Baaghi TV

Category: متفرق

  • ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    تلبینہ ایک عربی ڈش ہے جو دلیہ کی شکل میں جو،دودھ اور شہد کے ساتھ تیار کی جاتی ہے جو کہ ” جو ” کے خشک پاؤڈر میں دودھ اور شہد ملا کر بنائی جاتی ہے۔

    یہ لفظ عربی لظف لابن سے آیا ہے جس کے معنی ہیں دیی (خمیر شدہ چھلکا ہوا دودھ)

    اس کی مشابہت دہی جیسی ہوتی ہے کیونکہ یہ سفید اور نرم ہوتا ہے

    تلبیںہ کیسے پکائیں؟

    تلبینہ بنانے کی آسان ترکیب نوٹ فرما لیں۔

    اجزاء:

    جو : 125 گرام (رات کو بھگو دیں)

    دودھ: 500 ملی لیٹر ( ابلا ہوا)

    شہد: حسب ضرورت مٹھاس کے لئے۔

    ترکیب:

    رات بھر بھیگی ہوئی ” جو” کو پانی کے ساتھ بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں اور ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اب ایک پین لیں اس میں "جو” کا پیسٹ اور تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور ساتھ چمچ چلاتے جائیں۔ اب آہستہ آہستہ دودھ ڈالتے جائیں اور چمچ چلاتے جائیں مزید 5 منٹ پکائیں یہ اب دلیہ جیسا دکھنے لگے گا اب اس میں حسب ضرورت شہد شامل کریں۔

    اب تلبینہ تیار ہے اس میں آپ اپنے من پسند خشک میوہ جات شامل کر سکتے ہیں۔

    تلبینہ ایک انتہائی صحت بخش خوراک ہے جو خصوصی طور پر بوڑھوں اور بیمار افراد کے لئے بے حد مفید ہے۔

    سنت نبوی صلی اللہ علہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کے پاس جب بھی کوئی بیمار اتا آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔ یہ نہ صرٖف صحت و طاقت پہنچاتا ہے بلکہ ڈپریشن بھی دور کرتا ہے۔

    ڈپریشن کو کم کرتی ہے:

    تلبینہ ایک اعلی کاربوہائیڈریٹ خوراک ہے اور ڈپریشن اور استعمال شدہ کاربوہا.

    ئیڈریٹس مزاج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس کی وجہ سیروٹونن سینتھیسس پر کاربوہائڈریٹس کے اثرات ہیں۔
    اس کے علاوہ جسم میں زنک کی کمی بھی ڈپریشن کی وجہ ثابت ہوئی ہے۔

    تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تلبینہ مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اس کی وجہ اس میں موجود کاربوہایئڈریٹس اور اس کا میٹھا ذائقہ ہے۔ اس کے استعمال کرنے والے 6 میں سے 5 افراد پر مزاج کے حوالے سے مثبت نتائج مرتب ہوئے ہیں۔

    حضرت محمد صلی اللہ علہ وسلم کا فرمان ہے۔

    یہ غمگین کے دل کو سکون دیتا ہے اور بیمار دل کو صاف کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی پانی سے اپنے چہرے کی گندگی صاف کرتا ہے۔” سنن ابن ماجہ (3445)

    بیماریوں کے خلاف تلبینہ:

    بالآخر جدید تحقیق نے بھی اس بات کی تائید کر دی جو ہمارے پیارے نبیؐ نے چودہ سو سال قبل فرمائی تھی کہ تلبینہ بیماریوں کے خلاف قوت فراہم کرتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو اناج میں سب سے زیادہ افادیت رکھتا ہے اور مختلف تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس،بڑی آنت کا کینسر، دل کے امراض،قبض کے خلاف کام کرتا ہے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ آپؐ کے خاندان کا کوئی بھی شخص بیمار ہوتا تو آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔

    قبض سے نجات:

    جو درحقیقت فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    فائبر کا استعمال آنتوں کی نقل و حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض کو روکتا ہے اور جسم کو بہت سی اندرونی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور چونکہ تلبینہ جو سے بنتا ہے اس لئے یہ قبض دور کرنے میں کافی اکسیر مانا جاتا ہے۔

