Baaghi TV

Category: متفرق

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    بچے اپنے خوف پیدائشی نہیں لے کر آتے. یہ خوف پالنے والے اسے دیتے ہیں. وہ اسے ڈراتے ہیں سو جاو ورنہ فلاں آجائے گا اور بچہ سہم کر آنکھیں بند کر لیتا ہے. یہ کھا لو یہ نہ کھاو ورنہ بھوت بھو بھو کرے گا. اور بچہ ڈر کر بات مان لیتا ہے. بچہ اپنے بڑوں پر اعتبار نہیں اعتماد کرتا ہے. اسکا یہ اعتماد اسے بڑوں کی باتوں کا یقین دلاتا ہے.

    کسی قوم کیلئے 75 سال بہت ہوتے ہیں. اتنے سالوں میں یہ لڑکپن سے نکل آتی ہے. آپ اسے باو بھو کر کے مزید ڈرا نہیں سکتے. یہ بچپن کا وہ دور نہیں جو ہر جھوٹی سچی کہانی پر وہ اعتبار کر لے. اب وہ خود تحقیق بھی کرتے ہیں اور تصدیق بھی. اب کمزور کہانیاں مزید چل نہیں سکتیں. خاص کر جب بڑوں پر اعتماد کمزور ہو جائے تب ایسی ہر کہانی نفرت پیدا کرتی ہے.

    قوم بالغ ہو رہی ہے. اب بڑوں کو بھی حقیقت کے میدان پر آنا ہوگا. یہ پرانے کھیل اب مزید چل نہیں سکتے. کسی قوم کو سیلاب آفات اور مشکلات نہیں مٹاسکتی. یہ تو اسے ایک قوم بناتے ہیں. قومیں تب ختم ہوتی ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد ہی ختم ہو جائے. تب گھر بھی بکھر جاتے ہیں اور قوم بھی.

  • محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی پر اُنکی خدمات پر پوسٹ کی تو چند لوگوں نے کمنٹ میں خصوصی طور پر کہا کہ محسنِ پاکستان پر بھی کچھ لکھوں تو لیجیے معلومات کے لیے محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب پر بھی ایک پوسٹ حاضر ہے۔ گو اُن جیسی قدآور شخصیت پر خاکسار کی کیا اہلِ علم۔و دانش کی لاکھوں پوسٹ یا مضامین بھی ہوں تو ناکافی ہیں مگر اہلِ علم کی تشنگی بڑھانے کے لئے گھڑے میں ایک کنکری ہم بھی ڈالے دیتے ہیں۔

    محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب بھارتی گجرات کے چھوٹے سے قصبے بنتوا میں 28 فروری 1928 میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ یند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1957 میں آنے والی چینی وبا ایشین فلو میں رضاکار کے طور پر کام شروع کیا۔ یہیں سے اُنہوں نے اپنی پہلی ایمبولینس خریدی اور انسانیت کی خدمت میں جُت گئے۔
    اپنی شریکِ حیات بلقیس ایدھی جو خود پیشے کے اعتبار سے نرس تھیں کے ساتھ ملکر ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد پاکستان میں انسانوں ہی کہ نہیں جانوروں کی بھی زندگی بچانا اور خدمت کرنا تھا۔

    ملک بھر میں ایمبولنسیز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیز موجود ہیں۔
    پاکستان میں جہاں کہیں آفت ، سیلاب ، زلزلے آتے ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن وہاں وہاں حکومتی اداروں سے پہلے پہنچتی۔ ملک کو جب دہشتگردی نے لپیٹا تو ہر خود کش دھماکے میں پہلے پہلے اُنکی سروس پہنچتی۔ ایدھی صاحب انسانیت کو مذہب مانتے تھے۔ وہ بلا کسی رنگ، نسل، مذہب ، زبان کی تفریق کے ہر کسی کی مدد کو پہنچتے۔
    یتیموں کا پرسانِ حال یہ محسنِ پاکستان، 20ہزار سے زائد بچوں کو پالتا رہا۔ کئی یتیم بچوں کے والد کے خانے میں ایدھی صاحب کا نام اور والدہ کے خانے میں بلقیس ایدھی صاحبہ کا نام آج بھی درج ہے۔

    کوئی بھی کیسی بھی مشکل میں ہوتا، ایدھی صاحب کا در اُسکے لیےکھلا ہوتا۔ یتیم خانے، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں ، بے گھر افراد کے لیے رہائش گاہ، جانوروں کے لیے محفوظ پناہگاہیں، نشے کے عادی افراد کے علاج کے سینٹر۔ غرض کیا کیا ہے جو محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی صاحب نے نہیں کیا۔

    اُنکا فلاحی کام محض پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک میں بھی جب کوئی قدرتی آفت آتی تو ایدھی فاؤنڈیشن دل کھول کر اُنکی مدد کرتی۔ یہاں سے راشن، کپڑے، خوراک، ادوایات ان ممالک کو بھیجی جاتیں۔

    ایدھی صاحب کو اپنی زندگی میں کئی ملکی و غیر ملکی اوراڈز سے نوازا گیا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ان ایوارڈز کی توقیر ہے کہ اِنکو ایدھی صاحب کو دیا گیا۔

    ایدھی صاحب کے دو اقوال یہاں نقل کرنا چاہوں گا جس سے اندازہ ہو گا کہ محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی کس قدر بلند سوچ کے مالک تھے۔

    1.”کئی برس بیتنے کے بعد اب بھی مجھ سے کچھ لوگ سوال اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی ایمبولینس میں کسی ہندو یا عیسائی کو کیوں لے جاتے ہیں؟ تو میں اُنہیں جواب دیتا ہوں: کیونکہ میری ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے”.

    2. "کم تعلیم یافتہ ہونا محض اّنکے لیے معذوری ہے جو اپنی تمام عمر چلنے پھرنے اور بولنے میں گزارتے ہیں جبکہ اُنکےدماغ سوئے رہتے ہیں”.

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.

  • شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    بوٹسوانا کے گھاس کے میدانوں کے بادشاہ وہاں کے شیر ہوتے ہیں. لیکن شیر جوتے نہیں پہنتے اور ان میدانوں میں ببول کے لمبے اور تیز دھار کانٹے بھی ہوتے ہیں. تو کیا شیروں کو کانٹے نہیں چھبتے.؟

    بہت پہلے ایک ویڈیو کسی فوٹوگرافر نے بنائی تھی جس میں ایک شیر اپنے پنجے کو پہلے اپنی زبان سے چاٹتا ہے اور پھر ایک لمبا کانٹا اس میں سے اپنے دانتوں سے کھینچ لیتا ہے. شیر پھر چل دیتا ہے لیکن اس کی چال میں کوئی لنگڑاہٹ نہیں ہوتی. کیا درد بھی نہیں ہوتا ہوگا.؟

    ایوان گیٹس بیس بال کا امریکی چیمپئن اور مشہور ہٹر کیچر تھا. اس کی ایک تصویر چیمپین شپ کے بعد دیکھی جس میں وہ رو رہا تھا. اب جو ایوان گیٹس کو جانتا ہوگا اسے شائد یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس تصویر سے دس سال پہلے وہ نیویارک میں بے گھر اور انتہائی کسمپرسی کے دور میں ایک خوفزدہ ڈرا ہوا لڑکا تھا.

    شیر جوتے نہیں پہنتا لیکن ہم پہن سکتے ہیں. شیر اپنی کمزوری اپنا رونا بھی نہیں رو سکتا کیونکہ جہاں اس نے یہ دکھائی وہ اپنے غول میں بادشاہت کھو دے گا. لیکن ہم انسان اپنی ذات پر ہی بادشاہ ہیں. دل چاہے تو آج اپنے آنسو اپنا درد چھپا لیں اور دل چاہے تو کل جب وقت بھی ہمیں بادشاہ مان لے تو آنسو بہا دیں.

  • اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    سور یا خنزیر بنا ایسا ہے کہ وہ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ایسے ہی رشتوں میں کچھ ناسور ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے. سور پر تو قطعیت سے حرام کا حکم ہے اس لئے اس پر تحقیق کی ضرورت نہیں. لیکن اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے تعلق ہی ہوتے ہیں جو ہمیں یا تو بناتے ہیں یا بگاڑتے ہیں.

    کچھ لوگ آپ کو تکلیف بھی دیں گے اور آپ کو باور بھی کرائیں گے کہ غلطی بھی آپ کی ہے کیونکہ آپ زیادہ حساس ہیں.

    آپ کی یادداشت اور آپ کی عقل کو مشکوک بنا کر خود پر اعتماد کمزور اور اپنی ذات پر آپکا اعتماد لے کر جائیں گے.

    آپ کبھی ان کو اپنا کوئی مسئلہ بتائیں یہ فوری اس سے بڑا کوئی اپنا مسئلہ بتائیں گے. یہ نہیں چاہیں گے آپ کی توجہ خود پر جائے.

    یہ آپ کو احساس جرم میں رکھیں گے. اپنے چھوٹے چھوٹے احسانات کو بڑا بتا کر آپ سے بڑی قربانی کا تقاضا کریں گے.

    یہ آپ کو موٹیویٹ بھی کریں گے. مثلاً آپ بہت خوبصورت دل والے بہت خاص اور مہربان شخصیت ہیں. کیونکہ یہ اپنے لئے آپ کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں.

    انکا رویہ سب کے سامنے آپ کے ساتھ الگ اور تنہائی میں یہ الگ شخصیت رکھیں گے. کیونکہ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو بہت سے نقابوں میں چھپا کر رکھتے ہیں.

    کبھی آپ تنگ آکر لڑ بھی لیں تو یہ آپ کو مکمل نظر انداز کریں گے. جیسے مچھلی کا شکاری مچھلی کی مزاحمت پر ڈور چھوڑ دیتا ہے کہ کہیں کانٹا ہی نہ نکل جائے.

    یہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ان کی کامیابیوں کی داستانیں سب من گھڑت ہوتی ہیں ان کی مہربانیوں ان کی سٹرگل کی ساری داستانیں ان کی ذہنی پیداوار ہوتی ہیں اور آپ ایک نئی کہانی ایک نئے کردار سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ہوتے.

    لیکن آپ کی ایک اپنی کہانی ہے. بجائے دوسروں کی کسی کہانی میں ایک غلام کردار بننے کے اپنی کہانی میں ہی رہیں. ایسی ڈبہ فلموں سے فاصلہ رکھیں. ورنہ اپنی کہانی فلاپ کر لیں گے.