Baaghi TV

Category: متفرق

  • مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    کل ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سودا سلف اکھٹا کرتے کافی وقت لگ گیا. ان بڑے سٹورز میں سب کچھ ملتا ہے. سبزی کراکری کپڑے جوتے الیکٹرانکس سے لے کر امور خانہ داری کا سب کچھ دستیاب ہوتا ہے. لیکن تھکاوٹ کم کرنے کیلئے بیٹھنے کا کوئی سٹول بینچ آپ کو نہیں ملے گا.

    اسی تھکن میں دھیان اُن سیلز گرلز اور سیلز بوائز پر گیا جو اپنے اپنے حصے کے شیلف کے ساتھ کھڑے گاہک کو سہولت دیتے ہیں. میں نے سوچا ہم جو کچھ وقت میں یہاں تھک کر سٹول بینچ ڈھونڈ رہے ہیں ان کا صبح سے شام تک کیا حال ہوگا.؟

    اللہ رب العزت نے انسانی جسم کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ نہ یہ لگاتار بیٹھنا برداشت کر سکتا ہے نہ کھڑا رہنا. میڈیکل سائنس کہتی ہے اگر آپ کا کام کرسی پر بیٹھنے کا ہے تو درمیان میں بار بار کھڑے ہوا کریں اور اگر کھڑے ہونے کا ہے تو بیٹھ جایا کریں. کیونکہ لگاتار بیٹھنے پر دل بیمار ہوتا ہے اور لگاتار گھنٹوں کھڑے رہنے سے رگوں میں سوزش ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ساتھی بن جائے گا.

    کرسیوں والے تو کسی بہانے کھڑے ہو ہی جائیں گے لیکن یہ کھڑے مزدور جن کو ٹائٹ کپڑے پہنا کر شیلف کے سامنے ایک ڈیکوریشن پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے پاس تو بیٹھنے کا آپشن ہی دستیاب نہیں ہوتا. مزدور کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں. کاش ان بڑے بڑے سٹورز کی انتظامیہ اپنے ورکنگ انوائر مینٹ میں گاہک کیلئے نہ سہی لیکن اپنے مزدور کیلئے ہی ایک سٹول رکھ دیں.

  • دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار پاکستانی معیشت کے دیوالیہ پن میں اہم ہے مگر بہت سے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیسہ بنانے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ باہر کے ممالک میں بر آمدات سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی سے نئی پراڈکٹس سے کی جاتی ہیں۔سویڈن جیسے چھوٹے ملک کے معیشت پاکستان سے دوگنی ہے جبکہ وہاں کی آبادی 1.5 کروڑ سے بھی کم ہے۔ پیسہ بنانے کا عمل کاروباری ماحول اور صنعتی ترقی سے ممکن ہے۔ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصادق۔ پاکستان کی برآمدات کی نسبت درآمدات زیادہ ہیں۔ یہاں روایتی طریقوں سے گندم، گنا اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات زراعت کے بڑے حصے کو نقصان پہچاتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہے اور جہاں 40 فیصد روزگار زراعت کے شعبے سے منسلک ہے وہاں سب سے زیادہ نظر انداز یہی شعبہ رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں کیونکر پیسہ لگائیں گی جہاں نہ کاروباری سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں، اقربا پروری الگ، ریاست کے اندر بندوقوں والے ایک نمبر کے بدمعاش پراپرٹی ڈیلرز الگ۔ اس پر سیکورٹی، دہشتگردی، امن و امان کا نقص الگ۔اور سب سے بڑھ کر بغیر سکلز یا کم سکلز کے لوگ الگ۔ اب ایسے میں کون باہر سے آ کر یہاں فیکٹریاں لگائے گا، یہاں اپنا پیسہ جھونکے گا؟ کیا لاہور میں بیٹھے پاکستان ہی کی کاروباری شخصیات وزیرستان میں جا کر کاروبار کریں گے؟ ماسوائے اّنکے جنہیں شاید وہاں چلغوزے کے درخت نظر آتے ہوں۔

    ہماری معیشت نے دیوالیہ نہیں ہونا تھا تو اور کیا ہونا تھا؟ کیا پلاٹوں پر پلاٹ لیکر اور سوسائٹیوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک میں پیسہ آئے گا؟ نہ ہم نے انسانوں پر خرچ کیا نہ انسانوں کے دماغوں پر۔ پچھلی نسل کے نوجوانوں پر ریاستی تجربات کر کے انہیں جنونی بنا دیا گیا۔ یہی نظریات لیکر وہ اگلی نسلوں کو یہ وائرس منتقل کر چکے۔ جہالت ملک کے طول و عرض میں بک رہی ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ جو اس جہالت کے پیشِ نظر زندگی سے تنگ ہیں، وہی اسکی حفاظت پر مامور ہیں۔ اختر لاوا سے لیکر دھوکے بازی سے ہوٹلوں میں روٹی کھانے والی مزاحیہ ویڈیوز ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ عقل کی بات کیجائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ علم سے ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز سازش لگتی ہے۔ ذہنوں پر قفل پڑے ہیں۔ اصل سوچ کا فقدان یے۔ باہر کے ممالک انسانوں پر ، انکے دماغوں پر خرچ کر کے انہیں معاشرے اور دنیا کے لیے کارآمد انسان بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دولو شاہ کے چوہوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اشرافیہ سے لیکر عوام تک، اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے افسران سے لیکر نیچے کلرک بابوں تک سب کے سب جدید دور کے تقاضوں، بدلتی دنیا کے رجحانات وغیرہ سے لا علم زندہ زومبیاں ہیں۔

    سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کیا جائے، مگر پچھتر سال میں جب انسانوں پر کچھ خرچ نہیں ہوا تو اب ملک محض قرضوں پر تو چل نہیں سکتا۔ سو یہ کمپنی بھی نہیں چلے گی۔ اور کیجئے تجربات ، اور دور رکھیے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقعوں سے۔ اور دیجیے اّنہیں کھوکھلے نعرے، روایتی جملے اور گھسے پٹے نظریات۔ کشتی جب ڈوبتی ہے تو مکمل ڈوبتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پچھلا حصہ ڈوبا اور اگلا بچ گیا۔ بچنا کسی نے نہیں۔ باقی بابوں کی خیر ہو، اُنہوں نے ہمیں سائیں بنا کر اس حالت میں خوش ہی رکھنا ہے۔ سائنس گئی تیل لینے۔

    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

  • ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (سورہ توبہ)

    اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔

    ہر سیکنڈ, ہر منٹ, ہر گھنٹہ, ہر دن, ہر ہفتہ, ہر مہینہ, ہر سال اور ہر صدی فقط اللہ کی ہے, اللہ کی جانب سے اور فقط اللہ کے لیے ہی ہے لہذا اے زمانے کو کوسنے والو۔ ۔ ۔ ماہ و سال کے گزرنے پر ان کی اچھی یا بری تخصیص اور تفریق کرنے والوں خدارا اللہ سے ڈر جاؤ اور توبہ و استغفار کی کثرت کرو کیونکہ کوئی سیکنڈ, کوئی منٹ, کوئی گھنٹہ, کوئی دن, کوئی ہفتہ, کوئی مہینہ, کوئی سال اور کوئی صدی اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ ہمارے اعمال اور اقوال کے نتائج ہیں جو ہماری اچھی یا بری تقدیر کے ذمہ دار ہیں نا کہ وقت یا کوئی مخصوص زمانہ۔

    اللہ نے وقت کی قسم لی ہے مطلب وقت خود اللہ کی ایک صفت ہے اور ایسے میں ہم وقت کے مخصوص حصے کو اپنے اعمال و اقوال سے تباہ کی ہوئی تقدیر کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو ہم سے بڑا ظالم اور مفسد کون ہوگا؟

    اللہ کی قسم دو ہزار بیس، اکیس اور بائیس میں جو بھی مشکلات اور مصائب جھیلے اور جن بھی آزمائشوں کا شکار ہوئے وہ سب بھی منجانب اللہ اور ہمارے اعمال و اقوال کا نتیجہ تھے لہذا ان پر صبر و شکر اور استغفار کے علاوہ اور کوئی عمل یا ردعمل قطعی اللہ والوں کا شیوہ اور سنت محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم نہیں۔

    بیشک ہر شہ پر اللہ قادر ہے اور بیشک اللہ ہی رازق اور شافی ہے لہذا سال بھر ہوئی رزق کی تنگدستی اور طاری ہوئی بیماریوں کے باوجود اللہ کا شکر اور صبر ہم پر واجب ہے کہ ہم جو ان کے باوجود زندہ اور صحت مند ہیں تو اللہ کا ہم پر خاص کرم رہا اور دامے درمے سخنے ہی صحیح پر ہم اللہ کی طرف سے آئی مشکلات و مصائب کو جھیل کر نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام عالم اسلام اور تمام انسانیت پر رحم کرے, اس سال ہوئی ہماری کمی کوتاہیوں اور گناہوں کو درگزر کرکے نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ اور تمام انسانیت کے لیے خوشحالی اور برکت کا سال بنا دے۔

    اللہ ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کو درگزر فرمائے اور ہمارے لیے زمانے میں خیر و برکت شامل فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار اور برگذیدہ بندے بن جائیں۔ آمین۔

  • ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    سب سے پہلے انسانیت ہے انسانیت کا خیال رکھنا ہمارا اولین فرض ہے
    ایسی چیزوں کی روک تھام نہایت ضروری ہے جس سے انسانیت کو نقصان پہنچے
    سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک بدترین خصلت ہے جسکو چھوٹے بڑے فیشن سمجھ کر استعمال کرنے لگ گئے ہیں ۔کچھ اسکو ٹینشن سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔کچھ اسکو فیشن کے طور پہ اپناتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یہ انکی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔تمباکو نوشی پہ ٹیکس لگانے سے اسکا استعمال کم کیا جا سکتا ہے لہذا اس حوالے سے 2019 میں کابینہ نے بل پاس کیا ” ہیلتھ لیوی” لیکن اسکا نفاذ ابھی تک نہ ہو سکا۔ آخر اتنی تاخیر کیوں؟؟اس بل کے پاس سے ہم نوجوان نسل کو کافی حد تک اسکا استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ اگر اسکا استعمال آسان بنا دیا گیا تو ہر بچہ باآسانی اسکو استعمال کرلےگا اور اپنی زندگی تباہ کرلےگاجتنا جلدی ہوسکے اسکا نفاذ کیا جائے ۔انتہائ ضروری اقدام فوری طور پہ کرنے ہونگے ۔اس پہ ٹیکس سے ملک کے بیشتر کام کیے جا سکتے ہیں ۔ اس میں فائدہ تو ہے نقصان نہیں ۔ اس بل کے مطابق ٹیکس کی جو ادائیگی ہوگی اس سے ملک کو بہت فائدہ ہے حکومت اس سے سیلاب زدگان کی بھی امداد کر سکتی ہے ۔
    ایک بچہ گھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے اسکے ہاتھ میں اگر سگریٹ تھما دیا جائے وہ اسکا استعمال کر کے نا صرف اپنا مستقبل تباہ کرئے گا بلکہ اپنے اردگرد کی زندگیوں کو بھی متاثر کرئے گا اس میں کسی ایک کا نقصان نہیں ہونا اس معاشر ے میں موجود ہر فرد کا نقصان ہے اسلیے اسکا نفاذ فوری طور پہ کرنا اس ملک کے ہر بچے کو بچانا ہے ہر بچے کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں یہ قدم جلد از جلد اٹھانا ہوگا ۔کیا ہم اپنی نوجوان نسل کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔ جس سے ہماری نوجوان نسل کو فائدہ ہو ہم انکو بچانے کے اقدام کریں

    تمباکو نوشی سے بہت سی ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں کہ جو جسم کے اندر گھر بنا لیتی ہیں اور جان لیوا ثابت ہوتی ہیں ۔
    یہ ایک ایسی دلدل ہے جدھر سے نکلنا آسان نہیں ۔ایک بار یہ لت لگ جائے جان نہیں چھوڑتی ۔احتیاط ہی بہترین حل ہے ۔ہمارا فرض ہے ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل کا حصہ نا بننے دیں ۔ مفاد پرستی سے نکلے اور دوسروں کی جانوں کی فکر کریں ہمارا پہلا فرض ہے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں سب سے پہلے انسانیت ہے اگر ہمارے دل میں انسانیت نہیں تو ہمارا ہونا نا ہونا بے معنی ہے ۔ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارے کہ جو دوسروں کے کام آجائیں اور آخرت بھی سنور جائے
    بظاہر سگریٹ ایک چھوٹا سا ہے مگر پانچ چھ فٹ کے انسان کو قبر تک پہنچا دیتا ہے سگریٹ میں موجود کیمیائی مادے سانس کی نالیوں اور پھپڑوں سے ایسے چِپک جاتے ہیں کہ مختلف بیماریوں کی وجہ بن کر انسان کو اندر ہی اندر ختم کرنے لگتے ہیں نوجوان نسل کے لیے سگریٹ ایک معمولی شئے ہوگا کاش وہ یہ سمجھ پائیں یہ وبالِ جان ہے ۔ جان لیوا مرض خود کو نہ لگائے نا دوسروں کو لگائیں خود کو بھی بچائے اور دوسروں کو بھی ۔

    بچوں کی موجودگی میں آپکی سگریٹ نوشی اُنکی صحت بھی متاثر کر سکتی ہے آج کل لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی کر کے اخلاقیات سے گِر گئ ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ یا مذہب اس چیز کی اجازت دیتا ہے ؟بہت سے گھرانے سگریٹ نوشی کی وجہ سے سکون کھو چکے ہیں ۔ کیونکہ جو افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں انکی اسکی اتنی عادت لگ چُکی ہوتی ہے انکو یہ نشہ ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے اور گھر میں جھگڑے بھی معمول بن جاتے ہیں ۔جس سے گھر کا ماحول خراب تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی بچوں کا ذہنی سکون بھی تباہ ہوجاتا ہے اور وہ پڑھائ بھی نہیں کر پاتے اور ایک روشن مستقبل سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ہمیں آواز اٹھانی ہوگی اس جہالت کے خلاف ، اپنی نسلوں کے روشن مستقبل ، اور اچھی صحت ، اچھے ماحول کی فراہمی کے لیے۔

    ہیلتھ لیوی کی اہمیت اور افادیت اگر سب جان لیں اسکے نفاذ میں تاخیر نا ہو ۔ اسکے نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے بہت سے بچے تمباکو نوشی سے متا ثر ہو کے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں نا جانے اور کتنے اپنی زندگی برباد کریں گے ۔ تقر یباً 31 ملین افراد سگریٹ نوشی کا شکار ہو چکے ہیں اب اس تعداد میں کمی لانی ہوگی اس بل کے نفاذ سے ہی یہ سب ممکن ہے سگریٹ نوشی ترک کرنے سےآپ بہت سے جسمانی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۔ بہت زیادہ سگریٹ نوشی سے آپ کو سانس اور دل کی بیماریاں،شوگر کی بیماری اورنہ صرف پھیپھرے بلکہ بہت سی دوسری اقسام کی بیماریاں ھونے کے ذیادہ امکانات ھوں گے۔ہیلتھ لیوی بل پاس تو ہوگیا ہے پر اسکا نفاذ جب تک نہیں ہوگا تب تک ہم اس کے لیے حکومت سے اسکے نفاذ کی اپیل کرتے رہیں گے کیونکہ اس کے نفاذ سے ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت فائدے ہیں مجھے امید ہے حکومت جلد از جلد اس پہ فوری ضروری اقدام کرئے گی ۔ اسکے علاوہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
    آپنے بچوں پہ نظر رکھیں انکے دوست کون ہیں وہ کس سے میل جول رکھتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں میں شامل تو نہیں ۔
    اور ایسی جان لیوا اشیاء کا استعمال تو نہیں کرتے ہمیں باخبر رہنا ہوگا امید کرتی ہوں میں جو پیغام اپنی تحریر سے پہنچانا چاہ رہی ہوں اس پہ ہم سب اور حکومت لازمی اور فوری طور پہ عمل پیرا ہو گی ۔

  • خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.

    دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.

    مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.

    آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. پچھلے سال سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام تھی. اس سال اگر بیس بھی رہے تو گویا اسی روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر اتنا فی کلوگرام بنانے کا خرچ بھی آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی قریب اسی فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم تین سو روپے فی کلوگرام.

    یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.

    آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.

    اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.

  •  ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

     ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں
    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے.

    یہ سب جانتے ہوئے بھی ہر دوسرا بندہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسزمیں اضافہ جبکہ تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ تمباکو پر ٹیکس میں کم از کم 30 فیصد تک اضافہ کرے، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کیلئے آسان ہدف ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے۔ پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پر ٹیکس کم از کم 30 فیصد اضافہ کرے۔ ٹیکسز میں اضافے سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہو گا جو صحت کے بجٹ کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔

    حکومت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہے تاہم تمباکو جیسی غیر ضروری چیزوں پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے، پاکستان میں سالانہ تین ارب روپے سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ٦٦۵ ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تاہم دیرپا فوائد کو حاصل کرنے لیے زائدہ متاثر گروپوں جیسا کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کے بڑھے ہوئے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • ہیلتھ لیوی، تحریر، ارم شہزادی

    "ہیلتھ لیوی”
    بچے ہمارا مستقبل ہوتے ہیں۔ سادہ دور میں بچوں کی تربیت والدین مل کر کیا کرتے تھے، ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی،
    ماں کی زمہ داری اولاد کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بینادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھا، بیٹوں کو باپ مساجد میں لے جاتے پانچ وقت کا نمازی بناتے قران پاک کی تعلیم دیتے تھے، سیکھے علوم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے جس میں کافی حد تک کامیاب رہتے۔ پھر وقت بدلا ضروریات بدلیں اور اور باپ کو کمانے کے لیے شہر سے دوردرزا کما کر لانا پڑتا جسکی وجہ سے وہ اتنا وقت نہیں دے پاتا بچوں کو، اور یوں ساری زمہ داری ماں پر آگئی، گوکہ ماں نے بھرپور توجہ دی لیکن وہ باپ کی زمہ داری اس لحاظ سے پوری نا کرپائی کہ بچے گھر سے باہر کس طرح کی صحبت اختیار کرتے ہیں یا صحبت میں رہتے ہیں۔ یوں کچھ بچے تو احساس زمہ داری کے ساتھ رہے لیکن کچھ بچوں کے رویوں میں تبدیلی آئی اور وہ گھر کے ماحول کو گھٹن زدہ سمجھنے لگ گئے کچھ باغی ہوئے تو کچھ بری صحبت میں پڑ گئے پھر دنیوی تعلیم کی جدت نے بجائے انکے رویوں کو نرم کرنے کے بلکہ سخت کردیے

    آزادی ملی گھر سے باہر دور نکلنے کی اور "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل” والی بات ہوگئی لیکن معاملات پھر بھی کسی حد تک قابو میں رہے، معاشرے کے بدلتی روایات اور تغیر نے انسانوں کو ایک مشین کی مانند بنا دیا، وہ انسان جو انسانیت کے جذبے سے بھرپور تھا اس میں تلخی مادیت اور دنیا پرستی آگئی، وقت کچھ اور بدلا تو باپ کے ساتھ ماں بھی گھر سے باہر کام کرنے لگی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے عورت پر پابندیاں تھیں یا باہر نکلتی نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیم کے نام پر فیشن کے نام پر آزادی کے نام پر سٹیٹس اپگریڈ رکھنے کے نام پر جب کمانے نکلی تو بچے اس دور میں نا ماں کی ترجیحات میں شامل رہے اور نا باپ کی ترجیحات میں۔ باپ پیسے کمانے کے چکر میں یوں پڑا کہ بھول ہی گیا بچے کو پیسے کے علاوہ توجہ محبت اور ساتھ چاہیئے وقت چاہیئے جبکہ ماں بھی کچھ ایسا ہی مصروف ہوئی اور بچے متاثر ہونے لگے۔ بچے ملازمین کے ہاتھوں پلنے لگے، جو اچھی بری باتوں کو والدین نے بتانا تھا وہ معاشرے سے پتہ لگنے لگیں، اور جب تربیت کی زمہ داری والدین چھوڑ دیں معاشرہ لے لے تو بچے ہر اس بری عادت میں بھی پڑنا شروع کردیتے ہیں جہاں والدین نہیں چاہتے ہرگز نہیں چاہتے۔ترقی کے نام پر جس طرح معاشرے میں نئی نئی دریافتوں نے در کھولے وہیں انسان زہنی طور پر پرسکون نا رہا اور اس سکون کو تلاش کرنے کے لیے وہ در، بدر پھرا اور کچھ ایسی عادات میں پڑ گیا جس سے حال اور مستقبل دونوں تباہ ہوئے، ایک وقت تھا جب زہنی سکون کے لیےلوگ نماز پڑھتے تھے اور اب ادویات کھاتے ہیں سگرہٹ پیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت تباہ ہوتی ہے معاشرے میں ناانصافی پھیلتی ہیں ان اعادات کی وجہ سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر جہاں لاکھوں خرچ ہوتے ہیں وہیں معاشرے میں عزت بھی جاتی رہتی ہے۔۔ ان اشیاء میں سگریٹ، پان، چرس، آئس، اور کچھ میٹھے مشروبات ہیں،ان چیزوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ یہ تیرہ چودہ سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں یہ چیزیں سکول، کالجز میں عام مل رہی ہیں پھر فیشن کے نام پر لڑکے تو ایک طرف لڑکیاں بھی اس، میں عادی ہوگئیں، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک نا صرف ان سے چھٹکارہ مشکل ہے بلکہ مستقبل میں یہ زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرجائیں گے۔ان چیزوں مکمل طور پر اگر بین نہیں بھی کیا جاسکتا تو کم از، ان پر ٹیکس اتنا ضرور ہو کہ یہ بچوں کی پہنچ سے دور رہیں۔ اس ضمن میں 2021 مئی میں ایک سمری وزارت خزانہ کو بھیجی گئی جس میں سگریٹ، اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ ہیلتھ لیوی سے دو فائدے ہونگے ایک تو یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونگے دوسرا یہ ریونیو اربوں میں دے سکتی ہے جو کہ یقیناً فائدہ مند ہوگا۔ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے کابینہ سے اور وزارت خزانہ نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا کسی قسم کا۔ لیکن نفاز تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ یہاں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جسے بچوں اور انکے مستقبل سے زیادہ اپنا پیسہ اور کاروبار سے مطلب ہے۔ ہیلتھ لیوی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا 38ارب کا نقصان ہورہا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تقریباً دو سال سے تاخیر ہورہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سیگریٹ کی فروخت کا شئر 90فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کے لیے کابینہ سے بل منظور کروایا گیا لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ایف بی ار نے اربوں روپے کے اس ریونیو کے بارے میں کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اس لیے وفاقی کابینہ کا منظور شدہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ وزارت صحت یہ کہتی ہے کہ ہیلتھ لیوی ایک جنرل ٹیکس ہے اسکا صوبائی محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے اسکا نام بھی کافی سخت یعنی "گناہ ٹیکس” تھا لیکن بعد میں بحث ومباحثہ کے بعد اسکا نام بدل کر ہیلتھ لیوی رکھ دیا۔ہیلتھ لیوی کے نفاز میں تمباکو، صنعت اور سیگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب سے دباؤ اور اثر رسوخ کی وجہ سے ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ وزارت صحت کی تجویز کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سیگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر دس روپے اور میٹھے مشروبات کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی ہونا چاہیئے۔ اس سے سالانہ تقریباً 38ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگاجسے دوسرے صحت کے معاملات پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ دوسال کے التواء سے تقریباً اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 600ارب روپے سے زائد ہےہیلتھ لیوی کے نفاز سے صحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرن کتنا آسان ہوجائے گا۔صرف پاکستان میں یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ کئی اور ممالک میں ہیلتھ لیوی کے طرز کے ٹیکسز عائد ہیں۔ جن ممالک میں ہیں یہ ٹیکس ان میں تھائی لینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای، میکسیکو، فرانس، فلپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں ان ٹیکسز یا لیوی کے وجہ سیگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت اور عام عوام کا بھی یہی خیال ور مطالبہ ہے کہ اس تاخءر کا نوٹس لیا جائے اور اور نفاذ کی راہ ہموار کی جائے تاکہ یہ ناسور ہمارے بچوں سے دور رہے۔
    تحریر و تحقیق
    ارم شہزادی
    @irumrae

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    تحریر ؟ اکمل خان قادری

    پاکستان میں تقریباً 12سو بچے روزانہ سموکنگ لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ اسی کی وجہ سے ہر سال 1لاکھ66 ہزارلوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بات پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے کہی ہے۔مگر افسوس کہ ان کی روک تھام کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں جس سے صورتحال سنگین سے سنگین تر ہو رہی ہے ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں سموکرز کی کل تعداد 31 میلن تک پہنچ چکی ہے جو خطرے کی بڑی علامت ہے۔ اور اس میں مزید بڑھنے کے امکانات اس لیے موجود ہیں کہ حکومت کا دھیان ہی نہیں جاتا اس طرف۔
    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے نہ صرف صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ پاکستان کی اقتصاد کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تقریباً615ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں جو پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے 1.6کے برابر کا حصہ ہے جبکہ تمباکو صنعت سے اس کی صرف اور صرف 20فیصد ریونیو آ رہی ہے جو کل 1ارب اور 23کروڑ روپے بنتے ہیں باقی اس کا 80 فیصد جو 4 ارب اور 92 کروڑ روپے بنتے ہیں قومی خزانہ پر بوجھ ہے جس سے اقتصادی اور مالی اشاریوں میں منفی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔سپارک کے ہیڈ ملک عمران نے کہا ہے کہ پاکستان تمباکو مصنوعات کی وجہ سے مالی خسارہ کا شکا ر ہو رہا ہے اس خسارے کی تلافی کرنے کے لیے انڈسٹری کو پابند کیا جائے تاکہ مالی اور اقتصادی مشکل حالات سے دوچار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ تمباکو سے پیداہونے والی بیمایوں پر سالانہ تقریباً615 بلین روپے خرچ ہو رہے ہیں جو ایک خطیر رقم ہے اس لیے تمباکو پیداوار پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے جو اغراض و مقاصد پورا اورحاصل کیاجاسکے۔

    2019میں وفاقی کابینہ نے تمباکوکے مصنوعات پر ٹیکس لاگو کرنے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ تمباکو کے استعمال میں کمی لائی جاسکے جس سے سالانہ 60ارب ریونیو لائی جا سکتی تھی مگر بد قسمتی سے مافیا نے حکومت پر دباو ڈال کر وہ بل پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہونے دیا۔جن کی وجہ سے اقتصادی اور حفظان صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کا پرائمری ہدف کم امدنی والے لوگ اور بچے ہیں کیونکہ اس میں دو باتیں ہیں ایک تو یہ بہت سستا ملتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بہت اسانی سے ملتا ہے یعنی ہر کسی کی پہنچ میں ہے اور یہی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دونوں مسئلے حل ہو جائے بچوں اور کم امدنی والے لوگوں کی پہنچ سے دور کرنا یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے وہ بل پاس کرے جو تاحال پینڈ نگ پڑا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تمباکو صنعت پر بھی کڑی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوانین پر من و عن سے عمل در امد ہو۔

    کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شارق محمود نے کہا ہے کہ تمباکو پر دنیا میں سب سے کم ٹیکس پاکستان میں لاگو ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرے تاکہ پبلک ہیلتھ سروسز کے لیے زیا دہ سے زیادہ ریونیو جمع کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ہیلتھ لیوی لاگو کرنے سے نہ صرف پاکستان کی اقتصادکو بہتر بنایاجا سکتا ہے بلکہ اس کے زریعے بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ Vulnerable بچے ہیں۔ بچوں کو اس لعنت سے نکالنے اور پاک کرنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ پینڈ نگ بل پاس کیا جائے اور تمباکو صنعت پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کیاجائے۔

    سپارک کے ممبر بورڈ اف ڈائریکٹر خالد احمد نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 45 فیصد حصہ 18سال سے کم بچوں پر مشتمل ہے اور ان کی بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس کے علاوہ پاکستان نے مختلف بین الا اقوامی فورمز جیسے UNHCR،SDGsاور دیگر فورمز پر باقاعدہ معاہدے کیے ہیں کہ بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت کر ینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو ایک Pandemicہے جس سے براہ راست بچوں کے بنیادی حقوق جیسے صحت، تعلیم، ترقی،زندگی، صاف جگوں تک رسائی اور سرسبز پبلک مقامات تک رسائی متاثر ہو تے ہیں۔اس کے علاوہ صحت کے عالمی ادارہ (WHO) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں پر پیکٹ پر 30فیصد اضافہ کرے تاکہ ان کا استعمال کم کیاجاسکے کیونکہ سستا اور آسانی مل جانے کی وجہ سے روز بروز اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہاں ایک امر قابل زکر ہے کہ صحت کے عالمی ادارہ پاکستان کے عوام کو اس لعنت سے بچنے کے لیے اتنا سنجیدہ ہے مگر مجال ہے کہ پاکستان کی حکومت ٹس سے مس ہو جائے۔حکومت تمام اعدادو شماریات پر مبنی حقائق کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے اپنی نااہلی کا ثبوت دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی شہریوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں حکومت اپنی استعداد کار دکھانے میں مکمل طورپر ناکا م ہو چکی ہے۔بات صرف اقتصادیات اور صحت کی نہیں ہے بلکہ صاف ستھرا ماحول بھی اس لعنت کی وجہ سے گندا ہو رہا ہے جس سے دوسرے وہ لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں جو تمباکو نوشی کے عادی نہیں ہیں۔ترقی کے پائیدار اہداف (SDGs)میں پاکستان اہم سگ نیٹری ہے جن کا مقصد انے والی نسل کو اس زمین کو صاف ستھرا ماحول کی صورت میں دینی ہے۔مالی طورپر بد حال اور بیمار معاشرہ ایک اسودہ حال اور صحت مند معاشرے کی داغ بیل نہیں ڈال سکتا۔

    اس لعنت کو کم کرنے اور باقی ماندہ بچوں اور لوگوں کو بچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کے تمام ادارے، ملک میں تمام سرگرم فلاحی اور سماجی تنظیمیں اور دیگر ارگنائزیشن متفقہ طورپر میدان میں نکلے یہ کسی ایک ادارے یا تنظیم کی ذمی داری نہیں بنتی کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اج کے بچے ہمارے اس ملک کے کل کے معماران ہیں انہی معماران قوم کو تیار کرنے میں ہم سب کا اخلاقی،دینی سماجی اور آئینی فریضہ ہے کہ ان کو تیار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیاجائے بلکہ اس کا ر خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ڈاکٹر فرہاد نے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے مختلف امراض کی مختلف ریشو ہے جن میں پھیپھڑوں اور منہ کی کینسر کے ساتھ ساتھ دل کے امراض اور بلڈ پریشر بھی انہی کی مرہون منت لاحق ہو تی ہیں۔ حکومت پاکستان کودفاتروں میں اور سرکاری ملازمین پر سخت پابندی عائد کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایک بچہ ایک ڈاکٹر،ایک استاد، یا ایک آفیسر کو دیکھے اور وہ سگرٹ نوشی کر رہے ہوتو ضرور بچے رنگ پکڑلیں گے۔کیونکہ اس سے انہیں ڈھٹائی ملتی ہے۔

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    میڈیا چاروں اطراف ہمیں محاصرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ہمارے فون، ہمارے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر ہمارا ناکہ لگائے ہوئے ہے۔ یہ ٹیلی ویژن پر، پبلک ٹرانسپورٹ پر، شاپنگ سینٹرز پر، غرض ہر جگہ گھات میں ہے۔ چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، ہم باقاعدگی سے میڈیا کو با دل نخواستہ فیس کرتے رہتے ہیں اور لامحالہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ، کسی کو یہ تسلیم کرنے کے لیے ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لاشعوری طور پر، میڈیا وہ طریقہ بنا رہا ہے جس میں لوگ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ باڈی لینگویج، میڈیا کے تناظر میں، خاص طور پر میڈیا سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ حسین اور خوبرو لوگ اکثر اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گلوٹین فری سیریل سے لے کر کار رینٹل سروس تک، اشتہارات اکثر خوبصورت خواتین یا مرد ماڈلز یا مشہور شخصیات کی ری ٹچ تصاویر دکھاتے ہیں جو مسلسل اپنی ظاہری شکل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح کے اشتہارات کو دیکھ کر، کسی کی ظاہری شکل، چاہے وہ جسم، جلد، یا بالوں کے بارے میں ہو، خود آگاہ نہ ہونا مشکل ہے۔ لہذا، میڈیا کا اثر، اس کی شکل اور منتقلی کے طریقہ کار سے قطع نظر، لوگوں کے باڈی لینگویج کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے میں نقصان دہ ہے

    محققین نے میڈیا کی مختلف شکلوں کے ساتھ لوگوں کی فعال مصروفیت اور ان کے جسم کے بارے میں ان کے تاثرات کے درمیان رابطوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے۔ ہوگ اینڈ ملز کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرکشش ساتھیوں کے ساتھ مشغولیت نے جسم کی شبیہ کے بارے میں منفی تاثرات کو بڑھایا۔ تحقیق میں یارک یونیورسٹی کی 143 نوجوان خواتین کو شامل کیا گیا تھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر "بہتر” ظاہری شکل والے افراد کے ساتھ لوگوں کا موازنہ خواتین کی جسمانی تصویر کے خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ اس طرح کے نتائج پچھلی سفارش کے ساتھ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب لوگ سماجی معیار کے مطابق پرکشش سمجھی جانے والی خواتین کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کی شخصی اہمیت کو گہن لگ جاتا ہے۔یہ رجحان میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے باڈی امیج میڈیا لٹریسی پروگرامز قائم کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں، ذرائع ابلاغ کی خواندگی سے مراد کسی شخص کی معلومات کی ضرورت کے وقت سمجھنے کی صلاحیت ہے، ساتھ ہی یہ پہچاننا ہے کہ اس کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اسے کیسے تلاش کیا جائے اور استعمال کیا جائے۔
    یہ چیز میڈیا کے ساتھ صحت مند تعلقات کے بارے میں عوام کو تعلیم دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اسے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔

    چونکہ ساری دنیا میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، حالانکہ یہ بات الگ ہے کہ میڈیا پر کم ہی اعتبار کرتی ہے، اس لیے عام لوگوں پر کامیاب لوگوں کی تصویروں سے بمباری کی جاتی ہے جنہوں نے برسوں اور حتیٰ کہ دہائیوں تک اپنی تصاویر پر کام کیا ہے۔ یہاں پر بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مشہور لوگوں نے اپنے آپ میں وقت، محنت اور پیسہ لگایا ہے، بلکہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ خوبصورتی کا جو معیار مقرر کیا جا رہا ہے وہ عام لوگ اس کے لیے دلوں میں حسرتیں ہی پال سکتے ہیں۔ میڈیا کی بہت سی شخصیات جس انداز میں نظر آتی ہیں وہ نہ صرف بھاری میک اپ یا برسوں کی مشقوں کی وجہ سے حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تصاویر کی بہت زیادہ ری ٹچنگ کی وجہ سے ہی ایسا ہوتا ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جن میں کمپنیاں اپنے اشتہارات کو ری ٹچ کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں، حالانکہ بظاہر ان کا مقصد حقیقت پسندانہ تصاویر دکھانا مطلوب تھا۔ مثال کے طور پر، ایک سکن کیئر برانڈ نے اپنے اشتہارات کو دوبارہ چھونے کا اعتراف کیا، جس کا پیغام ”حقیقی خوبصورتی” تھا۔ انہیں اس وقت کافی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ پتہ چلا کہ تصاویر کو فوٹو شاپ کیا گیا تھا تاکہ انہیں ناظرین کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔ اب یہ جلی کٹی خبر بھی زوروں پر ہے کہ حقیقی خوبصورتی کو میڈیا پر تبدیل کیا جا رہا ہے، لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارپوریشنز پر یقین کریں گے، جس کے نتیجے میں، ان کے ذاتی خود خیالی کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگرچہ یہ توقع رکھنا کہ ٹی وی، اشتہارات اور سوشل میڈیا پر پوسٹس 100% سچائی پر مبنی ہوں گی، غیر حقیقی توقعات ہیں، لیکن ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کو آواز دینا ضروری ہے۔ ماڈلز یا اداکاروں کی ایئر برش کی گئی تصاویر کمزور لوگوں میں خاص طور پر کم عمر لوگوں میں غیر صحت بخش عادات کا باعث بنتی ہیں۔ میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں کچھ اہم خدشات کھانے کی خرابی سے منسلک ہیں جو کسی کے جسم کے بارے میں غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اینوریکسیا نروسا ایک ہاضمے کی خرابی ہے جس کی خصوصیت ایک ادراک کے مسئلے سے ہوتی ہے جسے باڈی ڈیسمورفیا کہتے ہیں۔ اس سے مراد کسی شخص کے دیکھنے کے انداز اور اس کے سوچنے کے انداز کے درمیان غلط فہمی ہے۔ کافی پتلا ہونے کے باوجود، اینوریکسیا کے شکار افراد محسوس کرتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور وہ کھانے سے انکار کر کے یا زیادہ ورزش کر کے خیالی زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلیمیا نرووسا ایک ایسا عارضہ ہے جس کے دوران افراد روزہ رکھنے یا صاف کرنے کے ذریعے اپنے وزن کو کنٹرول کرتے ہیں، حالانکہ انوریکسیا کے مقابلے میں اس حالت کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لہذا، عام جذباتی پریشانی کے علاوہ، میڈیا پر غیر حقیقی تصاویر نفسیاتی حالت کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیں کہ ایک سنگین دخل در معقولات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    میڈیا یہاں رہنے کے لیے ہے۔ لوگ غیر حقیقی تصاویر کے سامنے آتے رہیں گے کیونکہ بعد میں اشتہارات اور پیسہ کمانے کے لیے وہ محرک قوت ہیں۔ تاہم، عام خام کو، خاص طور پر نوجوان لوگوں کو تعلیم دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کہ ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی ہے کہ وہ ری ٹجنگ اور ایئر برش کرنے والی مشہور شخصیات کی طرح نظر آئیں گے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیا معاشرے کا صرف ایک حصہ ضرور ہے اور لیکن تمام انسانی خصوصیات کی کبھی بھی بھرپور نمائندگی نہیں کرے گا۔ تاہم، اہم مقاصد میں سے ایک قبولیت کے ماحول کو فروغ دینا ہے جو ظاہری شکل، فکر، کیرئیر کے انتخاب اور نقطہ نظر کے تنوع کا جشن مناتا ہے۔ حالیہ عالمی انتشار کے تناظر میں، ہم سب کو اپنی طاقت کو منفی پر توجہ دینے کے بجائے مثبت چیزیں پیدا کرنے پر لگانا چاہیے۔

    یں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

  • تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    پہلی ٹوٹی

    یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

    پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

    مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

    اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

    دوسری ٹونٹی

    اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

    اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

    واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

    تیسری ٹونٹی

    یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

    اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

    جنتی ٹونٹی

    جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