Baaghi TV

Category: متفرق

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!!  — بلال شوکت آزاد

    عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!! — بلال شوکت آزاد

    اچھا آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عشق تو کسی تعارف اور تفصیل کا محتاج ہی نہیں پر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جن تین لوگوں سے مجھے اللہ واسطے کی محبت اور عقیدت ہے وہ حضرت عمر رض, حضرت یوسف صلاح الدین ایوبی رح اور حضرت محمد علی جناح رح ہیں۔

    ان تینوں میں کچھ باتیں قدرے مشترک ہیں۔

    —اصول پرست تھے۔

    —انصاف پسند تھے۔

    —اپنے عقائد میں مستحکم اور متشدد تھے۔

    —اسلام کو ہی دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور مانتے تھے۔

    —مسلمانوں کو ایک مرکز پر, ایک نظریہ پر اور ایک فکر پر مجتمع کرنے کے لیئے فکرمند تھے۔

    —آزادی اور حریت کے پاسبان تھے۔

    —کرپشن اور کرپٹ ذمہ افراد سے سخت متنفر تھے۔

    —جھوٹ اور جھوٹے سے متنفر تھے۔

    —غیر مسلموں کی ناک پر لڑے ہوئے تھے۔

    —بہترین منتظم تھے۔

    —امن پسند مگر جنگجو طبیعت کے حامل تھے۔

    —دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست تھے۔

    —اللہ, رسول اللہ ص اور خود سے کمیٹڈ تھے۔

    —اسلام کے محافظ اور پشتیبان تھے۔

    —اللہ نے ان تینوں سے امت مسلمہ کے حق میں خیر کے کام لیئے اور ان کو امت کی رہنمائی کا موقع دیا۔

    —ان تینوں کا نام دوست تو دوست دشمن بھی آج تک عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

    —مسلمانوں کی امیدوں کے چراغ تھے۔

    —اللہ کے مقرب تھے تبھی انہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

    اور سب سے بڑی بات کہ

    —فلسطین پر, ارض مقدس پر ان تینوں کا ایک ہی موقف تھا۔ جناح کو مہلت کم ملی ورنہ وہ فلسطین کو بھی آزاد کروانے کی اہلیت رکھتے تھے اور وہ ضرور نکل کھڑے ہوتے دیگر دو کی طرح پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    خیر عمر رض اور صلاح الدین ایوبی دونوں ہی فاتح بیت المقدس ہیں جبکہ جناح وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہمیشہ کے لیئے اسرائیلی کو لعنتی اور ناپسندیدہ رہنے دیا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

    عمر رض اور ایوبی کی فتح بیت المقدس کی یادیں تبھی زندہ و جاوید ہم تک پہنچ سکیں کے جناح نے پاکستان بنایا جہاں ہم آزادی سے اپنا آپ کھوج سکتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ جناح آنے والی نسلوں کو باور کروانے کے لیئے کہ فلسطین ہماری گمشدہ میراث ہے جو ہم نے واپس لینی ہے, وہ ہمارے پاسپورٹ پر لکھوا گئے کہ

    "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک کے لیئے کارآمد ہے۔”

    عالم اسلام کو آج ان تینوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی ہی ضرورت ہے۔

    اللہ ان تینوں ولیوں کی قبور کو منور اور ٹھنڈا رکھے اور کروٹ کروٹ جنت کے نظارے کروائے اور روز قیامت ہمیں انہی کے ساتھ اٹھائے۔

  • خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    اللّہ کریم قرآن مجید میں فرماتے ھیں کہ اے میرے بندوں بیشک تمہیں آزمایا جائے گا مال دے کر آولاد دے کر اور حاکمیت یا اختیار دے کر اب جب اللّہ کریم اپنے کسی بھی بندے کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ھے تو یہاں سے اس بندے کی آزمائش شروع ھوتی ھے۔

    اللّہ کریم آزمائش اس طریقے سے لیتا ھے کہ آپ کو اور نوازتا جاتا ہے اور آپ کے اختیارات میں اور اصافہ کرتا جاتا ہے لیکن یہاں یہی پنج وقتہ نمازی اور بڑے اہتمام سے اپنے آپ کو حاجی صاحب، صوفی صاحب کہلوانے والے صدقہ و خیرات دینے والے سخی حضرات اور حقوق اللّہ کو پورے اھتمام کے ساتھ ادا کرنے والوں کو جب حقوق العباد پورے کرنے کی باری آئے تو مختلف حیلے بہانوں سے بات کرتے نظر آئیں گے کہ ھم نے کاروبار چلانا ھے.

    اور کاروبار چلانے میں جس قانون و ضوابط کو بھی بالا طاق رکھنا پڑے رکھ لیں گے تو یہاں آکر یہ اللّہ کریم کے بندوں کے خدا بننا شروع ھو جاتے ھیں اور لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں اور مجبور بے روزگار ان جیسوں کے ھاتھوں اپنی مجبوریوں کا اونے پونے داموں سودا کرتے ھیں کیونکہ سلسلہ حیات بھی تو چلانا ھے کسی نا کسی طرح چاھے اس کے لیئے آپ کو اپنا آپ کو گروی ھی کیوں نہ رکھنا پڑے (یہاں میں ایک تصیح کرتا جاؤں کہ سبھی کاروباری حضرات اور اختیارات کے حامل لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ بہت سے اللّہ کریم کے بندے حقوق اللّہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی پورے اھتمام سے ادا کرتے ہیں).

    اب ھمارے معاشرے میں ھمارے ملک میں بہت سے شعبہ ھائے زندگی میں کاروبار اور ادارے چل رھے ھیں تو ان میں سے ایک ریسٹورنٹ انڈسٹری ھے اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بھی آگے بہت سے سیکٹرز میں تقسیم ھے اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ بھی ریسٹورنٹ انڈسٹری کے اندر آتے ہیں اب آگے جو انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ھیں وہ کسی نا کسی طریقے سے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنی کمپنی میں لاگو کرتے ھیں.

    لیکن جو ریسٹورنٹ مقامی طور پر کام کرتے ہیں لگتا ہے گورنمنٹ نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے رھیں اور گورنمنٹ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بیٹھی ھوئی کالی بھیڑیں ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے قانون و ضوابط کی کھلم کھلا کھلاف ورزی پر کچھ لے اور کچھ دے کر مک مکا کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ جس طرح مرضی چاھیے بنیادی انسانی حقوق اور گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر استعمال کر سکیں.

    اب جیسا کہ میرا تعلق ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ھے اور میں پچھلے سات سے آٹھ سال سے اس انڈسٹری سے وابستہ ھوں اور اس دوران مختلف انٹرنیشنل اور مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ہوں اس دوران بہت سے معاملات نظروں سے گزرے اور اپنے سامنے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے ھوئے دیکھتا رہا لیکن باامر مجبوری یا آپ اس کو جو بھی نام دینا چاہیں دے لیں خاموش رھے لیکن اب اس پلیٹ فارم جس کا نام ھی باغی بلاگرز ھے اپنے تائیں اور نا سہی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آواز تو بلند کر ھی سکتے ہیں.

    جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں انٹرنیشنل و مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ھوں اس دوران انٹرنیشنل ریسٹورنٹ تو کسی نہ کسی طرح گورنمنٹ کے قانون و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے پایا مکمل نہ سہی لیکن کسی حد تک لیکن جتنے بھی مقامی ریسٹورنٹ میں کام کا تجربہ ھوا اس میں مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ گورنمنٹ کے اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پائے گئے جیسا کہ مقامی ریسٹورنٹ میں ملازم کی سیلری اور کام کے اوقات گورنمنٹ کے طے شدہ قوانین کے مکمل الٹ ھیں.

    اور اور تو اور ان کو تنخواہیں گھنٹوں کے حساب سے دی جارھی ھیں اور وھاں استحصال ھی استحصال ھو رھا ھے ملازمین سے8 گھنٹے کے تیرہ سے چودہ ھزار دس گھنٹے کے پندرہ سے سے سولہ ھزار اور بارہ گھنٹے کے صرف اٹھارہ سے بیس ھزار تنخواہیں دے رھے ھیں حالانکہ ان کی روزانہ کی سیل ایوریج بھی لاکھوں میں ھوتی ھے اور یہ ریسٹورنٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں ھوتے ھیں.

    مطلب کوئی ٹیکس بھی نہیں دیتے اور لیبر انسپکٹر صرف دکھاوے کے طور پر انسپکشن کر کے اپنی جیب گرم کروا کر ستو پی کر سبھ اچھا ہے کی رپورٹ دے کر سو رھے ھے وھاں کوئی سوشل سیکورٹی والہ کوئی ای او بی آئی والہ کوئی پوچھنے والہ نہیں آتا کوئی میڈیکل کی سہولت نہیں اور جب ان کا دل کرے یہ کھڑے کھڑے کسی بھی ملازم کو جوب سے نکال دیتےہیں.

