Baaghi TV

Category: متفرق

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    وہ عورت میرے سامنے بیٹھی تھی۔ شام کا وقت تھا اور میں اس عورت کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔

    زرد مدہم بلب کی روشنی میں اس کے چہرے پر قبل از وقت نمایاں ہو جانے والی جھریاں مزید نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ نحیف بدن کے ساتھ اس کا ہاتھ تیزی سے سلائی مشین کے ویل کا ہینڈل گھما رہا تھا اور اس عورت کے چھوٹے چھوٹے پانچ بچے صحن میں شرارتیں کرتے پھر رہے تھے۔

    لوگوں کے کپڑے سلائی کرتے کرتے اس عورت کے ہاتھوں کی انگلیوں پر قینچی پکرنے سے چنڈیاں بن چکی تھیں جو اس کے کمزور ہاتھوں پر مزید نمایا ں ہو رہی تھیں۔

    ایک سوٹ کی کتنی سلائی ہے؟ میں نے پوچھا

    60 روپے، اس عورت نے بتایا اور اس کی آنکھوں میں چمک در آئی۔

    میں نے فوراً سے کہا کہ ٹھیک ہے، اگر آج سوٹ دوں تو کب تک مل جائے گا؟

    کل شام تک مل جائے گا، اس عورت نے آس بھری آواز میں کہا۔ گویا 60 روپے کی حقیر رقم اس کا کوئی خواب پورا کرنے والی تھی۔

    میرے ذہن میں لالچ در آیا کہ صرف ایک دن میں سوٹ تیار کرنا اور وہ بھی صرف 60 روپے میں جبکہ پچھلے مہینے میں نے اپنی بیگم کے 2 سوٹ 600 روپے سلائی دے کر سلوائے تھے اور پندرہ دن کے وعدے پر بھی وہ سوٹ مجھے شاید پچیسویں دن ملے تھے۔

    اس عورت کے ہاتھ میں صفائی تو بہت تھی، دل ٹہر سا گیا تھا کہ کام یہیں سے کروانا ہے۔

    بہرحال میں نے ذہن میں سوچا کہ اتنے کم وقت اور اس سے بھی کم دام میں یہ موقع دوبارہ نہیں ملنے والا۔

    وہ عورت ذرا ذرا دیر بعد مشین سے سر اٹھا کر بچوں کو ایک نظر دیکھتی، درمیان میں ایک دفعہ اٹھ کر مٹی کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑیوں والے چولہے پر رکھی ہانڈی میں چمچ ہلایا اور سلگتی لکڑیوں میں سے ایک کو باہر نکال کر پانی سے بجھایا۔ گرم لکڑی پر پانی ڈالنے سے ایک دم شرر شرر کی آواز آئی، میں نے سر اٹھا کر اس طرف دیکھا تو دھوئیں کا ایک مرغولہ تھا جو شور مچاتا اس عورت کے کے بالوں میں سے ہوتا ہوا ہوا میں غائب ہو رہا تھا۔

    دھوئیں کی وجہ سے کھانستے کھانستے، ڈوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کر کے وہ عورت دوبارہ زمین پر مشین کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
    میں نے شاپر سے دو سوٹ نکال کر اس عورت کے سامنے رکھے اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا جس پر ایک ماڈل نے خوبصورت موتیوں کی بُنائی والے گلے کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ تصویر اس عورت کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ گلے کا ڈئیزائن اس آف وائٹ سوٹ پر بنانا ہے اور اس دوسرے فیروزی سوٹ میں شلوار کے پائنچوں پر ڈئیزائن بنانا ہے۔ اس عورت نے گلے کے ڈئیزائن کو دیکھا پھر پائنچوں کے ڈئیزائن کو دیکھا اور کہا کہ 60 روپے سادہ سوٹ کی سلائی ہے، گلے اور پائنچوں کے ڈئیزائن کے پیسے الگ لگیں گے۔

    میں نے کاروباری چال چلتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی تو آپ 60 روپے میں ہی ڈئیزائن کے ساتھ سوٹ بنائیں نا، کام اچھا ہوا تو آگے بھی کپڑے آپ کے پاس ہی آئیں گے پھر کمی بیشی کر لیں گے۔ اس عورت کے چہرے پر انکار واضح تھا مگر اس نے ایک دفعہ پھر بچوں کو دیکھا اور انکار بھرے تاثرات کے ساتھ کہا کہ ٹھیک ہے آپ پرسوں سوٹ لے لیجیے گا۔

    میں نے اپنی پہلی چال کامیاب ہوتے دیکھ کر کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ کل شام تک آج سوٹ تیار کر سکتی ہیں۔

    وہ سادہ سوٹ کی بات تھی، یہ تو دو سوٹ ہیں اور ان میں کام بھی زیادہ ہے۔ اس عورت نے بے بسی سے کہا، گویا اسے مجبوری درپیش نہ ہوتی تو وہ اتنے پیسوں میں کام کو ہاتھ بھی نہ لگاتی۔

    یہ عورت میری ایک پہچان والی خاتون کی دیورانی تھی، سو مجھے میری پہچان والی خاتون نے اس عورت کے تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا۔ لہذا میں جانتا تھا کہ اس وقت عورت کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کام ایک دن میں کر لے گی۔

    میں نے کہا کہ دیکھ لیں پھر، کام آپ کو ریگولر ملتا رہے گا، آپ سوٹ سلائی کریں، میری بیگم کو پسند آئے تو آپ کو مہینے کے دو چار سوٹ تو آرام سے مل جایا کریں گے۔

    اگر میں مہینے میں چار سوٹ بھی سلائی کرواؤں تو یہ 240 روپے بنتے ہیں، میرا بیٹا اس سے زیادہ پیسے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک وقت میں کھانے پر لگا دیتا ہے، جبکہ میرے ایک دن کے سگریٹ اور دوپہر کے کھانے کا خرچ بھی تقریباً اتنا ہی ہے، پھر یہ عورت 240 روپے کے لالچ میں اتنا کام کیوں کرے گی؟؟ ذہن میں آتی ایسی سوچوں کو میں نے اگلے ہی پل جھٹک دیا تھا۔ اس عورت کی مجبوری میں مجھے اپنا فائدہ نظر آیا تو میں نے اس عورت کو دوبارہ مخاطب کیا کہ میں کل شام 7 بجے تک کسی کو پیسے دے کر بھجواؤں گا تو آپ اسے سوٹ دے دیجیے گا۔ اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میں وہاں سے چلا آیا۔

    اگلے روز اپنی بیگم کو ساتھ لے کر میں سوٹ لینے گیا تو میرے جانے تک خدشوں کے برعکس سوٹ بالکل تیار پڑے ہوئے تھے، بیگم نے سوٹ دیکھے تو اسے بھی بے حد پسند آئے، نفاست سے ہوئی سلائی کو دیکھ کر میرا بھی جی خوش ہو گیا، میں اور بیگم تعریف کرتے کرتے رک گئے کہ مبادا وہ عورت اگلے سوٹ پر سلائی زیادہ نہ کر دے۔

    وہ عورت اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کچھ بنانا چاہتی تھی، جب اس خواہش کا اظہار اس نے ہمارے سامنے کیا تو میری اپنے جی میں ہنسی چھوٹ گئی۔

    کیسی بیوقوف عورت تھی کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں، دیواروں سے یاسیت ٹپک رہی ہے، جس کام کے لیے کوئی بھی 1000 روپے دے دے اور مہینہ بھر انتظار کرے، وہ کام اس عورت نے ایک دن اور 60 روپے میں کر دیا تھا اور بچوں کو پڑھانا چاہتی تھی۔

    اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ انکل کو پانی پلاؤ، میں نے مٹی میں کھیلتے بچوں کو دیکھا اور فوراً کہہ دیا کہ کسی صاف بچے کے ہاتھ سے منگوائیں۔

    اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا اور اس کا بیٹا ہاتھ دھو کر پانی لے آیا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی پانی پیا اور بیگم کو اشارہ کیا کہ کہ اٹھو چلیں۔

    بیگم سے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ رک جائیں۔

    بیگم سے باتوں کے درمیان پتا چلا کہ عورت کو کھانے پکانے کا بھی شوق تھا مگر شوق پورا کرنے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے۔ میں اپنی بیگم کی صلاحیتیوں کا اس دن قائل ہو گیا جب بیگم نے اس عورت سے اگلے ایک دن میں 2 مزید سوٹ 120 روپے میں سلائی کروائے ، جبکہ بچے ہوئے کپڑے سے میری بھانجیوں کی 2 فراکیں بھی سل گئیں۔ بیگم نے کھانے کی ایگزیبیشنز سے لائے ہوئے مفت پرموشنل کھانے کی تراکیب والے دو رسالے اس عورت کو سلائی کے پیسوں کے بدلے تھما دئیے ۔ اس عورت نے فوراً اپنی بیٹیوں کو کہا کہ ان میں سے دیکھو کون سی ترکیب ٹھیک لگ رہی ہے، اب جب پیسے آئیں گے تو میں اپنے بچوں کو چیزیں منگوا کر وہ ڈش بنا کر کھلاؤں گی۔

    بچوں نے خوشی سے اچھلتے ہوئے آپس میں بیٹھ کر ترکیبیں ڈسکس کرنا شروع کر دیں اور اچھے کھانے کے خواب بننے لگے۔

    اس عورت نے دوبارہ سر جھکا کر کام کرنا شروع کر دیا۔

    صرف 60 روپے، اپنے 60 روپوں کے لیے باہر اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا اور وہ عورت تیزی سے مشین پر ہاتھ چلا رہی تھی تاکہ ان ترکیبوں کے لیے چیزیں خرید سکے جو اس کے بچوں نے پسند کرنی تھی، میں جانتا تھا کہ ایسے گھروں میں ترکیبیں صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتی ہیں۔

    آج میری بیٹی نے جب پیزے کا من پسند فلیور نہ ملنے پر پورا پیزا دیوار میں دے مارا تو مجھے وہ عورت اور اس کے بچے یاد آ گئے۔

    اس زدر بلب کی روشنی میرے اردگرد پھیلنے لگی اور اس عورت کے جھریوں بھرے کمزور چہرے میں چھپا وہ کرب میرا گلہ دبانے لگا جو میں نے 60 روپوں کے لیے اس کے چہرے پر دیکھا تھا۔ سانس اندر کھنچتے ہوئے مجھے اس عورت کی بجھتی ہوئی سلگتی لکڑی کا دھواں اپنے سینے میں بھرتا محسوس ہوا اور میں زمین پر گرتا چلا گیا۔

  • "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    مجھے بستر پر لیٹے ہوئے قریب دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ نا ختم ہونے والے خیالات میں گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ 3 بج چکے ہیں، صبح آٹھ بجے کالج جانا ہے اور ابھی تک میں نہیں سویا یہ سوچتے ہوئے میں، اس کوشش میں لگ پڑتا ہوں کہ اب میرے اور نیند کے درمیان کچھ حائل نہ ہو۔ لیکن اسی لمحے میری نظروں کے سامنے ایک منظر آجاتاہے ۔

    "کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ اور ڈوبنے والے مجھے واضح دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ مجھے بھی کوئی پانی کی طرف زبردستی لے کر جانا چاہ رہا ہے ۔ اچانک میں خود کو پانی کے بالکل پاس پاتا ہوں ۔ ”
    یہ سب دیکھ کر میں بستر سے اٹھ بیٹھتا ہوں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتا ہوں” مجھے بچاؤ "۔

    دادو! امی کو یہ کہتے ہوئے، مجھ پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کر دیتی ہیں کہ "سوئے ہوئے ڈر گیا ہے”۔ حالانکہ میں سویا ہی نہیں تھا ابھی۔ میرے بتانے پر وہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں کہ میں ابھی سویا ہی نہیں تھا ۔ ناجانے کب آنکھ لگی اور میں سو گیا ۔

    اگلے دن دوپہر کے وقت کھیلتے ہوئے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ شاید مجھے کوئی دوست بلا رہا تھا ۔ دیکھنے گیا تو کوئی نظر نہ آیا مگر آوازیں اب بھی آرہی تھیں ۔ کل رات کا واقعہ اور دوپہر کی یہ واردات ۔۔۔۔ اب محلے میں زبان زدِ عام ہونے لگی۔

    معالج کے پاس لے کر جانے کا معاملہ آیا تو بیشتر بزرگوں کی طرف سے یہ کہتے ہوئے رکاوٹ کا سامنا ہوا کہ۔ ” نظر نہیں آرہا یہ بیمار نہیں ہے ، کوئی کلموہی! کسی بابے کے ذریعے کروا رہی ہے”۔

    ہم ایک بابا جی کے پاس گئے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا جیسے ہم کوئی کافر ہوں، اور جیسے ہی میں نے کلمہ پڑھا ۔ بابا جی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی غیر مسلم کو مسلم کر لیا ہو۔

    ماما پھلا اچھا خاصا نفسیاتی بندہ ہے، علم نفسیات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، ساری کہانی اطمینان سے سننے کے بعد بولا! "شیزوفرینیا”( یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شرح مرد و خواتین میں برابر ہے۔ پندرہ برس کے بعد اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جب کے پندرہ سال کے کم عمر افراد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی کئی علامات ہیں ۔ مثلاً کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کا نظر آنا، اکیلے میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ) کے مریض تمہیں تو بس ایک معالج کی ضرورت ہے ۔ اور جن نکالنے والے بابوں کو پورے ہسپتال کی۔

    خیر کہانی کہیں بیچ میں ہی رہ گئی۔ قصہ مختصر کہ جن تو بابا جی بھی نہ نکال پائے ۔ کیونکہ جہالت جیسا جن نکلنے میں صدیاں لگتی ہیں ۔

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • شارٹیج — ستونت کور

    شارٹیج — ستونت کور

    بیئر، رَم یا متوسط مقدار میں ‘واڈکا’ کو میں ذاتی طور پر نشے میں شمار نہیں کرتی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔مینوں نئیں چڑھدی.

    پر خدا معاف کرے میرے ساتھ ‘نشے’ کا ایک سیریس کیس ہوتے ہوتے رہ گیا !!

    ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ قبل ، معدے کے چند مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو دیگر چند میڈیسنز کے ساتھ ڈاکٹر کے E•••••c نام کا ایک پاؤڈر بھی تجویز کیا جو چھوٹے چھوٹے ساشے کی شکل میں تھا اور اسے پانی میں گھول کر پینا تھا 7 دن ۔۔ اور ڈبے میں تھے بھی سات عدد ساشے !!

    چنانچہ جب پہلا ساشے گھول کر پیا ، بھلے وہ بےذائقہ تھا ، تاہم اس کی ایک ہلکی سی مخصوص خوشبو تھی جو ذائقے کا سا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ پہلے گھونٹ پر ہی مجھے خوشگوار محسوس ہوئی وہ دوا اور میں نے اسے چائے یا کافی کی طرح آرام آرام سے پیا۔۔۔۔اور جب ختم ہوگیا گلاس تو دل ابھی تک بھرا نہیں تھا، جی میں آیا کہ ایک اور ساشے گھول کر پی لوں مگر یہ اوور ڈوز ہو جانی تھی چنانچہ خود کو اس حرکت سے باز رکھا مگر رہ رہ کر اس کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔۔۔ اسی طرح 7 دن بیت گئے ۔۔۔ اور آٹھویں دن مجھے پھر سے اس کی طلب ستانے لگی تو پہلی مرتبہ مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ،

    میں نے گوگل پر اسے سرچ کیا اور تفصیل سے اس دوا کے مندرجات کا مطالعہ کیا۔۔۔لیکن۔۔۔ نہ تو اس میں کوئی نشہ آور شے شامل تھی اور نہ ہی ممکنہ سائیڈ ایفکٹس کی لسٹ میں ایسی کوئی تنبیہ درج تھی۔

    مزید یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا مقصد معدے میں ، مفید بیکٹیریا کی استعداد کار کو بہتر بنانا تھا ۔۔۔

    خیر چند روز شش و پنج میں رہنے کے بعد میں ایک اور ڈبہ خرید لائی اور اب کی بار 2 ، 2 دن کے وقفے سے ایک ایک ساشے پیتی رہی ۔۔۔ چنانچہ کئی دن کام چل گیا !!
    لیکن جب دوسرا ڈبہ بھی ختم ہوگیا مگر اس کی طلب ختم نہ ہوئی ۔۔۔۔ تو اب واضح طور پر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں !

    میں نے اپنے ڈاکٹر تایا زاد سے رابطہ کیا اور بغیر سیاق و سباق سے آگاہ کیے اس سے استفسار کیا کہ کیا فلاں میڈیسن کسی بھی حالت میں ایڈکشن کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔ ؟؟ اس کا جواب بھی یہی تھا کہ ” بالکل بےضرر دوا ہے ایسا کچھ نہیں”.

    میرے ذہن میں یہ خیال یہ بھی لہرایا تھا کہ کہیں میڈیسن ایکسپائرڈ تو نہیں ۔۔۔ مگر دوسری دفعہ خریدنے پر میں نے ایکسپائری ڈیٹ بھی چیک کر چھوٹی تھی جسے ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھے ۔

    تو خیر ۔۔۔ پندرہ بیس دن کے وقفے سے ، جب میںنے تیسری مرتبہ مذکورہ میڈیسن خریدنے کا قصد کیا ، تو معلوم ہوا کہ ” مارکیٹ میں شارٹ ہے ” ۔

    تو قصہ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے وہ میڈیسن دوبارہ کبھی پاورڈ/ساشے کی شکل میں مارکیٹ میں نہیں آئی بلکہ اب اسی نام کا ایک سیرپ ملتا ہے بدمزہ سا ۔

    تو اس طرح یہ ” شارٹیج ” میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور مزید ایک مہینے بعد طلب بھی معدوم ہوتی چلی گئی ۔

    ۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر میرا قیاس یہ ہے کہ یقیناً وہ میڈیسن بےضرر اور محفوظ ہی ہوگی مگر شاید اس مرتبہ اس کی جو کھیپ تیار ہوئی ہو اس میں کوئی ایسا معمولی مسئلہ آگیا ہو کہ جو اس کی اضافی طلب کا باعث بن رہا ہو اور مسئلے کی نشاندہی ہوتے ہی میڈیسن کو مارکیٹ سے اٹھوالیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ یہ میڈیسن اس شکل میں نہیں فروخت کی گئی !!

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

    لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

    چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

    مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

    اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

    1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

    2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

    3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

    4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

    5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

    6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

    7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

    8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

    ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

    1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

    2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

    3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

    4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

    5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

    6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

    ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