باغی ٹی وی : کندھ کوٹ (نامہ نگار) واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
تفصیلات کے مطابق کندھ کوٹ میں واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے واپڈا آفیس کے آگے وفاقی حکومت کے خلاف ہاتھوں میں بینر اٹھا کر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین نے واپڈا کی نجکاری کے خلاف شدید شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر واپڈا ہائیڈرو یونین کے رہنما اصغر علی بجارانی۔ بابو یونس ملک۔ فقیر سکندر علی باجکانی۔ نور اللہ سومرو۔ غلام محمد باجکانی۔ اور دیگر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت جو واپڈا کی نجکاری پر اتر آئے ہے حکومت کو پورے پاکستان کے ملازمین نجکاری نہیں ہونے دے گی۔ پیلے بھی ہم نے جدوجھد کی ہے ابھی کر رہے ہیں ہمارے مطالبے واپڈا ملازمین کا کوٹہ بحال کیا جائے اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بیٹوں کو نوکریاں دی جائیں۔ سٹاف شاٹیج کو ختم کیا جائے، لائن سٹاف کے ساتھ حادثات ہوتے ہیں، گاڑیاں دی جائے زیادہ بل کی وجہ عوام اور ملازمین میں کشیدگی ہو جاتی ہے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بجلی سستی کی جائے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔

Category: متفرق

کندھ کوٹ : واپڈا کی نجکاری کے خلاف واپڈا ہائیڈرو یونین کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

شیخوپورہ : یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا ،گھی ،چینی غائب ،بازار میں دکانوں پر سستے داموں فروخت کا انکشاف
باغی ٹی وی شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا گھی چینی غائب دکانوں پر سستے داموں فروخت کا انکشاف عوام پنجاب سرکار کی طرف سے سستی خوردونوش اشیاء خریدنے سے محروم شہریوں کا وزیراعلی پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ تفصیلات کیمطابق قادری بازار راوی ریان بنگلہ پلی روڈ پنڈ مریدکے کی سرکاری یوٹیلیٹی سٹوروں پر آٹا گھی چینی اکثر غائب رہتا ہے دیہاتی و بازاری دکانوں میں سرکاری ٹیگ شدہ بیگ اتار کر آٹا گھی چینی سستے داموں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے دیگر اشیاء مارکیٹ سے مہنگے داموں ملتی ہیں عوام سرکار کی طرف سے دی گئی سبسٹدی سے محروم ہو گئی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے آئے دن آٹا چینی گھی کا غائب ہونا اور دیہاتی و بازاری دکانوں میں فروخت ہونا لمحہ فکریہ ہے اور دوسری طرف بازاروں میں سبزیاں دالیں گھی آٹا چینی چکن بیف مٹن خوردونوش کی اشیاء زائد ریٹوں پر فروخت ہو رہیں ہیں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے پرائس کنٹرول کمیٹیاں و تحصیل انتظامیہ منافع خوروں کو لگام ڈالنے میں ناکام ہو گئی ہیں شہر بھر سمیت نارووال چوک شیخوپورہ چوک روڈز کے دونوں اطراف تجاوزات قابضین نے قبضے کر رکھے ہیں ایک کھوکھا و ہوٹل فروٹ فروش ریڑھی بان سے روزانہ انتظامیہ مبینہ طور پر ہزاروں روپے اور ماہانہ لاکھوں وصول کرتے ہیں منی پٹرول پمپوں کی بھرمار ایل پی جی گیس کی ری فلنگ شہر بھر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بغیر نقشہ منظوری کے غیر قانونی گھر پلازوں کی تعمیرات کر لی گئی ہیں پٹوارخانوں میں پرائیویٹ منشیوں کی اجارہ داری مریدکے میں لاقانونیت کے ڈیرے چھائے ہیں شہریوں نے لوکل گورنمنٹ کے افسران تحصیل اور بلدیہ کی موجودہ انتظامیہ کی لاقانونیت پر وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری بلدیات سے فوری مذکورہ بے ضابطگیوں پر کاروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے

ڈیڑھ ارب روپے میں فروخت ہونے والا گلدان
فرانس میں ایک نیلامی کے دوران ڈیٹڑھ ارب روپے میں فروخت ہونے والے گلدن نے سب کو دنگ کر دیا-
باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق فرانس میں ایک عام چینی گلدان نیلامی کے لیے رکھا گیا تھا جس کی قیمت کا تخمینہ 2 ہزار یورو (4 لاکھ 46 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) لگایا گیا تھا مگر وہ حیران کن طور پر77 لاکھ یورو (ایک ارب 71 کروڑ 90 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہوا جسے چینی شہری نے خریدا-
سیلاب:اقوام متحدہ نے پاکستان کیلئے انسانی امداد کی اپیل میں 5 گنا اضافہ کر دیا
یعنی اپنی قیمت سے لگ بھگ 4 ہزار گنا زیادہ قیمت پرفروخت ہوا،جبکہ نیلام گھر کی فیس کے ساتھ یہ قیمت 91 لاکھ یورو (2 ارب پاکستانی روپے سے زائد) ہوجائے گی۔

تیانکیوپنگ طرز کا چینی مٹی کا بنا یہ گلدان ایک خاتون نے نیلامی کے لیے پیش کیا تھا جو اسے آنجہانی والدہ کی وراثت میں ملا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے کبھی گلدان کو دیکھا بھی نہیں تھا اس خاتون نے اسے پیرس کے ایک نیلام گھر میں فروخت کے لیے پیش کیا تھا۔ٹرمپ نےسی این این کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکردیا
خاتون نے نیلام گھر کے ماہرین کو بتایا تھا کہ یہ گلدان بنیادی طور پر اس کی نانی کا تھا اور نیلامی کے دوران اسے خریدنے کے لیے 30 افراد کے درمیان جنگ ہوئی ماہرین کے مطابق یہ گلدان 20 ویں صدی میں بنا تھا اور بہت عام ہے۔

مگر جب اسے نیلام گھر رکھا گیا تو لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا اور چینی شہری اسے تاریخی سمجھ کر آتے رہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ قدیم گلدان نہیں تھا-عمرہ زائرین 3 ماہ تک سعودی عرب میں قیام کرسکیں گے، بزرگ افراد کی سہولت کیلئے…

ڈیرہ غازیخان : سویٹ ہوم میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان ( شہزادخان نامہ نگار)سویٹ ہوم میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
تفصیل کے مطابق سویٹ ہوم گیلانی والا نزد گورنمنٹ پولٹری فارم ڈیرہ غازی خان میں الفلاح فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ضلع ڈیرہ غازی خان، ضلع راجن پور اور بلوچستان کے ملحقہ شدید سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے یتیم بچوں کے لئے گذشتہ روز فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔ میڈیکل کیمپ کے ذریعے سے تقریبا 80 سے زیادہ یتیم بچوں کا علاج کیا گیا ۔ آئی سپیشلسٹ نے بچوں کے آنکھوں کا معائنہ کیا اور ان کی ادویات دیں ،سکن سپیشلسٹ نے بچوں کے جلدی امراض کا معائنہ کیا اور جنرل سرجن نے سرجری کے متعلق بچوں کا میڈیکل چیک اپ کیا۔ تمام امراض کے ادویات فری تقسیم کی گئیں۔



باباگورونانک دیو جی کے 553 ویں جنم دن کے حوالے سے سالانہ تقریبات 06نومبر سے شروع
باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز) باباگورونانک دیو جی کے 553ویں جنم دن کے حوالے سے سالانہ تقریبات 06نومبر سے شروع ہوکر 09نومبر تک جاری رہے گی جس میں دنیا بھر سے ہزاروںسکھ یاتری شرکت کریں گے، اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سکھ یاتریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور فول پروف سیکورٹی فراہم کرناضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں جس کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنے محکمہ کی جانب سے جامع ایکشن پلان ترتیب دے کرتین یوم کے اندر پیش کریں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس وپلاننگ ننکانہ رانا امجدعلی نے ان خیالات کااظہار بابا گرونانک دیوجی کے 553و ےجنم دن کی تقریبات کے سلسلہ میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ سٹی آصف اقبال،ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زاہد ہما شاہ ،ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر مسعودبھٹی،انچارج سیکورٹی برانچ ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر کامران واجد،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122اکرم پنوار ،محکمہ سول ڈیفنس ، اوقاف سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی اس موقع پر تمام متعلقہ اداروں کے افسران کی جانب سے اے ڈی سی فنانس ننکانہ کو بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران کیے جانے والے سیکورٹی ودیگر انتظامات بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ رانا امجد علی نے کہا کہ گوردوارہ جنم استھان کے اندر نیشنل بنک،ٹیلی فون،واپڈا،سول ڈیفس،ٹی ایم اے،محکمہ صحت سمیت تمام ضلعی محکمے اپنا اپنا کاﺅنٹر قائم کریں گے تاکہ سکھ یاتریوں کی تمام مشکلات کا موقع پر ہی ازالہ کیا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تقریبات کے ایام میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مکمل کوریج کے لیے مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے ایام میں صفائی ستھرائی کے لیے سپیشل صفائی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو کہ شہر بھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں گی.


ڈیرہ غازیخان: واپڈا نے ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردئے
ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) حکومتی پالیسی کے تحت ڈیرہ غازیخان سرکل کے سیلاب میں ڈوبے 48%فیصد علاقے میں ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردیے گئے۔201بیجز میں دو ماہ کے بجلی کے بل معاف کردیے گئے۔ اگست ستمبر2022کے ایک یونٹ سے لیکر 300یونٹ تک کے گھریلوبجلی کے بل معاف،جوبل اد اکرچکے انہیں اکتوبر کے بلوں میں کریڈٹ مل جائیگا۔ 300یونٹ سے زائد کے بلوں پر LPSبھی معاف کردیاگیا۔یہ بات ایس ای میپکو ڈی جی خان محمدشکیل حسنین نے اپنے دفتر میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی ان کے ہمراہ ڈپٹی کمرشل منیجر محمدحسین قریشی بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایاکہ حالیہ سیلاب سے سرکل کے علاقے فورٹ منرو،وہوا،اور ٹبی قیصرانی 100%فیصد متاثر ہوئے جبکہ کوئٹہ روڈ،شاہ صدر دین،چوٹی،روجھان،داجل شادن لنڈاور تونسہ رورل 50%فیصد سے زیادہ متاثر ہوئے دیگر علاقے 50%فیصد سے کم متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں، اس طرح سرکل ڈی جی خان کے تمام 201بیجز میں 48%فیصد بیجز متاثرہوئے جن کے ماہ اگست اور ستمبر2022کے 300یونٹ تک کے بل معاف کردئیے گئے ہیں۔جبکہ ستمبر کے بل جو 300یونٹ سے زائد کے بل ہیں ان پر FPAلگاہے اس سے کم یونٹ کے استعمال پر FPAنہیں لگایاگیا۔

