Baaghi TV

Category: متفرق

  • استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    استحصال بھی صوبائی سروس کا اور احتساب بھی صوبائی افسران کا،تحریر:ملک سلمان

    پیپلز پارٹی کی سندھ میں دہائیوں سے مسلسل حکومت کا ایک ہی راز ہے کہ وہ اپنے صوبائی افسران اور سیاسی کارکنان کو عزت دیتے ہیں۔ یہی پالیسی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے لگاتار تیسرے اقتدار کی وجہ بنی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صوبائی افسران شدید محکومی اور استحصال کا شکار ہیں۔ جہاں گریڈ 22میں صوبائی افسران کی سیٹ ہی نہیں تو گریڈ 21 اور 20 میں انتہائی کم سیٹیں دی گئیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک ساتھ این ایم سی اور ایس ایم سی کرنے والے وفاقی افسران تو فوری پرموٹ ہوجاتے ہیں جبکہ صوبائی افسران اس انتظار میں لگ جاتے ہیں کہ پہلے جائیں گے تو ہماری باری آئے گی۔ یہی حالات گریڈ 18سے19میں جانے والوں کے ہیں جہاں 100 سے زائد افسران پی پی جی کرکے کئی سال سے ترقی کی راہ تک رہے ہیں، اسی طرح 17سے18 کیلئے پی ایس ایم جی کرکے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔

    صوبائی افسران کی ترقی ”مشن امپاسبل” سے کم نہیں، مہینوں ٹریننگ لیٹ کی جاتی ہے، سارے تاخیری حربوں کے باوجود ٹریننگ کرنے میں کامیاب ہونے والوں کو پروموشن بورڈ میں غیر ضروری تاخیر کرکے لامتناہی انتظار کی سولی پرلٹکا دیا جاتا ہے۔ خدا خدا کرکے بورڈ کیا جاتا ہے تو وہاں بھی صوبائی افسران کو ترقی دینے کی بجائے بغیر کسی سولڈ وجہ کے ڈیفرڈ کر دیا جاتا ہے۔صوبائی سروس کے جن افسران کو معزز عدلیہ الزامات اور کیسز سے باعزت بری کر چکی ہے انہی کیسز میں انٹی کرپشن کی طرف سے تفتیش جاری کا کہہ کر ترقی نہ دینا سخت زیادتی اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔جس کیس میں مرکزی ملزم چوہدری پرویز الہیٰ عدالت سے بری ہوچکے ہیں۔ اسی کیس میں صوبائی افسران پر الزامات کی تفتیش کو تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، بدنیتی کی انتہا کہیے کہ تین سال سے چالان نہیں جمع کروایا جارہا اور زیر تفتیش کا کہہ کر صوبائی افسران کو ترقی نہ دینا انٹی کرپشن کی نااہلی اور بدترین انتقامی کاروائی ہے۔ اسی کیس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر ان بھی کمیٹی ممبر تھے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں اور صوبائی افسران کو جیل بھی جانا پڑا اور آج تک ترقی کی راہ تک رہے ہیں۔

    ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل سے لیکر تمام ملکی و غیر ملکی تنظیموں کی سروے رپورٹ میں پولیس کرپشن انڈیکس میں ہمیشہ ٹاپ تھری پوزیشن پر رہی ہے لیکن جب سے انٹی کرپشن کے قوانین کے برخلاف پولیس افسران کو انٹی کرپشن کا ہیڈ لگایا گیا ہے کسی ایک پی ایس پی افسر تو درکنار ڈی ایس پی لیول کے جونئیر پولیس افسر کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ کرپٹ پولیس اہلکاروں کا احتساب تو درکنار، گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز شرمناک ڈرامہ کیا ہوگا کہ جہاں گریڈ 20کے کمشنر، آر پی او اور سی پی او ہوں وہاں گریڈ 17 کا ڈی ایس پی ڈویژنل سربراہ انٹی کرپشن۔ حتیٰ کہ انٹی کرپشن کے گریڈ 18کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی بھی گریڈ17کے ڈی ایس پی ماتحت ہیں۔
    میڈم وزیر اعلیٰ اور ملکی سلامتی کی محافظ ایجنسیز کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    چیف سیکرٹری نے اہم پوزیشن پر اوپر سے لیکر نیچے تک سنئیر سیٹوں پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران لگا رکھے ہیں جبکہ صوبائی افسران کے ساتھ استحصال کا معاملہ الٹ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر پی ایم ایس کے سنئیر افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کے ماتحت لگایا گیا ہے۔
    کج شہر دے لوک وی طالم سن
    کج سانو مرن دا شوق وی سی

    یہی وجوہات ہیں کہ صوبائی سروس کے بہت سارے افسران گریڈ 20میں جانا عذاب سمجھتے ہیں کہ انہیں نوے ماڈل کھٹارا گاڑی اور کھڈے لائن پوسٹنگ دے کر کلرک بنادیا جائے گا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کی پوسٹنگ دیکھتے جائیں اور شرماتے جائیں گریڈ سترہ والے کو اٹھارہ جبکہ کتنے ہی گریڈ اٹھارہ کے افسران کو گریڈ انیس اور بیس میں ڈی جی، ایم ڈی اور سی ای او کی سنئیر سیٹوں پر نوازشیں کی گئی ہیں۔ ان مزکورہ لاڈلے افسران کے بارے یہ بات زبان زدعام ہوتی جا رہی ہے کہ فلاں جونئیر افسر فلاں پاور فل سنئیر افسر کا کماؤ /پلاؤ پتر ہے۔میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دور حکومت میں خواتین افسران کوسیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی اہم ترین سیٹوں پر تعینات کیا گیا لیکن صوبائی سروس سے کسی ایک خاتون آفیسر کو بھی سیکرٹری، کمشنر یا ڈی سی نہیں لگایا گیا۔

    پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں وہ بھی غیر اہم سے محکمہ جات۔ 41 میں سے صرف 12 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں باقی تمام اہم اضلاع میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح اہم اضلاع کے اے ڈی سی آر اور اسسٹنٹ کمشنر کی بڑی تحصیلوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔سی ای او IDAP، خود مختار اٹھارٹیز، ورلڈ بنک سمیت انٹرنیشنل فنڈنگ والی تمام سیٹیں بھی پی ایم ایس افسران کے لیے شجر ممنوعہ قرار دے کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر افسران کو اربوں روپے کے استعمال کیلئے سیا و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔میڈم وزیراعلیٰ صوبائی افسران کو انکا جائز حق دیا جائے تاکہ وہ دل و جان سے پنجاب کی خدمت کرسکیں.

  • تاریخ  سوڈان،تحریر:  غنی محمود قصوری

    تاریخ سوڈان،تحریر: غنی محمود قصوری

    سوڈان 90 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہیں جو 1 جنوری 1956 کو مصر اور برطانیہ کی مشترکہ حکمرانی سے آزاد ہوا جسے آزادی سے قبل Anglo Egyptian Sudan کہا جاتا تھا

    آزادی کے بعد پہلا جمہوری دور 1956 سے 1958 تک چلا جس میں بھوک و افلاس اور خانہ جنگی نے جنم لیا تو فوجی سربراہ جنرل عبود نے 1958 کو اقتدار سنبھالا تاہم وہی معاشی بحران اور خانہ جنگی کا ماحول قائم رہا ،عوام نے احتجاج کیا تو 1964 میں جنرل عبود نے استعفی دے دیا،اس کے بعد 1964 سے 1969 تک بار بار جمہوری حکومتیں بدلے جانے والا مختصر جمہوری دور آیا مگر وہ بھی ناکام رہا جس میں عوام کو خوشحالی نا مل سکی تو بلاآخر جنرل جعفر نمیری نے 1969 سے 1985 تک اقتدار سنبھالے رکھا تاہم پھر بھی عوام کی قسمت نا بدلی تو عوامی احتجاج پر 1985 میں صادق المہدی کو بذریعہ جمہوریت منتخب کیا گیا تاہم وہی چکی کے دو پاٹ والی بات،1985 میں عوامی احتجاج پر فوجی سربراہ جنرل عمیر البشیر نے اقتدار سنبھالا مگر حالات نا بدلے اور بالاخر 2019 کے عوامی احتجاج پر انہیں معزول ہونا پڑا

    30 جون 1989 میں فوجی بغاوت کے ذریعے اس وقت کے سوڈانی وزیراعظم صادق المہدی کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل عمر البشیر نے لگ بھگ 30 سال حکومت کی جو کہ سب سے لمبا دور حکومت تھا مگر عوام کی قسمت پھر بھی نا بدل سکی،سوڈان میں حالیہ خانہ جنگی عمر البشیر کی 30 سالہ آمریت کے خاتمے پر شروع ہوئی تھی، حکومت کے خاتمے کے بعد فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز نے مل کر عبوری حکومت سنبھالی تاکہ ملک کو جمہوریت کی طرف لے جایا جائے لیکن جلد ہی طاقت کی رسہ کشی شروع ہو گئی اور اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ طاقت فوج کے زیرِ اثر حکومت کے پاس رہے گی یا پھر آر ایس ایف کے پاس رہے گی

    دونوں فریقوں میں RSF کے مکمل طور پر فوج میں ضم ہونے کے معاملے پر اختلاف بڑھا،اور فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کمانڈر محمد حمدان دقلو عرف حمیدتی کے آپس میں تعلقات خراب ہو گئے تو دارالحکومت خرطوم میں دونوں طرف سے جھڑپیں شروع ہو گئیں جو بہت جلد مکمل جنگ میں بدل گئیں اور خون کی ہولی کاایک بار پھر سے آغاز ہو گیا جو تاحال جاری ہے،یہ خانہ جنگی اب پورے سوڈان میں پھیل گئی ہے مملکت کے بڑے بڑے شہر دارفور، خرطوم، اور نیل تک خون ہی خون پھیل گیا جس کے باعث
    لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اس خانہ جنگی سے صحت و خوراک کا نظام تباہ ہو گیا جو پہلے ہی قلیل تھا

    واضع رہے کہ موجودہ تنازعہ دو بڑی فوجی طاقتوں کے درمیان ہے جن میںSudanese Armed Forces
    یعنی SAF اور Rapid Support Forcesیعنی RSF شامل ہیں، یہ دونوں اپنی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کے لئے لڑ رہے ہیں جس میں عوام ماری جا رہی ہے ،وہ عوام کہ جس مفلوک الحال نے مملکت کے قیام سے ابتک سکھ کا سانس لیا ہی نہیں تھا اور نا پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا، اب پھر سے خوراک کی قلت، تباہ حال نظام صحت، بڑے پیمانے پر بے گھری، اور بیماریوں کا پھیلاؤ ہر طرف راج کر چکا ہے،کچھ علاقوں میں بھوک انسانی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ بن گئی ہے،بہت سے ہسپتال بند یا ناقابل استعمال ہو چکے ہیں کیونکہ ادویات کی ترسیل نا ہونے کے برابر ہے،شمالی دارفور، اور الفاشر کی صورتحال خاص طور پر خطرناک ترین ہے کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی ہے، یہ خانہ جنگی صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ انسانی نسل کشی ،انسانی حقوق کی پامالی، مہاجرین کی بے بسی اور خوراک و ادویات کی قلت سے مرتی انسانیت کی تذلیل کا عملی مظاہرہ بھی ہے

    بھوک اور غذائی قلت تقریباً نصف ملک یعنی 25 ملین لوگ کے سروں پر سوار ہے،ایک ملین کے قریب لوگ انتہائی خطرناک زندگیاں گزار رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس نا تو کھانے کو کچھ ہے نا رہنے کو کیمپ ہیں یعنی کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار مذید 9 ملین لوگ غذائی و ادویائی قلت کا شکار ہونے کے قریب تر ہیں،اس حالیہ خانہ جنگی میں ابتک تقریباً 150000 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے،پورے ملک میں نا تو مناسب طریقے سے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور نا ہی دیگر ضروریات زندگی
    واضع رہے کہ زیادہ تر لوگ گولیوں کی بجائے بھوک اور علاج نا ہونے سے مرے ہیں،آنے والے دن مذید سنگینی کو واضع کرتے ہیں

  • لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    عدیل اکبر کی تدفین کے وقت عدیل کا بھائی شرجیل میرے ساتھ کھڑا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر سی پی او گوجرانوالہ ایاز سلیم اور تیسرے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی۔ عدیل کی موت کی خبر سے لیکر جنازے تک سارے تجزیہ کار چھٹی نہ دینے کی وجہ بتا کر علی ناصر رضوی کو ملزم ڈکلئیر کرچکے تھے۔ سینکڑوں سوشل میڈیا پوسٹوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مرحوم عدیل اکبر کے ساتھ تحقیر آمیز رویے اور چھٹی نہ دینے کو ٹاپ سٹوری ڈسکس کیا جارہا تھا۔ سوشل میڈیا پوسٹوں کا اثر تھا کہ تدفین کے موقع پر میں نے علی ناصر رضوی کو عدیل کے ملزم کے طور پر دیکھااور سلام تک نہ لیا۔ بعد از تدفین جب علی ناصر رضوی شرجیل کو گلے لگا کر روتے ہوئے بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ عدیل کے اس طرح جانے سے شدید دکھ کی کیفیت میں ہے اور اس غم کو ایسے ہی محسوس کر رہا ہے جیسے اس کا اپنا بیٹا چلا گیا۔ میں نے بہت غور سے علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا کہ ان الفاظ میں نوجوان آفیسر عدیل کو کھونے کا دکھ ہے یا علی ناصر رضوی نے عدیل کے ساتھ کوئی بدتمیزی یا چھٹی نہ دیکر جو زیادتی کی ہے اس کا پچھتاوا ہے۔ علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ اسے واقعی عدیل کے اس طرح دنیا سے رخصت ہوجانے کا شدید دکھ ہے۔

    یہ وہی علی ناصر رضوی ہے جس کے بارے گزشتہ ماہ مرحوم عدیل اکبر کوہسار مارکیٹ میں کھانے کی ٹیبل پر تعریف کر رہے تھے کہ رضوی صاحب اسے نہ صرف بلوچستان سے اسلام آباد لائے بلکہ شولڈر پرموشن کے ساتھ دیگر ایس پی ایز کے برابر پوسٹنگ دے کر اعتماد کا اظہار کیا۔ ممکن ہے کہ علی ناصر رضوی نے ڈیوٹی پر زیروٹالرینس پالیسی اپنائی ہو لیکن ابھی تک کہیں بھی ان کی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بلوچستان سے اسلام آباد تبادلہ کرواکر مین سٹریم میں آنے کا موقع فراہم کیا۔جہاں تک علی ناصر رضوی کے تلخ رویے کا کہا جارہا ہے تو میری معلومات کے مطابق جب سے عدیل اکبر اسلام آباد آیا ہے اس دوران کم و بیش 20دن کیلئے علی رضوی بیرون ملک تھے اس لیے مختصر پوسٹنگ میں اختلافات کی باتیں ماورائے عقل ہیں۔

    سوشل میڈیا کے”دانشوڑوں“ کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد نے عدیل اکبر کو ترقی سے محروم کرنے کی دھمکی دی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیوروکریسی کی معمولی سمجھ بوجھ والے کو بھی معلوم ہے کہ علی ناصر رضوی تو اس بورڈ کیلئے عدیل کی اے سی آر لکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ جہاں تک علی ناصر رضوی کے سخت رویے کا تعلق ہے اسلام اباد پولیس میں پوسٹڈ پی ایس پی افسران سے لے کر ڈی ایس پی اور انسپیکٹر تک کے بہت سارے افسران سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ علی ناصر رضوی کے رویے بارے پوچھا تو سب کی طرف سے ملتا جلتا جواب ملا کے وہ اپنے افسران اور ماتحت عملے کا بہت خیال کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ اس طرح ڈانٹتے ہیں کہ ”جے میں تہاڈے تو وڈی عمر دا ہو کے نہیں تھکدا تے تہانوں جوانی وچ ای تھکن اے۔ ”

    عدیل اس سے قبل بلوچستان میں جھوٹے الزامات، جھوٹی انکوائیریاں اور سب سے بڑھ کر ترقی سے محرومی جیسے بہت بڑے بڑے غم برداشت کرچکا تھا۔ایمانداری، اصول پرستی، وردی کی عزت اور حلف کی پاسداری کی قیمت کرپٹ سنئیر کی طرف سے رپورٹ خراب کرنے اور ترقی سے محرومی برداشت کی لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا۔ مرحوم عدیل اکبر پر
    بلوچستان میں زیارت کی پوسٹنگ کے دوران لگائے کی الزامات کو ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدیل اکبر کو کلئیر کردیا تھا۔ عبدلغفار قیصرانی کی ایمانداری اور اصول پرستی کا زمانہ معترف ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی انکا فیصلہ من و عن تسلیم کیا تھا۔

    گذشتہ تین دنوں میں، میں نے درجنوں پی ایس پی افسران سے ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے کیے تو مجھے اس بات کا اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ یہاں پی ایس پی افسران اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، ہر کوئی ”کی پوسٹ” پر جانے کیلئے بیتاب ہے اور اس مقصد میں کامیابی کیلئے اس سیٹ پر موجود ساتھی افسر کو نیچا دکھانے اور گرا کر اپنی باری لینا چاہتا ہے۔

    سیٹ کے حصول کیلئے اپنے ساتھی افسران پر ہر طرح کے الزامات لگانے اور کیچڑ اچھالنے میں باؤلے ہوئے پڑے ہیں۔عدیل اکبر اگر علی ناصر رضوی سے اس قدر تنگ ہوتا تواس کے پاس کہیں اور پوسٹنگ کروانے سمیت بہت سارے آپشنز تھے لیکن مبینہ خود سوزی کے محرکات کا تعلق شائد ترقی سے محرومی سمیت دیگر معاملات سے تھا کیونکہ عدیل اکبر کی کئی سال سے مسلسل غمگین شاعری اور انکے ذہنی معالج کی رائے کے مطابق عدیل اکبر لمبے عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکارتھے،ماہر نفسیات کے مطابق خودسوزی سے ایک دن قبل عدیل اکبرکے الفاظ تھے کہ انہیں شدید سٹریس ہے اور اس سٹریس کا تعلق پوسٹنگ یا ڈیوٹی سے نہیں کسی انجانے خوف سے ہے۔خبروں میں آنے کیلئے درجنوں افراد دوست بن کر من گھڑت کہانیاں سنا رہے ہیں۔ بہت سارے نوجوان افسران بھی سنی سنائی باتوں پر بنا ثبوت بے بنیاد الزامات پر مبنی جذباتی پوسٹیں لگا رہے ہیں۔
    نوجوان افسران سمیت تمام سوشل میڈیا ”دانشوڑوں ” سے گزارش ہے کہ سستی شہرت کے لیے ڈرٹی گیم کا حصہ نہ بنیں۔ آئی جی اسلام آباد کی کمانڈ کے خواہش مند پی ایس پی افسران کی خوشنودی کے لیے علی ناصر رضوی کو بلاوجہ ملزم بنا کر پیش نہ کیا جائے۔سائبر کرائم ایجنسی کو چاہئے کہ سستی شہرت اور ویوز کیلئے بنا ثبوت "پولیس کمانڈر” کی کردار کشی کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم عدیل کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے ورثاء کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

  • خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں مالی کرپشن کا ریٹ اور رجحان مرد افسران سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین افسران کی معزز شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز رویہ تو عمومی ہے جبکہ اپنے ماتحت افسران اور سٹاف کے ساتھ بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک کی ان گنت مثالیں اور داستانیں ہیں۔خواتین افسران کے بارے عمومی رائے ہے کہ یہ مسائل کا حل کرنے کے بجائے "ٹربل میکرز” کا رول ادا کرتی ہیں ۔خواتین افسران کی بڑی تعداد کمائی والی سیٹوں پر منشی بن کر پیسے اکٹھی کرتی ہیں اور آگے تک پہنچاتی بھی ہیں۔خواتین افسران کی اکثریت آج بھی سرکاری نوکری کو عزت اور رزق حلال کا زریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

    خواتین افسران میں سے کم از 30سے 35فیصد کرپشن کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ بڑے خواب اور وقت سے پہلے سب کچھ پالینے کی خواہشات کی تکمیل کیلئے 3سے4فیصد کی بہت محدود تعداد بیوروکریٹک پارٹی گروپ جوائن کرچکی ہیں۔
    بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا کہ خواتین افسران اگر اے سی، اے ڈی سی آر یا ڈی سی ہیں تو انکا ہیڈ کلرک ”سیٹ“ چلا رہا ہوتا ہے۔ایک خاتون افسر نے اپنے بیج میٹ سے جلدی کام کرنے کے پیسے مانگ لیے اور ساتھ احسان بھی جتلایا کہ یہ کام اتنے کا تھا تمہیں ڈسکاؤنٹ دے رہی ہوں۔ اسی طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ خاتون افسر نے ایک کام کے چالیس لاکھ مانگے تو متعلقہ سپیشل سیکرٹری تک شکایت پہنچی تو انہوں نے فون پر بہت ججھکتے ہوئے بات کی میڈم شائد آپ کے بیحاف پر کسی نے فلاں بندے سے پیسے مانگے ہیں تو مذکورہ خاتون نے جھٹ سے جواب دیا کہ سر آپ سے اوپر افسر تک بھی جاتے ہیں آپ”چل“ کریں۔بہت سی خواتین افسران کے کاروباری شوہر اپنی بیویوں کے سرکاری دفاتر میں کرسی رکھے کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

    دبنگ افسر:
    ان کے بارے مشہور کردیا جاتا ہے کہ بہت دبنگ افسر ہے کسی کی بات نہیں سنتی، ایسی افسران اپنے افسر کیڈر پر بھی اعتبار نہیں کرتی کہ حصہ مانگ لے گا ان کا سارا لین دین مخصوص چھوٹا ملازم کرتا ہے۔ ایسی خواتین افسران نے مالی کرپشن جی بھر کر کرنی ہوتی ہے حتیٰ کہ جوکام مرد افسر سے تعلق واسطے یا ڈسکاؤنٹ کے ساتھ کروایا جاسکتا ہے وہی کام خاتون افسر "فکس ریٹ“پر کرتی ہیں۔ ایسے افسران کسی اتھارٹی یا محکمے میں گئیں تو اسکی کھال تک اتار کر بیچنے کی حد تک جاتی ہیں جبکہ تحصیل اور ضلعی سربراہ کی طور پر بڑے کاروباری مراکز اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز سے لیکر گھریلو زمین کے تنازع کو بھی کمائی کا زریعہ بنا لیتی ہیں۔

    گرل فرینڈ کلچر:
    خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین افسران میں سے بامشکل 3سے4فیصد خواتین نے اس راستے کو اپنایا ہے۔لیکن خطرناک بات یہ ہے پارٹی گروپ والی افسران کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی سپیڈ باقیوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویش والی بات یہ ہے کہ ایسی خواتین افسران اہم سیٹوں پر آنے کیلئے ناصرف خود پارٹی گروپ جوائن کرتی ہیں بلکہ دیگر خواتین افسران کو گروپ جوائن کروانے کیلئے بھی آفرز کرتی ہیں، بڑے افسران کی پارٹی میں "پارٹی آؤٹ فٹ” زیب تن کیے مرکز نگاہ ہوتی ہیں اور جام بنانے اور پلانے کا ہنر آزماتی ہیں اور اہم افسران کی گرل فرینڈ بن جاتی ہیں۔ تگڑی سیاسی شخصیت اور بڑے افسر کی گرل فرینڈ بنی افسران اپنے محکمے کی چودھرانی بن جاتی ہے اور جونئیرز کو ذاتی ملازم کی طرح اور سنئیرز کو فار گرانٹڈ لیتی ہیں، اسی طرح بڑے افسر تک رشوت اور گھپلوں کی رقم کا حصہ پہنچانے والی خواتین افسران بھی دھرلے سے ایڈیشنل چارج بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔

    فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے اکثریت خود کو ماورائی مخلوق، جبکہ ماتحت عملے اور معزز شہریوں سے بدتمیزی اور کرپشن کی کمائی کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے جو میرٹ پر کام کرتی ہیں اور کسی بھی پارٹی یا کنسپٹ کلئیر کرپٹ گروپ سے تعلق نہیں رکھتیں انہیں کھڈے لائن ٹائپ پوسٹنگ ہی دی جاتی ہے۔جب سنئیر افسران کو ”فیس سیونگ“ کیلئے کوئی ایماندار افسر چاہئے ہو تو ایسی خواتین کی اچھی پوسٹنگ کی صورت لاٹری لگ جاتی ہے۔
    ایک خاتون آفیسر نے اپنے غم کا اظہار اس شعر کے ساتھ کیا کہ
    اب تو گھرا کے کہتے ہیں مرجائیں گے
    مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

    دنیا جہاں سے الگ ہوکر دن رات محنت کرکے مقابلے کا امتحان پاس کیا، سی ایس ایس کر کے بھی کبھی اچھی پوسٹنگ اس نہیں مل سکی کہ نہ تو وہ افسران کی ساقی و نائکہ بن سکتی ہے اور نہ ہی منشی بن کر رشوت بازاری اور سرکاری فنڈز میں گھپلے کرسکتی ہے۔ یہ ساری باتیں وہی ہیں جو بیوروکریسی کے افسران کی زبان زدعام ہیں جبکہ جو باتیں جن القابات اور طریقوں سے خواتین افسران دوسری خواتین کے بارے بتاتی ہیں وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔

    بیوروکریٹک یا آفیسر بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین کی اکثریت کو اپنے مضبوط بیک گراؤنڈ کی وجہ سے کسی بھی کرپٹ گروپ کا حصہ بنے بغیر ہی پوسٹنگ مل جاتی ہے۔ سرکاری بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین افسران میں زیادہ تر تمیزدار اور رکھ رکھاؤ والی ہوتی ہیں جبکہ چند اسی بیک گراؤنڈ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے”غندہ ازم“ کو اپنا استحقاق سمجھتی ہیں۔ مرد افسران کی بدتمیزی کا جہاں اختتام ہوتا ہے ان تگڑے بیک گراؤنڈ والی خواتین کی جہالت اور بدتمیزی کا نقطہ آغاز، ایسی باس خواتین کے رویے سے مرد و زن کوئی بھی محفوظ نہیں، چند ماہ قبل ایسی ہی بدتمیز باس کی وجہ سے ایک آفیسر ہارٹ اٹیک کرواکر ”پی آئی سی“ پہنچ گئے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین افسران کیلئے مستقل بنیادوں پر کپیسٹی بلڈنگ، پبلک ریلیشنز اور نفسیاتی امور کی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ خواتین افسران کو چاہئے کہ اس مشرقی معاشرے میں خواتین کو جس قدر احترام دیاجاتا ہے اس کا تھوڑا سا مان بھی رکھ لیں نا کہ ہر برائی کا دفاع ”خاتون کارڈ“ کی مظلومیت سے کریں۔

  • اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    ماضی میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں لیکن اب اثر زائل ہو چکا ہے، اس اثر کے خاتمے کے اسباب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے ساتھ کچھ سیاسی طاقتوں کے نا توازن تعلقات تھے۔ افغانستان کی جغرافیائی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس کی موجودہ سرحدیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، میں اس بات سے قرینہ قیاس کرتا ہوں کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات بہتر کرنا بھی غلطی ہو گی۔

    دنیا گواہ ہے کہ جب جب افغانستان کے ساتھ جس نے وفا کی وہ مارا گیا۔دی وال سٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ سون اینجل راسموسن نےسال 2024 میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان Twenty Years: Hope, War and the Betryal of an Afghan Generation تھا۔ یہ کتاب خصوصی طور پر افغانیوں کی بے وفائی اور عالمی برادی کے کردار پر لکھی گئی۔ اس کتاب میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سیاسی تنازعات اور الزامات پر بھی بحث کی گئی ہے،کتاب میں جہاں افغان خطے میں بسنے والے لوگوں کی بے وفائی پر تبصرہ ہے وہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مخصوص واقعات وجہ موضوع ہیں نہ کہ پوری افغان نسل یا پٹھان قوم کو الزامات کا نشانہ بنانا مقصود ہے۔ آن دی ادر سائیڈ، یہ بات سچ ہے کہ افغانی حکمرانوں نے کبھی اپنے لوگوں سے بھی وفا نہیں کی۔قطع نظر کہ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی وجہ سے بھی معاملات میں جھول تھے ۔

    افغانستان کی موجودہ شکل کا قیام 1747 میں احمد شاہ درانی نے کیا تھا جس کا رقبہ 6 لاکھ 52 ہزار 864کلومیٹر ہے۔ویسے تو افغانستان کی تاریخ آریانہ سے شروع ہوئی تھی جو آج کے افغانستان ، خراسان پر مشتمل تھی اسی وجہ سے افغانستان کی سرحدیں مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہیں۔آج افغانستان کی موجودہ سرحدیں 6 ممالک سے ملتی ہیں واضح رہے کہ افغانستان کسی بھی ملک میں طالبان کو نہیں بھیج سکتا اور نہ ہی کوئی ملک افغانستان کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان نے افغانی مہاجرین کا 40 سال بوجھ برداشت کیا جس کا ثمر یہ ملا کہ آج ہم دہشت گردی کے چنگل سے نہیں نکل پا رہے،پاکستان پچھلے چند سالوں میں دہشت گردی کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے،آج اکتوبر 2025 تک اسی ہزار سے زائد لوگوں کی قربانیاں دے چکا ہے لیکن آج بھی افغان طالبان کی نظر میں پاکستان بُرا ہے ۔ پاکستان اپنے بڑے بھائی کو ہمیشہ گلے لگا کر دشمن کی سازشوں سے بچاتا رہا ۔

    پاکستان کے ساتھ جو افغان سرحد ملتی ہے اس کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جس کی لمبائی 2670 کلومیٹر ہے ،دوسرے نمبر پر تاجکستان کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1206 کلومیٹر ہے جبکہ ایران 936،ترکمانستان 744اور چین کی سرحد 76 کلومیٹر ہے ۔ چھ ممالک میں سے افغانستان کا بس کسی ملک میں نہیں چلتا مگر پاکستا ن کی سرحد بھی پار کرتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں، تمام احسانات کے باوجود جو پاکستان نے آج تک نہیں جتلائے افغانستان سابقہ حریف انڈیا کو موجودہ دوست بنا چکا ہے ،لگتا یوں ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلق قائم کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔پچھلے ہفتہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ہفتہ انڈیا کے دورہ پر تھے جس کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ افغانستان کی اپنی تاریخ جہاں بہت پرانی ہے وہاں افغانی طالبان آج بھی ازلوں سے چلتی دشمنی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہتے اور بار بار ہار جاتے ہیں۔ گوریلا وار کے ماہر پاکستان کو گرانے کو سوچتے ہوئے خود گر جاتے ہیں ، شاید کچھ لوگ سوچیں کے افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کو شکست دی ، واضح رہے کہ امریکہ کو شکست دلانے میں صرف افغانستان کا ہی کردار نہیں تھا۔افغانستان کے چونتیس صوبے ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں جہاد کے نام پر مجاہدین کی ریل بیل نہیں تھی، آج جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو چار برس گزر چکے ہیں کسی ملک نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ کنارہ کشی کے باوجود پاکستان ہمیشہ بازو بنا ، بارِ دیگراں تعلقات خراب ہوئے لیکن معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ، آج حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں آپسی لرائیاں جاری ہیں جس کا فائدہ دشمن اٹھانے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے۔یہ آج کی بات نہیں 1994 سے بھارت افغانستا ن کو ایک پراکسی کے طور پر دیکھ رہا رتھا جس کے ذریعے اپنی پراکسیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اگر یہی صورتحال افغان طالبان کی رہی تو نہ صر ف افغان خطہ بلکہ ملحقہ خطوں کی بقاء کا مسئلہ بنے گا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دوست وفا میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    آج افغانستان میں بہت سے لسانی گروہ اپنی قوم کی شناخت کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن افغان طالبان کی غلط پالیسیاں نہ صرف قوم کی شناخت بلکہ خطے کی شناخت کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔1979 سے افغانستا ن میں مردم شماری نہیں کی گئی، 2008 میں مردم شماری کی کوشش بھی ناکام ہو گئی، 2013 میں اعداوشمار تو جمع کیے گے لیکن کامیابی نہ مل سکی کیونکہ طالبان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
    آج افغانستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ سے زائد ہے جن میں 42 فیصد سے زائد پشتون اور دوسرا بڑا گروہ تاجک ہے ، نقطہ یہ ہے کہ اتنے بڑے اسلحہ ڈپو اور وسائل کے ساتھ طالبان اپنی قوم کی بہتری کا سوچ سکتے ہیں مگر وہ غیر قانونی جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں ۔ میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ اگر افغانستان کی خواتین کو حقوق ملیں، بندوقیں بیچ کر اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتا بیں تھما دی جائیں تو نہ صرف ایک بلکہ دو خطوں کی عوام کئی یورپی ممالک سے مضبوط اور لٹریسی ریٹ کا عالمی سطح پر تذکرہ کیا جائے گا ۔ لیکن میں پھر کہوں گا یہ سب تب ممکن ہو گا جب اپنوں کو مارنے سے نکل کر گلے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔انیس اکتوبر کو پاک افغان جنگ بندی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ایک نئی امید کا پہلو نکلا ،لہذا اُمید ہے کہ دشمن کے آنچل میں پہنچنے کے بعد یہ اُمیدیں دم نہیں توڑیں گی بلکہ طالبان آبیاری کے لیے نئی اور بہتر اسٹر ٹیجی کا سوچیں گے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک جانب بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسلسل دھچکے دیے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کے ساتھ روابط میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں یہ ’’ری بیلنسنگ‘‘ وقتی حکمت عملی ہے یا طویل المدتی پالیسی، اس پر ابھی واضح نہیں کہا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے بھارت کو تجارتی محاذ پر سخت نشانہ بنایا ہے۔ امریکی زرعی اور ڈیری لابیوں کے دباؤ پر وہ بھارت کی سرخ لکیریں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس میں کسی اصولی موقف کے بجائے امریکی طاقت کا مظاہرہ شامل ہے۔ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سے یک طرفہ رعایتیں حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ اسی نوعیت کی کامیابی بھارت کے خلاف دکھانا چاہتے ہیں، مگر نئی دہلی اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔روس سے رعایتی نرخوں پر تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جسے صرف تجارتی نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ نے ایران کی بندرگاہ چابہار پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں، جہاں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کے گوادر پورٹ کے حق میں جا رہا ہے۔ یہی گوادر ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا اہم حصہ ہے جو چین کو خلیجی خطے تک رسائی دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بھارت سے اس وقت ناخوش ہوئے جب اس نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد جنگ بندی کا سہرا انہیں دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے نہ صرف ٹرمپ کو اس جنگ بندی کا کریڈٹ دیا بلکہ باضابطہ طور پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ اس سے ٹرمپ کا جھکاؤ مزید اسلام آباد کی جانب بڑھ گیا۔ٹرمپ بارہا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت مسترد کرتا آیا ہے۔ تاہم یہ بیانات پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔امریکی صدر کی نئی پالیسی میں سعودی عرب بھی شامل ہے، جہاں پاکستان کو سکیورٹی پارٹنر بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے امریکی رضامندی لازمی شامل ہے کیونکہ سعودی سلامتی ہمیشہ امریکی ہتھیاروں اور اڈوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی فنڈنگ سے مزید بڑھ سکتی ہیں۔

    پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں نجی دعوت دینا اور امریکی جنرل کا پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سراہنا اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو ’’ایٹمی تحفظ‘‘ کی پیشکش پر بھی واشنگٹن نے خاموشی اختیار کی ہے۔معاشی محاذ پر پاکستان نے بلوچستان میں رئیراَرتھ (Rare Earths) دھاتوں کی کان کنی کے حقوق امریکا کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ منصوبہ ہے، لیکن امریکی کمپنی کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ اور وائٹ ہاؤس کے قریبی کاروباری حلقوں کے درمیان کرپٹو کرنسی کے معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ نے سیاسی، عسکری اور معاشی کارڈز کو دوبارہ ترتیب دے کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی سفارتی بساط بچھائی ہے، جس سے بھارت کے مفادات کو زبردست چیلنج لاحق ہے جبکہ پاکستان کو ایک نئی بین الاقوامی اہمیت مل رہی ہے۔

  • صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق آج کے جدید دور میں نہایت اہم موضوع بن چکے ہیں۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل خدمات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے تعلیم حاصل کرنا ہو، کاروبار کرنا ہو یا روزمرہ کے امور انجام دینا ہوں، موبائل سروسز کے بغیر زندگی تقریباً نامکمل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے حقوق کی پامالی اور غیر ضروری چارجز کے ذریعے لوٹ مار کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

    صارف کے حقوق صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہیں۔ ایک صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شفاف قیمتوں پر معیاری خدمات حاصل کرے، اسے مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا اضافی چارجز سے بچایا جائے۔ پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر عملی طور پر شکایات کا فوری حل اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ یہی کمزوری موبائل کمپنیوں کے لیے صارف سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

    موبائل سروسز میں لوٹ مار کی کئی شکلیں عام ہیں۔ اکثر کمپنیاں صارف کو پیکج کے فوائد بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، جبکہ اصل میں وہ خدمات محدود یا اضافی چارجز کے تحت دستیاب ہوتی ہیں۔ صارفین کی معلومات کا غلط استعمال بھی عام ہوتا ہے، جیسے غیر ضروری اشتہارات بھیجنا یا ڈیٹا کی نجی معلومات فروخت کرنا۔ شکایات کے حل میں تاخیر اور غیر سنجیدگی صارف کے حق کی پامالی میں شامل ہے۔

    گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں متعدد صارفین نے موبائل کمپنیوں کے خلاف شکایات درج کروائی ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی صارف نے ڈیٹا پیکج خریدا، لیکن اس کا ایک حصہ غیر متوقع اضافی چارجز کے ساتھ وصول کیا گیا۔ ایسے معاملات میں صارف کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ کمپنی پر اعتماد بھی ختم ہوا۔ عالمی سطح پر بھی مثالیں موجود ہیں جہاں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور کمپنیاں مجبور ہیں کہ وہ شفاف اور ذمہ دار رہیں۔

    پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے Consumer Protection Act اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) موجود ہیں، جو صارفین کی شکایات سننے اور حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم، عملی طور پر شکایات کا فوری اور مؤثر حل اکثر ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور موبائل کمپنیوں کو صارف کے حقوق پامال کرنے سے روکیں۔

    صارفین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگاہ اور بااختیار ہوں تاکہ informed choices کر سکیں۔ موبائل کمپنیوں کی شفافیت یقینی بنانا اور غیر ضروری یا چھپے ہوئے چارجز ختم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو شکایات کے فوری حل کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے اور صارفین کی کمیونٹی، فورمز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور کمپنیوں کی نگرانی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان اور سستا بنایا جائے تاکہ ہر صارف اپنے حقوق کے لیے آسانی سے اقدام کر سکے۔

    صارف کے حقوق کا تحفظ صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ جب صارف اپنے حقوق سے باخبر ہوگا تو موبائل کمپنیاں مجبور ہوں گی کہ وہ شفاف اور ذمہ دار سروس فراہم کریں۔ لوٹ مار اور دھوکہ دہی کے خلاف جدوجہد صرف صارف کی تعلیم اور آگاہی سے ممکن ہے۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے اور شفاف خدمات کا مطالبہ کرے۔ موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار روکنا صرف ایک ادارے یا قانون کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ پوری معاشرتی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ادارے اور صارف سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔

  • غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا غزہ امن منصوبہ خطے میں ایک نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ 21 نکات پر مشتمل ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی بے دخلی، عبوری حکومت کے قیام اور اسرائیلی انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

    منصوبے کے مطابق معاہدے کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور مرنے والوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں پر فوری دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اگر بڑے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صرف وقتی خاموشی ہوگی جس کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔منصوبہ کہتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر کے اقتدار سے الگ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو کون پر کرے گا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت فوری طور پر عوامی سطح پر متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ خلا مزید انتشار اور غیر ریاستی عناصر کے ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔منصوبے میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی۔ اس حکومت کو تعلیمی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت مقامی نمائندگی کے بغیر قائم ہوئی تو اسے عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عبوری مرحلہ طویل المدتی ہو جائے اور فلسطینی خودمختاری ایک خواب بن کر رہ جائے۔

    اسرائیل نے غزہ سے انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ ہے کہ متبادل سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں۔ یہ شرط منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اگر متبادل فورسز کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو اسرائیل دوبارہ اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امن قبول کرنے والے حماس ارکان کو معافی یا محفوظ راستہ دیا جائے۔ بظاہر یہ مفاہمت کی کوشش ہے مگر متاثرین اور فلسطینی عوام کے لیے یہ اقدام ناانصافی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور مزید اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔منصوبے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو اسرائیل کو عبوری مرحلے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اختیارات دیتا ہے۔ اگر فلسطینی انتظامیہ مطلوبہ شرائط پوری نہ کر سکی تو اسرائیل کو ریاست کے قیام کے وعدے سے دستبردار ہونے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک مشروط وعدہ بن جاتا ہے۔

    ایک اور پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے “غزہ ریویرا” منصوبہ، جس کے تحت غزہ کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک ساحلی اور سیاحتی مرکز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر آبادی کی عبوری یا مستقل نقل مکانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ناقدین اس کو نسلی صفایا اور آبادیاتی انجینیئرنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بظاہر امن کا خاکہ پیش کرتا ہے مگر اس کے اندر ایسے کئی خطرناک پہلو موجود ہیں جو فلسطینی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عوامی نمائندگی، شفاف وقت بندی اور واضح قانونی ضمانتوں کے بغیر نافذ ہوا تو یہ اسرائیلی مفاد کا اوزار بن کر رہ جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کو کسی بھی بین الاقوامی منصوبے میں بنیادی شرط کے طور پر منوائیں۔

  • بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    بحری سرحدوں کی محافظ،پاکستان نیوی

    جب زمین اپنے دامن میں شہروں، گاؤں اور کھیتوں کو سمیٹتی ہے تو سمندر اپنی وسعت میں ایک ایسی سرحد رکھتا ہے جو بظاہر بے کنار ہے مگر حقیقت میں ہماری بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔ انہی نیلگوں لہروں کے بیچ پاکستان نیوی، ایک خاموش مگر جاگتی آنکھ کی مانند، اپنے وطن کی بحری سرحدوں پر پہرہ دیتی ہے۔پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک ایسی علامت ہے جو قومی غیرت، عزم اور وقار کی آئینہ دار ہے۔ گہرے سمندر کے پرسکون پانیوں میں چھپی ہوئی ان کی موجودگی دشمن کے لیے ایک غیر مرئی دیوار ہے، اور جب کبھی کوئی خطرہ اُبھرنے کی جسارت کرے تو یہ بحری مجاہدین فولاد کی طرح آہنی عزم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

    یہ محافظ صرف ہتھیاروں سے لیس نہیں بلکہ ایک نظریے سے مزین ہیں،نظریۂ پاکستان، جس کی حفاظت کے لیے وہ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔ ان کے جہاز سمندر کی وسعت کو کاٹتے ہوئے اُس اعتماد کی گواہی دیتے ہیں جو ایک خودمختار قوم کو زیب دیتا ہے۔ ان کہ آبدوزیں، سطحِ سمندر کے سکوت کے نیچے چھپی ہوئی بجلی کی مانند، دشمن کے ارادوں کو خاکستر کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔پاکستان نیوی نے وقتاً فوقتاً اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف عسکری محاذ پر منوایا ہے بلکہ سمندری تجارت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور بین الاقوامی مشنز میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کے کردار نے یہ ثابت کیا ہے کہ سمندروں کا یہ نگہبان صرف پاکستان کا محافظ نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک معتبر ستون بھی ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ زمین کے سپاہی آنکھوں کے سامنے پہرہ دیتے ہیں، لیکن سمندر کے یہ نگہبان اپنی خاموشیوں میں ایک ایسی داستان رقم کرتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ مگر ان کی قربانی، ان کی جاں فشانی اور ان کی مستعدی وہ امانت ہے جس پر پورا وطن فخر کرتا ہے۔پاکستان نیوی کی موجودگی ہر پاکستانی کے دل کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ہماری بحری سرحدیں اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی ہمارے خواب اور ہماری امیدیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے سائے میں ہماری آنے والی نسلیں سمندر کی وسعتوں کو اعتماد کے ساتھ دیکھتی ہیں، اور جانتی ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی ڈھال ہے جو ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔

  • سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    قدرتی آفات رب کی طرف سے انسانوں‌پر آزمائش ہوتی ہیں لیکن کبھی یہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ بھی ،خیبر پختونخوا میں سیلاب قدرتی لیکن پنجاب کے اضلاع میں سیلاب بھارت کا آبی حملہ تھا،دریا کنارے آبادیاں ڈوب گئیں، لاہور کے نواحی علاقے بھی محفوظ نہ رہے تو وہیں جنوبی پنجاب میں تباہی کا منظرشدید تھا،لاکھوں افراد بے گھر،مکان ڈوب گئے،املاک بہہ گئیں،شہریوں نے جانیں بچائیں مگر اور کچھ نہ بچا سکے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات طہٰ منیب کی قیادت میں الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا ایک وفد لاہور سے جلال پور پیر والا کے لیے روانہ ہوا ،تو راقم بھی اسکا حصہ تھا،صحافی، جو لفظوں کو ترتیب دے کر کہانیاں سناتے ہیں، وہاں جا کر خود ایک کہانی بن گئے،خیمہ بستیوں میں بوڑھے والدین کی جھریوں میں چھپی کہانیاں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی، اور مرکزی مسلم لیگ کے پلے گراؤنڈ میں کھیلتے بچے،ایسا منظر کہ کئی صحافی کچھ دیر تک ساکت کھڑے رہے،میڈیا وفد نے مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیاں دیکھیں، مددگار اسکولوں کا دورہ کیا، فیلڈ ہسپتالوں کا معائنہ کیا، کشتی پر سفر کر کے ان علاقوں کو دیکھا جو ابھی تک ڈوبے ہوئے، چھتوں پر سولر تو نظر آ رہے مگر چھتیں غائب،

    جلال پور پیر والاجہاں کبھی ہریالی کی چادر تنی رہتی تھی، زندگی اپنی پوری توانائی سے رواں دواں تھی، آج وہاں تاحد نگاہ پانی،بستیوں کی بستیاں زیر آب آ گئیں،بھارتی آبی دہشت گردی کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے جلال پور پیر والا کی بستیوں کو آہوں، سسکیوں بدل دیا ،وہ پانی جو کھیتوں کو سیراب کرتا تھا، آج گھروں، اسکولوں،سڑکوں اور گلیوں کو بہا لے گیا ہے۔جلال پور پیر والا کے گلی کوچے اب مٹی اور پانی کی آمیزش میں گم ہو چکے ، کچے مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہو چکیں، صحنوں کے چراغ بجھ چکے، اور دریچوں سے اب خوشبو نہیں، نمی کی بو آتی ہے،کسی بزرگ کے کمرے میں رکھی وہ پرانی لکڑی کی پیٹی جو کبھی جہیز کی نشانی تھی، اب پانی میں تیرتی دکھائی دیتی ہے،کئی گھروں کی چھتیں غائب ہیں، ایک ایک منزل اب بھی ڈوبی ہوئی، تاحد نگاہ پانی….یہ کراچی کا سمندر نہیں بلکہ جلال پور پیر والا کا منظر ہے جہاں کئی روز گزرنے کے باوجود پانی موجود اور متاثرین گھروں کو جانے کو بے تاب ہیں،جلال پور و گردونواح میں سیلاب نے نسلوں کی محنت، جوانی کی کمائی، بچوں کے کھلونے، کتابیں، عورتوں کی چادریں، اور بوڑھوں کے عصا تک بہا دی،وہ علاقے جو سالہا سال سے سایہ دار درختوں سے مزین تھے، آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں،جانور، جنہیں اہلِ دیہات خاندان کا فرد سمجھتے تھے، پانی میں ڈوب چکے،گھروں کا سامان پانی میں تنکے کی طرح بہہ گیا،مکین دیکھتے رہے لیکن بے بسی کا منظر،اپنی جان اور تن پر پہنے کپڑوں کے علاوہ کچھ بچا نہ سکے

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا کے عوام نہ صرف پانی میں ڈوبے بلکہ حکومتی بے حسی کی گہرائی میں بھی غوطہ زن ہوئے،ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگنے والے سیلابی پانی میں ڈوبتے عوام کو بچانے نہ آئے، کوئی وزیر، کوئی مشیر، کوئی افسر نہ آیا جہاں اب بھی تاحد نگاہ پانی ہے،حکومت کی طرف سے نہ امداد،نہ خوراک،نہ صاف پانی، نہ ادویات اور نہ ہی گھروں کی بحالی کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آیا۔تاہم، اس مشکل وقت میں ماضی کی طرح اس بار بھی اگر کوئی مدد کو آیا تو وہ رفاہی تنطٰمیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں جن کا منشور خدمت کی سیاست ہے، اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں آئیں اور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت نظر آئیں،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جلال پور میں چار خیمہ بستیاں،ہزاروں افراد مقیم،تین وقت کا کھانا،مفت علاج معالجہ،خیمہ بستیوں میں سولر پینل،پنکھے،چارپائیاں غرضیکہ ہر سہولت متاثرین کو میسر ہے جو وہ چاہتے تھے،

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا میں سیلاب تو چلا جائے گا، پانی خشک ہو جائے گا، مگر ان آنکھوں کے آنسو؟ ان بچوں کی سسکیاں؟ ان ماں باپ کی ٹوٹی امیدیں؟وقت شاید زخموں کو بھر دے، مگر وہ نشان، جو اس سیلاب نے روح پر چھوڑے ہیں، شاید کبھی نہ مٹیں،پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ جو سیلاب متاثرین کے لئے وسیع پیمانے پر ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہے نے متاثرین کی گھروں کو واپسی تک خدمت کا عزم کر رکھا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی یہ کاوش کہ میڈیا خود آنکھوں سے دیکھے، کانوں سے سنے، اور دل سے محسوس کرے،ایک غیر روایتی، مگر انتہائی مؤثر عمل تھا،وفد میں شامل صحافیوں نے اپنے تاثرات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسی بے بسی، ایسا درد، اور ایسی خاموش چیخیں پہلے کبھی نہیں سنیں ،ضرورت اس امر کی ہے ایوان اقتدار ہوش میں آئے،بھارتی آبی جارحیت کے خلاف منظم،متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے اور آئندہ بھارتی واٹر بم کے نتیجے میں ہونے والی کسی ایسی تباہی کو روکنے کے لئے سدباب کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ تو کام کرتی رہے گی لیکن کاش…..پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتیں بھی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں.

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson