Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اقوام متحدہ کا 1948 کاآرٹیکل 25 انسانی حقوق سے متعلق ہے جس میں صحت اور فلاح و بہبود بشمول کھانا ، لباس ، رہائش اور طبی دیکھ بھال اور ضروری معاشرتی خدمات ہرشہری اوراس کے خاندان کابنیادی حق تسلیم کیا گیاہے،پاکستان کے آئین میں عوام کا بنیادی حق صرف تسلیم کیا گیاہے،لیکن آئین میں ایک ایساسقم بھی موجود ہے جو تشویش کاباعث ہے کہ آج تک آئین میں صحت کوبنیادی حق کا درجہ نہیں دیا گیا ، آئین کے مطابق صحت صرف ایک اصولی حق ہے۔ یہ سقم عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں مسائل سے دو چار کرتا ہے اورافسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومتیں WHOکی سفارشات کے مطابق صحت کا بجٹ مختص نہیں کرتیں اور جوبجٹ مختص ہوتا ہے اسے بھی ایمانداری سے استعمال نہیں کیاجاتاجوکہ کرپشن کی نظرہوجاتا ہے ۔

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور نت نئی بیماریوں کی دریافت سے ایک پریشان کن صورتحال پیداہوچکی ہے ،غربت اوربے روزگاری کی شرح بڑھ چکی ہے ،عوام ذہنی و معاشی پریشانیوں میں مبتلاہے،وہیں علاج معالجہ کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، سرکاری ہسپتالوںکی حالت ایسی ہے کہ جہاں مریضوں اوران کے لواحقین کوہروقت اذیت کاسامناکرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کینسر،چھاتی اور دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں،ان بیماریوں میں مبتلا ہونے کی کئی وجوہات ہیں ،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ steroidکا استعمال خطرناک حد تک ہورہا ہے، جوکینسر میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس کے علاوہ گٹکے، پان، چھالیہ اور مین پوری کی وجہ سے گلے کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے۔ جب کہ ان سب سے خطرناک صورتحال تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہوچکی ہے ، پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کرمرجاتے ہیں۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بڑی تعداد میں لوگ مرتے ہیں۔ان بیماریوں میں منہ، حلق، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر کی تقریباََ 32 فیصد بالغ مردسگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ سگریٹ نوش بالغ خواتین آبادی کا کل آٹھ فیصد ہیں۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی سے ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کا کہنا ہے کہ ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی کم قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباََ 1200 سے زائدپاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔بچوں کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا ،بچے توصرف شوقیہ سگریٹ پیتے ہیں ،اس کی ذمہ دار ہماری حکومتیں ہیں ، 80 ارب روپے سالانہ تقریبا سگریٹ پر پھونک دیئے جاتے ہیں 2019 ،کی ایک ریسرچ کے مطابق ملک کوان بیماریوں اور اموات کی وجہ سے 615ارب کا نقصان ہو رہا ہے۔

    ایک ایسی لیگل انڈسٹری جو ہمیں سالانہ اتنا نقصان دے رہی اسے کیوں سہولتیں دی جا رہی ہیں، ٹیکس کی مدمیں اس تمباکو انڈسٹری سے سالانہ150 ارب اکٹھا ہوتا ہے جبکہ نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا سگریٹ پر ٹیکس لگاتی ہے ،عمران خان کی حکومت میں اس کی کابینہ نے ہیلتھ لیوی بل منظورکیا لیکن ایف بی آر کی کالی بھیڑوں نے یہ کہہ کر سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق نہ ہونے دیا کہ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق صحت کاشعبہ صوبائی حکومتوں کے دائرہ میں آتاہے اس لئے وفاق تمباکوکے استعمال پر صحت ٹیکس یا ہیلتھ لیوی نافذہی نہیں کرسکتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسابق حکومت کامنظورشدہ بل کے مطابق سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذکردی جائے تو اس مد میں حکومت 40سے 50 ارب سالانہ ٹیکس لے قومی خزانے میں جمع کرسکتی ہے۔لیکن اس وقت ٹوبیکومافیاحکومت پراثرانداز ہے اوراتناطاقتورہے کہ وہ اپنی پالیسیاں بناکرحکومت سے نافذ کرارہے ہیں،یہاں تک کہاگیا کہ ایک وفاقی وزیرصاحبہ کاخاوندایک انٹرنیشنل ٹوبیکوکمپنی کاکنٹری ہیڈ ہے جس کی وجہ سے پالیسی میکرزگونگے ،بہرے اور اندھے بنے بیٹھے ہیں ،ہم سب پاکستانیوں کو یک زبان اورایک آوازہوکر ان پالیسی میکرزکوبتانا ہوگا اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کراکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔زندہ قومیں ہمیشہ اپنے مستقبل کیلئے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلیتی ہیں ،ایک خبرکے مطابق نیوزی لینڈ میں ایک نئے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس کا مقصد آنے والی نسل کے لیے سگریٹ خریدنا قانونی طور ناممکن بنانا ہے، منظور کیے گئے قانون کے تحت 14 سال یا اس سے کم عمر افراد کے لیے زندگی بھر کے لیے سگریٹ خریدنا ناممکن بنایا جائے گا،نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت عائشہ ورال نے بتایا کہ قانون کی منظوری سے ہزاروں افراد زیادہ لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے جبکہ تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں جیسے کینسر، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز بچ سکیں گے۔اس قانون کے مطابق یکم جنوری 2009 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو کبھی بھی تمباکو فروخت نہیں کیا جاسکے گا،یعنی 50 سال بعد بھی کوئی فرد نیوزی لینڈ میں سگریٹ خریدنے کی کوشش کرے گا تو اسے اپنے شناختی کارڈ سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم از کم 63 سال کا ہے،نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ میں نکوٹین کی مقدار میں ڈرامائی حد تک کمی کی جائے گی جبکہ ان کی فروخت عام دکانوں کی بجائے مخصوص ٹوبیکو اسٹورز میں ہوگی۔عائشہ ورال نے پارلیمان میں خطاب کے دوران کہا کہ ایسی پراڈکٹ کو فروخت کی اجازت دینے کی کوئی اچھی وجہ نظر نہیں آتی جس کو استعمال کرنے والے 50 فیصد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد ہم مستقبل میں اس لت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

    دنیا اپنے بچوں کو لمبی اورصحت مندزندگی دینے کیلئے کتناسنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے، لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کیونکہ ٹوبیکو انڈسٹری نے پوری طاقت لگا کر حکومت میں بیٹھے کرپٹ لوگوں کے ساتھ ملکر ساز باز کی اور تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لاگو نہیں ہونے دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ہمارا یہ عالم کہ ہے کہ ہم دنیا سے پیسے مانگ رہے ہیںلیکن ہمارے خود غرض حکمران اور پالیسی میکر سیگریٹ پرٹیکس کیوں نہیں لگاتے،حالانکہ پیسہ موجود ہے ٹیکس لگائیں، پیسہ کنزیومر نے دینا ہے، ہیلتھ لیوی کا بنیادی مقصد ٹوبیکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے ،جبکہ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے روزانہ 500 کے قریب اموات ہوتی ہیں۔

    شکاگو میں یونیورسٹی آف الینوائے، انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی کے پروفیسر فرینک جے چلوپکا کا کہنا ہے کہ تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے کو بڑے پیمانے پر تمباکو کے استعمال اور اس کے نتائج کو کم کرنے کے لیے ایک انتہائی موثر حکمت عملی سمجھا جاتا ہے، 100 سے زیادہ تجربات سے یہ ثابت ہواہے کہ، بشمول کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ تمباکوپر بھاری ٹیکس، تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے جبکہ ساتھ ہی ساتھ حکومت کو آمدنی کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بھی فراہم کرتا۔ تمباکو کے ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ جو تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے موجودہ تمباکو استعمال کرنے والوں کو استعمال کرنے سے روکنے اور ممکنہ نئے صارفین کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں اور غریبوں پر پڑتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے تمباکو پر ٹیکس لگانے کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے بہترین طریقوں میں شامل کیا ہے