    کولیسٹرول کم کریں:

    جو میں موجود بیٹا گلوکنز کو بائل ایسڈ سے منسلک کر کے خراب ایل ڈی ایل کو کم کرنے کے لئے اہم دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ھائی کولیسٹرول والے مریض کو ڈاکٹر گندم کے بجائے جو سے بنی اشیاء کے استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔

    دل کی بیماریوں کے خلاف تحفظ:

    جو بھی نیاسین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔یہ وٹامن دل کی بیماری پیدا کرنے والے ایتھروسکلروسیس کو روکتا ہے۔اس میں متعدد حفاظتی ایجنٹ ہوتے ہیں جو دل کے امراض سے بچاؤ کرتے ہیں۔نیاسین کے استعمال سے خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے جو دل کی شریانوں کی بندش، ہارٹ اٹیک، اور بلڈ کلاٹنگ کو روکتا ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

    ” تلبینہ مریض کے دل کو آرام دیتی ہے اور اسے فعال بناتی ہے اور اس کے کچھ دکھ اور غم دور کر دیتی ہے۔

    ” صحیح بخاری (5325)

    اپنی جلد کی جوانی کو برقرار رکھیں:

    تلبینہ میں بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جلد کی نرمی اور لچک کو برقرار رکھتے ہیں ۔اس میں موجود سیلینیم جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ، اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرکے خلیوں کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور جلد پر جھریاں پڑنے سے روکتے ہیں

    تلبینہ کے بے شمار فائدے:

    اپنی زرخیزی میں کمی کا مقابلہ کریں۔

    زرخیزی میں کمی بہت سی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے .

    جیسے کہ شوگر لیول، ٹینشن، پھر کھانے کی بے قاعدگی وغیرہ۔

    اس کے لئے متوازن غذا کا استعمال کریں اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل کریں باقاعدگی سے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹینشن سے دور رہیں اور ان سب باتوں میں تلبینہ بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ٹینشن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی خصوصیت بھی موجود ہے۔

  • بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات تفصیل کے بی ایم پی سوار الطاف حسین لنڈ جو کہ دوران سروس فوت ہو گیا تھا محکمانہ قانون کے مطابق کوئی اہلکار دوران سروس جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا یا بیٹی کو قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد تعینات کیا جاتا ہے اسی قانون کے تحت فوت ہونیوالے سوار (کانسٹیبل) الطاف حسین لنڈ کی بیٹی شہنیلا الطاف نے اپنے والد کی خالی ہونے والی سیٹ پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کو درخواست گزاری کہ مجھے میرے والد کی جگہ پر میری تعیناتی کے آرڈر کیے جائیں جس پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک نے قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد اس کی تعیناتی کے آرڈر جاری کر دئیے اس طرح بارڈر ملٹری پولیس کی تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل بھرتی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

  • ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ۔وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوامیں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میںگندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم کی خرابی کا ذمہ دار کون ؟ ہر طرف خاموشی کے ڈیرے ،ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملزمالکان پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں۔ سیلاب سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کاذکر نہیں کیا گیااوررپورٹ میں بتایاگیاکہ ہمارے کسی بھی فوڈسنٹرکوسیلاب سے کوئی خطرہ نہیں ہے،اس رپورٹ کے برعکس شادن لنڈ فوڈ سنٹر میں رود کوہی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا جس سے گندم خراب ہوگئی،

    جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو دورہ ڈیرہ غازیخان میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے اس معاملے پرنوٹس لیکرتحقیقات کاحکم دیا،اس کے برعکس کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا اورذمہ داروں کاتعین تودورکی بات۔ڈی ایف سے اس سارے معاملے پرپردہ ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کا آکشن کب ہوا اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو چاہیے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کریں۔جاری مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب سے فوڈسنٹر شادن لنڈ میں بارشی اوررود کوہی کے پانی میں سینکڑوں بوری گندم ڈوب جانے کے باعث خراب ہوگئی،ذرائع کے مطابق لگ بھگ 2لاکھ بوری خراب ہوئی معاملہ پر سیکرٹری خوراک پنجاب نے نوٹس لے لیا ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی شروع ہوئی تو ڈائر یکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا،لیکن دوسری طرف ذرائع کا کہتا ہے کہ محکمہ خوراک کے مطابق سیلاب سے مبینہ دو سے چارسو بوری گندم خراب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں گند م کے معاملے پر، بڑے پیمانے پرخورد بردی کی اطلاع ہے جس سے گندم میں بڑے پانے پرخورد برود کو خارج از امکان قرارنہیں دیا جاسکتا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سیکرٹری خوراک پنجاب اور ڈائریکٹر خوراک نے الرٹ جار ی ہونے کے باوجو د انتظامات نہ کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف مبینہ چارج شیٹ فائل کردی ہے ۔ جب ڈی ایف سی محکمہ خوراک مہر اختر حسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ افسران یہاں آئے تھے انہوں نے شواہد بھی اکھٹے کیے لیکن انہوں نے رپورٹ جاری نہیں کی جب رپورٹ جاری ہوگی تو حقائق معلوم ہوں گے۔


    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ہدایت پر فوڈ سنٹر شادن لنڈ زیر آب آنے کے واقعہ کی تحقیقات شروع گئی ہیں ا س حوالے سے ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان محمد انور بریار نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دیا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کمیٹی کے کنوینر مقرراراکین میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت شامل ہیںانکوائری کمیٹی چار روز کے اندر رپورٹ پیش کرناتھی لیکن کئی چارروزگذرگئے لیکن کوئی رپورٹ پیش نہ ہوسکی ۔ڈ پٹی کمشنر محمد انور بریار نے نوٹیفکیشن جاری کردیاانکوائری کمیٹی فوڈ سنٹر کی جگہ کے انتخاب،ایس او پیز اور تمام معاملات کا جائزہ لے گی کمیٹی کی سفارشات پر قانون کے تحت کارروائی ہوگی،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار زرائع کا کہنا ہے ۔اس سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ شادن لنڈ فوڈ سینٹر سیلاب کی زد میں آگیا جس سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی۔ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملز پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں ۔جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو مہر اختر نے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کی آکشن کب ہوئی اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی اس کا سخت نوٹس لیکر فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کرکے ذمہ داروں کاتعین کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

  • ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ غازی خان میں سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے پڑ گئے حادثات معمول بن گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ.صدرعوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ڈیرہ غازیخان مولانا غلام سرور عثمانی نے کہا ہے کہ عوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ایک فلاحی تنظیم ہے جو کہ عوامی مسائل اور عوامی خدمت کے منشور پر کام کرتی ہے اور الحمد اللہ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازیخان کے عوام میں اپنے خدمت کے جذبے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہے۔پورے ڈیرہ غازیخان شہر کے واٹر ڈسپوزل بند کرکے سیوریج لائن کا بھٹہ بٹھا دیا سارے شہر کی سیوریج لائن پھٹ گئیں اور سار ا سیوریج کا پانی زیر زمین رسنا شروع ہوگیا اب حالت یہ ہے کہ پورے شہر کی سٹرکیں یکدم دھڑام سے گر جاتی ہیں اور پھر اس خلا کو مٹی ڈال کر بند کردیا جاتا ہے کسی سٹرک کا یوں اچانک پھٹ جانا انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کا بھی پیش خیمہ اور سبب بن رہا ہے .

    سارے شہر کی سٹرکیں جن میں کالج روڈ،پاسپورٹ آفس روڈ،ہسپتال روڈ،گولائی کمیٹی روڈ،صدر بازار،پتھر بازار،فریدیہ بازار،لیاقت بازار،قائداعظم روڈ،کنگن روڈ،پیر قتال روڈ،اسٹیشن روڈ،کچہری روڈ،گولائی کمیٹی تا فیصل مسجد چوک روڈ،پیارے والی پل تا ڈاٹ پل،باری باری گر چکی ہیںمولانا سرور عثمان نے مزید بتایا کہ چند دن پہلے کالج تا پاسپورٹ آفس روڈ کے اوپر یکدم سٹرک پھٹ جانے سے بجری سے بھرا ٹرک الٹ گیا جس کے نتیجے میں 10ویلر ٹرک ہاش پاش ہوگیا اور روڈ پر بجری اور ٹرک کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔یہ تباہی کی ان سب ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کرکے ان کا سراغ لگانا آپ کی ذمہ داری ہے اور ان کے خلاف ایکشن لینا اور عبرت ناک سزا دلوانا آپ کا فرض ہے۔ ہماری ویلفیئر آرگنائزیشن کا کام عوامی مسائل اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ عوام آئندہ رونما ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہم ایک محب وطن لوگ ہیں اور اپنے ملک کے وفا دار ہیں۔ہمارے شہر ڈیرہ غازیخان میں ریکارڈ کام ہورہے ہیں جو سابقہ حکومت نے 10سال میں بھی نہیں کیے۔ہم وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان کی موجودہ صورتحال پر فوری ایکشن لیا جائے۔فوری کام کروائے جائیں۔پینے کا صاف پانی کا بھی بہت فقدان ہے بیماریاں جنم لے رہی ہیں ہر دوسرا شخص یرقان، معدہ جگر کے مرض میں مبتلاء ہیں۔ صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جگہ جگہ گندگی اور بدبو نظر آتی ہے

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کو ”امن کا مسکن”بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ محروم خواتین کے لئے ایک گھر یا پناہ گاہ ہے، جو خواتین ظالم معاشرے سے مغلوب ہوتی ہیں اور جو بار بار نہ صرف لوگوں کے ظالم اور حیوانیت بھرے رویے کا سامنا کرتی ہیں،جن کی ہمت ٹوٹ جاتی ہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق تک حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، ان کے لئے معاشرہ درد اور پریشانی کی جگہ ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین جہنم سے کم نہیں ہے۔

    اس طرح کے حالات میں خواتین کے لیے معاشرہ پریشانیوں اور مایوسی کی جگہ بن جاتا ہے۔ ان کے حصے میں صرف ناانصافیاں آتی ہیں جو انہیں نا امیدی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان کے افسردہ دل اور ذہن معاشرے کی طرف سے نظر انداز ہونے کے بعد سکون اور امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی ترجیح اس وقت دارالامان ہوتا ہے۔چونکہ شادی 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ خواتین کے پاس شادی کے حقوق تک نہیں ہیں، وہ اپنی خواہش کے مطابق رائے دینے اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کااختیار ہی نہیں رکھتیں۔

    والدین ایک لڑکی کی ڈھال ہوتے ہیں۔ وہ ان پر پورا بھروسہ کرتی ہے۔ جس شخص کے ساتھ والدین اس کو منسوب کرتے ہیں وہ خاموشی سے ان کی تابعداری کرتی ہے۔ مگر جب آگے کی زندگی میں اگر والدین کا فیصلہ غلط ثابت ہو تواکثر والدین بجائے لڑکی کو انصاف دلانے کے اس کو سب کچھ برداشت کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔ یہ حکم اس کے لیے موت کے فرمان سے کم نہیں ہوتا۔ اور جب وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں طاقت کی بنیاد پر اپنے ہی والدین اور سسرال دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں ذبح کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ ایسے حالات میں انہیں دارالامان پناہ دیتا ہے۔انہیں دارالامان میں امید کی کرن ملتی ہے۔

    دارالامان پاکستان کے تمام صوبوں میں قائم کیا گیا اور اس کی پروسیسنگ جاری ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ سندھ کے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں۔ صوبہ پنجاب میں تقریبا 34 اضلاع میں دارالامان سرگرم ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے تشدد کا شکار خواتین کو پناہ دینے کے لیے تمام 8 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دارالامان قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین میں حقوق کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا اور وہ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کر نی لگی۔ نتیجتاً ہر ضلع میں شیلٹر ہوم کی ضرورت پیش آئی اور محکمہ نے دارالامان کا جال پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پھیلا دیا۔ یہ گھر ایک وقت میں 20 سے 50 رہائشیوں کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    پاکستان کی خواتین ایک ایسے معاشرے میں رہ رہی ہیں جس میں ثقافت اور ذات پات کے نظام پر یقین رکھا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے ہر دن بے حد مشکل ہوتا ہے اور انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنی نام نہاد ثقافتی روایات اور رسم و رواج کے لئے اپنے ہونٹوں پر مہر لگا دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف وہ غیر منصفانہ سلوک اور گھریلو تشدد کے زہر کا گھونٹ پی رہی ہوتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے کچھ دیہی علاقوں میں خواتین کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ دارالامان جیسی تنظیم ہو جو نہ صرف پناہ اور تحفظ دے بلکہ ان کے حقوق حاصل کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔

    ایک شخص کے لئے خاندان سے جدا ہونا زہر کا گھونٹ پینے کے مترادف ہے لیکن خواتین یہ بھی کر جاتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جن کے ساتھ معاشرے نے تشدد کیا ہو۔دارالامان ویسے تو عورت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے مگر کچھ چیزوں کی وجہ سے دارالامان کے تحفظ اور پناہ کے افعال سے نفرت ہو جاتی ہے،مطلب یہ ہے کہ دارالامان ان خواتین کے لئے اچھی طرح کام نہیں کر رہا ہے جو پرامن ماحول کے لئے دارالامان آتی ہیں۔یہ خواتین دوستانہ رویے کے مقصد سے دارالامان میں پناہ لیتی ہیں لیکن دارالامان کے کارکن ان سے اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔ان کے لئے امن کا گھر جیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔جگہ کی کمی کا مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ملتان دارالامان ہی کی ایک مثال ہے کہ یہ صرف 30 افراد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن اس عمارت میں 80 خواتین رہائش پذیر ہیں اور ساتھ ہی اسی طرح ساہیوال میں 15 کی جگہ35 خواتین رہائش پذیر ہیں۔ یہ ان خواتین کے لئے کس قدر مشکل ہوگا یہ صرف و ہی جانتی ہیں۔ سیکورٹی کا مسئلہ بھی قابل غور ہے کیونکہ کچھ ہی سال پہلے ایک عورت کو باہر کے لوگ آ کر قتل کر کے چلے جاتے ہیں جنہوں نے اندر آکر بڑی آسانی سے اسے قتل کر دیا۔ اس کا نام فاریہ تھا اور 25 نومبر 2011 کے ڈان اخبار کے مطابق اس خبر پر روشنی ڈالی گئی۔ کوئٹہ کے دارالامان کا ایک اور کیس ہے جس میں تقریبا 15 یا 16 لڑکیاں دارالامان سے فرار ہوئیں۔ ان دونوں معاملات کے مطابق یہ واضح ہو گیا ہے کہ دارالامان سیکورٹی کے بارے میں کتنا باشعور ہے۔

    خلاصہ بحث یہ ہے کہ اگر خواتین دارالامان جیسی تنظیموں کی مدد سے انصاف کے لئے آواز اٹھاتی ہیں تو اداروں میں تبدیلیاں اور بہتری آ سکتی ہے اور اس کے علاوہ دارالامان کو اپنے کردار کو بہتر بناناچاہئے اور اپنے معیار کو بھی برقرار رکھنا چاہئے جو کہ ان کی اصلی شناخت کا ذریعہ ہے۔ عملے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مناسب تربیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ خواتین کو ان کی نازک ذہنی یا جسمانی حالت میں کبھی بھی افسردہ یا پریشان محسوس نہ ہونے دیں۔ مزید یہ کہ عملے کو خوشگوار ہونا چاہئے۔ اگر متاثرین کے اہل خانہ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ محروم عورتیں کبھی یہ نہیں سوچیں گی کہ انہیں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں لے جایا گیا ہے اور وہ آرام اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

  • امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    میامی: امریکی ریاست فلوریڈا میں پائتھون کے شکار کا سالانہ ایونٹ کا انعقاد ہوگیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق میامی میں سالانہ ایونٹ کے افتتاح کے موقع پر موجود حکام کے مطابق پائتھون کے شکار کا یہ مقابلہ آفیشلی مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح سے شروع ہوا جو 15 اگست شام 5 بجے تک جاری رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی


    جس میں فلوریڈا کی مرطوب زمین میں 800 سے زیادہ افراد خطرناک برمیز پائتھون کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ آٹھ دنوں تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں سب سے زیادہ سانپ مرنے والوں کو انعام میں ہزاروں ڈالرز ملیں گے۔

    حکام کے مطابق پیشہ ور اور نو آموز شکاریوں میں جو سب سے زیادہ سانپ مارے گاان کے لیے دونوں کیٹیگریوں میں 2500 ڈالرز کا انعام رکھا گیا ہے دونوں کیٹیگریوں کے لیے سب سے لمبے پائتھون کے شکار کے اضافی انعامات بھی ہیں۔

    بھارت: سانپ کے کاٹنے سے دو بھائیوں کی موت

    قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پائتھون مردہ ہو اور اگر سانپ کو وحشی طریقے سے مارا گیا یا مقامی سانپ مارا تو شکاری کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    فلوریڈا کی خاتون اول کیسے ڈی سینٹِس کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اس لیے اہم ہے کہ شکار کئے جانے والے ہر پائتھون کے سبب یہاں کے مقامی پرندوں، میملوں اور ریپٹائلز کا ایک شکاری کم ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق برمیز پائتھون فلوریڈا کا مقامی سانپ نہیں ہے اور اس کی خوراک پرندوں، میملوں اور دیگر رپٹائلز پر مشتمل ہوتی ہے دی نیشن پارک سروس کی رپورٹ کے مطابق ایورگلیڈز میں پہلا برمی ازگر 1979 میں دیکھا گیا تھا، اور 1990 کی دہائی کے دوران ان کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا تھا-

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ سانپ جنوب مشرقی ایشیا کا ہے اور اس کی وجہ سے کئی مقامی نسلوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بوبکیٹس، ہرن، ریکون، خرگوش اور لومڑی جیسے جانوروں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ 10 – 20 فٹ لمبے سانپ شکاریوں کے خطرے کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جنوبی فلوریڈا واٹر مینجمنٹ ڈسٹرکٹ کے ایک رکن رون برجیرون نے کہا کہ یہ سانپ قدرتی فوڈ چین کو تباہ کر رہے ہیں، اور آپ کو صحت مند فوڈ چین کے بغیر صحت مند ماحول نہیں مل سکتا ۔

    واضح رہے کہ سالانہ راؤنڈ اپ 2013 میں شروع ہوا تھا، اور ہر سال سینکڑوں سانپوں کے شکاری دس روزہ ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں 2021 میں فلوریڈا پائیتھن چیلنج نے ایورگلیڈز سے 223 برمی پائتھنز کا شکار کیا تھا جبکہ سال 2000 کے بعد سے ایورگلیڈز کی مرطوب زمین کے ماحول سے 17 ہزار سے زائد پائتھون مارے جاچکےہیں-

    لندن: چڑیا گھر کے پنجرے میں مگرمچھ کی بجائے ہینڈ بیگ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

  • درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    کیلیفورنیا:امریکا میں دنیا کا بلند ترین زندہ درخت واقع ہے تاہم وہاں جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکڑوں سالوں سے، ’ہائپیریئن‘ کے نام سے جانا جانے والا درخت شمالی کیلیفورنیا کے ریڈ ووڈز نیشنل اور اسٹیٹ پارک کے اندر خاموشی سے کھڑا ہے یوٹیوبر، بلاگر اور دیگر افراد نے اس کی تفصیلات اور پتا دے کر لوگوں کے تجسس کو بڑھایا ہے اور لوگ ماحول کو نقصان پہنچا کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    کیلیفورنیا کے ریڈ وُڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کی حدود میں موجود ’ہائپیریئن‘ نامی درخت کو مُہم جُو حضرات سے شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں کیونکہ 2006ء سے یہاں راستہ نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے اور درخت کو متاثر کررہی ہے اسی لیے اب اس کے قریب جانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

    ریڈووڈ نامی اس درخت کی اونچائی قریباً 116 میٹر(379.1 فٹ) ہے جس کا نامی یونانی دیوتا پر رکھا گیا ہے یہ پارک کے اندر بہت دور موجود ہے جہاں کوئی کچا پکا راستہ نہیں جاتااور اطراف میں سبزہ بھرا ہےاس کے باوجود لوگ یہاں آرہے ہیں اسے دیکھنے کے لیے سیاح سبزے کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جس سے ماحول کو دگنا نقصان ہورہا ہے۔

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    پارک سے وابستہ ایک افسر، لیونل آرگیلو نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم ایسا کر رہے ہیں کیونکہ ہماری نظر وسائل کے تحفظ اور زائرین کی حفاظت پر مرکوز ہے کیونکہ پارک کی گہرائی میں جی پی ایس اور موبائل فون کے سگنل بہت ہی کمزور ہیں جس کے بعد زخمی یا بھٹک جانے والے افراد کی تلاش اور بحالی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب درخت کے تنے کی ٹوٹ پھوٹ اور متاثرہ ہونے کا عمل بھی انسانی مداخلت سے بڑھ چکا ہے یہاں تک کہ لوگ یہاں جانے والی راہ پر جگہ جگہ کچرا پھینک رہے ہیں اور سبزے کو بطور بیت الخلا استعمال کررہے ہیں-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

  • ڈر —- بلال شوکت آزاد

    ڈر —- بلال شوکت آزاد

    دنیا میں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ڈر کا ہے اور دنیا کی ہر پراڈکٹ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی کی ضروریات سے ہو یا نفسیات سے, ان کے فیچرز اینڈ بینفٹس میں ڈر ایک ایسا جزو ہے جو مشترک عنصر ہے۔

    مذاق نہیں آپ اسلحے سے لیکر ادویات تک کا موازنہ کریں, لباس سے لیکر خوراک تک کا موازنہ کرلیں, سیاست سے لیکر نظریات تک کا موازنہ کرلیں اور مذاہب سے لیکر عقائد تک کا موازنہ کرلیں۔ ۔ ۔ آپ کو ان سب کے موازنے میں جو چیز سب سے زیادہ ملے گی وہ ڈر ہوگی۔

    مطلب دنیا کو پہلے ڈرایا جاتا ہے, بار بار بتا کر ڈر کا ماحول اور نفسیات تیار کی جاتی ہے اور پھر اپنی پراڈکٹ تھما دی جاتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں آپ یہ لیں اور ڈر کو بھول جائیں۔

    آپ جانتے ہیں ڈر سے سب سے زیادہ فائدہ دنیا بھر کے کون سے عناصر اٹھارہے ہیں؟

    ہر ملک کی افواج اور ایجنسیاں, سیاسی پارٹیز, بیوروکریسی, عدلیہ اور ماس میڈیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد سرمایہ دار ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اجتماعی حیثیت میں وہ پہلے مذکورہ کیٹیگریز میں فال کرچکے ہیں اور پھر ان کے بعد باقی ساری دنیا کے وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی طاقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔

    انسان کو ڈر نے ایک نادیدہ دائرے میں مقید کردیا ہے اور جب آپ دائروں میں مقید ہوجاتے ہیں تب آپ کی دیکھنے, سوچنے, سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی طاقت سلب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ آپ پھر وہی دیکھتے, سوچتے, سمجھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں جو آپ کو ڈرانے والے آپ کے دائرے میں بٹھا کر دکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔

    اس سے زیادہ کھل کر بھی میں بیان کرسکتا ہوں اور مثال بھی دے سکتا ہوں لیکن وہ پھر بہت سے نامی گرامی ہستیوں کو گراں گزرنے کا اندیشہ ہے لہذا میرے لیے اب یہی سدرہ المنتہی ہے کہ اس سے آگے میرے پر جلنے کا شدید اندیشہ ہے لہذا تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانو۔