداراما کی جنم بھومی قراردینے کادعویٰ سب سے پہلے 1855ء میں انگریزوں کے دورمیں کیا ‘گویاہندؤوں کوبابری مسجد بننے کے تقریباً350سال بعد اور راما کی پیدائش کے تین ہزار تین سو پچپن (3355)سال بعدپتہ چلا کہ یہ توان کے راماکی جائے پیدائش ہے۔اسی سے اندازہ ہو جاتاہے کہ ان کی تاریخی اور علمی تحقیق کی کیاحیثیت ہے۔ حالانکہ اگربابری مسجد واقعی ان کے خداکی جائے پیدائش ہوتی تویہ بہت مشہور اور یادگار جگہ ہوتی۔جیسا کہ تاریخ میں سومنات اوردیگر مندروں کاذکر توملتاہے لیکن مسلمانوں کے ہاتھوں راماکی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے اوراسے مسجد بنانے کاکہیں حوالہ نہیں ملتا۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں سومنات اوریگرمندروں کے توڑنے کاذکر کتابوں میں جابجا موجود اور یقینا موجود ہے توپھرراما کی جائے پیدائش والے مندر کے توڑنے کی شہرت توسب سے زیادہ ہونی چاہئے تھی اور تاریخ کی کتب میں جابجا اس کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا ۔

    یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک قوم کے خداکی جائے پیدائش پربناہوامندر ہو اوراس کی شہرت کاذکرتاریخ میں نہ ہونے کے برابر ملے‘اتنی بات ہی ہندؤوں کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے…ویسے ہندؤوں کایہ کیساخدا ہے جوخداہوکربھی اپنی جنم بھومی اورجائے پیدائش کی حفاظت نہ کرسکا اور وہاں اس کے دشمن مسلمان اپنی عبادت گاہ تعمیرکرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

