Baaghi TV

Category: متفرق

  • طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ
    معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات نے لکھنے پے مجبور کیا.
    پاکستان میں طلاق کی شرح بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ طلاق کے لیے آنے والے زیادہ تر کیس میں معاملات خراب ہونے کی وجہ جوڑوں کے سسرال والے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے جوڑے جو جوائنٹ فیملی/ مشترکہ خاندانوں میں رہتے ہیں رازداری کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ خاندان کے افراد سے کچھ فاصلہ برقرار نہ رکھنے یا اس کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باعث، گھریلو تشدد لڑائی جھگڑے کے بہت سے واقعات اور پارٹنر پر تشدد کے واقعات کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔اسی طرح پولیس رپورٹس کے مطابق صرف 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کراچی میں طلاق کے تین ہزار آٹھ سو مقدمات درج ہوئے۔ ابھی حال ہی میں، جنوری سے نومبر 2021 کے درمیان، راولپنڈی کی ضلعی عدلیہ نے طلاق، خلع، سرپرستی اور نفقہ سے متعلق دس ہزار تین سو بارہ کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ اسی ضلع میں فیملی کورٹس میں مزید تیرا ہزار کیس فیصلے کے منتظر پائے گئے۔ طلاق کے لیے گئے ایک ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کے کیسز خاص طور پر بڑھ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ طلاق کے زیادہ واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد ‘خاندانی عزت’ کے دباؤ میں جبری شادیاں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں،
    اگر ایک ماہ میں تیرا ہزار طلاق کے لیے رابطہ کر رہے ہیں تو سوچیں وہ کیس جو رپورٹ نہں ہوتے انکو ملا کر یہ گنتی کہاں جائے گی.
    آئیں اب ذرا نظر ڈالتے ہیں طلاق سے ہونے والے نقصانات پر
    طلاق لینا بہت ہی آسان ہوگیا ہے ایک بار جب آپ نے سوچ لیا ہے اور اپنی زندگی میں اس فیصلہ پر قدم اٹھانے تیار ہیں تو پھر بھی ایک بار آپ اپنا خود سے محاسبہ کر لیں اور ایک بار خود سے کریں اور کچھ اچھے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کریں اس کام کو انجام دینے سے پہلے.
    شادی دو لوگوں کا نہں دو خاندانوں کا میل ہے اور شادی کے اگر آپ کے بچے بھی ہیں تو آپکے اس طلاق کے فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان آپکے خاندان میں آپ کے بچوں کو ہوگا کیوں کے جب آپ الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو بچوں کے لیے ی سب سے زیادہ مشکل فیصلہ ہے کے ماں باپ کی الگ ہونے کے بعد وہ کس کے ساتھ رہیں کیوں ان کے لیے دونوں رشتوں کی اہمیت برابر ہی ہے ماں ہو یا باپ بچہ دونوں کو توجہ چاہتا ہے اور اس کی پرورش اور تربیت میں دونوں کا ہے ایک اہم کردار ہے تو اگر آپ اپنی اولاد کو اس معاشرے میں ایک ایک اچھا فرد بنانا چاہتی ہیں یا چاہتے ہیں تو آپ کا الگ ہونے کا فیصلہ یا طلاق کا فیصلہ آپ کے بچے کے کردار کو معاشرے میں خراب کر سکتا ہے کیوں کے جب ماں باپ الگ ہوجائیں تو الگ گھروں میں رہنے کی وجہ سے بچے کبھی ماں کے پاس اور کبھی باپ کے پاس ہوتے ہیں اور ماں باپ دونوں اپنی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے ان پر صحیح طرح سے توجہ نہں دے پاتے ہیں.اس طرح آپ کا اپنے بچوں کو معاشرے کے لیے بہتر بنانے اور انکا مستقبلِ بہتر بنانے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے یہ تھی سب سے اہم بات اس بعد اگر آپ خود اپنی زندگی میں اس فیصلے کو لیے جانے کی وجہ سے آنے والی تبدیلی کے بعد دیکھیں تو یہ بھی ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے چاہے آپ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں یہ بھلے اکیلے زندگی گزارتے ہیں دونوں صورتوں میں ایک بار پھر نئی زندگی کو شروع کرنے کی مشکلات سے گزرنا ہوگا تو اس بات کو سوچتے ہوئے آپ دوبارہ اپنے فیصلے پے نظر ڈالیں کے جب اس طلاق جیسے فیصلے کے بعد بھی آپ کو دوبارہ زندگی میں جدوجھد کرنا ہے تو کیوں نہ اسی رشتے پر توجہ دے کر ایک بار دوبارہ حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور اپنے رشتے کو سہی طرح چلانے کی کوشش کی جائے اس طرح آپ زندگی کچھ بہتر طریقے سے گزر جائے گا نا صرف آپکی بلکے آپ کے ساتھ جُڑے رشتوں کو خصوصاََ آپ کے بچوں کی زندگی جو کے والدین کا اولین مقصد ہوتا ہے اپنے بچوں کا مستقبلِ بہتر بنانا.

    طلاق لینا ہی مسئلے کا حل نہں اگر ہم سوچیں اور اپنے اِرد گرد کے اس طلاق جیسے فیصلے سے ہونے والے نقصانات پے نظر ڈالیں تو یقناً آپ بھی کسی صورت یہ قدم نہں اٹھانا چاہئیں گے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے رشتوں کا ختم کرنا ضروری نہں ان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    آج صبح میئو اسپتال لاہور میں جانا ہوا. وہاں OPD پر پرچی کے لیے لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں. خواتین کی لائن میں بھی خواتین کی کثیر تعداد تھی اچانک ایک کالے کوٹ اور سفید سوٹ میں ملبوس خاتون (ان کے میک اپ اور شکل پر تبصرہ نہیں کیونکہ وہ ذاتی معاملہ ان کا) لائن کو کراس کرتے ہوئے بالکل فرنٹ پر آن موجود ہوئیں. وہاں پہلے سے موجود خواتین جو بےچاری لمبے انتظار کے بعد آگے پہنچی تھی ان کو غصہ آیا اور انہوں نے "کالے کوٹ” والی محترمہ کو روکنا چاہا…
    اسی اثنا میں سیکیورٹی پر معمور نوجوان آگے آیا اور اس نے ان محترمہ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں تو محترمہ نے کہا میں نے پرچی بنوانی ہے. سیکیورٹی والے نوجوان نے کہا کہ باجی آپ لائن کے پیچھے تشریف لے جائیں اور اپنی باری پر آکر پرچی بنوائیں تو کالے کوٹ میں ملبوس خاتون نے جو جواب دیا وہ "آب زر” سے لکھوا کر ہر عدالت اور ہر وکلاء بار کے دروازوں پر آویزاں کرنے کی ضرورت ہے …

    محترمہ نے باآواز بلند "فرمایا” بلکہ دھاڑا کہ ” میں ایڈووکیٹ ہوں میں اب لائن میں لگوں گی کیا” ….

    قانون پڑھنے پڑھانے والوں، قانون کی بالادستی کے نعرے لگانے والوں اور قانون کی کمائی کھانے والوں کا یہ وہ رویہ ہے جو قدم قدم پر آپ کو باور کرواتا ہے کہ وہ "اعلیٰ ارفعٰ” ہیں اور باقی عوام کمی کمین ہے. یہ جب چاہتے جہاں چاہتے بدمعاشی شروع کردیتے ہیں. پنجاب انسٹیوٹ پر ان کا حملہ ایسے تھا جیسے کوئی فاتح لشکر کسی مقبوضہ علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجاتا ہے.
    یہ رویہ درست ہوئے بغیر معاشرے کی اصلاح اور ترقی ناممکن ہے. کوئی قانون ان قانون دانوں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے بھی ہونا چاہیے.