محمد پور دیوان : نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال
باغی ٹی وی محمد پور دیوان(محمد جنید احمدانی نامہ نگار) نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال
محمد پور دیوان کے نواحی علاقے نور واہ نزد چک کوڑے والہ کی سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور متعدد دفعہ مقامی نمائندوں کو بھی بتایا گیا کہ یہ سڑک عرصہ دراز سے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث پیدل بھی نہیں چلا جا سکتا اور اس کے علاوہ کسی طبی امداد کے حصول کے لیے ایمبولینس بھی نہیں آ سکتی لیکن کسی بھی سردار کے کان تک جوں نہ رینگی علاقہ مکین منتیں سماجتیں کر کر کے تھک گئے آخر کار انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکھٹا کیا جس میں ایک مخیر حضرات نے کثیر رقم دی اور نام نہ ظاہر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے علاقے کی اس سڑک کا کام شروع کروانے میں ہاتھ بڑاھایا جو کہ کچھ روز تک مکمل ہو جائے گی اور علاقہ مکین مقامی سرادروں سے خفا ہونے کا اظار کر چکے ہیں علاقہ مکینوں نے اے ون ٹی سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس روڈ سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب مقامی سردار یا وڈیرے روڈ تک نہیں بنوا کر دے سکتے تو ہمیں دیگر سہولیات خاک دیتے رہے ہوں گے جبکہ یہ علاقہ محمد پور 1 میں آتا ہے
پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے
باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھد کھرل)علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے پچھلے 30 سال سے علی پو روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے جس کی وجہ سے اس علاقے کی ترقی رکی ہے علاقہ مکین اپنے حق کے احتجاجی ریلی سید نگر علی پورچھٹہ سے شروع ہو کر حافظ آباد پہنچنے پر فوارہ چوک میں پہنچ کر دھرنا دے دیا مظاہرین کے مطابق علی پور روڈ کیلئے 9 ارب کے فنڈ منظور ہوئے لیکن روٹ ہی تبدیل کر دیا گیا جو ہمیں منظور نہیں 14 فٹ کی بجائے ڈبل روڈ بنایا جائے جس سے علاقہ مکینوں سمیت دیگر شہروں کو بھی فائدہ پہنچے گا حافظ آباد علی پور روڑ کے علاقہ مکینوں کا فوارہ چوک میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کر کے احتجاجی مظاہرہ حکومت مخالف مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور کہا انتظامیہ نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم احتجاجی دھرنا بھی دینگے ہم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہمیں بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ھے آنے والے الیکشن میں عوامی نمائندے کس منہ سے ہم سے ووٹ مانگیں گے ہم چاہتے ہیں منتخب نمائندے ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا بنیادی حق یہ سڑک تعمیر کی جائے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹنٹ کمشنر حافظ آباد مزاکرات کے لیے آئے جسے مظاہرین یہ کہہ کر بھیج دیا ڈی سی حافظ آباد کو بلایا جائے اور رکشے پر علی پور تک سفر کرنا چاہیے

ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!
ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!
تحریر : شوکت ملک
مملکت خداداد میں موجودہ دور میں کوئی بھی کام سفارش اور رشوت کے بغیر کرانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، دو نمبر کام کےلیے رشوت کا بازار گرم کرنے میں جتنا ہاتھ سرکاری محکموں میں بیٹھے افسران و ملازمان کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا بھی ہے، کیونکہ کسی بھی جائز و ناجائز کام کےلیے رشوت کی آفر سب سے پہلے ہم خود کرتے ہیں اور دیتے ہیں، جس کے باعث یہ ناسور اتنا پھیل چکا ہے کہ اب اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، مگر سرکاری محکموں میں آج بھی کئی ایک ایماندار افسران بیٹھے ہیں جنہوں نے اس ناسور کیخلاف اعلان بغاوت کر رکھا ہے جن میں سے ایک نام انچارج ڈرائیونگ لائسنس ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن برانچ ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا بھی ہے۔
گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانا ہوا، جہاں پر کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کیخلاف انتہائی بہادری اور جرات مندانہ طریقے سے لڑنے والے انتہائی فرض شناس، ایماندار، خوش اخلاق، خوش لباس، خوش گفتار، خوش شکل ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جن کی ایمانداری اور فرض شناسی کے چرچے گزشتہ کئی ماہ سے سن رکھے تھے، اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنانے کےلیے ڈی ایس پی آفس گیا تو ڈی ایس پی منیر احمد اعوان وہاں پر تشریف فرما اپنے کسی مہمان کو بتا رہے تھے کہ جب میری پوسٹنگ بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ ہوئی مجھے کہا گیا ڈی ایس پی صاحب یہاں لوٹ مار کا بازار اس قدر گرم ہے کہ آپ اس سسٹم کیساتھ نہیں لڑ سکتے، مگر ڈی ایس پی منیر احمد اعوان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا وہ میرا مسئلہ ہے مجھے اچھی طرح معلوم کہ سسٹم کو کیسے رشوت خوری جیسے ناسور سے پاک کرنا ہے اور میری موجودگی میں میرے سٹاف کا کوئی بندہ رشوت لے کر دکھائے میرا کھلا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے پورے سٹاف کو بتایا ہے کہ رشوت کا ایک روپیہ بھی اگر کسی نے لیا یا کسی شہری کیساتھ بدتمیزی کی، مِس بی ہیو کیا تو نہ صرف اس کیخلاف ایف آئی آر درج کروں گا بلکہ اس کو نوکری سے بھی فارغ کراؤں گا چاہیے اس کےلیے مجھے خود کورٹس کے چکر ہی کیوں نہ لگانے پڑیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں پوسٹنگ کے بعد بہت سارے لوگوں نے مجھے میرے آفس آ کر بھی آفرز کی اور کہا صاحب چھوڑیں جیسے پہلے سسٹم چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دیجئے مگر میں نے کہا میری موجودگی میں ایسا کوئی سوچے بھی مت، ان کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا سر میں کچھ بات کر سکتا ہوں جس پر انہوں نے کہا بیٹا ضرور بات کریں لیکن پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ سے لائسنس کے سرکاری فیس کے علاوہ کسی نے کوئی پیسے تو نہیں مانگے، میں نے کہا نہیں سر بلکل بھی نہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا اب آپ اپنی بات کیجئے، میں نے اپنا مختصر تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق میڈیا سے ہے ایک ورکنگ جرنلسٹ ہوں اور یہ سن کر ہی یہاں آیا ہوں کہ بلدیہ ٹاؤن برانچ میں ایک ایماندار ڈی ایس پی آیا ہے جوکہ نہ رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کو لینے دیتا ہے، اور واقعی آج خود سارے پراسس سے گزر کر یقین ہوگیا کہ جہاں پر ایک ایک لائسنس کے بطورِ رشوت ہزاروں روپے بٹورے جاتے تھے وہاں پر رشوت کا نام تک موجود نہیں، میں نے کہا سر، سندھ جیسے صوبے میں جہاں کی گورنمنٹ سمیت تمام سرکاری محکمے ہی کرپشن اور رشوت خوری کا گڑھ بنے ہوئے ہیں وہاں پر ایسے ناسور کیخلاف دیدہ دلیری سے لڑنے پر آپ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
جس پر ان کا کہنا تھا کہ بیٹا اس میں میرا کچھ کمال نہیں بس اللّٰہ پاک کیساتھ ایمان کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نہ صرف خود حرام کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے سے روکتا ہے بلکہ اپنے ماتحت دوسرے لوگوں کو بھی حرام کھانے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی میری سروس کے دوران کسی کی مجال ہے کہ وہ دو نمبر کاموں کے پیسے لے کر خود بھی حرام کھائے اور اپنے بچوں کو بھی کھلائے، کم از کم میرے ہوتے ہوئے ایسا ناممکن ہے، گفتگو کے اختتام پر پوچھنے پر معلوم ہوا ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا تعلق بھی شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال سے ہے۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا اگر منیر احمد اعوان جیسے ایماندار اور فرض شناس آفیسرز کو سرکاری محکموں میں بلا روک ٹوک، بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے کام کرنے دیا جائے اور پروموٹ کیا جائے تو یقیناً ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر ہوگی۔ اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی
گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔
پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔
ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دوشاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہوہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔
یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمنخوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن














