Baaghi TV

Category: متفرق

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔

  • ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” زندگی کورے کاغذ کی مانند ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    آج کل کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو اپ کوہر وقت دلاسے دیتا رہےاور اپ کو نصیحتیں کرتا رہے۔اپ کے لئے ہر وقت پریشان ہوتا رہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو یا ان میں آپ کےدوست وغیرہ کو شامل کر لیں. ان کے اپنے کئی مسائل ہیں۔

    اور سب سے بڑھ کر دِلوں کے خالق نے فرما دیا ہے:

    أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

    ترجمہ : ’’ جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘

    ﴿٢٨ -سورة الرعد﴾

    بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ایسے ساتھی ہوں جو اپنا قیمتی وقت دیتے ہوں بات سنتے ہوں اور اپنے ساتھ باہر لے کے جاتے ہوں ایسے لوگوں کا احترام کریں۔

    اگر آپ لمبے عرصے تک اس طرح ہی ڈپریشن میں مبتلا رہے توکچھ عرصہ بعد گھر والے اور دوست آپ کی ڈپریشن کو اپ کی ایک عادت سمجھ کر آپ کو اکیلے آپ کے حال پر چھوڑ دیں گے اور یہ صورتحال پھر آپ کے لئے گھمبیر ہو جائے گی۔۔۔

    ڈیپریشن انسان کو مختلف طریقوں سے تباہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ ڈپریشن آپ کی جان ہی لے، یہ آپ کو اور کئی طرح سے بھی مار سکتا ہے جیسا کہ یہ آپ کی زندگی کے کئی خوشیوں اور کئی مختلف ایکٹیویٹز سے آپ کو محروم رکھ سکتا ہے۔

    جس میں آپ کے جوانی کے حسین صبح و شام اور لمحات شامل ہوتے ہیں دوستوں کی ہنسی مذاق اور گیدرینگ، مختلف ایونٹس،آپ کی تعلیم اور جاب اور آپ کی شادی وغیرہ شامل ہیں۔

    لہٰذا کسی کا انتظار نہ کریں کہ کوئی آئے گا اور آپ کو آپ کی پریشانی سے نکال دے گا.

    خاص طور پر نوجوان اپنے گھر والوں کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اس حالت میں دیکھ کر ضرور کچھ کریں گے یا وہ شخص جس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہوں اور وہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر واپس آجائے گا تو یقین جانیں ایسا کھبی نہیں ہوگا

    خود کو اذیت نہ دیں۔ ہر بندہ اپنی اپنی زندگی جینے اور خوشی منانے میں مصروف ہے۔

    آپ کو خود ہی اس بلا سے نمٹنا ہوگا۔

    زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں ۔ اس لمحہ بہ لمحہ احوال میں ہمیں زندگی کے خوشگوار لمحات کو سنہرے حروف سے لکھنا چاہیے، تاکہ اس کی خوبصورتی کا احساس اس سے جڑی بے شمار کجیوں اور کمیوں کے باوجود سلامت رہے۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم مثبت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں.

    ڈپریشن سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں اور دیکھیں کونسا طریقہ ہے جس سے آپ اچھا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، عبادت کرنا ،لوگوں کی مدد کرنا، کھیلوں میں حصہ لینا یا بچوں کے ساتھ بیٹھنا اور کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا اور اوٹینگ پر جانا، مزید تعلیم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا یا تحریر لکھنا وغیرہ وغیرہ۔

    اس کا حل آپ نے خود ہی ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ کونسی چیزیں اور عوامل آپ میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔۔

    پھراس پر عمل کریں۔۔۔

    خوش رہیں، زندگی کو بھرپور طریقہ سے جیئیں۔

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

  • بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک

    بلوچ لیوی فورس کے ملازمین سے سوتیلی جیساسلوک ، سکیل اپ گریڈ نہ ہوسکے،بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کے ملازمین آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان1901 میں معرضِ وجود میں آئی اور تاحال تحصیل کوہ ِ سلیمان ٹرایبل ایریا اور جوڈیشل ایریا (میدانی علاقہ)ضلع ڈیرہ غازی خان میں بطور لوکل پولیس ، پنجاب پولیس اور باڈر ملٹری پولیس کے شانہ بشانہ پنجاب پولیس کی کمانڈ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے ۔ بلوچ لیوی ڈیرہ غازیخان انتہائی محنت اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتی ہے قبائلی علاقہ میں جہاں پنجاب پولیس اور بی ایم پی کے اہلکارکارروائیاں کرنے سے گھبراتے ہیں وہاں ان خطرناک علاقوں میںبلوچ لیوی فورس کے جوان سینہ تان کرسماج دشمن عناصرکامقابلہ کرتے ہیں،

    جس کی کئی مثالیں موجود ہیں ان میںملک دشمن عناضر میںبدنا م زمانہ منگھن کلاتھی گینگ ، بگٹی گینگ ،گورچانی گینگ اور لادی گینگ کے اشتہاریوں کے ساتھ ضوان مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بلوچ لیوی فورس کے 6جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے،ان میں کچھ شہیدوں کوابھی تک سرکاری طورپرشہیدکادرجہ بھی نہیں مل سکا اس کے علاوہ بلوچ لیوی کو مراعات کے معاملے میں کافی عرصے سے نظر انداز کیا جاتا آ رہا ہے جس کی وجہ سے بلوچ لیوی ملازمان کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلوچ لیوی اور پنجاب پولیس کی تنخواہوں کے تما م کوڈ ایک ہی ہیں مگر پنجاب پولیس کے سکیل کی اپ گریڈیشن ہو چکی ہے مگر محکمہ بلوچ لیوی کے ملازمین تا حال اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔جس سے بلوچ لیوی کے ملازمین میں اضطراب پایاجاتا ہے کہ حکومت پنجاب، پنجاب پولیس کی طرح بلوچ لیوی ڈیرہ غازی خان کو بھی تمام مراعات(لا اینڈ رڈر الانس ۔ FDA وغیرہ) اور سکیل اپ گریڈیشن کیوں نہیں دی جارہی ۔غریب ملازمین کاحکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ۔

  • ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    ایک داماد کی آپ بیتی — نعمان سلطان

    راقم کے ایک دوست نے راقم کی تحریر "چلتے ہو تو سسرائیل چلئے ” پڑھی، اپنے اعمال بد کی وجہ سے روز آخرت حصول جنت کے بارے میں پر امید نہ تھا اس لئے اس نے دنیا میں ہی جنت کے حصول کی کوشش کرنے کے بارے میں ٹھان لی، اور خدا کی رحمت سے ناامیدی گناہ کبیرہ ہے کہ طعنوں کا یہ جواب دیا کہ ہو سکتا ہے میں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی رحمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے، تو میں دنیاوی جنت کو ٹھکرا کے کفران نعمت کیوں کروں؟

    جب حاسدین نے انہیں طعنے دئیے کہ "یہ منہ اور مسور کی دال” ہم بھی یہیں ہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے دنیا میں جنت حاصل کرتے ہو، تو عزیزی نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا، مناسب تعلیم، ذہانت، شخصیت، فٹنس اور مضبوط فوجی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے فوج میں کمیشن ملنے کا قوی امکان تھا لیکن عزیزی کو ملک میں جاری شرپسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے قوی امید تھی کہ ٹریننگ مکمل کرتے ساتھ ہی انہیں آپریشن ایریا میں بھیج دیا جائے گا جہاں سے ان کی واپسی تابوت میں ہو گی، اس وجہ سے وہ فوج میں نہیں گئے اور انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا،تحریر میں لکھی گئی بات ان کے پیش نظر تھی کہ جنت کی نعمتوں سے اگر زیادہ لطف اندوز ہوناہے تو سسرائیل میں قیام کم سے کم وقت کے لئے کرنا ہے ۔

    یہاں بھی انہوں نے اپنی طرف سے ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جنت کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے عزیزی نے اپنے رہائشی شہر میں ہی شادی کا فیصلہ کیا، تاکہ گھڑے کی مچھلی کی طرح نعمتیں ہر وقت دسترس میں رہیں اور جب دل کرے ان سے لطف اندوز ہو سکے، قصہ مختصر عزیزی نے ملازمت کر لی اور اس کی خواہش کے مطابق اسی شہر میں اس کی شادی بھی ہو گئی اور عزیزی ہمیں شہر کے شہر میں شادی کے فوائد بتا کر للچاتا رہا پھر ہم بھی غم روزگار میں مبتلا ہو کر کافی عرصہ عزیزی سے ملاقات نہ کر سکے ۔

    کافی عرصے بعد جب عزیزی سے ملاقات ہوئی تو اس کا بجھا ہو چہرہ دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے، بعد از تشفی عزیزی نے ہمیں بتایا کہ جو عقلمندی میں نے شہر میں شادی کر کے کی تھی وہ اب میرے گلے پڑ گئی ہے، بیگم کا جب دل کرتا ہے وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے اور گھر والے ان حالات میں ہم دونوں سے سخت خفا ہیں اس وجہ سے جب میں کام سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو اگر بیگم اپنے میکے گئی ہو تو وہ مجھے روٹی پانی کا بھی نہیں پوچھتے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمھارے کام تمھاری بیوی کی ذمہ داری ہے، میں نے شہر کے شہر جنت کے مزے لینے کے لئے اپنے گھر کو ہی جہنم بنا لیا خدارا میری پریشانی کا کچھ مداوا کرو۔

    ہم نے سابقہ تعلقات دیکھتے ہوئے عزیزی کی مدد کا فیصلہ کیا اور اسے ایسا مشورہ دیا کہ اس کا گھر بھی خراب نہ ہو اور بیگم کا بار بار میکے جانا بھی کم ہو جائے عزیزی نے ہمارا مشورہ سن کر صدق دل سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کا میکہ میرے لئے مثل جنت ہے جس کی آپ حور ہو اور حور سے دور رہنا کفران نعمت ہے اس وجہ سے جب آپ کا دل کرے آپ اپنے میکے جاؤ، بس مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں بھی اپنی نوکری سے فارغ ہو کر آپ کے پاس وہیں آ جاؤں اور سسرائیل میں عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔

    عزیزی کی بیگم نے خوشی خوشی کہا کہ کل میں میکے جاؤں گی آپ بھی نوکری سے چھٹی کر کے وہیں آ جانا، چھٹی کے بعد عزیزی جب اپنے سسرائیل گیا تو وہاں فرمائشی کھانوں سے لطف اندوز ہوا، نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وقتاً فوقتاً اپنی حور کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہوئے افراد خانہ کے ہاتھوں پکڑا بھی گیا اور دیگر افراد خانہ کی خلوت کو متاثر بھی کرتا رہا، جب اہل خانہ نے شکایات کا انبار سسرائیل کی وزیر اعظم (ساس صاحبہ) کے سامنے رکھا تو انہوں نے فوراً اس مسئلے کا سدباب کرنے کے لئے مشاورتی اجلاس (بیٹیوں اور بہنوں) کا طلب کیا۔

    جس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ عزیزی کے سسرائیل میں قیام کی وجہ سے سسرائیل کا بجٹ انتہائی متاثر ہو رہا ہے اور عزیزی کی خواہش نفسانی سے مجبور ہو کر حرکات کی وجہ سے مملکت خداداد سسرائیل کی مکین دیگر خواتین پر نامناسب اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس وجہ سے عزیزی کی سسرائیل میں قیام کرنے کی وجہ (عزیزی کی بیگم) کے ہمراہ اسے سسرائیل سے بے دخل کیا جائے اور عزیزی کی بیگم کو پابند کیا جائے کہ آئندہ وہ ایک مخصوص عرصے کے بعد میکے آئے تا کہ عزیزی ان کے لئے بلائے جان نہ بنے یوں عزیزی کی” نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی آیا چوکھا”، لیکن اس واقعے کے بعد عزیزی تمام احباب کو مشورہ دیتا رہا کہ شادی ہمیشہ دوسرے شہر میں کرو کیونکہ "دور کے ڈھول سہانے ” ۔

  • ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” تَلْبِيْنَةُ ” بیمار کی دلجوئی و صحت کا ذریعہ — عبدالحفیظ چنیوٹی

    تلبینہ ایک عربی ڈش ہے جو دلیہ کی شکل میں جو،دودھ اور شہد کے ساتھ تیار کی جاتی ہے جو کہ ” جو ” کے خشک پاؤڈر میں دودھ اور شہد ملا کر بنائی جاتی ہے۔

    یہ لفظ عربی لظف لابن سے آیا ہے جس کے معنی ہیں دیی (خمیر شدہ چھلکا ہوا دودھ)

    اس کی مشابہت دہی جیسی ہوتی ہے کیونکہ یہ سفید اور نرم ہوتا ہے

    تلبیںہ کیسے پکائیں؟

    تلبینہ بنانے کی آسان ترکیب نوٹ فرما لیں۔

    اجزاء:

    جو : 125 گرام (رات کو بھگو دیں)

    دودھ: 500 ملی لیٹر ( ابلا ہوا)

    شہد: حسب ضرورت مٹھاس کے لئے۔

    ترکیب:

    رات بھر بھیگی ہوئی ” جو” کو پانی کے ساتھ بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں اور ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں۔ اب ایک پین لیں اس میں "جو” کا پیسٹ اور تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور ساتھ چمچ چلاتے جائیں۔ اب آہستہ آہستہ دودھ ڈالتے جائیں اور چمچ چلاتے جائیں مزید 5 منٹ پکائیں یہ اب دلیہ جیسا دکھنے لگے گا اب اس میں حسب ضرورت شہد شامل کریں۔

    اب تلبینہ تیار ہے اس میں آپ اپنے من پسند خشک میوہ جات شامل کر سکتے ہیں۔

    تلبینہ ایک انتہائی صحت بخش خوراک ہے جو خصوصی طور پر بوڑھوں اور بیمار افراد کے لئے بے حد مفید ہے۔

    سنت نبوی صلی اللہ علہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ کے پاس جب بھی کوئی بیمار اتا آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔ یہ نہ صرٖف صحت و طاقت پہنچاتا ہے بلکہ ڈپریشن بھی دور کرتا ہے۔

    ڈپریشن کو کم کرتی ہے:

    تلبینہ ایک اعلی کاربوہائیڈریٹ خوراک ہے اور ڈپریشن اور استعمال شدہ کاربوہا.

    ئیڈریٹس مزاج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس کی وجہ سیروٹونن سینتھیسس پر کاربوہائڈریٹس کے اثرات ہیں۔
    اس کے علاوہ جسم میں زنک کی کمی بھی ڈپریشن کی وجہ ثابت ہوئی ہے۔

    تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تلبینہ مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اس کی وجہ اس میں موجود کاربوہایئڈریٹس اور اس کا میٹھا ذائقہ ہے۔ اس کے استعمال کرنے والے 6 میں سے 5 افراد پر مزاج کے حوالے سے مثبت نتائج مرتب ہوئے ہیں۔

    حضرت محمد صلی اللہ علہ وسلم کا فرمان ہے۔

    یہ غمگین کے دل کو سکون دیتا ہے اور بیمار دل کو صاف کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی پانی سے اپنے چہرے کی گندگی صاف کرتا ہے۔” سنن ابن ماجہ (3445)

    بیماریوں کے خلاف تلبینہ:

    بالآخر جدید تحقیق نے بھی اس بات کی تائید کر دی جو ہمارے پیارے نبیؐ نے چودہ سو سال قبل فرمائی تھی کہ تلبینہ بیماریوں کے خلاف قوت فراہم کرتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو اناج میں سب سے زیادہ افادیت رکھتا ہے اور مختلف تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس،بڑی آنت کا کینسر، دل کے امراض،قبض کے خلاف کام کرتا ہے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ آپؐ کے خاندان کا کوئی بھی شخص بیمار ہوتا تو آپؐ اسے تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے۔

    قبض سے نجات:

    جو درحقیقت فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    فائبر کا استعمال آنتوں کی نقل و حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض کو روکتا ہے اور جسم کو بہت سی اندرونی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور چونکہ تلبینہ جو سے بنتا ہے اس لئے یہ قبض دور کرنے میں کافی اکسیر مانا جاتا ہے۔

    کولیسٹرول کم کریں:

    جو میں موجود بیٹا گلوکنز کو بائل ایسڈ سے منسلک کر کے خراب ایل ڈی ایل کو کم کرنے کے لئے اہم دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ھائی کولیسٹرول والے مریض کو ڈاکٹر گندم کے بجائے جو سے بنی اشیاء کے استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔

    دل کی بیماریوں کے خلاف تحفظ:

    جو بھی نیاسین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔یہ وٹامن دل کی بیماری پیدا کرنے والے ایتھروسکلروسیس کو روکتا ہے۔اس میں متعدد حفاظتی ایجنٹ ہوتے ہیں جو دل کے امراض سے بچاؤ کرتے ہیں۔نیاسین کے استعمال سے خراب کولیسٹرول کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے جو دل کی شریانوں کی بندش، ہارٹ اٹیک، اور بلڈ کلاٹنگ کو روکتا ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

