Baaghi TV

Category: متفرق

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    معصوم، بے زبان و بے گھر کتوں کو مارنے کی باتیں سن کر دل شدید دکھی ہے۔ پورے پاکستان میں کتا کاٹنے کے واقعات کی تعداد محض تین سے چار ہے۔ معصوم کتوں کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے سوچیے کہ ہم نے ان بے زبانوں کو سوائے نفرت کے دیا ہی کیا ہے؟

    ُگاؤں سے لیکر شہر تک ہر جگہ ان کو دیکھتے ہی دھتکار کر بھگا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بلاوجہ پتھر مار کر یا چھڑی کے ساتھ پیٹا جاتا ہے کہ بھاگو یہاں سے، جب آپ بے زبانوں کو بلاوجہ پتھر مارو گے تو جواب میں خیر کی امید کیونکر رکھنی۔آپ نے کسی بے گھر کتے یا بلی کو آخری دفعہ روٹی کا ٹکڑا کب دیا، کبھی پرندوں کیلئے گھر کی چھت یا باغیچے میں دانہ یا پانی رکھا؟ کل سے نہیں آج سے ہی تجربہ کرکے دیکھ لیجئے گھر کے باہر گھومتے کسی کتے یا بلی کو روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دیجئے وہ فوری طور پر آپ کو پلکیں جھپک کر یا دم ہلا کر شکریہ ادا کرے گا جبکہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کہ رزق کی فراہمی کیلئے اللہ کا شکر ادا کرتا نظر آئے گا۔

    یورپین ممالک کی اکثریت جبکہ بہت سارے اسلامی ممالک میں بھی جنگلات، سڑک کنارے اور فٹ پاتھ پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے باکس رکھے ہوتے ہیں کہ کتے اور بلیاں موسمی شدت سے بچ سکیں جبکہ "فوڈ شئیرنگ ود اینمل” تو عام رویہ ہے۔بچپن میں ہم بہن بھائیوں نے صبح ناشتے میں امی سے دو روٹیاں لینی ایک خود کھانی جبکہ ایک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے پرندوں کوڈال دینے۔امی نے گھر کی چھت پر مٹی کے کونڈوں میں گندم، باجرہ اور پانی بھر کر رکھ دینا کہ پرندے کھائیں گے۔بچن میں ایک دفعہ سکول جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کہ ایک کتا گندگی کے ڈھیر سے کھانے کیلئے کچھ تلاش کر رہا تھا میں نے لنچ بکس والا کھانا اسے دے دیا،کھانا کھا کر اس نے جس طرح سے آسمان کی طرف دیکھا وہ منظر دیدنی تھا کہ یہ ایک روٹی کیلئے بھی فوری اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے۔

    تب سے آج تک عادت ہے کہ میں ڈبل روٹی اور بسکٹ ساتھ رکھ لیتا ہوں جہاں بھی کتا بلی یا جانور بھوکا لگے اسے کھلا دیتا ہوں۔ پریمیئم، سگنیچر اور infinte کارڈ پر مختلف بیکری شاپ پر 50فیصد تک ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، اپنی استطاعت کے مطابق ڈسکاؤنٹڈ اشیاء لے کر ان بےزبان جانوروں میں تقسیم کر کے جو دلی تسکین ملتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    انسانیت صرف انسانوں کے ساتھ اچھے سلوک کا نام نہیں بلکہ اصل انسانیت یہی ہے کہ آپ اپنے ارد گرد تمام جانداروں کاخیال رکھیں خاص طور پر بے زبان پرندوں اور جانوروں کا، انہیں بھی بھوک لگتی ہے، انہیں ناصرف کھانا دیجئے بلکہ سردی کی شدت اور گرمی کی حدت سے بچانے کیلئے بھی جتنا ہوسکے ضرور کوشش کریں۔ بے زبان جانوروں پر پتھر برسانے، تشدد کرنے اور انکو زہر دیکر مارنے کی بجائے انہیں روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دے دیں۔ جس کتے کو آپ نے کبھی ایک ٹکڑا روٹی بھی دی ہوگی وہ کبھی پلٹ کر آپکو نہیں کاٹے گا۔ ان بے زبان اور معصوم جانور کو نفرت اور زخم نہیں محبت اور پیٹ بھرنے کیلئے کھانا دیجئے۔ فریش کھانا نہیں دے سکتے تو کم از کم مہمانوں کا بچا ہوا کھانا ہی ڈال دیا کریں۔

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی آلودگی کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔ یورپ میں کتے گھر کے فرد بھی ہیں اور معاشرے کا کارآمد کردار بھی جہاں یہ سکیورٹی سے لیکر بچوں کوانسانی شکل والے حیوانوں سے بچا کر باحفاظت سکول ڈراپ کرنے تک کا کام کرتے ہیں۔حضرت عمر کا کہنا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک پیاس سے مرگیا تو اللہ کو حساب دینا ہوگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک بہت گنہگار خاتون کو اللہ نے اس بات پر معاف کر دیا کہ اس نے اپنے موزے کی مدد سے کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو دیا ۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کے تحفظ کے لیے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران انتہائی قابل تعریف و تقلید کردار ادا کر رہے ہیں ۔ لاہور پولیس کے زیر انتظام پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر میں زخمی کتے اور بلیوں کے لیے بہترین علاج معالجہ اور کھانےکی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ہم اپنے پالتو کتوں ہسکی، جرمن شیفرڈ اور گولڈن ریٹریور پر ماہانہ پچاس ہزار سے دولاکھ تک خرچ لیتے ہیں لیکن گلیوں بازاروں میں گھومنے والے ان بے گھروں کوایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں خاص طور پر انتہائی درد دل رکھنے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ میڈم خدارا ان بے زبان و بے گھر مخلوق کا سہارا بنیں، ان کیلئے ووڈن ہوم، ویکسینیشن، ویٹنری ہسپتال، اینیمل ریسکیو سینٹر اور معیاری خوارک کی فراہمی کا انتظام کرکے پنجاب کو بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص کے ساتھ متعارف کروائیے۔

  • قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    لیڈر لوگوں کو شعور دیتے ہیں۔ نئی نسل کو انقلاب کے لیے تیار کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ اور دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ انہیں کسی نام نہاد طاقت کی آشیرباد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی ہی ایک متاثر کن شخصیت، دور اندیش لیڈر، مدبر سیاست دان اور فہم و فراست سے آراستہ قانون دان ہمارے محسن، ہمارے قائد، محمد علیؒ جناح ہیں۔

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے۔ کہ مسلمانوں نے آٹھ سو سال سے زائد عرصہ یہاں حکمرانی کی تھی۔ پھر یہاں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔ اور انگریزوں کے دور سو سالہ دورِ حکومت کا آغاز ہو گیا۔ چونکہ مسلمان اپنے وطن پہ اس بیرونی تسلط کے خلاف مزاحمت کا موجب رہے تھے۔ اس لئیے اس دو سو سالہ نو آبادیاتی تسلط میں ایک طرف انگریزوں کے زیرِ عتاب ر ہے۔ تو دوسری طرف ہندوؤں کے متعصبانہ رویہ کا بھی شکار رہے۔ مسلمانوں کے اس محکومی کے دور میں ایک چراغ روشن ہوا۔ جن کا نام محمد علیؒ جناح تھا۔ جو آگے چل کے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے نجات دہندہ و رہبر ثابت ہوئے۔
    قائدِ اعظم محمد علیؒ جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز 1982ء میں کیا۔ اور 1893ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد قانون کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے لندن روانہ ہو گئے۔ آپ بچپن سے ہی منفرد اور تعمیری سوچ کے حامل تھے ۔ معروف مصنف اور سوانح نگار ہیکٹر بولیتھو نے 1954ء میں قائدِ اعظمؒ کی سوانحِ حیات Jinnah: Creator” of Pakistan” میں ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہ ‘ قائدِاعظمؒ نے کھارادر میں اپنے محلے کے بچوں کو کنچے کھیلتے دیکھا تو ان سے کہا کہ وہ کنچے نہ کھیلیں، اس سے ان کے ہاتھ اور کپڑے گندے ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے ان بچوں کو کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا اور کرکٹ سکھائی بھی۔ پھر جب قائدِاعظمؒ برطانیہ جانے لگے تو انہوں نے اپنی کرکٹ کِٹ انہی بچوں کے حوالے کردی۔

    قائدِ اعظمؒ ایک سچے مسلمان اور محبِ رسول اللہﷺ تھے ۔ آپ نے لندن کی "لنکنز اِن” یونی ورسٹی میں اس لئیے داخلہ لینے کو ترجیح دی ۔ کہ اس کے صدر دروازے کے اوپر دنیا کو قوانین سے متاثر کرنے والے عظیم رہنماؤں میں سب سے اوپر جناب رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا نامؐ مبارک درج تھا۔ آپ نے 19 سال کی عمر میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ اور 1896ء میں وطن واپس آ گئے ۔ قائدؒ نے وطن واپسی پہ لندن میں اپنے ساتھی وکلاء سے کہا۔ "میں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہندوستان واپس جا رہا ہوں”۔

    وطن واپسی پہ قائدِ اعظمؒ نے برصغیر کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ آپ نے مسلمانوں کے حقوق کے لئیے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا ۔ اور 1906ء میں نیشنل کانگریس میں شمولیت اخیتار کی۔ آپ کو ہندو، مسلم اتحاد کا سفیر کا خطاب دیا گیا۔ مگر کانگریس کا عملی طور پہ حصہ بننے کے بعد قائدِ اعظمؒ پہ ہندو متعصبانہ اور مفاد پرست رویہ جات نے آشکارا کر دیا ۔ کہ اس کا مسلمانوں کی بہتری سے کوئی واسطہ نہیں ۔ 1913ء میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اخیتار کی ۔ اور مسلمانوں کے حقوق اور انکی جُداگانہ حیثیت کی بقاء کے لئیے سیاسی و آئینی جہدوجہد کا باقائدہ آغاز کر دیا ۔ جو آپ نے تادمِ مرگ جاری رکھا۔

    برصغیر کے ہندو سیاست دانوں اور قائد اعظمؒ کی سوچ و فکر کے زاویوں میں بے حد فرق تھا۔ ایک دفعہ گاندھی نے ان سے کہا:۔”آپ نے مسلمانوں پر مسمریزم کر دیا ہے”۔ جناحؒ نے برجستہ جواب دیا:۔” جی اور آپ نے ہندؤوں پر ہپناٹزم ”۔

    قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے اپنی دور اندیش سوچ اور فہم و فراست کے سبب یہ جان لیا تھا۔ کہ مسلمانوں کی بہتری و بقاء صرف الگ وطن کے حصول میں ہے۔ آپ نے اپنی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں اور مدبرانہ حکمت ء عملی سے مسلمانوں میں حیران کن عزم، اتحاد اور انقلابی سوچ و افکار پھونک دیئے تھے۔ مسلمانوں کی بہترین دانشورانہ انداز میں رہبری پہ قائد کو قائدِ اعظمؒ کا خطاب پہلی بار 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پٹنہ میں اجلاس میں مولانا مظہر الدین کی طرف سے ملا ۔ جو پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ سن 1941ء میں ایک مرتبہ قائدِ اعظمؒ مدراس میں مسلم لیگ کا جلسہ کر کے واپس جارہے تھے۔ کہ راستے میں ایک قصبہ سے گذر ہوا۔ جہاں مسلمانوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ سب پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اسی ہجوم میں پھٹی پرانی نیکر پہنے ایک آٹھ سال کا بچہ بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا،اسے دیکھ کر قائدِ اعظمؒ نے اپنی گاڑی روکنے کو کہا اور لڑکے کو پاس بلا کر پوچھا ”تم پاکستان کا مطلب سمجھتے ہو؟“لڑکا گھبرا گیا۔قائدؒ نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے پیار سے پھر وہی سوال پوچھا۔ لڑکا بولا ۔ ”پاکستان کا بہتر مطلب آپ جانتے ہیں،ہم تو بس اتنا جانتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت وہ پاکستان اور جہاں ہندووں کی حکومت وہ ہندوستان۔“قائدِ اعظمؒ نے اپنے ساتھ آئے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”مدراس کا چھوٹا سا لڑکا پاکستان کا مطلب سمجھتا ہے۔۔ لیکن گاندھی جی نہیں سمجھ سکتے۔“یہ بات صحافی نے نوٹ کرلی۔ اور اگلے روز تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہو گئی۔

    امریکی مورخ و مصنف سٹینلے وولپرٹ 1984ء میں شائع ہونے والے اپنی مشہور کتاب "Jinnah of Pakistan” میں لکھتے ہیں ۔
    “تاریخ کا رخ بدلنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، دنیا کا نقشہ بدلنے والے اس سے بھی کم، اور ایک نئی قوم کی بنیاد رکھنے والے تو نہ ہونے کے برابر۔ محمد علیؒ جناح نے یہ تینوں کام انجام دیئے۔”

    بابائےؒ قوم نے ناصرف برصغیر کے مسلمانوں کو ایک متحد قوم میں ڈھالا، بلکہ اس قوم کی آنے والی نسلوں کے لئیے اپنے غیر متزلزل عزم اور مسلسل جدو جہد وجہد سے ایک آزاد وطن پاکستان بھی حاصل کیا۔ پاسبانِؒ ملت نے 1947ء میں دستور ساز اسمبلی میں خطبہِ صدارت میں ایک واضح لائحہء عمل دیتے ہوئے فرمایا؛” اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں ۔ تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی ہو گی۔ ”

    زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ 25 دسمبر، یومِ قائد کے موقع پر، قوم محسنِ ملت قائداعظم محمد علیؒ جناح کو سلام پیش کرتی ہے۔
    ؂
    ملت کا پاسباں ہے محمد علیؒ جناح
    ملت ہے جسم، جان ہے محمد علیؒ جناح

  • گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ،  کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ، کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    "برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا”

    غازیوں شہیدوں کی دھرتی تحصیل گوجرخان جس نے نامور شخصیات کو جنم دیا اس دھرتی کے ماتھے کے جھومر اور خوبصورت گلدستے میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر کئی اہم عہدوں کے نام شامل ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس یہاں کے باسی اور خطے کا مستقبل معصوم پھول جیسے بچے سرکاری جدید سہولیات سے آراستہ پارک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت 2010 میں اس وقت کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف کے حکم پر محکمہ جنگلات کے وسیع رقبے چالیس کنال پر بننے والا شریف فاریسٹ پارک گزشتہ پندرہ سالوں میں پروان تو نہ چڑھ سکا بلکہ مقامی سرکردہ سیاسی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث ایک بھیانک داستان ضرور بن گیا، جبکہ اس کے علاوہ بعدازاں جی ٹی روڈ اور سروس روڈز کے درمیان بننے والے متعدد سمال پارک جو کبھی خوبصورت اور آباد ہونے کے ساتھ خوشی اور تفریح کا سماں ہوا کرتے تھے اب حکومتی اداروں، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی، ضلعی و مقامی انتظامیہ، محکمہ جنگلات سمیت تمام حکومتی نمائندگان کی عدم توجہی اور بےحسی اور وسائل کے غلط استعمال اور ان پر توجہ نہ دینے کے سبب زبوں حالی کا شکار اور کھنڈرات بن چکے ہیں جو تفریحی کے بجائے ویرانی کے مناظر کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے لگے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جڑی بوٹیوں کی بہتات سے شریف فاریسٹ پارک جنگل کا سماں پیش کرتا ہے، گند اور کچرے سے اٹے واش رومز متعلقہ اداروں کے منہ چڑاتے ہیں، یہ سب وسائل کی کمی، بدانتظامی معاشرتی ترقی میں رکاوٹ سمیت سیاسی رہنماؤں، اداروں کی غفلت سے یہ عظیم جگہیں کھنڈر بن کر ویران ہو چکی ہیں، جو عوامی بے بسی کی عکاسی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس سے مقامی باسیوں کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہی پارکس لوگوں کو جوڑنے، سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے بجائے تنہائی، بے بسی کا احساس دلانے سمیت والدین کی پریشانی کا موجب بھی ہیں کہ بچے کہاں کھیلیں، پارک فنکشنل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ شہر کے اندر بنے سمال پارکس جن پر لاکھوں کروڑوں لگائے گے مگر انتظامیہ، پی ایچ اے، دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنے، ٹوٹے جھولوں، بنچوں کی مرمت نہ ہونے، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ناقابل استعمال ہوکر مقامی انتظامی افسران کی کرپشن کی داستانیں سنا رہے ہیں انتظامیہ پارکوں کی مناسب دیکھ بھال میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کے پارکوں میں ویرانیوں کے ڈیرے ہیں جسکے باعث نشئیوں اور آوارہ نوجوان نے انکو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ جس کے سبب شہر کے اندر ان منی پارکس میں خواتین نے بھی جانا بند کر دیا ہے تمام پارکس تفریح کی بجائے مسائل کی جگہ اور خطرناک بچھوؤں ،سانپوں اور حشرات کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی نے بھی شریف فاریسٹ پارک جو انتظامی عدم توجہی کا شکار ہو کر تباہ حالی کے مناظر پیش کر رہا ہے، جس میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری میں کوتاہی کی نشاندہی کے ساتھ انکی ذمہ داریاں باور کروائی گئیں۔ جس پر ہائر اتھارٹی متعلقہ حکام سمیت ضلعی و مقامی انتظامی افسران کو ہدایات جاری ہوئیں مگر بعدازاں ان پر عملدرآمد نہ ہونا بھی معنی خیز ہے، آخر ایسی کونسی وجوہات یا پس پردہ طاقتیں ہیں جو سرکاری وسیع رقبے پر اجڑے پارک کو فعال نہیں ہونے دے رہیں؟ آخر کس کو فائدہ پہنچانے کی خاطر سمال پارکس پر توجہ مرکوز نہیں کی جا رہی؟ کس کی ایما، کس کے کہنے اور کسے نوازنے کی خاطر متواسط طبقے کے افراد اور بچوں سے پارکس جیسی سہولت کو چھین کر سرکاری چالیس کنال لبِ جی ٹی روڈ رقبے کو ویران اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے؟ جبکہ اس کے برعکس مقامی سیاسی رہنماؤں کا اس اہم بنیادی مسلے پر چشم پوشی اختیار کرنا اور اسے مسلسل پس پشت ڈالنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جس طرح وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز پنجاب کے عوام کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں اور خاص کر بچوں کی تفریحی مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش پر انکی توجہ مرکوز ہے اگر ہمارے مقامی رہنما انکو تحصیل گوجرخان کے باسیوں بلخصوص بچوں کی اہم ضرورت کی جانب توجہ مبذول کروائیں تو یقینا جس طرح انھوں نے پنجاب کے دیگر حصوں میں پارکس کی بحالی اور جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی ہے تو وہ اہلیان گوجرخان کو دئیے گے دیگر جدید اور وقت کی اہم ضرورت پروجیکٹس کیساتھ شریف فاریسٹ پارک کو جدید سہولیات کیساتھ آراستہ کرنے کا بہت بڑا تحفہ دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ تحصیل گوجرخان کے باسیوں، بچوں کے کرب کو مدنظر رکھتے ہوئے شریف فاریسٹ پارک جسے مسلم لیگ ن نے ماضی میں بنوایا تھا اسے فنکشنل کروائیں بچوں کے لیے جدید جھولے، بیٹھنے کے لیے بنچز، خواتین و حضرات و بزرگوں کے لیے آرام دہ واکنگ ٹریکس بنوا کر تحصیل گوجرخان کے باسیوں کیساتھ اپنی بے پناہ اور انکو بیش قیمتی تحفہ عنایت فرمائیں۔ مزید برآں پارکوں کی دیکھ بھال اور وہاں موجود سامان اور ملازمین کو چیک کرنے کے لئے عوامی کمیٹیاں بنوائی جائیں جو نہ صرف نگرانی کے فرائض انجام دیں بلکہ اُس سامان کی حفاظت بھی کریں کیونکہ پارکوں کے نام پر مرمت اور دیگر سامان کی خریداری تو کی جاتی ہے لیکن یہ حقیقت سامنے نہیں آتی کہ وہ سامان آخر کہاں چلا جاتا ہے۔ اور تمام پارکس کے لیے سالانہ بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ پارکس فعال رہیں۔ جس سے بچے، بزرگ، اور خواتین و حضرات تفریحی جیسی بنیادی سہولیات سے لطف اندوز ہوتے رہیں کیونکہ مہنگائی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے متواسط طبقہ اپنے بچوں کو تفریحی کے لیے راولپنڈی یا مقامی نجی پارکس میں نہیں لے جا سکتا ہے۔ بقول شاعر کے (امیدِ بہار)
    "گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”

  • این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور جغرافیائی اہمیت ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور محفوظ شاہراہوں سے ہی ممکن ہے۔ انہی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا عظیم منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی سرگرمیوں کا نیا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔این-25 قومی شاہراہ بلوچستان کے دل میں موجود اہم شہروں مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک اہم تجارتی راستے کا حصہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافر، ٹرک، بسیں اور تجارتی گاڑیاں اس شاہراہ پر سفر کرتی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس سڑک کی خستہ حالی، تنگ گزرگاہیں اور خطرناک موڑ ٹریفک حادثات اور سفر میں دشواریوں کا سبب بنتے رہے۔ یہی وجوہات اس منصوبے کی فوری ضرورت کی بنیاد بنیں۔

    این-25 کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مجموعی طور پر 198 کلومیٹر طویل ہے جسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،
    پہلا حصہ،مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر،اس حصے میں پرانی روڈ کی مرمت، کشادگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
    دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر،یہ حصہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کوئٹہ شہر کی ٹریفک لوڈ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
    تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلومیٹریہ مرحلہ سب سے اہم اور چیلنجنگ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر)،چمن باؤنڈز (2.5 کلومیٹر)جیسے اہم اسٹرکچرز شامل ہیں۔اسی تیسرے حصے پر پہلے مرحلے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیزی سے کام جاری ہے۔ قلعہ عبداللہ تا چمن سیکشن نہ صرف سب سے زیادہ ٹریفک لوڈ برداشت کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی تجارت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی کشادگی اور بہتری سے پورے خطے میں سفری اور تجارتی سہولت میں انقلاب آ جائے گا۔

    خوجک ٹنل بلوچستان کا ایک تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل حصہ ہے۔ اس 2.5 کلومیٹر طویل ٹنل پر جدید طرز پر بحالی اور توسیع کا کام فروری میں شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی ڈیزائننگ، حفاظتی دیواریں، وینٹی لیشن سسٹم اور لائٹنگ سسٹم خوجک ٹنل کو عالمی معیار کے برابر لے آئیں گے۔ اس ٹنل کی بہتری سے سردیوں میں برفباری کے دوران ٹریفک جام اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔منصوبے کی تعمیر پاکستان کے معروف انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او مشکل ترین علاقوں میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری، محفوظ روڈ الائنمنٹ، ڈرینیج سسٹمز، فلائی اوورز اور حفاظتی دیواروں کی تنصیب جیسے چیلنجز ایف ڈبلیو او کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔

    چونکہ این-25 نہ صرف تعمیراتی لحاظ سے حساس منصوبہ ہے بلکہ اس پر روزانہ عوام اور تجارتی ٹریفک بھی چلتی ہے، اس لیے اس کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے۔ یہ ادارے تعمیراتی عملے، مشینری اور مقامی آبادی کی مکمل حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے علاقے میں اعتماد اور امن کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معاشی، سماجی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا زمینی تجارتی دروازہ ہے۔ بہتر شاہراہ سے تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت تیز ہوگی، جس سے درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کشادہ سڑکوں اور بہتر الائنمنٹ کی بدولت سفر کم وقت اور زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ، کھڈوں اور تنگ موڑوں سے نجات ملنے سے مسافروں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں مقامی لیبر، مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، کھانے پینے کی سروسز اور دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ طویل المدتی طور پر بھی یہ شاہراہ تجارت میں اضافے کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔سرد علاقوں خصوصاً خوجک ٹاپ پر برفباری کے دوران حادثات عام تھے۔ نئی سڑک، ٹنل کی بہتری، حفاظتی گارڈریل اور جدید سائن بورڈز کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔سڑکوں کی بہتری ہمیشہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب علاقے میں تجارت بڑھے گی، روزگار ملے گا تو امن و استحکام خود بخود مضبوط ہوں گے۔ این-25 اس سلسلے میں حقیقی معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ ثابت ہو گی۔

    این-25 کی کامیاب تکمیل عوام کے تعاون، حکومتی ذمہ داری اور سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ منصوبہ بتا رہا ہے کہ جب ریاست اور عوام ایک سمت میں قدم بڑھائیں تو ترقی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بلوچستان کی عوام اس منصوبے کو امن، ترقی اور معاشی روشنائی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔این-25 شاہراہ نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل قریب میں یہ سی پیک، وسطی ایشیائی ریاستوں، گوادر پورٹ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا مرکزی راستہ بن جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھیں گے، خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بلوچستان کو وہ اہمیت ملے گی جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

  • نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں،تحریر: علی ابن ِسلامت

    نریندر مودی کی باریک وارداتیں جو وہ پاکستان کو کمزور کرنے اور نقشے سے مٹانے کیلئے کر رہا تھا وہ وارداتیں مودی کو ہی کھا گئیں، انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم بنا تب سے انڈیا پاکستان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہیں ۔کوئی شک نہیں کہ پہلی ٹرم میں مودی پاکستان کیلئے خطرناک جبکہ انڈیا کیلئے مضبوط لیڈر بن کر ابھراکیونکہ انڈیا کی سفارتی کوششوں سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا گیا تھا، یہاں بہت سی سیاسی غلطیاں ایک شخص نے کیں جس کا نام عمران خان تھا ، عجلت میں عمران خان کی حکومت نے قانون پہ قانون پاس کروائے ۔ آخر کارسالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا لیکن اس وقت تک مودی اور کئی معاملات پر باریک واردتیں ڈالنے کی تیاری کر چکا تھا ۔مثال کے طور پر جیسے ہی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلا اس کے بعد مودی نے کشمیر میں اوڑی حملہ کروا کے پاکستان کے ساتھ بارڈر گرم کر دیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں بارڈر پر پہنچ گئیں مودی نے اپنے شہریوں کو مروا کر ان کی لاشوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا۔

    14 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچایا گیا اور انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن کرکے خود ہی اپنے تین درجن سے زائد فوجی مار دئیے۔ تب بھی الحمدللہ پاکستان حسب روایت عسکری سطح پر اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا، اور مودی کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا ، لیکن پلوامہ ڈرامے کے بعد مودی نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی باریک واردات ڈالی اور پاکستان کو دائیں دکھا کر بائیں ماری گئی۔پلوامہ کے بعد 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا پاکستان کو شدید نقصان پہنچا،کیونکہ ایک طرف پاکستان کو عالمی سطح پر الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف کشمیر کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہو سکے، سفارتی سطح پر ہمیں ناکامی ایک نالائق حکومت کی وجہ سے ہوئی کیونکہ یہاں عمران حکومت کے چند سیاسی مفاد پرستوں کی کمزوریوں نے مودی کو سیاسی فائدے حاصل کروا دئیے تھے۔ مارچ2019 میں ابوظہبی میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں انڈیا کو پہلی بار "گیسٹ آف آنر” کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اُس وقت کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا، یہ دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی تھی جب پلوامہ ڈرامے کے بعد پاک بھارت کشیدگی عروج پر تھی، او آئی سی میں انڈین وزیر خارجہ کا جانا اور خطاب کرنا اوپر سے پاکستان مخالف خطاب کرنا ، یہ بھی نریندر مودی کی باریک واردات تھی ۔

    پلوامہ ڈرامے کی پوری ڈویلپمنٹ کے بعد مودی نے پاکستان مخالف کاروائیوں کے نام پر ووٹ لئے اور پھر سے وہ انڈیا کا وزیر اعظم بن گیا اور نئی سازشیں رچنا شروع ہو گیا ، لیکن اندورونی معاملات کی خرابی باعث کوئی بڑا ایڈونچر نہ کر سکا۔لیکن اس دوران خطے میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی اور افغانستان سے امریکی فوج نے انخلاء کا اعلان کر دیا جس کو پاکستان کی اہم کامیابی سمجھا گیا جس کو عمران خان نے ایک بار طالبان کے اقتدار کو سیلیبریٹ کیا اور ایک وقت کیلئے لگا کہ مودی کی اشرف غنی دور میں کی گئی ساری انویسٹمنٹ ڈوب گئی ہے لیکن یہاں بھی پاکستان سفارتی طور پر ناکام ہوا اور مودی کامیاب اور یہ سب عمرا ن خان کی وجہ سے ہوا ،کیونکہ طالبان انڈیا کے معاملے میں اشرف غنی کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں اور اس وقت مودی کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ مودی ایک واردات تھی ۔اب مودی کی تیسری ٹرم چل رہی ہے جس میں اس نے پلوامہ ٹو کیا یعنی پہلگام اٹیک۔۔ 22 اپریل کو کشمیر میں پہلگام کے مقام پر اپنے ہی لوگوں کیخلاف ایک اور فالس فلیگ آپریشن کرکے دو درجن سے زائد سیاح مار دئیے اور ایک بار پھر اس وقوعہ کا سارا الزام لگایا اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر لگا حملہ کر دیا، پھر جو پاکستان نے انڈیا کا اور انڈین گجرات کے قصاب کا حال کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے ۔ سندھ طاس معاہدہ جس کیلئے مودی نے پورا ڈرامہ رچایا اور پہلگام کرکے جنگ کا سٹیج سجایا ، پھر دیکھا کہ کیسے پاکستان نے طلبل بجایا۔

    ابھی بھی مودی باریک وارداتیں ڈال کر انڈیا کو عارضی کامیابیاں دلوا رہا ہے لیکن مستقبل میں یہ کامیابیاں اس کی ناکامی میں بدلیں گی، اور اب بھی اگر مودی کی باریک وارداتوں کے نقصانات دیکھیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اس کو شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور جو اس کی انتظامی اور سفارتی ناکامی کا منہ بولتا ہے ۔مودی کے آشیرباد سے منی پور میں نسلی فسادات ، انڈین آرمی کے ہاتھوں کشمیریوں کیساتھ ناگالینڈ میں نہتے شہریوں کا قتل ، دوسری جانب سیون سسٹرز اسٹیٹ میں آزادی کی تحریک، یہ سب مودی کی باریک وارداتوں کے نقصان ہیں کیونکہ سب کو دشمن بنا چکا ہے کوئی مودی کا دوست نہیں بچا۔ نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، چائنا، کینیڈا، سری لنکا، چائنا، سب مودی کے ڈسے ہوئے ہیں، یہ ایک سانپ ہے جو اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے، انڈیا میں رہنے والے سکھوں کو نہیں بخش رہا۔

    کسان تحریکیں ، گلوان وادی میں فوجی جھڑپیں،منی پور، ادھم پور، این آر سی کا تنازع ، اروناچل پردیش تنازع ، نیپال سرحدی تنازع، ان سب کا نقصان بھارت کو ہو رہا ہے ۔ یہ سب اس لیے کہ نریندر مودی کی ناکام چالاکیاں ، سازشیں ، باریک وارداتیں پوری دنیا میں عیاں ہو چکی ہیں، کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ،کینیڈا بھارت سفارتی تناؤ، امریکہ کی بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعدد وارننگز بھارت کی تباہی کا سامان پیدا کرچکی ہیں۔سب سے بڑا کارنامہ بنگلہ دیش میں مودی کی پراکسی حسینہ واجد کا اقتدار تمام ہوا جو مودی کی بہت بڑی ناکامی تھا ، فرانس، جرمنی، اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق پر تشویش ، اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر عالمی دباؤ،اورعالمی میڈیا میں بھارت کا امیج "ہندو انتہا پسندی” بن کر ابھر رہا ہےجو صرف مودی نہیں بلکہ مودی کو ماننے والوں کی نسلوں کو کھا جائے گا۔آج نہ صرف امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا ہے بلکہ عالمی میڈیا ، بلوم برگ ، بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سکائی نیوز، واشنگٹن پوسٹ مودی کی ناکام پالیسیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    کیا کل کے تخت نشیں آج کے مجرم ٹھہرنے والے ہیں؟
    تمہید باندھنا قلم کاری کی روایت ہے۔ اس سے انحراف کی صورت ایک ہی ہے، وہ ہے موضوع کی نوعیت اور اس کی مناسبت سے وقت کا تقاضا۔ آرٹیفیشکل انٹیلیجنس جب پاکستان میں متعارف ہوئی تو عام آدمی تک اس کا علم صرف اتنا تھا کہ اس سے میسج کریں تو خودکار جواب مل جاتا ہے۔ کچھ ماہ میں اس کی مدد سے تصاویر ایڈیٹ کی جانے لگیں۔ ماہ و سال نہیں اب ہفتوں سے بات دنوں پر آ گئی ہے اور عام آدمی کی رسائی تیزی سے اے آئی کے مزید فیچرز تک جا پہنچی ہے۔ پرامٹ کا لفظ کئی نیم خواندہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں، جو اے آئی کے درست استعمال کی بنیاد ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ تو پہلے ہی کیپ کپ اور ٹک ٹاک کی بدولت ہر بندہ کرلیتا تھا۔ اے آئی کی کوڈنگ نے اسے نہ صرف آسان کیا بلکہ جو لوگ رہتے تھے ان کو بھی ویڈیو ایڈیٹر بنا دیا۔ فیک وائس، ڈیپ فیک ویڈیوز، اے آئی جنریٹیڈ پکچرز۔یہ الفاظ اب روزمرہ زبان کے عام الفاظ بن چکے ہیں۔ جب ہم اے آئی سے چیٹ کرکے چیزا لے رہے تھے اور حسب عادت گالیاں لکھ کر مذاق اڑا رہے تھے، عین اسی وقت ترقی یافتہ اقوام نے یہ بات جان لی کہ مستقبل میں علم کا مرکز کیا ہو گا۔ اس وقت چین اے آئی کو ہر سطح پر نصاب تعلیم میں شامل کر چکا ہے۔ دیگر بڑے ممالک میں بھی اس چیز کو سنجیدگی سے اپنایا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالرز اور ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے تو اے آئی کافی عرصہ سے استعمال میں ہے (کچھ ترقی یافتہ ممالک میں) جبکہ ربوٹکس، مشین آپریٹنگ ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں اے آئی انقلاب مکمل طور پر ٹیک اوور کرنے سے چند مراحل دور ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اخلاقی حدود اور قوانین بنا چکی ہے۔ اب اس بات پر غور جاری ہے کہ کیا انسان کی یہ ایجاد کسی مرحلہ پر انسان کے خلاف ہو سکتی؟ اس تمام پس منظر میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مفت اے آئی کورسسز کے اشتہار لگا کر لوگوں کو اپنے اداروں کی طرف لاکر پھر کچھ عرصہ بعد مزید بہتر سکھانے کے لیے رقم کا تقاضا ۔ آن لائن ٹریڈنگ، امیزون ٹریڈنگ، فاریکس ٹریڈنگ ٹرک کی وہ ٹیل لائیٹس ہیں جن کے پیچھے ہر نوجوان گھر سے پیسے لے کر برباد کر رہا ہے۔ ہم چکن گیم کھیل کر جوئے سے کمائی کر رہے ہیں۔ ہم فری فائر اور پب جی، آن لائن لڈو ٹورنامنٹ میں ورلڈ چیمپئن شپ کھیل رہے ہیں۔ ہم اے آئی سے ویڈیوز بنا رہے، تصاویر بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو فخریہ بتا رہے کہ اے آئی کورس کیا ہوتا؟ میں سب جانتا، ایک پرامٹ درست دینا آتی ہو پھر تو سب کام مشین نے کرنا۔ بدقسمتی سے سب کانٹینینٹ کے اسلامک ورژن میں صوفی ازم اور توہم پرستی اتنی ہے کہ ہم کوئی بھی چیز جو سمجھ نہ آئے اسے کرامت قرار دے دیتے ہیں اور جو کام ہاتھ سے کرنا ہو وہ زبان سے کر لیتے ہیں۔ لہذا اے آئی کو ہم نے ڈیجیٹل ولی سمجھ کر پرامٹ کی بیعت کو کافی جانا ہے۔ اب یہ جوتا ہمارے ہی سر پر بجنے کو ہے۔ اس کے لیے ہفتے نہیں دن چاہیں۔ لیکن ہنوز ہم” ۔۔۔۔۔ کا دھوبی ہوں "کہہ کر بچنے کی امید میں ہیں۔ حالانکہ بچا وہ بھی نہیں تھا کیونکہ فرشتے بھی اے آئی ہی سمجھ لیں، ان کو جو پرامٹ اللہ نے دی ہے اس میں من ربک کا ایک ہی آپشن درست ہے، دھوبی والے جواب پر پرامٹ سیٹ ہے، گرز بلا توقف حرکت میں آتا ہے۔

    ویسے ٹاپک سے ہٹ کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں: فرشتے کو جو کہا جائے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں، یہ کلیم زیادہ بڑا اور مضبوط ہے یا ۔۔۔۔۔ کے دھوبی ہونے کا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونا بہت وزنی کلیم ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، اے فاطمہ میری بیٹی! میرے مال میں سے جو لینا ہے لے لو، لیکن قیامت کے دن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں کچھ نہ کر پاؤں گا۔ اے میرے چچا عباس! میرے مال سے جو لینا ہے لے لو لیکن قیامت کے دن میں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اور ہم پھر کس حیثیت سے ایسے لطائف سن کر یقین کر لیتے کہ فلاں کا دھوبی، فلاں کا نوکر، اور بخشش؟ یہ تصوف کے ڈیپ فیک ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ قصے ہیں۔

    واپس اے آئی پر۔ اگر ہم نے یہی حرکتیں جاری رکھیں تو چند ماہ میں ہمارا برٹش میڈ 1860 کا دم توڑتا نظام تعلیم مکمل طور پر فارغ ہو جانا ہے۔ جس نوعیت کا قابل شیر جوان مملکتِ خداداد میں 16 سال کی تعلیم، ماں کی دعا، باپ کی مار، اساتذہ کی محنت اور موصوف کی ذاتی کاوش سے کی گئی نقل مل کر پیدا کرتی ہے، وہ اے آئی کی کوڈنگ میں 16 دن لگنے اور بن جانا ہے۔ یعنی اس استعداد کی مشین جو ہر وہ بات جانتی ہو جو آپ کا ماسٹرز ڈگری ہولڈر جانتا ہے۔ اس وقت ضرورت نہیں بلکہ لازم ہے کہ ہم اپنا نظام تعلیم ازسرنو وضع کریں۔ اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ پیچیدہ ترین ریاضی و سائنس اب اے آئی کی مکمل دسترس میں ہے اور ہمیں اس چیز کو ماننا ہوگا کہ ہماری تمام تر سائنسی مضامین و ریاضی آنے والے دنوں میں اسی طالب علم یا پروفیشنل کو قریب پھٹکنے دیں گے جو اے آئی کا استعمال ایڈوانس لیول پر جانتا ہوگا۔ سوشل سائنسز میں البتہ انسانی عمل دخل زیادہ ہے اور رہے گا کیونکہ انسانی نفسیات و جذبات کی پیچیدہ راہیں اے آئی کے بس سے فی الحال باہر ہیں۔ لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمیں ابتدائی کلاسز سے اے آئی کورس میں شامل کرنا ہوگا اور اپنی تمام کلاسز میں اسے بطور مضمون پڑھانا بھی ہوگا۔ کیونکہ جس قدر تیزی سے اے آئی کا پھیلاؤ جاری ہے اس میں ہمارا نظام تعلیم مکمل فلاپ ہے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی آرہی ہے یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو کب اس کے برابر چلائیں گے؟ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم نصاب سے وہ ساری زنگ آلود پرتیں ہٹائیں جو 1860 کے برطانوی ڈھانچے سے چمٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں متن، رٹہ اور غیر ضروری رٹے ہوئے سوالات نہیں چاہیے؛ ہمیں وہ بچے چاہیے جو اے آئی سے صحیح سوال پوچھنا جانتے ہوں۔ جو اسے بطور ٹول استعمال کرنا سیکھیں، نہ کہ اس سے ڈر کر بھاگیں یا صرف تصویریں بنا کر خوش ہوں۔

    ہمیں ہر سطح پر اے آئی لٹریسی (AI Literacy) کو بنیادی مضمون بنانا ہوگا۔ پرائمری میں بچوں کو کمپیوٹیشنل سوچ اور روبوٹکس کی بنیاد دی جائے۔ مڈل اور ہائی اسکول میں اے آئی کے استعمال، غلطیوں اور خطرات کو سمجھایا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی میں عملی تربیت، ڈیٹا اینالسس، پرامٹ انجینئرنگ، تحقیق، اور اے آئی ڈویلپمنٹ کے عملی کورسز شامل کیے جائیں۔استاد کی ٹریننگ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جس استاد کو خود اے آئی کا استعمال نہیں آتا وہ اگلی نسل کو کیا سکھائے گا؟ استاد کو اس سطح پر لانا ہوگا کہ وہ خود اے آئی سے بہتر مواد، مشقیں، اور ٹیسٹ تیار کر سکے اور طلبہ کو وہ صلاحیتیں سکھائے جو مشین نہیں سکھا سکتی۔ تنقیدی سوچ، اخلاقیات، فیصلہ سازی، اور انسانی اقدار۔آخر میں، ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اے آئی لیبز قائم کرنا ہوں گی. جہاں بچے صرف پڑھیں نہیں بلکہ بنا سکیں، تجربہ کر سکیں، ناکامی سے سیکھ سکیں، اور خود کو مستقبل کے لیے تیار کر سکیں۔ اگر ہم نے آج یہ بنیاد رکھ دی تو آنے والا دور ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر نہ رکھا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دے گی، اور ہم اس انقلاب کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے، شریک نہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
    مبشر حسن شاہ

  • بیوروکریسی کا احتساب ناگزیر ،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کا احتساب ناگزیر ،تحریر:ملک سلمان

    عجیب فلمی منظر نامہ ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے دور میں چند ”بلیو آئیڈ“ ایک سے بڑھ کر ایک اہم سیٹ پرنوازے جاتے ہیں تو دیگر ایک ہی سیٹ پر کھڈے لائن ہیں تو کچھ ناکردہ گناہوں کی سزا پر او ایس ڈی”گل سڑ“رہے ہیں۔پک اینڈ چوز کی وجہ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔ میڈم وزیراعلیٰ محکمہ تعلیم سمیت چند محکموں میں جو ظلم، لاقانونیت اور من مرضی کا گندہ کھیل ہورہا ہے اس کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اور نیب کی خدمات لی جائیں۔ کرپٹ افسران نے ستھرا پنجاب جیسے فلیگ شپ پروگرام کو مال لوٹنے کا زریعہ بنایا ہوا ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسل کو پاسیبل کر دکھایا لیکن چیف سیکرٹری میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب عثمان انور 43کامن کے تین افسران کو ڈی پی او لگاچکے ہیں، عثمان انور نے ایک طرف 35کامن کا ڈی پی او لگایا ہے تو دوسری طرف 43کامن،سنئیر اور جونئیرز کا کمبینیشن دانشمندانہ فیصلہ ہے، لیکن 43کامن والوں کو چھوٹے اضلاع میں موقع دینا چاہئے تھا۔ یہی اصول ہوتا ہے کہ اہم اضلاع میں گریڈ 19کے سنئیر جبکہ چھوٹے اضلاع میں گریڈ 18کے جونئیر افسران کو ڈی سی اور ڈی پی او لگایا جاتا ہے۔

    پی ایم ایس 5کا پہلا ڈپٹی کمشنر 2022میں لگا تھا اس کے بعد زاہد زمان نے پی ایم ایس 5کیلئے ڈی سی شپ شجر ممنوع قرار دے دی۔انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ پی ایم ایس 5 اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 43،44کامن کے افسران کو چھوٹے اضلاع میں کمانڈ کا موقع دینا چاہئے۔ بیوروکریٹک گتھی الجھانے کی مہارت میں معراج حاصل کرنے والے چیف سیکرٹری نے ایک طرف ڈپٹی کمشنرز کیلئے خود ساختہ میرٹ اور بیرئیر لگادیے ہیں کہ42کامن تک ڈی سی لگائے جائیں گے جبکہ سجی دکھا کر کھبی مارنا کے مترادف گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والی، CEO IDAP, CEO PECTAA ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر 42,43,44کامن کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگادیا ہے۔ اسی طرح چند گریڈ 19 والوں کو گریڈ 21 کی سیٹوں پر آل ان آل بنا دیا گیا۔

    تیرا کھانواں تیرے گیت گانواں کے مصداق یہ جونئیر افسران سنئیر سیٹوں پر صاحب کا ہر حکم بجا لاتے ہیں۔
    بیوروکریسی میں گریڈ18والے کو 20 کی سیٹ پر نوازنے کا اگر عدلیہ سے موازنہ کیا جائے تو ایسے ہی ہے کہ کسی سول جج کو سنئیر سول جج بھی نہیں ڈائریکٹ ایڈیشنل سیشن جج لگا دیا جائے۔ اگر آرمی سے موازنہ کیا جائے تو ایسا ہی ہے جیسے کسی میجر کو یونٹ یا ونگ بھی نہیں سیدھا برگیڈ کمانڈر لگا دیں۔ لیکن آرمی کی پوری تاریخ میں آپ کو ایسی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ جہاں کسی کو خلاف میرٹ تقرری دی گئی ہو۔ آرمی کے عزت و وقار اور دنیا بھر میں نمبر ون فوج ہونے کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہاں میرٹ ہے۔ ہر کسی کو معلوم ہے کہ اسے وہی پوسٹنگ ملے گی جس کا وہ اہل ہے۔

    اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 21تک کے 66افسران OSD ہیں۔سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیچ میٹ ہی بیچ میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے،خاص طور پر بیچ میٹس کو ایک دوسرے کے انڈرٹریننگ دور کے حالات، غربت اور لاچاری کا بہت اچھے سے معلوم ہوتا ہے۔

    ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ "گینگ اف سیون” کا کمال ہے کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔
    عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ بیرونی فنڈنگ والی تمام سیٹوں کا آڈٹ کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ دسمبر 2022سے سیکرٹری فنانس کی سیٹ پر آل ان آل مجاہد شیر دل پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اہم ترین ستون ہیں۔زبان زد عام ہی نہیں گزشتہ تین سال کی ٹرانسفر پوسٹنگ دیکھ لیں اہم ترین سیٹوں پر آنے اور جانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری فنانس ”راستہ“ ہیں۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے افسران کی روٹیشن پالیسی پر بھی عمل درآمد کروایا جائے بہت سے لاڈلے برسوں سے پنجاب چھوڑنے کو تیار نہیں تو لاتعداد سندھ کی کنسیپٹ کلئیر نوکری اور چاکری میں مصروف ہیں چند جبری بلوچستان کاٹ رہے ہیں۔

  • بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کی نیلی وسعتیں ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور عالمی تجارت کی شہ رگ رہی ہیں۔ ان لہروں کے زیر و بم میں جہاں موسموں کا تغیر موجزن ہے، وہیں طاقت، سلامتی اور ذمہ داری کی ایک نا ختم ہونے والی کہانی بھی رقم ہوتی رہتی ہے،ایک ایسی کہانی جس میں پاکستان نیوی کا کردار ایک درخشاں ستارے کی مانند جہانِ آب و ہوا کو روشن کیے ہوئے ہے اور اسی روشن کردار کی تازہ ترین مثال وہ شاندار آپریشن ہے جو پاک بحریہ کے بہادر جوانوں اور پی این ایس تبوک نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت CTF-150 کی معاونت کرتے ہوئے انجام دیا اور دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلا دیا کہ پاکستان کے بحری محافظ نہ صرف چوکس ہیں بلکہ اپنے مشن، اپنی سرزمین اور سمندری قانونِ عالم UNCLOS کے اصولوں کے نگہبان بھی ہیں۔

    ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول کے دوران پی این ایس تبوک کی نگاہ ایک بے نامی، غیر رجسٹرڈ مشکوک ماہی گیر کشتی پر ٹھہری،یہ کاروائی دوراندیشی، پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی بحری ذمہ داری کا مظہر تھی۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد جب تبوک کے جوانوں نے اس کشتی کی تلاشی لی، تو 2000 کلوگرام سے زائد میتھم فیٹامائن (ICE) برآمد ہوئی،ایک ایسی مقدار جس کی خطے کی منڈی میں مالیت تقریباً 130 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔یقیناً یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس نے منشیات کی عالمی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کاری ضرب لگائی اور اسے ثابت کیا کہ پاک بحریہ نہ صرف اپنے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک مضبوط دیوار ہے جس پر غیر قانونی تجارت کی یلغار شکست و ریخت سے دوچار ہوتی ہے۔

    یہ آپریشن گزشتہ دو ماہ میں پاک بحریہ کی تیسری بڑی انسداد منشیات کارروائی ہے۔ تین کامیابیاں،دو ماہ، اور ہر کارروائی پہلے سے زیادہ بڑی، پہلے سے زیادہ کامیاب۔ یہ سلسلہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط تربیت، بے مثال نظم، جدید آلات سے لیس جہازوں اور سب سے بڑھ کر اس جذبے کی پیداوار ہے جو پاکستان نیوی کے ہر سپاہی، ہر افسر اور ہر کمانڈر کے دل میں روشن ہے۔یہ کامیابیاں بتاتی ہیں کہ پاک بحریہ کی آنکھ کبھی نہیں سوتی۔ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر افق کی آخری لکیر تک مسلسل نگاہ رکھتی ہے۔ یہ وہ عزم ہے جو پاکستان کی سمندری حدود کو محفوظ رکھنے کا اٹل وعدہ ہے۔

    اس آپریشن نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نیوی صرف ایک روایتی بحری قوت نہیں، بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال اور پیشہ ورانہ فورس ہے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز، تکنیکی ماہرین، اور انٹیلی جنس نیٹ ورک،یہ سب ایک مربوط نظام کی صورت میں کام کرتے ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کو نظر انداز نہیں ہونے دیتا۔پی این ایس تبوک کی کارروائی میں جو سرعت، دقتِ نظر اور غیر معمولی مہارت سامنے آئی، وہ اسی پیشہ ورانہ تربیت اور نظم و ضبط کا مظہر ہے۔ ایسے آپریشنز نہ صرف پاک بحریہ کی قابلیت کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت کردار اور امن کے لیے اُس کی کوششوں کو نمایاں بھی کرتے ہیں۔

    کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے پلیٹ فارم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ CTF-150 کے تحت ہونے والے اس آپریشن نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں سنجیدہ ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر سمندری امن کے لیے بھی پیش پیش ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں قومیں مل کر دنیا کو ایک محفوظ راستہ دیتی ہیں،تجارت کا، تعاون کا، ترقی کا۔ اور پاکستان اس تعاون میں ایک معتبر، ذمہ دار اور ثابت قدم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اسے یقیناً عالمی امن کے نقشے پر ایک سنجیدہ، مؤثر اور قابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستان نیوی کے یہ سپاہی نہ صرف وردی پہنے ہوئے افراد ہیں، بلکہ وہ قومی غیرت، پیشہ ورانہ سچائی اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کھڑی ایک مضبوط دیوار ہیں۔ ان کی ہر کامیابی پر قوم سر بلند ہوتی ہے، ان کی ہر قربانی پر ملک کی آنکھ نم ہوتی ہے، اور ان کی ہر کارروائی پر دنیا پاکستان کو مزید احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔پاکستان نیوی کا یہ آپریشن نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کی ایک مثال بھی ہے۔ UNCLOS کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں قانون کے نافذ کرنے والا ایک ذمہ دار ملک ہے۔
    قانون کی یہ پاسداری پاکستان کے امدادی مشن، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، اور انسداد اسمگلنگ اقدامات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔یہی اصول پسندی دنیا کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کی بحری نگرانی صرف طاقت کے اظہار کے لیے نہیں، بلکہ اصول اور انصاف کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

    ہر کامیاب آپریشن کے بعد جب پی این ایس تبوک یا کوئی اور پاکستانی جہاز واپس اپنی بندرگاہ کی جانب بڑھتا ہے، تو اُس پر لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم صرف ایک نشان نہیں ہوتا یہ وہ نورانی علامت ہے جو بتاتی ہے کہ پاکستان کا فرض شناس بیٹا اپنا فریضہ ادا کر آیا ہے۔یہ پرچم سمندر کی لہروں سے باتیں کرتے ہوئے کہتا ہے “تم موجزن رہو، ہم تمہاری حفاظت کے لیے ہر دم حاضر ہیں۔”پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر عالمی بحری شاہراہوں تک، ہر محاذ پر پاکستان کا وقار بلند رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پی این ایس تبوک کا یہ شاندار آپریشن نہ صرف ایک کامیابی بلکہ ایک پیغام ہے، کہ پاکستان سمندری امن کا محافظ ہے، منشیات کے خلاف جنگ میں مضبوط دیوار ہے، اور عالمی ہم آہنگی میں غیر متزلزل شراکت دار ہے۔آج پوری قوم پاکستان نیوی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ان محافظوں کو سلام جن کی بدولت ہمارے ساحل محفوظ ہیں، ہماری تجارت رواں ہے، ہمارا مستقبل روشن ہے۔

    پاک بحریہ زندہ باد۔
    پاکستان پائندہ باد۔

  • ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    ہم جنس رجحانات، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:آصف شاہ

    دنیا بظاہر جتنی وسیع نظر آتی ہے، انسانی جذبات اور رجحانات کی دنیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وقت کے ساتھ نظریات بدلتے ہیں، رویّے ڈھلتے ہیں، اور معاشرتیں نئے سوالوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں بھی ایک ایسا موضوع زیرِ بحث ہے جو اکثر غلط فہمیوں، جذباتی ردِعمل، اور معلومات کی کمی کا شکار رہتا ہے ہم جنس رجحانات،ہم جنس پرستی۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سنجیدگی، حکمت، اور علمی توازن کے ساتھ دیکھیں، نہ کہ نفرت، الزام یا خوف کے زاویے سے۔

    پاکستانی معاشرے میں معلومات، میڈیا، اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا پھیلاؤ نے نوجوان نسل کو بے شمار عالمی رویّوں سے روشناس کر دیا ہے۔ ایسے میں بعض نوجوان جسمانی بلوغت، ذہنی الجھنوں، یا تشنۂ توجہ کے باعث بعض ایسے رجحانات کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں جن کی اصل وجوہات وہ خود بھی نہیں سمجھتے۔تاہم یہ سمجھنا لازم ہے کہ ہم جنس رجحان کسی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتا،اس کے پیچھے کئی نفسیاتی، سماجی، اور بعض صورتوں میں طبی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ہم جنس رویّوں کو صرف "فیشن”، "بگاڑ” یا "مغربی اثر” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔اصل تشویش نوجوانوں کی اخلاقی، ذہنی، اور جسمانی سلامتی ہے،نہ کہ کسی فرد کی ذاتی شناخت یا اس کے احساسات،یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بھی انسان کی تذلیل یا نفرت انگیزی سے بچیں۔ نفرت کبھی اصلاح نہیں لاتی، بلکہ بگاڑ کو بڑھاتی ہے۔ نوجوانوں کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، لیبلز اور طعنوں کی نہیں۔

    وہ نوجوان جو کم عمری میں کسی جسمانی یا جذباتی تجربے سے گزریں، بعد میں شدید ذہنی پریشانی یا شناختی کشمکش کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایسے نوجوان اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کے جذبات کی نوعیت کیا ہے، اور معاشرہ ان سے کیا چاہتا ہے۔ نتیجتاً وہ خاموش تنہائی یا خوف میں رہنے لگتے ہیں۔اصل نقصان "رجحان” نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ یا استحصالی تعلقات ہیں،چاہے وہ ہم جنس ہوں یا مخالف جنس،ان میں جذباتی شکاری ، بلیک میلنگ، یا نقصان دہ رویّے شامل ہو سکتے ہیں۔نوجوانی وہ دور ہے جہاں انسان جذبات، جسم اور ذہن کے نئے دروازے کھلتے محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کئی عوامل نوجوان کو عارضی یا وقتی ہم جنس کشش کی طرف لے جا سکتے ہیں،گھر میں بے توجہی، سختی یا جذباتی تنہائی نوجوان کو ایسے لوگوں کی طرف دھکیل سکتی ہے جو اسے فوری توجہ اور قبولیت دیں۔بعض اوقات گہری دوستی جذباتی انحصار میں بدل جاتی ہے، اور نوجوان بغیر سمجھے اسے رومانوی کیفیت سمجھ لیتے ہیں۔کم عمری میں کسی اذیت ناک تجربے کے باعث ذہن بعض اوقات اپنے ردعمل میں عارضی یا مستقل بدلاؤ پیدا کر لیتا ہے۔آن لائن مواد ذہن کو فریب دے سکتا ہے، خاص طور پر جب نوجوان کو صحیح رہنمائی نہ مل رہی ہو۔

    نوجوان دورِ جدید میں اپنی "شناخت” کو تلاش کرنے کے لیے اکثر جذبات کو امتحان سمجھتے ہیں۔نوجوان نسل کو صرف منع کردینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی حفاظت کا راز مکالمے، اعتماد اور تربیت میں ہے۔اگر بچہ والدین سے ہر بات کھل کر کر سکے تو وہ غیر صحت مند تعلقات کی طرف کم جائے گا۔ جنسی تعلیم یہ تعلیم بے حیائی نہیں، بلکہ تحفظ ہے۔نوجوان کو یہ جاننا ضروری ہے جسم کی حدود کیا ہیں؟کون سی دوستی اچھی اور کونسی درست نہیں ہے؟بلیک میلنگ کیا ہوتی ہے؟آن لائن کیا خطرات چھپے ہیں؟مضبوط مذہبی اور اخلاقی بنیاد نوجوان کو مضبوط کردار عطا کرتی ہے۔لیکن یہ تربیت محبت سے ہو،دھمکی یا خوف سے نہیں۔اسکول اور کالج کی فضا کو محفوظ اور مثبت بنانا ضروری ہے، تاکہ وہاں کوئی بچہ تنہا یا غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔اگر کوئی نوجوان شدید الجھن، ڈپریشن یا خوف کا شکار ہو تو اسے فوراً تربیت یافتہ سائیکالوجسٹ تک پہنچانا چاہیے۔یہ کوئی "کمزوری” نہیں بلکہ ذہنی صحت کی حفاظت ہے۔

    ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ کسی نوجوان پر لیبل لگا دیں۔ بلکہ اسے سمجھیں،اس کے خوف کو سنیں،اس کی غلطیوں پر شفقت سے اصلاح کریں،اور اسے محفوظ راستہ دکھائیں،جو معاشرہ گفتگو کے دروازے بند کر دے، وہاں غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔جو معاشرہ محبت اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کرے، وہاں کردار مضبوط ہوتے ہیں۔ہم جنس رجحانات کا موضوع صرف تنقید یا جذباتی بحث کا معاملہ نہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کی ذہنی کیفیت، ان کی شناخت، اور ان کی حفاظت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔اسے حل کرنے کے لیے نہ نفرت کی ضرورت ہے، نہ خوف کی،بلکہ علم، حکمت، اور انسان دوستی کی ضرورت ہے۔اگر ہم نوجوان نسل کو محبت، رہنمائی، اعتماد اور مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کریں، تو وہ خود بخود صحت مند راستے کا انتخاب کرے گی۔معاشرتی اصلاح کا واحد صحیح راستہ دل کے دروازے کھولنا، مکالمہ قائم رکھنا، اور ہر انسان کی عزت کو مقدم رکھنا ہے۔