    بابری مسجد کی شہادت کو آج 31برس مکمل ہوچکے ہیں ۔ یہ مسجد جو کعبہ کی بیٹی تھی ، کبھی ایستادہ تھی ،عالی شان تھی ، اس کی مضبوط بنیادیں تھیں ، موٹی دیواریں تھیں ، گنبد تھے لیکن آج اس کانام ونشان بھی مٹ چکا ہے ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے،دل لرزتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گائو ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو مسجد چیختی رہی ، کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ہندو مجھ پر ہتھوڑے برساتا رہا ، بزدل بنیا مجھ پر لاٹھیاں مارتا رہا ، میرے ان گنبدوں پر چڑھ گیا جن میں کبھی قرآن مجید کی تلاوت اور احادیث کی آوازیں گونجا کرتی تھیں ۔ بابری مسجد چلاتی رہی کہ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گائو ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔ صد حیف مجھے بچانے کیلئے کوئی بھی نہ پہنچا ۔ جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس دن اترپردیش میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ اس کے باوجود بھارت کے مسلمان اپنی طاقت ، وسائل اور استعداد کے مطابق جو احتجاج کرسکتے تھے کیا ۔۔۔۔۔۔لیکن 57اسلامی ممالک کے سربراہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔آخر مٹی اور پتھر سے بنے دیوی اور دیوتائوں کے پجاری مسجد کے سینے پر چڑھ گئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ’’ ہندو توا ‘‘ کا عفریت برہنہ ناچ رہا ہے ۔ بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی کی رگ رگ میں مسلم دشمنی سرایت کرچکی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کے 25 کروڑ مسلمان بھی بے بس ہوگئے جو احتجاج کیلئے نکلے ان پر ہندو بلوائی ٹوٹ پڑے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مسلمان شہید کردیے گئے ۔ جنونی ہندو 75 برس سے مسلسل مسلمانوں کو ذلیل کر رہے اور ان پر حملے کررہے ہیں مگر بھارتی مسلمان اس حد تک کمزور اور بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ کسی حملے کا جواب دینے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے ۔ ۔ بیچارے بھارتی مسلمانوں سے کیا شکوہ یہاں تو آزاد پاکستان کے مسلمان حکمران بھی اپنے کلمہ گو بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے ہیں ۔ان حالات میں بابری مسجد کہتی ہے کہ میں اپنی شہادت کی شکایت کروں تو کس سے کروں ۔۔۔۔۔۔؟ کیا مجال ہے جو تم نے جواب دینے کا سوچا ہو اور میرے لئے آواز اٹھائی ہو ۔ بابری مسجد کہتی ہے اے پاکستان کے مسلمانوں ! ذرا تم بھی تو بتلاؤ تم کیوں چپ سادھے بیٹھے رہے؟ ۔کیا تم نہیں جانتے کہ میں 1828 ء میں اس وقت بنی تھی جب بابر نے ایودیا کو فتح یاب کیا تھا تب بابر نے مجھے فتح کی یاد میں بنایا تھا۔ اس کا مطلب ہے میں اس وقت کی یادگار ہوں جب ہندوستان کے مسلمان مرد ِ میدان تھے مجاہدتھے اور موحد تھے ۔ بابری مسجد کے گرائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ آج کے مسلمان مرد ِ میدان نہیں رہے اور ان میں سے جہادی روح ختم ہو گئی ہے ۔میں تو 1949 ء سے انتظار کر رہی ہوں اس وقت سے میرے در و دیوار نمازیوں کے رکوع وسجود اور قرآن کی تلاوت کو ترس گئے ہیں اب تو مجھے شہید ہوئے بھی 31برس ہونے کو آئے ہیں ۔تین عشرے گزرنے کے بعد بھی جب کوئی مسلمان میری مدد کو نہ آیا تو بتوں کے پجاریوں نے جان لیا کہ اب یہ قوم غزنوی اور بابر کی قوم نہیں یہ تو لتا کے گانے سننے والی قوم ہے۔ یہ ہماری معاشرتی رسموں مہندی ، تلک اور بسنت کی رسیا قوم ہے۔ یہ قراردادیں پیش کرنے ، اقوام متحدہ میں جانے ، جلوس نکالنے ، ٹائر جلانے اور نعرے لگانے والی قوم ہے۔ بھلا ایسی قوم سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔؟
    ان حالات میں مسلمانوں کے پاس آخری چارہ کار کے طور پر عدلیہ کا دروازہ تھا چنانچہ مسلمانوں نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔ دلائل ، شواہد ، حقائق مسلمانوں کے حق میں تھے ۔ تاریخی کاغذات اور دستاویزات یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں مذکورہ جگہ کبھی مندر نہیں رہا بلکہ ابتدا ہی سے یہاں مسجد ہی تھی ۔اسلئے مسلمانوں کو یقین تھا کہ عدلیہ ان کے حق میں فیصلہ کرے گی ۔ لیکن مسلمان بھول گئے تھے کہ بھارتی عدلیہ انصاف کی بالادستی نہیں بلکہ ہندوتوا کی بالادستی چاہتی تھی ۔ اسی لئے بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس حقائق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی حکومت کے حوصلے مزید بڑھ گئے اس کے بعد مندر کی تعمیر کے مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ۔

    جس جگہ کسی وقت میں مسجد تھی وہاں 70 ایکڑ کا رقبہ کمپلیکس کیلئے مختص کردیا گیا اور اس کمپلیکس کے اندر 2.67 ایکڑ کی جگہ پر نریندر مودی نے عین اس دن مندر کا سنگ بنیاد رکھا جس دن مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی ۔اس طرح سے مودی حکومت نے یہ پیغام دیا کہ بھارت ہو یا مقبوضہ جموں کشمیر ہر دو جگہ مسلمان ہی اس کا ٹارگٹ ہیں ۔ اس کے بعد تیزی سے مندر کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا ۔سو 15ارب روپے کی خطیر رقم کی لاگت سے مندر کی پہلی منزل مکمل ہوچکی ہے جسے جنوری 2024ء میں پوجا پاٹ کیلئے کھول دیا جائے گا جبکہ مندر کی تعمیر کا دوسرا اور آخری مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل ہو گا ۔

    بابری مسجد کی شہادت اور مندر کی تعمیر بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے اور وعدے میں شامل تھی ۔ بی جے پی نے جووعدہ کیا پورا کیا جو چاہا حاصل کرلیا اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا لیا ۔۔۔۔ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔ ۔پاکستان کے حکمران کیا کررہے ہیں ، وہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جس کے قیام میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔ جس کے بانیان نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں اور مساجد کی حفاظت کے وعدے کئے تھے ۔ بابری مسجد اور دیگر شہید کی جانے والی مساجد کے منبر ومحراب اور مینار ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اے پاکستان کے مسلمانوں ، حکمرانوں تم نے ہماری مدد اور حفاظت کے جو وعدے کئے تھے ۔۔۔۔وہ وعدے کب پورے کرو گے !

  • بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارت میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں،مدھیہ پردیش، راجستھان، اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کودھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا بلاک کے اندر اقتدار کی تقسیم کی حرکیات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ ان ریاستوں کے نتائج نے نہ صرف کانگریس کو مایوس کیا بلکہ اس کے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں،جو خود کو نظر انداز کر رہے ہیں

    کانگریس کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعاون نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کانگریس کو ناکامی ہوئی،بھارت میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے شراکت داروں نے انتخابات میں جیت کی صورت میں اقتدار کی تقسیم کے حوالہ سے قبل از وقت مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم کانگریس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا،کانگریس وقت سے قبل سودے بازی نہیں کر رہی تھی،بلکہ انکی توجہ انتخابات کے نتائج پر تھی،اتحادیوں کی جانب سے عدم اطمینان اور اقتدار کی تقسیم کو لے کر کانگریس کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

    انتخابات کےبعد اتحادیوں نے کانگریس کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا اشارہ کیا، کانگریس کو حزب اختلاف کی سب سے کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے تین ریاستوں کرناٹک،ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کی یہ کامیابی بعض علاقوں میں پارٹی کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے

    دوسری جانب بھارت میں اس وقت کی حکمران جماعت بی جے پی نے راجھستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، بی جے پی نے 114 اسمبلی حلقے اور تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں،میواڑ، برج، مارواڑ اور ہراوتی جیسے علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔مروجہ رائے یہ ہے کہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی بری رائے سامنے نہیں آئے گی، کانگریس کو امید تھی کہ وزیراعلی گہلوت کی مقبولیت، انکی فلاحی سکیمز کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی ملے گی تا ہم اس کے برعکس نتائج آئے،ووٹرزامن و امان کی صورتحال، کرپشن، خواتین پر مظالم سمیت دیگر اہم مسائل کو دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کانگریس کو نتائج توقع کے برعکس ملے،وزیراعلیٰ گہلوت نے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کہا کہ شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا،ہمارے منصوبے اچھے تھے اور پورے بھارت میں انکا تذکرہ تھا تاہم کامیابی نہیں ملی.

    بھارت میں ان انتخابات کے بعد کانگریس کو ایک مشکل دور کا سامنا ہے، اس لیے اس کی سیاسی حکمت عملی کے از سر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔کانگریس کو ووٹر کے خدشات کو دور کرنا چاہئے اور انکی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ،کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تازہ نقطہ نظر اور تخلیقی حل ناگزیر ہیں۔ کانگریس پارٹی کی انتخابی ناکامیوں نے انڈیا بلاک کے اندر اس کے کردار پر نظر ثانی کرنے پر تحریک دی ہے۔ جیسا کہ اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں،اب کانگریس پارٹی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے، اور اتحاد کے مقاصد میں بامعنی حصہ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کی تعمیر نو کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے۔

  • ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ سٹیل مل، صنعتی دنیا میں ایک اہم پیشرفت