    ” تلبینہ مریض کے دل کو آرام دیتی ہے اور اسے فعال بناتی ہے اور اس کے کچھ دکھ اور غم دور کر دیتی ہے۔

    ” صحیح بخاری (5325)

    اپنی جلد کی جوانی کو برقرار رکھیں:

    تلبینہ میں بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جلد کی نرمی اور لچک کو برقرار رکھتے ہیں ۔اس میں موجود سیلینیم جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ، اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرکے خلیوں کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور جلد پر جھریاں پڑنے سے روکتے ہیں

    تلبینہ کے بے شمار فائدے:

    اپنی زرخیزی میں کمی کا مقابلہ کریں۔

    زرخیزی میں کمی بہت سی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے .

    جیسے کہ شوگر لیول، ٹینشن، پھر کھانے کی بے قاعدگی وغیرہ۔

    اس کے لئے متوازن غذا کا استعمال کریں اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل کریں باقاعدگی سے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹینشن سے دور رہیں اور ان سب باتوں میں تلبینہ بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ٹینشن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی خصوصیت بھی موجود ہے۔

  • بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات تفصیل کے بی ایم پی سوار الطاف حسین لنڈ جو کہ دوران سروس فوت ہو گیا تھا محکمانہ قانون کے مطابق کوئی اہلکار دوران سروس جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا یا بیٹی کو قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد تعینات کیا جاتا ہے اسی قانون کے تحت فوت ہونیوالے سوار (کانسٹیبل) الطاف حسین لنڈ کی بیٹی شہنیلا الطاف نے اپنے والد کی خالی ہونے والی سیٹ پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کو درخواست گزاری کہ مجھے میرے والد کی جگہ پر میری تعیناتی کے آرڈر کیے جائیں جس پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک نے قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد اس کی تعیناتی کے آرڈر جاری کر دئیے اس طرح بارڈر ملٹری پولیس کی تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل بھرتی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

  • ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ۔وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوامیں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میںگندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم کی خرابی کا ذمہ دار کون ؟ ہر طرف خاموشی کے ڈیرے ،ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملزمالکان پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں۔ سیلاب سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کاذکر نہیں کیا گیااوررپورٹ میں بتایاگیاکہ ہمارے کسی بھی فوڈسنٹرکوسیلاب سے کوئی خطرہ نہیں ہے،اس رپورٹ کے برعکس شادن لنڈ فوڈ سنٹر میں رود کوہی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا جس سے گندم خراب ہوگئی،

    جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو دورہ ڈیرہ غازیخان میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے اس معاملے پرنوٹس لیکرتحقیقات کاحکم دیا،اس کے برعکس کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا اورذمہ داروں کاتعین تودورکی بات۔ڈی ایف سے اس سارے معاملے پرپردہ ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کا آکشن کب ہوا اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو چاہیے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کریں۔جاری مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب سے فوڈسنٹر شادن لنڈ میں بارشی اوررود کوہی کے پانی میں سینکڑوں بوری گندم ڈوب جانے کے باعث خراب ہوگئی،ذرائع کے مطابق لگ بھگ 2لاکھ بوری خراب ہوئی معاملہ پر سیکرٹری خوراک پنجاب نے نوٹس لے لیا ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی شروع ہوئی تو ڈائر یکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا،لیکن دوسری طرف ذرائع کا کہتا ہے کہ محکمہ خوراک کے مطابق سیلاب سے مبینہ دو سے چارسو بوری گندم خراب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں گند م کے معاملے پر، بڑے پیمانے پرخورد بردی کی اطلاع ہے جس سے گندم میں بڑے پانے پرخورد برود کو خارج از امکان قرارنہیں دیا جاسکتا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سیکرٹری خوراک پنجاب اور ڈائریکٹر خوراک نے الرٹ جار ی ہونے کے باوجو د انتظامات نہ کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف مبینہ چارج شیٹ فائل کردی ہے ۔ جب ڈی ایف سی محکمہ خوراک مہر اختر حسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ افسران یہاں آئے تھے انہوں نے شواہد بھی اکھٹے کیے لیکن انہوں نے رپورٹ جاری نہیں کی جب رپورٹ جاری ہوگی تو حقائق معلوم ہوں گے۔


    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ہدایت پر فوڈ سنٹر شادن لنڈ زیر آب آنے کے واقعہ کی تحقیقات شروع گئی ہیں ا س حوالے سے ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان محمد انور بریار نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دیا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کمیٹی کے کنوینر مقرراراکین میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت شامل ہیںانکوائری کمیٹی چار روز کے اندر رپورٹ پیش کرناتھی لیکن کئی چارروزگذرگئے لیکن کوئی رپورٹ پیش نہ ہوسکی ۔ڈ پٹی کمشنر محمد انور بریار نے نوٹیفکیشن جاری کردیاانکوائری کمیٹی فوڈ سنٹر کی جگہ کے انتخاب،ایس او پیز اور تمام معاملات کا جائزہ لے گی کمیٹی کی سفارشات پر قانون کے تحت کارروائی ہوگی،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار زرائع کا کہنا ہے ۔اس سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ شادن لنڈ فوڈ سینٹر سیلاب کی زد میں آگیا جس سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی۔ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملز پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں ۔جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو مہر اختر نے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کی آکشن کب ہوئی اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی اس کا سخت نوٹس لیکر فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کرکے ذمہ داروں کاتعین کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

  • ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ غازی خان میں سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے پڑ گئے حادثات معمول بن گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ.صدرعوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ڈیرہ غازیخان مولانا غلام سرور عثمانی نے کہا ہے کہ عوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ایک فلاحی تنظیم ہے جو کہ عوامی مسائل اور عوامی خدمت کے منشور پر کام کرتی ہے اور الحمد اللہ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازیخان کے عوام میں اپنے خدمت کے جذبے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہے۔پورے ڈیرہ غازیخان شہر کے واٹر ڈسپوزل بند کرکے سیوریج لائن کا بھٹہ بٹھا دیا سارے شہر کی سیوریج لائن پھٹ گئیں اور سار ا سیوریج کا پانی زیر زمین رسنا شروع ہوگیا اب حالت یہ ہے کہ پورے شہر کی سٹرکیں یکدم دھڑام سے گر جاتی ہیں اور پھر اس خلا کو مٹی ڈال کر بند کردیا جاتا ہے کسی سٹرک کا یوں اچانک پھٹ جانا انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کا بھی پیش خیمہ اور سبب بن رہا ہے .

    سارے شہر کی سٹرکیں جن میں کالج روڈ،پاسپورٹ آفس روڈ،ہسپتال روڈ،گولائی کمیٹی روڈ،صدر بازار،پتھر بازار،فریدیہ بازار،لیاقت بازار،قائداعظم روڈ،کنگن روڈ،پیر قتال روڈ،اسٹیشن روڈ،کچہری روڈ،گولائی کمیٹی تا فیصل مسجد چوک روڈ،پیارے والی پل تا ڈاٹ پل،باری باری گر چکی ہیںمولانا سرور عثمان نے مزید بتایا کہ چند دن پہلے کالج تا پاسپورٹ آفس روڈ کے اوپر یکدم سٹرک پھٹ جانے سے بجری سے بھرا ٹرک الٹ گیا جس کے نتیجے میں 10ویلر ٹرک ہاش پاش ہوگیا اور روڈ پر بجری اور ٹرک کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔یہ تباہی کی ان سب ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کرکے ان کا سراغ لگانا آپ کی ذمہ داری ہے اور ان کے خلاف ایکشن لینا اور عبرت ناک سزا دلوانا آپ کا فرض ہے۔ ہماری ویلفیئر آرگنائزیشن کا کام عوامی مسائل اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ عوام آئندہ رونما ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہم ایک محب وطن لوگ ہیں اور اپنے ملک کے وفا دار ہیں۔ہمارے شہر ڈیرہ غازیخان میں ریکارڈ کام ہورہے ہیں جو سابقہ حکومت نے 10سال میں بھی نہیں کیے۔ہم وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان کی موجودہ صورتحال پر فوری ایکشن لیا جائے۔فوری کام کروائے جائیں۔پینے کا صاف پانی کا بھی بہت فقدان ہے بیماریاں جنم لے رہی ہیں ہر دوسرا شخص یرقان، معدہ جگر کے مرض میں مبتلاء ہیں۔ صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جگہ جگہ گندگی اور بدبو نظر آتی ہے

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