Baaghi TV

Category: متفرق

  • برطانیہ میں چوری کی انوکھی واردات،چور گرفتار

    برطانیہ میں چوری کی انوکھی واردات،چور گرفتار

    لندن: پولیس نے ایک برطانوی شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر لگ بھگ 500 سائیکل چرانے کا الزام ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق آکسفورڈ شائرکے 54 سالہ شخص پر سائیکلیں چرانے کا الزام ہے اور اس کے گھر کے پاس ہی ایک کھلی جگہ پر سینکڑوں سائیکلیں بھی موجود ہیں جو مٹی سے بے رنگ ہورہی ہیں اور وہاں چوہوں کا راج ہے۔ سائیکلیں گزشتہ پانچ برس میں چراکر جمع کی گئی ہیں اور اب ایک بڑے ڈھیر کی شکل اختیار کرچکی ہیں اور وہ گوگل میپ سے بھی دکھائی دیتی ہیں۔

    آکسفورڈ شائر میں ناراض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں چوہوں کی لپیٹ میں آنے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے، جو کہا جاتا ہے کہ ایک ہفتے تک تعمیر ہو جائے گی متعدد شکایات کے بعد، گھر میں رہنے والے ایک 54 سالہ شخص کو چوری شدہ سامان اور مجرمانہ املاک پر قبضے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ان سائیکلوں کی اکثریت چوری کی گئی ہے اور اب ان کے مالکان کی تلاش جاری ہے عوام اور خود پولیس بھی حیران ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سائیکل یہاں کیسے جمع ہوئیں، اب تک اسے پر نظر کیوں نہیں گئی اور اگر یہ فروخت نہیں کی گئیں تو پھر اس چوری کا مقصد کیا تھا۔

    میکسیکو:چھوٹا طیارہ سپر مارکیٹ میں تباہ،3 افراد ہلاک، 4 زخمی

    53 سالہ کولین بٹلر 32 سال سے وہاں مقیم ہیں انہوں نے بتایا کہ کئی برس سے سائیکلوں سے بھرا ٹرک رات میں آیا کرتا ہے کبھی دن میں لیکن ہم نے اس پر توجہ نہیں دی تاہم پڑوسی نے سائیکل چور سےپوچھا کہ اتنی سائیکلیں کس لیے جمع کی گئی ہیں؟ تو اس نے کہا کہا یہ غریب افریقی بچوں کو دی جائیں گی۔ تاہم ایک طویل عرصےبعد بھی یہ سائیکلیں وہیں موجود رہیں۔

    تاہم پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے جس کے بعد مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔

    واضح رہے کہ آکسفورڈ شائر کا یہ علاقہ کئی برس سے سائیکل چوری کا ایک بڑا مرکز تھا یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ میں اسے سائیکل سواروں کے لیے بدترین مقام بھی کہا جانے لگا تھا۔

    پاکستان رینجرز سندھ کی کاروائی ، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیاء برآمد

  • آل پاک پنشنرز ایسوسی ایشن کی فری ممبر شپ حاصل کرنے کے خواہشمند لوگوں کے لئے خوشخبری

    آل پاک پنشنرز ایسوسی ایشن کی فری ممبر شپ حاصل کرنے کے خواہشمند لوگوں کے لئے خوشخبری

    آل پاک پنشنرز ایسوسی ایشن کی فری ممبر شپ حاصل کرنے کے لیے فارم ڈاؤن لوڈ کریں اور اسے مندرجہ ذیل نمبر پر واٹس اپ کرکے فوری رجسٹریشن نمبر حاصل کریں
    03009192017

  • خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    ملک میں ان دنوں انتشار اور غیر یقینی کی جو صورت حال چل رھی ھے وہ یقینن تکلیف دے ھے جب بھی کوئی حکمران غیرت کا مظاھرہ کرتا ھے تو چند مہرے دشمن کے اشارے پر اچھلنا کیوں شروع کر دیتے ھیں کیا انھیں ملک کی خوداری عزیز نہیں ؟؟ اگر وہ عوام کے درد میں بے حال ھو رھے ھیں تو پہلے اس سب کا حساب دیں جو وہ اپنے دور حکومت میں کر چکے ھیں پھر عمران خان سے حساب مانگیں ۔

    ایسا کیوں ھے کہ عمران خان اورسیز کو بغیر وطن واپس آئے ووٹ دینے کا حق دے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان الیکشن میں شفافیت کے لیے ای وی ایم کے زریعے الیکشن کروانےکا اعلان کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان گزشتہ حکومتوں کے پروجیکٹ مکمل کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان پٹرول سستا کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان ھیلتھ کارڈ جاری کرے تو اپوزیشن کو تکلیف اور عمران خان امریکہ اور یورپ کے ڈو مور کے جواب میں ابسولیٹلی ناٹ کہے تو اوزیشن کو تکلیف ۔پاکستانیوں کیا تمھیں سمجھ نھی آ رھی کہ اپوزیشن کس کے اشارے پر بندر کی طرح اچھل رھی ھے؟

    اسلام دشمن قوتوں نے بلحاظ ایک اسلامی ملک کے پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا توبرداشت کر لیا ھے مگر وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ھواپھلتا پھولتا برداشت نھی کرسکتے۔ وہ جانتے ھیں پاکستان معاشی طور پر مضبوط ھو گا تو ایشیا ھی نھی دنیا بھر کے مسلم ممالک یہودی اور عیسائی طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ھوں گے تیسری نشاط اسلامیہ جنم لے گی اور سودی نظام اپنے بنانےوالوں سمیت اپنے بل میں پناہ لینے ہر مجبور ھو جاےت گا اور یہودی و عیسائی یہ سب نھی چاھتے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بار کہا تھا پاکستان کی بقا ھی خطے کے مسلمانوں کی بقاء ھے ۔ پاکستان کی جو جغرافیائی حیثیت ھے اس لحاظ سے تو عمران خان ھی بطور حکمران جچتے ھیں_

    پاکستان کی اس حیثیت سے خود پاکستان کو اتنا فاٸدہ نھی ھوا جتنا نقصان ھوا ھے۔ نواز شریف یا آصف علی زرداری کی اتنی اوقات ھے نہ ھی ان میں جرات کہ وہ امریکہ اور یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں یہ کام عمران خان اچھے سے کر سکتے ھیں اور کر بھی رھے ھیں ۔ میں یہ نھی کہتی کہ وہ قاٸد اعظم ثانی ھیں ھاں لیکن ان میں قاٸداعظم جیسی جرات بے باکی دو ٹوک انداز ضرور پایا جاتا ھے ۔ عمران خان نے بطور حکمران کچھ غلطیاں بھی کی ھوں گی بطور انسان ان میں خامیاں بھی ھوں گی کیونکہ وہ فرشتہ تو نھی ھیں انسان ھیں لیکن وطن اور قوم کے لیے ان کے اخلاص پر کوئی دو رائے نھی ھے۔

    اگر آپ مہنگائی سے نالاں ھیں تو وہ دنیا کے ھرملک میں ھے اور آپکو میں بتاتی چلوں کہ ایوب خان کے دور میں جب امن و امان مثالی تھا جب پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار پر دنیا حیران تھی اور پاکستان ایشین ٹاٸیگر بننے جا رھا تو نام نہاد جمھوریت پسندوں اور سویلین بالادستی کے شوقین سیاستدانوں نے مہنگاٸ کے نام پر یہ افراتفری تب بھی مچاٸ تھی۔ آپ اگرواقعی مہنگاٸ سے نالاں ھیں تو عمران خان پر تنقید کریں کوٸ آپکو نھی روکے گا مگر ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو اپنی خوداری تو بیچ ھی چکے ھیں اب وطن کی خود داری بھی بیچنا چاھتے ھیں ۔وقت آ گیا ھے سندھی بلوچی پنجابی کشمیری بننے کے بجاۓ اور پی پی , پی ایم ال این یا پی ٹی آئی کے فالور بننے کے بجائے اورموجودہ صورت حال پر ٹھٹھے اڑانے یا قہقہ لگانے کے بجائے اپنے وزیراعظم کے پیچھے دیوار بن کر کھڑے ھوں اور ایک لفظ "پاکستانی,, پر متحد ھو جاٸیں ۔ اور دشمن کو بتاٸیں کہ ھم پاکستانی ھیں اورھم بلحاظ قوم اپنے وطن کی خوداری پر سمجوتا نھی کریں گے آزاد ملک کا قیام 1947 میں ھوا تھا اور ان شاء اللہ خودار پاکستان کا قیام 2022 میں عمل میں آئے گا ۔ داٸیں یا باٸیں ھونے سے پہلے یاد رکھیں عالم اسلام کے قلب میں واقع آپ کا یہ نیو کلیر ملک صرف آپ کا نھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا محافظ ھے۔

    جو جنگ لڑی جاری رھی ھے اسے آپ اسلام اور کفار کی جنگ بھی کہہ سکتے ھیں اور ان شاء اللہ ھم نے یہ جنگ ھر صورت جیتنی ھے ۔ اللہ پاک وزیراعظم پاکستان , وطن عزیز اور ھم وطنوں کا حامی و ناصر ھو آمین

  • نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کرالجزائر سے فرانس پہنچ گیا

    پیرس: الجزائر سے ایک نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر فرانس پہنچ گیا،تاہم اسے فرانسیسی پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : کم ترقی یافتہ ممالک سے یورپ یا شمالی امریکہ جانے کی کوشش کرنے کے واقعات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں کچھ کیسز میں یہ لوگ اپنے ممالک میں تشدد یا جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ دیگر بہتر معاش کی تلاش کے لیے جان کی بازی لگا بیٹھتے ہیں-

    پاکستان میں رہوں گا میرے کپڑے بھجوا دیں، غیر ملکی تماشائی کا اپنی والدہ کو پیغام

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو طیارے کے نچلے حصے کے خفیہ خانوں میں چھپا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو نہایت گھبراہٹ کے عالم میں عملے کے ارکان کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔

    اس نوجوان نے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کسی طرح طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر الجزائر سے فرانس تک کا سفر کیا نوجوان کی اس حرکت کا پول فرانس میں ڈیگول ہوائی اڈے پر کھلا جہاں طیارے نے لینڈنگ کی تھی۔

    تمام مسافروں کے اتر جانے کے بعد اور سامان آف لوڈ کرنے کے دوران نوجوان ایک خفیہ خانے میں پایا گیا۔ مسافر کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جو اسے الجزائر ڈی پورٹ کردیں گے۔