    ہنزہ گروپ آف کمپنیر، کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان میں جب معیشت کمزور، ہر آدمی پریشان، ڈالر کی اونچی اڑان، مہنگائی کا طوفان، ایسے میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے ٹریڈنگ کمپنی سے سٹیل مل تک کا اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو خوشخبری سنائی، 1975 سے ایک ٹریڈنگ کمپنی سے شروع ہونے والاہنزہ گروپ آف کمپنیر کا سفر جاری و ساری ہے،2002 میں ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے پاکستان میں پہلی شوگر مل قائم کی، اس کے بعد 2010 میں دوسری شوگر مل بھی بنائی، ہنزہ گروپ آف کمپنیز کے پاس چینی بنانے کے وسیع یونٹس ہیں ،گھی اور آئل بھی ہنزہ گروپ آف کمپنیز تیار کر رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی دو شوگر ملیں پنجاب کے اضلاع جھنگ اور فیصل آباد میں ہیں،جبکہ گھی کی مل ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں ہے،
    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز نے اب پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی پر حامل سٹیل مل بھی بنا لی ہے ، سٹیل میں جدید ترین مشینری استعمال کی جا رہی ہیں وہیں سکریپ منگوا کر سریا بھی خود ہی بنایا جاتا ہے اور سٹیل بھی بنائی جا رہی ہے،ہنزہ گروپ آف کمپنیر کی مصنوعات انتہائی معیاری ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ کامیابی کی سیڑھیاں مسلسل چڑھ رہے ہیں،شوگر، گھی کی ملوں کے بعد سٹیل مل کا قیام،اس امر کا ثبوت ہے کہ ہنزہ گروپ آف کمپنیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار کر رہا ہے، نہ صرف شہریوں‌کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی و پلانٹ پر بنی سٹیل بھی بآسانی میسر ہو گی،معیار پر سمجھوتا نہ کرنا ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا وہ راز ہے جو اس کی کامیابی کا مقدر بن رہا ہے

    Hunza Steel falls under the remarkable Hunza Group one of Pakistan’s Leading Industry group that embarked its journey of passion, commitment, and devotion in 1975 by forming Swera Traders. Since then there is no stopping in this journey and the group has expanded its business in various industries.

    پاکستان کی قومی سٹیل مل، یعنی پاکستان سٹیل مل کراچی میں کب سے بند پڑی،وزیر نجکاری کہتے ہیں کہ پی آئی اے کی تو نجکاری کر رہے ہیں تا ہم سٹیل مل کی نہیں کر رہے کیونکہ سٹیل مل لینے کو کوئی تیار ہی نہیں، حالانکہ وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لئے ایک بڑی سٹیل مل کی ضرورت تھی جو پاکستان کی ضروریات کو پورا کرتی تا ہم قومی مل کو عرصہ دراز سے خسارے کا نام دے کر بند کیا گیا،اب ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی سٹیل مل پاکستان میں سٹیل کی مقامی ضروریات کو نہ صرف پورا کرے گی بلکہ کئی خاندانوں کو روزگار کے مواقع بھی دے گی.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ سٹیل میل کے پاس جدید ترین مینو فیکچرنگ پلانٹس ہیں،اعلیٰ ترین معیاری مصنوعات ہنزہ گروپ آف کمپنیز صارفین کو فراہم کر رہی ہے.ہنزہ سٹیل مل کی مصنوعات صارفین کی توقعات کے عین مطابق ہیں،تیاری کے مرحلے میں کوالٹی کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاتا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کی جانب سے اعلی درجے کی اسٹیل مصنوعات کا ملک کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بننا، انکی انتھک محنت،لگن کا واضح ثبوت ہے
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

    ہنزہ گروپ آف کمپنیز اپنے صارفین کی ترجیحات پر پورا اترنے میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ صارفین ہنزہ گروپ آف کمپنیز پر اعتماد کرتے ہیں،اسی اعتماد کے بدولت ٹریڈنگ گروپ سے گروپ آف کمپنیر تک کا سفر طے ہوا،ہنزہ گروپ آف کمپنیز کا پاکستان کا معروف صنعتی گروپ بننے اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا ویژن رکھتاہے.
    At Hunza Steel, we believe in the power of swift innovation. We are continuously pushing the boundaries to bring you the latest, cutting-edge products that are designed to enhance your lifestyle.

