Baaghi TV

Category: متفرق

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پرائمری اسکول کے ایک کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے اور غلطی کو نہ دہرانے کے وعدے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طالب علم کرسی پر بیٹھی بظاہر ناراض نظر آتی اپنی ٹیچر کو منا رہا ہے اور ٹیچر بار بار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تم ہر بار وعدہ کرتے ہوئے اور پھر کلاس میں وہی کرنے لگتے ہو اب میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
    https://twitter.com/Gulzar_sahab/status/1569327422000230400?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر کے اس طرح کہنے پر بچہ مزید پریشان ہو جاتا ہے اور وہ خفا ٹیچر کو منانے کی کوششیں اور تیز کردیتا ہےکبھی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتا ہے تو کبھی ان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر چہرہ قریب لاتا ہے اور معافی مانگتا ہے وہ ایک موقع پر پیار بھی کرلیتا ہے۔

    بچے کو اتنا لاڈ کرتا دیکھ کر ٹیچر کا دل پگھل جاتا ہے اور وہ بچے سے غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لے کر اسے معاف کردیتی ہیں اور بچہ انھیں پیار کرتا ہے جس کے بعد ٹیچرایک بار پھر غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لیتے ہوئے بچے کو پیار کرتی ہے-


    اکثر صارفین نے بچے اور ٹیچر کے درمیان مضبوط جذباتی رشتے کی تعریف کی تاہم کچھ صارفین اپنے زمانہ طالب علمی میں ایسی ٹیچرز میسر نہ آنے پر آہیں بھرتے نظر آئے جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر مرد ٹیچر اپنی طالبعلم کے ساتھ اس طرح بی ہیو کرتا تو ویڈیو پر ایک مختلف ردعمل دیکھنے کو ملتا اساتذہ کے لیے یہ ایک مختلف قسم کی سنسنی ہے۔
    https://twitter.com/SoniAnkitK95949/status/1569385417971044353?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    https://twitter.com/CaugusteC/status/1569765354448236544?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    جس پر ایک صارف نے کہا کہ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے اس سے قطعی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہےلڑکیوں کے ساتھ ایسا کرنے والے مرد اساتذہ بدتمیز ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسئلہ نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اس طرح کے اساتذہ کہاں تھے؟


    بعض صارفین نے ٹیچر کے اس عمل کو سراہا کہا کہ آپ کو ایک بہت بڑا سلام اور بہت زیادہ احترام محترمہ ایک استاد کا ایسا ہی ہونا چاہیئے بہت قریب آنے والا، پیار کرنے والا، نرم دل، بہت زیادہ صبر کے ساتھ ، بچے اس کے ساتھ بہت آرام سے رہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اسے پیشہ ورانہ مقابلے کے نام پر کھو دیا، امید ہے کہ کچھ دن ہم سب اس طرح کی انسان دوستی اور پیار بھری تعلیم کی طرف لوٹیں گے۔

  • چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم حضرت امام حسین ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
    باغی ٹی وی – کندھ کوٹ(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر آفس میں چھلم امام حسین کے انتظامات کا۔ جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس بلوایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی کا کہنا تھا کہ ہمارا ضلع ایک پرامن ضلع ہے۔ محرم الحرام مشترکہ تعاون اور امن سے گزرا جس میں علماء کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر علماء کو مشورہ دیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔آپس میں امن اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر مختلف علماء نے چہلم کے دوران اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ جلوس میں سخت سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا ، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور امن قائم رکھا جائے گا۔ گشت کو شہروں اور دیہاتوں تک بڑھایا جائے گا ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چہلم کے جلوس کے مقررہ راستوں پر صفائی اور لائٹنگ کا انتظام کریں۔ سیپکو حکام کو ہدایت وه چہلم کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکرکے علما ، نے۔ بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    ہم دور جاہلیت کے مسلمان کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ؟ اس کے لئے ہم سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ دور جاہلیت تھا کیا ؟ دور جاہلیت دین اسلام کے آنے سے پہلے کے دور کو کہا جاتا ہے ۔ اگر ہم اس دور کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں ایک دوسرے کا حق مارنا فخر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ، ان کو اپنے ہاتھوں قتل کر دینا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا ، ماں کو لاوارث سمجھ کر منڈیوں میں بیچ دیا جاتا تھا ۔ جائیداد کی طرح آپس میں تقسیم کیا جاتا تھا ، والدین کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا تھا ۔ غلاموں کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ۔ طاقت ور کمزور کو انسان سمجھنے کو ہی تیار نہیں تھا اگر آج ہم اپنے معاشرے پر روشنی ڈالیں تو دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ دور جاہلیت میں یہی تمام کام کفار ومشرکین کیا کرتے تھے جب کہ آج کے دور میں ہم نام نہاد مسلمان بھی یہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سی ایسی برائیاں نظر آتی ہیں جو دور جاہلیت میں کفار و مشرکین میں موجود تھی ۔