    مطلب مجبوریوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ کوئی جاب سیکورٹی بھی نہیں اور جو تنخواہیں دیتے ھیں وہ بھی کیش میں دیتے ہیں تاکہ کوئی ریکارڈ بھی نہ رھے کیونکہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے مقامی انتظامیہ کی پہلے ھی مٹھی گرم کی ھوتی ھے اور یہ لوگوں کی مجبوریوں سے کھلواڑ کر کے اپنے آپ میں ھی اللّہ کے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.

  • روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔

    روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔

    روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔
    باغی ٹی وی (روجھان سے ضامن حسین بکھرکی رپورٹ) روجھان کے ٹرائبل ایریامیں بھی شدید طوفانی بارشوں سے کوہ سلیمان بلوچستان سے ملحقہ تحصیل روجھان کے علاقوں میں بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے زنگی نالہ میں رودکوہی کے سیلابی ریلے سے ٹرائبل ایریا اور میدانی اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے

    اور وہاں پر زیر کاشت کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں اور علاقے میں نقصانات کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں زنگی نالہ میں طغیانی سے متعدد مواضات کے دیہات زیر آب آنے سے عوام کو شدید تکلیف اور مشکلات کا سامناکرناپڑ رہا ہے ، ذرائع کاکہنا ہے کہ بلوچستان سے ملحقہ تحصیل روجھان کے پہاڑی علاقوں کا تو لیڑیں ذاموڑاں، شیخ والہ، باڑا، بھنڈو والہ، اوزمان، جھترو، مغل، دلبر، مٹ واہ میں بارشوں نے تباہی مچا دی جس سے کسانوں کی کھڑی فصلوں کونقصان پہنچاشدیدنقصان پہنچا۔

    ڈپٹی کمشنر راجن پور جمیل احمد جمیل کے حکم اور اسسٹنٹ کمشنر روجھان ذیشان شریف قیصرانی کی ہدایت پر تحصیل دار روجھان ملک مصطفی کریم کھر ریونیو عملہ کے ہمراہ زنگی نالہ کے سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رودکوہی کے سیلابی گزرگاہوں کا اور علاقے میں نقصانات کا بھی جائزہ لیا اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے بھی ملے سیلابی ریلے سے متاثر لوگوں نے کہا کہ روجھان کے جن مواضعات میں سیلابی صورتحال ہے وہاں پر ابھی تک کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں علاقائی لوگوں کا کہنا تھا کہ روجھان کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں حالیہ شدید طوفان بارشوں کے باعث لوگوں کاکافی نقصان ہوا ہے علاقے کو آفت ذدہ قرار دے کر متاثرین کی داد رسی کی جائے اور امدای کارروائیوں کا آغاز کیا جائے تاکہ متاثرہ علاقوں کے عوام کی دل جوئی ہو سکے۔

  • مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے  زمینی رابطہ منقطع

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    ضلع اپر چترال میں ریشن کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پچھلے ایک ہفتے سے کٹ چکی ہے جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر انجنیر امیر مقام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیل اپرچترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں ، سیلابی پانی کئی بستیوں کواپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔سیلابی پانی راجن پورکی تحصیل روجھان کی متعدد بستیوں میں داخل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف علاقہ مکینوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ایک بچی سمیت دو افراد ڈوب کر جاں بحق بھی ہو گئے ہیں۔سیلابی پانی روجھان کی بستیوں بستی کالو، بستی جونیہ، بستی علم دین اور بستی سیلاف میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہاں بنے ہوئے گھر زیر آب آگئے ہیں، گھروں میں رکھا ہوا سامان پوری طرح پانی میں ڈوب گیا ہے اور علاقہ مکینوں کو سخت ترین دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث پل دھندی کے قریب واقع حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے جس کے بعد پانی پوری شدت سے علاقے میں داخل ہو رہا ہے جب کہ علاقہ مکین اہل خانہ، مال مویشیوں اور دیگر قیمتی سامان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیلابی پانی سے دھندی کو راجن پور سے ملانے والی سڑک بھی متاثر ہو گئی ہے جو ابتر صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے کا سبب بن رہی ہے،اطلاعات کے مطابق انتظامیہ غائب ہے عوام اپنی مددآپ کے تحت اپنے افرادخانہ ،مال مویشیوں اورقیمتی سامان کومحفوظ مقام پرمنتقل کررہے ہیں۔

  • عمران ریاض خان صحافی  یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    کُچھ انسان اپنی شیطانی صفات اور دوسروں پر غلبہ پانے کی شدید خواہش کو اپنی شعلہ بیانی کے پیچھے چُھپانے کا فن جانتے ہیں۔ عمران ریاض خان ایک ایسا ہی شخص ہے۔ غُربت اور آواہ پن کی آغوش سے جنم لینے والی لالچ کا پیکر ہے

    عمران ریاض کا باپ ریاض خان ٹریکٹر مکینک تھا ۲۰۰۹ میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں سفارش سے دوبارہ ملازمت حاصل کی۔ سارا بچپن اور جوانی غربت اور شیطانی خیالات میں گزرا۔ عمران ریاض آج سات زاتی لگژری گاڑیوں کا مالک، ڈیفینس لاہور کے قریب زاتی گھر، کئ پلاٹ، چکوال میں ڈیم کنارے چار سو کنال پر مُحیط فارم ہاؤس، ایک پُر تعیش زندگی گزار رہا ہے۔

    ۲۰۰۸ میں عارضی رپورٹر بھرتی ہوا، سیاسی بیٹ ملی ، تعلقات بنے ٹوٹی موٹر سائیکل سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ہاتھ ڈالا۔ ٹاؤٹی کی گاہک ڈھونڈے تو چار پیسے بنے۔ صحافت سے پہلے عملی زندگی کا آغاز کار چوری کے بادشاہ گینگ میں شمولیت سے کیا۔ ۲۰۰۸-۱۰ تک لاہور میں یہ گینگ بُہت فعال تھا جو بعد میں سی سی پی او شفیق گُجر کی کوششوں سے ختم ہوا آج اسکی زاتی گاڑیوں کے فلیٹ میں مرسڈیز بینز ، ویگو ، ہای لکس، رییوو ، سوک اور سٹی شامل ہیں۔

    مہنگے اور غیر قانونی شکار نے موصوف کو گیلا تیتر کے عوامی لقب سے نوازا۔ ۲۰۲۰ میں چکوال کی حسین وادیوں میں تین سو نایاب تیتر شکار کرنے کے بعد بے رحمی سے گاڑی میں لاد کر جاتے ہوے ایک تصویر نے عمران کے اس روپ سے عوام کو آشنا کیا۔ ایاز امیر صاحب ماحولیات کے بُہت بڑے چیمپین ہیں لیکن اس بے رحمانہ شکار پر کبھی آواز نہ نکلی۔

    ناجائز قبضوں ، جھگڑے والی زمینوں کے سودوں میں بھی عمران ریاض نے خوب مال کمایا۔ ۲۰۱۸ میں مُخالف پارٹی کی فائرنگ کی ایف آئ آر ۳۶۹/۱۸ تھانہ ٹاون شپ آج بھی اسکی گواہی دے رہی ہے۔ ۲۰۲۰ میں youtube channel میں جھوٹی سچی باتوں اور جعلی شعلہ بیانی سے شہرت ملی ورنہ شہر میں عمران کی آبرو کیا ہے سب جانتے ہیں۔ ۲۰۲۱ میں دھرابی ڈیم چکوال میں عمران ریاض کے والد نے چار مشکوک کمپنیوں کی مدد سے چار کروڑ بایس لاکھ کا ماہی بانی کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس ٹھیکے کی انکوئری اینٹی کرپشن اتھارٹی پنجاب کر رہی ہے۔

    عمران ریاض کے مالیاتی گوشوارے ہوش رُبا داستان سُناتے ہیں۔ چند ہی سالوں اثاثوں اور دولت کی ریل پیل ! ۲۰۲۰-۲۱ میں کُل آمدنی دس کروڑ چھبیس لاکھ اٹھاسی ہزار جس میں سے أٹھ کروڑ ستاسی لاکھ غیر مُلکی آمدن۔ صرف ایک سال میں آمدن میں نو کروڑ کا اضافہ۔

    بنک سے ڈھائی کروڑ کا قرضہ لیا پلاٹ لیا جبکہ اسی سال تین کروڑ کا نامعلوم گفٹ دیا !

    دو پلاٹ ملت سوسائٹی میں تین کروڑ پچیس لاکھ خریدے جبکہ اُس سال کُل آمدن ایک کروڑ تیس لاکھ رہی۔

    ایف بی آر گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس نتیجے پہ پہنچی کہ تین کروڑ بیس لاکھ کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

    عمران ریاض کی ذندگی اس معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کی زندہ مثال ہے۔ سفارش تعلق اور بدمعاشی سے کیسے طاقت اور دولت کو گھر کی باندی بنایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لاکھوں چاہنے والوں کا آئیڈیل ایک فراڈ اور رانگ نمبر ہے۔

    زرا سوچئے !