  • حماس اسرائیل جنگ بندی ، چیلنجز

    حماس اسرائیل جنگ بندی ، چیلنجز

    حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ بندی کو چار دن ہو گئے ہیں، جنگ بندی کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کا تبادلہ ہو رہا ہے، حماس نے اب تک 58 یرغمالی رہا کیے ہیں، جس کے کے بدلے میں اسرائیل نے117 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اس اقدام کو دیکھ کر جنگ بندی کی ممکنہ توسیع کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے،جس کی حمایت نہ صرف قطر بلکہ دیگر اہم ممالک نے بھی کی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے نازک صورتحال پر بین الاقوامی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع پر زور دیا

    جنگ بندی کو بڑھانے کی کوشش کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے، خاص طور پر فلسطینی آبادی کے لیے کیونکہ جنگ بندی کی وجہ سے انسانی امداد غزہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ امداد غزہ میں رونما ہونے والے تباہ کن واقعات سے متاثر ہونے والوں کے لیے اہم ہے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جنگ بندی تباہ حال معاشرے کو مدد کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    تاہم، حماس کے مینڈیٹ کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم جس چیز کو ایک منصفانہ فلسطینی کاز کے طور پر دیکھتی ہے اس کی چیمپئن ہے، لیکن حماس دو ریاستی نظریہ پر مبنی سیاسی حل کی توثیق نہیں کرتی ۔ یہ نظریاتی موقف بہت سے فلسطینیوں کی امنگوں سے ہٹ جاتا ہے جو دو ریاستی قرارداد کے خواہاں ہیں۔حماس کی حمایت کو وسیع تر فلسطینی کاز کی حمایت سے ممتاز کیا جانا چاہیے۔ حماس کا دو ریاستی قومی نظریہ کی توثیق کے بجائے اسرائیل کے ساتھ تصادم کی طرف جھکاؤ صورتحال کی پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔ اسرائیل،حماس تنازعہ میں ملوث اداکاروں، تنظیموں اور اقوام کی جامع تفہیم کے خواہاں افراد کے لیے کئی معلوماتی لنکس فراہم کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا ہے کہ جنگ بندی عارضی ہے اور اس کے اختتام کے بعد دوبارہ حملے شروع کئے جائیں گے، تاہم، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگوں کے خاتمے اور طول، دونوں میں جنگ بندی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ میں کہا کہ پچھلی صدی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جو جنگ بندی کے مختلف نتائج کو واضح کرتی ہیں۔

    جنگ کے خاتمے کی اہمیت کو زیادہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگ بندی سفارتی کوششوں، انسانی امداد، اور زیادہ دیرپا حل کی طرف ممکنہ تبدیلی کے لیے موقع فراہم کرتی ہے۔ اہم ممالک کی شمولیت اور حمایت، بین الاقوامی توجہ کے ساتھ، صورت حال کی پیچیدگی اور خطے میں موجود نازک توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش چاہے کسی بھی شکل میں ہو، ڈپریشن کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تناؤ کو دور کرنے، اضطراب کو کم کرنے اور دماغ میں اہم کیمیائی تبدیلیاں شروع کرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورزش کے دوران نیورو ٹرانسمیٹر جیسے تناؤ کے ہارمونز اور اینڈورفنز پر اثرات زیادہ مثبت ذہنی حالت میں معاون ہوتے ہیں۔ ورزش نئے تجربات میں مشغول ہونے کے مواقع پیش کرتے ہوئے منفی خیالات سےبھی بچاتی ہے.

    بہت سے افراد مختلف قسم کی ورزشوں یوگا، مراقبہ، جم،واکنگ کے ذریعے افسردگی سے نجات پاتے ہیں،ورزش کے ہر طریقے کے اپنے فائدے ہیں، ذاتی طور پر، مجھے ہمیشہ پیدل چلنا پسند تھا۔ تازہ ہوا، فطرت سے قربت، بدلتے موسموں کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے ، زمین پر بکھرے پتے، بہار میں پھولوں کا کھلنا، رنگوں کی قسمیں جو قدرت کی طرف سے ہیں، ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈی ہوا آپ کے گال کو چھو رہی ہو اور جب آپ احساس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنا چہرہ اٹھا رہے ہیں تو گرم ہوا آپ کے گالوں کو چوم رہی ہے۔ دھواں، ٹریک کے معیاری پانچ چکر کے بعد، پارک میں ایک پرسکون جگہ،امن، خاموشی دنیا کو جاتے دیکھ رہے ہیں۔

    مراقبہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اپنے پیروں کے نیچے تازہ گھاس کھرچتے ہوئے ایک چٹائی نکالنا، ایک درخت کے نیچے بیٹھا، تمام خیالات سے خالی دماغ، صرف ہلکی ہوا کے جھونکے کی آواز اور باغ کی ہلکی ہلکی جھنکار! پرندے پھڑا پھڑا رہے ہیں، ویسے آنکھیں بند کر لیں، سانس لیں، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلیاں اوپر کریں اور آہستہ آہستہ دوبارہ کریں،مکمل سکون کا احساس آپ کو چُرا لیتا ہے۔ اتنا مکمل کہ آنکھوں میں آنسو آجائیں،

    ان طریقوں کو اپنے معمولات میں شامل کرکے، ہم ذہنی تندرستی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اندرونی سکون کا گہرا احساس پیدا کرنے کے لیے ورزش کی علاج کی طاقت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نئی زندگی

    نئی زندگی

    "مجھے محبت سے پیار ہے
    محبت کو مجھ سے محبت ہے۔ میرا جسم میری روح سے پیار کرتا ہے،
    اور میری روح مجھ سے پیار کرتی ہے۔
    ہم پیار کرنے میں باریاں لیتے ہیں۔”
    رومی

    رومی کے گہرے الفاظ محبت کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ نہ صرف افراد کے درمیان تعلق کے طور پر، بلکہ خود کی دریافت کی طرف سفر کے اعتبار سے بھی۔ محبت، اپنی خالص ترین شکل میں، ہمارے وجود کے جسمانی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر محیط ہے۔ جسم اور روح کا آپس میں ملنا خدا کے اس ارادے کا ثبوت بن جاتا ہے، کہ وہ محبت سے ہم آہنگی پیدا کرے۔

    دوسروں سے صحیح معنوں میں محبت کرنے کے لیے، سب سے پہلے خود سے محبت کا سفر شروع کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی قوت جو اپنی روح کی پہچان کراتی ہے۔ اس خود شناسی میں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا تجزیہ کرنا، اور اچھے اور برے میں تفریق کرنا شامل ہے۔ اس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے لیے غیر مشروط محبت کو فروغ دیتے ہوئے، اللہ کے قریب، اور اپنی مشترکہ انسانیت کے قریب آتے ہیں۔

    بعض اوقات غیر متوقع روابط، قطع نظر ان کی نوعیت کے، خود آگاہی کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ رابطہ، چاہے کسی بھی رنگ میں ہو، ہمیں اپنے جذبات اور خواہشات پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ ہمیں زندگی کی مشکلات، بشمول نئے تعلقات کی تشکیل کے متعلق ہمارے نقطہ نظر پر سوال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب ہم خود سے محبت کی بات کرتے ہیں، تو اس میں جسمانی اور روحانی دونوں جہتیں شامل ہوتی ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے آپ سے محبت کر سکتے ہیں، اگر ہم ایک کو دوسرے کے حق میں نظرانداز کریں؟ اسی طرح، کیا کوئی بامعنی رشتہ کسی شخص کی روح کی گہرائیوں، اس کے وجود کے جوہر میں جائے بغیر قائم کیا جا سکتا ہے؟ روح سے محبت کیے بغیر، کیا جسم کی محبت صرف ہوس نہیں ہے کیا؟

    مختصراً، محبت کے سفر میں ہمارے وجود کے ٹھوس اور غیر محسوس دونوں پہلوؤں کو اپنانا شامل ہے۔ جسم اور روح کے باہمی ربط کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم اپنے آپ کو محبت کے خدائی مقصد سے ہم آہنگ کرلیتے ہیں۔ یہ سمجھ نہ صرف دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو تقویت بخشتی ہے، بلکہ اپنے ساتھ، اور بالآخر خداوند کے ساتھ گہرے تعلق کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔
    یہ سمجھ ایک نئی زندگی ہے۔

  • یوکرین روس جنگ ،غزہ نے ماند کر دی

    یوکرین روس جنگ ،غزہ نے ماند کر دی

    یوکرین میں جاری تنازعہ، اگرچہ اہم ہے، تاہم غزہ کی لڑائی نے اسے ماند کر دیا ، صدر پوتن کی جنگ بین الاقوامی توجہ حاصل کر رہی ہے، صدر ولادیمیر زیلنسکی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور وہ گھریلو محاذ پر اہم مسئلے سے نمٹنے کے لئے اتحادیوں سے مالی اور گولہ بارود کی مدد طلب کرتے ہیں

    یوکرین کے فوجی کمانڈر، ویلری زلوزنی، نے یوکرین کی فوج کو درپیش چیلنجوں کا کھل کر اعتراف کیا جن میں نئے اہلکاروں کی بھرتی اور انکی تربیت شامل ہے، زلوزنی نے جنگ کی طویل نوعیت، اگلے مورچوں پر سپاہیوں کی موجودگی کے محدود مواقع، اور متحرک قانون سازی میں قانونی خامیوں پر روشنی ڈالی، یہ سب شہریوں میں فوج میں بھرتی ہونے کے لیے کم ہوتی ہوئی حوصلہ افزائی میں معاون ہیں۔

    زلوزنی کے مطابق، جنگ کا بڑھا ہوا دورانیہ، قانون سازی کے خلاء کے ساتھ مل کر متحرک ہونے سے بچنے کے لیے، شہریوں کی فوج میں خدمات انجام دینے کی خواہش کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہ یوکرین کی مسلح افواج کو برقرار رکھنے اور جاری دشمنی کے دوران ان کی تاثیر کو برقرار رکھنے میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

    بڑھتے ہوئے تنازعہ کے جواب میں، یوکرین نے ایک حملے کے بعد مارشل لاء نافذ کر دیا، جس میں 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام مردوں کے لیے فوجی تربیت لازمی قرار دی گئی، جنہیں ضرورت کے وقت بلایا بھی جا سکتا ہے، ان افراد پر سخت سفری پابندیاں لاگو کی گئی ہیں،

    فوجی اور مالی امداد کی فوری ضرورت کے باوجود، یوکرین کے لیے مغربی حمایت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، خاص طور پر غزہ کے تنازع کے بعد، اس پیشرفت نے یوکرین کو ایک نازک حالت میں چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

    دریں اثنا، روس نے کیف پر اپنے حملوں کو تیز کر دیا ہے،رپورٹس کے مطابق دو راتوں کے دوران لگاتار حملوں میں ڈرون استعمال کر تے رہے۔ انتظامیہ کے سربراہ Serhiy Popko نے اطلاع دی کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کے دوران کیف اور اس کے مضافات میں تقریباً 10 ڈرونز کو کامیابی سے روکا،

    (مزید تفصیلی معلومات کے لیے، آپ ویلیری زلوزنی کے سرکاری بیان کا حوالہ دے سکتے ہیں: https://infographics.economist.com/2023/ExternalContent/ZALUZHNYI_FULL_VERSION.pdf

    جیسا کہ صورتحال سامنے آتی جارہی ہے، بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ چوکنا رہے اور یوکرین کو درپیش پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے اور تنازع کے پائیدار حل کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

  • تمباکو  سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پیسےکا ضیاع، بیماریوں کا باعث،آج نہیں تو کل ڈاکٹر کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک کرنی پڑے گی، بہتر یہی ہے کہ کل کا انتظا رکرنے کی بجائے،آج ہی سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیں، ہاں، سگریٹ نوشی ترک کی جا سکتی ہے مگر اس صورت میں جب آپ سوچیں اور فیصلہ کریں، جب سوچ کر فیصلہ کر لیں گے تو یہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا، چلنا شروع ہوں گے تو منزل تک پہنچ جائیں گے

    اگر سگریٹ نوشی ترک کرنے بارے نہیں سوچا تو لازمی سوچیں، اپنی صحت کے بارے سوچیں، اپنے اہلخانہ کے بارے سوچیں اور پھر ارادہ کریں، فیصلہ کریں، یقینا کامیابی ہی ملے گی،سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہے، معاشرے میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو سگریٹ ترک کر چکے اور صحتمندانہ زندگی گزار رہے ہیں،اسکے لیے منصوبہ بندی کرنی ہو گی اور اپنے دل و دماغ میں یہ خیال لانا ہو گا کہ سگریٹ ….مضر صحت ہے، ڈاکٹر کے کہنے پر اگر چاول، تلی ہوئی چیزیں کچھ دن چھوڑ دیتے ہیں، کھانے میں نرم غذا کھاتے ہیں تو سگریٹ نوشی کو بھی کم از کم ڈاکٹر کے کہنے سے قبل ہی چھوڑا جا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ نیکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں جو سگریٹ اور دیگر تمباکو کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے،ماہرین کے مطابق سگریٹ کو ترک کرنے کے لیے نیکوٹین متبادل تھراپی کریں یعنی چیونگ گم، انہیلر سمیت کچھ دوسری چیزوں کا استعمال کریں،نہ چھوڑنے کی عادت،اور دماغ میں بسا لینا کہ نہیں چھوڑ سکتے، ایسا بالکل بھی نہیں اگر عزم مصمم کر لیں تو سگریٹ…ابھی بھی اور اسی وقت ہی چھوڑا جا سکتا ہے،آپ کب سے تمباکو نوشی کر رہے ہیں، کتنے سگریٹ پیتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گابھلے ایک منٹ میں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں، کوئی ہچکچاہٹ ہے تو معالج سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ تمباکو نوشی چھوڑنا صحت کو بہتر بناتا ہے دل کی بیماری، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماری سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔سگریٹ نوشی ترک کرنا خاندان کے افراد، دوستوں اور دوسروں کو سانس لینے کے دوسرے دھوئیں سے منسلک خطرات سے بچانے کا واحد بہترین طریقہ ہے۔سگریٹ کا دھواں ان لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہےجو سگرٹ نہیں پیتے مگر اس دھویں میں سانس لیتے ہیں،

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگر سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے تو اس میں تاخیر کریں، گھنٹے بعد سگریٹ پیتے ہیں تو دو گھنٹے، پھر چار ،پھر چھ گھنٹے بعد پیئیں، آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھاتے جائیں ،بالآخر …آپ آخری سگریٹ پی کر …سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہوں گے.

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے سوچیں کہ سگریٹ سے کتنا مالی نقصان ہو رہا، جو قیمت سگریٹ کی دی جا رہی اسی قیمت میں اور کام کئے جا سکتے ہیں،انہی پیسوں کا دودھ پی کر صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے، فروٹ کھایا جا سکتا ہے،سوچیں…آپکا دماغ آپ کو مجبور کر دے گاکہ واقعی سگریٹ مضر صحت اور پیسے کے ضیاع کا طریقہ ہے،موجودہ مہنگائی کے دور میں اگر اور کچھ نہیں کرتے تو سگریٹ ترک کرکے سگریٹ پر خرچ کی جانے والی رقم مشکل وقت کے لئے محفوظ کر لیں

    ترک سگرٹ نوشی سے آپ اپنےآپ کو نہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے، بیماریوں سے محفوظ رہیں گے، مالی بچت بھی ہو گی،اسلئے بغیر کسی تاخیر..فیصلہ کریں، ترک کریں اور نعرہ لگائیں..تمباکو سے پاک پاکستان.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید