Baaghi TV

Category: متفرق

  • ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    شوہر کا موڈ صبح صبح بہت خوشگوار تھا. اس نے اپنی بیگم سے کہا چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں. بیگم نے غور سے اپنے شوہر کو دیکھا اور کہا یعنی تم سمجھتے ہو میں موٹی ہوں.؟ شوہر نے ہنس کر کہا نہیں یار میں نے ایسا کب کہا یہ تو تم نے نتیجہ نکال لیا.

    بیگم نے کہا اسکا مطلب تم سمجھتے ہو میں موٹی بھی ہوں اور جھوٹی بھی ہوں. شوہر نے کہا یہ کیا بے وقوفی ہے. میں نے ایسا کب کہا.؟ بیگم نے کہا مطلب تم یہ کہہ رہے ہو میں موٹی بھی ہوں جھوٹی بھی اور بے وقوف بھی.؟ شوہر نے کہا بیگم بس تم گھر بیٹھو میں خود واک کر کے آجاتا ہوں.

    بیگم نے کہا ہاں ہاں جائیں. آپ کو تو اکیلے واک پر جانے کا بہانہ چاہئے. مجھے کہاں لے کر جائیں گے. پتہ نہیں کس سے ملنا ہے کسے دیکھنا ہے اور شوہر خاموشی سے بیٹھ گیا. کیونکہ کچھ جگہوں پر بحث میں آپ جیت ہی نہیں سکتے. بھلے آپ کتنے ہی کلئیر کیوں نہ ہوں.

    بنجامن فرینکلن ایک دن جارج واشنگٹن سے ایک ضروری مشورہ کرنے گیا. واشنگٹن نے اسے کہا ایمانداری بہترین میدان ہے. تم ایمانداری سے اپنے مقام پر کھڑے رہو. بنجامن فرینکلن نے کہا نہیں جارج یہ پالیسی ہر جگہ نہیں چلتی. جیسے بیگم پوچھ لے کیا اس لباس میں، میں موٹی تو نہیں لگ رہی.؟ اب آپ ایمانداری سے یہ نہیں بتا سکتے کہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے. تم موٹی ہی ہو.

  • لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    امریکی ریاست اوہائیو کے ایک شراب خانے میں ایک آدمی ٹام مئیر مارا گیا اور تھامس نامی شخص کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. تھامس نے کلیمنٹ نامی ایک وکیل کیا اور اسے کہا میں تمہیں سچ بتاوں میں نہیں جانتا ٹام کیسے مرا کس نے مارا لیکن یہ حقیقت ہے میں نے نہیں مارا.

    کلیمنٹ نے اس کیس پر کافی ریسرچ کی. مقتول ٹام کے اپنے پستول پر تحقیق کرتے اسے سمجھ آیا کہ مقتول اپنا پستول نکالتے ہوئے خود اپنی گولی سے مرا. یہ سال 1871 کی بات ہے جب گولی کی فرانزک نہیں ہوتی تھی. بھری عدالت میں وکیل نے جج کو قائل کرنے کیلئے جب اسی انداز میں وہی پستول نکالا تو گولی پھر چل گئی. وکیل کلیمنٹ کو اسی مقام پر گولی لگی جہاں ٹام مئیر کو لگی تھی اور وکیل بھی جان کی بازی ہار گیا.

    تھامس کیس جیت گیا اور رہا ہوگیا. لیکن وکیل کلیمنٹ ایک چیز بتا گیا. دوسروں کو قائل کرنا اور وکالت آسان کام بلکل نہیں ہے. روزانہ کا نیا سورج آپ کی زندگی میں آپ کیلئے ایک نیا دن بن کر آتا ہے. اسے دوسروں کی ان عدالتوں میں تاریخیں بھگتے نہ گزاریں جہاں یقین دلانے کیلئے مرنا لازم ہو جائے. آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر جائیں گے.

    جولیس سیزر جیسا بادشاہ ہو یا دنیا کے مشہور فلسفی اور ادیب یہ سب ایک قول بتا کر گئے ہیں” لوگ ہمیشہ وہی مانتے ہیں جو وہ ماننا چاہیں” اس لئے منوانے کی چاہت ہی نہ رکھیں کیونکہ اس کیلئے آپ کو وکیل بننا ہوگا. بنجامن فرینکلن نے انسانی نفسیات کا تجزیہ کرتے کہا تھا کہ جب ہمیں بتایا جائے تو ہم بھول جاتے ہیں. جب ہمیں پڑھایا جائے تو یاد رہتا ہے اور جب ہم کرنے میں شامل ہوں تو سیکھ لیتے ہیں.