    محمد عبداللہ

  • یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں مقامی افراد نے کھانے پینے کی اشیاء کو گھروں تک پہنچانے (ہوم ڈلیوری) کے لیے گھوڑوں کا استعمال کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غییر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی دارالحکومت صنعاء میں ایک ڈلیوری کمپنی نے اپنے صارفین کی طلب کردہ اشیاء کی حوالگی کے واسطے گھوڑوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    شہزادہ چارلس بادشاہ اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر ملکہ برطانیہ ہوں گی،ملکہ الزبتھ نے اعلان کر دیا


    سوشل میڈیا پر صنعاء کے ایک ریستوران کی تصاویر گردش میں آ رہی ہیں ریستوران انتظامیہ گھوڑوں کے ایک مجموعے کے ذریعے مطلوبہ کھانے گاہکوں کے گھروں تک پہنچا رہی ہے۔


    سوشل میڈیا پر صارفین نے اس اقدام کو دور جاہلیت اور جدید زمانے کا امتزاج قرار دیا ہے اس اقدام کی وجہ صنعاء میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اور ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کا سلسلہ موقوف ہوجانا ہے صارفین کے لیے اشیاء گھروں تک پہنچانے والے مذکورہ گھوڑ سواروں کو "فرسان التوصیل” کا نام دیا گیا ہے۔

    لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں


    یمنی شہریوں کے مطابق صنعاء اور حوثیوں کے زیر قبضہ دیگر صوبوں میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایندھن کے اسٹیشنوں پر فروخت کا سلسلہ مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

    بلیک مارکیٹ میں ایک گیلن (تقریبا 20 لیٹر) پٹرول کی قیمت تقریبا 25 ہزار یمنی ریال پہنچ چکی ہے یہ قیمت 40 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پیارے ملک پاکستان میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین پنشنرز کیلئے اس آسما ن کو چھوتی مہنگائی کے دور میں حکومت وقت کی طرف سے کچھ آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی اور بڑھاپے کے یہ ایام جو کہ آرام اور سکون کے ساتھ گزارنے کیلئے ہوتے ہیں کو آسان اور سہل طریقے سے گزار سکیں ۔
    پینشن حاصل کرنے والے ملازمین اپنی زندگی کے قیمتی سال مُلک اور قوم کی خدمت میں صرف کردیتے ہیں۔ خواں وہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔ وہ بڑی محنت ۔ لگن اور جانفشانی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ جب وہ اپنی جوانی اپنے محکموں پر قربان کرکےبڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے ہیں تو ریٹائرڈ ہوتے ہیں ۔

    اس دورانِ باقی کئی اقسام کے مسائل کے ساتھ ساتھ بڑے مالی مشکلات کا سامنا درپیش ہوتا ہے۔ایک طرف اولاد جوانی میں قدم رکھ چکی ہوتی ۔جہاں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے ہوتے ہیں اور بیٹوں کے سر پر سہرے سجانے کے ساتھ ساتھ سر پر چھت نہ ہونے کے سبب خاندان کیلئے رہائش جیسے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ۔جبکہ ریٹائر منٹ کے بعد تنخواہ بھی آدھی رہ جاتی ہے اخراجات کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے چلےجاتے ہیں آج مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جس کے سبب یوں تو ملک کے تمام پنشنرز سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔

    مگر میں یہاں پر سرِدست پاکستان ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ حکومت وقت کی طرف سے محکمہ ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک اور برتاؤ رواں رکھا جارہاہے۔بلکہ ان ریٹائرڈ ملازمین کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس معاملے میں حکمران طبقہ کی بے حسی اپنی آخری حدود کراس کر چکی ہے۔پاکستان ریلوے کے ملازمین اپنی سروس مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوکر دو دو سال سے اپنے گھروں کو جاچکے ہیں ۔ مگر فنڈ کی کمی کا بہانہ بناکر تا حال اُنکو اُنکی گریجویٹی اور باقی مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے جو کہ اُن کا بنیادی حق ہے۔اسی طرح سروس کے دوران یا بعد از ریٹائرمنٹ جو ملازم وفات پاچکے ہیں ۔ ظلم کی یہ حد ہے کہ اُن کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو بھی اُ ن ملنے والی ہر سہولت سے محروم رکھا جارہا ہے۔اُ ن کے تمام کیسسز دفتروں کی نظر ہوئے پڑے ہیں ۔ اُن بیواؤں اور اُ ن کے یتیم بچوں کی داد اور فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے ۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں ،

    اسی طرح پچھلے دوسال سے بیواؤں کو ملنے والا بہبود فنڈ ، میرج گرانڈ فنڈ،فیئر ویل گرانٹ اور باقی تمام دوسرے فنڈ تعطل کا شکار ہیں ۔پاکستان ریلوے سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین ، بیوائیں اور ان کے یتیم بچے بے سرو سامانی اور کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ ان کی داد رسی کرنے والے اور فریاد سننے والے بے حسی کی چادر لپیٹ کر سوئے ہوئے ہیں ۔ اور سب اچھا ہے کے راگ الانپ رہے ہیں۔

    پنشن اتنی قلیل ہے کہ وہ بمشکل دس پندرہ روز سے زیادہ کا ساتھ نہیں دیتی ہے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس منہ زور مہنگائی کے آگے گورنمنٹ کے وہ ملازمین جو کہ سولہ اور سترہ اسکیل سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں وہ بھی پہلی تاریخ تک نہ جانے کتنی بار اُنگلیوں پر دن گنتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔تو پھر اندازہ کیجئےگا جن بوڑھے ضعیفوں اور بیواؤں کو پنشن بارہ سے پندرہ ہزار ملتی ہوگی تو ذرا سوچئے نہ جانے ان کے گھروں کے چولہے کیسے جلتے ہونگے ۔ وہ کس قدر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے ۔ اُن کے بچوں کی زندگی کیسی ہوگی۔ کیا اُن کو کھانے کے لیے گوشت،مرغی یاپھر چائے، انڈا اوراور پراٹھا میسر آتا ہوگا۔ تو پھر بتائیے گا جب اِن غریبوں کے بچونکومتوازن غذا اور آسودہ ماحول میسر نا آپائے گا تو اُن کی جوانی کیسے پروان چڑھے گی ۔اِنکی جسمانی اور دماغی کیفیت کیسی ہوگی۔ تو وہ بچے کس طرح سے ملک وقوم کے معمار بن پائیں گے۔

    یہ تمام صورت احوال حالات وواقعات تو اپنی جگہ پر موجود تھے ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ پچھلے چند ماہ سے ریلوے کے ریٹائرڈ پنشنرز کو ایک اور گھمبیر مشکل کا سامنہ درپیش ہے کہ اب ریلوے پنشنرز کو اُن کی ماہانہ ملنے والی پنشن بھی بروقت ادا نہیں کی جارہی ہے۔ اور یہ معاملہ صرف اور صرف ریلوے کے پنشنرز کو درپیش ہے۔ جوکہ سب اچھا ہے کا راگ الانپنے والوں کے چہرے پر زور دار طمانچہ ہے۔

    آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کس کے فرائض منسبی میں شامل ہے کیا اس کے ذمہ دار ی موجودہ حکمرانوں پر نہیں ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا حل تلاش کریں ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مہنگائی کے تناسب سے انکی پنشن میں خاطر خواں اضافہ کیا جاتا ان ضعیفوں اور لاچار بزرگوں کی صحت اور علاج ومعالجہ کی مد میں کوئی خاطر خوان اقدامات اُٹھائے جاتے۔ نا کہ ان کو عمر کے اس حصے میں دھکے کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس کو ریل کے پنشنرز کے ساتھ ظلم اور ناانصافی اور سوتیلی ماں والا برتاؤ نا کہا جائے تو پھر اس کو کیا نام دیا جائے۔بجائے اس کے کہ اُن کو اُنکی پنشن ٹائم پر ادا کی جائے اس کہ جگہ نت نئے بہانے بناکر اُن کی روز مرہ زندگی کو عذاب بنایا جارہا ہے ۔

    میری ارباب اختیار سے جوکہ ان کے مسائل اور مصائب سے آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اِن ضعیفوں ،لاچار ،بیواؤں اور یتیموں کی مشکلات پریشانیوں سے نظریں چرا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے اپیل ہے کہ خدارا اپنی آنکھیں کھولئیے ان کی مشکلات اور پریشانیوں سے قطعہ نظر نہ فرمائیں ۔ یہ بہت مظلوم اور لاچار ہیں ۔
    لہذا ان کے درد اور دکھ کا احساس کریں اِ ن ریلوے ملازمین ، بیواؤں اور یتیموں کے تمام واجب الادا بقایا واجبات عزت اور وقار کے ساتھ بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اِ نکو ملنے والی پیشن کو بھی مقررہ تاریخ پر ادائیگی کے لئیے یقینی بنایا جائے۔تاکہ وہ اس کمپرسی اور مایوس کن زندگی سے باہر آسکیں ۔

