Baaghi TV

Category: متفرق

  • سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    ریاض: سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل کُھل گیا-

    باغی ٹی و: عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل سب کی توجہ کا مرکز بن گیاکھلے صحرا میں کورونا کی احتیاطی تدابیرکے ساتھ بنائے گئے اونٹوں کے اوپن ائیرہوٹل تتمان میں ایک رات کا کرایہ 400 ریال یا 100 ڈالرسےکچھ زیادہ ہےان پیسوں میں اونٹوں کی دھلائی، ٹرمنگ اورگرم گرم دودھ سے تواضح سب شامل ہیں۔

    سعودی عرب:250 ملین ریال انعامات کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑےاونٹ میلے کا آغاز

    سرد موسم سے بچاؤ کے لئے اونٹوں کے لئے خصوصی طورپرگرم انکلوژرز بھی بنائے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اونٹوں کا بوٹوکس یا خوبصورتی کے لئے کوئی اورمصنوعی طریقہ تواستعمال نہیں کرایا گیا۔

    اونٹوں کے لئے لگژری ہوٹل دراصل ان اونٹوں کے لئے بنایا گیا ہے جوسعودی عرب میں ہونے والے شاہ عبدالعزیز فیسٹول میں اونٹوں کے سالانہ مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں جس کی مجموعی انعامی رقم 66.6 ملین ڈالرز ہے۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اونٹوں کے سب سے بڑے میلے کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا آغاز ہوگیاعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض میں کنگ عبدالعزیز کیمیل فیسٹیول جاری ہے جس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی کورونا وبا کے باوجود لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔

    فارمولا-ای کار ریس28 جنوری کو سعودی عرب کے تاریخی مقام درعیہ میں شروع ہو گی

    اس فیسٹیول کا سب سے دلچسپ حصہ اونٹنیوں کے درمیان ہونے والا مقابلہ حسن ہے۔ اس مقابلے کے فاتح اونٹنی کے مالک کو 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر انعام دیا جاتا ہے مقابلہ حسن میں اونٹنی کی خوبصورتی کا معیار لمبےاورلٹکے ہوئے ہونٹ، بڑی ناک اور کوہان کی شکل ہے تاہم کچھ برسوں سے مصنوعی طریقےسےحسن میں اضافہ کیےجانےکاانکشاف ہےاس لیےمنتظیمن اچھی طرح جانچ پڑتال کےبعد مقابلےمیں شرکت کی اجازت دیتے ہیں اس سال بھی 40 کے لگ بھگ اونٹنیوں کو خوبصورتی کے لیے بوٹوکس انجیکشن لگانے پر نااہل قرار دیا گیا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے”جدہ ڈاؤن ٹاؤن” جدید منصوبے کا…

    مقابلے میں شرکت کی خواہش مند اونٹنیوں کا ماہرین نے ان کی ظاہری شکل و صورت اور چلنے کے انداز کا معائنہ کیا۔ پھر جدید ایکسرے اور 3 ڈی الٹرا ساؤنڈ سے سر، گردن اور دھڑ کے عکس لیے اور جنیاتی معائنے سمیت خون کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا انعقاد ہر سال کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں کیا جاتا ہے جو دنیا کا اونٹوں کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

    سعودی عرب: کنگ عبدالعزیزاونٹ میلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت

  • منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین پولیس میں فرشتہ صفت انسان
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں ایک غریب فیملی کے پاس ڈیڈ باڈی گھر لے جانے کے لئے خرچے کے پیسے نہیں تھے. اسی وقت ان دو پولیس کانسٹیبلز نے اپنی جیب سے پیسے دیئے اور ساتھ مل کر ڈیڈ باڈی کو لے جانے میں مدد کی. ایک بھائی کا نام یاسر ہے دوسرے کا نام احمد .
    ہمارے نمائندے کو وہاں موجود ایک فارمیسی والے نے بتایا کہ یہ دونوں پہلے بھی لوگوں کی ایسے ہی مدد کرتے ہیں اور فارمیسی والے کو کہا ہوا ہے کہ جس کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہ ہوں ان کو دوائی دے دیا کرے اور بل ہم سے لے لیا کرے.
    ایسے فرشتہ صفت لوگوں کے متعلق ایسی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کرنی چاہیے تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور باقی لوگ بھی ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    #haqeeqikhabar #mandinews #phalia #malakwal #pakistannews #MandiBahauddin #punjabpolice

  • جرمن نوجوان نے  ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    جرمن نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    میونخ: جرمنی کے ایک شخص نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں عمومی طور پر انسان اپنی ظاہری شخصیت کے نکھار کے لیے کئی جتن کرتا ہےخود کو فٹ اور خوبصورت دلکش بنانے کے لئے طرح طرح کی ٹپس آزمات اہے لیکن جرمنی کے 28 سالہ نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں-

    دنیا کی کم عمر خاتون زارا دنیا کے گرد چکر لگاتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گئیں

    یہ جرمن نوجوان انسٹاگرام پر بلیک ڈپریشن کے نام سے مشہور ہے اور خوفناک دکھنے کے لیے اب تک 17 ہزار ڈالر خرچ کرچکا ہے اس نے خود کو ’انسانی پزلز‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کئی برس صرف کردیئے ہیں اور یہ صرف جسم کے ٹیٹو نہیں ہے۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے


    بلیک ڈپریشن نے اپنے دانتوں کی دونوں قطاروں کو ٹائٹینیم میں ڈھانپنے کے ساتھ اپنی آنکھوں اور چہرے پر بھی سیاہی لگائی ہےنوجوان نےسرجری کےذریعے اپنے کان کے کارٹلیج کے ٹکڑوں کو ہٹانے کا بھی انتخاب کیا ہے جبکہ اس کے نتھنے چھیدے ہوئے ہیں۔

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

    28 سالہ نوجوان نے کہا کہ میں نے 20 سال کی عمر میں جسمانی تبدیلی شروع کی تھی، میرا پہلا طریقہ میری زبان کو الگ کرنا تھا پھر میرے آدھے آدھے کان (بیرونی کان کا دکھائی دینے والا حصہ) دونوں طرف سے کاٹ دیا گیا تھا۔

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia

  • نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    سال 2021 اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال2022 کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

    اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022
    میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔

    بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔

    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

    دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

    اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔
    حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

    اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ
    Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014 اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا رٹیکل
    25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
    درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    کراچی سائٹ ایریا شیر شاہ کی یہ کہانی ہے۔ دوپہر کوئی 2 بج رہے تھے تقریباً کمپنیوں میں کھانے کا وقت تھا کوئی کھانا کھا رہے تھے اور کوئی ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک زور دار آواز آتی ہے اور گیس لائن کا دھماکہ ہوتا ہے میں اور میرے دوست بھی ہوٹل پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہلچل مچ گئی ہے ہم اپنی کمپنی کی طرف جا رہے تھے تو ایمبولینس دکھی ہمیں لگا کہ کوئی ایکسیڈنٹ ہوگیا پر پھر معلوم ہوتا ہے نالہ پر ایک بینک بنی ہوئی تھی وہاں گیس لائنیں پھٹنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہے بلڈنگ زمین تلے بوس گئی اس میں لوگ بھی پھنس گئے کتنی عورتیں بچے بھی شامل تھے، کئی لوگ اس زندگی سے رخصت ہو گئے کئی ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے لوگوں نے سنا بینک میں دھماکہ ہوا بلڈنگ گر گئی لوگ اس طرف بھاگنے لگے اس لیے نہیں کہ وہاں جا کر کسی کی مدد کی جائے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی جائے بلکہ وہ وہاں سب پیسے بٹورنے میں لگے رہے انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں پیسہ کو اہمیت دی جارہی تھی ہم نے وہاں دیکھا کچھ لوگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے کسی کا سر بدن سے الگ تھا کسی کا ہاتھ تو کسی کا پائوں، اب سوال یہ ہے کہ گیس دھماکے کیسے ہوتے ہیں

    عموماً اور دوسرا یہ کہ نالہ کہ اوپر بینک کیسے بنی؟ سردیوں میں گیس کے مسائل نہاں ہوتے ہیں تو پھر عوام بھی اپنی مدد آپ کرتی ہے جیسا کہ ابھی کچھ مشینیں آئی ہیں جس سے اگر آپ کا گیس پریشر کم ہوگا تو وہ گیس کھینچتی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ کام غیر قانونی بھی ہے پر عوام مجبور ہے، کچھ لوگ سلینڈر استعمال کرتے ہیں تھوری سی لا پروائی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری اور خراب گیس سلنڈروں کی وجہ سے آئے دن ہلاکت آفریں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔یہ غیرمعیاری سلنڈرگھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ساحلی شہرکراچی کا پاکستان کی اقتصادی پیداوار میں حصہ 60 فی صد ہے۔یہ شہر طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی اور حکام کی کرپشن اور ناکام میونسپل خدمات کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیر شاہ دھماکے کی جائے وقوعہ پر موجود سوئی سدرن گیس کی ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کی جگہ پر ادارے کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں، علاقے میں موجود تمام گیس پائپ لائنز بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔سوئی گیس کا مزید کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔

  • انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    درحقیقت لکھنا کچھ اور چاہتا تھا پر دسمبر نے کچھ اور نہ لکھنے دیا ضمیر نے ملال کیا کہ دسمبر آئے اور آپ ان لمحات کو یاد نہ کرو تو ان لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی وہ جنہوں نے ہمت ناہاری تھی جنھوں نے پاکستانی قوم میں جرات کا ایک نیا باب کھولا تھا۔تو آج کچھ تذکرہ ان لوگوں کا جنھوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔جنھوں نے دنیا کو بتایا کامیابی کیا کچھ چاہتی ہے آپ سے۔۔۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے ! ” حوصلہ اور ہمت ہارنے والے کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ” ۔
    اس کائنات میں کامیابی کوئی حتمی منزل و مقام نہیں اور نہ ہی ناکامی کوئی حتمی ہوتی ہے ہاں ناکامی کو مستقل بنانے میں مایو سی اور خوف انتہائی اہم کردارادا کرتے ہیں۔درحقیقت یہ صرف زندگی کا ایک لمحہ ہوا کرتا ہے جس نے گزر جانا ہوتا ہے۔ناکامی کے لیے مایوسی کو سر پر بٹھانا پڑتا ہے اور کامیابی کے لیے ذہنی اور فکری صلاحتوں کو بروے کار لانا لازم ہوا کرتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان اپنا مقام بنانا چاہتا ہے کچھ ایسا کرنے کا خواہ ہے کہ جس سے اس کی پہچان میں اضافہ ہو اور اس کے لیے اسے کچھ ایسے لوگوں کے ایسے واقعات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس سے وہ ہمت و استقلال کا سبق لے سکھیں۔جیسے کے تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں۔آپ دنیا کے کامیاب لوگوں کا ذرا مطالعہ کریں تو تمام کامیاب لوگوں میں آپ کو ایک چیز قدرے مشترک ملے گی کہ انہوں نے کامیابی کسی سے متاثر ہو کر یا کسی سخت گیر واقعہ کے تھپیڑے کھا کرحاصل کی ہوگی۔ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم لوگ مایوسی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ اس میں محنت درکار نہیں ہوتی ۔اپنے مشکل اور مایوس کن حالات کو بدلنے کا صرف سوچتے ہیں پر ان عوامل پر عملی اقدام نہیں کرتے جن سے ہماری کامیابی کی راہیں کھل سکیں۔
    ہم میں سے اکثر لوگوں سے حالات کا پوچھا جائے تو وہ آپ کو سخت حالات کا شکوہ کرتے ملیں گے اپنی مشکلات کا رونا روئیں گے پر جب ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے درحقیقت ان حالات کو دعوت خود دی ہوئی ہوتی ہے ان سے نمٹنے کا ہنر نہیں سیکھا ہوتا ۔اپنی تمام تر قوت کو منفی باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔چلیں ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ آپ کے حالات بہت ہی زیادہ خراب ہیں آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں ،آپ کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ،آپ نے اپنی تمام تر قوت لگادی پر بھر بھی ناکام رہے ۔۔۔۔
    پر ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آپ کے گردنواح میں ایسے لوگ نہیں ہیں کہ جو اسطرح کے حالات سے بھی زیادہ مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہوں اور ان کو اپنی قوت ،حکمت عملی اور جرات سے ان حالات کو شکست دی ہو؟؟؟؟؟؟؟ آپ کے ہر قسم کے عذر قبول کر لیے جائیں ۔
    کیا آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوس کن ہیں جیسے کہ 16 دسمبر 2014 کے واقعے میںآرمی پبلک سکول پشاور میں موجود اساتذہ اور طلباء کے تھے ذرا آنکھیں بند کریں اور خود سے پوچھیں …. جس کا یقینی جواب نہیں میں ملے گا تو اتنی مایوسی اور بیزاری کیوں زندگی سے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوسی کن ہیں۔کیا کبھی آپ کے سامنے آپ کے دوستوں اور اساتذہ کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا ؟ کیا آپ کے سامنے آپ کے دوستوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئی ۔۔۔؟ کیا آپ نے کبھی کرسیوں کے نیچے چھپ کر موت کا انتظار کیا؟کیا کبھی آپ کرسیوں کے پیچھے چھپ کہ درندہ صفت انسان کو دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے دماغ میں مسلسل خوف نے جنم لیا کہ اگلی گولی آپ کے جسم سے آر پار ہو جائے گی؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کے آس پاس بیٹھے دوستوں کے جسموں سے دشمنوں کی گولیاں آرپار ہوئی ہوں؟کیا کھبی آپ کو بازوں پرگولی لگی اورآپ گر پڑے دشمن نے آپ یہ سوچ کر چھوڑ دیا ہو کہ یہ مر چکا ہے؟؟کیا آپ کی ماںنے کسی درندہ صفت انسان کے آگے دامن پھیلا کر یہ کہا کہ خدارا بچوں کو کچھ نہ کہیں پر ظالم نے سب سے پہلے آپ کی ماں کو نشانہ بنایا ہو اور آپ یہ منظر کرسیوں کے نیچے چھپ کے دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کی کلاس کے سامنے والی کلاس آپ کے بھائی کی ہو اور ہاں سے گولیوں کے چلنے کی آوازیں آرہی ہوں آپ اسے بھاگ کے بچانا چاہتے ہوں پر آپ کی جان کے تحفظ کے لیے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا گیا ہو؟ نہیں ہوا نا آپ کے ساتھ ایسا، دعا ہے کبھی ہو بھی نہ ایسا ۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس حملہ میں زخمی ہونے والے اورخوش نصیبی سے بچ جانے والے اساتذہ اور طلباء نے امید چھوڑ دی ہوگی ،اٰن خوف ذدہ مناظر کو اپنے دماغ میں بیٹھا لیا ہو گا ، اساتذہ نے وہاں پڑھانا چھوڑ دیا ہو گا ،زخمی طلباء نے دوبارہ اس سکول کا رخ نا کیا ہو گا،زخمی طلباء کے والدین نے اپنوں بچوں کو اس سکول جانے سے روک دیا ہو گا…….. جی نہیں حضور ایسا کچھ نہیں ہوا آگے کے لمحات نے میری تو رگ رگ میں جذبہ پیدا کر دیا ۔دیکھتے ہیں آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے آگے آنے والے واقعات کو پڑھ کے……

    مجھ میں حیرت کی انتہا تھی جب میں نے یہ دیکھا کہ زخمی طلباء زخموں سے نجات ملتے ہی اپنا پہلا قدم اپنی کامیابی کی راہ پہ پھر سے ڈال دیتے ہیں انہیں اگلے دن سکول میں دیکھا جاتا ہے ۔ان میںسے ایک شہید کے والد نے کہا تھا کہ انہیں فخرہے اپنے شہید بیٹے پر کہ جس نے پوری کلاس کو بچا لیا، اگر یہ لوگ مایوس نہیں ہوئے ،اگر یہ لوگ اپنی منزل سے نہیں ہٹے ،اگر ان کے حوصلہ پست نہیں تو آپ کس لئے اپنے حوصلے پست کیے ہوئے ہیں آپ کس لیے ہمت ہار بیٹھے ہیں،آپ کیو نکر مایوس بیٹھے ہیں، آپ کیونکر زندگی کی ڈور سے تنگ آ چکے ہیں۔۔۔۔؟
    یاد رکھیے گا۔۔۔! ” بڑے سے بڑا واقعہ ،بڑی سی بڑی بات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک کہ آپ خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے "۔
    یہ واقعات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتے اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

    اپنے آپ کو مایوسی کی دلدل سے نکا ل لیجیے ۔اگر آپ اس دلدل سے پہلے سے نکلے ہوئے ہیں تو اپنے اطوار بدلیے اپنا طریقہ بدلیے اپنی سوچ کا پیمانہ بدلیے ، ہمت و جرات کامعیار بدلیے۔اگر آپ ایک معلم یا معلمہ ہیں تواپنی ذمہ داری ویسے داد کیجیے جیسے اس معلمہ نے ادا کی تھی جو پریپ کلاس میں موجود تھی ظالموں نے آگ لگا دی پر پھر اپنے بچوں کو یہ کہیے جاری تھی بیٹا پچھلے دروازے سے نکل جائو سب ۔اگر آپ کسی ادارے کے یا گھر کے سربراہ تو اپنی ذمہ داریاں ویسے ادا کریں جیسے اس سکول کی پرنسپل نے ادا کی تھیں۔اگر آپ کو اپنے سکول کو بچوں سے پیار ہے تو اپنا پیار ایسا بنائے جیسا اس معلمہ نے اپنا یا ہوا تھا جو خود زخمی تھی شدید پر سکول کے زخمی بچوں کو ریسکیو کرنے میں بھاگ رہی تھیں جب آرمی کے جوانوں نے ان سے کہا کہ آپ بھی ریسکیو ہونا چاہیے قربان جاوں اس محبت کے کہتی ہیں میرے سکول کے تمام زخمی بچے ریسکیو ہو جائیں میرے لیے ہی ریسکیوہے۔اگر آپ خود کو بہادر سمجھتے ہیں تو آپ ویسے بہادر بنیں جیسے اس سکول کا زخمی بچا بنا جو خود زخمی ہونے کے باوجود دوسروں کو بچانے میں لگا رہا۔اگر آپ کو تعلیم سے محبت ہے تو ویسے محبت کیجیے جیسے اس معلمہ اور اس ماں نے کی تھی جو سکول کے کھولنے کے پہلے ہی دن کہتے ہیں کہ اگر سکول میں کوئی بھی پڑھانے کو نہ آتا تو میں اکیلے ہی پڑھاتی اور اسی ماں کا اپنا جوان بیٹا بھی اس درندگی کا نشانہ بن چکا تھا۔اگر آپ ایک طالبعلم ہیں تو آپ کو اپنے تعلیمی ادارے اور تعلیم سے لگائو ایسا ہونا چاہیے جیسا ان زخمی طلباء کا تھا جو ٹھیک ہوتے ہی سکول کا رخ کرتے ہیں۔

  • مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق کینسر میں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کو اسپتال میں منتقل کیا گیا مریض کی حالت بگڑنے پر اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہل خانہ اینٹی لیٹر کے اخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی گاؤں میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی ایک نوزائیدہ بچی کا ایک کتیا اور اس کے بچوں نے اس کا پہرہ دیا اورمکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچائی چھتیس گڑھ گاؤں میں جب ایک نوزائیدہ بچی کو کھیت میں بے آسرا چھوڑا گیا تو نہ صرف ایک کتیا نے اس کا پہرہ دیا بلکہ خود اس کے ننھے منے بچوں نے مکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچاکر مرنے سے بچا لیا-

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    چھتیس گڑھ ریاست کے ضلع مونگیلی کے ایک گاؤں سریستال کے کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی اس بچی کے تن سے آنول نال کا ایک ٹکڑا بھی جڑا تھااسے آوارہ کتوں نے بھنبھوڑنے کی بجائے بچایا صبح کو بچی کے رونے کے آوازوں سے کسان متوجہ ہوئے اور بچی تک پہنچے جو زندہ تھی اور اس پر کوئی خراش تک نہ تھی۔

    گاؤں والوں کے کا خیال تھا کہ مادہ کتیا نے رات بھر بچی کا حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے بعد ازاں گاؤں کے بزرگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بچی کو مکمل تندرست بھی قرار دیا ہے پولیس افسر اے ایس آئی چنتارام بنجاور اسے فوری طور پر مقامی ہسپتال لے گیا اور طبی معائنے کے بعد اس کا نام اکنکشا رکھا گیا-

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

  • دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    پانامہ کیس کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جس نے گاڈ فادر کے الفاظ نہ سنے ہوں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ گاڈ فادر کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

