Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.

  • نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    کتنی عجیب بات ہے ہر خوش فرد کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے. وہ بس خوش ہوتا ہے. لیکن ہر ناخوش مایوس فرد کی کہانی منفرد ہوتی ہے. اس کی وجوہات الگ ہوتی ہیں. امریکہ کے قدیم باشندے اپنے عقل مندوں دانشوروں کو شامان کہتے تھے. ان میں سے کسی شامان نے کچھ وجوہات اکھٹی کی تھیں . آپ اگر مایوس اور نا خوش ہیں تو اپنی وجہ اس میں تلاش کر لیں.

    شامان سے پوچھا گیا زہر کیا ہے.؟ شامان نے کہا ہر وہ چیز جو ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زیادہ ہو چاہے پھر وہ طاقت ہو مال ہو جائیداد ہو خود نمائی کی چاہت و غرور ہو.

    پوچھا خوف کیا ہے.؟ کہا خطرہ یا عدم تحفظ کو قبول نہ کرنا. کیونکہ جب ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تب یہ خوف نہیں ایڈونچر بن جاتا ہے.

    کہا حسد کیا ہے.؟ کہا دوسروں کی اچھائی تسلیم نہ کرنا. کیونکہ جب ہم دوسروں کی اچھائی مان لیتے ہیں تب وہ حسد نہیں انسپائریشن بن جاتی ہے.

    کہا غصہ کیا ہے.؟ کہا یہ تسلیم نہ کرنا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تب یہی غصہ صبر و برداشت بن جاتا ہے.

    پوچھا نفرت کیا ہے.؟ کہا یہ قبول نہ کرنا کہ لوگ منفرد ہیں. وہ جیسے ہیں ایسے ہی ہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تو نفرت محبت بن جاتی ہے.

  • ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

    جی ہاں…

    وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

    اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

    یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

    ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

    ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

    اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔

  • بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے بڑے مشورے اور منصوبے کسی فرد کو نہیں بدل سکتے. بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور کچھ عادتیں ہوتی ہیں جو ہماری سوچ بن جائے تو ہماری معیشت بدل جاتی ہے. مثلاً آپ اپنی خریداری کی مثال لیں. ہر شخص کی بنیادی ضروریات اسے بازار بھی لے کر جائیں گی اور خرچ بھی کرائیں گی.

    آپ نے جوتے لینے ہیں. ایک جوڑا دو ہزار کا ہوگا تو ایک پانچ ہزار کا وہیں ہزار گیارہ سو کا بھی ہوگا. مختلف رنگ ہوں گے فیشن ہوں گے. آپ نے یہاں معیار ڈھونڈنا ہے. ایک جوتا سستا ہے خوبصورت ہے لیکن آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ معیار ایسا ہے جو ایک بارش یا کچی زمین پر چلنا زیادہ برداشت نہیں کر سکتا. دوسرا جوڑا اتنا خوبصورت اور شوخ نہیں اور مہنگا بھی زیادہ ہے. آپ چیک کرتے ہیں تو اسکا معیار بہت اعلیٰ ہے. یہ سالوں چلنے والا جوتا ہے.

    اب کچھ لوگ وقتی خوشی اور دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے وہ سستا خوبصورت جوڑا اٹھا لیں گے تو کچھ زیادہ طویل استعمال کیلئے وہ مہنگا جوتا اٹھا لیں گے. سستے جوتے والا کچھ مہینے بعد موچی کے پاس کھڑا ہوگا تو اگلے مہینے دوبارہ جوتا خریدنے کیلئے. معیار پر مہنگا لینے والا جبکہ کئی سال کیلئے بے فکر ہوگیا.

    ہماری یہ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریاں ہوتی ہیں جو ہم معیار دیکھ کر مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ آنے والے وقت میں ہماری بچت بن جاتی ہے. ہماری یہی بچت ہمیں نئی سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے اور ہماری معیار کی تلاش اور اس معیار کیلئے زیادہ ادائیگی کا حوصلہ جمع ہوکر ہمیں سرمایہ کار بناتا ہے.

    جو لوگ اپنی چھوٹی خریداری میں سرمایہ کاری نہیں سیکھ پاتے وہی لوگ بڑے بڑے منصوبے بناتے دل کی وقتی خوشی کا ساماں کرتے رہتے ہیں.

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    چار انجن کا دیو ہیکل جہاز جب پر پھیلائے رن وے پر کھڑا ہو تو بہت خوبصورت لگتا ہے. رن وے پر جب دوڑنے لگتا ہے تو اس کے حسن میں رعب و دبدبے کی گرج بھی شامل ہو جاتی ہے اور جب یہ زمین چھوڑ کر فضا کیلئے پرواز بھرتا ہے تو دیکھنے والوں کو وہ طمانیت ملتی ہے جو ان کو ایک تسلی دیتی ہے کہ یہ دیوہیکل آہنی پنجرہ اگر بلندی پرواز کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں.؟

    اسی جہاز کے کاک پیٹ میں بیٹھا پائلٹ لیکن یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہوتا. اُس کی نظریں اپنی مشین کی گھڑیوں پر ہوتی ہے کہاں اسے وہ رفتار ملے گی جب وہ v1 بول کر پرواز کیلئے انجن روٹیٹ کرے گا. جہاز جیسے ہی زمین چھوڑتا ہے پائلٹ کنٹرول ٹاور کو بتاتا ہے گئیر اپ. یعنی میں نے اپنے پہئے اٹھا لئے ہیں اب آگے ایک منزل ہے.

    لیکن یہ جہاز جب زمین پر اترتا ہے تب کنٹرول ٹاور اسے بتارہا ہوتا ہے تم کتنا نیچے آگئے ہو. پانچ سو فٹ چار سو فٹ یہاں تک کے سو فٹ کے بعد دس دس فٹ کے فرق سے بتا رہا ہوتا اور پھر ٹچ ڈاون ہو جاتا ہے. آپ کی زندگی کی فلائٹ بھی ایسی ہوتی ہے. عروج دیکھنے والوں کو بڑا مسحور کرتا ہے. آپ کو ضرورت ہی نہیں ہوتی باہر کون کیا کہہ رہا ہے کیا دیکھ رہا ہے.

    لیکن زندگی اونچ نیچ کا نام ہے. کسی ایک منزل سے عروج تو دوسری پر اترنا بھی ہوتا ہے. تب باہر کی آوازیں سننا لازم ٹھرتا ہے. ہم کس مقام پر کتنا نیچے آگئے ہیں یہ دوسرے ہمیں بتا سکتے ہیں. پھر جو لوگ بلندی و مقام کے تکبر میں آنکھیں اور کان بند کر دیتے ہیں وہ دھڑام سے نیچے گرتے ہیں. یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہی نہیں ہوپاتے.

    زمین زادوں کو زمین سے رابطہ رکھنا ہی ہوتا ہے. جن کے یہ رابطے ٹوٹ جاتے ہیں وہ یا تو شکستہ ڈھانچہ اہل زمین کا تماشا بن جاتے ہیں یا فضائے بسیط میں گم ہو جاتے ہیں.

  • علم اور عمل میں فرق —  ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق — ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق ہوتا ہے. جیسے آپ کا سامنا کسی چیتے سے ہوجائے تو ایک ہی عمل آپ کا دماغ آپ کو بتائے گا. دوڑ لگا کر جان بچاو. لیکن علم بتاتا ہے یہ ریس آپ کبھی جیت نہیں سکتے. کیونکہ انسان زمین پر پورا پاوں رکھتا ہے اور چلنے کیلئے پورا پاوں اٹھاتا ہے. جبکہ چیتا پیر کی انگلیاں کے بل دوڑتا ہے. آپ چیتے سے تیز دوڑ نہیں سکتے تو بہتر ہے بلکل خاموش کھڑے ہو جائیں. چیتا آپ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ممکن ہےچھوڑ دے.

    دوسری طرف آپ کھانا پکانے کی سیکڑوں کتابیں پڑھ کر دنیا کے مشہور شیف نہیں بن سکتے. آپ انجینئرنگ کی کتاب پڑھ کر اینٹوں سے سیدھی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے. آپ بزنس ایڈمنسٹریشن کی کتابیں پڑھ کر کوئی کاروبار کھڑا نہیں کر سکتے. آپ کو عملی میدان میں عمل کو سیکھنا ہوتا ہے. شیف بننے کیلئے آپ کو باورچی خانہ میں وقت دینا ہوگا تو کاروبار کرنے کیلئے مارکیٹ میں نکلنا ہوگا.

    علم بنیادی طور پر اس مشین یعنی ہمارے جسم کی پروگرامنگ ہے جس کی ملکیت ہمیں اس دنیا میں دی گئی ہے. یہ پروگرام ہمارے شعور کو وقت اور حالات کے حساب سے اپ گریڈ رکھتا ہے. جتنا آپ کا شعور اپ گریڈ ہوگا اتنا ہی بہتر اس مشین کو استعمال کر سکیں گے. ایک کامیاب زندگی کیلئے آپ کو دونوں محاذوں پر پیش قدمی کرنی ہوتی ہے. اپنے عمل کے میدان کا جتنا زیادہ علم آپ کے پاس ہوگا اتنا ہی آپ کامیاب ہوں گے. کیونکہ آپ کو چیتے کی رفتار مل جائے گی.

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.