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں. ان کو اپنی زندگی جینے دیں. ہم بھی تو صرف آپ کو پڑھا رہے ہیں شائد کہ آپ کو یاد رہے. آپ کر کے سیکھ لیں.

  • فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    دیہات کے وہ لوگ جنہوں نے مویشی پالے ہوں جانتے ہیں کہ کسی کٹے کی گردن میں پڑی رسی پکڑ کر اسے سنبھالنا کتنا مشکل ہے بنسبت ایک بھینس کے. بھینس کی رسی پکڑ لیں وہ آپ کے پیچھے آرام سے چل دے گی. لیکن کٹا آپ کو کھینچنے لگے گا. کیونکہ ابھی کٹے نے رسی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ سے آپکا قیمتی موبائل پھسل جاتا ہے لیکن گرنے سے پہلے آخری لمحے میں آپ کیچ کر لیتے ہیں. آپ سوچیں ہاتھ سے نکلنے کا دکھ زیادہ ہے یا کیچ کرنے کی خوشی.؟ آپکا دماغ فوراً بتائے گا کیچ کرنے کی خوشی زیادہ ہے. کیا اس خوشی کیلئے اب موبائل کو آپ کرکٹ کی بال بنا لیں گے.؟

    ہمارے بازار انسانی نفسیات سے کھیلتے ہیں. جیسے سود اور قرض قسطوں پر چیزیں بیچنے والے ہوں. یہ اپنا اشتہار ان الفاظ سے شروع کریں گے” ابھی پائیں” اور پھر آسان اقساط میں واپسی کریں وغیرہ. اس وقت ہمارے نفس کی مثال اس کٹے کی طرح ہو جاتی ہے جو رسی کمزور دیکھ کر سمجھتا ہے میں اس رسی پکڑنے والے کو کھینچ لوں گا.

    فوری تسکین یا instant gratification ہماری نفسیات کا حصہ ہے. ہمارا دماغ جب کچھ کیچ کرلے تو وہ یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ گرا بھی تو مجھ سے تھا. آخر میں اتنا غائب دماغ کیوں ہوا.؟ لیکن کیچ اسے اپنا کارنامہ لگتا ہے. ان قرضوں کے جال میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو فوراً کوئی کارنامہ کرنا چاہتے ہوں. لوگ ان کی واہ واہ کریں. بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.

    لیکن کچھ عرصہ بعد وہ قرض ان کی گردن کی وہ رسی بن جاتی ہے جس سے وہ سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں. پھر سود خور ان کا دودھ بیچ رہے ہوتے ہیں. اور یہ اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں.

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.

  • پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    ہم بہت عرصہ سے سنتے تھے کہ پولٹری کی فیڈ میں فلاں حرام استعمال ہوتا، فلاں استعمال ہوتا جس کی وجہ سے کافی ڈسٹربینس رہتی تھی۔ تو کچھ عرصہ پہلے پولٹری کی فیڈ پر ریسرچ کررہے تھے تو پتہ چلا کہ پولٹری میں فیڈ کا کیا حساب ہوتا ہے۔ انفارمیشن کے لیے پولٹری کی فیڈ کا یہاں بتاتا ہوں اس سے آپکو پولٹری کا موجودہ بحران سمجھنے میں شائد مدد مل سکے۔

    عام طور پر چوزے سے برائلر بننے کا عمل 45 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پاکستان میں کتنے دنوں میں یہ عمل مکمل ہوتا بے اس کا مجھے مکمل اندازہ نہیں لیکن باہر کے ملکوں میں وہ یہ عمل 45 دنوں میں مکمل کرتے ہیں اور پھر 45 دنوں کے حساب سے اس کی فیڈ بناتے ہیں جس میں مین انگریڈی اینٹ سویا بین میل، اور مکئی ہوتی یے جبکہ باقی چیزوں میں فش میل، بون میل، امائنو ایسڈز اور پری مکسڈ امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔ مکئی میں تقریبا 8 فیصد پروٹین ہوتی ہے جبکہ سویا بین میل میں 45 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔

    پہلی سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اسکو سٹارٹر فیڈ کہتے ہیں جس میں مکئی تقریبا 61 فیصد اور سویا بین میل 31 فیصد ہوتی ہے۔ اور یہ سٹارٹر فیڈ پہلے 16 دن جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی اس کو "گرو آر” فیڈ کہتے ہیں اس سٹیج میں مکئی کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔لیکن ساتھ میں کچھ چیزیں اور شامل کردی جاتی ہیں جیسے کیلشیئم کاربونیٹ۔۔جو کہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور یہ "گرو آر فیڈ” ستارہویں دن سے لیکر 30 دنوں تک دی جاتی ہے۔

    تیسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اس کو فنشر فیڈ کہتے ہیں جو کہ 30 سے 38 ویں دن تک دی جاتی ہے۔جس میں مکئی کی مقدار زیادہ کردی جاتی اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔ اس سٹیج پر برائلر تیار ہوچکی ہوتی ہے لیکن یہ برائلر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کو کچھ کھانے کو نہیں دیتے۔ پھر اس برائلر میں ہوا بھرنے یعنی اس کو موٹا تازہ دکھانے کے لیے چوتھی سٹیج کی فیڈ جس کو "فیٹنر فیڈ” کہتے ہیں دی جاتی ہے۔

    اس سٹیج میں مکئی فیڈ میں شامل نہیں کی جاتی بلکہ اس میں سویا بین کو روسٹ کرکے شامل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں فش میل شامل ہوتی ہے۔ فش میل وہ مچھلی ہوتی ہے جو بکتی نہیں تو اس کو خشک کرکے سکھا کر اس کا پاوڈر بنالیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کو فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔۔مکئی لو فائبر اور ہائی انرجی ائیٹم ہے۔ جبکہ سویا بین ہائی انرجی، اور بریلر کے نظام انہضام کے میٹابولزم کو تیز کرنے کے کام آتا ہے۔ جبکہ فش میل پولٹری کے لیے ضروری امائنو ایسڈ جیسے لائیسین اور میتھی اون شامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ فش میل میں ضروری منرلز شامل ہوتے ہیں۔

    اب اس ساری فیڈ میں جو چیز یا را میٹریل ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے وہ سویا بین میل ہے۔سویا بین اور سویا بین میل یہ دو مختلف چیزیں ہیں سویا بین کی جب کرشنگ کی جاتی ہے تو اس دوران جو سویا بین آئل کے ساتھ جو چیز بچتی ہے اس کو سویا بین میل کہتے ہیں۔ چوتھی سٹیج میں ہمیں روسٹڈ سویا بین چاہیے ہوتا ہے۔ اور یہ ہم باہر سے منگواتے ہیں۔

    2018 سے پہلے تک پاکستان پام آئل اور سویا بین کے ذریعے ہی ایکسٹریکشن کرکے سویا بین آئل سے ہی بناسپتی گھی اور بناسپتی آئل تیار کرتا تھا لیکن چونکہ یہ امپورٹ کرنا پڑتا یے جس امپورٹ بل متاثر ہوتا تھا تو عمران خان نے سویا بین کی بجائے سرسوں کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔ جس سے ایک تو سرسوں کی کاشت بہتر ہوئی اور دوسرا سویا بین سے امپورٹ بل کم ہوا۔اس سے لوکل کسان کو بھی کافی فائدہ ہوا۔

    لیکن پولٹری فیڈ میں سویا بین اور سویا بین کا متبادل کوئی نہیں ہے۔ اب روف کلاسڑہ اور طارق چیمہ کے پالتو یہ افواہیں پھیلارہے کہ سویا بین جس کمپنی کا ہے وہ کمپنی امریکن جی ایم او کمپنی ہے اور اس کا سویا بین حرام ہے، مکس بریڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔جبکہ یہ چ و تیئے اس قوم کو 2018 سے پہلے اسی کمپنی کے سویا بین کا بناسپتی گھی اور بناسپتی تیل میں فرائی کرکرکے پکوڑے اور سموسے کھلاتے رہے اور مچھلی فرائی کھلاتے رہے اور اب یہ بیج حرام ہوگیا۔۔

    جبکہ اصل ایشو یہ ہے کہ ایک تو ایل سیز کی وجہ سے لوگ سویا منگوا نہیں پارہے اور جو منگوا رہے ہیں۔۔ان کے ساتھ یہ ظلم کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے سویا بین پر جو سبسڈی دی ہوئی تھی عمران خان کی گورنمنٹ میں۔۔اس سبسڈی کو ختم کردیا ہوا جس کی وجہ سے امپورٹر اور امپورٹڈ حکومت کے درمیان پھڈا پڑا ہوا ہے اور سارا مال کراچی میں سیز کردیا گیا ہے اور یہاں پاکستان میں پولٹری کو فیڈ کی فراہمی ڈسٹرب ہورہی ہے۔ ابھی تو سٹاک میں موجود فیڈ چل رہی ہے۔اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دسمبر کے بعد یہاں پولٹری پر دما دم مست قلندر ہوگا۔

  • پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    سیگریٹ نوشی اور منشیات کے حوالے سے میں پہلے بھی ایک بلاگ میں بتاچکا ہوں کہ مجھے اس حرکت سے کس قدر نفرت ہے؟

    خیر پاکستان پیکٹ اور کرومیٹک اس حوالے سے پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناصرف تمباکو نوشی کے مضر اثرات بارے آگاہی حاصل ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارمز اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر ایسی قانون سازی ہو اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے تمباکو نوشی کے عفریت کو لگام ڈالی جاسکے۔

    اس مقصد سے پاکستان پیکٹ اور کرومٹیک باہمی اشتراک سے مختلف کیمپینز اور عوامی آگاہی پروگرام اور مقابلہ جات منعقد کرتے رہتے ہیں جس میں ڈیجیٹل میڈیا کی حد تک باغی ٹی وی ان کے شانہ بشانہ رہتا ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    2015 میں PHW کے سائز کو فی پیک 85 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم، تمباکو کی صنعت کے دباؤ کے تحت، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کے بجائے 2017 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صرف 60% PHW کا اعلان کیا گیا، جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد وزارت صحت کو اس مشن میں شامل کرنا ہے کہ وہ سگریٹ کے پیک کے PHW سائز پر غور کرے اور اسے 85% تک بڑھائے۔

    مزید یہ کہ پاکستان تمباکو کنٹرول پر ایف سی ٹی سی – ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن کا دستخط کنندہ ہےکیونکہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال بہت زیادہ ہے جو کہ درحقیقت اموات کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہےجبکہ تمباکو کے بڑے فروخت کنندہ کی طاقت کے استعمال کی وجہ سے قوانین کے نفاذ میں اب بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہےاس لیے ہماری نسل نو کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں ایک اہم قدم تمباکو کی مصنوعات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    تاہم، تمباکو کمپنیوں نے بھی احتیاط سے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہ مسلسل "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کی تلاش میں ہیں۔

    لہٰذا، مخالفت کی مہمیں جو عام سے خواص دونوں طبقوں کو مربوط کرتی ہیں تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انہی مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی پیش پیش ہیں اور اس حوالے سے عوامی مقابلوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد کرکے اس مقدس مشن کو پھیلا رہے ہیں۔

    اس سال پہلے پوسٹ کارڈ مقابلے کا کامیاب انعقاد کیاتھا اور اب سال کے آخر میں تحریری مقابلہ منعقد کروایا جارہا ہے حس کی تفصیل دی جارہی ہے۔

    جو لوگ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ ضرور اس تحریری مقابلے کا حصہ بن کر پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے شانہ بشانہ ہوں۔

    تحریری مقابلہ شروع ہونے کی تاریخ یکم دسمبر 2022 ہے۔

    کرومیٹک, پاکستان پیکٹ اور باغی ٹی وی لایا ہے تحریری مقابلہ سیزن 01

    انعامی رقم

    پہلا انعام = مبلغ دس ہزار روپے صرف!!!

    فاتح کا اعلان پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ایک شاندار تقریب میں کیا جائے گا۔

    عنوان اور تھیم = ہیلتھ لیوی (صحت ٹیکس)

    کون کون حصہ لے سکتا ہے؟

    بھئی, کوئی بھی پاکستانی شہری جس کی عمر 12 سے 30 سال تک ہو تحریری مقابلے میں شامل ہونے کا اہل ہے۔

    کس طرح شرکت ممکن ہے؟

    اپنی انٹری یا تو بلاگ، مضمون، فیچر یا کسی بھی اور تحریری صنف میں لکھ سکتے ہیں۔

    تحاریر کیسے بھیجیں؟

    1-سب سے پہلے کرومیٹک, پیکٹ پاک اور باغی ٹی وی کے ٹوئٹر, انسٹاگرام اور فیسبک اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

    2- دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    3- یا اپنے نام، شہر، عمر، رابطہ نمبر اور سامنے اور پیچھے کی CNIC تصویر کے ساتھ "” ای میل کے ذریعے اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    مزید تفصیلات کے لیے Pakistanpact.com یا trustchromatic.com یا baaghitv.com کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

    تحریری مقابلے کے فاتح کا اعلان 25 دسمبر 2022 میں کیا جائے گا۔

    پاکستان پیکٹ – کرومیٹک – باغی ٹی وی

    تو پھر سوچ کیا رہے ہو, اٹھاؤ قلم اور آؤ مد مقابل اور جیتو دس ہزار کی انعامی رقم وہ بھی ایک شاندار تقریب میں۔

  • کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    مجھے بہت سے رواجوں سے شدید نفرت ہے. لیکن سارے رواج برے نہیں ہوتے. جیسے سواریوں والے سمندری جہازوں کا ایک رواج ہے. سمندر میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لائف بوٹس پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے. اس کے بعد خواتین اور پھر مرد حضرات کی باری آتی ہے. جہاز کا کپتان سب سے آخر میں لائف بوٹ پر آئے گا.

    ہمارے معاشرے میں والد گھر کے جہاز کا کپتان ہوتا ہے. وقت کے اس سمندر میں خاندان کا سفینہ منزل کی طرف لے کر جانے کا بوجھ یہاں اکثر اسی تنہا کپتان کے کمزور کندھوں پر ہوتا ہے. وقت کا سمندر اس وقت امتحان پر ہے. مہنگائی کی منہ زور لہروں کے درمیان سے ضروریات زندگی کھینچ کر یہ سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے.

    ایسے میں کچھ رواج بہت اچھے ہیں. مرد اپنی اکثر خواہشات کا گلا گھونٹ کر گھر کے بچوں اور خواتین کی زندگی آسان کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. لیکن کچھ معاشرتی رواج بہت برے ہیں جو کپتان کی مشکلات کو ان پہاڑ نما موجوں کے مقابل کر دیتے ہیں جن کو سر کرتے کرتے وہ خود بھی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور گھر کا سفینہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے.

    معاشرہ اگر اپنے ان کمزور کپتانوں پر کچھ ترس کھائے اور رسم و رواجوں کو کچھ سمیٹ لے کچھ محدود کر لے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی. وقت کے اس سمندر میں تنہا سفر نہیں ہوتے. بہت کچھ ہمیں ایک دوسرے کیلئے کرنا ہوتا ہے. رواج بھی وہ بھنور ہیں جس میں سے مل کر ہی نکلا جا سکتا ہے.

    آپ لوگ بتائیں کونسے رواج ختم ہونے چاہئے.؟؟

  • کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کمر کے بل سر جھکائے پانی کے تالاب نما کھیت میں چاول کی کھیتی کبھی دیکھی ہے.؟ اکثریت سوچتی ہوگی شائد چاول کیلئے کھڑے پانی میں کاشت لازم ہے. لیکن ایسا ہے نہیں. کھڑے پانی میں چاول اس لئے لگایا جاتا ہے کہ خودرو گھاس چاول کی فصل کے جڑ پکڑنے سے پہلے کھیت میں جگہ نہ بنالے. یہ پانی گھاس اُگنے نہیں دیتا.

    کامیابی کا سفر جتنا خاموش ہو اتنا اچھا ہوتا ہے. ہماری اکثریت کامیاب ہونے کی بجائے کامیاب ہو کر دکھانا چاہتی ہے. دکھاوے کی یہ خواہش ان سے سفر سے پہلے ہی اعلانات شروع کروا دیتی ہے. آس پاس عزیز دوست رشتہ دار اپنے پرائے پھر تماشائی بن جاتے ہیں. اتنی نظروں کے بوجھ تلے یہ پھر خود بھی گھبرا جاتے ہیں اور ان کا سفر بھی ڈگمگا جاتا ہے.

    ارسطو کہتا تھا آپ تنقید سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو کچھ کریں نہ بولیں اور نہ ہی کچھ بنیں. لیکن اگر آپ بولنا بھی چاہتے ہیں کچھ کرنا اور بننا بھی تو تنقید لازم ہوگی. اس لئے بہتر ہے کہ تنقید کیلئے خود کو تب دستیاب کریں جب کامیابی کی فصل نے جڑ پکڑ لی ہو اور اس لہلہاتے کھیت کو چھپانا اب ممکن نہ ہو.

    فزکس میں سکیل اس مقدار کو کہتے ہیں جو ہو یعنی فاصلہ رفتار حجم کمیت وغیرہ لیکن ویکٹر اسے کہتے ہیں جہاں مقدار بھی ہو اور اس کی سمت بھی ہو. بے چینی اینزائٹی سکیلر مقدار ہے. جبکہ خوف ویکٹر ہوتا ہے. کامیابی کا سفر بے چین رکھتا ہے لیکن سفر سے پہلے اسکا شور اور اعلانات اسے باقاعدہ وہ خوف بنا دیتا ہے جو سب کی نظروں اور تنقید کے تیروں کو ایک سمت دے کر آپ کو میدان میں کھڑا کر دیتا ہے.

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