Baaghi TV

Category: متفرق

  • ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید  ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ایک طرف ہجوم خود کو عاشق رسول اور پراینتھا کمارا کو گستاخ رسول قرار دیکر لبیک یارسول اللّٰہ کے نعروں کے ساتھ ملزم پر ڈنڈے لاٹھیاں مکے اور گھونسے برساتا پوری دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ قانون اور اداروں کی موجودگی میں وہ ہجوم اس قدر طاقتور ہے کہ مذہب کے نام پر سزا جزا کا حقدار تک ٹھہر چکا جبکہ دوسری جانب اسی ہجوم میں واحد شخص جو تشدد روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا مار سہتا رہا مگر انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے بہادری سے ایک انسان کو ظلم سے بچانے کی اپنے تہی کوشش کرتا رہا۔۔ مارنے والوں پہ اس قدر جنون طاری تھا کوئی بات کوئی وعدہ کوئی قانون ماننے کو تیار نہ تھے ایک ہی ضد تھی کی ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندو اداروں کو ٹھینگا دکھاؤ اور جسے وہ” گستاخ ” کہہ بیٹھے اسے مار مار کے مار ڈالو۔

    ملک عدنان کہتا رہا کہ پراینتھا کو پولس کے حوالے کریں گے مقدمہ چلائیں گے یقین کر لیجیے مگر اسی بحث وتکرار میں سری لنکن مہمان جتھے کے ہاتھ چڑھا پھر ظلم وستم اور درندگی کی جو داستاں رقم ہوئی وہ” ظالموں "میں سے کئی کے کیمروں کی گیلری میں بھی محفوظ ہوئی۔۔

    ملک عدنان اسی فیکٹری میں پروڈکشن مینیجر ہے ایک مذہبی اسٹیکر ہٹانے پر جب پراینتھا کو سزا دینے کا فیصلہ ہوا تو عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی ” نام کے عاشقان "سے کہا کہ وہ غیر مسلم ہے نہیں پڑھ سکا کیا تحریر تھا اسلیے اسٹیکر ہٹاتے وقت خیال نہ رکھا ہم جلد اسے فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج ہوگی ایسے میں ایک نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ اور ٹھنڈا پڑتا جوش دوبارہ جاگ اُٹھا عدنان نے پریانتھا کو بچا کر فیکٹری کی چھت پر موجود ایک کمرے میں بند کر دیا جب غصےاور جہالت سے بھری عوام چھت پر پہنچی تو انہوں نے پرینتھا کو زبردستی کمرے سے نکالا نیچے چوراہے پر گھسیٹتے لے گئے ہزاروں کا مجمع تھا اور عدنان پرینتھا کو بچانے والا واحد شخص جو اسوقت بنا جان کی پرواہ کیے چالیس منٹ تک ڈھال بن کر خود تشدد سہتا رہا کہتا رہا مت کریں ایسا اس سے فیکٹری میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے فیکٹری بند ہو جائے گی پاکستان کا نام بدنام ہوگا مگر وہ” نام نہاد عاشقان” نہ اس وقت مسلمان تھے نہ اسلامی ریاست کے باسی۔۔ایک جنونی جتھہ تھا جسکو سوائے” گستاخ” کے اسوقت نہ کچھ دکھائی دے رہا نہ سنائی دے رہا تھا۔

    ملک عدنان تن تنہا اس جتھے سے کیا مقابلہ کر پاتا ایک وقت آیا کہ پرینتھا کو مارنے والوں نے اس "دینی فریضے” میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جتنا مار سکتے تھے مارا انسانیت کو جس قدر شرمندہ کیا جاسکتا تھا کیا لاش تک جلا ڈالی کپڑے تک اتار دئیے حد یہ کہ جن کا ہاتھ مارنے کے فرض سے رہ گیا وہ موبائل نکال کر”ایمان افروز”مناظر کو فلمند کرتا سیلفیاں لیتا لبیک یارسول اللہ کہتا خود کو "ڈیڑھ مسلمان” سمجھتا رہا پرینتھا مر گیا ایک غیر ملکی مہمان چند ایک فسادیوں کی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا مگر ملک عدنان ایک ایسی مثال قائم کر گیا جو اس سے پہلے نہ دیکھی نہ سنی کیونکہ مذہب کے نام پر یہاں غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہنے والے کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کئی پرینتھا بھگت چکے۔ ہزاروں لوگوں کے سامنے عدنان کی بہادری اور انسانیت نے ایک امید روشن کی کہ جو مذہب کے نام پر فتنہ فساد برپا کرے اسکے سامنے ڈٹ جاؤ کم از کم ظلم کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش تو کرو۔

    اور دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیمات بھی تو یہی ہیں کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظلم میں شریک مانا جاتا ہے۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے باہمت عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے سراہا جارہا ہے عدنان پاکستان کا وہ مثبت چہرہ ہے جو اس مملکت کی اصل پہچان ہے اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں سوائے چند کے ہر ایک عدنان ہے جو نہ ظلم سہتا ہے نہ کسی پر ہونے دیتا ہے مگر توہین مذہب کی دھمکی دے کر ایسے جتھے سبکو دیوار سے لگا دیتے ہی۔ بدقسمتی یہی ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر اُن چند جنونیوں کی وجہ سے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم مذہب کے نام پر گندہ کھیل کھیلنے والوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔۔آج پرینتھا کی جان گئی کل کو اسی طرح کا ہجوم کسی اور کو بنا ثبوت کے توہینِ مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کی آگ میں جھونک سکتا ہے کسی بھی انسانی جان پر ظلم وستم کر کے اپنی خار نکالی جا سکتی ہے ماضی میں بھی کئی نامی گرامیوں نے اسلام کے نام پر ریاست اور شہریوں کو نقصان پہنچایا۔سوال یہ ہے کہ ایک خودمختار ریاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اتنی آسانی سے کیوں کر کیا جاتا رہا قوانین کی موجودگی میں کوئی کیسے قانون کو دین کے نام پر بلیک میل کر کے بے توقیر کرتا رہا ریاست چند ایک لوگوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنی رہی؟

    اس واقعے نے ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا ہمارا پیارا وطن جسکی بنیاد ہی اسلامی قدروں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام بسنے والوں کے ساتھ برابری کے سلوک پہ رکھی گئی آج یہ ملک دشمن عناصر اسے خدانخواستہ تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔انہی کیوجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ ایسے واقعات معاشرے میں عدم برداشت کو بھی ہوا دیتے ہیں ہمیں معاشرے میں سکون اور امن کے لیے عدنان جیسے کردار کی سخت ضرورت ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عدنان کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پرینتھا کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو کر روشن پاکستان کے چہرے پہ سیاہ دھبہ نہ ثابت ہوں۔

  • امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا کے لیے اس وقت عالمی سطح پرجو چیز سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے وہ اس کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دو بڑے ممالک امریکہ اور روس کے درمیان بدلتے رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اس وقت امریکہ کے لئے بھی امتحان ہے کہ وہ روس سے دفاعی نظام خریدنے پر کیا انڈیا کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس نے باقی ممالک کے ساتھ کیا۔ انڈیا کے یہ دونوں دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں اکثروبیشتر ایک دوسرے پر کئی الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس وقت یہ تعلقات ڈسکس کرنے کی وجہ حال ہی میں روس کے صدر پیوٹن کا چند گھنٹوں کا کیا گیا انڈیا کا دورہ ہے جس میں اس نے مودی سے ملاقات کی اور مختلف معاہدوں ہر دستخط بھی کئے۔ صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے
    2019 کے بعد پہلی مرتبہ نئی دہلی میں براہ راست ملاقات کی ہے۔ کورونا کے بعد روسی صدر کا یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے پیوٹن نے جنیوا میں صرف امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی۔ ورنہ اس سال ہونے والے کئی اہم ایونٹس میں بھی یا تو پیوٹن نے شرکت سے معذرت کی تھی یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جاتی رہی ہے۔جس بات پر انڈین میڈیا بہت خوش ہورہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے وہ پیوٹن کا یہ بیان ہے کہ ہم بھارت کو ایک عظیم طاقت، ایک دوست ملک اور مختلف اوقات میں آزمائش کردہ دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی بھارت اور روس نے فوجی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ کامرس اور تجارت سے متعلق اٹھائیس سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسٹیل، بحری جہاز تیار کرنے، کوئلے، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ دس سال پر مبنی دفاعی تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور ایک سال کا تیل کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روسی دفاعی میزائل سسٹم
    S-400کی فراہمی بھی بھارت کو اسی ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی یہ ڈیل 2018 میں طے کی گئی تھی۔ جس پرامریکا نے اپنی ناپسندیدگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن مودی سرکار اپنی حرکت سے باز نہیں آئی اور یہ معاہدہ امریکہ کی مرضی کے خلاف چلتا رہا۔S-400دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے یہ دنیا کے سب سے جدید ترین زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام میں سے ایک ہے۔ اس کی رینج400کلومیٹر تک ہے اور یہ بیک وقت 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں دو میزائل کا نشانہ بھی لے سکتا ہے۔یہ دفاعی نظام حاصل کرنے کے بعد انڈیا کو ایک اہم دفاعی صلاحیت حاصل ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اس میزائل سسٹم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکہ واشنگٹن نے کئی روسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا نشانہ بنانے کے لیے2017 میںCountering Americas Adverseries through sanctions ACTمتعارف کرایا گیا تھا۔ جو کسی بھی ملک کو ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے سے روکتا ہے۔معاہدوں کے ساتھ ساتھ مودی اور پیوٹن نے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے بعد نریندر مودی نے بیان دیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا نے بہت سی بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور کئی نئے جیوپولیٹیکل گٹھ جوڑ سامنے آئے ہیں لیکن بھارت اور روس کی دوستی برقرار ہے۔خیر ان دونوں کی دوستی تو ان کے درمیان ہونے والے مصافحے اور مودی کی روایتی جپھی سے نظر بھی آرہی تھی۔ لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ مودی سرکار آنے والے سنگین حالات اور چیلنجز سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی فیصلے کئے ہیں ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سیاست پرظاہر ہونا لازمی بات ہے۔