    اور یاد رکھنا ان ان کے ساتھ یہی رویے رواں رکھے جاتے رہےتو جو مجھے نظر آرہا مجھے ایک ہی صورت حال بنتی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ مایوس اور بد دل ہوکر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اور ایسے میں جب یہ ضعیف العمر بوڑھے ،بیوائیں اور یتیم بچے اپنے جائز حقوق کے حصول کی خاطر جب ریلوے اسٹیشنوں اور ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر بیٹھ جانے پر مجبور ہوجائیں گے تو پھر ناتو ارباب اختیار کے پاس اور نا ہی حکومت وقت کے پاس ایسی طاقت اور قوت ہوگی جو کہ انہیں وہاں سے اُٹھا پائے گی۔کیونکہ یہ پھر روزانہ گھٹ گھٹ کر مرجانے کی بجائے ایک ہی بار مرجانے کو ترجیح دیں گے۔اس سے پہلے کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں ۔ حکومت وقت اور ارباب اختیار کو پہلی فرصت میں اس طرف اپنی توجہ مبذول کر لینی چاہئے ابھی بھی وقت ہے ایسا نا ہوکہ وقت گزر جائے ۔ حالات بگڑ جائیں ۔ پھر ناتو بانس رہے گا اور ناہی بانسری اور ناہی کوئی سب ٹھیک ہے کی بانسری بجانے والا بچے گا۔
    لفظوں کو بیچتا ہوں پیالے خرید لو
    شب کا سفر ہے کچھ تو اُجالے خرید لو
    مجھ سے نہ امیرِ شہر کا ہوگا احترام
    میری زباں کے لئے تالے خرید لو

  • یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ
    ہم اپنے اندرونی مسائل مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف ، اسٹیٹ بینک اور نواز شریف کی بیماری میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نئی جنگ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ اور اس جنگ کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلنے والے ہیں اس تنازعہ کا نام ہے ۔۔۔ یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب ؟؟؟
    اس سلسلے میں بھی دنیا دو حصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک جانب مغرب ہے تو دوسری طرف مشرق ۔ ابھی تو ہر کوئی یہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ جنگ ٹلتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ جنگ چھڑ گئی تو معاملہ مزید آگے ہی بڑھے گا ۔ کیونکہ یوکرائن کے معاملے پر دو بڑے پہلوان امریکہ اور روس زور آزمائی کررہے ہیں ۔

    ۔ خود امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس سے دنیا کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ جبکہ روس کے صدر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں یوکرائن کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔ دراصل یہ پھڈا شروع ہی یوکرائن میں امریکی میزائلوں کی تنصیب سے ہوا ہے ۔۔۔ اب جب امریکہ روس کی ناک کے نیچے اسکی سرحد ساتھ اپنا جدید اسلحہ لگائے گا تو روس بھی جواب دے گا ۔ اور اسی جواب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن کی سرحدوں پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج اکھٹی کردی ہے۔ اس حوالے سے امریکی جنرل مارک میلی کا کہنا ہے کہ اگر یوکرائن پر روس کا حملہ ہوگیا تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے حالیہ روسی فوجیوں کی موجودگی کو بھی سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی قرار دیا ہے۔

    ۔ جنگ کی تیاری میں ہی امریکہ نے اب تک تین سو کے قریب Juvenile missile اور بنکر نیست و نابود کرنے والے انتہائی مہلک بم یوکرائن پہنچادیے ہیں۔ جنگ کی صورت میں روس سے گیس کی ترسیل بند ہونے کی صورت میں یورپی ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ اگلے چند روز میں 8,500فوجی یوکرائن یا اس کے آس پاس متعین کر رہا ہے اور یورپ میں موجود 64,000 سپاہیوں کو تیاررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ اسی لیے روس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے Moldova اور Crimea میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں ۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب میں چین کے اشتراک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں ۔ روس اپنے میزائلوں کو بھی حالت تیاری میں رکھے ہوئے ہے اور یوکرائن کی سرحد پر
    60جنگی جہاز اور بمبار تیاری کی انتہائی حالت میں ہیں۔۔ ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے ۔ دوسری جانب روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ہے ۔ ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی اور یہ فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا ہے ۔۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔۔ پھر روس کے حملے کے پیش نظر صرف امریکا ہی نہیں برطانیہ نے بھی یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیٹو افواج کو پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    ۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے باوجود روس اور امریکا اب تک اس کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے کے حوالے سے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ۔ اگرچہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس نے یہ بھی مطالبہ کر رکھا ہے کہ نیٹو پہلے یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی اپنے اتحاد میں Kiev
    کٓو رکنیت کی اجازت نہیں دے گا۔ روس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نیٹو اتحاد مشرقی یورپ سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور روس کی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی سرگرمیوں کو ختم کرے۔ ۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور نیٹو دونوں نے ہی روس کے مطالبات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماسکو نے سرحد پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔۔ دراصل یہ سارا مسئلہ شروع ہی تب ہوا جب امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد نے یوکرائن کی ممبر شپ کی درخواست کو منظور کر لیا۔ یوکرائن ابھی تک نیٹو کا شراکت دار ملک ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرائن کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔

    ۔ امریکی وزیر خارجہ Anthony Blanken اور ان کے روسی ہم منصب Sergei Lavrov کے درمیان جنوری کے اوائل میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم ان سفارتی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ۔ صدر جو بائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی تاہم اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔۔ اب برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson بھی یوکرائن کے صدر Vladimir Zelensky سے بات کرنے کے لیے Kievپہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جا سکے۔۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائن ہمارا ہمسایہ اور ساجھے دار ہے۔ اس کی سلامتی ہماری بھی سلامتی ہے۔ تو ترکی کے صدر ایردوگان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ روس یوکرائن پر حملے یا قبضے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر روس اور یوکرائن کے صدور چاہیں تو ہم انہیں اپنے ملک میں مذاکراتی میز پر لا کر بحالی امن کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں۔ ۔ پھر یوکرائن کے اس مسئلے کو بھارت میں خاصی تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ 1962 میں جب بڑی طاقتیں کیوبا میں روسی میزائل کے معاملے کو سلجھانے میں مصروف تھیں تو اس کا فائدہ اٹھاکر چین نے بھارت پر فوج کشی کرکے اس سے 43,000مربع کلومیٹر کا علاقہ ہتھیا لیاتھا۔ تاریخ شاید ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ کیونکہ 2020ء سے 60 سال کے بعد چینی اور بھارتی افواج ایک بار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بڑی طاقتیں یوکرائن میں برسر پیکار ہیں۔ کل تو راہول گاندھی نے بھی اس حوالے سے خوب چینخ وپکار کی ہے ۔ اور مودی کو خوب کوسا بھی ہے ۔ ۔ یوکرائن کے تنازعہ کی وجہ سے امریکہ فی الحال چین کو قابو میں رکھنے کی اپنی ایشیا پیسفک پالیسی بھی بھول چکا ہے اور اس خطے میں اس نے اپنے اتحادیوں کو بڑی حد تک اب چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چین بھی 1962ء کے مقابلے اب خودہی ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے۔ جو بڑی حد تک امریکہ کے ہم پلہ ہے اور روس اسکے ایک اتحادی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی لیے بھارت اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہا ہے ۔

    ۔ پھر یوکرائن والے معاملے کو لے کر سلامتی کونسل میں بھی بہت شور شرابہ ہوا ہے ۔ بلکہ اس کاروائی کو رپورٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ منظر بالکل ایسا تھا جیسے ہماری پارلیمان کے اجلاس کا ہوتا ہے ۔۔ اب اس اجلاس میں جہاں واشنگٹن نے کہا کہ روسی فوج کی تعیناتی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تو روس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کو PR Stunt قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر Hysteria پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔۔ پھر امریکا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ روس آنے والے ہفتوں میں بیلاروس میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 30,000 کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہ یوکرائن کی سرحد کے قریب منتقل ہونے والے اپنے ایک لاکھ فوجیوں میں مزید اضافہ کر سکے۔ تاہم بیلاروس کے نمائندے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اسے یوکرائن پر روسی حملے کے لیے
    staging ground کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس اس معاملے پر کھلے اجلاس کے مطالبے کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکا سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 10 کو عوامی اجلاس کی حمایت کرنے پر راضی کر سکا۔ لیکن سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاملے میں کسی بھی رسمی کارروائی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں روس کو ویٹو پاور حاصل ہے وہیں چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جنہوں نے اس مسئلے پر کھلی میٹنگ کو روکنے کی ماسکو کی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔۔ اقوام متحدہ میں بیجنگ کے ایلچی Zhang Jun نے کہا۔ واقعی یہی مناسب وقت ہے کہ خاموش سفارت کاری کا مطالبہ کیا جائے۔

    ۔ یوں سلامتی کونسل کے اس دو گھنٹے سے زائد وقت کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی ۔ ماسکو کی نمائندہ Vasily Nebenzia نے الزام لگایا کہ امریکا Kiev میں خالصتاً نازیوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اس پر امریکی سفیر Linda Thomas Greenfield نے جواباً کہا کہ یوکرائن کی سرحدوں پر روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت یورپ میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بغیر کسی حقیقت کے ہی یوکرائن اور مغربی ممالک کو حملہ آور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حملے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں روسی سفیر نے مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ہمارے مغربی ساتھی کشیدگی میں کمی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، سب سے پہلے، وہ خود ہی کشیدگی اور بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ تھوڑا پیچھے جائیں تویوکرائن 1991تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرائن میں رہنے والے روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے ان کے روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ یوں روس یوکرائن کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روس کا خیال ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی مزید اسلحہ اسکی سرحد کے پاس اکٹھا کریں گے۔ دیکھا جائے تو افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ روس کو اور چین کو قابو میں کرنے کیلئے ایشیاء بحرالکاہل کے خطے سمیت بلقان ملکوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر روس اور چین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ دونوں امریکی اتحادیوں کو سبق بھی سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے روس نے یوکرائن سمیت یورپ اور چین نے بھارت سمیت تائیوان کو خوب ٹائٹ کیا ہوا ہے

  • انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    ویسے توبحیثت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جس نے یہ دنیا بنائی ہے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارا مالک ہے ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہوکسی جاندار کو موت نہیں آسکتی اور موت کا جب وقت لکھا ہو تو اس کو اللہ کے علاوہ کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک کارٹل مافیا ایسا بھی ہے جو کہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششوں میں ہے۔ یہ مافیا طے کرتا ہے کہ اگر ایک بار کوئی بیماری انسان کو ہو جائے تو اس کے بعد کیسے انسان کو مرتے دم تک دوائیوں کے چنگل میں پھنسا کر رکھنا ہے۔

    یہ کارٹل کیسے کام کرتا ہے؟میں نے آپ کو ایک ویڈیو میں الیکٹرک بلب اور مشینری بنانے والے کارٹل کے بارے میں بتایا تھا کہ کیسے جان بوجھ کر ایسیElectronic machinesبنائی جاتی ہیں جو کہ چند سال بعد خود بخود Expireہو جاتی ہیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور اس کے بعد ہمیں مجبور ہو کر اس مشین کو پھینکنا پڑتا ہے اور نئی مشین خریدنی پڑتی ہے۔ اور اب جس فارما کارٹل کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ یہی کام انسانوں کے ساتھ کررہے ہیں ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ چند ادویات اور ویکسینز بنانے والی کمپنیاں اب یہ طے کر رہی ہیں کہ دنیا میں کتنے فیصد لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے اور کتنے فیصد لوگوں کو مر جانا چاہیے۔ جس کی وجہ سے یہ کارٹل خطرناک حد تک پاورفل ہو چکا ہے کہ حکومتیں بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ فارما کارٹل کیسے یہ سب کر رہا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟اور یہ آنے والے وقت میں عام انسانوں کے لئے کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں؟اور کوئی بھی حکومتیں اب تک ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ سب سے پہلے امریکہ کی ایک مثال سے شروع کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایک شخص ہے جس کا نام Martin Shkreliہے۔ یہ Vyera Pharmaceuticals LLCکا سی ای او رہا ہے اس کے علاوہ اس نے Bio technology company Ritrofinبنائی۔ یہ Toring Pharmaceuticalsکا بھی مالک ہے لیکن اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ He used to be America’s most hated manاب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک دوائیاں بنانے والی کمپنی کے مالک نے ایسا کیا کیا کہ لوگوں کو اس سے نفرت ہو گئی۔دراصل ایک دوائی ہے Daraprimجو کہ ملیریا کے علاج کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک وقت تھا جب اس دوائی کی قیمت 13.50$تھی۔ اب ہوا یہ کہMartin shkreliکی کمپنی نے یہ دوائی بنانے کا لائسنس حاصل کیا اور اس دوائی کی قیمت کو پانچ ہزار گنا تک بڑھا کر 750$کردیا۔ جس پر ڈاکٹرز، Law makersاور عام انسان سب کو بہت زیادہ تشویش ہوئی اور اس کے خلاف امریکہ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ آخر قانون حرکت میں آیا اس شخص کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور اسے سات سال کی جیل ہوئی۔ لیکن حال ہی میں اس نے 40 million dollarsادا کرکے اپنے اوپر لگے Allegationsکو Settleکرلیا ہے۔

    اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے عام ادویات بنانے والوں کے ساتھ غیر قانونی معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ ادویات کی قیمت میں اضافے کے بعد دوائی کے سستے ورژن کو مارکیٹ میں لانے میں دیر کی جا سکے اور لوگوں کو مجبورا مہنگی دوائی خریدنی پڑے۔اور جب میڈیا کی جانب سے اس شخص سے قیمتیں بڑھانے پر سوالات کئے گئے تو ان کے جواب میں بھی اس نے صاف صاف کہا کہ میں قیمتوں میں ضرور اضافہ کروں گا تاکہ میں منافع کما سکوں۔اوریہ
    Martin shkreliتو صرف ایک مثال ہے اصل میں فارما انڈسٹری کا پورا نظام ہی اسی طرح سے کام کرتا ہے۔ ان کا کام لوگوں کی بیماریوں سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانا ہے۔ اور یہ وہ انڈسٹری ہے جس کا واسطہ ہر ایک انسان سے ہے وہ چاہے امیر ہو یا غریب۔۔ انسان کی عمر کوئی بھی ہو اس انڈسٹری سے واسطہ پڑنا لازمی ہے۔ اس لئے یہ فارما کمپنیاں اب اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ حکومتوں کے لئے بھی ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سب سے پہلے ڈاکٹرز کو اپنے شکنجے میں لیتی ہیں ان کو مراعات دیتی ہیں اور جب ایک ڈاکٹر مریض کو یہ کہتا ہے کہ یہ دوا استعمال کرکے آپ کی جان بچ سکتی ہے تو اس انسان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال کرے اس طرح یہ کپمنیاں ڈاکٹرز کے زریعے اپنی ادویات بکواتی ہیں۔ اپنی ادویات کی افادیت کے بارے میں اچھی اچھی خبریں چلواتی ہیں جس سے عام انسان کو لگتا ہے کہ بس اب اس کی زندگی انہیں دوائیوں کے سہارے چل سکتی ہے جس کے بعد وہ اس شکنجے میں ایسا پھنستا ہے کہ مرنے کے بعد ہی اسے ان سے نجات ملتی ہے۔اس کی بہترین مثالOpioidsکی ہے جو کہ ایک Pain killerہے اور اس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ہیروئین کی طرح کام کرتی ہیں یہ آپ کی تکلیف کو دور نہیں کرتی بلکہ آپ کے محسوس کرنے کی حس کو بلاک کرتی ہے جس سے صرف آپ کو محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے کہ آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ شروع میں امریکہ میں اس بات پر خاصCheck and balanceرکھا جاتا تھا کہ یہ Pain killersلوگوں کو ضرورت سے زیادہ Prescribed
    نہ کی جائے۔ لیکن 1990کے بعد ان بڑی فارما کمپنیوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ یہ Addictiveنہیں ہیں۔ ایک بڑی امریکی فارما کمپنی Purdue pharmaجس کی Opioid drug کا نام OxyContinتھا انہوں نے اپنے Salerepresentatives
    پورے امریکہ میں پھیلا دئیے جو صرف ڈاکٹرز کے پاس جاتے اور ان کو اس بات پر Convinceکرتے کہ یہPain killers
    نقصان دہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو استعمال کرنے سے کوئی Addictionہوتی ہے جبکہ اس دعوے کو کبھی کسی ڈاکٹر یا ریسرچر نے کراس چیک نہیں کیا کہ اس میں کتنی صداقت ہے صرف کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے Sale representatives کی بات پر ہی یقین کر لیا گیا اور 1997میں جہاں اس دوائی کے 670,000 prescription لکھے جا رہے تھے ان کی تعداد 2002تک بڑھ کر 6.2 millionتک پہنچ گئی۔ یعنی اس میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اور اس طرح صرف اس ایک دوائی سے Purdue pharma نے30 billion dollarsکا منافع کمایا۔Purdue pharmaکے علاوہ Johnsons & johnsonsاورTevaکمپنی کی Pain killersنے جو منافع کمایا وہ الگ تھا۔ اور آہستہ آہستہ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ
    2012تک ایک سال میں صرف امریکہ میں 255 millionPrescriptionsمیں یہ دوائیاں لکھ کر مریضوں کو دی گئیں۔ جس کا رزلٹ یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ کو اس کی لت پڑ گئی وہ اس کے Addictہو گئے۔ اور انہوں نے ضرورت سے زیادہ اس کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ Over doseکی وجہ سے1999سے2016کے درمیان453,300امریکی ان گولیوں کے استعمال کی وجہ سے مارے گئے۔

    2019میں 71000لوگوں کی Opioids drug کےOver doseکی وجہ سے ڈیتھ ہوئی۔ اور جب لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہوا تو انہوں نے Purdue pharmaپر Law suit fileکرنا شروع کر دئیے۔ لیکن کمپنی نے اپنے اکاونٹ سے 10.8 billion dollars shiftکرکے اس کو دیوالیہ ڈکلئیر کر دیا گیا اور کمپنی مالکان نے صرف 4.5 billion dollarجرمانے کی رقم ادا کرکے اپنی جان چھڑا لی اور اتنے بڑے ظلم کے باوجود ان کو کوئی سزا نہیں سنائی گئی صرف جرمانہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
    اور صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ فارما کارٹل اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کسی بیماری کے علاج کے لئے ایسی ادویات بھی ریگولیٹری اتھارٹیز سے Approveکروا لیتے ہیں جو کہ علاج میں اتنی زیادہ کارآمد بھی نہیں ہوتیں۔ اور بغیر ٹیسٹ کے یہ دوائیں نہ صرف پاس ہو جاتیں ہیں بلکہ سیل بھی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔Bioginکمپنی کی دوا Aduhelmاس کی بہترین مثال ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ Alzhimer کے علاج کے لئے بہترین ہے لیکن جب کچھ عرصے بعد اس پر ریسرچ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ دعوی غلط ہے۔ وہ کمیٹی جس کے سامنے اس دوا کو Approvalکے لئے پیش کیا گیا تھا اس کے گیارہ ممبر تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس کو پاس کرنے کے حق میں نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ دوا پاس ہو گئی جس کے بعد اس کمیٹی کے تین ممبرز نے احتجاجا اس کمیٹی سے استعفی بھی دے دیا تھا۔اور جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ایف ڈی اے جو کہ ان فارما کمپنیوں کے لئے Watch dogکا کام کرتی ہے اس کے کل بجٹ کا 45%حصہ انہیں فارما کمپنیوں کی فنڈنگ سے آتا ہے جس کی وجہ سے ان کو ایف ڈی اے میں اتنا اثر و رسوخ ہے کہ کمیٹی کے انکار کے باوجود کوئی مشکل نہیں کہ وہ اپنی ادویات کو آسانی کے ساتھApproveکروا سکتیں ہیں۔ اور یہ سب سامنے آجانے کے بعد بھی ابھی تک امریکہ میں یہی سسٹم چل رہا ہے کیونکہ ان فارما کمپنیوں کا اثرورسوخ صرف ایف ڈی اے تک نہیں ہے بلکہ امریکی
    Lawmakerتک بھی ہے جو ان کی مرضی کے خلاف کوئی قانون نہیں بناتے۔ یہاں تک کہ امریکی سیاستدانوں کی الیکشن کمپئین کو بھی یہ فارما کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں۔2020میں ہونے والے امریکی الیکشن میں ان کمپنیوں کی طرف سے گیارہ ملین ڈالر کی فنڈنگ کی گئی تھی۔ اور اس سے بھی کہیں زیادہ رقم یہ کمپنیاں اپنی لابنگ پرخرچ کرتی ہیں۔ لیکن اپنی فنڈنگ اور لابنگ کی وجہ سے یہ کمپنیاں اتنی آزاد ہیں کہ یہ اپنی ادویات کی قیمتوں کا تعین خود کرتی ہیں ان کو کوئی پوچھ نہیں سکتا۔

    اور یہ وہ تمام ہتھکنڈے ہیں جن کے تحت یہ فارما کارٹل کام کرتا ہے۔ یہ جس بیماری کا علاج چاہیں سستا کر دیں اور جس بیماری کا چاہیں علاج اتنا مہنگا کر دیں کہ کوئی عام انسان وہ علاج کروا ہی نہ سکے۔ اورایک عام غریب انسان اگر دوائی مہنگی ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر مر بھی رہا ہے تو ان کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ان کا کام منافع کمانا ہے۔ اب پچھلے دو سالوں میں جو کچھ ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ کرونا آنے کے بعد کس تیزی کے ساتھ مختلف کمپنیاں اس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہو گئیں اور دنیا میں شاید ہی کسی بیماری کی ویکسین اتنے کم عرصے میں بنی ہو گی جتنے کم ٹائم میں کرونا کی ویکسین تیار کر لی گئی اور پھر حکومتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑی چالاکی کے ساتھ ان فارما کمپنیوں نے یہ لازمی کروا لیا کہ ہر ایک انسان کو یہ ویکسین لگوائی جائے پہلے اس کی ایک ڈوز لگائی گئی پھر دوسری۔۔۔ لیکن اب جس طرح سے اومی کرون کے کیسز بڑھ رہے ہیں تو اس سے بچاو کے لئے جو لوگ پہلے ویکسین لگوا چکے ہیں ان کو اب بوسٹر شاٹس لگائے جا رہے ہیں اور یہاں تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر ہمیں خود کو کرونا وائرس اور اس کی مختلف اقسام سے بچانا ہے تو ایک مختصر وقفے کے بعد مستقل بنیادوں پر یہ بوسٹر شاٹس ہمیں باقاعدگی سے لگوانے ہوں گے۔ اور اس کے بدلے میں ہو یہ رہا ہے کہ ان فارما کمپنیوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے یہ کمپنیاں پیسہ بنا رہی ہیں۔ دولت کی ایک غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے یہ اپنی ہر طرح کی شرائط حکومتوں سے منوا رہی ہیں۔ اپنی مرضی کی پالیسیاں لاگو کروانے کے لئے یہ کمپنیاںSecret dealsتک کر رہی ہیں لیکن ایک عام انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس فارما کارٹل سے۔۔۔ انہیں کی شرائط پر۔۔۔ ان کی ادویات اور ویکسینز خریدیں اور استعمال کریں۔ یہ وہ اصل طاقت ہے جو یہ کمپنیاں حاصل کر چکی ہیں جس کے زریعے اب یہ لوگوں کی زندگیوں اور موت کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اور یہ کسی ایک ملک میں نہیں ہو رہا بلکہ ہرایک ملک میں اس کارٹل کی جڑیں خطرناک حد تک مضبوط ہو چکی ہیں

  • دہائیوں تک بغیر کھائے پئے خلا میں زندہ رہنے والا واحد جانور

    دہائیوں تک بغیر کھائے پئے خلا میں زندہ رہنے والا واحد جانور

    ٹارڈی گریڈ (tardigrade) نامی خُردبینی مخلوق جسے عرفِ عام میں پانی کا بھالو، water bear بھی کہا جاتا ہے دہائیوں تک بغیر کھائے پیے زندہ رہ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹارڈی گریڈ یہ چھوٹا سا خوردبینی جاندار ہے جو انسانی آنکھ سے بمشکل نظر آتا ہے ٹارڈی گریڈ تقریباً 50 کروڑ برسوں سے اس زمین پر بستے آرہے ہیں ان کی 1 ہزار سے زائد اقسام اب تک پائی جاچکی ہیں جس میں سے کچھ میٹھے پانی کی، کچھ سمندر کی اور کچھ خشکی پہ رہنے والی ہیں-

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور خاصیت جو انہیں باقی مخلوقات سے جدا کرتی ہے وہ ہے ان کا تابکاری شعاعوں سے محفوظ ہونا۔ بالفاظ دیگر ان پر کسی بھی قسم کی تابکاری کا اثر نہیں ہوتا۔ اس جانور میں انتہائی درجہ حرارتوں میں رہنے کا ہنر بھی ہے۔منفی درجہ حرارت کی اگر بات کی جائے تو یہ مخلوق منفی 272 کے قریب درجہ حرارت سے لے کر سو ڈگری کے کھولتے ہوے پانی میں زندہ رہ سکتا ہے سمندر کی تہ میں انتہائی شدید دباؤ میں زندہ رہتا ہے ، خلا میں زندہ رہ سکتا ہے اور پانی اور خوراک کے بغیر دس برس تک زندہ رہ سکتا ہے . ان تمام حالات میں کوئی اور نوع نہیں پنپ سکتی یہ صلاحیت ان میں کیسے پیدا ہوتی ہے؟

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    اس میں کوئی حیرت نہیں کہ کرہ ارض پر ٹارڈی گریڈ سب سے طویل عرصہ تک پنپنے والی نوع ہے ، ان کو زمین پر پانچ سو ملین سے زیادہ برس ہو چکے ہیں
    جب خطرناک ماحولیاتی تبدیلی سے اس کا سامنا ہوتا ہے جیسے پانی کی عدم فراہمی تو یہ ٹارڈی گریڈ ایک عمل سے گزرتا ہے جسے cryptobiosis کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے اس پر ظاہری موت طاری ہوتی ہے اس کا نظام تحول (metabolism) 0.01 فیصد ہوجاتا ہے اور جسم میں پانی کی سطح 1 فیصد رہ جاتی ہے یہ مخلوق جسم میں پانی کو اپنے خلیوں میں محفوظ کردیتی ہے۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    یہ سائنسدانوں کو ملنے والا اب تک کا واحد جانور ہے جو خلا میں بغیر آکسیجن کے زندہ رہ سکتا ہے۔2007 میں دنیا کے مدار سے باہر بھیجے گئے فوٹون-ایم3 نامی مشن پر ٹارڈی گریڈز کو بھیجا گیا تھا اور براہ راست خلا سے ان کی نمائش کی گئی تھی ماہرین نے پایا کہ کشش ثقل اور آکسیجن کی عدم فراہمی کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا اور حتیٰ کہ کچھ ٹارڈی گریڈز نے اس مشن کے دوران انڈے بھی دیئے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

  • انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ
    کسی بھی ریاست کو کامیاب بنانے کیلئے مضبوط نظام عدل انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف سستا اور فوری ملتا ہے اس میں قانون کی بالادستی موجود ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کیلئے حدود اور اصول برابر ہوتے ہیں۔ریاست ہر خاص و عام کیلئے ماں کا کردار ادا کرتی ہے لیکن جہاں منصف اپنے عہدے سے بے وفائی کرے، جہاں عدل کرنے والا انصاف کا قتل کرے, اُس معاشرے سے اخلاقیات، امن ، قانون اور استحکام کا خاتمہ ہوجاتا ہے، ریاستیں ٹوٹ جاتی ہے، خانہ جنگی جنم لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان جو ایک بڑا فرق ہے وہ مضبوط نظام عدل کا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو تیسری دنیا سے تعبیر کرنے کی ایک بڑی وجہ کمزور اور ناقص عدالتی نظام بھی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آئے روز انصاف کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
     پاکستان میں جہاں مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے وہاں آٹا دال چینی کے پچاس روپے زیادہ ہونے پر تو ہم میڈیا پر اودھم مچا دیتے ہیں لیکن کسی اُس مظلوم کی آہیں اور سسکیاں ہماری سماعت تک نہیں پہنچتی جو انصاف کے لیے اپنی تمام جمع پونجی لٹا کر بھی ظالم کے خلاف ہر روز ہار جاتا ہے۔ اُس غریب کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں جو طاقتور کے خلاف چیخ چیخ کر خود کو ہلکان کر لیتا ہے کیونکہ وہ ایک کمزور ہے اور اس ملک میں کمزور کی آہ و پکار طاقت کی ایوانوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ اس کی گویائی کو منصف کے بلند منصب تک پہنچنے کے لیے مال و زَر کی اُڑان بھرنی پڑتی ہے جو اس غریب کے بس سے باہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف کی اندھی دیوی اکثر و بیشتر ناانصافی کر جاتی ہے۔ 
    پاکستان میں عام شہری تھانے کورٹ کچہری کے نام سے بھی خوف کھاتا ہے اس لیے جرائم کے آدھے سے زیادہ واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور مظلوم چپ کر کے ظلم سہنے میں ہی خیر جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پچاس ہزار سے زائد کیسز زیر التوا ہے جبکہ ہائی کورٹس اور دیگر میں لاکھوں مقدمات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہزاروں مقدمات ایسے ہیں جن کا فیصلہ آنے تک یا تو مظلوم رزق خاک بن چکے ہوتے ہیں اور ان کی انگلی نسلیں پیشیاں بھگت رہی ہوتی ہیں۔

    حضرت علی کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں۔ ہم مغرب کی برائیوں کا تو اکثر ذکر کرتے ہیں لیکن ان باتوں پر کبھی غور نہیں کرتے جو ان تمام تر برائیوں کے باوجود مغرب کی ترقی کا راز ہے جن میں سب سے بڑا راز عدل و انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے لحاظ سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس 2021 کے مطابق پاکستان 139 ممالک میں سے 130 ویں نمبر پر ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ غیر اسلامی ممالک انصاف کی فراہمی میں اسلام کے نام پر قائم پاکستان کو مات دیتے ہیں۔ سوچئیے آخر کیوں؟ کیونکہ یہاں لا قانونیت راج کرتی ہے۔ یہاں جج صاحبان سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں یا تو بک جاتے ہیں یا بلیک میل ہوتے ہیں، یہاں وکلا ہسپتالوں پر حملے کرتے ہیں یا عام شہریوں کو سر عام تھپڑ رسید کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے خلاف فیصلے آنے پر خود ججز پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں، یہاں بار کونسلز اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر سیاست میں ملوث ہیں۔ ایسے میں غریب کا پرسان حال کون ہو گا؟

    تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں کی تاریخ ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کے بڑے بڑے فیصلوں پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو آج بھی جوڈیشل کلنگ کہا جاتا ہے۔جج ارشد ملک کے متنازع بیانات نے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سزا پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا ہوا ہے۔ حدیبیہ پیپر کیس آج بھی کئی شکوک و شبہات کی زد میں ہے جبکہ اگر ججز کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں کیسے کیسے قابو کرتی رہی ہیں۔ سابق جج افتخار چودھری کو تاریخ کا متنازع ترین جج مانا جاتا ہے۔ سابق جج ارشد ملک کا بلیک میل کر کے من پسند فیصلے کروائے جانے کا بیان بھی ہمارے سامنے ہے۔ سابق جج ملک قیوم کو شہباز شریف کی جانب سے بذریعہ فون بے نظیر بھٹو اور زرداری کے مقدمات کے فیصلے سے متعلق ہدایات دی جاتی تھی۔

    سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیانات کی روشنی میں رفیق تارڑ، سیف الرحمن، شہباز شریف اور کیپٹن صفدر ججوں سے انکے گھروں پر جا کر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ حال ہی میں سابق جج رانا شمیم کے بیان حلفی کی سپریم کورٹ میں اڑتی ہوئی دھجیاں بھی ہمارے سامنے ہیں اور رانا شمیم کی ماضی میں نون لیگ سے سیاسی وابستگیاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اگر کوئی جج ان سیاستدانوں سے قابو نا ہو تو پھر اسکے ساتھ وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا جب نون لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے سجاد علی شاہ کو نشانہ بنایا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن کے ساتھ ہوا جب ماڈل ٹاؤن میں انکے گھر پر نامعلوم افراد نے دو بار فائرنگ کی اور ان مجرموں کا سراغ آج تک نہ لگایا جا سکا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ہو رہا ہے، کبھی ان پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی انکے خلاف جعلی آڈیوز نکالی جاتی ہیں اور اگر ہمیں یاد ہو تو جنوری 2018 میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے بیٹے سعد گلزار کی گاڑی پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور اس کے علاوہ متعدد بار معزز جج صاحبان پر نہ صرف حملے ہوئے بلکہ کئی جج ان حملوں میں شہید بھی ہوئے۔ غرض یہ کہ اس نظام عدل میں انصاف ممکن کیونکر ہو گا جہاں خود منصف ہی محفوظ نہیں؟ جہاں بیرسٹر خدیجہ صدیقی پر خنجر سے تئیس وار کرنے والے اقدام قتل کے مجرم کو ساڑھے تین سالوں میں ہی رہا کر دیا جائے، جہاں شاہ رخ جتوئی جیسے سفاک قاتل پر عدالت کو ترس آ جائے، جہاں ایان علی کی منی لانڈرنگ عیاں کرنے والے ایماندار کسٹمز انسپکٹر اعجاز کو ایمانداری کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑے، جہاں ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے ریاستی دہشت گردی میں چودہ شہدا کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہوں، جہاں صحافی عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو حق بولنے کی سزا میں قتل کر دیا جائے، جہاں ایک نہتی بیٹی اُم رباب چانڈیو ننگے پاؤں اپنے دادا، والد اور چچا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر منصف کے در پر ایڑھیاں رگڑے اور چار سال گزرنے کے بعد بھی اسکو تاحال انصاف نا مل پائے جبکہ قاتل، لٹیرے اور بدمعاشوں کو عدالتوں سے رعایتیں بھی مل جائیں اور ضمانتیں بھی میسر ہوں تو اس معاشرے میں ہر نئے دن ظاہر جعفر بھی پیدا ہونگے اور عثمان مرزا بھی منظر عام پر آئیں گے۔ ریاست کو ہر طاقتور مجرم کو کچلنا ہو گا ورنہ وہ دن دور نہیں جب فیصلے سڑکوں چوکوں اور چوراہوں پر عوام خود کرے گی بالکل اسی طرح جس طرح ایک ماں پروین اختر نے عدلیہ سے مایوس ہو کر اپنے بیٹے کے مبینہ قاتلوں کو اپنی ہی عدالت میں سزائے موت سنا کر سات سال بعد قتل کر ڈالا تھا۔ اختتام بس فیض احمد فیض کے اس مصرعے پر کرنا چاہوں گی۔
     
    مِٹ‌ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں‌ نہیں‌ دیتے
     
     

  • "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    بابا اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ ” پتر سب نے ہی مر جانا ، اگر ژندہ رہنا تو اس نے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا” -یوں تو میں دنیا میں ہر روز ہی کئی لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کئی مرتے ہیں پر چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم سب کو ہی ہوتا ہے ۔29 جنوری 2022 کا دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا ، جو کہ آزاد کشمیر و ضلع کوٹلی کی عوام کے لیے بالعموم اور کھوئیرٹہ کی عوام کے لیے بالخصوص ایک ایسے نقصان اور دکھ کی خبر لے کر آیا جس کا ازالہ شاید کئی عشروں تک ممکن نہ ہو –

    کھوئیرٹہ کے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے راجہ اقبال سکندر خان کی وفات کی خبر جہاں جہاں بھی پہنچی ، لوگوں کو سوگوار ہی کرتی گئی ۔
    دنیا میں بہت کم لوگ ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوں اور عاجزی و انکساری کی اعلی مثال بھی ہوں – راجہ اقبال سکندر خان ( المعروف پہاجی) بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے –

    ان کی تربیت ہی ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں عاجزی و انکساری ، مہمان نوازی اور دوسروں کی مدد کا جزبہ گویا بچپن سے ہی بچوں کی تربیت میں شامل ہوتا تھا -جاگیردار گھرانے کے سپوت ہونے کے باوجود راجہ اقبال سکندر خان صاحب اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اگر دنیا میں اور لوگوں میں ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو اس کے لیے مال و دولت یا زمینوں کی نہیں ، بلکہ اعلی اخلاق کی ضرورت ہے –

    خواہ آپ کے دوست و ہمدرد ہوں یا سیاسی مخالفین ، سب اس بات پر اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ مرحوم کی وفات کے بعد ایسا خلا بن چکا ہے جو شاید کبھی بھی پر نہ ہو۔
    1975 میں جب حکومت پاکستان نے کشمیر ڈویلپمنٹ کوآپریٹو بینک بنایا تو آپ اس میں افسر منتخب ہوئے پر یہ بینک 1977 میں حکومت پاکستان میں تبدیلی کے ساتھ ہی بند ہو گیا -اس کے بعد سال 1979 میں راجہ اقبال سکندر خان مرحوم نے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا – 1979 میں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل کا الیکشن لڑ کر ممبر منتخب ہوئے-

    1983 کا الیکشن اس حوالے سے یادگار رہا کہ اس میں راجہ محمد نثار خان صاحب آپ کے مخالف لڑے پر کامیابی نے پھر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے قدم چومے – تیسرا الیکشن 1987 ، جبکہ چوتھا 1992 میں لڑا اور جیت کر چیئرمین ضلع کونسل بنے -1996 تک آپ چیئرمین ضلع کونسل رہے اور یہ آخری موقع تھا جب کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے -آزاد کشمیر کی سیاست میں یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے مرحوم سردار سکندر حیات خان بھی راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔ اس کا عملی ثبوت 2006 میں دیکھنے کو ملا ، جب سردار سکندر حیات خان صاحب نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا ٹکٹ لا کر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کو گھر دیا ، مگر راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے 2006 کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ راجہ نثار علی خان صاحب کو دیا اور ان کی بھرپور حمایت بھی کی –
    جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آزاد کشمیر میں بنی تو راجہ اقبال سکندر خان کا نام اس حکومت کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا تھا -مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اور عوام علاقہ کے بھرپور اصرار پر 2021 کے عام انتخابات میں راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے ایڈوکیٹ راجہ شاداب سکندر خان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑایا –
    آپ کے ایک فرزند راجہ شہریار سکندر خان اس وقت آزاد کشمیر پولیس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں ۔
    آپ کی اولاد میں موجود عاجزی و انکساری آپ کی تربیت اور اعلی اخلاق کی بہترین مثال ہے ۔

    راقم کی راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان ملاقاتوں میں پل کا کردار میرے دوست و بھائی ایڈوکیٹ راجہ تیمور علی خان صاحب (یہ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے بھتیجے اور راجہ قیصر صاحب کے فرزند ہیں) کا تھا ۔ جامعہ میرپور میں یونیورسٹی فیلو ہونے کی وجہ سے راجہ تیمور صاحب کے ساتھ کھوئیرٹہ جانے کا موقع ملا – پر راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے ملاقات کر کے کبھی ایسا نہیں لگا کہ کسی روایتی "جاگیردار” کے پاس بیٹھا ہوں یا پھر یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ مرحوم راجہ اقبال سکندر خان صاحب پیدا جاگیردار گھرانے میں ہوئے تھے پر درویشی کے اعلی درجے پر فائز تھے –
    اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اللہ تعالیٰ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی بخشش فرمائیں ، اور مرحوم کی انے والی تمام منازل آسان فرمائیں – اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں

  • روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو بہت زیادہ ہوا دی جا رہی ہے انٹرنیشنل میڈیا اس پر زور و شور سے رپورٹنگ کر رہا ہے۔ روس نے جنگ سے متعلق خبروں کو بہت بار مسترد کیا ہے اور جہاں تک یوکرین کا تعلق ہے تو اس کے لئے ویسے ہی یہ ممکن نہیں کہ وہ خود سے جنگ میں پہل کر سکے۔ لیکن مغرب اور اس کے اتحادی جس زور و شور سے اس تنازعہ پر بیانات دے رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روس اور یوکرین سے زیادہ دوسرے ممالک چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنگ چھڑ جائے اور پھر وہ اس جنگ کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہ بات یہاں تک نہیں رکے گی بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی تنازعوں کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف جا سکتی ہے۔
    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی اصل صورتحال کیا ہے؟
    بارڈر پر فوجیوں اور اسلحہ کی تعداد بڑھانے کی وجہ کیا واقعی جنگ کی تیاری ہے؟
    وہ کون سے ممالک ہیں جو یہ جنگ کروانا چاہتے ہیں؟
    اس پر تو آج کی ویڈیو میں بات کریں گے ہی لیکن اگر آپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو ضرور کر لیں اور بیل آئیکون کو بھی ضرور پریس کیجئیے گا تاکہ آنے والی تمام ویڈیوز کا نوٹیفکینشن آپ کو بروقت ملتا رہے۔
    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو کئی ممالک کی طرف سے بہت زیادہ اچھلا جا رہا ہے حالانکہ روس شروع دن سے کہہ رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    اس کے علاوہ یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyکا بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ وہ ایک ملک ہے جوچاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہونے کی بجائے کسی جنگ کی صورت اختیار کرلے امریکی صدر جو بائیڈن بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ یہ مخصوص امکان موجود ہے کہ اگلے ماہ روس یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ اور اگر روس یوکرین میں مداخلت کرتا ہے تو امریکہ اس کے اتحادی اور شراکت دار بروقت ردعمل دیں گے۔ جو بائیڈن نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا ہوا ہے کہ اگر روس نے حملہ کیا تو وہ ذاتی طور پر پیوٹن پر پابندیاں ضرور لگائیں گے۔اب اگر امریکہ کا روس کے خلاف یہ موقف ہے تو اس کا اہم اتحادی برطانیہ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ برطانوی وزرا بھی روس کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کی حکومت نے یوکرین کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یوکرین میں روسی فوجی مداخلت ایک بہت بڑی سٹریٹجک غلطی ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ روس کے انکار کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بار بار کیوں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور روس پر یہ الزام کیوں ہے کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری میں ہے اس نے بارڈر پر نفری کی تعداد میں کیوں اضافہ کیا ہے؟ کیوں ان دو ملکوں کے تنازع کو تیسری عالمی جنگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

    اس وقت اگر روس کے بارڈر پرتعینات فوجیوں اور اسلحہ کی بات کی جائے تو سی این این کے مطابق106000 روسی فوجی تعینات ہیں ان کے علاوہ 21000 بحریہ اور فضائیہ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بیان دیا ہے کہ ان کو ملنے والی خفیہ اطلاعات میں یہ واضح ہے کہ60 روسی جنگی گروپ یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں جو روس کی کل فوج کا تقریبا ایک تہائی بنتے ہیں۔جبکہ عام حالات میں یہاں صرف35000 روسی اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود روس کی جانب سے بار بار یہی اصرارکیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر روس کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ایسی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں یا پھر یہ سب تیاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔دراصل چند دن پہلے روسی وزارت دفاع نے چند تصاویر جاری کی ہیں جن میں روسی دستوں کو یوکرین کی سرحد کے قریبRoustouvکے تربیتی مرکز کی جانب گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ دستے ایسے بھی ہیں جو چار ہزار میل دور مشرقی روس سے آئے ہیں۔اور اس تمام Movement
    کی وجہ یہ ہے کہ روس نے اپنے کئی ہزار فوجی مشترکہ عسکری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بیلا روس بھیجے ہیں۔ اور یہ سلسلہ فروری کے آخر تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیونکہ 10 سے 20 فروری کے درمیان روس اپنے مزید فوجی بھی بیلا روس بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارےSU- 35بھی بیلاروس بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے فروری میں روس کی جانب سے حملے کی بات کی ہے۔یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک یہ کہ یوکرین کا دارالحکومت بیلاروس کی سرحد سے سو میل سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیلاروس کے رہنما
    Alexander Lukashenkoروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حمایتی ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ جنگی مشقوں کی آڑ میں دراصل روس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔جبکہ اگر جنگی مشقوں کی بات کی جائے تو ضروری نہیں ہے کہ یہ یوکرین پر حملے کے لئے کی جا رہی ہیں کیونکہ روس تو اسی مہینے دنیا بھر میں بحری مشقیں بھی شروع کرنے والا ہے اور یہ مشقیں بھی تقریبا فروری تک ہی چلیں گی۔ ان میں140 جنگی بحری جہاز اور سپورٹ کشتیاں،60 طیارے، اور تقریبا10000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔

    جنگی ٹینک، افرادی قوت، اور بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے قابل چھ روسی بحری جہاز انگلش چینل عبور کر کے عسکری مشقوں کے لیے بحیرہ روم جا رہے ہیں۔ جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کے لئے یہ ایک مشکل چوائس ہے کہ وہ یوکرین پر بحری راستے سے آکر زمینی حملہ کرے۔ اس لئے جن مشقوں کو بنیاد بنا کر جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی اور اس کے علاوہ بھی جب جنگ کرنا ہو تو فوجیوں اور اسلحے کے علاوہ بھی بہت سی تیاریاں ہوتی ہیں جو ایک ملک کوکرنا ہوتی ہیں جس کی ایک مثال موبائل فیلڈ ہسپتال بھی ہیں اور روس کی طرف سے ایسی کسی تیاری کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسری جانب روس کی مشقوں اور فوجی Movementکے جواب میں امریکہ کی جانب سے چند روز پہلے یوکرین کے لیے90 ٹن کی فوجی امداد بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے دسمبر کے مہینے یوکرین کے لئے 20 کروڑ ڈالر کا سیکیورٹی امداد پیکج بھی منظورکیا تھا۔اور اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جس طرح جنگ کا واویلہ مچایا جا رہا ہے تو آپ خود سوچ لیں کہ ایسی صورتحال میں روس اور اس کے اتحادی کیسے خاموش ہو سکتے ہیں۔اور اس وقت روس کو جو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے وہ چین کی ہے۔اس تنازعہ کے حوالے سے چین کا موقف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کو اپنی سرد جنگ والی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات چھوڑ کر امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات پر مکمل غور کریں۔ دشمنی اور تصادم سے گریز کیا جائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر مشاورت کے ذریعے اختلافات اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    اگر حالات کا مکمل ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے لڑائی شروع کرنے کا امکان زیادہ ہے اور اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو روس جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔یہ صورتحال ویسی ہی ہے جیسی2008 کے بیجنگ اولمپکس کے دوران جارجیا میں تھی۔ روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کیے گئے امن معاہدے کو قبول کر لیا تھا لیکن امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے کچھ ممالک نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ویسے بھی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے یہ دیکھا گیا ہے کہ روس زیادہ تر Defenderکے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لئے مغربی ممالک کو روس پر اتنا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے دفاع میں حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔لیکن یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ امریکہ کے لئے یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ وہ روس کے لئے کوئی مشکل کھڑی کر سکے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں بھی اندرونی طور پر ناراضگیاں پائی جاتی ہیں۔
    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اپنی سٹریٹجک ضروریات کے حوالے سے بنیادی اختلافات ہیں۔جرمنی اور امریکہ کی انتظامیہ کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ اس لئے جب مغربی طاقتوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات اور مختلف معاملات پر رسہ کشی ہو رہی ہے تو ایسی صورتحال میں اگر یوکرین اور روس کا تنازع بڑھا تو یقینا یہ بحران پھر صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور مختلف اتحادیوں کے درمیان موجود دراڑیں بھی سامنے آجائیں گی اور اس سے نئے بحران جنم لیں گے۔ اور اس وقت دفاعی طور پر جس طرح سے تمام ممالک اپنے آپ کو مضبوط کر رہے ہیں جس طرح کی ٹیکنالوجی حاصل کی جا چکی ہیں اس کے بعد یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ کوئی بھی تنازع کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