Baaghi TV

Category: متفرق

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

    لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

    چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

    مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

    اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

    1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

    2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

    3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

    4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

    5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

    6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

    7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

    8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

    ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

    1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

    2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

    3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

    4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

    5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

    6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

    ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔

  • ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو اپ کوہر وقت دلاسے دیتا رہےاور اپ کو نصیحتیں کرتا رہے۔اپ کے لئے ہر وقت پریشان ہوتا رہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو یا ان میں آپ کےدوست وغیرہ کو شامل کر لیں. ان کے اپنے کئی مسائل ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر دِلوں کے خالق نے فرما دیا ہے:

    أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

    ترجمہ : ’’ جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘

    ﴿٢٨ -سورة الرعد﴾

    بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ایسے ساتھی ہوں جو اپنا قیمتی وقت دیتے ہوں بات سنتے ہوں اور اپنے ساتھ باہر لے کے جاتے ہوں ایسے لوگوں کا احترام کریں۔

    اگر آپ لمبے عرصے تک اس طرح ہی ڈپریشن میں مبتلا رہے توکچھ عرصہ بعد گھر والے اور دوست آپ کی ڈپریشن کو اپ کی ایک عادت سمجھ کر آپ کو اکیلے آپ کے حال پر چھوڑ دیں گے اور یہ صورتحال پھر آپ کے لئے گھمبیر ہو جائے گی۔۔۔

    ڈیپریشن انسان کو مختلف طریقوں سے تباہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ ڈپریشن آپ کی جان ہی لے، یہ آپ کو اور کئی طرح سے بھی مار سکتا ہے جیسا کہ یہ آپ کی زندگی کے کئی خوشیوں اور کئی مختلف ایکٹیویٹز سے آپ کو محروم رکھ سکتا ہے۔

    جس میں آپ کے جوانی کے حسین صبح و شام اور لمحات شامل ہوتے ہیں دوستوں کی ہنسی مذاق اور گیدرینگ، مختلف ایونٹس،آپ کی تعلیم اور جاب اور آپ کی شادی وغیرہ شامل ہیں۔

    لہٰذا کسی کا انتظار نہ کریں کہ کوئی آئے گا اور آپ کو آپ کی پریشانی سے نکال دے گا.

    خاص طور پر نوجوان اپنے گھر والوں کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اس حالت میں دیکھ کر ضرور کچھ کریں گے یا وہ شخص جس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہوں اور وہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر واپس آجائے گا تو یقین جانیں ایسا کھبی نہیں ہوگا

    خود کو اذیت نہ دیں۔ ہر بندہ اپنی اپنی زندگی جینے اور خوشی منانے میں مصروف ہے۔

    آپ کو خود ہی اس بلا سے نمٹنا ہوگا۔

    زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہیے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں.

    ڈپریشن سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں اور دیکھیں کونسا طریقہ ہے جس سے آپ اچھا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، عبادت کرنا ،لوگوں کی مدد کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا یا بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا اور اوٹینگ پر جانا، مزید تعلیم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا یا تحریر لکھنا وغیرہ وغیرہ۔

    اس کا حل آپ نے خود ہی ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ کونسی چیزیں اور عوامل آپ میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔۔

    پھراس پر عمل کریں۔۔۔

    خوش رہیں، زندگی کو بھرپور طریقہ سے جیئیں۔

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

  • بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک ، سکیل اپ گریڈ نہ ہوسکے،بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کے ملازمین آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان1901 میں معرضِ وجود میں آئی اور تاحال تحصیل کوہ ِ سلیمان ٹرایبل ایریا اور جوڈیشل ایریا (میدانی علاقہ)ضلع ڈیرہ غازی خان میں بطور لوکل پولیس ، پنجاب پولیس اور باڈر ملٹری پولیس کے شانہ بشانہ پنجاب پولیس کی کمانڈ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے ۔ بلوچ لیوی ڈیرہ غازیخان انتہائی محنت اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتی ہے قبائلی علاقہ میں جہاں پنجاب پولیس اور بی ایم پی کے اہلکارکارروائیاں کرنے سے گھبراتے ہیں وہاں ان خطرناک علاقوں میںبلوچ لیوی فورس کے جوان سینہ تان کرسماج دشمن عناصرکامقابلہ کرتے ہیں،

    جس کی کئی مثالیں موجود ہیں ان میںملک دشمن عناضر میںبدنا م زمانہ منگھن کلاتھی گینگ ، بگٹی گینگ ،گورچانی گینگ اور لادی گینگ کے اشتہاریوں کے ساتھ ضوان مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بلوچ لیوی فورس کے 6جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے،ان میں کچھ شہیدوں کوابھی تک سرکاری طورپرشہیدکادرجہ بھی نہیں مل سکا اس کے علاوہ بلوچ لیوی کو مراعات کے معاملے میں کافی عرصے سے نظر انداز کیا جاتا آ رہا ہے جس کی وجہ سے بلوچ لیوی ملازمان کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں مگر پنجاب پولیس کے سکیل کی اپ گریڈیشن ہو چکی ہے مگر محکمہ بلوچ لیوی کے ملازمین تا حال اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔جس سے بلوچ لیوی کے ملازمین میں اضطراب پایاجاتا ہے کہ حکومت پنجاب، پنجاب پولیس کی طرح بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کو بھی تمام مراعات(لا اینڈ رڈر الانس ۔ FDA وغیرہ) اور سکیل اپ گریڈیشن کیوں نہیں دی جارہی ۔غریب ملازمین کاحکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ۔

  • ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    راقم کے ایک دوست نے راقم کی تحریر "چلتے ہو تو سسرائیل چلئے ” پڑھی، اپنے اعمال بد کی وجہ سے روز آخرت حصول جنت کے بارے میں پر امید نہ تھا اس لئے اس نے دنیا میں ہی جنت کے حصول کی کوشش کرنے کے بارے میں ٹھان لی، اور خدا کی رحمت سے ناامیدی گناہ کبیرہ ہے کہ طعنوں کا یہ جواب دیا کہ ہو سکتا ہے میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی رحمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے، تو میں دنیاوی جنت کو ٹھکرا کے کفران نعمت کیوں کروں؟

    جب حاسدین نے انہیں طعنے دئیے کہ "یہ منہ اور مسور کی دال” ہم بھی یہیں ہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے دنیا میں جنت حاصل کرتے ہو، تو عزیزی نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا، مناسب تعلیم، ذہانت، شخصیت، فٹنس اور مضبوط فوجی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے فوج میں کمیشن ملنے کا قوی امکان تھا لیکن عزیزی کو ملک میں جاری شرپسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے قوی امید تھی کہ ٹریننگ مکمل کرتے ساتھ ہی انہیں آپریشن ایریا میں بھیج دیا جائے گا جہاں سے ان کی واپسی تابوت میں ہو گی، اس وجہ سے وہ فوج میں نہیں گئے اور انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا،تحریر میں لکھی گئی بات ان کے پیش نظر تھی کہ جنت کی نعمتوں سے اگر زیادہ لطف اندوز ہوناہے تو سسرائیل میں قیام کم سے کم وقت کے لئے کرنا ہے ۔

    یہاں بھی انہوں نے اپنی طرف سے ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جنت کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے عزیزی نے اپنے رہائشی شہر میں ہی شادی کا فیصلہ کیا، تاکہ گھڑے کی مچھلی کی طرح نعمتیں ہر وقت دسترس میں رہیں اور جب دل کرے ان سے لطف اندوز ہو سکے، قصہ مختصر عزیزی نے ملازمت کر لی اور اس کی خواہش کے مطابق اسی شہر میں اس کی شادی بھی ہو گئی اور عزیزی ہمیں شہر کے شہر میں شادی کے فوائد بتا کر للچاتا رہا پھر ہم بھی غم روزگار میں مبتلا ہو کر کافی عرصہ عزیزی سے ملاقات نہ کر سکے ۔

    کافی عرصے بعد جب عزیزی سے ملاقات ہوئی تو اس کا بجھا ہو چہرہ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، بعد از تشفی عزیزی نے ہمیں بتایا کہ جو عقلمندی میں نے شہر میں شادی کر کے کی تھی وہ اب میرے گلے پڑ گئی ہے، بیگم کا جب دل کرتا ہے وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر والے ان حالات میں ہم دونوں سے سخت خفا ہیں اس وجہ سے جب میں کام سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو اگر بیگم اپنے میکے گئی ہو تو وہ مجھے روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمھارے کام تمھاری بیوی کی ذمہ داری ہے، میں نے شہر کے شہر جنت کے مزے لینے کے لئے اپنے گھر کو ہی جہنم بنا لیا خدارا میری پریشانی کا کچھ مداوا کرو۔

    ہم نے سابقہ تعلقات دیکھتے ہوئے عزیزی کی مدد کا فیصلہ کیا اور اسے ایسا مشورہ دیا کہ اس کا گھر بھی خراب نہ ہو اور بیگم کا بار بار میکے جانا بھی کم ہو جائے عزیزی نے ہمارا مشورہ سن کر صدق دل سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کا میکہ میرے لئے مثل جنت ہے جس کی آپ حور ہو اور حور سے دور رہنا کفران نعمت ہے اس وجہ سے جب آپ کا دل کرے آپ اپنے میکے جاؤ، بس مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں بھی اپنی نوکری سے فارغ ہو کر آپ کے پاس وہیں آ جاؤں اور سسرائیل میں عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

    عزیزی کی بیگم نے خوشی خوشی کہا کہ کل میں میکے جاؤں گی آپ بھی نوکری سے چھٹی کر کے وہیں آ جانا، چھٹی کے بعد عزیزی جب اپنے سسرائیل گیا تو وہاں فرمائشی کھانوں سے لطف اندوز ہوا، نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وقتاً فوقتاً اپنی حور کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہوئے افراد خانہ کے ہاتھوں پکڑا بھی گیا اور دیگر افراد خانہ کی خلوت کو متاثر بھی کرتا رہا، جب اہل خانہ نے شکایات کا انبار سسرائیل کی وزیر اعظم (ساس صاحبہ) کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً اس مسئلے کا سدباب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس (بیٹیوں اور بہنوں) کا طلب کیا۔

    جس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ عزیزی کے سسرائیل میں قیام کی وجہ سے سسرائیل کا بجٹ انتہائی متاثر ہو رہا ہے اور عزیزی کی خواہش نفسانی سے مجبور ہو کر حرکات کی وجہ سے مملکت خداداد سسرائیل کی مکین دیگر خواتین پر نامناسب اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس وجہ سے عزیزی کی سسرائیل میں قیام کرنے کی وجہ (عزیزی کی بیگم) کے ہمراہ اسے سسرائیل سے بے دخل کیا جائے اور عزیزی کی بیگم کو پابند کیا جائے کہ آئندہ وہ ایک مخصوص عرصے کے بعد میکے آئے تا کہ عزیزی ان کے لئے بلائے جان نہ بنے یوں عزیزی کی” نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی آیا چوکھا”، لیکن اس واقعے کے بعد عزیزی تمام احباب کو مشورہ دیتا رہا کہ شادی ہمیشہ دوسرے شہر میں کرو کیونکہ "دور کے ڈھول سہانے ” ۔