    پولیس میں بھرتی کا خواہشمند نوجوان مقابلے کی دوڑ کے دوران گر کرجاں بحق

    https://youtu.be/vJMfygpWrD8
    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کےبعد الجزائر میں بھی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو نوجوان کے طیارے تک پہنچنے اور پھر میں اس میں خفیہ طور پر سفر کرنے کی تحقیقات کرے گی۔

    واضح رہے کہ یہ پرواز بدھ کے روز قسطنطنیہ کے محمد بوضیاف ہوائی اڈے سے پیرس کے چارل ڈیگول ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ 2019 میں برطانیہ میں طیارے کے اگلے پہیے کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر سفر کرنے والا مسافر دوران پرواز گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔ عینی شاہد نے پولیس کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شخص نے جہاز کے پہیے سے چھلانگ لگائی تھی۔

    اس طرح طیاروں میں چھپ کر سفر کرنے والوں کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟

    بھائی کی شادی پر رقص کیوں کیا؟ بیوی کے بال اور ناک کاٹنے کی کوشش پر شوہر گرفتار

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر کرنے والوں کے لیے شدید خطرات ہوتے ہیں ان میں لینڈنگ گیئر کے تلے دب جانے، فروسٹ بائٹ، قوت سماعت کھونا، ٹینیٹس اور ایسڈوس کے مرض شامل ہیں جو کہ کوما میں چلے جانے یا موت کا باعث بن سکتے ہیں پرواز کے دوران طیارے کے نچلے حصے میں درجہ حرارت منفی 63 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

    18000 فٹ کی بلندی پر ہائیپوکسیا ہو جاتا ہے جس میں پورے جسم یا پھر اس کے کسی حصے کو آکسیجن نہیں ملتی اور اس کی وجہ سے کمزوری اور بینائی کے مسائل ہو جاتے ہیں 33000 فٹ کی بلندی یا اس سے زیادہ پر انسانی پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے مصنوعی فضائی دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے۔

    جب طیارہ 22000 فٹ کی بلندی پر پہنچتا ہے تو اس کے ذیلی حصے میں چھپے کسی بھی شخص کو ہوش میں رہنے میں مشکلات ہوتی ہیں کیوں کہ خون میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اس کے بعد جب چند ہزار فٹ کی اونچائی پر اس حصے کے دروازے طیارے کے پہیے نکالنے کے لیے کھلتے ہیں تو اس طرح چھپے افراد گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

    میزائل پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟ وضاحت کافی نہیں:وزارت خارجہ نے بھارتی

  • بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    لندن: برطانوی چڑیا گھر میں بے رحم بندر نے اڑتے ہوئے سمندری بگلے کو پکڑکر بے رحمی سے لکڑی کے کھمبے پر پٹخ کر مارڈالا۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ کے چیس شائر میں واقع چیسٹر چڑیا گھر میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بندر نے سمندری بگلے کو گرفت میں لے رکھا ہے اور اسے لکڑی کے بانس سے ٹکراکر کر مارڈالا ہے-

    پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    یہ ویڈیو چڑیا گھر آنے والے ایک 32 سالہ شخص ، بیک ایڈمسن نے بنائی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بندر نے جنون میں آکر ایک بڑے پرندے کو سر سے پکڑ رکھا ہے اور بار بار اس کی ضرب کھمبے پر لگارہا ہے یہاں تک کہ نیم مردہ پرندہ نیچے گرجاتا ہے اور بندر تیزی سے نیچے اترکر دوبارہ اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ایڈمسن نے بتایا کہ اس عمل میں بندر کی انگلیاں بھی زخمی ہوگئیں جس کے بعد اس نے نیچے اتر کر پرندے کو نوچا اور اسے کھانے لگا یہ ویڈیو جب ٹک ٹاک پر ڈالی گئی تو بہت تیزی سے وائرل ہوئی جسے اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں-

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بعض صارفین کا خیال ہے کہ بندر نے پرواز کرتے پرندے کو پکڑا تھا لیکن یہ منظر ویڈیو میں نہیں آسکا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ سی گل پرندے نے خود بندر کو ستایا ہوگا کیونکہ یہ بے باک پرندے سیاحوں کو ٹھونگیں مارنے اور ان سے کھانا چھیننے میں بہت ماہر ہیں-

    کچھ صارفین نے اس خوفناک منظر کو کنگ کانگ کی فلم سے تعبیر کیا ہے جس میں وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر ہیلی کاپٹر کو ہاتھ مارکر گرادیتا ہے لیکن اس منظر میں کوئی عمارت نہیں تھی بلکہ 20 فٹ بلند ایک کھمبا تھا جسے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تعمیر کیا تھا۔

    انسانی جسم میں سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرانے والا شہری چل بسا

     

  • بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    ٹوکیو: جاپان میں مبینہ طور پر بدروح سے بھرا ایک بڑا پتھر ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی "دی گارجئین” کے مطابق جاپان میں پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بڑے پتھر کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے خیال ہے کہ اب اس کے منفی اثرات باہر آچکے ہیں-

    پورے جاپان کے سوشل میڈیا میں لوگ اس پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اب یہ حال ہے کہ اس تمام کہانی پر یقین رکھنے والے بعض افراد اس واقعے سے سخت مضطرب اور خوفزدہ ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جو بھی اس کے پاس گیا وہ یقینی طور پر مرجائے گا۔

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…


    جاپانی دیومالا کے مطابق اس پتھر کا نام ’سیشو سیکائی‘ ہے اور اس میں 9 دموں والی خونخوار طلسمی لومڑی بند ہے یا اس کی روح قید میں ہے۔

    تفصیل کے تحت سال 1107 سے 1123 کے درمیان جاپان پر شہنشاہ ٹوبا کا راج تھا اسے قتل کرنے کے لیے ایک عفریت نے خوبصورت عورت کا روپ دھارا۔ آسیبی جانور لومڑی تھی جس نے حسین عورت کا روپ اختیار کیا اور اس عورت کو ’تمامو نو مائی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بعد 9 دم والی لومڑی اپنا روپ بدلتی ہے پھر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پتھر سے زہریلا مواد نکلتا ہے لیکن درحقیقت یہ علاقہ زیرِ زمین تیزابی چشمے پر مشتمل ہے اور وہیں سے گیس اور تیزاب بہتا رہتا ہے۔

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت


    تاہم یہ عجیب واقعہ ہے کہ اچانک یہ بہت بڑا پتھر ٹوٹا ہے اور دو یکساں حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بدھ مت کے ایک بھکشو نے چندروز قبل اپنے علم کے زور پر اسے توڑا ہے اور پتھر کے ٹکڑے جاپان بھر میں پھیل چکے ہیں بہت سے جاپانی یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ اس کا گھر ماؤنٹ ناسو کی ڈھلوان پر ہے۔

    اس واقعے سے قبل سیاحوں کی بڑی تعداد اس چٹان کو دیکھنے آیا کرتی تھی لیکن پتھر ٹوٹنے کے بعد اب لوگ اس علاقے میں بھی نہیں جارہے کیونکہ ان پر خوف طاری ہے۔ یہ علاقہ ٹوکیو کے قریب واقع ہے جسے ٹوچائگی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی افراد ٹویٹر اور فیس بک پر اس کے طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اور بعض افراد نے کہا ہے کہ سال 2022 بھی کچھ اچھا نہیں گزرے گا۔ دوسرے نے لکھا کہ ایک خونخوار بدروح اب جاپان میں آزاد ہوچکی ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    "مجھے لگتا ہے کہ میں نے کچھ دیکھا ہے جو نہیں دیکھا جانا چاہئے،” ایک ٹویٹر صارف نے ایک پوسٹ میں کہا جس نے تقریبا 170,000 لائکس کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    جب کہ دوسروں نے قیاس کیا کہ ’تمامو نو مائی‘ کی شیطانی روح تقریباً ایک ہزار سال بعد دوبارہ زندہ ہوئی تھی، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے چٹان میں دراڑیں نمودار ہوئی تھیں، ممکنہ طور پر بارش کا پانی اندر داخل ہونے کی وجہ سے اس کی ساخت کمزور ہو گئی تھی-

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

  • سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    پستول یا چاقو دکھا کر لوگوں کو لوٹنے والے ڈاکو تو دیکھے ہیں اورآئے روز ایسی وارداتوں کے بارے میں سنتے بھی ہیں لیکن بھارت میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جس میں پولیس کو ایک ایسی خاتون ڈاکو کی تلاش ہے جو لوگوں کو سانپ کے خوف سے لوٹتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تامل ناڈو کی پولیس کو ایک ایسی خاتون کی ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جو لوگوں کو سانپ دکھا کر لوٹتی ہےپولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد سانپ سے ڈرا کر شہریوں کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی خاتون کو پکڑنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

    پولیس کے مطابق کسی شہری کی جانب سے خاتون کے خلاف تاحال مقدمہ درج نہیں کروایا گیا ہے وائرل ویڈیوز دیکھ کر اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ خاتون خانہ بدوش ہے جو سانپ دکھا کر لوگوں سے لوٹ مار کرتی ہے تاہم حکومت نے وائرل ویڈیوز کو سامنے رکھتے ہوئے خاتون کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    امریکامیں تمغہ بہادری پانےوالےپاکستانی نژادشخص کوکارچھیننےکی واردات میں مزاحمت پرراہزانوں نےقتل…

    ایک شہری نے پولیس کوبتایا کہ ایک خاتون اس کے گھر آئی اور اس سے کپڑے مانگے جب انہوں نے کپڑے دینے سے انکار کردیا تو خاتون نے سانپ باہر چھوڑنے کی دھمکی دی۔

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

  • اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    بھوپال: بھارت میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والا مزدور راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک معاشی حالات سے پریشان مزدور کو ہیرا مل گیا ہیرے کو نیلامی کے لیے شہر پنا میں پیش کیا گیا جہاں 87 دیگر ہیرے بھی فروخت کے لیے موجود تھے یہ نیلامی 24 اور 25 فروری کو ایم پی کے ‘ہیروں کے شہر’ پنا میں ہوئی، جو ریاستی دارالحکومت بھوپال سے 380 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ہیروں کے شوقین ایک شخص نے بھٹے کے مزدور کو ملنے والے ہیرے کو ایک کروڑ 62 لاکھ میں خرید لیا ہیروں کی نیلامی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے ٹیکس وغیرہ کاٹ کر بقیہ رقم مزدور کو دے دی جائے گی۔

    بھوپال سے 380 کلومیٹر دور شہر پنا کو ہیروں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں ہیرے مدفن ہیں اور شہریوں کو ملتے بھی رہتے ہیں اسی شہر میں ہیروں کی سب سے بڑی نیلامی بھی ہوتی ہے۔

