Baaghi TV

Category: متفرق

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    میرا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ جیسی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو میسر تھی اس کا چوتھا حصہ بھی اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو میسر ہوتا تو شاید وہ ہی آخری نبی ہوتے۔

    لیکن ان کو محض چند ہی صحابی میسر ہوئے جو کافی کمزور اور بے بس بھی تھے اسی لیے حضرت عیسی علیہ السلام پر نبوت ختم نہ ہوئی جبکہ بہت سی آفاقی و الہامی باتوں و پیش گوئیوں کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی جماعت میسر ہونا جو ان کی زندگی اور بعد از زندگی اسلام کی ترویج, ترغیب اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حفاظت کا ذمہ بھرپور انداز میں لے سکیں, بھی ختم نبوت کی ایک بڑی اور عظیم نشانی ہے۔ ۔ ۔

    مزید یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کسی نبی کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جماعت میسر نا ہونا بھی مشیت ایزدی اور نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کی عظیم نشانی اور گواہی ہے۔

    ایک اور بات کہ چلو بہت بڑی جماعت نہ بھی میسر ہوتی چلو عشرہ مبشرہ جیسے صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے یا یہ بھی نہ صحیح تو چلو خلفائے راشدین سے چار صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے تو منظر قدرے مختلف ہوتا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت, شریعت اور امت کا۔

    لیکن اللہ نے جو جو اور جیسا جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہونا تھا سو ہوا اور دنیا کو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تو ملے ہی ملے لیکن ان کے ساتھ بونس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بلخصوص حصرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ملے اور یہ سلسلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت زید ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو ابن عاس رض اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے دراز اور چمکدار ہوگیا۔

    صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل بزبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مہر بجانب اللہ کہ

    "میں ان سے راضی ہوگیا”,

    میری بات یا قیاس کو تقویت دیتے ہیں کہ بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ختم نبوت, مہر نبوت اور دین محمدی کی تکمیل کا ایک اہم اور لازمی جزو اور باب ہیں۔

    یعنی قصہ مختصر یہ کہ میرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ دراصل ختم نبوت پر مہر تصدیق اور قیامت تک پہریدار ہے۔

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    ہر خاص و عام کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ کبھی وہ بھی شمع محفل بنے اور حاضرین محفل اس کے گرد پروانوں کی طرح پھریں. لیکن

    ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے ارمان میرے مگر پھر بھی کم نکلے

    مشہور ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو پاک فوج میں آفیسر بھرتی ہو جائیں لیکن یہ بھی کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے.قربان جاؤں میں اس رب پر جس نے دنیا میں ہی بندے کے شمع محفل بننے اور جنت کی خواہش پوری کر دی اور اس کے لئے مملکت خداداد سسرائیل تخلیق کی.

    اس مملکت میں تمام اختیارات آئینی طور پر صدر (سسر) کے پاس ہوتے ہیں. لیکن اختیارات کا منبع وزیراعظم (ساس) ہوتی ہے.. وزارت خزانہ (صرف کمانے کی حد تک) اور دفاع (خاندانی لڑائیاں) بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے.

    وزرات اطلاعات و نشریات (غیبت) بیٹیوں کے سپرد ہوتی ہے. وزارت محنت وافرادی قوت (گھر کے کام کاج اور خاندان میں اضافہ) بہوؤں کے سپرد ہوتی ہے.اس کے علاوہ تمام وزارتوں کا ایڈیشنل چارج بھی وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے. جن کو چلانے میں بیٹیاں، بہنیں،سہیلیاں اور دیگر لامحدود عورتیں ان کی معاونت کرتیں ہیں.

    اس مملکت میں دوہرا معیار ہوتا ہے.. دامادوں کی زن مریدی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور بیٹوں کو زن مریدی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا اور شریعت میں والدین کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے.

    اس مملکت کی دشمن مملکت کا نام بھی سسرائیل (بیٹوں کا سسرال اور داماد کے علاوہ بیٹی کا تمام سسرال) ہوتا ہے. اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان شدید لفظی گولہ باری اور کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے.

    اس مملکت کی نیشنیلٹی آپ کو کڑی جانچ پڑتال (سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک)،لامحدود سوالوں، کام (نوکری یا بزنس) اور خفیہ کیریکٹر رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے. اور نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لئے آپ کو وہ لڈو کھانا پڑتا ہے جو کھائیں تب بھی پچھتائیں اور نہ کھائیں تب بھی پچھتائیں.

    کیونکہ یہ ارضی جنت عارضی ہوتی ہے تو اس میں سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں اس میں مثل حور صرف بیگم اور انواع اقسام کے کھانوں کی جگہ دستیاب بجٹ میں بہترین کھانا ہوتا ہے اور مشروب کے طور پر مشروب مشرق دستیاب ہوتا ہے.

    اور کام کاج کے لئے وزیر اعظم (ساس) افراد خانہ میں سے منتخب افراد کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے..الغرض مملکت خداداد سسرائیل کے مقیم اپنے مہمان (داماد) کو اس ارضی جنت میں ہر ممکن راحت اور سکون فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    اس جنت سے بے دخلی بھی کسی شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ (اپنی بیگم کے علاوہ تمام عورتیں) کے حصول کی کوششوں یا حصول کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے.

    جب آپ اس ارضی جنت میں داخل ہوتے ہیں تو واپس آنے کے بعد بھی کئی دن اس جنت کے خمار میں مبتلا رہتے ہیں..ویسے سالیاں ہونے کی صورت میں اس جنت میں آپ کے کئی شریک(دوسرے داماد) بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں جنت میں سے اپنے حصے کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے اس وقت جائیں جب کوئی شریک وہاں نہ ہو.

    اس جنت میں آپ کو ایکسٹرا پروٹوکول بھی مل سکتا ہے. پر اس کے لئے آپ کو اپنی بیگم کی ساس اور نندوں کی وہ برائیاں انتہائی دلجوئی سے سننا پڑیں گی جن سے آپ اپنی پوری زندگی ناواقف رہے. البتہ یہ خیال رہے کہ کوئی آپ کی ماں بہنوں کو برا نہ کہے. بیوی کے رشتہ داروں (ساس، نندوں ) سے آپ کو کیا لگے.

    اس جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس میں عارضی (کم سے کم دن کا ) قیام کریں. مستقل قیام کی صورت میں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے اور وہ محاورہ سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ

    بہن کے گھر میں بھائی. اور ساس کے گھر میں جوائی…..

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.