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران ریاض خان، قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، اسلحہ سے لیس، محافظوں کی فوج،پولیس نے اسلحہ سے پاک مہم کے تحت اسلحہ لائسنس معطل کرنے کی درخواست کی، اٹھارہ لائسنس جو لاہور میں تھے، باقی چکوال مین انکے فارم ہاؤس اور پنڈی میں تھے، عمران ریاض سوشل میڈیا پر عوام کو قانون کی پاسدراری کا درس دیتے ہیں تا ہم اسلحہ کا اتنی بڑی تعداد پر اب انہیں خود تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515879″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515878″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515877″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515876″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515875″ /]

  • بھارت میں  4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں ایک خاتون کے ہاں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے گاؤں شاہ باد میں ایک خاتون نے 4 ہاتھوں اور 4 پیروں والی بچی کو جنم دیا بچی پیٹ سے جڑے دو اضافی ہاتھ اور دو اضافی پیر کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جس سے اسپتال کے عملے سمیت خاندان کے افراد ششدر رہ گئے اور بچی کو قدرت کا معجزہ قرار دیا بچی ملک کے شمال میں واقع ہردوئی میں ہفتے کے آخر میں پیدا ہوئی-

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    بچی کا وزن پیدائش کے وقت 6.5 پونڈ تھا، کی پیدائش بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ریاست اتر پردیش کے شاہ آباد کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ہوئی۔

    تصاویر اور ویڈیوز میں بچے کو دکھایا گیا ہے کہ اس کے پیٹ کے ساتھ بازوؤں اور ٹانگوں کا ایک اضافی جوڑا جڑا ہوا ہے، جس میں پولیمیلیا کا امکان ہے، یہ پیدائشی نقص ہے جس کے نتیجے میں اعضاء کی تعداد معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اضافی اعضا کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی اور اس کی ماں دونوں صحت مند ہیں بچی کو علاج کے لیے لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے-

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ز نے کہا کہ بچی کی اضافی اعضا کے ساتھ پیدائش در اصل جڑواں بچوں کی پیدائش کا کیس لگتا ہے کیونکہ دوسرے بچے کا سر بچی کے معدے سے جڑا ہوا ہے جو ابھی بننا باقی ہے۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    ماں نے کہا کہ ہفتے کے روز دردِ زہ کا سامنا کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اور اس کے فوراً بعد ہی اس نے جنم دیا۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش کی خبر پورے علاقے میں پھیلنے کے بعد بچے کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہو گیا، اس بچے کو "قدرت کا معجزہ” قرار دیا گیا۔

    دوسروں نے مشورہ دیا ہے کہ بچہ لکشمی کا اوتار ہو سکتا ہے، دولت، خوش قسمتی، طاقت، خوبصورتی، زرخیزی اور خوشحالی کی ہندو دیوی۔ اس سال کے شروع میں، چار بازوؤں اور ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک اور بچے کو مقامی لوگوں نے بت بنایا تھا جو اس بچے کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

  • روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھان (ضامن حسین بکھر کی رپورٹ )روجھان میں اشیائے خوردونوش کی قمیت عوام کی پہنچ سے دور برف سے لے کر سبزیاں پھل فروٹ سے لے کر بیف، چکن، مٹن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے دیہاڑی دار مزدوروں کی یومیہ اجرت سے ان کے بچوں کو روٹی میسر نہیں ہے اس مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے مگر گزشتہ روز راجن پور میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اشیائے خوردونوش کے ریٹس کی چیکنگ اور سرکاری ریٹس کو برقرار رکھنے کے متعلق ہدایات دیں مگر روجھان میں 6 یوم سے صرف برف کی بات کی جائے تو 50 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے


    مگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے آنکھ موندی ہوئی ہیں اور ذمہ داروں کے کانوں میں روئی بھری ہوئی ہے ہر چیز کے ریٹ روجھان میں مقرر کردہ ریٹس کے برعکس ہیں عوام کو سرکاری مقرر کردہ نرخوں پر عوام کو اشیائے خوردونوش میسر نہیں ذمہ دار صرف فرضی طور پر ایک دو دکانوں پر جا کر فوٹو سیشن کے بعد چلے جاتے ہیں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں کوئی چیک ایند بیلنس نہیں ہے عوام کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے چھ روز گزرنے کے بعد باوجود پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صرف برف کی قیمتوں اور برف مافیا کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے روجھان کے عوامی سماجی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر راجن پور، سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