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    شہر پنا کے ضلعی کلکٹر سنجے کمار مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ دو روزہ نیلامی کے صرف پہلے دن ہی مجموعی طور پر 82.45 قیراط کے 36 ہیرے فروخت ہوئے جن میں مزدور کو ملنے والا ایک ہیرا بھی شامل ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ نیلامی کے دوران، ₹ 1.62 کروڑ کی سب سے زیادہ قیمت 26.11 قیراط کے ہیرے سے حاصل ہوئی، جو 21 فروری کو یہاں کی ایک کان سے ملا تھا۔

    اس قیمتی پتھر کی نیلامی 3 لاکھ روپے فی قیراط سے شروع ہوئی اور 6.22 لاکھ روپے فی قیراط تک چلی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ پنا میں اتنا بڑا ہیرا کافی عرصے کے بعد ملا ہے۔

  • بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بہت پیارے لمحے ساتھ گزار کر پھر وہ کسی اجنبی کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ بڑے حوصلے سے تھما دیتے ہیں اور پھر کہیں کونے میں چھپ کے آنسو بہا لیتے ہیں, بیٹیوں کے دکھ کو جیسے اپنا دکھ بنا لیتے ہیں.
    اپنی بیٹیوں کی پرورش وہ ایسے کرتے ہیں جیسے وہ شہزادیاں ہوں, انکے جہیز میں چاہے قرض لینا پڑ جائے پر کوئی کمی نہیں چھوڑتے
    ہاں ایک چیز جو وہ نہیں دے سکتے وہ ہے اچھا نصیب…
    کئی دفعہ والدین کے غلط فیصلے اولاد کے لئے ساری زندگی کا دکھ بن جاتے ہیں اور بعض دفعہ اولاد اپنی ضد اور ناسمجھی سے اپنے لئے خود گڑا کھود دیتی ہے.
    میرے خیال میں عمر کا 16 سے 25 سال کا دورانیہ انتہائی نازک ہوتا ہے. اس میں اگر انسان سنبھل جائے تو اپنے لئے ایک بہتر مستقبل بنا سکتا ہے مگر اس دوران اگر ناسمجھی میں اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ بنا سوچے سمجھے کردے تو ساری زندگی اسکا پچھتاوا ایک سائے کی طرح پیچھا کرتا رہتا ہے.

    جب اس نے ماں باپ کی مرضی کے خلاف اپنی شادی کا فیصلہ کیا تب وہ میٹرک کی طلبہ تھی اور تقریباً 15 سال اسکی عمر تھی اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن ،ان دنوں میٹرک کے امتحانات ہو رہے تھے گھر سے پیپر دینے نکلی مگر دل میں یہ فیصلہ کرکے نکلی کہ وہ واپس اس گھر میں نہیں جائے گی جہاں اسکی پسند کو ترجیح نہیں دی جاتی .مگر وہ آج اس دوراھے پر کھڑی ہے کہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا کہ وہ اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کرے ،ماں باپ کی مرضی کے خلاف جاکر اس نے اپنا مستقبل داؤ پہ لگا کر تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کر لی اسکے والدین نے لڑکے پر اغواء کا کیس کردیا کیس عدالت میں چلا وہاں ماں باپ نے پوری کوشش کی کہ انکی بیٹی انکو واپس مل جائے اس لئے انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹی کی عمر 15 سال ہے اس لئے ہم اس نکاح کو نہیں مانتے پر وہاں لڑکی نے لڑکے کے حق میں بیان دے دیا کہ میں بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے شادی کرنا میرا حق ہے اس لئے میں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند سے شادی کی ہے

    یوں کیس ختم ہوگیا لڑکی اپنے سسرال چلی گئی جہاں اسکی سوتیلی ساس اور اسکی زندگی کے امتحان اسکا منتظر تھے
    کچھ عرصہ تو سب ٹھیک رہا مگر پھر آہستہ آہستہ وہی گھریلو مسائل بڑھنے لگے, ساس کو اس لڑکی سے کافی شکایات تھیں
    نازو سے پلی بڑھی یہ بچی ساس کو خوش رکھنے کے لئے گھر کے سب کام کرنے لگی مگر سب بے سود

    ہم کہتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم ہوتی ہے مگر اگر اس کے پس منظر میں جا کے دیکھیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آ جائے گی کہ بعض دفعہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ،لڑکی کا اپنے ماں باپ سے ملنا جلنا بند تھا مگر جب بیٹی کے پیار میں مجبور ہوکر والدین اس کو ملنے جاتے تو ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ،لڑکا خود مجبور تھا کیونکہ وہ خود طالب علم تھا اور اپنی سوتیلی ماں اور باپ کے رحم کرم پہ تھا آخر ایک دن تنگ آکر وہ الگ مکان کرائے پہ لے کر بیوی کو ساتھ لے گیا

    ایک سال بعد اللہ نے انکو ایک بیٹے سے نوازا بیٹے کی پیدائش پر لڑکے کا باپ لڑکی کو گھر لے آیا کہ اب اکٹھے رہیں گے
    مگر حالات بدستور ویسے ہی رہے اور آخر ایک دن گھر میں ہنگامہ ہوگیا کہ لڑکی نے اپنی ساس کی جیولری چوری کی ہے
    لڑکی نے ہر طرح سے یقیں دلانے کی کوشش کی مگر کسی کو اس پر یقین نہ آیا اور معاملہ ایسا بگڑا کہ لڑکے کو مجبور کیا گیا کہ اس کو طلاق دو
    لڑکے نے طلاق دے دی
    وہ بے چاری کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا سوائے اسی ماں باپ کے جن کو وہ چھوڑ دی تھی

    مجبوراً بچے کو لے کر ماں باپ کے گھر چلی گئی, ماں باپ تو پھر ماں باپ ہوتے ہیں جو اولاد کی غلطیوں کو معاف کرکے بھی گلے لگا لیتے ہیں
    ادھر جب لڑکے کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تو بہت پچھتایا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت ،کچھ ٹائم بعد لڑکی کے والدین نے لڑکی کی شادی کردی مگر وہ وہاں خوش نہیں تھی وہ اب بھی سابقہ شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی مگر اسکے شوہر نے اسے طلاق دینے سے صاف انکار کردیا.

    جب لڑکے کے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ لڑکی وہاں سے طلاق لے کر واپس سابقہ شوہر کے پاس آنا چاہتی ہے تو انھوں نے لڑکے کو بہلا پھسلا کر نئی جگہ جلد بازی میں شادی کردی اور یہ لڑکی اب اپنے والدین کی چوکھٹ پہ بیٹھی ہے
    اسکی داستان سن کر میں نے اسے مشورہ دیا کہ بیٹا واپس شوہر کے پاس چلی جاؤ اس لڑکے نے تو شادی کرلی ہے پر اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کہ آنٹی میں مر جاؤں گی میں اسکے بغیر جی نہیں سکتی, کوئی میری حالت کو سمجھتا کیوں نہیں ہے تو پھر شوہر کو بولو طلاق دے دے تو اس نے انکشاف کیا کہ شوہر نے شرط رکھی ہوئی ہے کہ میرا زیور اور پیسے واپس کرو میں طلاق دے دونگا. میں نے اسے کہا تو اسکی چیزیں واپس کردو ناں..

    آنٹی میرے پاس اسکا کچھ بھی نہیں ہے زیور اور پیسے مما کے پاس ہیں اور مما نہیں چاہتی میں طلاق لوں
    تو پھر کیا اسی طرح لٹکی رہو گی ؟؟
    وہ میری باتیں چپ کرکے سن رہی تھی مگر اسکی آنکھیں آنسوؤ سے تر تھیں
    میری کسی بات کا جواب اسکے پاس نہیں تھا وہ اب یقینی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی کہ آیا وہ یہاں سے طلاق لے گی تو سابقہ شوہر اس سے شادی کرے گا یا نہیں
    سابقہ شوہر کو چھوڑنا اسکے اختیار میں نہیں تھا. واقعی محبت بڑا نرم اور پیارا جذبہ ہوتا ہے محبت والے دل بس محبت کرنا جانتے ہیں. اپنی کسی ضد کسی مقابلے بازی یا انا کے جھگڑوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی
    جس کے لئے اس نے اپنی زندگی لٹا دی تھی اسی نے اس کو بری طرح توڑ کے دکھوں کے حوالے کردیا تھا. وہ اپنی زندگی کا ایک غلط فیصلہ کرکے اپنی زندگی کی خوشیوں کو داؤ پہ لگا چکی تھی. جس محبت کے لئے وہ جی رہی تھی اسی محبت نے اسے اندر سے کھوکھلا کردیا تھا.

    کیا خوب کہا کسی نے

    پانی آنکھ میں بھر کے لایا جاسکتا ہے
    اب بھی جلتا شہر بچایا جاسکتا ہے
    ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت
    لیکن اس سے کام چلایا جاسکتا ہے.

    اس کی عمر مشکل سے 19 سال ہے اور ایک بیٹے کی ماں
    اور وہ ماں جسے نہ تو اپنے مستقبل کا تعین اور نہ اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کی امید
    کیا آ گے زندگی میں بھی اسکے یا اس جیسی لڑکیوں کے ساتھ یہ امتحانات پیش آتے رہے گے ؟؟
    عورت اگر عورت کی ڈھال بن جائے تو کوئی اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا. یہاں اگر سوتیلی ساس کھلے دل سے اس بچی کو اپنا لیتی یا اس کی غلطیوں کو درگزر کرکے اسے بہو کی بجائے بیٹی کا درجہ دے دیتی تو آج اس لڑکی کا اور اس کے بچے کا مستقبل داؤ پر نہ لگتا.
    کہیں نہ کہیں عورت ہی عورت کے لئے مشکلات پیدا کرتیں ہیں
    کبھی تہمت لگا کر, کبھی نیچا دکھا کر یا کبھی سازش کرکے..

    @Rehna_7

  • یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    اس وقت یوکرائن تنازعہ اپنے جوبن پر پہنچ چکا ہے ۔ صف بندی ہوچکی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کے روس کے خلاف اس سے زیادہ سخت بیانات میں نہیں سنے ۔ اور ردعمل میں روس بھی ڈٹا ہوا ہے ۔ یوں اب محسوس ہونے لگا ہے کہ جنگ ٹلنا ممکن نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی ہے مگر اس اثرات دنیا پر پڑنے لگے ہیں ۔ اس تنازعہ کی وجہ سے عالمی خام تیل کی مارکیٹ میں بھونچال آگیا ہے ۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں ابھی تو یہ 96ڈالر پر بیرل پر ہیں پر کہا جا رہا ایک آدھ دن میں سنچری مکمل ہوجائے گی ۔ پھر جنگ ہوتی ہےتو یورپ کو روس کی گیس نہیں ملے گی ۔ اس سلسلے میں یورپ نے متبادل زرائع سے گیس حاصل کرنے کی تیاری کر لی ہے ۔ ۔ دوسری جانب یوکرین کی سرحد پر روس اپنی فوجوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ پر جاری بیانیے کی جنگ کا رخ بھی اپنے حق میں موڑنے کی کوشش تیز کر دی ہیں ۔

    کیونکہ مغربی میڈیا اس وقت یک طرفہ روس کے خلاف رپورٹنگ کررہا ہے ۔ وہ یہ تو بتا رہا ہے کہ روس کے اتنے فوجی فلاں سرحد کے پاس ہیں تو روس نے فضائی تیاری یہ کر رکھی ہے ۔ مگر وہ یہ نہیں بتا رہا کہ امریکہ اور اتحادیوں کے کتنے فوجی یوکرائن میں ہیں وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ امریکہ یوکرائن کو نیٹو میں شامل کروارہا ہے ۔ ۔ وہ یہ نہیں بتا رہا کہ روس نے ایک ایسی امریکی آبدوز کا تعاقب کیا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ North Pacific کے Coral Islands
    کے نزدیک پانیوں میں داخل ہو گئی تھی۔۔ وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ یوکرائن دارالحکومت Kiev میں شہریوں کو لڑنے کی تربیت دی جا رہی ہے ۔ شہریوں کو بندوق کے استعمال، اسے چلانے، گولہ بارود لوڈ کرنے اور اہداف کو نشانہ بنانا تک سیکھا جا رہا ہے ۔ وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ مغرب نے یوکرائن کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کرنا شروع کردیا ہے۔ صرف امریکہ نے یوکرائن کو بیس کروڑ ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا ہے۔ یعنی بڑی ہوشیاری سے یوکرائن کو روس کے خلاف تیار کیا جا رہا ہے ۔ دراصل مغربی طاقتوں نے روس کا پتہ ہمیشہ کے لیے کاٹنے کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔ اور اب بس گھمسان کا رن پڑنے والا ہے ۔ کیونکہ روس بھی اتنی آسانی سے سرنگوں نہیں ہوگا ۔ وہ بھی اپنا پورا زور لگا رہا ہے ۔ امریکہ اور یورپ روس کو وِلن بنا کر پیش کررہے ہیں کہ وہ جارحیت کا ارتکاب کرکے اپنے چھوٹے ہمسایہ ملک یوکرائن کو ہڑپ کرنا چاہتا ہیے۔ حالانکہ حقیقت میں یوکرائن کا بحران امریکہ اور مغربی یورپ کا پیدا کردہ ہے۔ جب سوویت یونین نے مشرقی جرمنی اورمغربی جرمنی کے اتحاد کو تسلیم کیا تھا تو اس وقت مغربی یورپ کے رہنماؤں نے ماسکو کو یقین دلایا تھا کہ نیٹوکے فوجی اتحاد کو مشرق کی طرف توسیع نہیں دی جائے گی لیکن اِس زبانی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا گیا۔

    ۔ دراصل امریکہ نے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کے لئے آٹھ سال مسلسل کوشش کی ہے اور گذشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ اعلان کیا کہ اب یوکرین کے پاس فیصلے کا اختیار ہے کہ وہ کب نیٹو میں شامل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا، فوراً امریکہ وہاں اپنے میزائل نصب کر دے گا، بالکل ویسے ہی جیسے روس نے
    1962ء میں کیوبا میں اپنے میزائل نصب کئے تھے۔ تو امریکہ صدر کے اعلان کے بعد سے حالات کشیدہ ہوئے ہیں ۔ مگر مغربی میڈیا یہ نہیں بتا رہا ہے وہ روس کو ایک جارحیت پسند ملک بناکرپیش کررہا ہے ۔ تاریخ کے اوراق پلٹائے جائیں تو اکتوبر 1962ء کے تقریباً ساٹھ سال بعد کوئی امریکی صدر ایک بار پھر اُسی لہجے میں بولا ہے۔ حالات بالکل ویسے ہی ہیں۔ اس وقت امریکہ نے سوویت یونین کو نشانے پر رکھنے کے لئے اٹلی اور ترکی میں میزائل نصب کئے تو جوابی طور پر سوویت یونین نے کیوبا کے صدر Federal Castro کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے امریکہ کے پڑوس میں واقع کیوبا کی سرزمین پر روسی میزائل نصب کرنے کی منظوری دے دی۔ اُس وقت بھی مذاکرات کے دوران کشیدگی اس سطح پر جا پہنچی تھی کہ امریکی صدر John F. Candy مذاکرات کے آخری روز، پوری رات ٹیلی ویژن پر امریکی عوام کو جنگ کے لئے تیار کرتے رہے۔

    اب ساٹھ سال بعد ایک بار پھر کسی امریکی صدر کے منہ سے ایسے ہی فقرے سنائی دیئے ہیں۔ یہ فقرے زیادہ خطرناک اس لئے بھی ہیں کہ اس دفعہ محاذ جنگ امریکہ کے پڑوس میں نہیں، بلکہ اس سے ہزاروں میل دُور، روس کے پڑوس میں سجنے جا رہا ہے۔ اور امریکہ نے ہمیشہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش کی ہے جو اسکی سرزمین کے آس پاس لڑی جانی ہو ۔ ورنہ اپنی سرزمین سے دُور تو وہ ہر جنگ میں خود کودتا ہے۔ بلکہ خود اسٹیج تیارکرواکے تماشا لگاتا ہے ۔ پھر میں یاد کروادوں کہ روس کے ہمسائے صرف یوکرائن ہی نہیں ۔۔Belarus میں بھی ایسی حکومت لانے کی کوشش کی گئی جو ماسکو کی بجائے مغرب نواز ہو۔ چند ہفتے پہلے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے وسط ایشیا میں واقع قازقستان میں بھی شورش برپا کروائی ۔ مگر Kremlin نے اپنی افواج وہاں بھیج کر فساد پر قابو پانے میں قازقستان کی مدد کی۔ اس وقت امریکہ اور یورپ چاروں طرف سے روس پر حملہ آورہیں۔ خود روس کے اندر مختلف گروہوں کے ذریعے صدر پیوٹن کے خلاف تحریک چلوانے کی کوشش کی گئی۔ تاکہ ماسکو میں ایسی حکومت بن جائے جو امریکہ اور مغربی یورپ کے بلاک میں شامل ہو اور چین کا مقابلہ کرے۔ مگر پیوٹن ڈٹ گیا ہے اور گذشتہ جمعہ کو جب جوبائیڈن تقریر کر رہا تھا۔ تو اس دن روس نے وہی قدم اُٹھایا تھا جو امریکہ نے کیوبا کے خلاف اُٹھایا تھا، یعنی اس نے یوکرین کی بحری ناکہ بندی کر دی۔ یہ دراصل اعلانِ جنگ ہوتا ہے۔ لیکن روس نے وضاحت یہ کی کہ وہ دراصل بحری افواج کی مشقیں کر رہا ہے جو دس دنوں تک جاری رہیں گی۔ مگر جو بھی وضاحت ہو، اس وقت یوکرین زمینی اور سمندری طور پر روسی افواج کے گھیرے میں آ چکا ہے، جو اس پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہیں۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں صدر پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ یوکرین جو کئی صدیاں روس کا حصہ رہا ہے۔ وہ نیٹو کا حصہ بن جائے۔ جس دن ایسا کیا گیا۔ یہ ہمارے لئے اعلانِ جنگ ہو گا۔ اس حوالے سے مغرب بھی واشگاف الفاط میں کہہ رہا ہے کہ اگر روس کی طرف سے یوکرائن کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو اتحادی اس کے خلاف تیزی کے ساتھ اور بہت سخت مشترکہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔ اس حوالےسے امریکا نے تو کہا ہے کہ ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے روس مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔ جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔۔ ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ اور جوبائیڈن مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ یوکرائن پر حملہ روس کو بہت مہنگا پڑے گا۔ مگر روس کوئی خاص گھاس ڈال نہیں رہا ۔ امریکی صدر نے ہفتے کو روسی صدر کیساتھ ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی تاہم کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکل سکا۔ روسی خارجہ پالیسی کے ایک مشیر نے موجودہ صورتحال کودیوانے پن کی انتہا قرار دیا ہے۔۔ چند روز قبل فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی خوب ایکٹیو ہوگئے ہیں ۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔ پھر جرمن چانسلر بھی روس کو خبردارکر رہے ہیں ۔ ترکی، پولینڈ، اور نیدرلینڈز کے رہنما بھی یوکرائن گئے ۔ دیکھا جائے تو گزشتہ ایک ہفتے میں ایسا کوئی دن نہیں تھا، جب کوئی اہم امریکی یا یورپی رہنما یوکرائنی دارالحکومت kiev نہ پہنچا ہو۔ ان تمام رہنماؤں نے یوکرائنی فوج کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کے وعدے کیے اور ماسکو کے لیے سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیے۔

    ۔ امریکا کی انٹلیجنس کی تازہ اطلاعات کے مطابق روس اولمپکس مقابلے ختم ہونے سے پہلے ہی یوکرائن پر حملہ کرسکتا ہے۔ اسی لیے امریکا اور یورپی ملکوں نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد یوکرائن چھوڑنے کا کہا ہوا ہے ۔ رُوس کا یوکرائن کی سرحد پر فوجیں جمع کرنے کا مقصد صرف اس پر حملہ کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی یورپ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ روس کے ساتھ دفاع اور سلامتی کے امور پر جامع معاہدہ کریں۔ اسی لیے روسی صدر پیوٹن نے مغربی ممالک کی طرف سے روس کو دباؤ میں لانے کی کوشش اور اُس کے یوکرائن پر فوجی حملے کے ارادوں کے بارے میں دعووں پر شدید تنقید کی ہے۔ پوٹن نے مغرب کے اس اقدام کو ۔۔۔ اشتعال انگیزی اور قیاس آرائیاں ۔۔۔ قرار دیا ہے۔۔ فی الحال جو دیکھائی دے رہا ہے کہ ماسکو نے فیصلہ کیا کہ نیٹو کو مزید روسی سرحدوں کے قریب آنے نہیں دیا جائے گا۔ چاہے اسکی جو بھی قیمت ہو ۔

    ۔ یاد رکھیں یہ جنگ شروع ہوگئی تو پاکستان کا بھی اس سے دور رہنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اور اس سلسلے میں ہم کو بہت اہم فیصلہ بھی کرنا ہو ۔ کہ ہم مشرق کا ساتھ دیں گے یا پھر مغرب کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے ۔ اسی حوالے سے وزیر اعظم عمران خان چند روز میں روس جا رہے ہیں۔ دعا گو ہوں کہ وہ فیصلہ ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو