Baaghi TV

Category: متفرق

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.

  • جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    پچھلی چند دہائیوں سے جنسی جرائم کے ارتکاب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنسی جرائم جیسے خطرناک فعل میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے ۔جن کے براہ راست اثرات خواتین اور بچوں پر ہیں ۔معاشرے کے ہر فرد بالخصوص خواتین اور بچوں میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے کہ کسی بھی وقت اُنھیں جنسی حملے کا شکار بنا یا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے ذہن میں ایک خوف طاری رہتا ہے ۔اور اُسے معمول کا جرم ماننے لگے ہیں حلانکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے ۔جسکی زندہ مثال رواں ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں چار سالہ مریم کا قتل ہے ۔پولیس کو معصو م بچی کی گردن کٹی لاش ملی اور وقوعہ کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی جنسی درندے نے یہ حرکت کی ہوگی مگر بعدمیں پولیس کے تفتیش کی بدولت معلوم ہوا کہ قتل کا محرک کچھ اور تھا اور چار سالہ معصوم مریم کا قاتل بچی کا باپ ہی نکلا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ایسے واقعات کو عوام فوراً کسی جنسی حملہ یا جنسی تشدد کے فعل کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں کیوں کہ عوام کے ذہن میں یہ ایک تصور رچ بس چکی ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تشدد ،جنسی حملہ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ۔

    جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو "جانور ” وحشی درندہ "جیسے مقبول عرف سے پکارا جاتا ہے حالانکہ معاملہ کی نوعیت اِس کہیں بڑھ کر ہے لیکن اِس قسم کے واقعات کے تناسب میں بڑھتی ہوئی تعداد اور آئے روز میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وجہ سے ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ تا ثر دیا جاتا ہے کہ دیگر جرائم کی طرح یہ بھی ایک عام جرم ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں سال 2018ء میں 4326سال 2019ء میں 4377سال 2020ء میں 3887اور سال 2021ء میں 1866زنا بالجبر کے مقدمات رجسٹرد ہوئے ۔یہ اعدادو شمار نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کئے گئے اور وزارت انسانی حقوق نے پارلیمنٹ آف پاکستان میں پیش کیے۔ یعنی گزشتہ چار سالوں میں کل ملا کر 14456ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ اُن تمام واقعات کا کل ملا کر نصف حصہ بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں اِس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں ایک خاتون کی مستقبل ، عزت ،غیرت وغیرہ وغیرہ جیسے سوچ ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسگی کے رجسٹر  شدہ واقعات کی تعداد 16153ہے حلانکہ یہ تعداد اُ ن تمام واقعات کا ایک چوتھا ئی حصہ بھی نہیں جو گزشتہ چار سال کے دوران رونما ہو چکے ہیں ۔ بیشتر خواتین اِس قسم کے واقعات معاشرے  میں خاندان کی عزت کی پامالی، معاشی مسائل ، پولیس کا منفی رویہ کی وجہ سے بیان کرنے یا رجسٹر کرنے سے کتراتے ہیں ۔
    کام کی جگہ پر ہراسگی کے روک تھام کے لیے سال 2010ء میں قانون متعارف کرایا گیا اور سال 2020ء میں اسے مزید فعال بنانے کی خاطر ترامیم کی گئی ۔مگر تا حال اس سے کسی قسم کی کامیابی نہ مل سکی جس کی سب سے بڑی وجہ ایسے قوانین کو عام لوگوں سے دور رکھنا ہے۔ قانونی اصطلاحات اتنی پیچیدہ رکھی گئی ہے۔کہ عام خواتین کی سمجھ سے بالاتر ہیں ۔دوسری بڑی وجہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ معاشرے میں بدنامی کاڈر ،پولیس کا خواتین کے ساتھ منفی برتاؤ وغیرہ جیسی وجوہات کی وجہ سے اپنے مسائل کو بیان کرنے سےکتراتی ہیں۔

    ایک جاننے والی خاتون جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں آئے روز ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زبانی فقرہ بازی ،اشارہ بازی سے لےکر بسا اوقات جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔مذکورہ خاتون کا مؤقف تھا کہ اگر یہ واقعہ خاندان کے کسی فرد کو بتاؤں گی تو یا تو وہ کام کرنے سے منع کریں گے یا دفتر کے مرد اہلکاروں سے لڑائی  جھگڑے کی نوبت آسکتی تھی۔ بدیں وجہ اپنے آپ کو یہ مسئلہ بیان کرنے سے روکی مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو پولیس میں شکایت درج کرائی جو بعد میں علاقہ عمائدین کی کوششوں سے صلح کے ذریعے مسئلہ وقتی طور پر ختم ہوا مگر اس کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنی طرف اٹھنے والی تمام نظروں کو مشکوک سمجھتی ہوں۔

    یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔خیرپختونخوا ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ضلع دیر لوئر میں چند ماہ قبل ایک خاتون نے سول جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مقامی پولیس کو دیکر جس پر باقاعدہ سول جج کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر بعد میں مدعیہ اپنی ابتدائی بیان سے مکر کر بیان کیا کہ یہ تو مقامی پولیس نے مجھے ورغلا پھسلا کر جج صاحب کے خؒاف شکایت درج کرانے کا کہا۔یہاں غلطی جس کی بھی ہومگر جھوٹ پر مبنی ایسے الزامات کسی کی بھی پیشہ ورانہ زندگی ،معاشی و معاشرتی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

    زنا بالجبر ،جنسی ہراسانی کے علاوہ ایک اور اخلاقی برائی جو ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے وہ Paedophilia ہے۔یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے کئی وجوہات ہے،جن میں سرفہرست وجہ یہ ہے کہ اس میں مبتلا افراد بچپن میں کسی قسم کے استحصال (خواہ والدین کی توجہ ،اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد،معاشی احساسی کمتری وغیرہ)کا شکار ہوا ہوتاہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کئی مہینوں سے جنسی Fantasy میں رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر  ایسا شخص سراب خیالی میں کسی اداکارہ ،جاننے والی عورت کے ساتھ جنسی عمل کر رہا ہوتا ہے مگر بعد میں وہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کسی کمزور فرد بالخصوص بچہ/بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اس ہیجان میں مبتلا شخص کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے اور تمام مشکلات کا سامنا کرنے کی بناء پر وہ تصور کر لیتا ہے کہ تمام مسائل کا جڑ یہی ایک عمل ہے اور آسانی سے نشانہ بننے والے بچے /بچیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔عام طور پر قریبی رشتہ دار ، ہمسائے  ایسے شخص کی درندگی کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔اور بعض اوقات بچے ڈر کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جو بعد میں معمول بن جاتا ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر بچہ/ بچی اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی ، تشدد کا شکار ہوا ہوتا ہے مگر بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ کم کمیونیکیشن  اور خوف کی وجہ سے ایسے واقعات وہ بیان نہیں کر سکتے ۔خواتین اور بچوں کے علاوہ مرد بھی ایسے ہراسگی ،جنسی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جن کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہو مگر اُسکی تعداد کافی کم ہے۔ یہ عمل عمر، رنگت ،مذہب اور معاشرتی رُتبے کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کے موافق حالات  دیکھے جاتے ہیں۔چلتی شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے اولے موٹروے کیس اس نوعیت کا پہلا وقوعہ تھا مگر اس کے بعد ابھی ابھی ایک خاتون کی چلتی ریل گاڑی میں اجتماعی زیادتی  کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔

    جنسی درندگی کے مجرمان کو عام طور پر "اکیلے پن سے شکار ، دماغی امراض میں مبتلا ،پاگل ،دیوانہ”وغیرہ جیسے ناموں سے منسوب کیا جاتاہے۔حالانکہ یہ بات کسی  حد تک درست ہے مگر رجسٹرشدہ شکایات میں نامزد ملزمان کی ہسٹری اُٹھا کر دیکھی جائے تو تقریباً  تمام افراد ذہنی  طور پر درست ہوتے ہیں اور قبل ازیں  بھی کسی بڑے جرم میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں  ۔ایسے واقعات میں آئے روز اضافے کی وجوہات  میں سب سے بڑی وجہ جسٹس سسٹم کی ناکامی ، قوانین پر من وعن عمل درآمد نہ کرنا ۔سزاؤں کی کمی ،جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی علاج کی عدم فراہمی جیسے اسباب ہیں۔تقریباً 2 سال قبل خیبر پختونخوا میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو ایک ماہ کے اندر عدالت سے ضمانت مل گئی۔جو ہمارے  تفتیش کے معیار اور جسٹس سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے عوام با لخصوص خواتین اور بچوں میں سرکاری  سطح پر منظم آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ سکول ،کالجز ،یونیورسٹیز میں سیمینار منعقد کراکر  خواتین ،بچوں کو یہ باور کرایا جائے  اگر کسی کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بلا جھجک پولیس ،خاندان کے کسی بڑے کو شکایات بیان کر کے کیوں کہ ایسے واقعات کو چھپانا مستقبل میں اُن کی ناکامی کی موجب بن سکتی ہے۔

    پولیس کو تفتیش بہتر بنانے ،عوام  با لحصوص خواتین کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کے لیے جدید خطوط پر استوار  ورکشاپس سرکاری سر پرستی میں منعقد کرائے جائیں ۔حال ہی میں پاس ہونے والے اینٹی ریپ(انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ) ایکٹ 2021 کو پوری طرح نافذ العمل کرنے اور خواتین کے خفاظت کے لیے عملی اقدامات اٹھانا  ناگزیرہے ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئےفرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔قوانین کو عام عوام تک پہنچانے ، عام فہم زبان میں شائع کرنے کے عملی اقدامات اُٹھانا  ضروری ہے ۔والدین اور بچوں کے درمیان دوستا نہ تعلقات ہو جو بلا جھجک والدین کو اپنے مسائل بیان کر سکے ۔بچوں پر نگرانی ، غیر افراد پر اعتماد کو کسی حد تک کم کرکے والدین اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں ۔ایسے مقدمات میں بہتر تفتیش کو یقینی بنانا ۔عدالتوں کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں اور جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی تربیت کرکے ہی ایسے افعال ، جرائم کا خا تمہ ممکن ہے ۔

  • کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    آغاز تحریر کروں گا اس دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مفہوم سے جو اسلام کی سربلندی کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

    دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مفہوم!

    "اے رب عمر بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے ایک عمر دیدے۔”

    اور اللہ کو پسند آئے عمر بن خطاب رض اور عمر رض کو پسند آیا رب کی توحید والا دین اور عمر رض بنے توحید اور ختم نبوت کی ڈھال۔

    آج بس عمر رض بن جاؤ۔

    وہی عمر رض

    "جس کو اسلام کی سربلندی کی خاطر امت میں پانے کی دعا نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کی تھی۔”

    وہی عمر رض جس نے بوقت ہجرت للکارا تھا کہ

    "جس کو خواہش ہو کہ اس کی اولاد یتیم اور بیویاں, بیوہ ہوجائیں تو وہ آگے بڑھے اور عمر کا راستہ روکے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی موجودگی پر شیطان کا دم گھٹتا اور جسم خوف سے تھر تھر کانپتا تھا کہ راستہ بدلنے میں عافیت جانے۔”

    وہی عمر رض

    "جو کالی اندھیری راتوں کو بطور خلیفہ وقت مدینے کی گلیوں میں گشت کرتا اور سفید پوش فاقہ کشوں کے رزق کا بندوبست کرتا زمین پر اللہ کی جانب سے مخلوق کی کفالت پر معمور رہتے ہوئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو نبوت پر معبوث ہونے کی بشارت خود آخری نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔”

    وہی عمر رض

    "جن کے عدل اور انصاف کی یہ مثل تھی کہ ایک منافق مسلمان کی گردن کندھے سے جدا کردی ایک یہودی کے حق میں نبوی ص فیصلے, صدیقی رض فیصلے اور توہین رسالت کے ارتکاب کو پا کر۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی اطاعت میں سیف اللہ خالد بن ولید رض معزول ہوکر مسجد میں ڈانٹ سنتے رہے اور اف تک نہ کی۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی ہیبت سے قیصر و کسری کے دربار لرز جاتے تھے۔”

    وہی عمر رض

    "جس نے فتح بیت المقدس کے بعد فلسطین کا سفر ایک خادم اور اونٹ کے ساتھ ایسے شروع کیا کہ سواری کی باری باندھ لی اور جب سواری یروشلم میں داخل ہوئی تو اونٹ کی مہار خلیفہ وقت کے ہاتھ اور خادم اونٹ پر سوار دیکھ کر دشمن محو حیرت ہوگئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے قبول اسلام نے ابتدائی مسلمانوں کو بیت اللہ میں بلا خوف وخطر جانے کا راستہ دیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے پڑھائے ہوئے جنگی, امور حکومت اور شہری نظامت کے اسباق آج جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک کے آئین میں الگ الگ ناموں سے موجود ہے پر ہم اسے "عمر لاء” کے نام سے جانتے ہیں۔”

    وہی عمر رض

    "جو 22 لاکھ مربع میل کا اکلوتا حاکم وقت لیکن 22 بائیس پیوند لگے کرتے میں رہنے والا سادہ اور عاجز حکمران۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو بھری محفل میں اضافی کپڑے کا سوال کیا گیا اور اس عمر رض کے ماتھے پر شکن بھی نہ آئی اور جواب دیکر امت کو مطمئن کیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کا ذکر آج بھی شیاطین کی موت کے برابر ہے۔”

    جی ہاں یہ ہے وہ عمر رض اور ایسا تھے وہ عمر رض اور ایسے ہی عمر رض بننا ہے ہمیں۔

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”