Baaghi TV

Category: متفرق

  • خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے ایسا اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے نے دس ارب ڈالر لگا کر دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی خلائی دوربین بنا کر اس کو خلا میں ایک اہم مشن پر روانہ کیا ہے۔ اس دوربین کا نام
    James Webb Space Telescopeرکھا گیا ہے۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان تینوں اداروں میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 30سال کاعرصہ لگا ہے اور اسے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اسپیس ٹیلی سکوپ orbitمیں اب تک بھیجے جانے والے سب سے بڑے فلکیاتی آئینے کا استعمال کرے گی جس کا قطر ساڑھے چھ میٹر ہے۔ اور دوربین کا یہ مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حساس ترین کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ اس کا وزن چودہ ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ فلکیاتی آئینہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل طور پر کھلنے میں دو ہفتے تک کا وقت لگے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی جو زمین کے چاند سے فاصلے سے بھی چار گنا زیادہ ہے۔

    اس ٹیلی سکوپ کو French Guianaمیں یورپین اسپیس ایجنسی کے بیس سے صبح 7:30 بجے زمین سے چھوڑا گیا ہے جو
    Ariane 5 rocketسے لیس ہے۔ خلا تک پہنچنے کے لیے جیمز ویب نے پہلے ستائیس منٹ کی ایک طویل فلائٹ کی جو ایک کنٹرولڈ دھماکے جیسی تھی۔ جس کے بعد یہ راکٹ سے الگ ہو گئی۔ لیکن اصل کام اس کے راکٹ سے الگ ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ کیونکہ اس دوربین کو بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ راکٹ سے الگ ہونے کے بعد اس دوربین کو 344
    ایسے کڑے لمحات سے گزرنا ہو گا جو اس کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور یہ ہی اس مشن میں کھیلے جانے والا اصل جوا ہے کیونکہ اگر ان لمحات میں سے کسی ایک میں بھی کوئی معمولی سی غلطی بھی ہوئی تو سمجھو کہ کھیل ختم۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سائنسدانوں کو اتنا پیسہ لگا کر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی کیا ضروت تھی؟دراصل اس دوربین سے پہلے ناسا نے1990میں Habal telescopeکو خلا میں بھیجا تھا۔ اور ہبل دنیا کی وہ پہلی ٹیلی سکوپ تھی جس کو خلاء میں بھیجا گیا۔ اس کی وجہ سے سائنسدانوں کو اتنی اہم معلومات ملیں کہ انہوں نے ہبل کو دریافتوں کی ایک مشین کا نام دیا۔
    ہبل کے خلا میں جانے کے بعد ہی سائنسدانوں کو یہ علم ہوا تھا کہ ہماری کائنات کتنے ارب سال پرانی ہے۔ اور آج سب جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کی عمر تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس دریافت پر نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی کائنات میں موجود کہکشاؤں کے درمیان انتہائی بڑے بلیک ہولز کی موجودگی کے ثبوت ملے تھے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو سکا کہ Big bangکے چند کروڑ سال بعد ہماری کائنات کس طرح کی تھی۔اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدان سولر سسٹم سے باہر موجود کسی ایک بھی سیارے یاexoplanetکے بارے میں نہیں جانتے تھے۔

    اس لئے ہبل کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اگر انہیں اس کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ہے تو اس کے لئے ان کے پاس جتنی اعلی ٹیلی سکوپ ہو گی اتنی اچھی انفورمیشن ملے گی۔اس لئے ابھی سائنسدانوں کے پاس دس یا بیس سال تک کا مزید وقت ہونے کے باوجود کہ وہ ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی بہت سی اہم معلومات جمع کر سکتے تھے۔ انہوں نے دس ارب ڈالرز لگا کر James Webb Space Telescopeکو خلا میں بھیجا گیا۔ کیونکہ اس نئی دوربین کا فلکیاتی آئینہ ہبل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس میں روشنی کو جمع کرنے کی بھی زیادہ صلاحیت موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہبل کے مقابلے یہ ٹیلی سکوپ وقت میں زیادہ پیچھے تک سفر کر سکتی ہے۔ ویسے بھی ہبل زمین کے گرد قریبی مدار میں موجود تھی اور یہ ٹیلی سکوپ زمین سے زیادہ فاصلے ہر اور دوسری کہکشاوں کے قریب ہوگی اس لئے اس کے زریعے اور بھی زیادہ اہم معلومات مل سکیں گی اب James Webb Space Telescopeجو کہ ہبل ٹیلی سکوپ سے دس گنا زیادہ حساس ہے تو یہ دوربین یہ بھی دیکھنے کے قابل ہو گی کہ ہماری کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ
    James Webb Space Telescopeکی مدد سے وہ خلا میں ان ستاروں کو بھی ڈھونڈ پائیں گے جو ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔اس ٹیلی سکوپ میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے کہیں دور موجود سیاروں کے ماحول اور وہاں موجود گیسوں کی جانچ کے ذریعے زندگی کے شواہد تلاش کر سکے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ دوسرے سیاروں کے ماحول میں کس قسم کے مالیکیول موجود ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوربین کہکشاں میں رہنے کے قابل سیاروں کی تلاش میں ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گی۔

    دراصل سائنسدان جان ہی چکے ہیں کہ ہم انسان ایک ستارے کی باقیات سے وجود میں آئے جو اربوں برس پہلے پھٹ گیا تھا۔ اس لئے اب وہ ان باقیات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں کہ جس طرح الگ ہونے کے بعد زمین پر زندگی کا آغاز ہوا تو باقی ستاروں کے ساتھ کیا ہوا الگ ہونے کے بعد ان کے کیا حالات ہیں۔یعنی اس دوربین کی مدد سے سائنسدان کائنات کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جو شاید ابھی انہوں نے سوچا بھی نہیں ہے اس لئے آنے والا وقت اب Space science
    سے متعلق بہت حیران کن ہونے والا ہے۔

    لیکن اس کے لئے تھوڑا مزید انتظار بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس ٹیلی سکوپ کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور اس کی مدد سے پہلی تصاویر دیکھنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے کھولنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک بار کھلنے کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے اور اس میں موجود فلکیاتی آئینوں کو ترتیب میں آنے اور تمام آلات کو آن کرنے میں کئی مہینوں کا وقت لگے گا۔ اس لئے امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2022 کے موسم گرما میں ہی سائنسدان پہلی تصاویر حاصل کر سکیں گے۔لیکن آخر میں ایک بار پھر میں آپ کو بتا دوں کہ یہ Space science کا ایک جوا ہے اور بہت ہیExpensive and complicated
    قسم کا جوا ہے کیونکہ یہ ٹیلی سکوپ کسی ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے اور اس کا مکمل طور پر کھل کر اپنے آپ کو پھیلانا خلائی تاریخ میں اب تک کا سب سے مشکل کام ہو گا۔ ایسے 300 سے زیادہ لمحات ہوں گے جب کچھ بھی غلط ہوا تو کھیل تمام ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ ایسے کاموں میں تو پھر زیادہ خطرے کا مطلب ہی زیادہ فائدہ ہے۔اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو پھر یہ جاننا مشکل نہیں رہے گا کہ یہ کائنات کیسے شروع ہوئی اور کیا ہم اس میں اکیلے ہیں؟اور پھر سائنسدانوں کی یہ بازی جیتی ہوئی تصور کی جائے گی۔

  • سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو کتوں نے بچا لیا

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو کتوں نے بچا لیا

    بھارتی گاؤں میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی ایک نوزائیدہ بچی کا ایک کتیا اور اس کے بچوں نے اس کا پہرہ دیا اورمکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچائی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ گاؤں میں جب ایک نوزائیدہ بچی کو کھیت میں بے آسرا چھوڑا گیا تو نہ صرف ایک کتیا نے اس کا پہرہ دیا بلکہ خود اس کے ننھے منے بچوں نے مکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچاکر مرنے سے بچا لیا جانور کی رحم دلی کی خبر نے دنیا کا دل بھی موم کردیا ہے-

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا


    رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ ریاست کے ضلع مونگیلی کے ایک گاؤں سریستال کے کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی اس بچی کے تن سے آنول نال کا ایک ٹکڑا بھی جڑا تھااسے آوارہ کتوں نے بھنبھوڑنے کی بجائے بچایا صبح کو بچی کے رونے کے آوازوں سے کسان متوجہ ہوئے اور بچی تک پہنچے جو زندہ تھی اور اس پر کوئی خراش تک نہ تھی۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

    گاؤں والوں کے مطابق ان کا خیال ہے کہ مادہ کتیا نے رات بھر بچی کا حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے بعد ازاں گاؤں کے بزرگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بچی کو مکمل تندرست بھی قرار دیا ہے۔

    پولیس افسر اے ایس آئی چنتارام بنجاور اسے فوری طور پر مقامی ہسپتال لے گیا اور طبی معائنے کے بعد اس کا نام اکنکشا رکھا گیا ہے اب پولیس نے بچی کے لواحقین کی تلاش شروع کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔

    لعنت ہو ایسی حکومت پر، جلد ان کے برے دن آنے والے ہیں،جیا بچن کی بی جے پی پر کڑی تنقید

  • تمبا کو نوشی کے صحت پر پڑنے والے اثرات و نقصانات.تحریر:ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی چھوڑیں اگر آپ کی صحت پر پڑنے والے اثرات کو آپ جان جائیں گے تو آپکے لیے مدد گار ہوگا کے آپ تمبا کو نوشی چھوڑ سکیں.

    تمباکو نوشی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت زیادہ نقصان دہ اور منفی اثرات فوری طور پر ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کے مختلف حصوں پر سگریٹ نوشی کے صحت کے اثرات کی معلومات ضرور رکھیں.

    سگریٹ سے نکلنے والی نکوٹین ہیروئن کی طرح نشہ آور ہے۔ نکوٹین کی لت کو شکست دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آپ کے دماغ کو بدل دیتا ہے۔ دماغ تمباکو سے نیکوٹین کی بڑی مقدار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اضافی نکوٹین ریسیپٹرز تیار کرتا ہے۔ جب دماغ نیکوٹین حاصل کرنا بند کر دیتا ہے جس کی وہ عادت تھی، نتیجہ نکوٹین کا اخراج ہوتا ہے۔ آپ فکر مند، چڑچڑے، اور نیکوٹین کی شدید خواہش محسوس کر سکتے ہیں۔
    آپکی سماعت کے لیے نقصان دہ ہے تمباکو نوشی.

    تمباکو نوشی کا ایک اثر کوکلیا کو آکسیجن کی فراہمی میں کمی ہے، جو اندرونی کان میں گھونگھے کی شکل کا عضو ہے۔ اس کے نتیجے میں کوکلیا کو مستقل نقصان آپکی سماعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی آنکھوں میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جو آپ کی بینائی کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔ سگریٹ سے نکلنے والے نکوٹین کے اثرات میں سے ایک ایسے کیمیکل کی پیداوار کو محدود کرتا ہے جو آپ کو رات کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو نوشی آپ کے موتیابند اندھے پن کا باعث بن سکتے ہیں.

    تمباکو نوشی آپ کے منہ سے ایک ٹول ٹیکس لیتی ہے. تمباکو نوشی کرنے والوں کو غیر تمباکو نوشی کرنے والوں سے زیادہ منہ کی صحت کے مسائل ہوتے ہیں، جیسے منہ کے زخم، السر اور مسوڑھوں کی بیماری۔ چھوٹی عمر میں آپ کو گہا ہونے اور دانتوں سے محروم ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کو منہ اور گلے کے کینسر ہونے کا بھی زیادہ امکان ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کی جلد کو خشک کرنے اور لچک کھونے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے جھریاں اور اسٹریچ مارکس ہو سکتے ہیں۔ آپ کی جلد کا رنگ پھیکا اور خاکستری ہو سکتا ہے۔ آپ کے 30 کی دہائی کے اوائل تک، آپ کے منہ اور آنکھوں کے گرد جھریاں آنا شروع ہو سکتی ہیں،

    تناؤ کا شکار دل
    تمباکو نوشی آپ کے بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور آپ کے دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، دل پر دباؤ اسے کمزور کر سکتا ہے، جس سے یہ آپ کے جسم کے دوسرے حصوں میں خون پمپ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ سانس لینے والے سگریٹ کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ بھی آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے، جس سے دل کا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دل کے دورے سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے خون کو گاڑھا اور چپچپا بنا دیتی ہے۔ خون جتنا گاڑھا ہوگا، آپ کے دل کو اسے آپ کے جسم کے ارد گرد منتقل کرنے کے لیے اتنا ہی سخت کام کرنا پڑے گا۔ گاڑھے خون کے جمنے کا بھی زیادہ امکان رکھتا ہے جو آپ کے دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑھا خون آپ کی خون کی نالیوں کی نازک استر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نقصان آپ کے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

    چربی کے ذخائر
    تمباکو نوشی خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول اور غیر صحت بخش چربی کو بڑھاتی ہے، جس سے غیر صحت بخش چربی کے ذخائر آپ کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر ملبہ آپ کی شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ بلڈ اپ شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے عام بہاؤ کو روکتا ہے۔ دل یا دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے پھیپھڑوں کے چھوٹے ایئر ویز اور ٹشوز میں سوزش کا پیدا کرتی ہے۔ آپ کی طبعیت میں گھرگھراہٹ کا سبب بن سکتی ہے یا آپ سانس لینے میں تکلیف محسوس کر سکتے ہے۔ مسلسل سوزش سے داغ کے ٹشو بنتے ہیں، جو آپ کے پھیپھڑوں اور ایئر ویز میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں جو سانس لینے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی جلن اور آپ کو بلغم کے ساتھ دائمی کھانسی ہو سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں ہوا کے چھوٹے تھیلے یا الیوولی کو تباہ کر دیتی ہے جو آکسیجن کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں، تو آپ ان میں سے کچھ ہوا کے تھیلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ الیوولی واپس نہیں بڑھتے ہیں، لہذا جب آپ انہیں تباہ کرتے ہیں، تو آپ نے اپنے پھیپھڑوں کا ایک حصہ مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب کافی مقدار میں الیوولی کو تباہ کر دیا جاتا ہے، تو بیماری ایمفیسیما تیار ہوتی ہے۔ ایمفیسیما سانس کی شدید قلت کا باعث بنتا ہے اور موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    سیلیا اور سانس کے انفیکشن
    آپ کے ایئر ویز پر چھوٹے برش جیسے بال ہیں، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا بلغم اور گندگی کو صاف کرتا ہے تاکہ آپ کے پھیپھڑے صاف رہیں۔ تمباکو نوشی عارضی طور پر مفلوج کردیتی ہے اور یہاں تک کہ سیلیا کو مار دیتی ہے۔ اس سے آپ کو انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی غیر تمباکو نوشیوں کے مقابلے میں زیادہ نزلہ زکام اور سانس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔

    آپ کا جسم ایسے خلیوں سے بنا ہے جن میں جینیاتی مواد، یا DNA ہوتا ہے، جو سیل کی نشوونما اور کام کے لیے "ہدایت دستی” کے طور پر کام کرتا ہے۔ سگریٹ کا ہر ایک پف آپ کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے، تو "ہدایت دستی” میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور خلیہ کنٹرول سے باہر ہونا شروع کر سکتا ہے اور کینسر کا ٹیومر بنا سکتا ہے۔ آپ کا جسم اس نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو تمباکو نوشی آپ کے ڈی این اے کو کرتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، تمباکو نوشی اس مرمت کے نظام کو ختم کر سکتی ہے اور کینسر (جیسے پھیپھڑوں کا کینسر) کا باعث بنتی ہے۔ کینسر کی تمام اموات میں سے ایک تہائی تمباکو کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    پیٹ اور ہارمونز
    پیٹ
    تمباکو نوشی آپ کے لیے خراب کیوں ہے ایک اور وجہ کی ضرورت ہے؟ بڑا پیٹ۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں بڑے پیٹ اور کم عضلات ہوتے ہیں۔ ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہر روز سگریٹ نوشی نہ کریں۔ تمباکو نوشی بھی ذیابیطس پر قابو پانا مشکل بنا دیتی ہے جب آپ اسے پہلے سے ہی پکڑ لیتے ہیں۔ ذیابیطس ایک سنگین بیماری ہے جو اندھے پن، دل کی بیماری، گردے کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایسٹروجن کی کم سطح
    تمباکو نوشی خواتین میں ایسٹروجن کی سطح کو کم کرتی ہے۔ ایسٹروجن کی کم سطح خشک جلد، پتلے بالوں اور یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو حاملہ ہونے اور صحت مند بچہ پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تمباکو نوشی بھی جلدی رجونورتی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے آپ کو بعض بیماریوں (جیسے دل کی بیماری) ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    چھوڑنے کے فوائد
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے آپ کے جسم کے بیشتر بڑے حصوں میں مدد مل سکتی ہے آپ کے دماغ سے لے کر آپ کے ڈی این اے تک۔کوشش کریں گے ہمت کریں گے تو ضرور اسکو چھوڑ سکیں گے۔سوچ ضروری ہے اتنے نقصانات جاننے کے بعد کوئی کیسے تمبا کو نوشی کر سکتا ہے کون اپنے آپ کو اتنا نقصان دے سکتا ہے کوئی عقلمند انسان نہں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان..مدد کا منتظر…تحریر:عفیفہ راؤ

    بیس سال تک افغانستان میں جو طالبان، امریکہ کی جان کے دشمن تھے اس کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اب وہ امریکہ سے ہی رحم کی اپیل کر رہے ہیں سوچیں ایسا کیا ہوا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی؟ آخر کیوں طالبان اپنے دعوے پورے کرنے میں ناکام رہے؟ اور اب افغانستان میں اصل صورتحال کیا ہے افغان عوام اپنا گزارہ کیسے کر رہی ہے؟ اور کیوں پاکستان افغانستان کے لئے ہر ایک فورم پر آواز اٹھا رہا ہے؟ وہ کون سا ایسا خطرہ ہے جو پوری دنیا کی نوجوان نسل کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے؟

    پاکستان میں افغانستان کی صورتحال پر غور کے لئے او۔ آئی۔ سی وزرائے خارجہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس بھی بلایا گیا ہے جو کہ انیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ تاکہ افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے عالمی برادری خاص کر کہ امریکہ کو افغانستان کی مدد پر راضی کیا جائے۔اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خود طالبان حکومت نے بھی عالمی قوتوں کو پکارنا شروع کر دیا ہے کہ لاکھوں افغان شہریوں کو انکی مدد کی ضرورت ہے اس لئے رحم اور ہمدردی کی بنیاد پران کی مدد کی جائے۔طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے اپنے ایک انٹرویو میں امریکا سے اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے دس بلین ڈالر سے زائد منجمد فنڈز کو جاری کیا جائے کیونکہ جب تک فنڈز بحال نہیں ہوں گے تو طالبان کیسے دنیا کو اپنا کام دکھا سکیں گے۔امیر اللہ متقی نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ طالبان حکومت کا امریکا سے کوئی جھگڑا نہیں ہے وہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ غیر مستحکم افغانستان یا کمزور افغان حکومت کا ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔اب اگر طالبان حکومت کے وزیر خارجہ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اگرعالمی برادری نے افغانستان پر بروقت توجہ نہ دی تو وہاں ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران تو تصویر کا ایک رخ ہے لیکن واقعی اگر افغانستان پر اس وقت دنیا نے توجہ نہ دی تو یہ آنے والے وقت میں ایک ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔دراصل اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ امریکہ کچھ معاملات کو لیکر افغانستان پر غصے میں ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پرلگائی گئی پابندی ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے ساتویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کو اسکول جانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ہے خواتین کو ان کی ملازمتوں پر واپس جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ جس پر طالبان حکومت کا یہ کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ فی الحال بہت سی خواتین سرکاری ملازمین کو گھر میں رہنے کو کہا گیا ہے لیکن اس کی وجہ ہماری سخت گیر پالیسی نہیں بلکہ اسکولوں اور کام کی جگہوں پرشریعت کے تحت علیحدہ انتظامات کا نہ ہونا ہے۔ اور جہاں یہ انتظامات مکمل ہیں جیسے افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے دس صوبوں میں بارہویں جماعت تک لڑکیاں اسکول جا رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں بھی سو فیصد خواتین کام پر واپس آ گئی ہیں۔ لیکن باقی جگہوں پر انتظامات کرنے اور کارکردگی دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ طالبان حکومت کے پاس فنڈز ہوں بغیر فنڈز کے وہ کوئی بھی کام نہیں کر سکیں گے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ آپ ایک انسان کے ہاتھ باندھ دیں اور پھر اس کو لڑنے کا کہیں۔اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی اس وقت تقریبا تین کروڑ نوے لاکھ ہے جس میں سے آدھی آبادی پندرہ سال سے کم عمرنوجوانوں کی ہے۔ اور وہاں کی آبادی کا برا حصہ Poverty lineسے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

