Baaghi TV

Category: متفرق

  • آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    علیزے فرام لَمز کہتی ہے کہ آرٹ کو بَین کرنا انتہائی بری بات ہے اور آزادی اظہار کی نفی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی لوگوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کے عقائد یا اقدار ایک آرٹ فلم سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ علیزے فرام لَمز یہ بھی کہتی ہے کہ جس نے آرٹ کا جو نمونہ دیکھنا ہو وہ اس کی مرضی ہونی چاہیے، کسی فرد یا ریاست کو پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔

    اب مسئلہ یہ ہے کہ لَمز والی علیزے کی یہ روشن خیالی سے بھرپور باتیں جناب بارُود خان نے سوشل میڈیا پر سُن لی ہیں۔ اتفاق سے وہ ایک ریاست مخالف اور عسکریت پسند گروہ کے میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ ان کی پراپیگنڈا ویڈیوز گروہ کے لیے نئے رنگرُوٹ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن حکومت سے وہ نالاں ہیں کہ سوشل میڈیا پر اُن کی خواہ مخواہ سرکوبی کرتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائر ہو کے اپنی بارودی ویڈیوز کو دوبارہ ریلیز کرنے کا سوچا ہے اور اس بار وہ اسے “آرٹ” کہہ کر مارکیٹ میں لائیں گے تاکہ علیزے اور اس کے تمام فرینڈز ممکنہ پابندیاں لگنے پر میدان میں بارود خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آخر پراپیگنڈا “آرٹ” سے کسی کے عقائد یا اقدار خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ ریاست کو کیا لگے، جس نے بھی “آرٹ” کا جو نمونہ دیکھنا ہے وہ دیکھے!

    بارود خان کے ساتھ قصور کے رہائشی مونی بَٹ نے بھی علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائریشن پکڑ لی ہے۔ وہ بچوں کے پورن کے دھندے میں ہے اور حکومت کی سینسر شپ سے پریشان ہے۔ اب اس نے سوچا ہے کہ اپنی فوٹیج کو اینیمیٹ کروا کے اسے “آرٹ” کہہ کے مارکیٹ میں پھینکنے کی تیاری کرے۔

    جس طرح فیمنسٹ بہنوں نے ٹرانس حقوق کی وکالت کرتے کرتے معاملات یہاں تک پہنچا دیے ہیں کہ اب ناکام مرد اتھلیٹ آپریشن سے عورت بن کے عورتوں کو ہی گیمز میں ہرانے کی بنیاد ڈال چکے ہیں، اسی برح بارود خان اور مونی بٹ بھی علیزے فرام لَمز اور اس کے لبرل دوستوں کو انہی کی گیم میں گُھس کر بِیٹ کرنے والے ہیں۔

    پس تحریر: دنیا کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ تحریر و تصویر سے لے کر آڈیو ویڈیو تک کوئی بھی میڈیئم ہو، وہ سماج پر اثر انداز ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر زندہ سماج میڈیا پر اپنے اقدار کے حساب سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جیسے دہشت گردی یا چائلڈ پورن معاشرے کا ناسور ہیں ویسے ہی یہ ل-ج-ب-ٹ بھی سماج کے لیے تباہی ہے۔ اور اس کی تشہیر و حوصلہ افزائی کرتے مواد پر پابندی لگانا اسلامی نہیں بلکہ بنیادی منطق کا تقاضا ہے کیونکہ اسلام سے بڑھ کر یہ انسانیت کی بقاء کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے حامی بس یہ فرض کر لیں کہ اگر ان کی والدہ یا والد اس عادت کا شکار ہوتے تو وہ اس آزادی کا پرچار کرتے آج دنیا میں موجود ہی نہ ہوتے۔

  • کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    ایک کامیاب زندگی سے ایک مطمئن زندگی ہزار درجہ بہتر ہے. آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ ہمیشہ آپ کو یا تو دوسرے بتائیں گے یا آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑے گا لیکن اطمینان روح سے نکلتا ہے. آپ کو پوچھنا نہیں پڑتا.

    مکمل سچ آپ کے منہ پر اس دنیا میں سنا ہے تین قسم کے لوگ ہی بول سکتے ہیں. ایک جو نشے میں دھت ہو دوسرا جو سخت غصے کی کیفیت میں ہو اور تیسرے بچے جو من کے ہی سچے ہوتے ہیں. آپ ان تینوں سے پوچھ سکتے ہیں آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ دنیا روز اپنے ہیرو بدلتی ہے کل کا ہیرو آج زیرو ہوگا. یہاں روز فیشن بدلتا ہے. لوگوں کی خواہشات اور توقعات روز بدلتی ہیں. آپ تھک جائیں گے ان کی نظر میں کامیاب کہلاتے کہلاتے.

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

    روح اپنے سفر آخرت پر ہے. یہ راستہ مخلوق خدا کے درمیان سے گزرتا ہے. اپنے لئے اور آس پاس چلتی اللہ کی مخلوق کیلئے یہ سفر آسان بنانے میں روح کو خوشی ملتی ہے. اپنی اور دوسروں کی زندگی اگر ہم پیچیدہ نہ کریں تو یہ آج کا اطمینان اور کل کی کامیابی ہے.

  • سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    جاپانی کچھ باتوں میں بڑی کمال سوچ رکھتے ہیں. جیسے یہ اپنے گھر اور اس میں موجود اپنے روایتی برتنوں فرنیچر کا بڑا دھیان رکھتے ہیں. صاف ستھرے گھر میں جوتوں کے ساتھ نہیں گھومتے یا گھر کے سلیپر الگ رکھتے ہیں. لیکن ایک خوبی بڑی کمال ہے. انکا کوئی قیمتی خاندانی پیالی کیتلی ٹوٹ جائے تو اس کی مرمت سونے یعنی گولڈ سے کر لیتے ہیں.

    ٹوٹ کر دوبارہ جوڑ بنانے کو یہ ایسا قیمتی بنا دیتے ہیں کہ وہ جوڑ خود ایک کمال بن جاتا ہے. ایک پرانی عربی کتاب میں کوئی عربی کہاوت یاد آتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ مرنا کوئی نہیں چاہتا ورنہ اسے گہرے پانی میں پھینک دو یہ فوراً ہاتھ پیر چلانا شروع کردے گا. پھر لوگ اپنی زندگی سے ایسے بے زار ہوکر بیٹھ کیوں جاتے ہیں کہ مرنا ان کو مشکل نہیں لگتا.؟

    وہ اصل میں اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں. اندر کی یہ جنگ ان کو تنہا لڑنی پڑ جاتی ہے. جیسے گہرے پانی میں انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہو اور اسے تیرنا بھی نہ آتا ہو تو اپنی ساری طاقت و توانائی خرچ کر کے وہ بے بسی سے یا پھر ڈوبنے کا انتظار کرتا ہے یا کسی ایسے ہاتھ کا جو اسے کھینچ کر نکال لے. اب بھلے زندگی کا ہاتھ پہلے پہنچا یا موت کا.

    ہمارے آس پاس سب ہی تیراک نہیں ہوتے. تنہا اپنی جنگ جیت لینے والے سورما نہیں ہوتے. اس لئے کسی کو تنہا نہ چھوڑیں. جاپانی جیسے اپنے برتن کا جوڑ سونے سے بنالیتے ہیں ایسے ہی کسی ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے میں مدد دینے والے بھی سونے جیسے قیمتی لوگ ہوتے ہیں. اس لئے حقوق العباد کے اعمال سونے جواہرات کے ساتھ تولے جائیں گے.

  • ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    چند دن پہلے سکول سے واپسی پر گاؤں جا رہا تھا تو میرے آگے بائیک ایک لڑکے کے پیچھے کوئی ستر سے اسی سالہ بزرگوں کی جوڑی بیٹھی جا رہی تھی۔ سنگل سڑک تھی اگر انکو کراس کرتا تو ان پر بہت زیادہ دھول مٹی پڑنی تھی کہ آجکل دیہاتی سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بڑی مشینوں کے چلنے کیوجہ سے بہت دھول بن جاتی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ٹریکٹر ٹرالیوں پر جانے والی مٹی سڑک کر گرتی وہ بھی بہت دھول بناتی ہے۔ میں بائیک کے پیچھے پیچھے آرام سے گاڑی چلا رہا تھا کہ دس کلو میٹر تک جہاں بھی انکو کراس کرتا انہوں نے مٹی میں نہا جانا تھا۔ بائیک ڈرائیور نے ایک دو بار خود ہی مجھے سپیس دی مگر میں نے کراس نہیں کیا۔ آدھے راستے میں جاکر بائیک والے نے بائیک روک لی کہ میں گزر جاؤں۔ میں نے پیچھے ہی گاڑی روکی اور خود اتر کر آگے گیا۔

    اور اس لڑکے سے کہا کہ میں خود ہی آگے نہیں جا رہا آپ چلتے جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔ مجھے راستہ نہ دیں میں پیچھے ہی آؤں گا۔ میں پیچھے آنے ہی لگا تھا کہ مجھے بوڑھی ماں نے آواز دی کہ پتر میری بات سنو۔ تم کیوں نہیں آگے جا رہے؟

    میں نے کہا کہ میں اگر آگے گزروں گا تو آپ پر مٹی پڑے گا جو میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں کسی پر بھی مٹی ڈال کر اسے کراس نہیں کرتا چاہے جتنی بھی جلدی میں ہوں۔ اماں نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا نوشہرہ ورکاں سے آیا ہوں اور بھڑی شاہ رحمان میرا گھر ہے ایسے سپیشل بچوں کے ایک سرکاری سکول کا ٹیچر ہوں جو دیکھ نہیں سکتے یا بول اور سن نہیں سکتے یا چل پھر نہیں سکتے۔ بس میرے یہ بات کہنے کی ڈیر تھی وہ اماں پیچھے سے اتری اور مجھے گلے لگا کر میرا منہ ماتھا چومتے ہوئے ڈھائیں مار کر رونے لگ گئی۔ بابا جی اترے اور وہ بھی گلے لگ کر رونے لگ گئے۔ اتنی دیر میں پیچھے بھی سڑک پر چند گاڑیوں اور رکشوں کی لائن لگ گئی۔ مگر کوئی بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا کہ راستہ چھوڑو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے بس کار سائیڈ پر کر لینے دیں ادھر ہی رکیں۔

    گاڑی سائیڈ پر لگائی کہ پیچھے کی چیزیں گزر سکیں۔ اور انکے پاس آیا۔ اماں جی نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی ہے یہ بات مجھے الہام ہوئی ہے۔ یہ بات انہی الفاظ میں انکا اکلوتا بیٹا کہا کرتا تھا جو چھ سال قبل 30 سال کی عمر میں شیخوپورہ روڑ پر ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں موقع پر ہی وفات پا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انکی شادی کے 20 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا جب وہ اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جب وہ بائیس سال کا ہوا تو غیر قانونی راستے سے یونان چلا گیا۔ 8 سال وہاں رہا جب کاغذ بنے تو چھٹی آیا اور اسکا رشتہ دیکھ رہے تھے کہ ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انکا اس دنیا میں واحد سہارا تھا۔ اماں نے کہا کہ وہ یونان جانے سے پہلے جب مجھے اور تمہارے چاچے کو بائیک پر کہیں لے کر جاتا تھا ناں۔ اور لوگ کراس کرتے ہوئے دھول اڑا جاتے تھے تو وہ کہتا تھا اماں جب میرے پاس گاڑی آئے گی ناں تو میں کسی پر بھی دھول نہیں ڈالوں گا۔ چاہے ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں ہی کیوں نہ طے کروں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو کراسنگ میں دھول کے بادل اڑا کر بائیک والوں اور سائیکل سواروں کے سارے کپڑے گندے کر جاتے ہیں۔

    وہ یونان سے آکر گاڑی خریدنے ہی والا تھا کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ اگلے جہان چلا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے اور کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نوشہرہ ورکاں دوائی لینے گئے ہوئے تھے اور یہ لڑکا ہمارا ہمسایہ ہے بائیک ہماری اپنی ہے جو ہمارے بیٹے کی تھی اسے ساتھ بطور ڈرائیور لائے ہیں۔ لوکل گاڑیاں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

    میں نے اس لڑکے سے کہا تم بائیک لیکر چلو میں اماں اور چاچا جی کو لیکر تمہارے پیچھے ہی آرہا ہوں۔ مگر رہو گے تم آگے ہی اور سپیڈ سے چلو زرا اب۔

    اماں کو میں نے فرنٹ پر بٹھایا اور چاچا کو پیچھے اور گاڑی انکے گاؤں کی طرف موڑ لی۔ رستے میں اماں جی نے بتایا کہ تمہارا چاچا جوانی میں پالتو جانوروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑا کرتا تھا۔ بڑی دور سے لوگ آکر لیجایا کرتے تھے اور چھوڑ بھی جاتے تھے۔ تب ہر گھر میں مویشی ہوا کرتے تھے۔ اور گاہے بگاہے کام آتا رہتا تھا چند کنال زمین بھی تھی جس سے گھر کے چاول گندم آجاتے تھے۔ وہ بیٹے کے یونان جانے پر بیچ دی تھی۔ جو جانوروں کی ہڈیاں جوڑنے کا فن جانتا ہوں وہ انسانی ہڈیاں کیوں نہیں جوڑ سکتا۔ مویشی کم ہوئے تو انسانی ہڈی جوڑ کا کام شروع کر دیا اور انکی جوڑی ہوئی ہڈی کبھی خراب نہ ہوتی تھی۔ یہ کام بیٹے کی وفات تک چلتا رہا۔ جب وہ فوت ہوا تو کام چھوڑ دیا اب بس روتے رہتے ہیں۔

    انہی باتوں میں ہم انکے گھر پہنچ گئے۔ کوئی چھ سات مرلے کا ڈبل سٹوری گھر ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا تھا۔ جو انکے بیٹے نے یونان سے پیسے بھیجے تو بنایا گیا تھا۔ اماں نے مجھے پوچھا تمہیں کوئی جانے کی جلدی تو نہیں؟ میں نے کہا بلکل بھی نہیں میں تو رات یہاں ہی رکوں گا۔ میری یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی جیسے خوشی سے نہال ہو گئے۔ اماں نے کہا تم بیٹھو میں گوشت لیکر آتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ مجھے ہانڈی پکانی آتی ہے آپ اجازت دیں تو میں ہانڈی پکا لوں ؟ اماں پھر میرے گلے لگ گئی کہ میرے غلام فرید کو بھی ہانڈی پکانی آتی تھی کہ وہ ہماری بیٹی اور بیٹا دونوں تھا۔

    ہانڈی میں نے پکائی اماں کو آٹا گوندھ کر دیا اور اماں نے روٹیاں پکائیں۔ کھانا کھایا اور پھر سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ رات کوئی بارہ بجے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹے کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں۔ جو اسنے یونان سے کمائے تھے۔ جتنی ضرورت ہو ہم کسی کے ساتھ جاکر بنک سے لے آتے ہیں۔ وہ جاتے ہوئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں چھوڑ کر گیا۔ ہم نے کسی سے کبھی ایک پیسے کی بھی مدد نہیں لی بلکہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ بنک کا مینجر بھی ہماری بڑی عزت کرتا ہے۔ اماں ہی زیادہ بات کرتی تھی۔ چاچا بس کبھی کبھار کوئی بات کرتا اور ہماری باتیں سنتا رہتا۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا پہلے ہم دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں اولاد دے۔ جب دعا چھوڑ دی تو اللہ نے بیٹا دے دیا اور بیٹا بھی ایسا فرمانبردار جیسے فرزند ابراہیمی کی صحبت پائی ہو۔ ہم خوش تھے کہ بڑھاپے کا سہارا ہے اب پوتے پوتیاں ہونگے کہ اللہ کا حکم آگیا اور ہم پھر تنہا ہوگئے۔

    اسکے حکم بڑے ڈاڈھے ہیں۔ ماننے پڑتے ہیں۔ اسکے راز وہ ہی جانتا ہے۔ ہم اسکی رضا میں خوش ہیں۔ سوچتے ہیں وہ اولاد دیتا بھی نہ تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ اسنے اولاد دی اور ایک وقت مقررہ تک اسے زندگی بھی دی۔ ہم بھی اپنی زندگی پوری کریں گے اور وہاں پھر اپنے بیٹے سے مل لیں گے۔ جہاں ہم پھر کبھی بھی جدا نہ ہو سکیں گے۔ کہ غیب کی باتیں اور حکمتیں تو وہی جانتا ہے۔ ہم سب کا یہاں ایک متعین رول ہے جو پلے کرکے ہم چلے جائیں گے۔ یہی باتیں کرتے ہم سو گئے صبح اٹھ کر میں سکول آگیا اس وعدے کے ساتھ کہ مہینے میں ایک بار ضرور ملنے آیا کروں گا۔

    کہیں سے بھی ملنے والے دکھ درد تکلیفیں اور حادثے زندگی کا لازمی حصہ ہیں یارو۔ زندگی وہ ہر گز نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر زندہ تو رہنا ہوتا ہے اور یہی زندگی کی حیثیت اور حقیقت ہے۔ آج غم ہیں تو خوشی ضرور آئے گی اور کبھی خوشیوں کو اچانک سے غم بھی آلے گا۔ بس ہمیں چلتے رہنا ہوتا اور اپنا ایک متعین سفر جاری رکھنا ہوتا۔

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟

  • ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

    جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

    دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

    البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

    ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

    سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.

  • نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    نفرت کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    کتنی عجیب بات ہے ہر خوش فرد کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے. وہ بس خوش ہوتا ہے. لیکن ہر ناخوش مایوس فرد کی کہانی منفرد ہوتی ہے. اس کی وجوہات الگ ہوتی ہیں. امریکہ کے قدیم باشندے اپنے عقل مندوں دانشوروں کو شامان کہتے تھے. ان میں سے کسی شامان نے کچھ وجوہات اکھٹی کی تھیں . آپ اگر مایوس اور نا خوش ہیں تو اپنی وجہ اس میں تلاش کر لیں.

    شامان سے پوچھا گیا زہر کیا ہے.؟ شامان نے کہا ہر وہ چیز جو ہمارے پاس ہماری ضرورت سے زیادہ ہو چاہے پھر وہ طاقت ہو مال ہو جائیداد ہو خود نمائی کی چاہت و غرور ہو.

    پوچھا خوف کیا ہے.؟ کہا خطرہ یا عدم تحفظ کو قبول نہ کرنا. کیونکہ جب ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں تب یہ خوف نہیں ایڈونچر بن جاتا ہے.

    کہا حسد کیا ہے.؟ کہا دوسروں کی اچھائی تسلیم نہ کرنا. کیونکہ جب ہم دوسروں کی اچھائی مان لیتے ہیں تب وہ حسد نہیں انسپائریشن بن جاتی ہے.

    کہا غصہ کیا ہے.؟ کہا یہ تسلیم نہ کرنا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تب یہی غصہ صبر و برداشت بن جاتا ہے.

    پوچھا نفرت کیا ہے.؟ کہا یہ قبول نہ کرنا کہ لوگ منفرد ہیں. وہ جیسے ہیں ایسے ہی ہیں. جب ہم یہ مان لیتے ہیں تو نفرت محبت بن جاتی ہے.

  • ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ربورٹ اور ہم — سلیم اللہ صفدر

    ٹوئیٹر فیس بک کے بعد امازون نے دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے…!

    جی ہاں…

    وجہ کیا ہے؟ جی ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں اور ملازمین جو کام کرتے ہیں انسانی ربورٹ ان سے کہیں بہتر انداز میں کر سکتے ہیں. نہ ربورٹس چھٹیاں مانگتے ہیں نہ بلاوجہ بیمار ہوتے ہیں. نہ تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں نہ ہڈحرامی کرتے ہیں. اس لئے کمپنی مالکان کے لیے انسانی ملازمین کی بجائے ربورٹس زیادہ مفید ہیں.

    اب لندن امریکہ کی سڑکوں پر ایمزون کے نکالے گئے ملازمین بھیک مانگتے نظر آئیں گے کہ جی ہمیں جو کچھ آتا تھا وہ اب ربورٹس نے سنبھال لیا اور ہم اب کیا کریں.

    یاد رہے کمپنی ملازمتوں سے ربورٹس انسانوں کو نہیں نکال رہے بلکہ انسان انسانوں کو نکال رہے ہیں. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے ربورٹس بنانا سیکھ لیا اور ان ربورٹس کی وجہ سے وہ لوگ ناکارہ ہیں جنہیں نہ آئی ٹی کا علم، نہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کا علم، نہ ربورٹس کا علم اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کا. باس کے سامنے یس سر یس سر کرنے والے انسان اب کسی کام کے نہیں. ربورٹس سے یس سر یس سر کروانے والے آئی ٹی ایکسپرٹ کام کے ہیں.

    ربورٹس آپ کی زندگی میں گھس چکے ہیں. کہیں کمپیوٹر کی شکل میں، کہیں ڈرون کیمرہ مین کی شکل میں، کہیں پیکنگ مشین کی شکل میں، اور کہیں آرمرڈ فورس کی شکل میں. اب جہاں جہاں وہ پہنچ رہے ہیں انسانوں کو نکالے جا رہے ہیں.

    ایک انسان کی وہ قسم ہے جو ان ربورٹس کو گھر سے بیٹھ کر آپریٹ کر رہا ہے اور پانچوں انگلیاں گھی میں ڈال چکا ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو رو رہا ہے کہ ان منحوس ربورٹس کی وجہ سے میری جاب چلی گئی. وہ روبوٹس کی آمد پر تو رو رہا ہے لیکن ان ربورٹس کو آپریٹ کرنے کا طریقہ نہیں سیکھ رہا اور اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہو چکی ہے.

    اب دل تو کرتا ہے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے بحث و مباحثہ کرنے والے احباب کے متعلق کافی کچھ تحریر کروں لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ساری دنیا ربورٹس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ہم ہم اس ربورٹ (موبائل) کے ذریعے ایک دوسرے پر ہی طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ نہ ہی دنیا کا فائدہ نہ ہی آخرت کا. اور غیر مسلم قوتیں اسی ربورٹس کے ذریعے اپنی زندگی آسان سے آسان تر کیےجا رہے ہیں..

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