Baaghi TV

Category: متفرق

  • لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
    تحریر : وحید گل

    پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

    2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

    چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔

    ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔

    پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

    آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔

    یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    اتحاد امت ….تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے مضبوط قدم جما رکھے ہیں۔ فنون لطیفہ،حالات حاضرہ,قومی و بین الاقوامی,بین البر اعظمی,سیاسی,معاشرتی,سماجی,معاشی اور مذہبی امور,بین الکائناتی ابلاغ میں جس قدر وسعت الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اسی قدر تمام پیرایوں میں انسانیت اور کائنات کی تذلیل کی بھی مثال نہیں ملتی۔ آزادی ء اظہارِ رائے اور ذریعہ ابلاغ ہونے کی آڑ میں صرف اور صرف کاروبار کیاجا رہا ہے جس نے تمام انسانی و اخلاقی پہلوؤں کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ تماشا کرنا اور تماشا لگانا جانتے ہیں انہیں برقی ذرائع ابلاغ میں بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے بر عکس معاشرے کو سدھارنے والے,انسانیت کا سینے میں درد رکھنے والے اور توازن قائم رکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا ہی حیف ناک امر واقع ہوا ہے کہ دین بھی اسی کاروبار کی زد میں ہے۔ اور بیچنے والے یہی کلمہ گو مسلمان بلکہ علامہ اور مفتی کی ڈگریاں لینے والے لوگ ہیں۔
    خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

    پروفیسر حمیداللہ ہاشمی علامہ اقبال کے اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: علامہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان زبان سے کلمہ توحید پڑھ بھی لے اور خدا کو الٰہ مان بھی لے تو اس سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دل سے بھی اس کا اقرار نہ کیا جائے۔ اقرار دل سے مسلمان کی نگاہ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور یہی مقصود مسلمانی ہے۔ آج کا مسلمان زبان سے تو کلمہ پڑھتا ہے لیکن اس کا دل اور اس کی نگاہ اس کلمے کے مطابق نہیں ہے۔
    پاکستان میں آغازی نشریات میں جب بہت کم نجی برقی ادارے ہوتے تھے تو اس وقت تماش بین بھی شاذ و نادر ہی میسر تھے۔ یا شاید آپ یوں کہہ لیں کہ ان اداروں کو چلانے والوں کے دلوں میں ایمان باقی تھا۔ اس وقت زیادہ تر پروگرام اسلامی,فلاحی اور تربیتی ہوا کرتے تھے۔ رمضان شریف میں قیام الیل کے وقت مسجد نبوی اور حرم میں ہونے والی عبادت کی ریکارڈنگز کو چلایا جاتا تھا۔یا قرآن کی تلاوت چلا دی جاتی تھی جو سحر تک چلتی تھی۔ اذانوں کے وقت اذانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے سن کر بہت سے لوگوں نے یاد کی اور اس جیسی صداکاری بھی سیکھی۔ لیکن اب ٹی وی چینلز بھی بڑھ چکے ہیں۔ تماش بین بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان کی قابلیت یا علم کا معیار کچھ معنی نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر انہیں سننے والوں کی تعداد حجم رکھتی ہے۔ یہ شاید ساتواں رمضان المبارک ہے جس میں سحر و افطار کے وقت پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس کا میزبان بڑا تماشا اور مہمان اس سے بھی بڑے ایکٹرہیں۔

    یہ تو شکر ہے کہ یہ پروگرام عدالت عالیہ نے ان تماش بین عورتوں سے واپس لئے ہیں جن کے سامنے اللہ کا حکم پردہ اور پاکبازی کے بارے میں سنایا جا رہا ہوتا تھا اور وہ اس حکم کو بھی کاؤنٹر کر رہی ہوتیں تھیں۔لاحولا ولاقوۃ! اور پچھلے سال ان پروگراموں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا عدالتی حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ اس رمضان المبارک میں بھی تمام قومی چینلز پر ایسے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ ان میں شمولیت کرنے والے لوگوں کا حال علامہ اقبال کے شعر سے ہٹ کر کچھ نہیں۔ کاش یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوتے اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوتے کم از کم ان کے دلوں کے حالوں بارے کسی گمان یا تجسس کی گنجائش باقی نہ رہتی۔
    حال ہی میں ایک قومی ٹی وی چینل کے پروگرام میں موضوع دیا گیا کہ فرقہ واریت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے!مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہر مکتبہ فکر اور مسلک کے عالم لوگ بیٹھے تھے اور انہوں نے موضوع کی بجائے اپنی بین سنانی شروع کر رکھی تھی۔ یہ بھی دور جاہلیت کی ایک قسم سمجھیں جس میں ایمان حلق سے نیچے اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے یہ بات نہیں کی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی فرقہ یامسلک کے ساتھ منسلک ہونے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے قرآن سے اللہ کا حکم نہیں سنایا کہ ابراہیم و موسی،عیسی و مریم، ذکریا و داؤد، یعقوب و یوسف،و آدم و اسماعیل، یونس و دانیال علیہم السلام الغرض کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے اور نبی اکرم محمد رسول اللہ و خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان تھے۔ان کے ماننے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے بھی مسلمان ہیں۔ اور اس پر بات کرنی چاہئے کہ اللہ کے نذدیک صرف ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ اور اسلام کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ قرآن کا یہ حکم کیوں نہیں سنایا گیا کہ فرقوں میں مت پڑو اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ جو تفرقہ کرتا ہے یا فتنہ پھیلاتا ہے اس سے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعلق نہیں۔یہ کونسے عالم ہیں کہاں کے عالم ہیں جو اپنی ناقص عقل کی تاویلیں پیش کرتے ہیں مگر اللہ کا حکم پیش نہیں کرتے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جن آئمہ کی پیروکاری کا یہ دعوی کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں کہا ہوگا کہ تم فرقوں میں بٹ جاؤ۔ ایسا کونسا عالم ہو سکتاہے جو ایسی بات لکھے یا ایسا فتوی جاری کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ساتھ ٹکرا جائے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں شرم کرنی چاہئے,حیا کرنی چاہئے!!۔

    ایک اور نجی قومی ٹی وی چینل پر ایساہی پروگرام ہوتا ہے جس میں مختلف فروحی موضوعات پر بحث کروائی جاتی ہے۔ تمام مسالک کے علماء سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے فقہ کا کیا مؤقف ہے اور دوسرے کے فقہ کا کیا مؤقف ہے۔ یہ کہاں سے آگیا بھائی۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موضوع کے بارے میں کیا حکم ہے۔ کیا ان علماء کے فقہی دلائل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بڑھ کر ہیں؟؟ اور یہی حال باقی تمام چینلز کے پروگراموں کا بھی ہے۔ یہ کونسا طریق ہے جس سے امت متحد ہو سکتی ہے؟ یہ تو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔
    اگر ٹی وی چینلز ان مذہبی موضوعات کو متنوع سمجھتے ہیں اور ان مسلکی تقسیم کرنے والوں سے ڈرتے ہیں تو انہیں ایسے پروگرامز بند کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ پہلے ہی ثواب یا نیکی کی نیت سے نہیں بلکہ پیسوں کیلئے کر رہے ہیں۔ اور اگر ہمت کرنی ہی ہے تو صرف قرآن و حدیث کے درس تک محدود رہنا چاہئے جو صرف مستند عالم ہی دے سکتا ہے۔ عوام اور مقتدر حلقہ اس بارے میں سوچے! پاکستان کی عوام بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کو اب روکا جانا چاہئے

  • احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار

    احباب ِ شعبہ صحافت کے اعزاز میں دعوت ِ افطار
    ثوبان ارشد
    رمضان المبارک کے بے شمار اور لاتعداد فضائل ہیں۔انہی فضائل کی وجہ سے اس مہینے میں لوگوں میں نیکی کا جذبہ بڑھ جا تا ہے،مساجد کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں ،جگہ جگہ دروس قرآن اور ترجمہ قرآن کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رمضان المبارک کی بڑی فضلیت ہے۔اس سلسلہ میں بہت سی احادیث مذکور ہیں۔روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔حدیث رسول ﷺ ہے اللہ کہتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر ہوں۔ایک اور حدیث ہے کہ روزہ جہنم سے بچائو کے لئے ڈھال ہے۔بلاشبہ روزہ رکھنے کا اجر عظیم ہے ۔ لیکن جس اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کا تحفہ دیا وہ اس سے بھی عظیم تر ہے روزہ رکھنے سے جہاں انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں وہاں انسان جسمانی طور پر بھی صحتمند رہتا ہے ۔ رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں جب کوئی مسلمان روزہ افطار کرواتا ہے تو جتنا اجر روزہ رکھنے کوملتا ہے اتنا ہی اجر روزہ افطار کروانے والے کو بھی ملتا ہے۔چنانچہ ماہ رمضان میںلوگ بڑے ذوق و شوق سے سحر وافطار کا اہتمام کرتے اور کرواتے ہیں اجتماعی افطاریوں کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔یہ ایک روایت ہے جو مسلمانوں میں ساڑھے چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے۔یہ خوبصورت روایت اسلام کا حسن ہے ۔رمضان کے مہینے میں عالمگیر سطح پر افطاریوں کا اہتمام صرف اسلام کا خاصہ ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اس طرح کی رواداری اورایثار کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔

    رمضان البارک اور قرآن مجید کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مسلمانوں کا قرآن مجید فرقان حمید کے ساتھ بھی تعلق ، ربط اور شغف بڑھ جاتا ہے وہ بڑے شوق سے قرآن مجید پڑھتے ، سنتے اور سناتے ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ اس ماہ مبارک کی رونقوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ قرآن مجید میں مومن کے صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو بھوکوں کو کھانے کھلاتے اور ضرورتمندوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اس کا عملی جذبہ رمضان المبارک کے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب ہر مسلمان اپنے وسائل کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر وافطار کااہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    امسال رمضان المبارک میں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب وافراد کیلئے ایک شاندار افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف اخبارات اور جرائد میں کام کرنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس پروگرام کے میزبان ڈ اکٹر سبیل اکرام تھے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام ہمہ جہت صفات کے حامل ہیں ، وہ جوا ں سال ، جواں عزم اور جواں ہمت ہیں ۔ان کی شخصیت کا ہر پہلو قابل ذکر ہے ۔وہ شہید ملت علامہ احسان الہیٰ ظہیر کے نواسے ہیں ، مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور میں امام تراویح ہیں ،جبکہ اس مرکزکے خطیب علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید کے فرزند علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر ہیں ۔ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر بھی اپنے باپ کی طرح شعلہ نوا مقرر اور خطیب بے بدل ہیں۔ مرکز قرآن وسنہ کی بنیاد ڈاکٹر سبیل اکرام کے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید نے رکھی تھی ۔اگر آج اس مرکز کا شمار لاہور کے چند اہم ترین بڑے دینی مراکز میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خانوادہ علامہ احسان الہیٰ ظہیر کو دین کے ساتھ محبت اور دین کی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملاہے ۔ اس خاندان کی خوبی یہ ہے کہ ہر فرد قرآن مجید کاحافظ ہے ، جیسا کہ ڈاکٹر سبیل اکرام ہیں ان کے سینے میں بھی اللہ نے اپنی مقدس ترین کتاب محفوظ کردی ہے بلاشبہ اس خاندان پر اللہ کا یہ خاص فضل وکرم ہے ۔یوں اس خاندان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام معروف کاروباری شخصیت اور سیاسی وسماجی رہنما ہیں، مردم شناس ہیں، مہمان نواز اور بندہ پرور ہیں ۔ ملک کے حالات پر ان کی گہری نظر ہے ، کسی بھی معاملے میں ان کی رائے بہت جچی تلی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی ایک بہت ہی خوبصورت پروگرام تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سبیل اکرام نے صحافیوں اور جرنلسٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ اللہ کاخاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں حق بات کرنے کی توفیق دی ہے ، حق کا علم سربلند کرنے کی یہ خوبی مجھے اپنے نانا علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید اور میرے ماموں علامہ ابتسام الہی ظہیر کی طرف سے وراثت میں ملی ہے ۔ حق کی سربلندی ۔۔۔۔یہ ایک عظیم وراثت ہے جس پر بجا طور پر مجھے فخر ہے اس اعتبار سے ایک ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ، ملک کی تعمیر وترقی اور قوم کی فلاح وبہبود کیلئے مقدور بھر اپنا کردار ادا کروں ۔اس لئے کہ یہ ملک ہمارا وطن ہی نہیں ہمارا گھر بھی ہے ۔ اس گھر کی اچھائی بھلائی کیلئے سوچنا اور کوشش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ اس بات میں ہر گز دو آراء نہیں کہ ہمارا ملک سنگین اور گھمبیر قسم کے مسائل کا شکار ہے ، کہنے کی حدتک ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں لیکن ہم لسانی ، برادری اور جغرافیائی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں ۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایسی لیڈر شپ سے محروم ہیں جو ہمیں تقسیم کے ان دائروں سے نکال کرفکری اعتبار سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کرسکے ۔ پاک بھارت میچ کے علاوہ ہم کسی بھی پوائنٹ پر اکٹھے نہیں ہوتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی شانداراسلامی روایات اور کلچر کو بھول گئے ہیں ۔ تقسیم در تقسیم اور اختلافات نے ہمیں کمزور کردیا ہے ۔ میں چاہتاہوں کہ ہم سب بحیثیت پاکستانی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی بقا اور قوم کے اتحاد کیلئے سوچیں ، اتحاد امت قائم کریں اور فرقہ واریت سے باہر آجائیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا بند کردیں ۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا یہ ملک ہمارے پاس اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اس نعمت کی ہم نے قدر نہ کی توہم سنگین قسم کے حالات اور خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ملک سنگین ترین حالات سے دوچار ہے ان حالات میں خاموش رہنا میرے لئے ممکن نہیں ۔ ملک کو خطرات سے نکالنے اور امن واستحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے میں نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مجھے شعبہ صحافت سے وابستہ مخلص دوست واحباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ میں یہ بات فخر سے کہہ سکتاہوں کہ ہم بے لوث طریقے سے اس ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور الحمدللہ خود کو ان سیاستدانوں سے بہتر سمجھتے ہیں کہ جو لوگوں سے کہتے ہیں ہمیں ووٹ دوگے تو ہم تمہاری خدمت کریں گے ۔ گویا ان کی عوامی خدمت ووٹ کے ساتھ مشروط ہے ۔ جبکہ ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ہم کہتے ہیں کہ کوئی ووٹ دے یا نہ دے ہم بہر صورت عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے اسلئے کہ ہمارا اس بات پریقین ہے کہ مخلوق کی خدمت عبادت ہے ، جب کوئی انسان اللہ کے بندوں کی خدمت کرتا ہے تو اس کااجر اللہ دیتا ہے ۔سیاستدانوں نے اپنے مقاصد کی خاطر قوم کو تقسیم کردیا ہے جس کا نہ صرف ملک بلکہ قوم کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑرہاہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب اس تقسیم کو ختم کرنے اور اتحادواتفاق کی فضا قائم کرنے کا وقت آگیا ہے اس سلسلہ میں ہم عید کے بعد ایک جامع پروگرام کریں گے اور مربوط لائحہ عمل پیش کریں گے ۔ہمارے پاس ایسی ٹیم ہے جن کے پاس ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی ومعاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے آئیڈیاز ہیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں اس عظیم کام کو سرانجام دینے کیلئے ہمیں شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام نے اس موقع پر شعبہ صحافت سے وابستہ احباب کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اور کالم نگار معاشرے کے کان اور آنکھیں ہیں اس بنا پر یہ معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ ان کے قلم میں طاقت ہے ، انہیں چاہئے کہ جہاد بالقلم کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کریں ۔

  • میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کرنے کی وجہ؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کی ثالثی میں چین کی سفارتی ثالثی ایک ایسا اہم قدم تھا جس نے چین کے قد و قامت کے معیار کو اوپر پروان چڑھائی یہ جبکہ ایک معاہدہ گیم چینجر ہے۔ اگرچہ فرانس یوکرین کا اتحادی ہے اور اس نے پہلے ہی 18 سیزر ہووٹزر یوکرین بھیجے ہیں لیکن وزیر دفاع لیکورنو نے کہا کہ یہ صرف یوکرین کے دفاع کے لیے ہے۔

    تاہم فرانس یوکرین میں جنگ بندی چاہتا ہے اور اس دورے کا بنیادی مقصد شی جن پنگ سے ماسکو پر یہ تاثر دینا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ میکرون اور بائیڈن دونوں نے کیو سے ماسکو کے انخلاء کے حصول میں بیجنگ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی فونک تبادلہ خیال پر اتفاق کیا تھا۔

    اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ چین اس تنازعے میں غیرجانبداری کا دعویٰ کرتا ہے تاہم اس نے 2022 میں کریملن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے جبکہ زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں ہے جب شی جن پنگ نے ماسکو کا سرکاری دورہ کیا.

    خیال رہے کہ بیجنگ نے پہلے ہی ایک کاغذ بھیج دیا تھا جس میں 12 نکات پیش کیے گئے تھے جبکہ اس میں ماسکو اور کیو کے درمیان جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نکات میں مغربی ممالک کی طرف سے روس کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ سمیت شہریوں کے باہر نکلنے کے لیے راہداری کا قیام اور اناج کی برآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی بھی شامل تھی۔ اس میں "سرد جنگ کی ذہنیت” کو ختم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ جبکہ یوکرینی صدر نے چین کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا تھا.

    تاہم الجزیرہ کی 24 فروری 2023 کی خبر کے مطابق یوکرینی صدر کے ایک سینئر مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا تھا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کو ختم کرنے کے کسی بھی منصوبے میں سوویت یونین کے انہدام کے وقت 1991 میں یوکرین کی سرحدوں سے ماسکو کی فوجوں کا واپس بلانا شامل ہونا چاہیے. لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر چین مذاکرات کار کے طور پر کام کرتا ہے تو بھی راتوں رات کچھ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ اس میں ابھی کافی وقت لگے گا اور بہت سارے معاملات کو دیکھنا ہوگا.

    یاد رہے کہ میکرون کے اس چین دورہ کے دوران ایک اضافی ڈش کے طور پر ان کے ساتھ تاجروں کا ایک دستہ بھی شامل تھا جو چین میں تجارتی معاہدے کرنے کی امید میں تھا۔

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

  • کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    نیتن یاہوکی وزارت عظمیٰ پر واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں خالی کرائی گئی بستیوں کی تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری کا کوئی ارادہ نہیں،نتین یاہو کے اس اقدام کی امریکہ نے مذمت کی تھی، اورواشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،منسوخ شدہ قانون نے 2005 میں اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیلی شہریوں کو جنین اور نابلس آنے جانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ علاقے ہیں جو سب سے زیادہ تشدد کا شکار ہیں یہ فیصلہ آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح تصادم کا باعث بنے گا۔ مارچ 2023 کے اوائل میں ہی موجودہ اسرائیلی حکومت نے شرم الشیخ میں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران اس عزم کو جاری رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے واشنگٹن ناراض ہے،محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی اس خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے

    بدلتے ہوئے عالمی اتحاد کے پس منظر میں، لازم و ملزوم جڑواں شہروں کے درمیان تعلق کوئی معنی نہیں رکھتا،اسرائیل تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش نہیں کر رہا یہ بیانیہ فرسودہ ہو چکا کیونکہ اسرائیل نے ہی حال ہی میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، اسرائیل کے مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ قطر نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکا کو شرائط پیش کی ہیں۔ اگرچہ دونوں میں غیر رسمی تعلقات ہیں اس کے علاوہ اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ امن معاہدے ہیں۔ دوحہ وہ نشست ہے جسے اسرائیلی ہیروں کے تاجر تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اب سعودی عرب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے، چینی یوآن چین، سعودی عرب اور روس کے لیے کرنسی کے تبادلے کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آرہا ہے

    پاور گیم کے اصول ،اسرائیل اور امریکا کے تعلقات یقیناً اسرائیل کے لیے موزوں ہیں لیکن امریکا کا کیا ہوگا؟ پس منظر میں نئے اتحادوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ابھرتی ہوئی صورتحال میں، کیا امریکہ مسلم ریاستوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کی نیک نیتی کو داؤ پر لگا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت پیچھے ہیں۔ اب امریکہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے نئے عالمی نظام میں اپنے مفاد کا خیال رکھنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    سکارٹ لینڈ کے پہلے مسلم سربراہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف نے حلف اٹھا لیا اور اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردئیے ہیں۔ سکارٹ نینشل پارٹی سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ حمزہ یوسف کو اپنی جماعت کے علاوہ سکاٹش گرینز پارٹی کے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔ وہ برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان ہیں۔ اس سے قبل سعیدہ وارثی بھی کنزویٹو پارٹی کی 2010 سے 2012 تک شریک چئیرمین رہ چکی ہیں۔

    حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف کا تعلق پنجاب کے علاقے میاں چنوں (خانیوال) سے ہے انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے جہاں بطور اکاونٹنٹ کام کیا۔ حمزہ یوسف کی والدہ کینیا میں رہائش پذیر ایشائی خاتون شائستہ بھٹہ ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے حمزہ یوسف نے گلاسگو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف دس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان کے رشتے دار اور عزیز و اقارب خوشی منا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی حمزہ یوسف پاکستان کے سربراہ بن سکتے ہیں؟

    پاکستان میں حمزہ یوسف جیسی شخصیات کا وزیراعظم بننا تو بہت مشکل رکن قومی اسمبلی منتخب ہونا بھی قدرے مشکل ہوگا۔ پاکستانی قوم ویسے بہت جذباتی ہے پاکستانی نژاد شخصیات کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں۔ امیدیں وابستہ کرتے ہیں دنیا بھر میں اپنے جھنڈے گاڑے مگر وہی پاکستان میں جمہوریت کے لئے آواز بلند نہیں کرتے۔ پاکستان میں بھوک اور افلاس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام اور غیر سیاسی افراد کی سیاست میں مداخلت ہے۔ ریاست اور سیاست کے اس کھیل میں چونا صرف عوام کو لگتا ہے۔

    بنیادی جمہوریت نہ ہونے اور سیاسی جماعتوں میں اشرافیہ کا کنٹرول اور موروثی قیادت کسی طور پر بھی مڈل کلاس قیادت کو منتخب نہیں ہونے دے گی۔ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے ایک رکن نے بتایا کہ سینیٹ میں ووٹ کے لئے 10 کروڑ روپے کی آفر ہوئی۔ان حالات میں متوسط طبقہ تو کیا کاروباری طبقے سے منسلک لوگ بھی اس کھیل میں شامل نہیں ہوسکتے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیاں اس طرح ٹکٹ تقسیم کرتی ہیں اللہ کی پناہ۔ گزشتہ حکمران جماعت تحریک انصاف پر الزام ہے کہ2018 کے انتخابات کے لئے دو دو کروڑ تک کے ٹکٹ بیچے گئے۔ جب پارٹی ٹکٹ کی قیمت یہ ہوگی تب انتخابات جیتنے کے لئے 50 کروڑ روپے لگائے جائیں گے۔ اور ایک حلقے میں اگر تین مضبوط امیدوار ہوں تو 1 ارب 50 کروڑ روپے اوسطا خرچ ہونگے۔ ان حالات میں جیتنے یا ہارنے والا اتنی بڑی انوسٹمنٹ کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنائے گا وہاں حمزہ یوسف تو کہی گم ہو جائے گا۔

    یہاں بھی ہر شہر میں حمزہ یوسف موجود ہیں۔ وہ سیاسیات کی ڈگری بھی حاصل کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں بطور کارکن کام بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی حمزہ یوسف نوجوانی میں پارٹی پرچم تھامے چلتے ہیں مگر جب انتخابات کی باری آتی ہے تو ان حمزہ یوسفوں کے اوپر پیسے والے مسلط ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی حمزہ یوسف کسی سیاسی جماعت کا چیف آرگنائزر بن بھی جائے تو وقت آنے پر اس حمزہ یوسف کو اتار کر وہاں اس پارٹی کے قائد کی بیٹی یا بیٹا بیٹھ جاتا ہے۔ ہم بھی کیا اپنے دکھ لے کے بیٹھ گئے بھائی حمزہ یوسف آپ کو بہت مبارکباد شکر ہے آپ پاکستان میں نہیں ہیں ورنہ آپ کھبی بھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کی ترقی کے لئے آپ کے قدم مبارک ہوں۔ اور پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ ایسی قیادت نصیب فرمائے اور پاکستان میں بھی عام آدمی کو وزیراعظم تک کے سفر میں آسانی فرمائے۔

  • رمضان اور یوم پاکستان ،تحریر:محمد نعیم شہزاد

    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتيں ایک بار پھر میسر ہیں۔ یوم پاکستان اور پہلا روزہ دونوں خوشیاں اکٹھی نصیب ہوئیں مگر فی زمانہ میری ارض پاک، ملک پاکستان کچھ مختلف حالات سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف اقتصادی طور پر ملک قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہے تو دوسری طرف اندرونی خلفشار اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے میرے وطن میں اچھے حکمرانوں کا فقدان رہا ہے مگر اس بار خرابی حالات کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عوام بھی ملکی سلامتی اور اجتماعی مفاد کو بھول کر ایک سیاسی راہنما کی فکر میں محو ہیں۔
    انسان فطری طور پر کمزور ہے اور خواہشات کا اسیر بن کر بہت سے غلط افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے مگر کبھی کسی کی اس قدر مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ بات مخاصمت اور مجادلت تک بڑھ جائے۔ چار برس پہلے جب ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی عمل میں آئی اور ایک دوسری پارٹی کو برسر اقتدار آنے کا موقع ملا تو سب کچھ مبنی بر انصاف لگا اور ہر نااہلی عین قانونی اور آئینی معلوم ہوئی مگر جب اگلے چند برسوں کے بعد خود یہ منصب چھوڑنا پڑا تو سب غیر آئینی اور اداروں کی مداخلت نظر آنے لگا۔ وہ ادارے جن کے ساتھ یکجہتی دکھائی گئی انھیں مورد الزام ٹھہرا کر سب سیاہ و سفید کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اپنے حق میں ہونے والی ہر بات کو حق اور اپنے خلاف ہونے والی بات کو باطل تسلیم کر لیا گیا۔ قرض تلے ڈوبی ہچکولے کھاتی معیشت کا مذاق اڑایا جانے لگا اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ نازیبا سلوک کو محض موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناکامی قرار دیا گیا۔
    بحثیت ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی حالات کی نزاکت کا ادراک کرے اور اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں سوچے۔ الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے ہر سیاسی رہنما اور جماعت سے مطالبہ کرے کہ وہ قومی سلامتی اور ترقی کے لیے کام کرے۔ بے جا کسی رہنما یا جماعت کی حمایت نہ کی جائے اور ملک و قوم کو افراد اور جماعتوں سے بالاتر سمجھا جائے۔
    بحثیت مسلمان ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ اس جہان رنگ و بو میں صرف ایک ہی ہستی اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اور وہ سب سے قوی و عزیز تر ہے۔ آج ہی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے درج ذیل آیت قرآنی نظر سے گزری تو فوراً ملکی حالات کی طرف خیال گیا۔ سورہ اعراف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جادوگروں کی شکست اور رجوع الی اللہ کا بیان کیا اور فرعون کے اپنی طاقت کے نشے میں چور بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے اور خواتین کو زندہ چھوڑنے کا ذکر کیا اس سے متصل دنیا میں حکومت اور آخرت کے حسن انجام کا معاملہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔

    قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف ، ۱۲۸)

    موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حکمرانی اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے مگر حسن عاقبت تو صرف پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ تو ہم کیوں اس دنیا کی حکومت کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرنے کو تیار ہیں ۔ ہم عمل کے مکلف ہیں مگر اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ۔ ہمیں ہر ایسے فعل و عمل سے ضرور بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے ملک پر خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