    سب سے پہلے ہم بات کریں گے کہ دور جاہلیت میں بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا جاتا تھا اگر ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے کا ہی واقع ہے کہ ایک آدمی نے اپنی چند دن کی بیٹی کو محض اس لیے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے اسے تو لڑکا چاہیے تھا ۔

    اگر ہم غلاموں اور کمزور افراد کی طرف دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے ہی ہم سب نے ایک واقعہ پڑھا کہ ایک کمزور انسان کے بچے نے ایک طاقتور کے گھر کے باغ سے ایک پھول توڑا تو طاقت ور انسان نے اپنے رشتے داروں کو بلایا اور پھول توڑنے والے بچے کے والد کو مار مار کر لہولہان کردیا کیا اور پھر اس غریب انسان کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے بھی رہے ۔ اگر ہم اسی ایک واقعہ کو دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے دور میں بھی غریب اور کمزور انسان بے بس اور مجبور ہیں اور طاقتور انسان اس کو جیسے مرضی کچھ چبھی کہہ سکتا ہے ۔

    ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک واقعہ واقعہ پیش آیا کہ بہو اور بیٹے نے بوڑھی ماں کو مار کر گھر سے نکال دیا اور بوڑھی ماں روتی ہوئی پولیس اسٹیشن جاپہنچی ، اگر دیکھا جائے تو کیا یہ لوگ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین سے ذرا سا بھی مختلف نہیں ہیں ۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ کافر اور مشرک تھے اور یہ لوگ پیدائشی مسلمان ہیں ۔ جو ہیں تو مسلمان لیکن اسلام کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

    ہمارے معاشرے کا بھی تو یہی عالم ہے کہ اگر کوئی غریب اپنی بیٹی کا رشتہ کسی بدچلن بدکردار کو نہیں دیتا تو اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا جاتا ہے ، اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے ، تاکہ لڑکی اور اس کے گھر والے کہیں بھی جینے کے قابل نہ رہیں ۔ اگر ہم دور جاہلیت کے خاتمے کی بات کریں تو صرف یہی ایک بات تھی کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنایا ، خاص طور پر اسلام کا نظام عدل اور انصاف ۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اسلام کا نظام عدل و انصاف اپنایا تو اچانک سے وہی لوگ جو دنیا کے بدترین لوگ کہلاتے تھے وہی لوگ دنیا کو تعلیمات دینے لگے اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی راہ دکھانے لگے ، وہی لوگ جو جہالت کے سردار کہلاتے تھے ، وہی لوگ دنیا کے راہنما اور رہبر بن گئے اور آج بھی اگر ہم دیکھیں تو ہمیں ان سارے واقعات کے پیچھے صرف ایک ہی بات دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظام عدل و انصاف بری طرح متاثر ہوا ہے ہماری عدالتیں سیاستدانوں کے چکروں میں پڑ کر دن میں دو دو تین تین دفعہ ان کے کیس کی سماعت کرنے کو تیار ہیں لیکن مجبور بے بس غریب انسان جن میں سے اکثریت بے گناہ افراد پر مشتمل ہیں وہ اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں ہی گزار دیتے ہیں ۔ 17 سال 18 سال 21 سال اور اس سے بھی زیادہ عرصہ جیل میں گذارنے کے بعد اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں کہ عدالت انہیں باعزت بری کر دیتی ہے جبکہ دوسری طرف طاقتور انسان اپنی دولت کے گھمنڈ اور اعلی شخصیات سے تعلقات کی بدولت عدل کو خرید لیتا ہے ۔ بیٹیوں کی عزتیں روند ڈالنے والے میرے معاشرے میں بربادی کا سبب بننے والے تو ضمانت لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور غریبوں کو مزید پریشان اور مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے کیسز واپس لے لیں اور بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے وہی جیلوں میں سڑ رہا ہوتا ہے ۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں بھی عدل و انصاف کا نظام بہتر ہوجائے تو آج پھر ہمارا معاشرہ سب سے روشن ہو سکتا ہے ۔ آج بھی ہم دنیا بھر کے رہنما بن سکتے ہیں ۔ یہ عدل ہی تو تھا جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران کے سامنے ایک عام سے شخص کو کھڑا کر دیا کہ بتاؤ عمر آپ نے اپنے حصے کا زیادہ کپڑا کیوں لیا ؟ اور وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطبہ چھوڑ کر پہلے کپڑے کا حساب دینا پڑتا ہے اگر آج ہم ایسا عدل و انصاف پالیں تو آج پھر ہم معزز ہو سکتے ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ان لوگوں نے اسلام کو دل سے تسلیم کیا تھا ، ان لوگوں نے اسلام کے لیے تشدد برداشت کیا تھا ، ظلم سہتے تھے ، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لیے جانیں دی تھیں ، اسی لیے وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے وقف کر گئے اور ہم پیدائشی مسلمان ہیں، نام نہاد مسلمان جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہمارے ہاں تعلیمی نظام بھی ایسا ہے کہ ہم حق اور سچ کو اپنانے کی بجائے صرف مفاد پرست انسان بن چکے ہیں ۔ مظلوم کو حق دینے کی بجائے غرور اور تکبر میں شاید فرعون اور نمرود سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے پاس ان کے جتنے اختیارات نہیں ہیں ورنہ ہم بھی ان سے کسی صورت مختلف نہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی جب غرور و تکبر کو توڑنے پر آتا ہے ہے تو پھر جس دریا کا پانی فرعون کے حکم سے رک جایا کرتا تھا اسی فرعون کو اسی پانی میں غرق کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی دنیا جہان والوں کے لئے نشان عبرت بنائے ، ہمیں اس کے دین کی طرف لوٹ آنا چاہیے ۔ اپنی دینی تعلیمات کو اپنا لینا چاہیے ، یقیناً اسی میں ہماری بھلائی ہے اور اسی طرح ہم دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں

  • سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    ریاض: 63 سالہ ایک سعودی شخص نے 53 شادیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد استحکام اور ذہنی سکون تھا، ذاتی خوشی نہیں۔

    باغی ٹی وی : ” گلف نیوز ” کے مطابق 63 سالہ سعودی شہری ابو عبداللہ جو 53 شادیاں کرنے کے دعویدار ہیں نے کہا ہے کہ پہلی شادی 20 سال کی عمر میں کی تھی اور اب ان کی عمر63 برس ہے –

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    ابو عبداللہ کو صدی کا سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان کہا جا رہا ہے کا کہنا ہے کہ ان کے نکاح میں اب صرف ایک خاتون ہیں۔ آئندہ ایک سے زیادہ شادیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ایم بی سی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عبداللہ نے بتایا کہ وہ خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دوست نے شادیوں کے حوالے سے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی-

    63 سالہ شخص نے بتایا کہ شروع میں ایک سے زیادہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پہلی بیوی سے مطمئن تھا۔ میرے بچے بھی تھے۔ کچھ عرصہ بعد مسائل شروع ہوئے اس وقت میری عمر 23 برس تھی۔ ذہنی آرام و سکون کے لیے دوسری شادی کی اور میں نے اپنی بیوی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    اس نے کہا کہ بعد میں اس کی پہلی اور دوسری بیویوں کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوا، جس نے اسے تیسری اور چوتھی بار دوبارہ شادی کرنے پر اکسایا ابو عبداللہ نے کہا کہ بعد میں اس نے پہلی، دوسری اور تیسری بیویوں کو طلاق دے دی۔

    ابو عبداللہ نے دلیل دی کہ اس کی متعدد شادیوں کی وجہ اس کی ایک ایسی عورت کی تلاش تھی جو اسے خوش کر سکے تاہم ذہنی آرام و سکون کے لیے شادیاں کرتا رہا۔

    تمام بیویوں کے درمیان انصاف سے کام لینے کی کوشش کی تمام شادیاں یکے بعد دیگرے نہیں کیں۔ پہلی شادی کے وقت میری بیوی مجھ سے چھ سال بڑی تھی ایک شادی ایسی بھی رہی جس کا دورانیہ صرف ایک رات تک محدود رہا۔

    ابو عبداللہ نے کہا کہتمام شادیاں روایتی انداز میں کیں میری بیشتر بیگمات سعودی رہیں تاہم غیرملکی خواتین سے شادی مجبوری میں کی کاروبار کی غرض سے بیرون مملکت سفر کے دوران غیرملکی خاتون تین، چار ماہ تک میرے نکاح میں رہتی تھی۔ برائی سے بچنے کے لیے ایسا کرتا تھا میں نے طویل عرصے میں 53 خواتین سے شادی کی-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ہر مرد کی خواہش ہے کہ ایک عورت ہو اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے استحکام کسی نوجوان عورت سے نہیں بلکہ ایک بوڑھی عورت سے ملتا ہے-

    اسلام میں، جو ایک وقت میں چار بیویاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، اگر کوئی مرد اپنی تمام بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، تو اسے ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔

  • "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    لڑکپن کو اگر بچپن کے ہم قافیہ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا کچھ اصطلاحی مفہوم سمجھ آتا ہے وگرنہ پہلی بار سننے میں یہ لفظ پٹھانوں کی سویٹ ڈش لگتی ہے.

    لڑکپن انسانی زندگی کا وہ حصہ ہے جب انسان بارہ سے اٹھارہ سال کا ہوتا ہے. یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب انسان خواب دیکھنا شروع کرتا ہے، جاگتی آنکھوں سے اور سوتی آنکھوں سے بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں اور سوتی آنکھوں کے خواب بے اختیار.

    خیر جاگتی آنکھوں میں بہت سے سہانے سپنے سجائے انسان اس عمر میں بہت سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے مگر کبھی ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا.

    اس دورانیہ کا درمیانی حصہ یعنی پندرہ سولہ سال وہ عمر ہے جب انسان نہ بڑا ہوتا ہے نہ بچہ رہتا ہے. بچوں کے ساتھ بچہ بننے میں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ بڑوں کی محافل میں ان کی کچھ مخصوص باتیں سن کر بھی شرم ہی محسوس ہوتی ہے.
    یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان غلطیاں کرنا بھی نہیں چاہتا اور غلطیوں کو نہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہوتا. لہٰذاء ہر بار غلطیاں دہرانے میں ہی دل کا سرور اور ابا کی ڈانٹ حاصل ہوتی ہے.

    لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جب امی جی کوئی کام کر دیں تو غصہ آتا ہے کہ یہ کام میں خود کر سکتا ہوں اور اگر نہ کریں تو بھی غصہ آتا ہے کہ سارے کام مجھ پر چھوڑ دیے ہیں.