    نتیجہ کے طور تمباکو پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ تمباکو کنٹرول کی ایک انتہائی موثر حکمت عملی ہے اور صحت عامہ میں نمایاں بہتری کا باعث بنتی ہے۔ صحت پر مثبت اثرات اس وقت بھی زیادہ ہوتے ہیں جب تمباکو ٹیکس میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنیوں میں سے کچھ کو تمباکو کنٹرول، صحت کے فروغ اور/یا صحت سے متعلق دیگر سرگرمیوں اور پروگراموں میں مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر، مخالفانہ دلائل کہ زیادہ ٹیکس سے نقصان دہ معاشی اثرات مرتب ہوں گے، یہ سب غلط دعوے ہیں یا پھرحد سے زیادہ انہیں بڑھاچڑھا کربیان کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ ایک ڈبی کی قیمت ایک ڈالرسے بھی کم ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ہیلتھ لیوی لاگونہ ہوناہے اب وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کوچاہئے کہ تمباکونوشی کے معاملے کوسنجیدہ لیکرسگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز کے ساتھ ہیلتھ لیوی کے نافذکرنے کااعلان کریں ،پاکستان کے کل کومحفوظ بنانے کی خاطراپنے کسی وزیر مشیر کے ذاتی مفاد کو نہ دیکھیں فی الفورسگریٹ پرہیلتھ لیوی لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآم دکرائیں،ہیلتھ لیوی اور دیگرٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں خودبخود کمی واقع ہو گی اورسگریٹ نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔ حکومت کے اس اقدام سے سالانہ اضافی ریونیو کے علاوہ بیماریوں پرخرچ ہونے والے اربوں روپے کی بچت بھی ہوگی ۔سیلاب نے جس طرح پاکستان میں تباہی مچائی اس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہوگئی،اور اس وقت پاکستان کوخطرناک معاشی بحران کاسامنا ہے، ہیلتھ لیوی نافذ ہونے سے حکومت کو معاشی بحران پرقابوپانے میں کافی حدتک معاون ثابت ہو گی ،پاکستان کے معاشی حالات کودیکھتے ہوئے تمباکو پرہیلتھ لیوی کانفاذازحدضروری ہوچکا ہے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    جس ملک میں سگریٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو۔ اس ملک میں آپ تمباکو نوشی کے خلاف جتنی مہمیں چلا لیں۔ کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جہاں ایک روٹی 12 روپے کی جبکہ ایک سگریٹ 02 روپے میں بھی مل جاتا ہو، وہاں اس لت سے کون رکے گا۔۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ایک ہی ہتھیار ہے، "ہیلتھ لیوی”۔ ہیلتھ لیوی بڑھا کر نا صرف تمباکو نوشی میں کمی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ سالانہ 40 ارب سے زائد کا ریونیو بھی بچایا جا سکے گا۔ 2018 میں تمباکو نوشی کے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق تمباکو میں 7 ہزار سے زائد کیمیکلز ہوتے ہیں۔جن میں سے 70 کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں، وہیں سر کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جس سے گنج پن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم مقدار میں سگریٹ نوشی، صحت کے لیے نقصان دے نہیں ہے۔مگر روازنہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی جان لیوا امراض کے جنم لینے کے لیے کافی ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی۔ جس کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی جان لیوا امراض مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ کچھ عرصہ تک امراض قلب اور فالج جیسے امراض کا خدشہ بڑھا دیتا ہے۔

    نوجوان نشہ شروع کیوں کرتے ہیں؟:

    ؎ پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہو

    آج کل کی نوجوان نسل محبت میں ناکامی پر سگریٹ نوشی کو اولین فریضہ تصور کیے بیٹھی ہے۔ ادھر محبوب نے بے رخی دیکھائی اور ادھر مجنوں نے ریلوے کے انجن کی طرح فضا میں دھواں بکھیرنا شروع کردیا۔ جبکہ بعض نوجوان گھریلو ناچاکی اور سماجی دباؤ کے سبب بھی سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔
    ؎ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ہم سگریٹ کو نہیں پی رہے ہوتے دراصل سگریٹ ہمیں پی رہا ہوتا ہے۔ وقتی غم اگرچہ کم کر بھی دیتا ہو۔مگر اس سے جو امراض لاحق ہوتے ہیں۔۔ان کا کیا؟

    تمباکو نوشی اور اسلام:
    اسلام بلاشبہ دین کامل ہے۔ اور دنیا کے تمام شعبوں میں بہترین رہنما بھی۔ عبادات و معاملات سے لے کر کھانے پینے تک، ہر پہلو زندگی پر کامل اصول و ضوابط بتانے والا یہ دین ہمیں تمباکو نوشی سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
    "(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں”۔
    الأعراف: 157

    تمباکو نوشی مال کے ساتھ ساتھ جان کی بھی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے؛
    "وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ”
    (اپنے آپ کوقتل نہ کرو)۔
    النساء: 29
    جبک نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛

    "ہر نشہ آور چیز ‘خمر’ (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا”۔

    تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے طریقے:
    1. تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مراقبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس سے چھٹکارا پانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
    2. ورزش بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنا میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ ورزش سے جسم میں نیکوٹین کی طلب میں کمی ہوجاتی ہے۔
    3. بفیلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    4. فارغ اوقات میں نئے نئے مشاغل بھی اس بری لت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
    5. آکو پینکچر تھراپی
    6. یونیورسٹی آف میامی کے سکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کان میں چند سیکنڈز کجھلی کرنے سے بھی سگریٹ نوشی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف واحد ہتھیار "ہیلتھ لیوی”:
    دنیا میں کئی ممالک تمباکو نوشی جیسی بری لت پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان بدقسمتی سے اس لت میں مبتلا ہے۔ یہاں 20 فی صد آبادی تمباکو نوشی کی لت کا شکار ہے۔ کیونکہ یہاں سگریٹ روٹی سے زیادہ سستا ہے۔ یہاں لوکل کمپنی کا ایک سگریٹ 2سے 3 روپے میں جبکہ کسی برائنڈ کا ایک سگریٹ 8 سے 10 روپے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ جبکہ ایک روٹی کی قیمت آج کل 12 سے 15 روپے ہے۔

    تمباکو نوشی کے باعث امراض کے سبب صحت کی لاگت تقریباً 615 ارب روپے ہے۔ اور یہ لاگت پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فی صد بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک بلین تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد میں سے تقریبا 6 ملین افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ شہری اس بری لت کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر حکومت ہیلتھ لیوی میں اضافے کر کے اس لت پر قابو پا سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے معاشی اور جانی نقصان کو کم کرنے کا واحد حل "ہیلتھ لیوی” میں اضافہ ہے۔ ہیلتھ لیوی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہونی چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور سزائیں ہونی چاہئیں۔ پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ، پارکس اور سکول و کالجز میں تمباکو نوشی پہ عائد پابندی پر عملدرآمد تو آج تک نہ ہوسکا۔ اگر ہو بھی جائے اس سے نجات کے لیے قانون سازی اور یہ معمولی سزائیں ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں اعجاز الحق عثمانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    ہیلتھ لیوی، تحریر: عمر یوسف

