Baaghi TV

Category: متفرق

  • بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”

    "صاحب نوکری دلوا دو!!”

    اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

    بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔

    معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔

    پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔

    1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
    ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔

    بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔

    ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔

  • کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں

    کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں

    چوک قریشی ( نامہ نگار ) پریس کلب کرمداد قریشی میں انقلابی سوچ کے حوالے سے نوجوان لیڈر کالم نگار و موٹیویشنل سپیکر محمد شاہد اقبال نے باغی ٹی وی کے نامہ نگار جمشید سہرانی کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا کہ اگر نوجوان زندگی میں کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور اپنے اندر کا خوف ،احساس کمتری کو ختم کر دیں۔اور ہمیشہ بڑا خواب اور بڑی سوچ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اندر مثبت پہلو پر اچھا کردار ادا کریں۔اور مزید ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کے اندر مثبت پہلو پر انقلابی سوچ کا جزبہ پیدا کروایا جائے تو ہمارا معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ۔مزید جانتے ہیں جمشید سہرانی کے اس انٹر ویو میں ۔

  • سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔

    بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔

    فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔

    لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔

    سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔

    اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔

    لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔

    یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔

    ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔

    اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔

    اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔

    گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔

  • چھٹی حس — عبداللہ سیال

    چھٹی حس — عبداللہ سیال

    اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.

    ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
    عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)

    انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”

    عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…

    "جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”

    بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.

    "چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.

    ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”

    بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
    "جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.

    اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”

    محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”

    "چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..

    "ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.

    ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.

    ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.

    خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.

    میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.

    ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”

    سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.

    کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    انسانی فطرت ہے جب ایک انسان بار بار اپنوں سے ہی ڈسا جائے تو اس کا یقین، اعتماد اور بھروسہ بلکل اٹھ جاتا ہے، وہ حقیقت اور سچ کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کچھ ایسا ہی گزشتہ کئی سالوں سے تلہ گنگ کی عوام سے ہوتا آرہا ہے، ڈسنے کا یہ عمل 2013 کے عام انتخابات سے شروع ہوتا ہے جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف انتخابی جلسے سے خطاب کےلیے تلہ گنگ تشریف لاتے ہیں، اور تلہ گنگوی سفید پگ پہن کر بھرے جلسے میں اعلان کرتے ہیں کہ اگر ن لیگ کی حکومت بن گئی تو ہم تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دیں گے، اور ساتھ میں تلہ گنگ کو یونیورسٹی دینے سمیت انڈسٹریل زون کا وعدہ بھی کر ڈالا تھا، 2013ء کا الیکشن ہوا مسلم لیگ ن نہ صرف تلہ گنگ سے بھاری اکثریت سے جیتی بلکہ ملک بھر سے کامیابی سمیٹی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، حکومت میں آکر ن لیگ تلہ گنگ کی عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے کی بجائے اقتدار کے نشے میں مگن رہی، ن لیگ کے اقتدار کے آخری ایام میں عوامی دباؤ پر اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن نے وزیراعظم ہاؤس سے ایک ڈائریکٹو جاری کروا کے عوام کی زبان بند کروا دی مگر وہ ڈائریکٹو محض ایک جلعی کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا، اور اس پہ کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کے بعد وقت گزرا 2018 کا الیکشن ہوا پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، ہمارے حلقہ این اے 65 سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ق لیگ کامیاب ہوگئی مگر انہوں نے اس عمل کو ناقابل عمل قرار دے کر خود کو اس بحث سے ہی علیحدہ کرلیا، پھر ضلع تلہ گنگ کا سہرا اپنے سر سجانے کےلیے پی ٹی آئی رہنما ملک یاسر پتوالی میدان عمل میں آئے انہوں نے ضلع تلہ گنگ کے قیام کےلیے کوششیں شروع کر دی، اور بلآخر وہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرضی ڈائریکٹو جاری کروانے میں کامیاب ہوگئے، اس سلسلے میں تلہ گنگ کی نجی مارکی میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں ان کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر استقبال کیا گیا جوکہ بنتا بھی مگر بدقسمتی سے وہ ڈائریکٹو بھی ایک کورے کاغذ کے سوا کچھ نہ تھا، پھر وقت نے کروٹ لی مبینہ امریکی سازش کے نتیجے میں سیاسی جوڑ توڑ کے بعد وفاق میں ن لیگ کی حکمرانی جبکہ تخت پنجاب چند ماہ ن لیگ کے پاس رہنے کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے کنٹرول میں آگیا، اب کی بار چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی اور جانشین حافظ عمار یاسر ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے محکمہ ریونیو پنجاب کا ایک پرپوزل لیٹر سامنے لے کر آئے ہیں جس کی کریڈبیلٹی اور Authentication پر کئی ایک سوالات تو اپنی جگہ موجود ہیں، اور سابقہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتماد کرنا بھی قدرے مشکل ہے مگر پھر بھی دلی دعا ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح ہمارے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ اور فراڈ نہ ہو بلکہ "خدا کرے اب کی بار سچ ہو” اور تلہ گنگ ضلع کا قیام ہمارا مقدر بنے، ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء ترقی و خوشحالی بھی تلہ گنگ ضلع کے قیام سے جڑی ہے۔

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔

  • سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے)پیر سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 24 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔سالانہ عرس کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز 23 ستمبر کو جنڈیالہ شیر خان میں ہو گا اور تقریبات 25 ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