    خاص کر امریکہ کے معاملے میں انڈیا جو کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ کا ایک اہم اتحادی بنا ہوا ہے وزیراعظم مودی نے 2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جس طرح سے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے واشنگٹن کی حمایت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس کے علاوہ جب انڈیا نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار ملکی اتحاد کواڈ میں شمولیت اختیار کی تھی تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر انڈیا کا کہنا تھا کہ کواڈ ایک غیر فوجی اتحاد ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن روسی وزیر خارجہ لاوروف اس سے متفق نظر نہیں آئے تھے۔لیکن ماسکو نے کافی حد تک اس طرح کی پریشان کن چیزوں کو نظر انداز کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماسکو کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اب روس کو موقع مل گیا ہے کہ جو کچھ اس نے برداشت کیا وہ اس کا بدلا لے سکے اس لئے اب برداشت کرنے کی باری امریکہ کہ ہے۔ اس صورت حال کو جو چیز مزید مشکل بنا رہی ہے وہ انڈیا اور چین کے حالیہ بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ گذشتہ سال حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ کی گلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر لاٹھیوں اور پتھروں سے خون ریز جھڑپ ہوئی جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا افغانستان میں بھی اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انڈیا کی آخر امید روس ہی ہے کیونکہ اس وقت روس، چین، پاکستان اور افغانستان آپس میں کافی قریب ہیں۔ اس لئے انڈیا نے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کرے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ مودی اور پیوٹن کے درمیان اس پر بات چیت بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کو کن حالات میں جنگ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی معاملات کئی محازوں پر کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بیجنگ کے سرمائی اولمپکس2022 کا بھی سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی امریکی عہدیدار کو نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری طرف چین نے بائیکاٹ کی صورت میں جوابی اقدامات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تو کیا ان حالات میں امریکہ برداشت کر پائے گا کہ اس کا انڈیا جیسا اتحادی اس گروپ کے ملک کے ساتھ تعلقات بڑھائے جس کے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں؟تو اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں امریکہ کبھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گا۔

    کچھ عرصہ پہلے جب چین اور ترکی نے روس سے S-400دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تو امریکہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن جب امریکہ کی ناراضگی کے باوجود یہ دونوں ممالک باز نہ آئے تو امریکہ کی جانب سے ان پر پابندیاں لگا دی گئیں تھیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔۔یعنی انڈیا میں جو روسی صدر کے دورے پر خوشیاں منائی جا رہیں ہیں وہ بہت جلد کھٹائی میں پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ ان دس سالوں کے معاہدوں میں دس سال تک انڈیا سے پیسہ روس جاتا رہے گا۔ اور اس کے بدلے جو ہتھیار حاصل کئے جائیں گے وہ بھی انڈیا کے کسی کام نہیں آنے والے ان کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ رافیل طیاروں کا ہوا تھا کیونکہ ان کو چلانے والے تو آخر انڈین ہی ہوں گے نا۔ اس کے علاوہ انڈیا روس کے زریعے چین اور افغانستان کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ چین جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اب انڈیا کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک سکے ویسے بھی چین کبھی بھی انڈیا کو اس خطے میں مضبوط نہیں ہونے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مودی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا آج اگر چین انڈیا کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے تو وہ دوبارہ کسی بھی وقت جا کر امریکہ کی گود میں بیٹھ سکتا ہے جو کسی بھی طرح چین کو نہیں برداشت اور نہ ہی روس کو برداشت ہوگا۔ اس لئے روس صرف ایک ہتھیار بیچنے والے ملک کے طور پر تو ضرور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے گا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونے والا۔

  • گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    آپ نے اکثر راستے میں خرابی کے باعث گاڑیوں کو دھکا لگاتے دیکھا ہوگا مگرا ب جہاز کو گھکا لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی: نیپال کے ایک ہوائی اڈے سے ایک عجیب و غریب ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک درجن سے زائد افراد طیارے کو رن وے سے ہٹانے کے لیے پوری قوت سے دھکیل رہے تھے یہ ویڈیو "العربیہ ” نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے-

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت


    العربیہ کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں لوگوں کو جہاز کو دھکا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو بدھ یکم دسمبر کو دارالحکومت کھٹمنڈو سے 7,000 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر مغربی نیپال کے سوڈورباچیم ضلع کے باگورا کے کلتی میونسپل ایئرپورٹ پربنائی گئی تھی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافرہوائی اڈے پر پروازپکڑنے کا انتظارکر رہے تھے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ تارا ایئر کا ایک اور طیارہ رن وے کے بیچ میں پھنس گیا تھا۔

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    نیپال نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ طیارے کو رن وے سے دھکیل رہے تھے ان میں سے ایک نے تصدیق کی کہ اس کے ایک ٹائر میں پنکچر لگنے کی وجہ سے یہ رن وے کے درمیان میں کھڑا تھا اپنی پرواز پکڑنے کے لیے مسافروں نے چھوٹے طیارے کو رن وے سے دھکیل دیا تاکہ دوسرا طیارہ لینڈ کر سکے۔

    روزانہ 500 گرام ریت کھانے والی 80 سالہ خاتون

  • جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔

    درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا

    اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔

    ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔

    اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ

  • ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت
    22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد آج ایک اہم سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    آج تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم حالات کی تلخیاں اس تحریر کا پیش خیمہ ہیں.ایک خبر نظر سے گزری کہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری دستخط شدہ درخواست سماعت کے لیے مقرر”. ظلم نہیں کہ ایک شخص جسے قوم نے جیتے جی ستایا ہو.اس کی ہر کوشش کے صلے میں اس پہ ایک مقدمہ کیا گیا ہو.

    حقائق میری تحریر سے متضاد ہو سکتے ہیں ممکن ہے کہ وقت کا تقاضا ہو کہ مقدمات قائم ہوئے.

    مگر یہ موت کے بعد مقدمات کی سماعت ہونا کب تک جاری رہے گا.

    مشہور انگریزی مقولہ ہے.

    Justice delayed is Justice denied.

    موت کے بعد عدالت سے بریت کا فیصلہ آتا ہے.

    پھانسی کے بعد بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے.

    مجرم طبی بنیادوں پہ چند ہفتے کی کی ضمانت پہ دو سال نکال کر عدالت کے فیصلے کے پرخچے اڑاتا نظر آتا ہے .دوسری طرف اسی مجرم کی سزا یافتہ بیٹی کو اس مجرم کی عیادت کے لیے ضمانت ملی ہوئی ہے جو ملک میں موجود نہیں.عام آدمی مجرم ہو تو معاشرے میں کھڑا نہیں ہو سکتا مگر مجرم دولت مند ہو تو جلسے جلوس بھی کرتا ہے.کیا توہینِ عدالت نہیں ہے. 

    کیوں عدالتی فیصلے زیرِ التوا رہتے ہیں.

    کیوں فوری انصاف نہیں ملتا؟ موت کے بعد بریت کا فیصلہ کب تک ہماری روحیں جھنجوڑتا رہے گا؟ 

    یہ سوال توہین نہیں ہیں.میرا  اس اسلامی جمہوریہ کہ شہری ہونے کے ناطے حق ہے سوال کروں کہ کب تک اسی طرح غیروں سے لیا گیا نظامِ عدل ہمارے ملک میں لاقانونیت کا محرک رہے گا.رشوت سفارش دھونس دھاندلی والے مطمئن ہیں بے چین ہے تو شریف آدمی اور اسکی شرافت اسے کورٹ کچہری نہیں جانے دیتی.

    طاقتور مجرم بچتے ہیں تو قانون کی کمزوری نہیں سزا کے عمل کی کمزوری ہے.کسی بھی مضبوط معاشرے کا مطالعہ کریں بنیادوں میں مضبوط نظام عدل ہوگا.

    کسی بھی خوشحال معاشرے کی خوشحالی عدل کے بغیر ممکن نہیں.

    جہاں نظم و ضبط دیکھا جانچ کے بعد معلوم ہوا اس وطن کے شہری قانون توڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے کہ سزائیں سخت اور فوری ملتی ہیں.

    ہم نے ویکسین جرمانے اور باقی ماندہ تھریٹس کے پیشِ نظر لگوائی کہ فوری برطرف کیا جا رہا تھا.

    ہم کب تک دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے رہیں گے؟ 

    جب تک فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا.

    جب  ہم جیتے جی تمغے دینے لگے. زندہ کو بری کرنے لگے ہم بھی کامیاب قوم بن جائیں گے.

    اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا.

    ان کو معزز ٹھہرایا جائے گا.قوم نے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے.

    مگر ڈاکٹر صاحب جنتوں کے مکین ہو جانے کے بعد اس شعر کے مصداق مسکراتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھ رہے ہوں گے

    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 

    Twitter:@Hsbuddy18

  • وقت کے بارے میں اسلاف کی احتیاط ! تحریر تعریف اللہ عفی عنه

    ❤بسم اللہ الرحمن الرحیم❤

    "علمائے سلف اپنے وقت کے بارے میںبڑے محتاط تھے ،وقت کے ضائع ہونے کا انہیں ہر وقت کھٹکا لگا رہتا کسی بزرگ سے چند لوگ ملاقات کیلئے گئے ،ملاقات کے آخر میں انہوں نے ان بزرگ سے معذرت کے طور پر کہا”شاہد ہم نے آپ کو اصل کام سے ہٹا کر مشغول کردیا”وہ بزرگ فرمانے لگے "تم ٹھیک کہتے ہو،میں پڑھنے میمصروف تھا،آپ لوگوں کیوجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑدیا۰”

    چند لوگ حضرت معروف کرخی رح کے پاس بیٹھے ،جب مجلس انہوں نے طویل کی اور کافی دیر تک نہیں اٹھے تو حضرت معروف کرخی رح ان سے فرمانے لگے:

    "نظام شمسی چلانے والا فرشتہ تھکا نہیں (اس کی گردش جاری اور وقت گزر رہا ہے)آپ لوگوں کے اٹھنے کا کب ارادہ ہے؟

    داؤد طائی روٹی کے بجائے چورہ استعمال کرتے تھے،فرماتے تھے،دونوں کے استعمال میں کاکافی تفاوت ہے روٹی کھاتے چباتے کافی وقت لگ جاتا ہے جب کہ چورے کے استعمال سے نسبتا اتنا وقت بچ نکل آتا ہے کہ اس میں پچاس آیات تلاوت کی جاسکتی ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰عثمان باقلانی ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتے تھے،فرماتے تھے :”چونکہ کھاتے وقت ذکر نہیں ہوسکتا اس لئے جب میں کھانے میں مشغول ہوجاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح نکل رہی ہو "حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:”جو شخص ایک مرتبہ "سبحان اللہ وبحمدہ”کہے گا،اس کے عوض اس شخص کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا”

    ذرہ اندازہ کیجئے ! زندگی کی کتنی قیمتی گھڑیاں ایسی ہیں جو انسان ضائع کردیتا ہے اورءاتنے عظیم اجر وثواب سے محروم رہتا ہے ۰ دنیا کے یہ ایام اخرت کیلئے کھیتی کا درجہ رکھتے ہیں ،کون ہے ایسا جس میں  عقل ہو کہ اپنی کشت میں بیج نہ بوئے یا کاہلی وسستی سے کام لے۰اس لئے ضرورت ہی کے تحت لوگوں سے ملا جائے ،عام حالات میں صرف علیک سلیک  پر اکتفا کیا جائے،زیادہ میل جولترک کرکے خلوت اور کنج تنہائی وقت کو ضیاع سے بچانے میں بہت ممد ہے ،اس طرح کھانے کی مقدار میں کمی بھی وقت بچانے میں معاون بن سکتی ہے کیونکہ بسیار خوری بسیار خوابی کا سبب ہے،ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں یہ چیز بڑی نمایاں نظر آتی ہے۰”

    "علمائے سلف بہتعالی ہمت تھے ،ان کی عالی ہمت کا اندازہ آپ ان کی ان تصانیف سے کرسکتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں،علم میں کمال چاہنے والے طالب علم چاہیے کہ اسلاف کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ان کی عالی ہمتی دیکھ کر اس کا دل زندہ اور اس کے محنت کرنے کا عزم متحرک ہو ،نیز کتاب کسی بھی فن کی ہو فائدہ سے تو بہر حال خالی نہیں ہوتی (اس لئے اسلاف کی ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چایے)”