    رائیٹر : عمر یوسف
    ایم فل سکالر ؛پنجاب یونیورسٹی لاہور،

    ہیلتھ لیوی کیا ہے ؟
    بنیادی طور پر ہیکتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو مجوزہ طور پر صحت کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ تاکہ ناگہانی آفات اور بیماریوں کے وقت اس پیسہ کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جاسکے ۔
    چنانچہ ایسی اشیاء جو صحت کو نقصان پنچاتی ہیں ان پر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
    ان نقصان دہ اشیاء کے مہنگا ہونے کے باعث ان کی خرید و فروخت میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے اور اس ٹیکس کی بدولت صحت کے شعبہ کو مستحکم و مستقل بنایا جاسکتا ہے ۔

    ہیلتھ لیوی کیوں ضروری ہے ؟
    معاشرہ ہمیشہ اچھے اور برے افراد کا مجموعہ رہا ہے ۔ یہاں خیر اور شر کا امتزاج ہی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ چانچہ شریر لوگوں کو جب حرص و ہوس اور لالچ ستاتی ہے تو وہ دولت کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز راہ اپنانے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔یہی معاملہ اشیاء خورد و نوش کے حوالے سے ہے ، اشیاء مضرہ اور صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے حوالے سے ہے ۔ حرص و ہوس اور لالچ کے مارے جب اپنی اصلیت پر آتے ہیں تو وہ ایسی اشیاء فروخت کرتے ہیں جس میں واضح احتمال ہوتا ہے کہ یہ صحت کو برباد کردیں گے جیسے کہ شوگری ڈرنکس ، جنک فوڈز ، اور تمباکو نوشی پر مبنی پراڈکٹس وغیرہ ۔ حریص و لالچی کو اور مال و دولت کے پجاری کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس سے لوگوں کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ دھرا دھر ان کو بیچ کر دولت و دھن اکٹھی کرتا ہے تاکہ اپنی لالچ کی تسکین کی جاسکے ۔چنانچہ ایسے میں وقت کے حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ ان مہلک اشیاء کی روک تھام اور انسداد کے لیے کوشش کرے اور ان کے سدباب کا انتظام کرے ۔اور یہ انسداد اور سد باب ہیلتھ لیوی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کی پاکستان میں صورتحال:
    رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صرف نوجوانوں کی تعداد ایسی ہے جو کثرت سے سگریٹ نوشی کرتی ہے ۔ نوجوان تو نوجوان پختہ و بوڑھے عمر کے افراد کی بھی بہت بہتات ہے ۔ صرف ایک دن میں اتنے بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی تشویشانک ہے اور یہ کام حساس ہونے کے باعث سخت حالات سے دوچار ہونے کا عندیہ دیتا ہے ۔

    نشہ آور ادویات کی کثرت اور اسباب
    موجودہ حالات سخت تشویشناکی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر نوجوان نشہ کی لت کا شکار ہے ۔ اور مختلف طرح کے نشے آزماتے ہیں ۔جن کے مراحل بتدریج بڑھتے جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مراحل کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا سبب انتہائی معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔ نوجوان شوق شوق میں پہلے سادہ اور عام سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر یہ عام سگریٹ ان کو مزید بڑھے نشے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ نشہ کی روک تھام کے لیے جہاں دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں وہیں پر ہیلتھ لیوی کا اطلاق کرکے بھی اس ناسور سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے ۔ اسی میں اس موذی عادت اور مہلک نشے سے چھٹکارے کی راہ ہے ۔

    پاکستان اور نشہ آور ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان۔
    پاکستان میں جہاں تعلیمی اداروں کے طلباء اس مہلک عادت کا شکار ہیں وہیں پر پسماندہ علاقوں کے نوجوان بھی ان ادویات کا استعمال کرکے اپنی محرومیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ برکی ہڈیارہ کے علاقے نڑور میں صرف ایک سال میں چالیس نوجوان اس مرض کی وجہ سے راہ عدم کے مسافر بنیں اور چالیس گھروں کے کفیل سینکڑوں لوگوں کو لاوارث چھوڑ گئے ۔
    دوسری طرف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء نشہ کی لت میں مبتلاء ہوکر بجائے ڈگری حاصل کرنے کے کسی ری ہیب سنٹر میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اس لت کا شکار ہونے کی کشمکش میں میں زندگی تباہ کردیتے ہیں ۔ جب اتنے سنگین نتائج نکل رہے ہوں تو حاکم وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کے سدباب کا چارا کرے اور اس کے لیے بنیادی طور پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ثمر آور اقدام ثابت ہوگا ۔

    حفظان صحت کے قوانین
    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام اقدامات بھی اٹھائے جس سے شہریوں کی جان مال کا تحفظ ہو۔ چنانچہ صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے نجات دینے کے لیے جہاں صحت کے مراکز بنانا ضروری ہے وہیں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں جو انسان کو نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہیں ان سے بھی چھٹکارا دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی کو اپلائے کرکے اشیاء مضرہ کے فروغ سے پہلے ہی اس کا سد باب کردیا جائے ۔

    سن ٹیکس
    گذشتہ دنوں حکومت وقت نے سگریٹ نوشی پر سن ٹیکس کا آغاز کیا جو کہ اپنی جگہ پر احسن اقدام ہے اس کے ساتھ ہی ہیلتھ لیوی کا دائرہ ذرا وسیع ہے جس میں تمام اشیاء مضرہ کے اوپر ٹیکس لگا کر دو طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ جہاں پر اشیاء مضرہ کا دائرہ چھوٹا ہوگا وہیں پر ٹیکس کی کولیکشن سے دیگر فلاحی پراجیکٹ پر بھی کام ممکن ہوگا ۔

    تعلیمات اسلام
    قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ رب العزت نے اس بات کو واضح کردیا ہے ۔
    ترجمہ : اے ایمان والوں اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو ۔
    یعنی ایسی وہ تمام چیزیں جس سے انسان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کی طرف جانا ممنوع ہے ۔ اور اس کا ارتکاب کرنا خلاف شرع اور خلاف اسلام ہے ۔چنانچہ مملکت اسلامیہ ہونے کے تعلق سے پاکستان کے حکام کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کو شعور و آگہی دے اور ہلاکت خیز چیزوں سے روکنے کے لیے ہیلتھ لیوی جیسے اقدامات کرے تاکہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کی ترغیب کے لیے ہونے والا کام
    کرومیٹک کے پلیٹ فارم سے اس بات کو اٹھایا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے پاکستان کو دو طرفہ فوائد حاصل ہوں اور ایک طرف اشیاء مہلکہ و مضرہ سے نجات ملے تو دوسری طرف فلاحی و مفید پراجیکٹ کا حصول اور ان کو چلانا ممکن ہوسکے ۔

    نتائج بحث :
    ہیلتھ لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو اشیاء مضرہ پر لگایا جاتا ہے ۔
    دیگر ممالک میں بھی اس کا اجراء ہوچکا ہے ۔
    پاکستان میں سگریٹ نوشی اور شوگری اشیآء کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کا نفاذ ضروری ہے۔
    ہیلتھ لیوی سے اشیاء مضرہ کی روک تھام ممکن ہے ۔
    ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والے پیسوں کو فلاحی کاموں پر لگایا جاسکتا ہے ۔

    سفارشات و تجاویز :
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے ۔
    ہیلتھ لیوی کا نفاذ کرنا مملکت پاکستان کے مفاد میں ہے ۔
    ہیلتھ لیوی ترجیحی بنیادوں پر ہو نافذالعمل  ہونا چاہیے ۔
    ہیلتھ لیوی وفاقی ، صوبائی و مقامی حکومتوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے ۔
    ہیلتھ لیوی پر قانون سازی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے ۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں عمر یوسف نےدوسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • . تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    عام طور پر، حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے پر غور کر سکتی ہیں تاکہ تمباکو کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ تمباکو پر ٹیکس تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، کیونکہ وہ تمباکو کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) تجویز کرتا ہے کہ حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر اپنائے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی ہے جو بین الاقوامی صحت عامہ پر مرکوز ہے۔ یہ صحت کو فروغ دینے، بیماریوں سے بچاؤ، اور تمام لوگوں، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کے لیے ضروری صحت کی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔

    اپنے مشن کے حصے کے طور پر، ڈبلیو ایچ او حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو صحت عامہ کے متعدد مسائل پر سفارشات پیش کرتا ہے۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ کلیدی حکمت عملیوں میں سے ایک تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا نفاذ ہے۔ ڈبلیو ایچ او حکومتوں کو تمباکو کے استعمال اور اس سے منسلک صحت کے خطرات کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر تمباکو کنٹرول کے اقدامات کا ایک جامع پیکج اپنانے کا مشورہ دیتا ہے، بشمول زیادہ ٹیکس۔

    تمباکو کا استعمال قابل روک موت اور بیماری کی ایک بڑی وجہ ہے، اور یہ کینسر، قلبی بیماری، اور سانس کی بیماریوں سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کے لیے خطرے کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لاگو کرنے سے تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور افراد، کمیونٹیز اور صحت کے نظام پر ان بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔

    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    پاکستان میں ہیلتھ لیوی ٹیکس کا آغاز تمباکو کے استعمال اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو دیگر اقدامات نافذ کیے گئے ہیں ان میں تمباکو کی پیکیجنگ پر گرافک وارننگ لیبل، اشتہارات پر پابندی، اور نابالغوں کو تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ پر پابندیاں شامل ہیں۔

    2. یہ ٹیکس کیوں ضروری ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ضروری ہے کیونکہ تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت اور بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور یہ پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماری اور فالج سمیت متعدد سنگین صحت کے مسائل کا ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا اور کم قابل رسائی بنا کر تمباکو کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، ٹیکس لوگوں کو سگریٹ نوشی چھوڑنے یا تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنے کے علاوہ، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا بھی ہے۔ ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔
    مجموعی طور پر، ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال سے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    3. ٹیکس کیسے خرچ کیا جائے گا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز عام طور پر صحت عامہ کے اقدامات اور پروگراموں کی حمایت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان اقدامات میں تمباکو کے استعمال کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تعلیمی مہمات، تمباکو نوشی چھوڑنے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق شامل ہو سکتی ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کی مخصوص مختص اور استعمال حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کی ترجیحات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ معاملات میں، فنڈز صحت عامہ کے وسیع تر اقدامات کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانا یا صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈنگ کے بہت سے ذرائع میں سے صرف ایک ہے۔ فنڈنگ کے دیگر ذرائع میں حکومتی بجٹ، بین الاقوامی تنظیموں سے گرانٹ، اور نجی افراد اور تنظیموں کے عطیات شامل ہو سکتے ہیں۔

    4. ٹیکس کیسے جمع کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر وصول کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات پر اس وقت ہوتا ہے جب وہ ملک میں پیدا یا لائی جاتی ہیں، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہے جو وہ تیار کرتے ہیں یا درآمد کرتے ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے کے لیے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کے علاوہ، پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر دیگر ٹیکس بھی لگ سکتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس۔ یہ ٹیکس عام طور پر تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کے مقام پر جمع کیے جاتے ہیں، نہ کہ تیاری یا درآمد کے مقام پر۔

    5. تمباکو کی مصنوعات کی کون سی مختلف اقسام ہیں جن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک حد پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والے تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو کی مصنوعات کی مخصوص قسمیں جو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے تابع ہیں اور ٹیکس کی شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

    6. ٹیکس کتنا ہوگا؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ ٹیکس کو عام طور پر پروڈکٹ کی قیمت کے فیصد کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح مصنوعات کی مخصوص خصوصیات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
    مثال کے طور پر، سگریٹ پر عام طور پر تمباکو کی دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات، جیسے تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، تمباکو چبانے، اور نسوار، پر کم شرح پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی مخصوص شرحیں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے ٹیکس قوانین کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتے ہیں۔ دیگر ٹیکس، جیسے فیڈرل ایکسائز ٹیکس اور سیلز ٹیکس، تمباکو کی مصنوعات پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں، اور ان ٹیکسوں کا حساب مختلف معیارات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

    7. ٹیکس کب نافذ ہو گا؟

    یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کب نافذ ہوگا، کیونکہ مجھے موجودہ یا مستقبل کی ٹیکس پالیسیوں کے بارے میں معلومات تک رسائی نہیں ہے۔ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس بہت سے ٹیکسوں میں سے صرف ایک ہے جو پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر لاگو ہو سکتا ہے، اور ٹیکس سے متعلق مخصوص شرحیں اور پالیسیاں وقت کے ساتھ مختلف ہو سکتی ہیں۔
    عام طور پر، ٹیکس کی پالیسیوں اور شرحوں کا تعین حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کرتے ہیں، جیسے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، جو کہ پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ ایف بی آر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے صرف ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور بدلتے ہوئے حالات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کے لیے وقت کے ساتھ ایڈجسٹ یا نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

    8. ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں، اور اس میں صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
    تمباکو کی کھپت کو کم کرنا: تمباکو کی مصنوعات کو زیادہ مہنگا کرنے سے، ٹیکس لوگوں کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے حوصلہ شکنی کر سکتا ہے اور انہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے یا ان کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اس سے تمباکو کے استعمال کے صحت پر منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جیسے پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماری، اور فالج۔

    صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا: ہیلتھ لیوی ٹیکس سے پیدا ہونے والے فنڈز کا استعمال ایسے پروگراموں اور خدمات کی مدد کے لیے کیا جا سکتا ہے جو صحت کو فروغ دیتے ہیں اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کو روکتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی مہم، تمباکو نوشی کے خاتمے کے پروگرام، اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تحقیق۔

    صحت عامہ کو بہتر بنانا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کے اقدامات کی حمایت کرکے، ہیلتھ لیوی ٹیکس آبادی کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

    صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا: تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور صحت عامہ کو بہتر بنا کر، ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے منسلک صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    سماجی انصاف کو فروغ دینا: ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کے استعمال کے صحت کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، جو غیر متناسب طور پر کم آمدنی والی اور پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے سماجی انصاف کو فروغ دینے اور معاشرے میں صحت کی عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    9. کیا ٹیکس سے وابستہ کوئی خطرات ہیں؟

    کسی بھی پالیسی یا اقدام کی طرح، پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ٹیکس کے کچھ ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج میں شامل ہیں:

    کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں اور انہیں تمباکو کی مصنوعات کو برداشت کرنے میں مشکل وقت ہو سکتا ہے۔ یہ ان افراد کے لیے مزید معاشی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

    ٹیکس چوری کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس ٹیکس چوری کے لیے مراعات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز یا درآمد کنندگان ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکس کی تاثیر کو کم کر سکتا ہے اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    روزگار پر اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اثر تمباکو کی صنعت میں روزگار پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ تمباکو کی مصنوعات کی مانگ کو کم کر سکتا ہے۔ یہ صنعت میں کارکنوں کے لئے ملازمت کے نقصان یا دیگر منفی اقتصادی نتائج کی قیادت کر سکتا ہے.

