Baaghi TV

Category: متفرق

  • ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    ختم نبوت, مہر نبوت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت!!! — بلال شوکت آزاد

    میرا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ جیسی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو میسر تھی اس کا چوتھا حصہ بھی اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو میسر ہوتا تو شاید وہ ہی آخری نبی ہوتے۔

    لیکن ان کو محض چند ہی صحابی میسر ہوئے جو کافی کمزور اور بے بس بھی تھے اسی لیے حضرت عیسی علیہ السلام پر نبوت ختم نہ ہوئی جبکہ بہت سی آفاقی و الہامی باتوں و پیش گوئیوں کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایسی جماعت میسر ہونا جو ان کی زندگی اور بعد از زندگی اسلام کی ترویج, ترغیب اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کی حفاظت کا ذمہ بھرپور انداز میں لے سکیں, بھی ختم نبوت کی ایک بڑی اور عظیم نشانی ہے۔ ۔ ۔

    مزید یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک کسی نبی کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جماعت میسر نا ہونا بھی مشیت ایزدی اور نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کی عظیم نشانی اور گواہی ہے۔

    ایک اور بات کہ چلو بہت بڑی جماعت نہ بھی میسر ہوتی چلو عشرہ مبشرہ جیسے صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے یا یہ بھی نہ صحیح تو چلو خلفائے راشدین سے چار صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی میسر ہوتے تو منظر قدرے مختلف ہوتا حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت, شریعت اور امت کا۔

    لیکن اللہ نے جو جو اور جیسا جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہونا تھا سو ہوا اور دنیا کو حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تو ملے ہی ملے لیکن ان کے ساتھ بونس میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بلخصوص حصرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ملے اور یہ سلسلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت زید ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ, حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمرو ابن عاس رض اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے دراز اور چمکدار ہوگیا۔

    صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل بزبان نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مہر بجانب اللہ کہ

    "میں ان سے راضی ہوگیا”,

    میری بات یا قیاس کو تقویت دیتے ہیں کہ بیشک صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ختم نبوت, مہر نبوت اور دین محمدی کی تکمیل کا ایک اہم اور لازمی جزو اور باب ہیں۔

    یعنی قصہ مختصر یہ کہ میرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ہر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ دراصل ختم نبوت پر مہر تصدیق اور قیامت تک پہریدار ہے۔

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    ہر خاص و عام کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ کبھی وہ بھی شمع محفل بنے اور حاضرین محفل اس کے گرد پروانوں کی طرح پھریں. لیکن

    ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے ارمان میرے مگر پھر بھی کم نکلے

    مشہور ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو پاک فوج میں آفیسر بھرتی ہو جائیں لیکن یہ بھی کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے.قربان جاؤں میں اس رب پر جس نے دنیا میں ہی بندے کے شمع محفل بننے اور جنت کی خواہش پوری کر دی اور اس کے لئے مملکت خداداد سسرائیل تخلیق کی.

    اس مملکت میں تمام اختیارات آئینی طور پر صدر (سسر) کے پاس ہوتے ہیں. لیکن اختیارات کا منبع وزیراعظم (ساس) ہوتی ہے.. وزارت خزانہ (صرف کمانے کی حد تک) اور دفاع (خاندانی لڑائیاں) بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے.

    وزرات اطلاعات و نشریات (غیبت) بیٹیوں کے سپرد ہوتی ہے. وزارت محنت وافرادی قوت (گھر کے کام کاج اور خاندان میں اضافہ) بہوؤں کے سپرد ہوتی ہے.اس کے علاوہ تمام وزارتوں کا ایڈیشنل چارج بھی وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے. جن کو چلانے میں بیٹیاں، بہنیں،سہیلیاں اور دیگر لامحدود عورتیں ان کی معاونت کرتیں ہیں.

    اس مملکت میں دوہرا معیار ہوتا ہے.. دامادوں کی زن مریدی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور بیٹوں کو زن مریدی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا اور شریعت میں والدین کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے.

    اس مملکت کی دشمن مملکت کا نام بھی سسرائیل (بیٹوں کا سسرال اور داماد کے علاوہ بیٹی کا تمام سسرال) ہوتا ہے. اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان شدید لفظی گولہ باری اور کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے.

    اس مملکت کی نیشنیلٹی آپ کو کڑی جانچ پڑتال (سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک)،لامحدود سوالوں، کام (نوکری یا بزنس) اور خفیہ کیریکٹر رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے. اور نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لئے آپ کو وہ لڈو کھانا پڑتا ہے جو کھائیں تب بھی پچھتائیں اور نہ کھائیں تب بھی پچھتائیں.

    کیونکہ یہ ارضی جنت عارضی ہوتی ہے تو اس میں سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں اس میں مثل حور صرف بیگم اور انواع اقسام کے کھانوں کی جگہ دستیاب بجٹ میں بہترین کھانا ہوتا ہے اور مشروب کے طور پر مشروب مشرق دستیاب ہوتا ہے.

    اور کام کاج کے لئے وزیر اعظم (ساس) افراد خانہ میں سے منتخب افراد کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے..الغرض مملکت خداداد سسرائیل کے مقیم اپنے مہمان (داماد) کو اس ارضی جنت میں ہر ممکن راحت اور سکون فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    اس جنت سے بے دخلی بھی کسی شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ (اپنی بیگم کے علاوہ تمام عورتیں) کے حصول کی کوششوں یا حصول کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے.

    جب آپ اس ارضی جنت میں داخل ہوتے ہیں تو واپس آنے کے بعد بھی کئی دن اس جنت کے خمار میں مبتلا رہتے ہیں..ویسے سالیاں ہونے کی صورت میں اس جنت میں آپ کے کئی شریک(دوسرے داماد) بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں جنت میں سے اپنے حصے کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے اس وقت جائیں جب کوئی شریک وہاں نہ ہو.

    اس جنت میں آپ کو ایکسٹرا پروٹوکول بھی مل سکتا ہے. پر اس کے لئے آپ کو اپنی بیگم کی ساس اور نندوں کی وہ برائیاں انتہائی دلجوئی سے سننا پڑیں گی جن سے آپ اپنی پوری زندگی ناواقف رہے. البتہ یہ خیال رہے کہ کوئی آپ کی ماں بہنوں کو برا نہ کہے. بیوی کے رشتہ داروں (ساس، نندوں ) سے آپ کو کیا لگے.

    اس جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس میں عارضی (کم سے کم دن کا ) قیام کریں. مستقل قیام کی صورت میں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے اور وہ محاورہ سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ

    بہن کے گھر میں بھائی. اور ساس کے گھر میں جوائی…..

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!!  — بلال شوکت آزاد

    عمر رض, ایوبی, جناح اور پاکستانی پاسپورٹ!!! — بلال شوکت آزاد

    اچھا آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عشق تو کسی تعارف اور تفصیل کا محتاج ہی نہیں پر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جن تین لوگوں سے مجھے اللہ واسطے کی محبت اور عقیدت ہے وہ حضرت عمر رض, حضرت یوسف صلاح الدین ایوبی رح اور حضرت محمد علی جناح رح ہیں۔

    ان تینوں میں کچھ باتیں قدرے مشترک ہیں۔

    —اصول پرست تھے۔

    —انصاف پسند تھے۔

    —اپنے عقائد میں مستحکم اور متشدد تھے۔

    —اسلام کو ہی دنیا و آخرت کی ہر کامیابی کا ذریعہ سمجھتے اور مانتے تھے۔

    —مسلمانوں کو ایک مرکز پر, ایک نظریہ پر اور ایک فکر پر مجتمع کرنے کے لیئے فکرمند تھے۔

    —آزادی اور حریت کے پاسبان تھے۔

    —کرپشن اور کرپٹ ذمہ افراد سے سخت متنفر تھے۔

    —جھوٹ اور جھوٹے سے متنفر تھے۔

    —غیر مسلموں کی ناک پر لڑے ہوئے تھے۔

    —بہترین منتظم تھے۔

    —امن پسند مگر جنگجو طبیعت کے حامل تھے۔

    —دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست تھے۔

    —اللہ, رسول اللہ ص اور خود سے کمیٹڈ تھے۔

    —اسلام کے محافظ اور پشتیبان تھے۔

    —اللہ نے ان تینوں سے امت مسلمہ کے حق میں خیر کے کام لیئے اور ان کو امت کی رہنمائی کا موقع دیا۔

    —ان تینوں کا نام دوست تو دوست دشمن بھی آج تک عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

    —مسلمانوں کی امیدوں کے چراغ تھے۔

    —اللہ کے مقرب تھے تبھی انہیں آج بھی ہم یاد کرتے ہیں۔

    اور سب سے بڑی بات کہ

    —فلسطین پر, ارض مقدس پر ان تینوں کا ایک ہی موقف تھا۔ جناح کو مہلت کم ملی ورنہ وہ فلسطین کو بھی آزاد کروانے کی اہلیت رکھتے تھے اور وہ ضرور نکل کھڑے ہوتے دیگر دو کی طرح پر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    خیر عمر رض اور صلاح الدین ایوبی دونوں ہی فاتح بیت المقدس ہیں جبکہ جناح وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرکے ہمیشہ کے لیئے اسرائیلی کو لعنتی اور ناپسندیدہ رہنے دیا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

    عمر رض اور ایوبی کی فتح بیت المقدس کی یادیں تبھی زندہ و جاوید ہم تک پہنچ سکیں کے جناح نے پاکستان بنایا جہاں ہم آزادی سے اپنا آپ کھوج سکتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ جناح آنے والی نسلوں کو باور کروانے کے لیئے کہ فلسطین ہماری گمشدہ میراث ہے جو ہم نے واپس لینی ہے, وہ ہمارے پاسپورٹ پر لکھوا گئے کہ

    "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ہر ملک کے لیئے کارآمد ہے۔”

    عالم اسلام کو آج ان تینوں کی یا ان میں سے کسی ایک کی ہی ضرورت ہے۔

    اللہ ان تینوں ولیوں کی قبور کو منور اور ٹھنڈا رکھے اور کروٹ کروٹ جنت کے نظارے کروائے اور روز قیامت ہمیں انہی کے ساتھ اٹھائے۔

  • خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    اللّہ کریم قرآن مجید میں فرماتے ھیں کہ اے میرے بندوں بیشک تمہیں آزمایا جائے گا مال دے کر آولاد دے کر اور حاکمیت یا اختیار دے کر اب جب اللّہ کریم اپنے کسی بھی بندے کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ھے تو یہاں سے اس بندے کی آزمائش شروع ھوتی ھے۔

    اللّہ کریم آزمائش اس طریقے سے لیتا ھے کہ آپ کو اور نوازتا جاتا ہے اور آپ کے اختیارات میں اور اصافہ کرتا جاتا ہے لیکن یہاں یہی پنج وقتہ نمازی اور بڑے اہتمام سے اپنے آپ کو حاجی صاحب، صوفی صاحب کہلوانے والے صدقہ و خیرات دینے والے سخی حضرات اور حقوق اللّہ کو پورے اھتمام کے ساتھ ادا کرنے والوں کو جب حقوق العباد پورے کرنے کی باری آئے تو مختلف حیلے بہانوں سے بات کرتے نظر آئیں گے کہ ھم نے کاروبار چلانا ھے.

    اور کاروبار چلانے میں جس قانون و ضوابط کو بھی بالا طاق رکھنا پڑے رکھ لیں گے تو یہاں آکر یہ اللّہ کریم کے بندوں کے خدا بننا شروع ھو جاتے ھیں اور لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں اور مجبور بے روزگار ان جیسوں کے ھاتھوں اپنی مجبوریوں کا اونے پونے داموں سودا کرتے ھیں کیونکہ سلسلہ حیات بھی تو چلانا ھے کسی نا کسی طرح چاھے اس کے لیئے آپ کو اپنا آپ کو گروی ھی کیوں نہ رکھنا پڑے (یہاں میں ایک تصیح کرتا جاؤں کہ سبھی کاروباری حضرات اور اختیارات کے حامل لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ بہت سے اللّہ کریم کے بندے حقوق اللّہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی پورے اھتمام سے ادا کرتے ہیں).

    اب ھمارے معاشرے میں ھمارے ملک میں بہت سے شعبہ ھائے زندگی میں کاروبار اور ادارے چل رھے ھیں تو ان میں سے ایک ریسٹورنٹ انڈسٹری ھے اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بھی آگے بہت سے سیکٹرز میں تقسیم ھے اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ بھی ریسٹورنٹ انڈسٹری کے اندر آتے ہیں اب آگے جو انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ھیں وہ کسی نا کسی طریقے سے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنی کمپنی میں لاگو کرتے ھیں.

    لیکن جو ریسٹورنٹ مقامی طور پر کام کرتے ہیں لگتا ہے گورنمنٹ نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے رھیں اور گورنمنٹ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بیٹھی ھوئی کالی بھیڑیں ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے قانون و ضوابط کی کھلم کھلا کھلاف ورزی پر کچھ لے اور کچھ دے کر مک مکا کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ جس طرح مرضی چاھیے بنیادی انسانی حقوق اور گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر استعمال کر سکیں.

    اب جیسا کہ میرا تعلق ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ھے اور میں پچھلے سات سے آٹھ سال سے اس انڈسٹری سے وابستہ ھوں اور اس دوران مختلف انٹرنیشنل اور مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ہوں اس دوران بہت سے معاملات نظروں سے گزرے اور اپنے سامنے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے ھوئے دیکھتا رہا لیکن باامر مجبوری یا آپ اس کو جو بھی نام دینا چاہیں دے لیں خاموش رھے لیکن اب اس پلیٹ فارم جس کا نام ھی باغی بلاگرز ھے اپنے تائیں اور نا سہی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آواز تو بلند کر ھی سکتے ہیں.

    جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں انٹرنیشنل و مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ھوں اس دوران انٹرنیشنل ریسٹورنٹ تو کسی نہ کسی طرح گورنمنٹ کے قانون و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے پایا مکمل نہ سہی لیکن کسی حد تک لیکن جتنے بھی مقامی ریسٹورنٹ میں کام کا تجربہ ھوا اس میں مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ گورنمنٹ کے اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پائے گئے جیسا کہ مقامی ریسٹورنٹ میں ملازم کی سیلری اور کام کے اوقات گورنمنٹ کے طے شدہ قوانین کے مکمل الٹ ھیں.

    اور اور تو اور ان کو تنخواہیں گھنٹوں کے حساب سے دی جارھی ھیں اور وھاں استحصال ھی استحصال ھو رھا ھے ملازمین سے8 گھنٹے کے تیرہ سے چودہ ھزار دس گھنٹے کے پندرہ سے سے سولہ ھزار اور بارہ گھنٹے کے صرف اٹھارہ سے بیس ھزار تنخواہیں دے رھے ھیں حالانکہ ان کی روزانہ کی سیل ایوریج بھی لاکھوں میں ھوتی ھے اور یہ ریسٹورنٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں ھوتے ھیں.

    مطلب کوئی ٹیکس بھی نہیں دیتے اور لیبر انسپکٹر صرف دکھاوے کے طور پر انسپکشن کر کے اپنی جیب گرم کروا کر ستو پی کر سبھ اچھا ہے کی رپورٹ دے کر سو رھے ھے وھاں کوئی سوشل سیکورٹی والہ کوئی ای او بی آئی والہ کوئی پوچھنے والہ نہیں آتا کوئی میڈیکل کی سہولت نہیں اور جب ان کا دل کرے یہ کھڑے کھڑے کسی بھی ملازم کو جوب سے نکال دیتےہیں.

    مطلب مجبوریوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ کوئی جاب سیکورٹی بھی نہیں اور جو تنخواہیں دیتے ھیں وہ بھی کیش میں دیتے ہیں تاکہ کوئی ریکارڈ بھی نہ رھے کیونکہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے مقامی انتظامیہ کی پہلے ھی مٹھی گرم کی ھوتی ھے اور یہ لوگوں کی مجبوریوں سے کھلواڑ کر کے اپنے آپ میں ھی اللّہ کے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.

  • روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔

    روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔

    روجھان : کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں نے ضلع راجن پور میں تباہی مچادی۔
    باغی ٹی وی (روجھان سے ضامن حسین بکھرکی رپورٹ) روجھان کے ٹرائبل ایریامیں بھی شدید طوفانی بارشوں سے کوہ سلیمان بلوچستان سے ملحقہ تحصیل روجھان کے علاقوں میں بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے زنگی نالہ میں رودکوہی کے سیلابی ریلے سے ٹرائبل ایریا اور میدانی اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے

    اور وہاں پر زیر کاشت کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں اور علاقے میں نقصانات کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں زنگی نالہ میں طغیانی سے متعدد مواضات کے دیہات زیر آب آنے سے عوام کو شدید تکلیف اور مشکلات کا سامناکرناپڑ رہا ہے ، ذرائع کاکہنا ہے کہ بلوچستان سے ملحقہ تحصیل روجھان کے پہاڑی علاقوں کا تو لیڑیں ذاموڑاں، شیخ والہ، باڑا، بھنڈو والہ، اوزمان، جھترو، مغل، دلبر، مٹ واہ میں بارشوں نے تباہی مچا دی جس سے کسانوں کی کھڑی فصلوں کونقصان پہنچاشدیدنقصان پہنچا۔

    ڈپٹی کمشنر راجن پور جمیل احمد جمیل کے حکم اور اسسٹنٹ کمشنر روجھان ذیشان شریف قیصرانی کی ہدایت پر تحصیل دار روجھان ملک مصطفی کریم کھر ریونیو عملہ کے ہمراہ زنگی نالہ کے سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور رودکوہی کے سیلابی گزرگاہوں کا اور علاقے میں نقصانات کا بھی جائزہ لیا اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے بھی ملے سیلابی ریلے سے متاثر لوگوں نے کہا کہ روجھان کے جن مواضعات میں سیلابی صورتحال ہے وہاں پر ابھی تک کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں علاقائی لوگوں کا کہنا تھا کہ روجھان کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں حالیہ شدید طوفان بارشوں کے باعث لوگوں کاکافی نقصان ہوا ہے علاقے کو آفت ذدہ قرار دے کر متاثرین کی داد رسی کی جائے اور امدای کارروائیوں کا آغاز کیا جائے تاکہ متاثرہ علاقوں کے عوام کی دل جوئی ہو سکے۔