    اسی عمر میں انسان کی جسمانی ساخت بدلنے لگتی ہے. لڑکے اسی عمر میں عالم چنا سے مقابلہ کرنے کی ٹھانتے ہیں اور قد کھینچتے چلے جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں آپس میں مقابلہ شروع کر دیتی ہیں کہ تو بڑی چڑیل ہے یا میں…!

    یہ حقیقت ہے کہ اس عمر میں ایک دوسرے کو چڑیل لگنے والی لڑکیاں اپنے ہم عمر و ہم جماعت لڑکوں کے لیے حوریں ہوتی ہیں، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ حوریں انہی لڑکوں کی بھاری ہوتی آواز سن کر ایسے ڈر جاتی ہیں جیسے کبوتری بلی کی آواز سن لے. بعض لڑکے وقت سے پہلے بڑے ہونے کے چکر میں خوامخواہ شیونگ کریم کا استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کا نقصان بعد میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ خود بڑے ہوتے ہیں ان کی داڑھیاں ان سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں. یہی حال لڑکیوں کا ہوتا ہے جو ناسمجھی میں اپنی ناک اور ہونٹ کے درمیان والے غیرمحسوس بالوں (جن کو میری معلومات کے مطابق اپر لپ کہتے ہیں) کو مونچھ سمجھ کر کاٹ ڈالتی ہیں اور پھر ہر ہفتے باقاعدگی سے اس سزا کو بھگتا جاتا ہے.

    خیر اس چھوٹی سی عمر میں انسان بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے سے بھی نہیں کتراتا، مثلاً فی زمانہ کا ایک لڑکا اپنی شناسا سے کہنے لگا،

    "تم فکر مت کرو. تمہیں دہی پسند ہے. میں تمہارے لیے خود بھینسوں کا دودھ نکال کر دہی بنا دیا کروں گا.”

    حالانکہ یہ دعوہ کرنے والا لڑکا خود آئرن کی کمی کے باعث پانچ کلو والا آٹے کا تھیلا اٹھانے سے قاصر تھا.

    اس عمر میں عقائد کی ناپختگی انسان کو ہر قسم کی مجلس، دربار، عرس، قل خوانی اور سیاسی ریلیوں تک لے جانے کا سبب بنتی ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے یا ان کے جواب دینے پر مجبور کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جلسے میں اس عمر کے لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جنھیں محض ایک بوتل یا بریانی کا ڈبہ کھینچ لاتا ہے.

    اس عمر کے لڑکے بہت جذباتی ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے جذبات بہہ نکلتے ہیں. یہ وہی لڑکے ہوتے ہیں جو ساؤتھ انڈین فلمیں دیکھ کر سینا تانے پھڑتے ہیں اور "تارے زمیں پر” دیکھ کر انکا رونا بند نہیں ہوتا. لڑکیوں کا معاملہ کچھ اور ہے، یہ جو مرضی فلم دیکھیں ان پر رونا واجب ہے.

    لڑکپن بہادری کا دور ہوتا ہے. خود سے چھوٹے بچوں کو لال بیگ سے ڈرتا دیکھ یہ لڑکے ان کی ہنسی اڑاتے ہیں مگر یہی لڑکے رات کے وقت کتے کا بھونکنا سن لیں تو خون پسینہ خشک ہو جاتا ہے. خود ہم نے چودہ سال کی عمر میں بھینسوں کے ایک طبیلے میں قدم کھنے کی جسارت کر دی. بس پھر کیا تھا، چوکیدار کتے نے ہماری وہ دوڑیں لگوائیں کہ اگر آپ ہمیں بھاگتا دیکھ لیتے تو یوسین بولٹ کو بھول جاتے.
    خود اعتمادی کی بات کی جائے تو جو لوگ اس کچی عمر میں اس نسخۂ کیمیا کو پا لیتے ہیں، وہ پالیتے ہیں. ورنہ بعد میں چاہنے کے باوجود وہ نہیں بول پاتے جو وہ بولنا چاہتے ہیں. یہاں بولنے سے مراد من پسند جگہ پر شادی کرنے کا اظہار ہرگز نہیں ہے. یہ تو ہر پل پھیلتی کائنات کے اسرار و رموز، سیاست کے اتار چڑھاؤ، فلسفے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، نسل پرستی، ادب، کھانوں اور خواتین جیسے عظیم موضوعات پر اپنے رائے رکھنے اور اس کو بیان کرنے کا نام ہے.

    اس عمر میں انسان بولنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بات میں بولنا لازم سمجھتا ہے. میرا چھوٹا بھائی بھی ہر فضول سے فضول تر اور اہم سے اہم ترین بات میں اپنی رائے فرض سمجھ کر پیش کرتا ہے. ایک بار پندرہ سالہ ایک لڑکا رش میں اپنی موٹر-سائیکل سمیت پھنس گیا. اب وہیں ایک دکاندار بار بار اس کو نشانہ بنا کر کہتا "اتنے رش میں ضروری آنا تھا، ضروری آنا تھا.” آخر لڑکے نے بھی کہہ دیا، "انکل! آپ کو پتہ ہے میرے دادا ابو ١٠١ سال کے ہو کر مرے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے.” اس کے بعد ٹریفک کوئی آدھ گھنٹہ بلاک رہی اور اس دکاندار کے ہونٹ بھی.

    انسان کے بننے یا بگڑنے کا دارومدار اسی عرصہ پر ہوتا ہے کیونکہ انہی سالوں میں وہ میٹرک اور انٹر کے مشکل ترین مراحل سے گزرتے ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کامیابی کا معیار ان جماعتوں کا پاس کرنا تو نہیں… مگر چونکہ ہمارے معاشرے میں انٹر کے بعد کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ کامیابی کی سند ہے، اسی لیے دبلے پتلے لڑکے لڑکیاں اپنے کزنز سے آگے بڑھنے کے لیے جان مار دیتے ہیں اور جو جان نہیں مار پاتے، وہ پھر ایک دوسرے پر جان وار دیتے ہیں.

    خیر جو لوگ بگڑ جاتے ہیں، وہ انہی سالو‍ں کو یاد کر کے پچھتاتے ہیں اور جو لوگ بن جاتے ہیں، وہ ان سالوں کی غلطیاں یاد کر کے افسوس کرتے ہیں. مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور ہی ان کی زندگی کا سنہری اور بنیادی دور تھا جس میں ان کی ٹانگیں لمبی اور مضبوط ہوئیں.

    مختصر یہ کہ زمانۂ لڑکپن کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں. فائدہ یہ کہ اس دور کے بعد انسان خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے اور نقصان یہ کہ اس کے بعد انسان سمجھدار اور بڑا ہو جاتا ہے.

  • یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی. پاکستان میں چائنیز کمپنیوں میں کام کیا، ان کے ورکرز جو بطورِ قیدی سزا کاٹ رہے تھے انہیں پاکستان بھیجا گیا کام کرنے کیلئے، جس Designation پر ہم تھے اسی پر وہ تھے، ان کے تنخواہ ہم سے چھ گنا زیادہ تھی، رہائش، کھانا بھی ہم سے بہت اچھا تھا اور کھانا انہیں کمپنی دیتی تھی جبکہ ہمیں کھانے کے پیسے دے کر بھی ان سے کہیں گھٹیا کھانا ملتا تھا، رہائش انہیں اے سی ملی تھی اور ہمیں خیمے ملے تھے جن میں ایک پیڈسٹل فین تھا. جب وہ گھوم کر دوسری طرف چکر لگانے جاتا تھا تو پیچھے والوں کو اتنی دیر میں مچھر کاٹ کھاتے تھے. یہ صرف اس ایک پراجیکٹ کی بات نہیں پورے پاکستان میں ہر جگہ پراجیکٹس کی زندگی ایسی ہی ہے اور ایسے ہی چند معدودے سکوں کے عوض انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.

    دوسری جانب ہم بیرون ملک جاتے ہیں، اس سے پہلے جن ملکوں میں گئے وہاں تو لوکل بندے ورکر لیول پر ملے ہی نہیں، سعودیہ میں آخری سال 2020 میں دیکھے لیکن وہ بھی کام وام نہیں کرتے تھے بس دیہاڑی لیتے تھے بہرحال تنخواہ ان کی پھر بھی ہم سے زیادہ تھی.

    اب ہیں عراق میں…

    یہاں ہمارے ٹیکنیشنز کے ساتھ لوکل ہیلیپر ہیں. سویپرز بھی لوکل ہیں. یعنی unskilled لیبر ہیں. ان کی تنخواہ ہمارے ٹیکنیشنز سے بھی زیادہ ہے، ان کو رہائش ہم سے بہتر ملی ہے کہ وہ ایک کمرے میں چار آدمی رکھے گئے ہیں اور ہم چھ. انہیں الماریاں مہیا کی گئی ہیں ہمیں نہیں کی گئیں، ان کے کمرے ہم سے کھلے ہیں ہمارے کمرے تنگ ہیں.

    ان کا کھانا ہم سے کہیں زیادہ اچھا ہے اور ہمارا کھانا بالکل تھرڈ کلاس ہے، پھر لوکل گورنمنٹ ہالیڈیز کی بات کی جائے تو انہیں ان ہالیڈیز پر کام کرنے کا اوور ٹائم دیا. جاتا ہے اور ہماری ہالیڈیز مار لی جاتی ہے. عید اور جمعہ کے علاوہ کی چھٹیوں کے علاوہ کسی ہالیڈے کا کوئی اوور ٹائم نہیں دیا گیا.

    جبکہ بڑی عید کے بعد محرم میں دس اور اب صفر میں چھ ہالیڈیز ہیں لیکن ڈکار گئے.

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستانی عراق جیسے غریب ملک کے شہریوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنے ملک میں بھی راندہ درگاہ ہیں اور دوسرے ملک میں بھی راندہ درگاہ.

    اور سنیں دنیا کے چند بڑے ایئرپورٹس دیکھے، انہوں نے اپنے لوکل شہریوں کیلئے وی آئی پی کاؤنٹرز بنائے ہیں. اور ہم جیسے خارجی لائنوں میں لگے دیکھے چاہے کوئی امریکی شہری ہی کیوں نہیں تھا.

    لیکن پاکستان میں لوکلز کے ساتھ ایئرپورٹس پر گھٹیا سلوک اور لمبی لائینیں دیکھیں جبکہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے لیے وی آئی پی کاؤنٹرز اور بہترین رویہ دیکھا.

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟

  • اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1952 سے لیکر اب تک ستر سال تک تاجِ برطانیہ پر حکومت کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آج سہہ پہر چل بسیں۔ اُنکے دورِ حکومت میں ونسٹ چرچل سمیت 15 وزراء اعظم نے عہدہ سنبھالا۔ اُنکے بعد انکے بڑے بیٹے شہزادہ چالرس اب برطانیہ کی بادشاہت کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ملکہ الزبتھ کے بارے میں چند دلچسپ باتیں:

    1. اُن کے پاس سفر کرنے کے لئے پاسپورٹ نہیں تھا۔ کیونکہ پاسپورٹ کا اجرا کرنے والی اتھارٹی برطانیہ میں وہ خود تھیں۔ وہ بغیر پاسپپورٹ کے ہی سفر کرتیں۔

    2. اُنہوں نے 1945 میں گاڑی چلانا سیکھا۔اُنہیں گاڑی چلانے کے لیے بھی ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ویسے یہ سہولت پاکستان میں بھی موجود ہے۔

    3.دوسری جنگ عظیم کے دوران اُنہوں نے فوجی ٹرک بھی چلائے۔

    4. سڈنی کے اوپرا ہاؤس کا افتتاح بھی 1973 میں اُنہوں نے کیا۔

    5. دوسرے ممالک کے دئے گئے تحفوں کے طور پر وہ لندن کے چڑیا گھر میں ایک ہاتھی، دو کچھوؤں اور ایک جیگوار کی بھی مالک تھیں۔

    6. قانون کے مطابق برطانیہ کے پانیوں میں موجود تمام ویلز اور ڈالفنز کی ملکیت اّنکے پاس تھی۔

    7. 1976 میں اُنہوں نے پہلی رائیل ای میل بھیجی۔ یہ ای میل برطانیہ کے کمیونکیشن کے تحقیق ادارے کے کمپوٹر نیٹ ورک سے بھیجی گئی۔

    8. انگریزی زبان کے علاوہ اُنہیں فرنچ زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

    9۔ اُنہیں ہر سال تقریباً 7 ہزار خطوط دنیا کے مختلف کونوں سے موصول ہوتے جن میں سے اکثر کا وہ یا اُنکی ٹیم جواب بھی دیتی۔

    10. وہ سال میں دو مرتبہ سالگرہ مناتیں۔۔ایک 21 اپریل کو جو اّنکی اصل تاریخ پیدائش تھی اور دوسری سرکاری سالگرہ جسکا انحصار اچھے موسم پر ہوتا۔

    11. ملکہ الزبتھ پاکستان کے دورے پر دو مرتبہ 1961 اور 1997 میں آئیں۔

    اُنکی وفات کے بعد اب اُنہیں تدفین سے پہلے چار دن تک لندن کے ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا جائے گا جہاں عام عوام آ کر اُنہیں دیکھ سکے گی۔ اُنہیں دیکھنے کے لئے متوقع طور پر 10 لاکھ کے قریب لوگ آئیں گے۔ اُنکی تدفین کی تقریب میں دنیا بھر سے اہم رہنما اور قائدین بھی شرکت کریں گے۔

  • ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) میں کیا درج ہوتا ہے؟

    اِس کارڈ میں شہری کا نام، پتہ، ولدیت، تاریخ پیدائش اور بائیو میٹرک معلومات کے ساتھ ایک شناختی نمبر شامل ہوتا ہے۔ یہ منفرد نمبر ہر شہری کے لئے الگ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور شہری کو نہیں دیا جاتا۔

    اب چلتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی جانب اور کوشش کرتے ہیں اک چھوٹی سی تاکہ اس مسئلہ کا حل نکل جائے۔

    خانہ بدوش فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد وہ شخص جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہو . انگریزی ادب میں اس کیلئے ” vagrant ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے،
    خانہ بدوشوں کی طرز زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہوتا،

    خانہ بدوش سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے بلکہ جابجا گھومتے پھرتے ہیں

    یہ عموماً شہری علاقوں سے باہر خالی زمینوں اور پلاٹوں پر خیمے اور جھونپڑیاں لگا کر ڈھیرے جما لیتے ہیں۔ کالی رنگت والے خاندانوں کے اکثر افراد منشیات کے عادی پائے گئے ہیں۔ نہ صرف مرد بلکہ ان کی عورتیں حتیٰ کہ کمسن بچے بھی تمباکو نوشی اور چرس وغیرہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ان میں خود محنت مزدوری کر کے بال بچوں کا پیٹ پالنے والے مرد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی جھونپڑیوں میں رہنے والے خانہ بدوش مرد سارا سارا دن خیموں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ ان کی خواتین تو بھیک مانگتی ہیں، اپنا، اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاوند کو بھی پالتی ہیں۔

    ان سب چیزوں کے علاوہ جو توجہ طلب اور بہت ضروری عمل ہے اور سب سے زیادہ تشویشناک بات جو ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، کہاں جاتے ہیں، ان کی کوئی شناخت نہیں، ایسے افراد میں ملک دشمن افراد بھیس بدل کر آرام سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کو اس ایشو پر خصوصی توجہ دینی چاہئیے، ایسے افراد کی شناخت والے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی ہمیں سنگین مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