    صاحب وعیون الانباء نے امام رازی رح کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

    "خدا کی قسم!کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک کرنے کیوجہ سےمجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت اور زمانہ بڑا ہی عزیز سرمایہ ہے۰”

    "منتقی الاحبار”کے مصنف مجدالدین ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن رجب نے "ذیل طبقات حنابلہ”(جلد ۲،صفحہ ۲۴۹)میں ان کے متعلق لکھا ہے:

    "وہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع ہونے نہیں دیتے تھے،زندگی کی ایک گھڑی کو کسی مفید مصرف میں لگانے کا اس قدر اہتمام تھا کہ کھبی تقاضہ اور ضرورت سے جاتے تو اپنے کسی شاگرد سے کہتے تم کتاب بلند آواز سے پٹھو تاکہ میں بھی سن سکوں اور وقت ضائع نہ ہو۰”

    بات بڑی عجیب ہے لیکن عجب چیز ہے احساس زندگانی کا !

    اٹھویں صدی کے مشہور شافعی عالم اور فقیہ شمس الدین اصبہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے "درر کا منہ”(جلد ۶ صفحہ ۸۵)میں،اور علامہ شوکانی نے "البدر الطالع”(جلد ۲ صفحہ ۲۸۹) میں ان کے متعلق لکھا ہے  کہ "وہ کھانا اس ڈر کی وجہ سے کم کھاتے تھے کہ زیادہ کھانے تقاضہ کی ضرورت بڑھے گی اور خلا جاکر وقت ضائع ہوگا”

    حافظ ابن عساکر نے "تبیین کذب المفتری”(صفحہ ۲۶۳) میں پانچویں صدی کے مشہور عالم سلیم رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ "لکھتے لکھتے جب ان کا قلم گھس جاتا تو قلم کا قط لگاتے ہوئے ذکر شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط ہی لگانے میں ضائع نہ ہو”

    علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے "یعنی وہ ساعتیں اجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں،میں کھانا کھاتا ہوں۰”

    (متاع وقت اور کاروان علم ،مصنفہ ابن الحسن عباسی رح)

    @Tareef1234

  • بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں تحریر: حمیداللہ شاہین 

    دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراک کی دستیابی، حفاظت اور مارکیٹنگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔  زرعی مارکیٹنگ وہ لائف لائن ہے جس میں زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں کی دستیابی، حفاظت اور ترقی شامل ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر بھی مقامی منڈیوں سے قربت کے حوالے سے کاشتکاری کو بحرانوں کا سامنا ہے۔  زرعی مارکیٹنگ سے متعلق مختلف مخمصے ہیں جن پر مختصراً اس مضمون میں بحث کی جائے گی۔

     پاکستان خصوصاً بلوچستان کے کاشتکار برادری کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں۔  ہم اسی مضمون میں کچھ مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

     تمام مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔  نئی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ترقی سے متعلق مسائل کو ترتیب دینے والے ریاستی محکمے اپنے نقطہ نظر میں سست اور غیر سنجیدہ ہیں۔  بلوچستان کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت ہے۔  یہ صوبہ نہ صرف دیگر ممالک بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زندگی کے حوالے سے بہت پسماندہ نظر آتا ہے۔  خضدار کے علاقے نال کے رہنے والے غریب کسان اللہ بخش لانگو کی ایک دکھ بھری کہانی سناتا ہوں۔  وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک ہے۔  پیاز کے کاشتکار ہونے کے ناطے اس کے پاس اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کوئی قریبی بازار نہیں ہے۔  گزشتہ جون میں کوئی قریبی مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  وہ اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کراچی اور فیصل آباد آیا، جہاں اس نے اپنی پیداوار کو متعلقہ علاقوں کے دلالوں کے رحم و کرم پر ٹھکانے لگایا۔  یہی کہانی بلوچستان کے ہزاروں کسانوں کی بھی ہے، جو آخرکار اپنی بقا کی امید کھو رہے ہیں۔  ایک دن یہ صورت حال مزید خراب ہو جائے گی اور پہلے ہی باغیوں کی زد میں آنے والی زمین کو لاقانونیت کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     ایک اور بڑا گڑبڑ متعلقہ اداروں کی مالی مدد کی کمی ہے۔  کسانوں کی برادری کریڈٹ یا قرضوں، فصلوں کی بیمہ، اور کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے محروم ہے، جس سے ان کی پیداوار کی لاگت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔  ان کی حتمی مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے کسانوں کو خاطر خواہ منافع نہیں مل سکتا۔  اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی طور پر مہنگی پیداوار بین الاقوامی سطح پر سستی فصلوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟  یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  مائیکرو لون کے ذریعے صحیح کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی صحیح وقت پر دستیابی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے فصل کی خالص پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

     پیکجنگ اور گریڈنگ کے لیے پوسٹ ہارویسٹ بین الاقوامی معیارات کے بارے میں علم کی کمی  اشیاء کی پیکیجنگ اور درجہ بندی کھانے کے معیار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔  پیداوار کا معیار مارکیٹ کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کی عدم موجودگی اور اشیاء کی کم شیلف لائف بھی تشویش کا باعث ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کسانوں کو اپنی اجناس کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دیں گے اور جب مارکیٹ کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوں گی تو وہ اپنی پیداوار فروخت کریں گے۔

     پراسیسڈ فوڈ کے پاکستانی برانڈز کو اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں ترقی کرنی چاہیے۔  کیونکہ اب ہمارے برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ نمائش نہیں ہے۔  ایک بار جب ہمارے پراسیس شدہ کھانے کو بین الاقوامی سطح پر نمائش مل جائے گی، تب ہمارے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملیں گی۔  یہ کچھ مسائل تھے جن کا سامنا ہماری کاشتکاری کو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں کرنا پڑ رہا ہے۔  اب ان پیچیدگیوں کا حل کیا ہونا چاہیے؟  ہم نے کچھ حل تجویز کیے ہیں۔

     حکومت سپلائی چین سے مڈل مین کے کردار کو نکالے۔  اس کی تعمیل میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جا سکتی ہے۔  ہندوستانی حکومت نے ہر قصبے میں خریداری مرکز تیار کیا ہے، جہاں ایک سے زیادہ گاؤں کے کسان اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو فروخت کر سکتے ہیں۔  حکومتی ریگولیٹری اتھارٹی ہر اجناس کی قیمتیں طے کرتی ہے اور اس مرکز کا فرض ہے کہ وہ کسان کی ہر پیداوار کو تجویز کردہ نرخوں پر خریدے۔  اس پہل سے ہندوستان کی کاشتکاری برادری دن بہ دن مالی طور پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

     عالمی سطح پر نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔  تاکہ پاکستان میں مزید تجارت ہو سکے اور اس سرگرمی سے پورے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی۔  بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھا انفراسٹرکچر اور مقامی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  تاکہ خوشحالی بلوچستان کے کسانوں کا مقدر بن جائے۔  صوبے میں نقل و حمل یا گاڑیوں کی قیمتیں علاقے سے متعلق حکام کے ذریعہ طے کی جائیں۔  تاکہ کسانوں کو دوسرے صوبوں کے کسانوں کے برابر مراعات مل سکیں۔

     ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے دفاتر میں گھنٹیاں بجیں گی، تاکہ وہ بلوچستان کے کاشتکاری کے ہنگامی حالات کے مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات کر سکیں۔

    @iHUSB

  • میری زندگی تحریر سعد اکرم

     

    ایک نمایاں مذہبی تحریک دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے جس نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیئے یہ پچھلے دو سو سال میں سب سے بڑی مذہبی تحریک بن کر ابھری اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی تحریک تھی  برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئ تھی اس سے پہلے یہاں کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا ہے اس اقتدار میں بھی مسلمانوں کے مدارس قائم ہوئے بڑے بڑے علماء بھی پیدا ہوئے ان کے ذریعے سے تصنیف و تالیف کی سرگرمیاں بھی ہوتی رہیں ۔ انگریز آ گئے تو انھوں نے آ کے نئے نظام تعلیم نظام معاشرت اور نئے نظام سیاست کی بنا ڈالنا شروع کی تو اس وقت مسلمانوں میں تہذیبی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ردعمل آیا جس میں فتاوی دئے گئے اور ہندوستان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئ  بتایا گے یہ دارالسلام ہے یہ دارالحرب ہے اور اب اس کی نوعیت کیا ہو گئ ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلے کا حل سوچا کے ہم نے اگر اپنی تہذیب کو اپنے مذہب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا راستہ یہی ہے کے ہم دین کی تعلیم کا اہتمام اعلی درجے پہ کریں ۔مسائل ختم ہو گئے تھے پرانے مسلمانوں کے اوقاف اس طرح نہیں رہے تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے جو بادشاہوں کی طرف سے نوازشیں ہوتی رہتی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں تو عام مسلمانوں سے اپیل کی گئ کے وہ بندوبست کریں ۔یہاں سے جو علماء آگے آئے ان میں مولانا محمود الحسن مولانا قاسم نانوتوی مولانا اسماعیل میرٹھی مولانا رشید احمد گنگوہی یعنی بڑے غیر معمولی لوگ اپنے علم کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے ۔ابھی یہاں علم زیر بحث آیا تو اس کی دو  بڑی روایات ہیں ایک وہ جس کو سلفی روایت کہتے ہیں جس کے بڑے لوگوں میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کا نام لیا جاتا ہے اور ایک وہ روایت ہے جو فلسفہ اور تصوف کے زیر اثر پیدا ہوئ اور اس میں سرخیل کی حیثیت تو امام غزالی کو حاصل ہے ان کے بعد شیخ اکبر محی الدین عربی بھی ایک بڑا نام ہے اور بھی بہت لوگ اس میں پیدا ہوئے برصغیر میں اگر کسی کو امام الہند کی حیثیت حاصل ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں  تو شاہ صاحب کے گھرانے نے جو علمی کام کیا اس سے فکری علمی پس منظر پیدا ہوا  اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں غزالی سے لے کر جو صوفیانہ مزاج اور ہمارا جو قدیم علم ہے اس کے پاسبانوں کی حیثیت سے ان لوگوں نے اس مدرسے کی بنیاد رکھی ۔یعنی ایک ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی دی جائے جس میں اس تعبیر کے بڑے علماء پیدا ہوں پیش نظر تو بڑے علماء پیدا کرنا ہی تھا کیونکہ اس میں ہر درجے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے سیکھتے ہیں  اور اس میں کوئی شک نہیں کے دارالعلوم دیوبند نے بہت بڑے بڑے علماء پیدا کیئے ہیں ۔مولانا حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا انور شاہ کشمیری مولانا بدر عالم میرٹھی ہوں یہ چند نام ہیں جو معمولی درجے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے علماء میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ دوسری چیز وہ تھی کے لوگوں کے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے وہ طریقے  آزمائے جائیں جو صوفیانہ روایت سے ملیں یعنی خانقاہ کا اور مدرسے کا ایک امتزاج بنانے کی انھوں نے کوشش کی ۔ایک طرف تو دینی علوم فقہ کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف حاجی امداداللہ مہاجر مکی جیسے بزرگوں سے طریقت کے اصول بھی سیکھ رہے تھے اور خود مدرسے کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی وہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے مجاہدین تھے ان کے اسلاف نے جو پہلا کام کیا تھا کے انگریزوں کی حکومت کو یہاں سے نکالا جائے اور اس میں جہاد بھی ہوا بلکہ سید احمد شہید کی تحریک بھی وہی ہے 

    اس وجہ سے وہ اپنی ذات میں اپنی شخصیت میں اپنے طرز عمل میں ہندوستان کے اندر ایک سیاسی تحریک کے بھی بانی تھے علماء کے اندر بلکہ کہا جا سکتا ہے کے گاندھی اور مسلم لیگ سے پرانی تحریک علماء ہی کی تھی ۔اور  یہ وہ ظہور ہوا جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تک بات پہنچا دی  ۔اور خانقاہی صورت تھی اس نے نئ ایک صورت اختیار کی اور تبلیغی جماعت بن گئ اب چلتے پھرتے یہاں تربیت پاتے ہیں لوگ ۔جو کسی زمانے میں خانقاہوں میں جاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند تو ماں بن گیا اس کے بطن  سے بہت ساری درسگاہیں وجود پذیر ہوئیں ۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیلے اس کے پڑھے ہوئے لوگوں نے دنیا بھر میں علم فنون میں غیر معمولی کام کیئے ۔اسی کے اندر سے جمعیت علماء ہند پیدا ہوئ ایک موقع پر مولانا داود غزنوی  جو اہلحدیث کے بڑے عالم تھے انھوں نے مولانا  ابوالکلام آزاد سے کہا کے ہماری  جمعیت علماء ہند میں تو دیوبند ہی دیوبند ہے تو ابوالکلام آزاد نے کہا دیوبند نے علماء پیدا کیئے ہیں تو وہی ہوں گے۔ایران سعودیہ کے بعد افغانستان وہ ملک ہے جہاں ایک مسلک ہی  کی حکومت قائم ہے یعنی آپ اسے دیوبندی سٹیٹ کہ سکتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک وجود ہے اور یہ بھی جمعیت علماء ہند سے بنی جو دارالعلوم دیوبند سے پیدا ہوئ

    @saadAkram_