    کسانوں پر منفی اثر: ہیلتھ لیوی ٹیکس کا تمباکو اگانے والے کسانوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس سے تمباکو کی مانگ کم ہو سکتی ہے اور تمباکو کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے ان کسانوں کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔

    تجارت پر منفی اثرات کا امکان: ہیلتھ لیوی ٹیکس تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی منڈی میں گھریلو تمباکو کی مصنوعات کی مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ برآمدات میں کمی اور ملک کے لیے منفی اقتصادی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، یہ ضروری ہے کہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم کیا جاسکے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    10. ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کیسے کیا جائے گا؟

    پاکستان میں، تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عام طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام اور نافذ کیا جاتا ہے، جو کہ ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے، ایف بی آر بہت سے ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، بشمول:

    رجسٹریشن اور لائسنسنگ: تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کرنے اور تمباکو کی مصنوعات تیار کرنے یا درآمد کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایف بی آر کو تمباکو کی مصنوعات کی پیداوار اور درآمد کو ٹریک کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اجازت دیتا ہے کہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کیا جا رہا ہے۔

    آڈٹ اور معائنہ: ایف بی آر تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے آڈٹ اور معائنہ کر سکتا ہے تاکہ ہیلتھ لیوی ٹیکس کی تعمیل کی تصدیق کی جا سکے اور کسی ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کی جا سکے۔

    جرمانے اور جرمانے: اگر تمباکو کی مصنوعات کا کوئی مینوفیکچرر یا درآمد کنندہ ہیلتھ لیوی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے یا بصورت دیگر ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ جرمانے اور جرمانے کے تابع ہو سکتے ہیں۔ یہ جرمانے اور جرمانے عدم تعمیل کو روکنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    عوامی تعلیم اور رسائی: FBR تمباکو کی مصنوعات کے مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں آگاہ کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی تعلیم اور آؤٹ ریچ کا بھی استعمال کر سکتا ہے۔
    مجموعی طور پر، ایف بی آر پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی نگرانی اور اسے نافذ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے کہ ٹیکس ادا کیا جائے اور ٹیکس قوانین پر عمل کیا جائے۔

    خلاصہ
    یہ کہ پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، جس میں ان مصنوعات پر زیادہ شرح لاگو ہوتی ہے جو زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے سگریٹ۔
    ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرتا ہے، جو ٹیکس کی شرحیں طے کرنے اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی نگرانی اور نفاذ کے لیے کئی ٹولز اور تکنیکوں کا استعمال کر سکتا ہے، جیسے کہ رجسٹریشن اور لائسنسنگ، آڈٹ اور انسپیکشن، جرمانے اور جرمانے، اور پبلک ایجوکیشن اور آؤٹ ریچ۔
    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس صحت عامہ اور معاشرے کو بہت سے فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، اور صحت عامہ کو بہتر بنانا۔ تاہم، ٹیکس کے ممکنہ خطرات یا غیر ارادی نتائج بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر، ٹیکس چوری کا امکان، روزگار پر اثر، کسانوں پر منفی اثر، اور تجارت پر ممکنہ منفی اثرات۔ یہ ضروری ہے کہ ان ممکنہ خطرات اور غیر ارادی نتائج پر احتیاط سے غور کیا جائے، اور ٹیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن اور لاگو کیا جائے جس سے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جائے اور صحت عامہ اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔

    اکثر پوچھے گئے سوالات:

    یہاں پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات ہیں:

    1-تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کیا ہے؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس تمباکو کی مصنوعات پر ایک ٹیکس ہے جس کا مقصد تمباکو کے استعمال کو کم کرنا اور پاکستان میں صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی تیاری یا درآمد کے مقام پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا شمار مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے۔

    2-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا انتظام کون کرتا ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیر انتظام ہے، جو ملک میں ٹیکس جمع کرنے والی اہم ایجنسی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی شرحوں کے تعین اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کے لیے ذمہ دار ہے۔

    3-پاکستان میں تمباکو کی کس قسم کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عائد ہے؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کا اطلاق تمباکو کی مصنوعات کی ایک رینج پر ہوتا ہے، بشمول سگریٹ، تمباکو نوشی کے لیے تمباکو، چبانے والا تمباکو، اور نسوار۔ ٹیکس کا حساب عام طور پر مصنوعات کی قیمت کے فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور ٹیکس کی شرح تمباکو کی مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    4-پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟

    پاکستان میں تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کے کچھ ممکنہ فوائد میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنا، صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، صحت عامہ کو بہتر بنانا، صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا، اور سماجی انصاف کو فروغ دینا شامل ہیں

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں راجہ ارشد نے اول پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    مانسہرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، قومی شاہراہ سے آٹھ دس کلومیٹر اندر دشوار گذار پہاڑی راستہ پر واقعہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے. بفہ.. یہاں ایک صاحب ایک قسم کی مٹھائی بناتے ہیں جسے یہ لوگ کھویا کہتے ہیں. دودھ کی ربڑی کو دیسی گھی میں پکانے کے بعد مناسب مقدار میں شکر شامل کرکے ایک دانے دار براؤن سی حلوہ نما یہ مٹھائی بہت ہی خوش ذائقہ ہوتی ہے.

    لوگوں میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بغیر پیشگی بکنگ اس کی دستیابی ناممکن ہے. حالانکہ منوں کے حساب سے روزانہ بنایا جاتا ہے. ملک کے طول وعرض سے لوگ بطور سوغات اسے منگواتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی بجھواتے ہیں. پچھلے دنوں مانسہرہ جانا ہوا تو جی میں آئی کہ تھوڑا سا کھویا ہم بھی لیجائیں. ایک دوست کو لینے کے لئے بھیجا. معلوم ہوا کہ ایڈوانس بکنگ کے بغیر آئے ہیں اس لیے نہیں مل سکتا. بہر حال بمشکل تمام کچھ مذاکرات کے بعد کسی اور گاہک کے بڑے آرڈر میں سے کچھ ڈبے ہمارے حصہ میں آئے.

    اب دیکھیں کہ کیسی حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے. کسی بھی بڑے شہر سے دور، دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان اس صاحب ہنر نے اپنی سوچ اور محنت سے کیسا راستہ نکالا. اس مشکل کے باوجود کہ اس مٹھائی کی تیاری کےلیے دودھ بھی مقامی طور پر دستیاب نہیں، ساہیوال کے نواح سے منگوایا جاتا ہے. اس خطے میں جہاں نوے فیصد لوگ مواقع اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اس صاحب عمل نے ایسی مثال قائم کردی ہے کہ ناکامی کے دیگر تمام نوحے تن آسانی اور غیر عملیت پسندی کا شاخسانہ لگنے لگے ہیں.

    پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے. بے شک مسائل ہوتے ہیں. بے شک وسائل اور مواقع کی عدم دستیابی اور معاشرتی منفی رویوں کے سپیڈ بریکر موجود ہیں. مگر مستقل مزاجی، محنت اور حکمت سے راستہ بنانے والے منزل پا ہی لیتے ہیں. اگر آپ کی مایوسی کی وجہ بھی وسائل اور مواقع ہیں تو ازسر نو غور کی صلاح دی جاتی ہے.

  • آبی سالنامہ  2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آبی سالنامہ 2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہم پاکستان کی آبی تاریخ کے شاید سب سے ظُلمی سال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جس کے پہلے چھ ماہ پانی کی کمی سے لوگ اور جانور مرتے رہے تو اگلے چھ ماہ بارشی سیلابی پانی کی زیادتی سے۔

    اس سال کی شروعات ہی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے ہوئی۔تربیلا ڈیم 22 فروری کوئی ڈیڈ لیول پر آگیا تھا۔ محکمئہ موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک بھر یں معمول سے 62 فی صد سے لے کر 74 فی صد تک کم بارشیں ہوئیں اور یہ مہینے گزشتہ چھ دہائیوں کے اب تک کے سب سے زیادہ گرم مہینے تھے۔گرمی کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ مئی میں ژوب کے پاس ضلع شیرانی کے ہزاروں ایکڑ پر پھیکے زیتون اور چلغوزوں کے باغات میں آگ بڑھک اٹھی جس پر کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد ہی قابو پایا جاسکا۔ 10 کلومیٹر لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہزاروں درخت جل گئے اور اس زیادہ جنگلی حیات مر گئی۔

    مار چ اپریل میں ہی سندھ اور پنجاب جے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے تھے جب نہروں میں ضرورت کا صرف ایک چوتھائی پانی چل رہا تھا اور خریف کی فصل خصوصاً گندم پانی کی کمی کی وجہ سے تباہی سے دوچار تھی۔

    دوسری طرف مئی میں چولستان اور ڈیرہ بگٹی میں لمبی خشک سالی سے پانی کے ٹوبے ،کنڈ اور تالاب خشک ہو چکے تھے اور جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ پیاس سے مر رہے تھے اور ان علاقوں کی انسانی آبادی خطرے کو بھانپتے ہوئے ہجرت پر مجبور تھی۔ پیر کوہ میں تو کئی انسانی اموات بھی ہوئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے اجاگر ہونے سے ریسکیو 1122 اورکئی فلاحی تنظمیں متحرک ہوئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ان علاقوں میں ٹینکرو سے پانی پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کا 17 فی صد سے زیادہ زمینی رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں صحرائے تھل، چولستان، تھر، نوشکی اور خاران کے علاقے شامل ہیں جہاں انسان اور جانور خشک سالی سے متاثر ہوئے۔

    جہاں ایک طرف خشک سالی اور گرمی کی شدت زور پر تھی وہیں محکمئہ موسمیات نے اپریل کے آخر میں اس سال ایک ظالم مون سون آنے کی پیش گوئی کر دی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہ کیا گیا۔مئی کے آخر (22مئی) میں چولستان میں تیز بارش اور ژالہ باری ہوئی اور روہیلوں نے اس کا استقبال جشن منا کر کیا۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں اس سال معمول سے زیادہ بارشیں اور 2010 سے بھی بڑا سیلاب آنے کی خبر سنا دی لیکن خشک سالی کے ماحول میں اس اعلان کو توجہ نہ دی گئی۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل مئی تک مون سون سے نپٹنے کے اپنے اپنے منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کروا دیتے ہیں لیکن ملک میں اُس وقت جاری سیاسی سرکس کی وجہ سے معمول کا یہ کام بھی صحیح طریقے سے نہ کیا گیا۔

    جون کے آخر میں ملک سے سب بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ہر طرف جل تھل ہو گئی اور پورے شہر کی آبادی کئی دنوں اپنے گھروں میں قید ہوگئی کیونکہ سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا تھا۔ انہی دنوں میں کراچی میں امان خان کاکاخیل ستون نیکی والے ابھر کر سامنے آئے جو کراچی میں بارشی پانی سے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے انتہائی سادہ اور کسی حد تک بالکل بنیادی مگر بے حد مفید طریقے سے خشک کنوؤں کو تر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔

    جب ملک کراچی کے ڈوبنے کو دیکھ رہا تھا تو جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں میانوالی میں کوہِ نمک اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ کرک، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے پہاڑوں کے دامن کے علاقے بھی طوفانی ریلوں کی زد میں آگئے لیکن سرکار ابھی تک بھی سوئی ہوئی تھی اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

    اس سال جولائی کے شروع ہوتے ہی شمالی بلوچستان میں مون سون شروع ہوگئی جس یں ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ ، لورا لائی، با رکھان، ہرنائی، پشین اور کوئٹہ تک میں بارشیں شروع ہو گئیں۔یہ عیدالاضحیٰ کے دن تھے۔ 6 جولائی سے شروع ہونے والی یہ بارشیں اگست تک جاری رہیں جو کہ بلوچستان کے کیے ایک غیر معمولی صورت حال تھی کیونکہ بلوچستان کے صرف مشرقی اضلاع ہی مون سون کی آخری حد ہیں جس کے بعد ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اس دفعہ جنوبی بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی جس میں آواران اور تربت جیسے علاقے بھی شامل تھے۔کئی ڈیم اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کے پُل ٹوٹ گئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔

    جولائی کے تیسرے ہفتے تک سندھ بھی طوفانی مون سون کی زد یں آچکا تھا اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی اس سال کی مون سون اس لئے مختلف تھی کہ بارش کا ایک دورانیہ ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجاتا اور زمین جو پہلے ہی گیلی پڑی ہوتی اس میں پانی سینچنے کی بجائے فوراً سیلابی صورت حال اختیار کر لیتا۔ دوسرے ایک دو اسپیل کی بجائے بارش کے چھ سے سات اسپیل ہوئے اور چند دنوں میں ہی پانچ چھ سالوں کے حجم برابر مینہہ برس گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے چھ گنا زیادہ بارشیں ہوئیں۔یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ سندھ میں دریائے کابل اور تربیلا سے چلے ہوئے سیلابی ریلے ابھی نہیں پہنچے تھے لیکن صوبے کا بڑا حصہ بارشی پانی سے زیرِآب آچکا تھا۔

    اسی دوران کوہِ سلیمان کے سیلابی ریلے تونسہ اور ڈی جی خان یں تاریخی تباہی لے کر آئے اور کئی بستیوں کو آنِ واحد میں اُجاڑ کر رکھ دیا۔جولائی کے آخر تک کراچی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے والا حب ڈیم بھر چکا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر مون سون کی سر زمین پنجاب میں معمولی بارشیں ہورہی تھیں۔

    اگست کے آخر (26 اگست) میں مون سون نے وادئی سوات میں تباہی مچادی اور دریائے سوات اپنے کناروں سے چھلک پڑا۔ دریا کنارے بنائے گئے بیشتر سیاحتی ہوٹل تنکوں کی طرح پانی یں بہنے لگے۔ کے پی میں کوہستان کی وادئی دبیر میں پانچ بھائیوں کی سیلابی ریلے میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار بھائی سیلابی ریلے کے ساتھ مدد پہنچنے سے پہلے ہی بہہ گئے۔

    سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں پر 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سیلابی پانی نے عارضی جھیل بنا دی جس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری بھی غمگین ہو گئے اور انہوں نے اس سیلاب کو “a monsoon in steroids” کہا۔ حکومت بھی جاگی اور سیلابی علاقوں میں فلاحی تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ صرف الخدمت کی طرف سے قائم کی گئی عارضی خیمہ بستیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

    ان تباہ کن بارشوں کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان سے ہمدردی کے جذبات دکھائے گئے کیونکہ پاکستان کا عالمی ماحول کو خراب کرنے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن یہ اس موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ سیلابوں سے پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، تین کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئ، 2 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور 8 لاکھ سے زیادہ جانور ہلاک ہوئے۔

    نومبر کے پہلے ہفتے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP27) میں مصر نے پاکستان کو اس کی مشترکہ صدارت پیش کی ۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ G77 کی سربراہ کے طور پر شرکت کی۔پاکستانی وفد نے عمدہ طریقے سے اپنا کیس لڑا اور دریائے سندھ کی بحالی کے منصوبے کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

    تاہم اکتوبر سے دوبارہ خشک سالی والے حالات بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ سال کے آخری تین مہینوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں خصوصاًلاہور کی فضاسموگ سے زہر آلود ہو چکی ہے۔

    سال ختم ہونے کو ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی پچھلے چار مہینوں سے نہیں نکال سکی۔ کھجور، چاول اور کیلے کی فصل تو سیلاب نے پہلے ہی تباہ کردی ، اب کھڑے پانی میں گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکتی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال، کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال میں بھی سیلابی تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک نہ ہو سکنے کی وجہ سے نہری پانی نہیں چل رہا۔ کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ حالات ایک آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کا سال ہو۔

  • جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    پانچ چیزیں جب آپ اپنے جسم میں محسوس کریں تو آپ کو ترازو پر کھڑا ہو جانا چاہئے.

    آپ کی کمر چالیس انچ سے نکل گئی.

    آپ کو بتایا جاتا ہے آپ رات میں خراٹے لیتے ہیں اور صبح آپ تازہ دم نہیں ہوتے.

    اکثر آپ کا دل جلتا ہے. جوڑ درد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو تھکا دیتے ہیں. آپ ترازو پر کھڑے ہو جائیں آپ کا وزن بڑھ چکا ہے.

    اگر آپ نا اُمید مایوس چڑچڑے رہتے ہیں. دل میں ایک بے چینی اور بے زاری ہے تو بھلے اوپر درج کوئی علامت بھی آپ خود میں نہ پائیں پھر بھی آپ کا وزن بڑھ چکا ہے. بس اوپر کی علامات جسمانی وزن کی ہیں اور نیچے ذہنی اور نفسیاتی بوجھ ہے. دونوں سے چھٹکارے کا راستہ بھی تقریباً یکساں ہے. آپ کو اپنا لائف سٹائل بدلنا ہوگا.

    آل یہود ارض قدس میں ایک دیوار کے سامنے روتے ہیں. اسے دیوار گریہ کہتے ہیں. آپ کبھی اسے قریب سے دیکھیں تو اس کی ہر درز ہر دراڑ میں بہت سی پرچیاں کاغذ ٹھونسے ہوئے ہیں. یہ اُن لوگوں کی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات و ارمان لکھ کر دیوار کے حوالے کیں اور خود ایک یقین کے ساتھ ان کو پانے کیلئے نکل گئے. لیکن جو دیوار کے سامنے رونے کو ہی حل سمجھتے ہیں وہ پھر روتے ہی رہتے ہیں.

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ دونوں آپ کی زندگی مشکل بناتے ہیں. جسمانی وزن میں آپ کی سانس ہانپ جاتی ہے جبکہ ذہنی بوجھ میں آپ سے وابستہ رشتوں تک کا دم گھٹنے لگتا ہے. اوور ویٹ لوگوں کا اکثریتی مسئلہ ہے کہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اپنی سرحدیں پار کر چکے ہیں. جسمانی وزن چند ماہ کی مشقت ہے تو ذہنی بوجھ کیلئے تو روتے ہوئے کچھ سجدے ہی بہت ہوتے ہیں.

  • پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ہفتے والے دن صبح کے وقت گیس سے چلنے والی ککنگ رینج میں کوئی مسئلہ ہوا اور گیس لیک ہونے لگی۔ گیس والے کچھ مکینکس کو کال کی۔ ایک نے کہا کہ رات ساڑھے نو کے بعد آ سکتا ہوں اور کم سے کم تیرہ سو لونگا۔ دوسرے نے کہا کہ ایک ہزار صرف آنے کا لونگااور دیکھ کر بتاؤں گا کہ مسئلہ کیا ہے اور مزید کتنا خرچ آئےگا۔ دو نے کہا کہ آج وقت ہی نہیں ہے، کل ہو سکتا ہے۔

    اس کے بعد گاڑی لے کر نکلاکہ گیس والی دکانوں پر گیا کہ کوئی مکینک ڈھونڈھ لاؤں۔ جہاں بھی گیا تو پتہ چلا کہ مکینک تو کہیں نہ کہیں کام پر گیا ہوا ہے ، سب نے فون نمبر دیا کہ بات کر کے پتہ کر لیں کب تک آ سکتا ہے۔ مزید تقریباً سب نے یہ کہا کہ اگر ادھر دکان سے ٹھیک کروانا ہے تو پھر دے جائیں اور کل مل جائے گا۔ بالآخر ایک ہماری کالونی میں ہی کسی کے گھر کام کر رہا تھا، وہ تھوڑی دیر تک آیا۔ مسئلہ دیکھا اور کہا کہ دو ہزار روپے لگیں گے، اگر کہتے ہیں تو ٹھیک کردوں ورنہ میں چلا جاؤں۔ پندرہ سو کروانے کی کوشش کی لیکن وہ بیگ اٹھا کر باہر آگیا۔ دو ہزار پر ہی اوکے کرنا پڑا کہ باقی چھ سات سے تو پہلے ہی بات ہوچکی تھی۔ اس کے بعد اس نے ککنگ رینج کھولی، صفائی کی، ایک وال لیک تھا، اسے ٹھیک کیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ کام کیا، دو ہزار پکڑے اور چلا گیا۔ اس دوران اسے مسلسل مختلف لوگوں کے فون آرہے تھے اور وہ مختلف ٹائم دے رہا تھا۔

    ایسا ہی کچھ پلمبر، الیکٹریشن، اے سی کی سروس کرنے والے، فریج واشنگ مشین ٹھیک کرنے والے،گاڑیوں کے مکینک، کھڑکیاں دروازے لگانے والے، ویلڈنگ کرنے والے، وغیرہ کے ساتھ بھی دیکھ چکا ہوں۔

    ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ آٹھ آٹھ سال مدارس میں لگانے والے سات سے پندرہ ہزار تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ ہنر سیکھنا اتنا مشکل ہے؟کیا اس کے لیے کئی سال درکار ہیں؟ کیا یہ سیکھنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ چاہیے؟

    مشکل بھی نہیں، پیسہ بھی زیادہ نہیں چاہیے، وقت بھی اتنا نہیں چاہیے تو پھر سیکھتے کیوں نہیں؟ جتنا ایک امام صاحب پورے مہینے میں کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ ایک دن میں کما لیتے ہیں۔ اور ایم فل کرنے کے بعد بھی ایک شخص جتنی تنخواہ لیتا ہے اتنی یہ ایک ہفتے میں کما لیتے ہیں۔

    یہاں شاید کوئی یہ کہے کہ اس میں عزت کم ہے اور جاب میں زیادہ ہے تو اس نے شاید جاب کرکے دیکھی نہیں ہے۔ اور امام صاحب کو مسجد کمیٹی اور بعض دفعہ تو نمازیوں کی طرف سے بھی بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

    ایک دفعہ اپنے خول سے باہر نکلیے ، انا کو سائیڈ پر رکھیے، چند دن کسی بھی ہنر مند شخص کے ساتھ لگائیے اور پھر چاہے اپنی دکان پر بیٹھ کر کام کریں، چاہے گھروں میں جا کر، باعزت روٹی کمانے والے ہو جائیے۔

  • بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    دو بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔

    1 وہ جو میٹرک میں ٹاپ کرتے ہیں، پھر کالج میں بڑے ارمانوں کے ساتھ ایف ایس سی پری میڈیکل کے سبجیکٹس رکھتے ہیں اور سکالر شپ پر پڑھتے ہیں۔ پورا خاندان ان پر فخر کرتا ہے اور والدین سینہ تان کر چلتے ہیں۔ پھر تین چیزیں ہوتی ہیں۔

    ایک یہ کہ بچہ محنت جاری رکھتا ہے اور انٹر کے سخت امتحان کے بعد میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی سر کر لیتا ہے اور ڈاکٹر بننے کے سفر پر چل پڑھتا ہے۔

    دوسرا یہ کہ اپنی قابلیت کے زعم میں بہت سی چیزیں انڈر ایسٹیمیٹ کر لیتا ہے اور خود کو خراب کر بیٹھتا ہے، پھر مطلوبہ نتائج نہ آنے پر سسٹم کو، میرٹ کو اور پہنچ والوں کو کوسنے دینے شروع کرتا ہے کہ ذمے دار اس کے اپنے علاوہ باقی سب ہیں جبکہ ایسے کیسز میں قصور وار والدین بھی ہوتے ہیں مگر ان کا سارا زور بھی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دینے پر ہوتا ہے۔

    تیسرے نمبر پر وہ بچے ہوتے ہیں جو میٹرک کے بعد انٹر میں بھی سخت محنت کرتے ہیں اور پھر میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی خوش اسلوبی سے دیتے ہیں مگر کسی بھی وجہ سے میرٹ سے ایک دو پوائنٹس کے فرق سے رہ جاتے ہیں۔ یہ بچے ہر لحاظ سے قابلیت کے اعلی معیار پر پورے اترتے ہیں مگر جب اپنے ہی سامنے اپنے ساتھ والوں کو سرکاری کالجز میں یا اپنے سے کمتر بچوں کو پیسے کے بل پر پرائیویٹ کالجز میں داخلہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ڈپریشن کے سخت فیز میں چلے جاتے ہیں کیونکہ سرکاری داخلے کے اہل بچوں کے برابر تو محنت انہوں نے کی ہوتی ہے اور رزلٹس میں بس پوائنٹس کے فرق سے بات رہی ہوتی ہے جبکہ پرائیوٹ کالج کی فیس بھرنے کے قابل والدین نہیں ہوتے تو وہ کسی چھوٹی ڈگری کو ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً معاشرے کو ایک سخت رو استاد میسر آتا ہے جس کی صحیح وقت میں درست راہنمائی نہ ہونے کی صورت میں اگلی نسل کے لیے مایوسیوں کے کئی در کھلتے ہیں اور سینکڑوں پھول کھلنے سے پہلے ہی مایوسی کی زندہ مثال دیکھ کر مرجھا جاتے ہیں۔

    تباہ ہونے والے دوسری قسم کے بچے وہ ہوتے ہیں جن کے والدین ان پر پڑھائی کے لیے شیڈول سخت رکھتے ہیں۔ ان کے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات کار فکس ہوتے ہیں۔ دور کے رشتہ داروں کی شادیوں میں، مووی دیکھنے، یا کسی فضول فنکشن میں ان کو جانے کی اجازت نہیں ملتی کہ مبادا پڑھائی کا ہرج ہو۔ ان کے ماموں، پھوپھو، خالہ یا چاچو کے بچے جو ہمہ وقت کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اور ہر چھوٹی بات پر سکول سے چھٹی کرتے ہیں اور والدین ان کزنز کے بارے میں ہمیشہ کہتے ہیں کہ بیٹا پڑھ لکھ کر افسر بن جاؤ ورنہ دیکھ لینا پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے تمہارے یہ کزن مزدوریاں کریں گے۔

    پھر ایک دن آتا ہے جب بچے اپنی مارکس شیٹیں ہاتھ میں تھامے کبھی داخلے کے لیے اور کبھی کسی اور مقصد کے لیے دفاتر میں ایڑیاں گھسا رہے ہوتے ہیں تبھی ان کے وہ نکمے کزن ٹک ٹاک پر ناچتے ہوئے وائرل ہو جاتے ہیں اور پیسوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ تب ان کو سمجھ نہیں آتا کہ انہوں نے بچپن کی ساری خوشیاں ہنگامے اور موج مستیاں کس پڑھائی کے لیے وار دیں جب ان کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت کھیل کود میں مشغول رہنے والے سوسائٹی کی آنکھ کا تارا بھی بنے اور پیسے میں بھی کھیلے۔ حد تو تب ہوتی ہے جب دوران تعلیم ان بچوں کو منہ بھی نہ لگانے والے اساتذہ کرام ناچ کر وائرل ہونے والوں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور فخریہ بتاتے ہیں یہ فلاں ہمارا سٹوڈنٹ تھا یا تھی۔

    سمجھ نہیں آتا کہ وہ کونسی ترجیحات ہیں جس سے معاشرے میں ترقی کی راہ اپنائی جا سکتی ہے اور بچوں کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ پڑھنا لکھنا اور باشعور و بامقصد رہنا ہی ان کے اپنے لیے اور ان کے ملک و ملت کے لیے سود مند ہے۔ ناچ گانا، ٹک ٹاک اور گیمز صرف وقتی چیزیں ہیں جن کا جز وقتی اور سستی شہرت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔

  • ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    اوپن مارکیٹ ڈالر ڈھائی سو میں بھی نہیں ملتا. اور ذہین حکومت سرکاری نرخ دوسو پچیس پر باندھ کر مطمئن ہے. باہر کے ملکوں سے پاکستان رقم بھیجنے والوں کو بینک سے ہزار ڈالر کے عوض سوا دولاکھ ملیں اور دیگر ذرائع سے بھیجیں تو ڈھائی لاکھ ملیں تو کم ہی محب وطن ایسے ہوں گے جو اتنا نقصان کرکے بھی بینک سے بھیجیں.. یہی وجہ ہے کہ ترسیلات زر پچھلے سال کے مقابلے میں بہت کم رہ رہی ہیں. یہ عمل تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث ہے.

    صورت حال یہ ہے کہ سرکار کے پاس زرمبادلہ کی قلت کے باعث صنعت کے لیے ناگزیر سامان کی درآمد پر بھی کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ پابندی لگائی جاچکی ہے.ٹریکٹر ساز اور کاریں بنانے والے ادارے اور ان پر منحصر ساری صنعت شدید مالی بحران سے دوچار ہے. لاکھوں لوگوں بے روزگار ہونے جارہے ہیں. اور اس بحران کی مدت کتنی ہے اور حل کیا ہے کسی کونہیں معلوم. مستقبل کے حالات کا سوچ کر بھی خوف آرہا ہے.

    ایسے میں ہمارے ذہن میں ایک حل آرہا تھا سوچا آپ کے ساتھ سانجھ کرلیں شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے. بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں چند میدانوں میں جیسے، ہاؤسنگ، فوڈ ویلیو ایڈیشن ،اور انجینئرنگ وغیرہ کی صنعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے. ان کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹ کھولیں جاسکتے ہیں . جن میں سرمایہ بھیجنے پر انہوں مارکیٹ ریٹ سے پچیس تیس روپے فی ڈالر زیادہ رقم دی جائے.مگر شرط یہی ہوگی کہ یہ رقوم یہاں جائدادیں بنانے کے لیے نہیں بلکہ صنعتیں لگانے پر صرف ہوگی.

    دس ارب ڈالرز کے بدلے ڈھائی، تین سو ارب روپے فالتو دینا پڑیں گے جس سے شاید انفلیشن تو تھوڑا سا بڑھے گا مگر دس ارب ڈالر ایک دم آنے سے جو ملکی صورتحال میں یک دم بہتری آئے گی، غیر یقینی صورتحال کے خاتمہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ اس سے کہیں زیادہ فائدہ کا باعث ہوں گے.

    لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک وقتی حل ہے. مستقل بنیادوں پرمعاشی استحکام کے لئے ہمیں سب سے پہلے غیر یقینی صورتحال کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑے گا. کسی طور ساری بڑی جماعتیں کسی طاقتور گارنٹر کی موجودگی میں ایک چارٹر آو اکانومی پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو نہ چھیڑا جاسکے. اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر منیر نیازی کا شعر دریا کی جگہ بحران لگا کر پڑھیں.

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
    دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا