Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔  آمنہ امان

    ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔ آمنہ امان

    حکومت کسی کاروبار ,پراڈکٹ ,کمپنی یا جاٸیداد پر مخصوص ٹیکس لگاۓ اور ٹیکس لگانے کا مقصد بھی واضح بیان کیا جاۓ تو اسے لیوی کہتے ہیں ۔ لیوی کی منظوری دونوں ایوانوں سے لی جاتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے باقاعدہ مقصد کے تحت عوامی نماٸندوں سے منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔ لیوی ٹیکسز لگاتے وقت حکومت باقاعدہ طور پر مقصد بتاتی ہے کہ یہ کن وجوہات کی بنإ پر نافذ کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد یہ غیرمٸوثر ہوجاتا ہے۔ لیوی ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی حکومت کی کلی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :
    میکسیکو، انڈیا ، آسٹریلیا ، برطانیہ سمیت دنیا کے کٸ ممالک میں شوگر یعنی چینی پر مشتمل مشروبات پر اضافی ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے جہاں ان ممالک میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے وہیں ذیابیطس ، ہارٹ اٹیک ،فالج اور کٸ دیگر امراض پر قابو پانے میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ موٹاپا بھی اس وقت دنیا کے کٸ ممالک میں اہم مسٸلہ بنا ہوا ہے جو بذات خود کٸ قسم کے امراض کو دعوت دیتا ہے جس کا انجام دردناک موت ہوتا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ بھی شوگری اور کاربونیٹڈ مشروبات اور جنک فوڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تمباکو اور دیگر ڈرگز پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے ان کے پھیلاٶ پر قابو پایا گیا ہے۔ نشہ آور اشیإ کے استعمال میں روک تھام اور نٸ نسل کو اس کے مضمرات سے محفوظ رکھنے میں بھاری ہیلتھ لیوی کانفاذ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر ،ٹی بی، اور دمہ کا سبب تو بنتی ہی ہے مگر اس کے عادی افراد بہت سی معاشرتی خرابیوں کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال افراد کو اعصابی طور پر کمزور بنا دیتا ہے وہ چڑچڑے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں ان کی قوت فیصلہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جسے پورا کرنے کے لیےعادی افراد چوری چکاری جیسے جراٸم بھی کرسکتا ہے۔ گویا مضر صحت اشیإ جیسے نام نہاد انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات ، فلیورڈ جوسز ، سگریٹ ، پان اور چھالیہ وغیرہ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے ملک کو دوہرا فاٸدہ ہوتا ہے۔ اک طرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا دوسری طرف بیماریوں کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہے۔ اور لوگوں کی عمومی صحت میں بہتری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کٸ ممالک مضر صحت اشیإ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے اپنے ملک کے خزانے کو فاٸدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ان ممالک میں مذکورہ بالا بیماریوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوٸ ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا نفاذ:
    2019 میں اک سماجی تنظیم سپارک نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ پاکستان میں تقریبا روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں اور ہر سال 170000 لوگ تمباکو نوشی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست کینسر، ٹی بی اور دمہ ہیں۔
    اور اس کے علاوہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے 615 بلین روپے کا سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔پاکستان ذیابیطس کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے سالانہ تقریباً 70000 لوگ اسی مرض کی پچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار یقیناً نہایت تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپے کا مرض بھی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس سے افراد کے کام کرنے کی صلاحیت ہر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں فالج اور برین ہیمبرج جیسے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ شوگری مشروبات کے باقاعدہ استعمال سے بڑوں میں 27 فیصد جبکہ بچوں میں 55فیصد وزن بڑھ جاتا ہے ۔ جو بعد میں کٸ امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

    ان تمام امراض اور ان کے باعث ہونے والی جانی ومالی نقصان سے بچنے کے لیے نقصان دہ مشروبات ، پان وچھالیہ اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنا لازمی امر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گٸ اور خاص طور پر تمباکو سگریٹ گٹکے اور انرجی ڈرنکس کے ملک میں بکثرت استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے مٸوثر قانون سازی نہیں کی گٸ۔ حالانکہ گٹکا نسوار اور پان کی لت پاکستان میں مردوں کے علاوہ خواتین میں بھی پاٸ جاتی ہے اور سالانہ لاکھوں شہری ان کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وجہ ان چیزوں کا انتہای سستے ریٹس پر بکثرت دستیاب ہونا ہے ۔ جس سے پاکستان میں کینسر ذیابیطس اور دل کے امراض میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ٹی بی اور ہیپاٹاٸٹس کے امراض بھی ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سب کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی ہے ۔ تاہم اب حکومتی سطح پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ اور اس کے یقینی حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گٸ ہے۔ جو کہ نہایت خوش اٸند ہےاس سے امید پیدا ہوٸ ہے کہ مستقبل میں بھاری ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے مضرصحت اشیإ کی خریدوفرخت میں واضح کمی لاٸ جاسکے گی۔

    اگر حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے اعداد وشمار اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھ کر مضر صحت اشیإ پر زیادہ سے زیادہ ہیلتھ لیوی نافذ کرے تواس کے ناصرف خزانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عوامی صحت میں بھی نمایاں بہتری اۓ گی۔ ہیلتھ سیکٹر پر اٹھنے والےاخراجات میں بھی کمی لاٸ جاسکے گی۔ صرف سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے حکومت سالانہ 40 ارب روپے جمع کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات پر بھی بھاری ہیلتھ لیوی کا اطلاق کافی ریونیو جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ان اشیإ کے بے تحاشا استعمال کو قابو کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ من پسند کمپنیز اور لوگوں کو چھوٹ ناں دی جاۓ بلکہ بلاتخصیص تمام مضر صحت پراڈکٹس پر ہیلتھ لیوی نافذ کی جاۓ اور اس کی شرح بھی حتی الامکان بلند رکھی جاۓ۔ اس پروگرام کو کرپشن کی نذر ہونے سے بھی بچایا جائے تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فاٸدہ ہوسکے اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نظر آٸیں۔

  • تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر: نصیب شاہ شینواری، لنڈیکوتل
    چھوٹے بچوں کو بازاروں اور گاوں میں سیگریٹ یا نسوارلانے کے لئے کسی دوکان کو نہیں بھیجنا چاہئے اس لئے کہ سیگریٹ لانے سے یہ بچے خود بھی سیگریٹ اور دوسرے خطرناک قسم کی منشیات استعمال کرنے کے عادی بن سکتے ہیں ، یہ بات عام مشاہدے کی بھی ہے کہ یہی بچے پھر بڑے ہوکر بھی بڑی شوق سے سیگریٹ اور نسوار کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ مفید اورکارآمد باتیں ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے ایک سماجی کارکن اختر علی شینواری کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل سیگریٹ اور دوسرے منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے اور معاشرے میں ہرکسی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اور جتنا ہوسکے اپنے قریبی دوستوں،رشتہ داروں کو سیگریٹ پینے و دیگر منشیات سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے بچایں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر غریب مزدورکار اورتنخوادار طبقہ کے ہزاروں افراد بھی سیگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہے اور کمزور مالی حالت کی وجہ سے ان کے اپنے بچوں کی کفالت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کے 1973 آئین کے تحت ہرشہری کو بنیاد صحت کی سہولیات دینا ان کا قانونی حق ہے اور یہ ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاکستان کی حکومت نے سال 2019 میں ہیلتھ لیوی بل پاس کیا لیکن اس بل کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے مطابق تمباکو پری لیوی ٹیکس لاگو ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا ور سیگریٹ نوشی کو کم کیا جائے گا،اگر حکومت پاکستان یہ ٹیکس واقعی تمباکو نوشی،سگریٹ پر لاگو کریں تو اسے سے ہمارے معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگاِ، سیگریٹ پر ٹیکس زیادہ کرنے سے لوگ سگریٹ کو کم خریدیں گے اور اس طرح یہ غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائے گی اوراس سے ان لوگوں کو ایک قسم کا مالی فایدہ بھی ہوگا۔ اخترعلی شینواری کا کہنا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ پرحکومت کو زیادہ ٹیکس لگانا چاہئے ِ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی معیشت اور عام لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی، کم از کم غریب لوگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پائیں اور یہی پیسے جو یہ لوگ سگریٹ خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہیں،انہی پیسوں سے بچوں کے لئے کوئی کارآمد چیز خرید سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے خطرناک عادت ہے اور یہ انسان کی صحت پر بہت ہی برا اثر کرتے ہیں، موصوف کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے اور یہ انسانی دماغ کو بری طرح متاثر کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی مسلسل استعمال سے ان کا دماغ متاثر ہوتا ہے، پھر دماغ میں طرح طرح کے دیگر برے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کسی دوسرے نشہ کا بھی استعمال شروع کرتا ہے۔انسان پر سگریٹ نوشی کا برا اثر یہ ہے کہ یہ برا عمل انسان کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے اور یہی سگریٹ نوشی بہت سے افراد کی خودکشیوں کی سبب بھی بنی ۔ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمباکو نوشی کنٹرول ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بارہ سو افراد سیگریٹ نوشی کا استعمال شرو ع کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے اعداد و شمار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ سیگریٹ کے عادی بن رہے ہیں۔

    سیگریٹ کن خطرناک بیماروں کا سبب ہے؟
    جب ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ سیگریٹ نوشی سے کن کن بیماریاں انسان کو لاحق ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کئی خطرناک قسم کی بیماریاں سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوسکتی ہے۔ منہ کینسر، حلق کینسر ِ، خوراک کی نالی کینسر، معدے کا کینسر ، پھیپھڑوں کا کینسر، بڑی انت کینسر، معدے کی کینسر، مثانہ کینسر، جنسی کمزوری ِ، عارضہ قلب جان لیوا بیماریاں ہیں جو سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک جیسے انگلستان میں عام جگہوں میں کوئی سیگریٹ نہیں پی سکتا اور سیگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہیں ہیں جہاں انسان سیگریٹ نوشی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا اور مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کو بھی سیگریٹ اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگا نا چاہے تاکہ عام لوگ سیگریٹ کو خرید نہ سکیں اور اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی بیماریوں سے بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا سیگریٹ نوشی سے کیی خطرناک بیماریاں لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت لوگوں کی صحت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر سیگریٹ پر ٹیکس لگائی جایں تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی، لو گ اسے کم خریدیں گے اور لوگ کم بیمار ہوجائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انسان اپنی پختہ عز م ہی کی وجہ سے سیگریٹ نوشی کو ترک کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ورزش اور ایک انسان کی مضبوط قوت ارادی ہیں ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے انسان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ لنڈیکوتل کے ایک صحافی فرہاد شینواری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام جگہوں میں سیگریٹ نوشی پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ایسی جگہ پر سیگریٹ نوشی کریں جہاں پر پابندی ہو تو حکومت انہیں 250 ڈالرز جرمانہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی نے لئے امریکا میں مخصوصی جگہیں ہیں جہاں اپ سیگریٹ پی سکتے ہیں۔

    بحثیت مسلمان بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیگریٹ نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو اس لئے کہ قرآن اور سنت رسول ﷺ نے ہر نشہ اور چیز کو حرام کردیا ہے، کچھ بدقسمت اور کم علم لوگ کہتے ہیں کہ سیگریٹ نشہ اور نہیں ہے تو ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ مصر کے ایک مشہور عالم دین نے سال 2000 میں ایک فتوی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی صحت پر برے اثرات کی وجہ سے دین اسلام میں سیگریٹ نوشی حرام ہے۔

    مختلف مکاتب فکر کے لوگوں اور سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کا بھی بہت عرصہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ سیگریٹ نوشی کی حوصہ شکنی کے لئے ہیلتھ ٹیکس لانا اور لاگوں کرنا چاہئے تاکہ سیگریٹ مزید مہنگی ہوسکیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو۔حال ہی میں سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ نے مری میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا انفلوینسرز اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے مذکورہ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو شارق محمود نے کہ پاکستان میں سیگریٹ نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آے روز بچے اور نوجوان سیگریٹ کے عادی بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ لیوی کو لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی شکل میں ٹیکس کے نفاذ سے ملکی خزانے کو 60 ساٹھ ارب روپے کا فایدہ ہوگا۔

    ریونیو ڈویژن حکومت پاکستان کے سرکاری ویب سایٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریوینیو) نے تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کے بارے میں 21 جنوری کو پریس کے کچھ حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر پر وضاحت جاری کی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ صحت ایک صوبائی موضوع ہے اور وفاق تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے سگریٹ پر تین درجے والے ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کر دیا اور FED کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

    بجٹ تقریر 2019-20 میں، اس وقت کے وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز اینڈ ڈیوٹی کا وفاقی حصہ ترجیحی طور پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ہیلتھ لیوی کا مسئلہ حل ہو جایں گا۔ سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ایک تحریر میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) نے صحت کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا آئین بھی ”ہر انسان کے بنیادی حق کے طور پر صحت کے اعلیٰ ترین قابل حصول معیار” کا تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے لیے بھی پرعزم ہے۔

  • ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کی جانب سے 16 نومبر 2022 بروز بدھ کو منعقدہ مباحثے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مقررین نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے بچانے کے لئے لیوی عائد کرے۔پارلیمانی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال ایک لاکھ 70 ہزار افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وزارت صحت تمباکو نوشی کرنے والے تمام بچوں کے حق میں اقدامات کی حمایت کرنے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ، جو پہلے ہی 31 ملین ہے ، میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اور ہماری نوجوان نسل اس بڑہتے ہوئے معاشرتی فتنے سے دور رہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے نتائج خطرناک حد تک بڑہتے چلے جا رہے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ نقصانات رونما ہو رہے ہیں۔ طلباٰء، بچے اور نوجوان نسل تمباکو نوشی کا شکار ہیں۔ بژے بڑے مافیاز اس کی اسمگلنگ کر کے، اور نوجوان نسل میں پھیلا کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے تمباکو کی کھپت میں کمی اور سالانہ 60 ارب روپے کمانے کے لیے ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) عائد کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ تاہم بہت سے پالیسی سازوں نے بل کو مسلسل روک دیا ہے اور اس وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافے کی وجہ سے تمباکو کی مصنوعات زیادہ سستی ہوگئی ہیں۔ کم عمر بچے اور کم آمدنی والے افراد تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کو فوری طور پر ہیلتھ لیوی بل پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک ایکٹ بن سکے اور اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکے۔ اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    سگریٹ اورنکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہیں، دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت سے وابستہ بزنس مین ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔اس لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ افراط زر اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمباکو کی صنعت کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔تمباکو ٹیکس کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سب سے نچلے درجے کے ممالک میں سے ایک ہے اور چونکہ تمباکو کی مصنوعات مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں اس لیے صنعت کو اس عدم توازن کی قیمت ادا کرنی چاہیے جو اس نے پیدا کیں ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ اور اس ناسور کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہیلتھ لیوی بل کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ یہ ایکٹ بن کر پورے ملک میں نافذ ہو سکے اور ہماری نوجوان نسل اس فتنہ سے پاک ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کوششیں کرے۔

  • "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    شیر شاہ کراچی میں کار کی پسنجر سیٹ پر انتظار کرتے شیشے سے دیکھا ایک لمبا تڑنگا مجہول سا سادہ آدمی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے. آنکھیں چار ہوئیں تو وہ میری طرف بڑھا. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ نے کئی تجزیے کر ڈالے. یہ خطرناک علاقہ ہے لوٹنے والا نہ ہو.؟ یہ ضرور اب کچھ مانگے گا.؟ سیل فون بٹوہ کہاں ہے؟ کیا اوپری جیب میں کچھ کھلے پیسے ہیں؟

    وہ آدمی جب پہنچا تو اس نے پوچھا باو جی خیریت تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں. میں نے کہا نہیں بھائی سب ٹھیک ہے دوست کا انتظار کر رہا ہوں. اس نے بند مٹھی میں مکئی کے دانے پکڑے تھے جو وہ کھا رہا تھا. اس نے کچھ شرمندگی سے کہا باو جی کھاو گے.؟ میں نے کچھ دانے لئے اور کہا کیوں نہیں بس بھائی دعا کرنا میری نظر کچھ کمزور ہے.

    سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ہی نظر کمزور ہیں. ہم فوری دوسروں پر دیکھ کر ایک رائے بناتے ہیں اور اپنی سوچ و رائے کو ختمی سمجھ لیتے ہیں. یہی حال اسپیشل لوگوں پر معاشرتی سوچ کا ہے. ہم ان کو معذور سمجھ کر زندگی کا بوجھ سمجھ لیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ اللہ جس نے ہمیں اگر مکمل بنایا تو اپنے ایک دوسرے بندے کو نامکمل کیوں بنایا.؟

    اللہ رب العزت انسانیت کی تصویر مکمل کرنے کیلئے ہمیں خالی جگہیں دیتا ہے. ان خالی جگہوں پر ان اسپیشل لوگوں کو مکمل سمجھ کر جب ہم جگہ دیتے ہیں تو تصویر مکمل ہوتی ہے. معاشرے کی سوچ جب معذور ہو جائے تب یہ خالی جگہیں نامکمل رہتی ہیں اور معاشرہ ٹھوکر پر ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا ہوتا ہے.

    ہماری بہن حنا سرور کی کتاب نامکمل زندگی بھی ایک شاندار اسپیشل شخصیت کی یہی سمجھاتی کوشش ہے. اسے مکمل پذیرائی دے کر اپنی بینائی کا ثبوت دیں. زندگی آپ کو بڑے بڑے عالم اور لکھاری فلسفی نہیں سمجھا سکتے. زندگی ہمیشہ عام لوگوں کی عام باتوں پر سمجھ آتی ہے بس اگر آپ کی نظر ٹھیک ہو.

  • گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    دو سال قبل گھر میں چوری ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ جلد ہی چور بھی پکڑ لیے اور سامان بھی برآمد کر لیا۔ اس دوران چوروں سےپوچھ گچھ کے دوران، پولیس والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کی بنیاد پر کچھ پوسٹس تیار کی ہیں کہ چوری سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اگر خدانخواستہ گھر میں چوری ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔

    1) کہیں جائیں تو باہر والے دروازے کو باہر سے تالا ہرگز نہ لگائیں۔ سب سے زیادہ اسی بات سے چوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اگر گھر کے ایک سے زیادہ دروازے ہیں تو کسی ایک دروازے کو باہر سے ہمیشہ تالا لگا کر رکھیں تاکہ کہیں جانا پڑے تو وہی تالاباہر سے لگا کر چلے جائیں۔ اس طرح معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں کیونکہ وہ تالا تو ہمیشہ ہی باہر سے لگا رہتا ہو گا چاہے آپ گھر پر ہوں یا نہ ہوں۔

    2) آج کل ایسی لائیٹس مل جاتی ہیں جو کہ اندھیرا ہونے پر خود جل پڑتی ہیں۔ تھوڑی بجلی کھانے والی ایسی دو تین لائٹس گھر میں ضرور لگائیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہوں تو پھر کوئی لائٹ آن چھوڑ کر نہ جائیں کہ جو لائٹ دن رات چلتی رہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔

    3) اگر زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تو کسی نہ کسی جاننے والے کو باہر والے دروازے کی چابی دے کر جائیں کہ وہ روزانہ ایک بار گھر میں ضرور چکر لگا لیا کرے۔

    4) چائنہ والا کوئی بھی تالا نہ لگائیں۔ ان کو کھولنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ اس کی بجائے دیسی تالے لگائیں جن کی چابی بڑی مشکل سے بنتی ہے۔

    5) بیرونی دروازے لکڑی کے ہرگز نہ لگوائیں۔ بیرونی دروازے لوہے کے ہونے چاہیے، ایک تو انھیں توڑنا مشکل ہوتا ہے دوسرا توڑنے کی کوشش کی جائے تو آواز بہت آتی ہے جس کی وجہ سے کوئی چور انھیں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

    6) اگر تین چار گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہوں تو جتنے بھی دروازے ہوں سب کو تالے لگا کر جائیں۔ ان کمروں کو بھی جن میں کچھ بھی خاص نہ پڑا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی چور آ بھی جائے تو زیادہ وقت اس کا تالے توڑنے میں ہی گزر جائے۔ چور کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد چیزیں سمیٹ کر چلتا بنے۔ پھر جس کمرے کو جتنا بڑا تالا ہو چور سمجھتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی قیمتی چیز ہو گی۔

    7) سونے چاندی اور کیش کو کم سے کم مقدار میں گھر پر رکھیں۔ اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے گھر پر ہو تو جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی جاننے والے کے پاس رکھوا جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو یا کم وقت کے لیے کہیں جا رہے ہوں تو پھر کسی ایسی جگہ رکھ کر جائیں جہاں چوروں کا خیال بھی نہ جائے جیسے واشنگ مشین میں، دھونے والے کپڑوں میں، کسی برتن میں وغیرہ وغیرہ

    8) گھر میں کام کرنے والی عورتوں یا مردوں، دودھ والے یا کسی بھی دوسرے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ واپسی کب ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ کل نہیں آنا، جب آپ کو بلانا ہوا کال کر دیں گے۔ ایک دن کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں، زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں۔

    9) گھر میں سیکیورٹی کیمرے ضرور لگوائیں۔ خاص طور پر ایسے کہ جن کی ویڈیو موبائل پر دیکھی جا سکے اور جن میں Motion Detection کا فیچر لازمی ہے۔ آج کل یہ بیس تیس ہزار میں لگوائے جا سکتے ہیں۔ اگر کیمرے لگوانا ممکن نہ ہو تو پھر بازار سے ڈمی کیمرے ملتے ہیں وہ لگوا لیں دو چار سو روپے میں۔ کیمرے کے ڈر کی وجہ سے ہی بہت سے چور گھر میں نہیں گھستے۔

    10) اگر گھر میں کام کرنے والی رکھنا ناگزیر ہوتو پھر اس کا لازمی طور پر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر فری میں اندراج کروائیں،اس کے شناختی کارڈ کی کاپی لازمی رکھیں، اس کا گھر بھی دیکھ لیں اور یہ بھی معلوم کر لیں کہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا۔ ان کو ترجیح دیں جن کا گھر اپنا ہو۔

    اگر خدانخواستہ چوری ہو جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے کہ چور پکڑے جائیں۔

    1) آپ کہیں باہر سے آئیں اور معلوم ہو کہ خدانخواستہ گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سب سے پہلے 15 پر کال کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ فرینزک والی ٹیم کو لازمی بھیجیے گا جو فنگر پرنٹس لے سکے۔ یاد رکھیں کہ مقامی تھانے میں ہرگز کال نہ کریں نہ ہی وہاں جائیں۔ وہاں جانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہونا۔ 15 پر کی گئی کال ریکارڈ ہوتی ہے اور اس پر لازمی ایکشن لیا جاتا ہے۔ 15 پر کی گئی کال کی وجہ سے پولیس فوراً آپ کے گھر آئے گی۔

    2) جس گھر میں چوری ہوئی ہو یا گھر کے جس حصے میں چوری ہوئی ہو اس میں کسی کو بھی نہ جانے دیں، خود بھی نہ جائیں جب تک کہ فرینزک والے فنگر پرنٹس نہ لے لیں۔

    3) فنگر پرنٹس لیتے وقت پولیس کے ساتھ رہیں اور اگر کوئی چیز ایسی نظر آئے جس پر کوئی نشانات ہوں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔ فنگر پرنٹس شیشے اور صاف پلاسٹک والی چیزوں پر بہت اچھے آتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پینٹ ہوا ہو تو اس پر بھی۔ بعد میں پولیس سے پوچھتے بھی رہیں کہ کیا فنگر پرنٹس نادرا بھجوا دیے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بھجوا دیے ہوں تو ان کا کیا بنا۔ اگر میچ نہ ہوں تو جن پر شک ہو ان کے فنگر پرنٹس لے کر بھجوائیں۔ آج کل فنگر پرنٹس سے بہت سے چور پکڑے جا رہے ہیں۔

    4) ایک دفعہ پولیس اپنی کاروائی پوری کر لے تو پھر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر اپنی شکایت درج کروائیں اور اس کا حوالہ نمبر حاصل کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ ایف آئی آر نہیں ہے۔

    5) اگلے دن آفس کی ٹائمنگ میں جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کریں۔ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوگی مگر جتنے بھی ممکن تعلقات ہوں سب کو بروئے کار لا کر ہر حال میں ایف آئی آر درج کروائیں۔ تعلقات سے بھی نہ درج ہو تو 8787 پر کال کر کے بتائیں کہ یہ مسئلہ ہے اور ایف آئی آر درج نہیں کر رہے۔

    6) ایف آئی آر میں کم سے کم دو گواہوں کے نام ضرور لکھوائیں اور اگر کوئی موبائل وغیرہ بھی چوری ہوئے ہوں تو ان کے IMEI نمبر ضرور لکھوائیں۔ اور ان کو لازمی طور پر ٹریکنگ پر لگوائیں اور ان کا پتہ بھی کرتے رہیں سی ڈی یو برانچ سے۔

    7) ایک دفعہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر خود سے بھی کوشش کرتے رہیں اور پولیس پر بھی مختلف طریقے سے دباؤ ڈلواتے رہیں کہ وہ چوروں کو گرفتا ر کرے۔ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ چوری کس نے کی ہے۔ آپ کوئی تگڑی سفارش لے آئیں تو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔

    8) یاد رکھیں کہ چوری والے معاملے میں کبھی بھی کسی بھی حال میں پولیس والوں کو پیسے نہ دیں ورنہ اتنے کی چوری نہیں ہو گی جتنے آپ پیسے لگا بیٹھیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آنا۔ کچھ دن بعد آپ نے تنگ آ کر خود ہی جانا چھوڑ دینا ہے۔ اگر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کئی بار چکر لگا سکتے ہیں پولیس سٹیشن کے۔

    9) اگر آپ خوش قسمت ہوں اور چور پکڑے جائیں تو پھر لازمی طور پر لسٹ بناتے جائیں کہ کس چور سے کیا برآمد ہوا ہے اور پولیس کو کہیں کہ جس سے جو بھی برآمد ہوا ہے وہ اس پر ڈالیں۔ پولیس اکثر چوروں پر نہیں ڈالتی جس سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

    10) یاد رکھیں کہ مجرموں سے سامان پولیس نے ہی برآمد کروا کر دینا ہے عدالت نے نہیں۔ اس لیے پولیس کو کہیں کہ ریمانڈ لے اور چالان نہ کرے مجرموں کا۔ ایک دفعہ جیل چلے گئے تو آپ کو کچھ نہیں ملنا۔

    11) اگر مجرموں کی طرف سے کوئی آپ سے مذاکرات کرنا چاہے تو اس سے بات چیت لازمی کریں تاکہ آپ کو آپ کا سامان مل سکے۔ اور اگر کوئی مجرم پکڑا جائے تو اسے ہرگز تھانے سے باہر نہ آنے دیں جب تک کہ آپ کو سامان نہ مل جائے۔

    12) اس کے بعد کوئی وکیل کر کے مجرموں کو سزا دلوانے کی بھی پوری کوشش کریں۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    امریکی حکام کا پاکستان کا دہشتگردی کیخلاف اقدام کی حمایت کا اعلان

    پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش حملہ، بنوں میں سی ٹی ڈی کی جیل پر حملہ اور اسکے بعد بلوچستان میں فورسز پر حملے، پنجاب کے شہر خانیوال میں حساس ادارے کے اہلکاروں پر حملہ انتہائی الارمنگ صورتحال بن چکی ہے، امن کے قیام کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ،عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں افراد کی شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی، پاکستان جو کلمہ کے نام پر بنا وہ امن کا گہوارہ بنے گا ،اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ سب تبھی ہو گا جب قیام امن کے لئے سب ملکر کوشش کریں گے اور ملک میں لسانیت، فرقہ واریت ،سیاسی شدت پسندی کو ترک کریں گے اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر جمع ہوں گے،

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد کئی ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی ہے ، ایسے میں امریکہ جسے پاکستان میں کئی حلقے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن امریکہ سے امداد و تعاون کے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ، ایسے میں امریکہ نے بھی پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں کے باعث شدید نقصان اٹھایا طالبان کو کہیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں اور افغان سرزمین کو عالمی دہشتگرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طورپر استعمال نہ ہونے دیں طالبان کے کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے گا

    افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر مسلسل حملے، قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی چند روز قبل ہوا جس میں یہ عزم مصمم کر لیا گیا کہ اب کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، ملکی اداروں، ریاست پر حملہ کرنیوالوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، پاکستان کا یہ اپنا فیصلہ ہے، اس میں امریکہ یا کسی اور ملک کی تائید و مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کیخلاف ایک طویل ترین اور کامیاب ترین جنگ لڑ چکی ہیں، جانیں قربان کر دینے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، افواج پاکستان اور عوام پاکستان کی قربانیاں رنگ لائیں گی،اور وطن عزیز پاکستان ، ایٹمی پاکستان، امن کا گہوارہ دکھے گا، ان شاء اللہ

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی
    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:
    ہیلتھ لیوی اک اضافی ٹیکس ہے جسے مختلف ممالک جیسے بھارت ،آسٹریلیا اور میکسیکو وغیرہ میں مضر صحت اشیإ پر عاٸد کیا گیا ہے۔ اس اضافی ٹیکس کا مقصد ان اشیإ کی قیمت خرید کو بڑھاوا دے کر عام لوگوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ ان اشیإ میں خاص طور پر کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات، تمباکو پر مشتمل اشیإ جیسے سگریٹ اور شوگری فلیورڈ جوسز شامل ہیں۔ یہ تمام اشیإ مختلف بیماریوں کی بنیاد ہیں۔ ذیابیطس کا مرض دنیا میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص اس مرض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے ۔ مزید براں دل کے امراض ، فالج، کینسر اور دماغ کی شریان پھٹنے جیسے مہلک امراض کی وجہ بھی یہی مضر صحت مشروبات اور تمباکو نوشی ہی ہیں ۔ ان کی وجہ سے سالانہ کروڑوں لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور لاکھوں لقمہ اجل بنتے ہیں۔ اس لیے بیشتر ممالک ان بیماریوں کے پھیلاٶ کو روکنے کیلیے ان بیماریوں کی وجوہ بننے والے محرکات کا تدارک کررہے ہیں۔ جن میں ایک اہم قدم ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہے۔ لیوی ٹیکس چونکہ عدالت وغیرہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لیے یہ زیادہ مٸوثر ثابت ہوتا ہے۔ شوگری مشروبات اور سگریٹ جیسی اشیإ پر ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے ممالک سہہ رخی فواٸد حاصل کر رہے ہیں۔ اک تو ان اشیإ کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے جو خزانے پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرتا ہے دوسرا حکومتوں کو ہیلتھ سیکٹر پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے کیونکہ مضر صحت اشیإ کا استعمال کم ہونے سے بیماریوں کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے ۔ اور تیسرا اہم فاٸدہ عوام کی عمومی صحت میں بہتری ہے ۔ جن ممالک میں بیماریوں کی شرح کم ہوتی ہے وہاں پیداواری شرح زیادہ دیکھی گٸ ہے کیونکہ صحت مند افراد بیمار افراد کی نسبت ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے کٸ ممالک یہ سب فواٸد حاصل کررہے ہیں ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا عدم نفاذ اور اس کے اثرات۔
    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاکھوں افراد پان چھالیہ اور گٹکے کے بکثرت استعمال کی وجہ سے منہ ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ان کا بے تحاشا استعمال جاری ہے۔ کیونکہ یہ تمام اشیٕا بشمول سگریٹ نہایت ارزاں قیمتوں پر جابجا دستیاب ہیں جس کی وجہ سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس سلو پواٸزن کے عادی ہوۓ چلے جارہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 615 بلین روپے سالانہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج میں حکومت خرچ کرتی ہے۔ اور روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں ۔ پاکستان کے کسی بھی شہر حتی کہ دور دراز دیہات کا بھی سفر کریں تو آپ کو سگریٹ پان اور گھٹیا شوگری کاربونٹیڈ مشروبات بکثرت اور عام ملیں گے ان کی قیمتیں بھی انتہاٸ کم ہوتیں ہیں جن کی وجہ سے بچے اور بڑے سبھی ان کا بے دریغ استعمال کرتے دکھاٸ دیتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان شوگر کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جو کٸ دوسرے امراض کو جم دیتا ہے جن میں فالج ، لقوہ، دل کے امراض ، شریان پھٹنا اور گردوں کافیل ہونا بھی شامل ہے ۔ ان امراض کا علاج بھی کافی پچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں عوام کی صحت سے متعلق ناں تو حکومتی سطح پر مناسب آگاہی کا انتظام کیا جاتا ہے ناں مضر صحت اشیإ کے پھیلاٶ کے تدارک کیلیے عملی اقدامات اٹھاۓ جاتے ہیں۔

    2019 میں پاکستان میں پہلی دفعہ مختلف سماجی تنظیموں کے مطالبے پر تمباکو پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کا بل پاس کیا گیا۔ مگر FBR کی وجہ سے یہ بل سینیٹ ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے درمیان چکراتا رہ گیا اور اس پر عمل کی نوبت ناں آسکی۔ جبکہ اگر اس بل کا بروقت عملی اطلاق ہوجاتا تو پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے اضافی ٹیکس میسر آتا۔
    چند روز قبل کرومیٹک کے زیر اہتمام سوشل میڈیا انفلوٸینسرز اور ماہرین پر مشتمل ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں کرومیٹک کے سی ای او ملک عمران نے حاضرین کو اگاہ کیا کہ پاکستان ہیلتھ لیوی کے فوری نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو جمع کرسکتا ہے جو کٸ وباٸ امراض کے روک تھام پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ جو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور کٸ قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سیمینار کے تمام مقررین نے بھی حکومت وقت سے مضر صحت شوگری مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ہیلتھ لیوی نافذکرنے کا یک زبان مطالبہ کیا۔ اور ہیلتھ لیوی کا فوری نفاذ اس وقت پاکستان کی اہم ضرورت ہے کیونکہ شوگری کاربونیٹڈ مشروبات اور تمباکو نوشی کے باعث پاکستان میں کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر ہسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں جن کے علاج معالجے کے مد میں اربوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوتے جبکہ ان اشیإ کے استعمال جو کم کرکے یہ روپے بچاۓ جاسکتے ہیں اور انہیں کہیں اور مثبت مقاصد کیلیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستانی معیشت شدید زبوں حالی کا شکار ہے سگریٹ پر ٹیکس نافذ کرکے حکومت فوری طور پر اربوں روپے جمع کرسکتی ہے۔ ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان میں سگریٹ ، پان، چھالیہ ، شوگری اور کاربونیٹڈ مشربات کے بکثرت استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے اور انہیں بچوں کی دسترس سے بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر تمام مضر صحت اشیإ پر بلاتخصیص بھاری ہیلتھ لیوی نافذ کرے اور معاشرے کو صحیح معنوں میں مثبت راہ پر لائے۔ اب نہیں تو کب؟
    تحریر۔۔ امان الرحمن

  • ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات پر یکسر پابندی کا مطالبہ کرنا ایک بات ہے جبکہ ان کی خرید و فروخت اور ترغیبات پر قدغن لگانا یا محدود کرنا ایک بات ہے, اور ان میں آخر الذکر بات حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے کیونکہ تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانا وغیرہ آج کی دنیا میں ممکن نہیں کہ ادھر سماجی و سیاسی کارکنان کی محنت سے کوئی حکومت ایسا قدم اٹھانے لگے گی تو کسی کونے کھدرے سے کوئی نا کوئی انسانیت اور انسانی حقوق کا چورن منجن بیچنے والا گروہ, ادارہ یا شخصیت ٹپک پڑے گی اور نجانے کہاں سے اور کیسے تمباکو نوشی جیسی مضر صحت, مضر ماحول, مضر اخلاقیات اور مضر معیشت گھٹیا عادت اور زہریلی شہ بابت قوانین اور اصول و ضوابط لے آئیں گے کہ یہ بنیادی انسانی حق ہے بلا بلا بلا اور جو اس کا خاتمہ یا محدودیت چاہتے ہیں وہ ظالم اور انسان دشمن لوگ ہیں۔

    جبکہ ایک محتاط اندازے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔

    مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ کیا ایک معاشرے کے طور پر، ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟

    اور آپ کو آگاہی بہم دیتے چلیں کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، مطلب 45% فیصد حصہ 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کہ پاکستان میں بھی پاکستانی بچوں کے بنیادی حقوق کو مانا اور محفوظ کیا جاتا ہے بلخصوص پاکستان کی جانب سے عالمی برداری کو دلائی یقین دہانیوں اور عہد و پیمان کے تناظر میں کیونکہ تمباکو نوشی دراصل اور درحقیقت ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کی زندگی، بقاء اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔

    فرسٹ ہینڈ سموکنگ تو بہرحال بچوں اور نوجوانوں کی زندگی تباہ و برباد کرتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو سب سے زیادہ نقصان نان سموکر بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ سکینڈ ہینڈ سموکنگ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ ہے جو کہ دراصل بلاواسطہ اثرات سے مزین ہے جو ایک تمباکو نوش کے مقابلے دگنے اور خطرناک ہیں۔

    پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری دراصل تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف حربوں سے بچوں اور نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچوں کو تمباکو نوشی اور اس کے مضر صحت اثرات سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما کر خزانے کو فائدہ پہچایا جاسکے اور بعد میں یہی روپیہ صحت کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے اندر تک موجود اثر و رسوخ کی بدولت بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے جس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری نے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا کر بلکہ بچوں کی صحت کی قیمت پر اب تک اربوں کھربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری اسے شرافت سے واپس کرے وگرنہ آج چند آوازیں اٹھ رہی ہیں تو کل یہ شور میں بدل جائیں گی اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کو جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا ایک ایسے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی اپنے عہد و پیمانوں کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے اور ابھی تک عشر عشیر بھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ایسے میں تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر صرف بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر معمولی رویے کو اجاگر کرے گی اور ہماری بے حسی و خود غرضی کا نقاب اتارنے کا باعث بنے گی۔

    تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرو چائلڈ اقدامات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔ جبکہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہمیں بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن ایف بی آر اور حکومت وقت میں بیٹھی کچھ کالی بھیڑیں اور سماج دشمن انسان مل کر اس بل کو روکے ہوئے ہیں اور ان کی درپردہ کوششیں جاری ہیں کہ اس بل کو کسی طرح کالعدم قرار دلوادیں اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری سے اپنی خاطر خواہ قیمت وصول لیں اور اپنی وفاداریوں پر مہر ثبت کرلیں۔

    واضح کردوں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بارہا کہا ہے کہ سگریٹ کی قیمت کم از کم 30 روپے فی پیکٹ تک بڑھا دی جائے تاکہ سگریٹ کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور صحت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اس پائیدار حل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بیشک یہ ہی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے 2019 میں ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل منظور کروایا گیا تھا لیکن وہ تاحال سردخانے میں پڑا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری کے جی ایم صاحب کے بھائی آج کل ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے قرب و جوار میں پائے جاتے ہیں اور ایک اعلی سرکاری عہدہ جس کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے پر براجمان ہیں تو یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس بل یا دیگر کسی ایسے سخت قدم پر اثر انداز نہیں ہوئے, ہورہے یا ہوں گے جو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے خلاف ہو یا ہے۔

    قصہ مختصر کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سیگریٹ پھونکے جاتے ہیں جس میں عمر کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں, جبکہ میرے خیال میں 80 ارب سیگریٹ تو وہ ہوئے جو رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے تیار اور فروخت ہوئے ہونگے جبکہ لگھ بگھ 20 ارب کے قریب وہ سیگریٹ بھی ہیں جو مارکیٹ میں کسی نہ کسی نام رنگ اور ہجم میں بکتے ہیں لیکن ان کا کوئی کھاتہ درج نہیں تو اس طرح پاکستان میں 100 ارب سیگریٹ سالانہ پھونک کر قوم کا پیسہ اور صحت ساتھ پھونکی جارہی ہے جس پر ہمیں سر پھروں کی طرح سوچنا اور سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے اور ہیلتھ لیوی بل کی منظوری اور اب اس کا بے رحم نفاذ دراصل اس حوالے سے شروعات ہوگی, ہمیں صحت مند معاشرہ اور پھلتی پھولتی معیشت و معاشرت چاہیے تو ملکر اس مدعے پر جاندار اور شاندار آواز اٹھانی ہوگی وگرنہ یہ یاد رکھیں کہ آپکی آبادی کے 45% فیصد اور 65% فیصد حصے پر مشتمل بچے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر تمباکو نوشی کا شکار ہورہےہیں اور یہ تعداد 1200 سے فی دن کے حساب سے جاری و ساری ہے, اب آپ سوچ لیں کہ یہ تعداد کم کرنی اور ختم کروانی ہے یا اس میں روز بروز اصافہ ہو؟

    بچےآپ کے, صحت آپ کی سو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہونا چاہیے کہ نہیں اور اگر ہونا چاہیے تو اس میں تاخیر پر آپ شور مچانے میں پیش پیش رہیں۔