    وہ دس Lessonsجو ہر ایک انسان اس فلم سے سیکھ سکتا ہے۔ یہ دراصل وہ دس Lessonہیں جن کو سیکھ کر ہر ایک انسان اپنی زندگی میں ایک بدلاو لا سکتا ہے۔ دی گاڈ فادر، یہ فلم نہ صرف سنیما کا ایک شاہکار ہے بلکہ شاید اب تک کی سب سے بڑیfilm trilogyہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آج کے دن تک بھی لوگ دی گاڈ فادر کے نام سے بننے والی تینوں فلموں کو نہ صرف شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ بار بار دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان فلموں کو جب بھی کوئی انسان دیکھتا ہے تو وہ ہر باران سے ضرور کوئی نہ کوئی نیا سبق سیکھتا ہے۔ دراصل گاڈ فادر صرف ایک جرم یا مافیا پر بننے والی فلم نہیں ہے بلکہ اس میں CapitalismGreed Family betrayalاور بہت سے دوسرے موضوعات بھی ہیں جن کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن اگرآپ ان فلموں کو دیکھتے ہیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان سے بہت سی ایسی چیزیں سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو آپکی زندگی میں بہت فائدہ دیں گی۔ ان فلموں سے آپ power, leadership and overall success کے فارمولے جان سکتے ہیں۔ چاہے آپ سرمایہ کار ہیں، ایک چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں یا ملٹی بلین ڈالر کی بزنس کارپوریشن۔۔ آپ کے لئے یہ فلمیں بہت ہی فائدہ مند ہوں گی اور آپ لازمی ان سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک ایتھلیٹ ہیں یا کوچ ہیں تب بھی یہ آپ کے لئے فائدہ مند ہیں۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ ان فلموں میں Human natureکی وہDark sideدکھائی گئی ہے جس کا سامنا ہر ایک انسان کو اپنی زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر ضرور کرنا پڑتا ہے۔

    اس فلم سے ایک انسان جو سب سے پہلا سبق سیکھ سکتا ہے وہ یہ کہ اپنی قیادت پر زور دیں یعنی Assert your leadership
    کبھی بھی اپنے ماتحت لوگوں کو اپنے مخالف مت ہونے دیں۔جب FredoMulgreenکا دفاع کر رہا تھا تو وہ ایک طرف تو مائیکل کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہا تھا اور دوسرا اس کی بہت زیادہ بےعزتی کی وجہ بھی بنا تھا۔ جس کا اثر اس واقع میں ملوث تمام افراد پر ہوا۔ جس کا بعد میں Hymon rothنے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ اس لئے جب آپ کسی کو لیڈ کر رہے ہوں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے ماتحت جتنے بھی لوگ ہیں ان کی عزت ہو اور کبھی کسی Outsiderکو یہ شو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کی ٹیم میں کوئی کسی کو بے عزت کر سکتا ہے یا اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ آپ کی ٹیم متحد ہو گی تو ہی آپ کی قیادت کو لوگ تسلیم کریں گے لیکن اگر ٹیم میں ہی اختلافات ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی لیڈرشپ میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اس سے آپ کمزور ہوں گے جس کا کوئی بھی باہر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کوئی فیصلہ کریں تو اسے اپنی ٹیم کے ساتھ ڈسکس کریں اور کسی کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہے تو اس کو کلئیر کریں تاکہ پوری ٹیم متحد ہو اور ایک پیج پر ہو۔ آپ کی ٹیم میں سے کوئی بھی ممبرDisconnect
    نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا Lessonیہ ہے کہ Build Alliancesیعنی اپنے کسی بھی کام میں کامیابی کے لئے دوسروں کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ اس فلم میں ڈان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اپنا مقروض بنا کر رکھتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ الائنس بناتا تھا جو ضرورت پڑنے پر اس کوProtectکرسکیں اور اسے فائدہ پہنچا سکیں۔ اس کے نیٹ ورک میں ہر طرح کے لوگ تھے ایک مقامی سٹور چلانے والے سے لیکرملک کے طاقتور ترین لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کمیشن کے لوگوں کو نئے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے ویٹو کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے Virgil salazoکو صبح کے وقت اجازت کے لئے بھیجا یا تھا۔ اور ویٹو کی جو سب سے خاص خوبی تھی وہ یہ تھی کہ
    He was the man of his wordsوہ جو بھی الائنس بناتا تھا یا معاہدہ کرتا تھا اس میں وہ اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ ہر قیمت پر پورا ہو۔ اس کے علاوہ وہ Voilenceکو کبھی بھی ابتدائی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرتا تھا مطلب پہلے پہل آرام سے پیار محبت سے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ہی ہر ایک کام نکلوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور ہمیشہ ایسی ڈیل بنائی جاتی تھی کہ جس میں دونوں پارٹیوں کا فائدہ ہو۔ اب اگر آج کے دور میں ہم دیکھیں تو ہر ایک انسان کے لئے نیٹ ورکنگ بہت اہم ہے خاص طور پر کاروباری لوگوں کے لئے لیکن اس میں صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایسی ڈیل بنانی چاہیے جس میں دوسری پارٹی کو بھی فائدہ ہو اگر آپ دوسری پارٹی کا فائدہ سوچتے ہیں جس میں وقتی طور پر آپ کو کوئی خاص benefitنہ بھی ہو تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ ڈیل آپ کو کیسے فائدہ دے سکتی ہے۔ تب ہی آپ کی Deals and working relationsبھی لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ Understand Your Surroundingsیعنی اپنے ماحول کو سمجھیں کہ آپ کے آس پاس کیسے لوگ ہیں وہ کیا سوچتے ہیں۔ Corleone donsاس کام میں ماسٹر تھے۔ وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ وہ اپنے اردگرد کے ہر ایک شخص کا اچھی طرحanalyseکرتے تھے اوران کوسمجھتے تھے اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو یا ان لوگوں کو کہ جن سے آپ کا مقابلہ ہے انھیں سمجھتے ہوئے ایسا پلان بنا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں اور آپ ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور ایک بہت ہی اہم بات جو ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے وہ یہ کہNever Hate Your Enemiesہو سکتا ہے آُپ کو یہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا ہو لیکن ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ انسان کو کبھی اپنے دشمنوں سے بہت زیادہ نفرت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے آپ کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ آج کل جس طرح سے مقابلے کا دور ہے تو اس میں ضروری ہے کہ انسان بہت زیادہ حساس نہ ہو وہ ہر ایک چیز کو Personal attackکے طور پر نہ لے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو پسند کریں لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں اس میں اپنے Emotionsکو حاوی نہ ہونے دیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسے دشمنوں کا سامنے نہیں کرنا پڑتا جیسے دشمن Don vetoیا مائیکل کے تھے۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہم سب کو ایسے لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جو ہماری کامیابی کو برداشت نہیں کرسکتے تو ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینا چاہیے۔۔ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم جذباتی ہو کر کوئی فیصلہ کریں تو اس سے ہمیں وقتی satisfactionتو مل جائے لیکن اگر ہم اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے تو ہمیں کبھی بھی آگے چل کر اس پر پچھتانا نہیں پڑے گا۔

    اس کے علاوہHave the Right Teamجب بھی ٹیم بنائیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی ٹیم میں موجود تمام لوگوں کی خوبیوں، خامیوں اور کمزوریوں کا بہت اچھی طرح سے علم ہونا چاہیے۔ تب ہی آپ اپنی ٹیم میں موجود لوگوں کے
    Potentialکا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔Don vetoجانتا تھا کہ اس نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو مختلف حالات میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ اگر صرف Negociationکے لئے بھیجنا ہوتا تھا تو Tom Hegenکو بھیجا جاتا تھا۔ دوسری طرف ڈان یہ بھی جانتا تھا کہ Luca breziکا استعمال کب کرنا ہے۔ اس نے Tesseo and clamenzaجیسے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر رکھا تھا۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا کہ اہم عہدوں پر تعینات لوگ اپنے ماتحت لوگوں سے ان کی
    Skills and qualitiesکے حساب سے کام لیں تاکہ ہر ایک ٹیم ممبر میں موجود Potenial کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی ٹیم میں مختلف خوبیوں کے لوگ ہوں لیکن ساتھ ہی وہ سب اس قابل بھی ہوں کہ وہ ایک ساتھ کام کر سکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ Conceal Your Intentionsاپنے ارادوں کو کبھی کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور مائیکل اس کام میں بہت ماہر تھا۔ اس کے ارادوں کا صرف تب پتا چلتا تھا جب وہ ان پر عمل کرتا تھا۔ فلم دیکھنے والے آخر تک یہ ہی جاننے کی کوششوں میں ہوتے ہیں کہ مائیکل کیا سوچ رہا ہے۔ جبکہ Sonnyیہ اصول کبھی نہیں سیکھ سکا وہ ہمیشہ چیختا چلاتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کا ارادہ کیا ہے سوچیں کہ اگرمائیکل جنازے کے دوران Berziniپر چیخنا چلانا شروع کردیتا تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ مائیکل کے دماغ میں کیا ہےاور اس طرح وہ اپنے ارادے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے ارادوں کو صحیح وقت آنے پر ہی لوگوں پر ظاہرکریں کیونکہ اگر آپ وقت سے پہلے اپنے پلان دوسروں کو بتا دیں گے تو ایک طرف تو وہ آپ سے پہلے ہی اپنا کوئی بڑا پلان آپ کے مقابلے میں بنا سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹیں بھی کھڑی کر سکتے ہیں۔ آپ کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ایک اور بات جس کا بہت خیال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ کہ Never Be Carelessکبھی اپنے کام میں اپنے فیصلوں میں لاپرواہی مت کریں۔ جب ڈان اپنے ساتھی مائیکل کو ڈان بننے کی ٹریننگ دے رہا ہوتا ہے تو وہ اس ایک Lessonپر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ کبھی بھی لاپرواہ مت ہونا۔ کیونکہ Vetoنے اپنے اتنے سالوں کے تجربے میں یہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا کہ بہت بڑے بڑے ذہین اور طاقتور لوگ لاپرواہی میں کی گئی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے برباد ہو گئے تھے۔ ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ بعض اوقات انسان لاپرواہ ہو جاتا ہے لیکن پھر مستقبل میں اس عادت کی وجہ سے آپ کو پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جو ہمیں ایک وقت پر بہت ہی کم اہم اور معمولی لگ رہی ہوتی ہیں اگر ہم ان سے لاپرواہی برتیں تو وہ ہماری بربادی کی وجہ بنتی ہیں۔

    ایک اور چیز جو ہم ان فلموں سے سیکھ سکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے سامنے والے کو ہمیشہ ایسی آفر کریں کہ وہ انکار نہ کر سکے۔Make Them An Offer They Can’t Refuseاس فلم میں Vitoہمیشہ اس اصول پر کام کرتا تھا۔ اور ایسی آفر کرنے کے لئے وہ اپنے مقابل لوگوں کو پہلے اچھی طرح سمجھتا تھا ان کی ضرورتوں کے بارے میں جانتا تھا۔ انھیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے اور کیا چیز نا پسند ہے۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آفر کرتا تھا جس کے بارے میں پھر اس کو پتا ہوتا تھا کہ ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر موجود لوگ اس کی آفر کو کبھی ریجیکٹ نہیں کریں گے۔ ویسے مافیا باس ہونے کی وجہ سے اکثر
    Vitoاس کام کے لئے تشدد کا استعمال بھی کرتا تھا۔ لیکن عام زندگی میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ دوسری پارٹی کو ایک اچھی آفر دے کر بھی ساتھ ملا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں خود ہمیشہ کم بولیں اور دوسروں کو زیادہ سنیں۔Listen More Than You Talkجب آپ کسی کو سن رہے ہوتے ہیں تو ایک تو آپ اس کی باتوں سے انفارمیشن لے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی Body languageسے بھی آپ کو بہت کچھ سمجھنے کو ملتا ہے لیکن اگر آپ کسی کو سنن کی بجائے خود بولنا شروع کر دیتے ہیں اور خود زیادہ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے انفارمیشنRecieveکرنے کی بجائے ان کو انفارمیشن Provideکر رہے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی ڈیل کے لئے Negotiate
    کرنا ہو تو دوسروں کو زیادہ بولنے دیں تاکہ آپ کو ان کے ارادوں کا علم ہو سکے جس سے آپ کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔یک آخری اورسب سے اہم Lessonیہ ہے کہ Greatness is BuiltVitoپیدا ہوا تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک وقت آیا کہ اس کے پاس جو کچھ تھا وہ اس سے چھین لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے سیکھنا تھا اور سب کچھ دوبارہ بنانا تھا۔ ایسی صورتحال میں اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا حالانکہ یہ ایک آسان آپشن تھی۔ لیکن اس نے مشکل راستے کا انتخاب کیا اور اپنے آپ کوخود بڑا بنایا۔ اگر ہم انسانی تاریخ بھی دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی Greatnessکے ساتھ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ انھوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسی Legacyبانئی کہ جسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک یاد رکھا جا سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تمام لوگوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ کبھی سست نہیں پڑتے تھے اپنے حالات کے بارے میں شکایت نہیں کرتے تھے۔ بلکہ حالات سے سیکھ کر ایمانداری سے فیصلے کرتے ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔یہ وہ دس Lessonہیں جو ہم ان فلموں سے سیکھ کر اپنے زندگیوں پر اپلائی کر سکتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بہتر طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