    اور جب کسی ملک میں غربت پھیلنا شروع ہو جائے تو آپ کو معلوم ہے کہ وہاں ہر طرح کی برائیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ امن و امان کا پہلے ہی افغانستان میں کافی سنگین مسئلہ ہے۔اور اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ جو پوری دنیا کی آںے والی نسلوں کے لئے ایٹم بم ثابت ہو سکتا ہے وہ وہاں پر ہونے والی پوست کی کاشت اور ہیروئین کی برآمد ہے جو اس وقت عروج پر ہے۔ ہیروئین کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جو ایک نئے نشے کا دھندہ شروع ہو چکا ہے وہ کرسٹل میتھ ہے۔ جس کا ایک سو کلو کا تھیلا جب افغانستان سے نکل کرکسی دور دراز ملک میں پہنچتا ہے تو اس ایک تھیلے کی قیمت دو ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔افغانستان کے جنوب مغربی ضلع میں جہاں ایفیڈرا نامی بوٹی کاشت کی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں اومان بھی کہا جاتا ہے وہاں تقریبا پانچ سو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں جو روزانہ تین ہزار کلوگرام کرسٹل میتھ تیار کرتی ہیں۔پہلے طالبان کی جانب سے ایفیڈرا اگانے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ لیکن پھر اس کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں ہوسکا۔بلکہ پابندی لگنے سے وہاں کے فیکٹری مالکان کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ میتھ کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اس طرح اب جن فیکٹری مالکان نے یہ بوٹی اپنے گوداموں میں سٹور کی ہوئی ہے وہ آنے والے دنوں میں اس بوٹی سے کرسٹل میتھ بنا کر خوب پیسہ کما سکتے ہیں۔طالبان حکومت اس پابندی پر عمل درآمد کروانے میں کیوں ناکام رہی اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بظاہر ایک سادہ سی وجہ تو یہ بھی ہے کہ ایفیڈرا کی کاشت پر اس وقت پابندی کا اعلان کیا گیا جب کسان فصل کاٹ چکے تھے اس وجہ سے پابندی پر عمل ہوا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اصل صورتحال اگلے سال جولائی میں سامنے آئے گی جب نئی فصل کی کاشت کا وقت ہو گا کہ اس وقت طالبان کی حکومت کاشتکاروں کو اس کی اجازت دے گی یا نہیں؟اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کو پیسے کی اشد ضرورت ہے اور ان کے پاس پیسہ کمانے کا صرف ایک یہ ہی آسان طریقہ ہے۔افغانستان میں پوست کی کاشت سے جو ہیروئین تیار کی جاتی ہے دنیا بھر کی ڈیمانڈ کا تقریبا80 فیصد اسی سے پورا ہوتا ہے۔ افغانساتن میں ایسی لا تعداد فیکٹریاں موجود ہیں جو افیون سے ہیروئن بناتی ہیں اور ہر فیکٹری 60-70 افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ اور دوسری طرف اب جس رفتار سے میتھ تیار کی جا رہی ہے وہ ہیروئن کی تجارت کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جائے گی۔

    اور ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو اس کے نقصانات کا علم نہیں ہے وہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ ان برے حالات میں پیسہ کیسے کمائیں؟اورایسی صورتحال میں جب امریکہ سمیت تمام عالمی اداروں نے افغانستان کے فنڈز روکے ہوئے ہیں کوئی ان کی مدد کو سامنے نہیں آرہا دوسری طرف افغانستان میں کاشتکاروں کو خشک سالی اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے تو سوچیں کہ ان کے پاس کیا حل باقی بچتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سے لوگ سوچیں کہ وہاں کاشتکار کوئی اور فصل کیوں کاشت نہیں کر لیتے؟تو اس میں مشکل یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اور فصل کاشت کرنے کے لیے پانی کے کنویں کھودنے پڑتے ہیں۔ اگر بھنڈی یا ٹماٹر کاشت کریں تو ان کاشتکاروں کو کنویں کی آدھی قیمت بھی وصول نہیں ہوتی۔ایسی صورتحال میں آپ سوچیں کہ طالبان حکومت پابندی پر کیسے عمل درآمد کر وا سکتی ہے۔ بلکہ اس وقت تو وہاں اتنی آسانی ہو گئی ہے کہ پابندی کے اعلان سے قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور وہ منشیات ڈیلر جو پہلے خفیہ طور پر کرپٹ افغان اہلکاروں کو رشوت دے کر مال فروخت کرتے تھے اب کھلے عام بازاروں میں سٹال لگا کر منشیات فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

    کابل میں طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بھی حال ہی میں یہی بیان دیا ہے کہ اس وقت طالبان کسانوں کے لیے متبادل مواقع تلاش کر رہے ہیں اور جب تک ھم لوگوں کو کچھ متبادل فراھم نہیں کر لیتے ھم انھیں کیسے منع کر سکتے ہیں۔
    اس لئے بین الاقوامی برادری کو کچھ سوچنا چاہیے افغان لوگوں کے لئے نہ صرف جلد از جلد فنڈز ریلیز ہونے چاہیں بلکہ ان کی مدد بھی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ان کی مدد نہ کی گئی اور منشیات کی کاشت پر بھی پابندی لگا دی تو افغان عوام بھوکے رہ جائیں گے وہ اپنے خاندانوں کو کیا کھلائیں گے اور دوسری صورت میں اگر منشیات کی کاشت کا سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو یہ پوری دنیا کے لئے ایک ایٹم بم ثابت ہوگا اور اس کی لپیٹ میں ہماری نوجوان نسل آئے گی جبکہ افغان نسل تو پہلے ہی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے وہاں سڑک کنارے جگہ جگہ نوجوان ٹولیوں میں نشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان اکثروبیشتر ان کو اٹھا کر Rehabilitaion centreبھی چھوڑ کرآتے ہیں لیکن وہ نوجوان پھر واپس آ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت منشیات کی پیداوار اتنی زیادہ ہو رہی ہے کہ وہاں ہیروئین اور میتھ بہت زیادہ سستی بھی ہے۔ اس لئے اس ایٹم بم کو ناکارہ کرنے کے لئے امریکہ اور عالمی طاقتوں کو جلد از جلد اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا تاکہ اپنی نوجوان نسلوں کو بچایا جا سکے۔

  • "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    آج سولہ دسمبر ہے سقوط ڈھاکہ اور سقوط پشاور کی یاد دلاتا یہ دن ایک ایسا گھاؤ ہے سانسوں کے بند ہونے کے بعد ہی شاید مندمل ہوسکے. شہادتوں پر افسوس نہیں ہے شہادتیں تو ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہیں.
    شہادتیں تو تحاریک اور جذبوں کو جلا بخشتی ہیں. وہ شہادتیں البدر و الشمس کے نوجوانوں کی ہوں یا آرمی پبلک اسکول کے معصوم پھولوں کی، وہ لہو بڑا ہی مقدس ہے وہ وردی پہنے نوجوان کا ہو یا کشمیر کی وادیوں میں بغیر وردیوں کے لڑنے والے مجاہدین کا…
    دکھ اور سانحہ تو اس بات کا ہے کہ آج کے دن ملک دو لخت ہوا . بھائی بھائی کا دشمن ہوا، پاکستان سے وفا کی پاداش میں ہزاروں مردوں کا خون بہا تو ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی. دشمن کو موقع ملا اور اس نے کھل کر تقسیم برصغیر کا بدلہ لیا.
    ان سب سے بڑھ کر غم انگیز بات یہ ہے کہ افواج پاکستان کو شکست ہوئی اور شکست بھی ایسی کہ ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالےگئے. اور ہزاروں پاکستانی فوجی، سرکاری عملہ، سول لوگ مکار دشمن کے قیدی بن گئے.
    اسلامی تاریخ میں یوں اسلامی فوج کا ہتھیار ڈالنا یہ بہت کم ہی ملتا ہے. یہی وجہ ہے کہ زیادہ دکھ یہی بات دیتی ہے کہ ہم تو عجب شان سے جیا کرتے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ پاکستانی فوج نے کوئی بزدلی دکھائی بلکہ بھارتی فوج کے جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوج اپنے بیس کیمپ سے دور کم اسلحے اور سازوسامان کے باوجود بہادری اور دلیری سے لڑی.
    لیکن میدانوں کی جنگیں ہم نے اکثر ہی میزوں پر ہاری ہیں تو سیزفائر کی قرار داد کو پھاڑ کر بھٹو نے اس شکست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی وگرنہ سیز فائر کے آپشن سے اس شکست سے بھی بچا جاسکتا تھا اور ہزاروں سول و ملٹری کی شہادتوں کے بغیر بھی سیاسی حل ہوسکتا تھا.
    اکہتر کا دوش سارے کا سارا مجیب الرحمن کو دینا قطعاً ناانصافی ہے. ایوب دور اور اس سے پہلے ادوار میں مشرقی پاکستان کے لوگوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں، بیوروکریسی کوٹہ کی دھجیاں، زبان کا مسئلہ، انتہا کی غربت اور اس کوئی حل نہ ہونا، جنرل یحیٰ کے بیوقوفانہ فیصلے اور پھر جاکر بھٹو مجیب کی اقتدار کی ہوس اور اس کے لیے باہمی گٹھ جوڑ یہ وہ عوامل تھے جن کو دشمن نے استعمال کیا اور وہ دن دیکھنا پڑا کہ سر شرم سے جھکے جاتے تھے.
    بنگلہ دیشی عوام سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں ان سے آج بھی اتنی ہی محبت ہے ہم ان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں. ہمارا دشمن مشترکہ ہے اور وہ ہے انڈیا جس کو مسلم کی ترقی و بالادستی اس خطے میں کسی بھی صورت قبول نہیں ہے.
    پاکستان اور بنگلہ دیشی عوام، سیاستدانوں اور سربراہان کو چاہیے کہ تاریخ کے غمناک ابواب سے سبق سیکھ کر لازوال دوستی کا ہاتھ تھامیں اور اس دوستی کی بنیاد پر اس خطے میں بھارت کی تنہائی کے تابوت میں کھیل ٹھونکیں…
    بھارت کی بدحواسیاں یوں ہی نہیں ہیں ان کو نظر آرہا ہے کہ امریکہ اس خطے سے شکست کھاکر دفعان ہوچکا ہے جبکہ چین بھارت کے سبھی ہمسائیہ ملکوں میں بھاری سرمایہ کاری کرکے ان کو ایک لڑی میں پرو چکا ہے. اب اس میں بڑا کردار پاکستان اور بنگلہ دیش ادا کرسکتے ہیں.
    محمد عبداللہ

  • انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی کلیاں مرجھا گئیں تحریر حنا

    انسانیت شرما گئی
    کلیاں مرجھا گئیں
    میری ماں سے پوچھ کتنا لاڈلا تھا میں!
    16 دسمبر 2014
    سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور
    اے پی ایس کا دلخراش واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا جب صبح علم کے حصول میں مصروف طلبہ 10 بجے کے وقت سات دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طلوع ہوا مگر غروب 144 معصوم و بےقصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔
    مائیں دروازے تکتی رہ گئ ۔۔بچے سکول سے سیدھے جنت چلے گے ۔۔16 دسمبر کا دن ملک کی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے ۔۔۔یہ تاریخ کے لحاظ سے پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے ۔۔آج کا دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔۔کہ آج کے دن 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول میں ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 افراد زخمی ہووے تھے ۔۔آج چھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ المناک سانحہ لوگوں کے دلوں میں روز اول کی طرح تازہ ہے ۔۔۔اس سانحہ میں شہید ہونے والے کچھ ایسے بچے قوم کا سنہرا مستقبل تھے ۔۔یوں کہ لیجیے کہ دشمنوں نے ہمارے مستقبل کو شہید کیا تھا ۔۔۔144 خاندان اجڑ گے تھے ۔۔144 والدین کی گود خالی ہو گئ تھی ۔۔144 والدین کے سہارے ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گے تھے ۔۔144 ماوں کی آنکھوں کا نور ان سے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔144 بچوں کو خون میں نہلایا گیا تھا ۔۔۔۔کافر اسلام کو دہشت گرد کہتے ہیں. سنو حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا. اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سختی سے) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی.‘‘مطلب کہ جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو ۔۔۔یہ کیسے کافر تھے کیسے درندے پتھر دل لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے بچوں کو معصوم کلیوں کو شہید کیا ۔۔۔آج میں سلام پیش کرتی ہوں ان بچوں کو ان شہیدوں کو جن معصوموں نے اپنا لہو دے کر اس وطن کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کیا.میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔
    شہید سیف اللہ ❤ شہید نورواللہ
    دونوں سگے بھائ تھے… شہید سیف اللہ نویں جماعت اور شہید نورواللہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔دونوں بھائ اس سانحے میں شہید ہو گے تھے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں ۔۔ شہید مبین آفریدی کو ۔۔جو دو بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا ۔۔مبین دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کررہا تھا ۔۔مبین بھی اس سانحے میں شہید ہوا تھا ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں حارث نواز کو جو ساتویں کلاس کا طالب تھا ۔۔میں سلام پیش کرتی ہوں احمد نواز کو جس کے سامنے 144 بچوں کا خون بہا ۔۔اس کے بھائ کو شہید کیا گیا ۔۔وہ خود اس سانحے میں زخمی ہوا ۔۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ۔اپنی منزل پانے کے لیے اپنے شہید بھائ کے خواب پورے کرنے کے لیے وہ آج بھی محنت کررہا ہے ۔۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں
    اس استاد کو
    سعدیہ گل خٹک آرمی پبلک سکول میں انگلش پڑھاتی تھیں , وہ ایک خوش طبعیت اور ملنسار خاتون تھیں . جو 7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھیں , انھیں دوستوں کے ساتھ باہر جانا پسند تھا . ہر شام وہ دوستوں کے ساتھ واک کے لیے نکلتیں .
    16 دسمبر 2014 کو جب سکول پہ حملہ ہوا تو انھیں وہاں پڑھاتے ہوئے ابھی 5 مہینے ہوئے تھے , حملے کے وقت وہ سٹاف روم میں موجود تھیں , انھوں نے ایک حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی جس پر انھیں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئیں ……
    میں سلام پیش کرتی ہوں نویں کلاس کے اسامہ اور عاطف رحمان کو جن معصوموں نے اس وطن کے لیے اپنا لہو بہایا ۔۔۔144 بچوں کو میں سلام پیش کرتی ہوں ۔جن بچوں کے سامنے بے دردی سے کسی نے چھپکلی بھی نہ ماری تھی ان بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھیوں کو بہن بھائیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا ۔۔۔۔ان بچوں کو زخمی کیا گیا ۔۔۔یہ ایسا غم ہے جو کبھی بھی کوی بھی نہیں بھولے گا ۔۔۔خدا کرے میری ارض پاک پر اترے ۔۔وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ۔۔۔
    ہم تمہیں بھولے نہ ہی بھولیں گے۔۔۔!!!
    اے پی ایس پشاور کے شہداء تمھیں سلام ۔۔۔۔!!!
    اللہ پاک ان تمام شہداء کے درجات بلند فرماے آمین اور ان کے والدین کو صبر دے ۔آمین ۔۔الفاظ بہت کم ہے ۔۔۔اور سانحہ بہت بڑا تھا۔۔۔۔آج بھی لکھتے ہووے آنکھوں سے آنسو ایسے جاری ہے جیسے یہ سانحہ آج ہوا ہو ۔۔۔۔سانحے کتنے بھی پرانے ہو جائیں ۔۔لیکن ان کا غم ان کا دکھ ہمیشہ ہوا کے جھونکے کی طرح تازہ رہتا ہے ۔۔۔جب دہشت گردوں نے حملہ کیا اس وقت دہشت گردوں سے لڑنے والے
    شہزادے ہیرو کو سب جانتے ہی ہوں گے۔ اے پی ایس کے سانحہ کے وقت ایس ایس جی کے جس دستہ نے آڈیٹوریم میں گھس کر دہشتگردوں کو مارا اس دستہ کو ضرار کمپنی کے کیپٹن عابد صاحب لیڈ کر رہے تھے۔ یعنی اندر آڈیٹوریم میں جب دہشتگرد معصوم بچوں پر بہادری دکھا رہے تھے تب اللہ ہو اکبر کی صدا بلند کرکے داخل ہونے والے پہلے ولنٹیئیر کا نام کیپٹن عابد زمان خان تھا۔۔
    یہ پہلا بندا تھا جو اپنی ٹیم کو لے کر داخل ہوا اور ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے خود داخل ہوا اور پھر باقی ٹیم… اور اس طرح بزدل جہنمی کتے لڑکھڑا گئے۔۔ اس وقت کیپٹن عابد کو گولی بھی لگی جس سے وہ کافی زخمی ہوئے لیکن کمال مہارت اور بہادری سے خوارجیوں کو مار دیا اور کچھ دہشتگردوں نے ضرار ٹیم کی للکار کے ڈر کی وجہ سے خود کو اڑا دیا۔۔۔ اس طرح الحمدللہ پاک فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی بچوں کو بچا لیا۔۔ ورنہ اس حال میں تو شاید 400 سے اوپر بچے تھے۔۔
    کیپٹن عابد کافی دن ہسپتال رہے لیکن الحمدللہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈو آر ڈائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔
    مجھے ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جب انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ٹیم یعنی ایس ایس جی ضرار کمپنی کے پاس 2 آپشن ہوتے ہیں کہ مار دو یا مر جاو۔۔ہماری ٹیم میں سب volunteer ہوتے ہیں۔۔ اور ہم آخری آپشن ہوتے ہیں ہمارے بعد کسی فورس نے نہیں آنا ہوتا۔۔۔ اور پھر بڑے فخر سے کہا الحمدللہ آج تک کوئی دہشتگرد ہمارے سامنے ٹک نہیں پایا۔
    مطلب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا ڈرنے دوڑنے والا کوئی آپشن ان کی ڈائری میں نہیں۔۔۔
    سنا ہے ہال میں 7 درندے تھے جن میں سے 3 کو اکیلے کیپٹن عابد نے جہنم واصل کیا تھا میں سلام پیش کرتی ہوں پاک فوج کے اس بہادر جوان کو ان کی پوری ٹیم کو ۔ ۔۔سانحے واقعات دکھ غم اس زندگی کا حصہ ہے ۔۔سانحے تو ہوتے ہیں ۔لیکن اس سانحات سے سیکھنے والی قومیں بہت کم ہوتی ہے ۔۔۔مجھے فخر ہے میری قوم نے اس سے سیکھا ۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میری مائیں ڈری نہیں ۔۔۔مجھے فخر ہے اس باپ پر جس کے دونوں جوان بچے شہید ہووے اس کے باوجود وہ ہمت سے کہ رہا تھا کہ میرا کوی تیسرا بیٹا ہوتا تو میں اسے پڑھاتا ۔۔۔مجھے فخر ہے ان تمام والدین پر جن کے بچے آج بھی آرمی پبلک سکول میں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے فخر ہے ان بچوں پر جنھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے شہید بہن بھائیوں کے خواب پورے کرنے کے لیے محنت سے دل لگا کر پڑھ رہے ہیں ۔۔۔اللہ پاک میرے وطن کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے آمین ۔۔۔
    برسی پر پھول دیکھے تھے ۔آج پھولوں کی برسی ہے
    حنا سرور

  • ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ
    فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو غلامی کا ایسا پھندہ لگ گیا ہے کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈالر اس ماہ کے آخر تک200تک پہنچ جائے گا اور اگلے بجٹ تک 220روپے تک کا ہوجائے گا ۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط پر جو منی بجٹ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ وجائے گا ۔ ۔ مگر وزیراعظم روز کسی نہ کسی بہانے ٹی وی پر آکر ایک ہی راگ الپاتے ہیں کہ ۔ پاکستان سستا ترین ملک ہے ۔۔ پاکستان جلد ہی خطے کا بڑا اور لیڈر ملک بن کر ابھرے گا۔ صرف سردیاں مشکل ہیں، گرمیاں آتے ہی مہنگائی اور مشکلات کم ہو جائیں گی۔ وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے انہیں آج بھی اس امر کا یقین ہے لوگ ان کی باتیں امید بھرے انداز میں سنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ۔ کپتان کی ایسی ہر بات کے فوری بعد عوام پر مہنگائی کا کوئی نیا بم گرا دیا جاتا ہے اور ان کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

    ۔ میانوالی میں جلسے میں بھی یہ ہی گھسی پیٹی باتیں کی گئیں ۔ ۔ پر اب جو عوام ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے میانوالی میں بھی کپتان کی تقریر کے دوران پنڈال میں موجود ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ یہ سب ” جھوٹی باتیں ہیں“۔۔ اس نوجوان کاکہنا تھاکہ چاچا عمران آپ نے مہنگائی بہت کردی، ہم بھوکے مرگئے ہیں، مہنگائی کم کرو، مہنگائی کم کرے۔ ۔ اچھا یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ مستقبل قریب کے چند واقعات آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔ پشاور میں جلسے کے دوران بھی ایک شخص ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے ایونٹ کے دوران ایک نواجوان مائیک پکڑ کر تحریک انصاف کوآئینہ دیکھا چکا ہے ۔ ۔ پھر حالیہ کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران بھی علی امین گنڈاپور کے سامنے لوگ ڈٹ گئے تھے ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے باربار وعدوں کے باوجود حالات تشویشناک حد کو پہنچ چکے ہیں مگر حکومت کے معاشی ارسطو جلد بہتری کی اب بھی نوید سنا رہے ہیں۔ ۔ اسی جانب آج پی ٹی آئی کے اہم اتحادی ق لیگ کے پرویز الہی نے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔

    ۔ دراصل عمران خان سب جانتے ہوئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں تا کہ عوامی توجہ ان کی کارکردگی پر مرکوز نہ ہونے پائے اور لوگ ان کے بیانات کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر اقتدار میں موجود لوگ خود بھی گلے گلے تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کی سرپرستی کرتے ہیں جو کرپشن کیلئے تیار ہو۔ بڑے بڑے سکینڈلوں میں ملوث منفی شہرت کے حامل کو بلا بلا کر جس طرح بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے موجودہ نظام کی کریڈبیلٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔۔ پھر موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے بھی ایک اور بڑا خطرہ فارن فنڈنگ کیس ہے اِس حوالے سے DG Law کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہے جس میں پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس میں بری الزمہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ۔ جمعرات کو ان کیمرہ اجلاس بھی ہو چکا ہے ۔ یہ رپورٹ ایسی تلوار ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہے ۔۔ کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کو بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ بارے بھی الزامات کا سامنا ہے ۔ ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان اِس رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے بھی کالعدم ہو نے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کیس کا سامنا کرنے کے بجائے تحریکِ انصاف راہ ِ فرار اختیار کرنے جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔ پھر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پچاس ہزار جرمانہ ہوا ہے مگرحکمران کچھ دیکھنے یا سننے کے بجائے انتخابات میں دھاندلیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ تو الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔۔ دراصل اسپیکر اسد قیصر کی ایک آڈیو زیر گردش ہے، جس میں وہ ووٹرز کو ترقیاتی منصوبے دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ۔ اب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسد قیصر کو 13
    دسمبر کو ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے ۔

    ۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن نہ اتنی جوگی ہے اور اوپر سے آپسی اختلافات کا شکار بھی ہے ۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔ تو کہیں ۔۔۔ چن ۔۔۔ الیکشن کمیشن نہ ۔۔۔ چاڑھ ۔۔۔ دے ۔ اور بازی مار لے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں میاں صاحب کے حوالے سے خبریں گردش میں ہیں ۔ کہ نواز شریف تو پہلے ہی ٹکا سا جواب دے چکے ہیں کہ شوق پورے کریں ۔ عمران خان چاہے پانچ سال مکمل کروائیں یا اگلے پانچ سال مزید دے دیں ۔ لاڈلے سے جتنا بیڑہ غرق کروانا ہے کروالیں ۔ انکا موقف وہ ہی ہے ۔ کہ صرف صاف شفاف اور پولیٹکل انجئرینگ کے بغیر الیکشن ہون گے تو ہم سوچیں گے ۔ کیونکہ نواز شریف عمران خان کو کچھ نہیں سمجھتے ان کی نظر میں کپتان ایک پیادہ ہے اصل پھڈا تو کپتان کو لانے والوں سے ہے ۔ ۔ اب ایاز صادق کے بارے جیسے میں نے بتایا تھا کہ وہ ایک تجویز لے کر لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ آج یا کل میں ان کا quartine ختم ہونے والا ہے اور پھر نواز شریف سے ملاقات ہوگی ۔ تو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم رہتے ہیں یا پھر کوئی ڈیل مار لیتے ہیں ۔ فی الحال عوام کے لیے اس حکومت کا ایک ایک دن کرب کا گزر رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خدانخواستہ عمران خان اگر اگلے پانچ برس بھی اقتدار میں آگئے تو دن عوام کے نہیں پھریں گے انہیں مسلسل آئی ایم ایف کی سختیاں جھیلنا پڑیں گی کیونکہ انہوں نے اس کی شرائط کے آگے سر اوپر نہیں اٹھانا ۔ لہٰذا عوام چاہتی ہے کہ نیا سیاسی منظر بنے ۔ نئے چہرے جو قرضوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں وہ آگے آئیں ۔ ۔ پھر یاد رکھیں ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو۔ عالمی سطح پرعزت بھی ہو۔ ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ ۔ اس لیے باقی سب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا ہو گا کہ ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر مان لیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلطیاں بھی کی ہیں تو اب ان کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔

    ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اعداد وشمار جھوٹ نہیں بولتے ۔ آپ دیکھیں کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے
    124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔۔ آپ پولیس کو دیکھ لیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو دیکھیں، پاکستان ریلویز سمیت کسی بھی جگہ چلے جائیں کرپشن عام ہے۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی عام آدمی کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ پر وزیراعظم اور وزراء پچھلے ساڑھے تین برسوں سے دلاسے پہ دلاسہ دیئے جا رہے ہیں، جیسے جلد ہی خوشحالی کے جھکڑ چلنے لگیں گے حالانکہ ابھی تو بربادی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کاش چند روز پہلے جیسے حکومت گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لے رہی تھی اس ملک کی تباہی کا بھی کریڈیٹ لے تو اس کے گناہوں کو کفارہ ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولا ۔ یہ چیلنج تو اپوزیشن نے بھی کر دیا ہے کہ لنگر خانوں کے سوا عمران خان ایک منصوبہ دکھادیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ جو جتنی مرضی تنقید کرے مگر تحریک عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات آئینی اور جمہوری راستہ ہے اور ملک درپیش تمام مسائل کا واحد حل نئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو level playing field ملے اور جسے عوام منتخب کریں اسے حکومت بنانے دی جائے۔ کیونکہ یاد رکھیں ”تبدیلی“ کی تبدیلی اگر اب نہ ہوئی تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔

  • اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان
    کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ خود اس راستے پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جو زندگی کا اختتام ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےرشتوں کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں کہ بالآخر ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ کمرے میں ناگوار بو ہر بات کا آغاز کھانسی سے اور بات مکمل بھی نہیںکہ پھر کھانسی کا دورہ اور تمباکونوشی ایسی بلا ہے جو آپ اور آپ کے ساتھ اردگردر رہنے والوں کو جان لیوا مرض میں مبتلاکر جاتی ہے۔مگر ہم کب سوچتے ہیں؟

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سگریٹ نوشی یا تمباکونوشی ایک تشویش ناک عادت ہے جو عصر حاضر میں خواتین و حضرات کیلئے ہےشمار صحت اور معاشی مسائل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عادت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چھ ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ،سگریٹ نوش عام طور پر تیس یا چالیس سال کی عمر میں تمباکو کے زہریلے اثرات کا شکار ہوکر دل کے امراض میں مستقل طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی میں 20 فیصد امراض دل کے ہوتے ہیں اور سالانہ120,000 افراد تمباکونشی کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ تمباکو میں نیکوٹین ( Nicotine ) جیسا زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلر ( Blood vessels ) کو بری طرح متاثرکرتا ہے ،نیکوٹین سے کئی دیگر اعصابی امراض بھی جنم لیتے ہیں کیوند نیکوٹین اور دھوئیں سے (Internal Nervous system ) بری طرح متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہوکررہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنا بہتر طریقے سے کام سرانجام نہیں دے سکتے اور مجموعی طورصحت خراب ہوجاتی ہے۔ تمبا کوکا دھواں ک(Cardiovascular Diseases ) کا باعث بنتا ہے اور ہارمونز کے نظام کو بھی متاثر کر کے (Oestrogen ) کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ کینسر ایک مہلک ترین مرض ہے اور ہر سال تقریبا 48 فیصد لوگ سگریٹ کے دھوئیں سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کینسر میں گئے، منہ ، زبان اور خوراک کی نالی کے کینسرسرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں سانس کی نالی اور پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جس سے سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ امراض بڑھتے بڑھتے بالآخر پھیپھڑوں کا کینسر بن جاتے ہیں۔

    پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے باعث دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن میں فلو نزلہ، زکام، کھانسی اور ( Pneumonia ) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی اس عادت سے بانجھ پن اور دیگر زنانہ امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عورتوں میں 30 فیصد جنسی امراض دھوئیں اور نیکوٹین کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہی مضر اثرات زیادہ شدید صورت اختیار کر جاتے ہیں مثلا نومولود بچے اور زچہ دونوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنسی امراض میں سگریٹ نوشی مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے جنسی خواہش میں کمی اور بانجھ پن یعنی جرثومے متاثر ہوتے ہیں ۔ اعصابی تناؤ ،ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان امراض سے نوجوان طبقہ خاص طور پر متاثر ہورہا ہے۔ عام طور پر اس کا سبب بے روزگاری اور غربت بھی ہے جس سے لوگ پریشان ہو کر مزید تین عادات میں مبتلا ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پیٹ کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں سینے کی جلن، تیزابیت اور بھی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں عام طور پر سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کم عمر پاتے ہیں اور مجموعی صحت کے مسائل میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔سماجی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے ایک کثیر دولت دھوئیں کی نظر ہو جاتی ہے۔

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے۔ کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑاسکتا ہے بہر حال درج ذیل میں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔ اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا ہے۔ پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہو اٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دیں۔ زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بارتو ضرور یہ کام سرانجام دیا جائے اس سے بہت حد تک آ پکو سکون محسوں ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دوہرانے کو بھی جی چاہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آپکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہستہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جائے گا اور دوسرا جسم سے نیکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔ بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چھڑوانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یہی نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجائے سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چائے کا پئیں جس سے ہاضمہ بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیرہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیرہ سے دوبارہ سگریٹ پینے کو بھی جی نہ چاہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج آپکی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جائے گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں البتہ وہ بھی مزید حوصلہ افزائی سے مددکریں گے۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریہ ادویات بھی کیا جاتا ہے جہاں وہ نیکوٹین کے متبادل ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن وہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں ۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں

  • کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    پاکستانی عوام چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے اور پاکستان کے طالب علم بھی چھٹیوں سے بہت خوش ہوتے ہیں
    بلکہ حکومت نے ہر مسئلے کا ہل چھٹیاں ہی بنا لیا ہے پچھلے دو سال سے وبائی مرض کرونا نے اتنی تباہی نہ مچائی ہو گی جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے مچائی گئی ہے
    کرونا نے محض چند ہزار لوگوں کو پاکستان میں متاثر کیا ہو گا لیکن کرونا کی وجہ سے بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علم جو کہ کرونا کی وجہ سے تعلیم اور تربیت سے محروم ہو گئے ہیں
    گیارہ سو نمبر والے بہت سے بچے این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے بہت سے خوش نصیب طالب علم آگے کی بہت سی قابلیت سے محروم رہ گئے ہیں اصل میں جن بچوں نے گیارہ سو نمبر حاصل تو کر لئے لیکن سائنس پریکٹیکل ورک اور تعلیمی قابلیت سے محروم ہوگئے ہیں

    اب یہ بچے نہ تو دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ان بچوں نے جو سیکھنا تھا وہ نہیں سیکھ سکے اب یہ آگے ان چیزوں کو کیسے سیکھیں گے جن کی بنیاد ان بچوں نے پچھلی کلاسز میں چھوڑ دی ہے؟
    ابھی لوگ کرونا کے خیالات سے نمٹے نہیں ہیں کہ اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے جسے سموگ کہتے ہیں
    سموگ کا علاج ڈھونڈنے کی بجائے اس کا علاج صرف چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا ہے اور اب سموگ کا علاج ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے

    لاہور جو اس وقت آلودگی میں ایشیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں سموگ اور آلودگی سے بچنے کے لیے ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے اس کا حل سمجھ لیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے

    یہ چھٹیاں پچھلے پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے اسکولوں اور کالجز و یونیورسٹیز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکی گئیں
    اصل میں سموگ ٹرانسپورٹ اور بھٹہ خشت کی وجہ سے بنتی ہے اور بھٹہ خشت کے سسٹم سے اتنی زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے جس کا آپ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے
    حکومت نے بھٹہ خشت کے لیے زگ زیگ کا سسٹم متعارف کروایا جو کہ عام آدمی کے لیے لگانا بہت مشکل ہے اسی سسٹم کو پاکستانیوں نے نئے انداز میں لگاتے ہوئے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جسے ہر بندے نے اپنے بھٹہ خشت پر لگا لیا ہے جس سے دھواں تو سفید بظاہر بے ضرر نکل رہا ہے لیکن صرف نام کا بے ضرر نکل رہا ہے
    سموگ اور آلودگی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھی بس فرق صرف اتنا ہے پہلے رنگ کالا تھا اب رنگ سفید ہو گیا ہے اور اسی طرح ہماری پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا حال ہے ہر گاڑی پر ناکارہ انجن استعمال کر رہے ہیں اور ناکارہ انجن والی گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں
    بجائے اس کے ٹرانسپورٹ اور بھٹ خشت کے سسٹم کو دیکھا جائے ہماری حکومت نے اس کا علاج صرف چھٹیوں کو ہی بنا لیا ہے
    حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کے لیے کون سے عوامل اور کون سی مہم چلائی؟
    دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہے ؟
    نیز دو نمبری سے چلنے والے کتنے بھٹے بند کیے ہیں؟
    ہمارا مستقبل خطرے میں ہے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں خدارا ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ چھٹیاں نہ کریں بلکہ اس کا کوئی اور حل سوچیں اور پاکستان کے طالب علموں کا اور بیڑا غرق نہ کریں بلکہ پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے میں مدد کریں نہ کہ ایک بغیر تعلیم کے ملک، کیوں کہ جو حالات ہیں اس میں پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں آنے والے وقت میں سب آفیسر اور انجینئر بغیر تعلیم کے ہوں گے اگر یہی حال پاکستانی حکومت کا رہا تو
    خدارا کچھ سوچئے چھٹیاں نہیں تدابیر کیجئے

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