Baaghi TV

Category: متفرق

  • مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے  زمینی رابطہ منقطع

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    ضلع اپر چترال میں ریشن کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پچھلے ایک ہفتے سے کٹ چکی ہے جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر انجنیر امیر مقام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیل اپرچترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں ، سیلابی پانی کئی بستیوں کواپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔سیلابی پانی راجن پورکی تحصیل روجھان کی متعدد بستیوں میں داخل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف علاقہ مکینوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ایک بچی سمیت دو افراد ڈوب کر جاں بحق بھی ہو گئے ہیں۔سیلابی پانی روجھان کی بستیوں بستی کالو، بستی جونیہ، بستی علم دین اور بستی سیلاف میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہاں بنے ہوئے گھر زیر آب آگئے ہیں، گھروں میں رکھا ہوا سامان پوری طرح پانی میں ڈوب گیا ہے اور علاقہ مکینوں کو سخت ترین دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث پل دھندی کے قریب واقع حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے جس کے بعد پانی پوری شدت سے علاقے میں داخل ہو رہا ہے جب کہ علاقہ مکین اہل خانہ، مال مویشیوں اور دیگر قیمتی سامان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیلابی پانی سے دھندی کو راجن پور سے ملانے والی سڑک بھی متاثر ہو گئی ہے جو ابتر صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے کا سبب بن رہی ہے،اطلاعات کے مطابق انتظامیہ غائب ہے عوام اپنی مددآپ کے تحت اپنے افرادخانہ ،مال مویشیوں اورقیمتی سامان کومحفوظ مقام پرمنتقل کررہے ہیں۔

  • عمران ریاض خان صحافی  یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    کُچھ انسان اپنی شیطانی صفات اور دوسروں پر غلبہ پانے کی شدید خواہش کو اپنی شعلہ بیانی کے پیچھے چُھپانے کا فن جانتے ہیں۔ عمران ریاض خان ایک ایسا ہی شخص ہے۔ غُربت اور آواہ پن کی آغوش سے جنم لینے والی لالچ کا پیکر ہے

    عمران ریاض کا باپ ریاض خان ٹریکٹر مکینک تھا ۲۰۰۹ میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں سفارش سے دوبارہ ملازمت حاصل کی۔ سارا بچپن اور جوانی غربت اور شیطانی خیالات میں گزرا۔ عمران ریاض آج سات زاتی لگژری گاڑیوں کا مالک، ڈیفینس لاہور کے قریب زاتی گھر، کئ پلاٹ، چکوال میں ڈیم کنارے چار سو کنال پر مُحیط فارم ہاؤس، ایک پُر تعیش زندگی گزار رہا ہے۔

    ۲۰۰۸ میں عارضی رپورٹر بھرتی ہوا، سیاسی بیٹ ملی ، تعلقات بنے ٹوٹی موٹر سائیکل سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ہاتھ ڈالا۔ ٹاؤٹی کی گاہک ڈھونڈے تو چار پیسے بنے۔ صحافت سے پہلے عملی زندگی کا آغاز کار چوری کے بادشاہ گینگ میں شمولیت سے کیا۔ ۲۰۰۸-۱۰ تک لاہور میں یہ گینگ بُہت فعال تھا جو بعد میں سی سی پی او شفیق گُجر کی کوششوں سے ختم ہوا آج اسکی زاتی گاڑیوں کے فلیٹ میں مرسڈیز بینز ، ویگو ، ہای لکس، رییوو ، سوک اور سٹی شامل ہیں۔

    مہنگے اور غیر قانونی شکار نے موصوف کو گیلا تیتر کے عوامی لقب سے نوازا۔ ۲۰۲۰ میں چکوال کی حسین وادیوں میں تین سو نایاب تیتر شکار کرنے کے بعد بے رحمی سے گاڑی میں لاد کر جاتے ہوے ایک تصویر نے عمران کے اس روپ سے عوام کو آشنا کیا۔ ایاز امیر صاحب ماحولیات کے بُہت بڑے چیمپین ہیں لیکن اس بے رحمانہ شکار پر کبھی آواز نہ نکلی۔

    ناجائز قبضوں ، جھگڑے والی زمینوں کے سودوں میں بھی عمران ریاض نے خوب مال کمایا۔ ۲۰۱۸ میں مُخالف پارٹی کی فائرنگ کی ایف آئ آر ۳۶۹/۱۸ تھانہ ٹاون شپ آج بھی اسکی گواہی دے رہی ہے۔ ۲۰۲۰ میں youtube channel میں جھوٹی سچی باتوں اور جعلی شعلہ بیانی سے شہرت ملی ورنہ شہر میں عمران کی آبرو کیا ہے سب جانتے ہیں۔ ۲۰۲۱ میں دھرابی ڈیم چکوال میں عمران ریاض کے والد نے چار مشکوک کمپنیوں کی مدد سے چار کروڑ بایس لاکھ کا ماہی بانی کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس ٹھیکے کی انکوئری اینٹی کرپشن اتھارٹی پنجاب کر رہی ہے۔

    عمران ریاض کے مالیاتی گوشوارے ہوش رُبا داستان سُناتے ہیں۔ چند ہی سالوں اثاثوں اور دولت کی ریل پیل ! ۲۰۲۰-۲۱ میں کُل آمدنی دس کروڑ چھبیس لاکھ اٹھاسی ہزار جس میں سے أٹھ کروڑ ستاسی لاکھ غیر مُلکی آمدن۔ صرف ایک سال میں آمدن میں نو کروڑ کا اضافہ۔

    بنک سے ڈھائی کروڑ کا قرضہ لیا پلاٹ لیا جبکہ اسی سال تین کروڑ کا نامعلوم گفٹ دیا !

    دو پلاٹ ملت سوسائٹی میں تین کروڑ پچیس لاکھ خریدے جبکہ اُس سال کُل آمدن ایک کروڑ تیس لاکھ رہی۔

    ایف بی آر گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس نتیجے پہ پہنچی کہ تین کروڑ بیس لاکھ کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

    عمران ریاض کی ذندگی اس معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کی زندہ مثال ہے۔ سفارش تعلق اور بدمعاشی سے کیسے طاقت اور دولت کو گھر کی باندی بنایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لاکھوں چاہنے والوں کا آئیڈیل ایک فراڈ اور رانگ نمبر ہے۔

    زرا سوچئے !

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران ریاض خان، قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، اسلحہ سے لیس، محافظوں کی فوج،پولیس نے اسلحہ سے پاک مہم کے تحت اسلحہ لائسنس معطل کرنے کی درخواست کی، اٹھارہ لائسنس جو لاہور میں تھے، باقی چکوال مین انکے فارم ہاؤس اور پنڈی میں تھے، عمران ریاض سوشل میڈیا پر عوام کو قانون کی پاسدراری کا درس دیتے ہیں تا ہم اسلحہ کا اتنی بڑی تعداد پر اب انہیں خود تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515879″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515878″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515877″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515876″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515875″ /]

  • بھارت میں  4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں ایک خاتون کے ہاں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے گاؤں شاہ باد میں ایک خاتون نے 4 ہاتھوں اور 4 پیروں والی بچی کو جنم دیا بچی پیٹ سے جڑے دو اضافی ہاتھ اور دو اضافی پیر کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جس سے اسپتال کے عملے سمیت خاندان کے افراد ششدر رہ گئے اور بچی کو قدرت کا معجزہ قرار دیا بچی ملک کے شمال میں واقع ہردوئی میں ہفتے کے آخر میں پیدا ہوئی-

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    بچی کا وزن پیدائش کے وقت 6.5 پونڈ تھا، کی پیدائش بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ریاست اتر پردیش کے شاہ آباد کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ہوئی۔

    تصاویر اور ویڈیوز میں بچے کو دکھایا گیا ہے کہ اس کے پیٹ کے ساتھ بازوؤں اور ٹانگوں کا ایک اضافی جوڑا جڑا ہوا ہے، جس میں پولیمیلیا کا امکان ہے، یہ پیدائشی نقص ہے جس کے نتیجے میں اعضاء کی تعداد معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اضافی اعضا کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی اور اس کی ماں دونوں صحت مند ہیں بچی کو علاج کے لیے لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے-

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ز نے کہا کہ بچی کی اضافی اعضا کے ساتھ پیدائش در اصل جڑواں بچوں کی پیدائش کا کیس لگتا ہے کیونکہ دوسرے بچے کا سر بچی کے معدے سے جڑا ہوا ہے جو ابھی بننا باقی ہے۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    ماں نے کہا کہ ہفتے کے روز دردِ زہ کا سامنا کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اور اس کے فوراً بعد ہی اس نے جنم دیا۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش کی خبر پورے علاقے میں پھیلنے کے بعد بچے کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہو گیا، اس بچے کو "قدرت کا معجزہ” قرار دیا گیا۔

    دوسروں نے مشورہ دیا ہے کہ بچہ لکشمی کا اوتار ہو سکتا ہے، دولت، خوش قسمتی، طاقت، خوبصورتی، زرخیزی اور خوشحالی کی ہندو دیوی۔ اس سال کے شروع میں، چار بازوؤں اور ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک اور بچے کو مقامی لوگوں نے بت بنایا تھا جو اس بچے کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

  • روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھان (ضامن حسین بکھر کی رپورٹ )روجھان میں اشیائے خوردونوش کی قمیت عوام کی پہنچ سے دور برف سے لے کر سبزیاں پھل فروٹ سے لے کر بیف، چکن، مٹن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے دیہاڑی دار مزدوروں کی یومیہ اجرت سے ان کے بچوں کو روٹی میسر نہیں ہے اس مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے مگر گزشتہ روز راجن پور میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اشیائے خوردونوش کے ریٹس کی چیکنگ اور سرکاری ریٹس کو برقرار رکھنے کے متعلق ہدایات دیں مگر روجھان میں 6 یوم سے صرف برف کی بات کی جائے تو 50 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے


    مگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے آنکھ موندی ہوئی ہیں اور ذمہ داروں کے کانوں میں روئی بھری ہوئی ہے ہر چیز کے ریٹ روجھان میں مقرر کردہ ریٹس کے برعکس ہیں عوام کو سرکاری مقرر کردہ نرخوں پر عوام کو اشیائے خوردونوش میسر نہیں ذمہ دار صرف فرضی طور پر ایک دو دکانوں پر جا کر فوٹو سیشن کے بعد چلے جاتے ہیں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں کوئی چیک ایند بیلنس نہیں ہے عوام کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے چھ روز گزرنے کے بعد باوجود پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صرف برف کی قیمتوں اور برف مافیا کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے روجھان کے عوامی سماجی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر راجن پور، سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

  • بھارتی سازشیں

    بھارتی سازشیں

    خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے علاقائی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بھارت چین اور پاکستان پر قابو پانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سٹریٹجک مقاصد کی تکمیل کے لیے سری لنکا اور بھوٹان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد، ہندوستان اب مالدیپ کی اسٹریٹجک حمایت کے لیے کوشش کر رہا ہے۔چھوٹا جزیرہ ملک مالدیپ چین اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے پاس کچھ اسٹریٹجک راستے ہیں۔خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے کے بدلے، ہندوستان نے اپنی زمینی افواج کو نیپال میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالدیپ کی موجودہ بھارت نواز حکومت وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے بھارتی تجویز کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اگر یہ بھارتی تجویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور سٹریٹجک مقابلہ شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاقائی امن پر بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے، تو کسی اور خودمختار ملک میں زمینی افواج کی تعیناتی بین الاقوامی معاہدوں، کنونشنز اور علاقائی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    بدقسمتی سے بھارت سٹریٹجک مقابلے کے لیے کھلے عام ایسا کر رہا ہے جس سے علاقائی امن خطرے میں پڑ رہا ہے۔ مالدیپ کی حکومت میں صرف چند لوگ ہی اس قدم کی حمایت کر رہے ہیں۔دوسری جانب قانون سازوں اور عوام کی اکثریت نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہاں تک کہ مالدیپ کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے حال ہی میں بھوٹان حکومت کے ہندوستانی فوج کو فری ہینڈ دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین نے بھی اپنی سیاسی واپسی اور ہندوستان کی جانب سے دھمکیوں کے خلاف ناراضگی کا اعلان کیا ہے۔ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک میں بڑھتے ہوئے ہندوستانی اثر کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملکی سیاست میں دو سابق اعلیٰ سیاست دانوں کی سرگرمی اور بھارتی جارحانہ انداز کے خلاف بیانات نے بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔مالدیپ کے سیاست دانوں کی جانب سے بھارتی اقدام کی مزاحمت کے اعلان نے بھارتی پالیسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جو پہلے ہی بحر ہند میں چین سے مقابلے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    مودی-شاہ-دوول کی تینوں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دیگر آپشنز بھی تلاش کر رہے ہیں ۔اسی طرح یہ بھی واضح رہے کہ کئی دہائیوں کے قریبی تعلقات کے باوجود مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین بھارت کے ساتھ تمام دفاعی معاہدوں کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے اپنے جزیرے والے ملک میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر میں بہت اضافہ کیا ہے جس کی موجودہ حکومت تردید کرتی ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے ہٹائے جانے والے اور زیر حراست رہنے والے سابق صدر کے مطالبات کو مالدیپ کے عوام نے سراہا ۔ان کی ترقی پسند پارٹی کے اجلاسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت ان کی بیانات کی تائید بھی کی۔ لوگ ان کی پارٹی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ممکنہ بھارتی قبضے کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ مالدیپ کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی فوج کو اس سال کے آخر تک یہاں سے واپس بلا لیا جائے۔ مالدیپ میں ہندوستانی فوج کی موجودگی دیگر طاقتوں کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ترغیب دے گی۔اسی طرح مالدیپ بحر ہند میں اپنے اہداف کے حصول میں ہندوستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات، جنہیں اب ایک مضبوط سیاسی آواز مل چکی ہے، اس کے مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اگر سابق صدر کو اگلے عام انتخابات میں سیاسی کامیابی ملتی ہے تو یہ بھارتی پالیسی سازوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔اب وہ سازگار پالیسیوں اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مالدیپ کے بھارت نواز سیاست دانوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔اپنے پڑوسیوں جیسے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا تک پہنچ کر، بھارت کے اقدامات خطے میں اپنے اسٹریٹجک محور کو بڑھانے کے لیے چین کی نام نہاد سٹرنگ آف پرل حکمت عملی کے مترادف ہیں۔ لیکن بھارت کے ارادے گھناؤنے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کسی دوسرے آزاد/خودمختار ملک میں اپنی فوج پر حملہ یا تعینات نہیں کر سکتا۔ جہاں تک چائنیز سٹرنگ آف پرلز کی حکمت عملی کا تعلق ہے، بیجنگ چھوٹی قوموں کو ان کے اقتصادی ماڈل اور ریاستی انفراسٹرکچر کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔ اس نے انہیں معاشی ترقی کے حصول میں مدد فراہم کی اور انہیں معاشی مدد فراہم کی۔حال ہی میں چین نے سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال کی مدد کی۔

    اسی طرح وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے وسیع تر علاقائی تعاون کا خواہاں ہے۔ چین اور پاکستان دونوں نے خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی اور غیر علاقائی طاقتوں کو سی پیک کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ CPEC کا واحد مقصد وسیع تر اقتصادی انضمام اور علاقائی تعاون ہے۔ہندوستانی معاملے میں چیزیں مختلف ہیں اور چینی ماڈل کے برعکس ہیں۔ ہندوستان چھوٹی قوموں کی اقتصادی ترقی کے خواہاں نہیں ہے۔ وہ خطے میں مواقع کی تلاش میں ہے جو خالصتاً اس کے سٹریٹجک حریف چین اور پاکستان کو روکنے سے متعلق ہیں۔ لہٰذا، بھارتی عزائم پورے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور مغرب روس کو پیشہ ورانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو انہیں بھارتی جارحانہ اسٹریٹجک ڈیزائن کی مذمت بھی کرنی چاہیے۔ بھارتی جارحانہ اقدامات نیپال کی خودمختاری کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو اس بار آگے آنا چاہیے

    تحریر: ملک ابرار

  • بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    ڈیموگرافک ڈیزائن سے لے کر کشمیر فائلز تک
    مقبوضہ جموں و کشمیر کی مذہبی اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کے ہندوستانی بدنیتی پر مبنی عزائم واضح طور پر واضح ہیں کیونکہ ہندوتوا بی جے پی کی حکومت کشمیری پنڈتوں کے خاندانوں کو کافی انعامات دے کر واپس بحال کر رہی ہے۔ آبادکاری کے لیے جارحانہ دباؤ میں، بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ پانچ سالوں میں کشمیری پنڈتوں کی چھ سو سے زائد جائیدادیں بحال کی ہیں۔

    بھارتی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ IIOJK کے لیے 2008 کے پی ایم بحالی پیکج کے تحت کل چھ ہزار سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ تقریباً 5797 پنڈتوں کو روزگار دیا گیا ہے۔آرٹیکل 35A نے خطے میں آبادیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ریاستوں کے ہندوستانی شہریوں سمیت بیرونی لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پر آباد ہونے اور دعوی کرنے سے روک دیا ۔2011 میں بھارت کی طرف سے کرائی گئی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل 12.5 ملین آبادی میں سے مسلمان 68.31 فیصد اور ہندو 28.43 فیصد ہیں۔ بھارت کا تازہ ترین قدم پاکستان کے اس مستقل موقف کی توثیق ہے کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے پیچھے بڑا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔پہلے دن سے، مودی حکومت نے بالآخر مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل کیا کیونکہ مودی حکومت جانتی تھی کہ وہ حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مودی حکومت نے تقریباً 30 لاکھ کشمیری ڈومیسائل بھارتی شہریوں میں تقسیم کیے ہیں۔

    غیر کشمیریوں اور غیر مسلموں کو مقبوضہ علاقے میں لانا اور آباد کرنا۔ ہندو برادری اکثریت میں ہوگی کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے میں لا رہے ہیں۔میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک لوگوں کی ذہنیت بدل گئی ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم ’’کشمیر فائلز‘‘ میں اس فلم کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کو بے بس لوگوں کے طور پر دکھایا گیا تھا اور مسلمانوں کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا۔فلم کی حساس سیاسی نوعیت اور حقائق کی غلط بیانی، جان بوجھ کر غلط بیانی کے الزامات کی وجہ سے بی جے پی حکومت پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔ حکام نے کئی بھارتی ریاستوں میں فلم کے داخلے کو ٹیکس فری کر دیا ، پولیس اور دیگر نے دیکھنے کے لیے وقت دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی اور اے ایف پی کی طرف سے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی متعدد ویڈیوز میں سینما گھروں میں لوگوں کو بدلہ لینے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس فلم کو اپنے سیاسی مخالفین اور ناقدین پر تنقید کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والوں نے ہی کشمیر میں ہندوؤں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ فلم نے کشمیری ہندو برادری کو بھی تقسیم کر دیا ہے، کمیونٹی کے ارکان نے فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ یہ اصل حقائق کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ من گھڑت ہے۔اس پروپیگنڈہ مہم کو بی جے پی کی مودی سرکار کی حمایت حاصل تھی تاکہ حقائق کو من گھڑت بنایا جا سکے کیونکہ وادی کشمیر میں اب بھی ہزاروں کشمیری خاندان پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

    حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ معروف صحافی رعنا ایوب کو ایئرپورٹ پر روکا گیا اور بعد میں ان کے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی، یہ ایک دانستہ کوشش تھی تاکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سچ بولنے والے صحافی بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر سچ نہ بولیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانوں کے بنیادی حقوق سے جڑی ہوئی ہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں جو ہندوستان میں اب نہیں بلکہ برسوں سے سامنے آرہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے میڈیا کے ذریعے بھارتی حکومت کے منصوبہ بند پروپیگنڈے اور ان ہتھکنڈوں جا نوٹس لیں جن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانا ہے۔ہندوستان اب ایک جمہوری ملک نہیں رہا بلکہ ایک فاشسٹ حکومت ہے جو آر ایس ایس کی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔

  • چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    آج تک بندروں اور چوہوں کو چیزیں چراتے اور لے کر بھاگتے دیکھا ہے لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جسے دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کیوں کہ اس مرتبہ بندر اور چوہے نہیں بلکہ چیونٹیاں سونے کی چین لے کر فرار ہور ہی ہیں-

    باغی ٹی وی : سونے کی چین کا کو چراتی ہوئی چیونٹوں کے اس قافلے کو عین موقع پر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔


    ویڈیو انڈین فاریسٹ سروس کے ملازم سوسانتا نندا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ سونے کے چھوٹے اسمگلر، آئی پی سی کے کس سیکشن کے تحت انہیں پکڑا جاسکتا ہے؟-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور دلچسپ کمنٹس کر رہے ہیں-

    قبل ازیں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں نامعلوم چوہوں کے ایک گروہ نے 5 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری کرلیا تھا تاہم پولیس نے چوری شدہ سونا برآمد کر لیا تھا ممبئی پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ چوہے سونے کے ایک تھیلے کو گھسیٹ کر ایک گٹر میں لے گئے اور ان کی اس حرکت کا راز دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد فاش ہوا تھا

    سندری پالنیول نامی خاتون سونے کا ایک تھیلا لے کر بینک کے لاکر میں جمع کرانے جا رہی تھیں۔ اسی تھیلے میں انہوں نے وڈا پاؤ بھی رکھا تھا جو انہوں نے سڑک پر موجود کچھ بھکاریوں کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن غلطی سے کھانے کے بیگ کے ساتھ سونے کے زیورات بھی دے دیئے دو منٹ میں ایک بس آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئیں پھر احساس ہوا کہ ان کا پرس نہیں ہے، تب انہیں یاد آیا کہ یہ وڈا پاؤ کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    لیکن جب سندری پالنیوال جلدی سے واپس آئیں تو وہ بچے وہاں نہیں تھے تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ بچوں نے وہ بیگ پھینک دیا تھا جسے چوہے موقع ملتے ہی گھسیٹ کر گٹر کے اندر لے گئےپولیس نے بتایا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چوہے بیگ کو گٹر لائن میں لے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے گٹر کی پوری لائن کو سکین کیا تو وہ پرس گٹر لائن میں پڑا ہوا مل گیا۔

    میکسیکو میں مئیر کی مادہ مگرمچھ سے شادی،تصاویر وائرل

  • بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    ڈیرہ غازیخان ۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈی جی خان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ، نیپرا کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کومسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دے دیا ،بجلی پٹرول اور LPGکی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان، ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کر نے کا اعلیٰ حکام سے مطالبہ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ تفصیلات کے مطابق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈیرہ غازیخان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اجلاس صدر چیمبرڈاکٹر محمد شفیق خان کی زیرِصدارت منعقد ہوا جس میں سینئرنائب سردار شہباز علی خان نصوحہ ، نائب صدرسردار خلیل احمد خان علیانی سابق صدور خواجہ محمد یونس ،سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ، سابق سینئر نائب صدور محمد لطیف خان پتافی ،شیخ محمد طارق اسماعیل قریشی ، شیخ محمد زاہد نظام ، سابق نائب صدر مرزا محمد ظفر اقبال ممبران ایگزیکٹوکمیٹی ،سینئر ممبران چیمبر، سیکریٹری جنرل چیمبر محمد مجاہدملک کے علاوہ دیگر ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے نمائندگان اور مرکزی انجمن تاجران کے سٹی اور ضلعی عہدیدارن و صدور نے شرکت کی اجلاس میں گذشتہ روز حکومت کی طرف سے نیپرا کے ذریعے بجلی اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دیتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،اجلاس میں ممبر ایگزیکٹو کمیٹی عبدالکریم خان کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرا چیمبر آف کامرس کی توسط سے حکومت پاکستان،وزیراعظم پاکستان اورFBRکے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازیخان میں FBRاپنا RTOآفس قائم کرے جہاں FBRبڑی کمپنیوںاور بڑے اداروں کو درپیش مسائل حل کرے ان بڑے اداروں کے انکم ٹیکس کے گوشوارے ،ان کے ری فنڈ کے کیس دیگر اپیل کی سماعت اور فیصلے کرنے کیلئے فی الفور اپنا RTOآفس ڈیرہ غازیخان میں قائم کرے کیونکہ یہاں کی کاروباری برادری اور بڑی کمپنیوں اور اداروں کو ملتان جانا پڑتا ہے جس سے ان کا ایک تو وقت کا ضیا ع ہو تا ہے اور مزید کئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے ڈیرہ غازیخان میںRTO قائم ہونے سے ہماری آمدنی کا ٹیکس جو ایف بی آر ملتان میں جمع ہوتا ہے اس کا شماربھی ڈیرہ غازیخان میں ہو گا اور اس سے جو سہولیات اور مراعات حاصل ہوں گی ان کا ریلیف بھی ڈیرہ غازیخان کے تاجروں اور بڑی کمپنیوں کوحاصل ہوگااس سے ان کو وقتی پریشانیوں سے نجات مل جائے گی اور اس سے علاقے کی عوام کو فائدہ حاصل ہوگا۔ نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ڈیرہ غازیخان کلکٹر کسٹم کا آفس بھی ڈیرہ غازیخان میں قائم کیا جائے کیونکہ ڈیرہ غازیخان بلوچستان کے بارڈر پر واقع ہے یہاں سے غیرملکی گاڑیو ں کا گزر اور دیگر مصنوعات کا بھی گز ر ہوتا ہے اگر یہاں کلکٹر آفس قائم کیا جائے اس ملک کی کسٹم آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہواور لوگوں کو ملتان کی بجائے ڈیرہ غازیخان میں یہ سہولیات میسر آئیں گی اس پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پاکستان ، وزیراعظم پاکستان اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کیا جائے ۔اجلاس میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے صدر چیمبر ڈاکٹر محمد شفیق خان پتافی نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیایہ کمیٹی سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ سابق صدر و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹیز کی قیادت میں باہمی مشاورت سے کام کرے گی اس کمیٹی کاکام چیمبر آفس کی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے پرائیویٹ رقبہ کی شہر کے اندر یا شہرکے قریب ترین مقامات پر نشاندہی کرے گی اوراس کی قیمت کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے گی جس کی روشنی میں ایگزیکٹو کمیٹی اپنی اگلی میٹنگ میں رقبہ کی خریداری کے لئے فیصلہ کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرے گی اجلاس میں ڈیرہ غازیخان میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے بارے میں غور کیا گیا ڈیرہ غازیخان میں چیمبر کی طرف سے ٹیکس فری انڈسٹریل زون اور انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے بارے میں حکومت سے مطالبہ کیا کیونکہ کو ئٹہ روڈپر حکومت پنجاب کا وسیع رقبہ موجود ہے اور پچھلے دور حکومت میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کیلئے رقبہ ڈکلیئراور مختص کیاجاچکاتھا اس پر کام شروع کیا جائے حکومت وہاں انڈسٹری کے قیام کیلئے خصوصی مراعات اعلان کرے اور کم از کم دس سال کیلئے ٹیکس ہالیڈے کا علان کرے ۔اجلاس کے آخر میں چیمبر کی رکنیت کیلئے موصول ہونے والی نئی دس ممبر شپ درخواستوں کی منظور ی بھی دی گئی جوکہ چیمبر کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر لحاظ سے مکمل تھیںاجلاس میں تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی گئی اور یکم جولائی سے کاروبارکی بندش کے اوقات کار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    لندن: برطانوی پولیس نے سوشل میڈیا پر لائیو پوسٹ میں زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے 39 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔ خاتون پر زندہ چوہا کھانے اور اس عمل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کرنے کا الزام ہے۔

    برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    رپورٹس کے مطابق خاتون نے چوہا کھانے کے بعد پانی پیا اور منشیات کا بھی استعمال کیا۔ خاتون کے اس عمل کو سوشل میڈیا ہزاروں صارفین نے دیکھا اور شدید احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے یہ عمل ایک چیلنج کے طور پر کیا۔ خاتون پر جانوروں کے خلاف ظالمانہ حرکت کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

    پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اس ویڈیو کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی اس پر تبصرہ کریں تاکہ اس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

    قبل ازیں برطانوی خاتون کا کہنا تھا کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا وہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

    گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے