Baaghi TV

Category: متفرق

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ  شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے  لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے  پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین  سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ  کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
    Twitter: @WaseemjuttMalik

  • بچوں کے نکاح میں جلدی کریں اور اپنے بچوں کو گناہ سے بچائیں تحریر۔ ہارون خان جدون

    اللہ کے دین میں نکاح بہت ہی آسان عمل ہے اور اتنا مشکل عمل نہیں جتنا کے آج کل ہم لوگوں نے بنا دیا ہے

    آج ہماری خواہشات اور مطالبات اس قدر بڑھ گے ہیں کے ہم کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے وہ خواہ لڑکا ہو ، لڑکی ہو، قابلیت ہو، آمدنی والا ہو یا اسکا نسب خاندان بہت اعلی ذات کا ہو، ہمیں لڑکا چاہیے تو اچھا کمانے والا ہو ، ہیرو type کا ہو، ماں باپ کا اكلوتا ہو ہینڈسم سمارٹ ہو اسیطرح اگر لڑکی چاہیے تو وہ بھی اچھی شکل صورت والی حور پری ہو، پڑھی لکھی ہو، اچھی کماتی ہو ڈاکٹر، اینجنیر یا ٹیچر ہو اور گھر کے کاموں کے معاملے میں سگھڑ ہو دادیوں نانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے

    دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں تک پنچ چکے ہیں کے آج کل  بےحیائی اس قدر پھیل چکی ہے اور دن بدن مزید پھیلتی جا رہی ہے کے ہر طرف برے حالات ہیں اور زنا عام ہو چکا ہے

    اور اسکے زمدار ہم خود ہیں اور اس کی زیادہ تر زمداری والدین پر ہے جنہوں نے خوب سے خوب تر کی طلب میں اپنے نوجوان بچوں/ بچیوں کو اس نج تک پنچایا ہے کے وہ حلال کے رشتے نا ہونے کی وجہ سے انکو girlfriend اور boyfriend بنانے پڑتے ہیں حالانکہ اس کا نہ تو ہمارا دین اس بات جی اجازت دیتا ہے اور نا ہی ہمارا اسلامی معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے

    آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رے ہیں اور والدین نے بچوں کو بچپن سے ہی دین کیطرف اس طرح نہیں لگایا جس طرح سے انکو لگانا چاہیے تھا اور جوان ہوتے ہی انکو حلال رشتے میں باندھ دیا جاۓ اور انکی شادی ہو جاۓ تو وہ ناجائز رشتے کی طرف نہیں جاتے

    لیکن والدین اپنے بچوں کی کبھی مستقبل کی فکر، کبھی اچھی job کی فکر اور کبھی اچھی لڑکی کی تلاش میں انکی late شادياں کرواتے ہیں جس سے وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور بچوں کی عمریں نکل جاتی ہیں

    حالانکہ بالغ ہوتے ہی لڑکا/ لڑکی کو جسمانی ضرورت کے لئے فوری حلال رشتے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ جب نہیں مل پاتی تو پھر لڑکی/ لڑکا غلط حرام طریقے سے اپنے جسم کی تسکین پورے کرتے ہیں اور پھر اس سے زنا بڑھتا ہے

    حالانکہ بحثیت مسلمان ہمارا ماننا یہ ہے کے ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جو اللہ پاک نے ہمارے نصیب میں لکھ دیا ہے اور ویسے بھی رزق عورت کے نصیب میں ہوتا ہے پھر بھی ہم بچوں کی شادی میں دیر کرتے ہیں

    دوسرا سب سے اہم مسلہ ہمارا معاشرے کا یہ بھی ہے کے ہم ان بچیوں کو قبول ہی نہیں کرتے جنکی زندگی میں پہلے کوئی تھا جیسے کسی لڑکی کا شوھر فوت ہو گیا ہو، کسی کو طلاق ہو گئی ہو یا کسی کی کسی بھی وجہ سے منگنی ٹوٹ چکی ہو

    اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے مرد جنکے قد چھوٹے، تعلیمی ڈگری نا ہونے، خوش شکل نا ہونے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری اور تیسری شادی کروانے کے حق میں نہیں ہوتے خوا اس مرد کی پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو اور اسے اولاد کی ضرورت ہو، خدا راہ اس معاشرے میں ٹوٹی منگنی، طلاق یافتہ ، بیوہ، رنڈوے، کالی رنگت والے، کم امدنی والے، دوسری یا تیسری شادی والے کو بھی اتنا ہی جینے کا حق حاصل ہے جتنا کسی کنوارے امیر لڑکے یا لڑکی کو ہے

    خدارا سبکو جینے دیں اور اس مسلے سے سبکدوش ہونے کے لئے اپنے بچے اور بچیوں کی شادی جلدی کرواہیں اور شریعت کے عین اصولوں کے مطابق رشتہ پکا کرنے سے چھان بین کر لیں اور پہلے استخارہ کر لیں اور پھر بات پکی کریں اور ساتھ ہی شادی نکاح کر لیں

    یوں سالوں سال منگنیاں کر کے بچوں کو آس امید پر رکھنا اور لٹکاے رکھنا بھی اچھا نہیں ہے اور آپ اس بات کی فکر نا کریں کے اپکا بچا شادی جیسی زمداری نہیں نبھا سکے گا میرا ماننا یہ ہے کے جو لڑکا اپنی girlfriend کے ناز نخرے اٹھا سکتا ہے اسکے خرچے اٹھا سکتا ہے وہ اپنی بیوی کے بھی اٹھا سکتا ہے اسلئے آپ اس بات کی tension نا لیں وہ کیسے مینج کرے گا

    پلیز نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں ادھر بچے شادی کے قابل ہوے تو آپکو انکا نکاح کرکے شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے

    مغرب میں اگر لڑکا/ لڑکی 12 سال سے 15 سال کی عمر میں live together کر سکتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو حلال رشتے میں کیوں نہیں اکٹھا کر سکتے پلیز اس بارے میں سوچیں اور غور سے سوچیں اور اس پر عمل کریں

    اور اس لفظ سے خود کو باہر نکالیں کے لوگ کیا کہیں گے لوگوں کی باتوں میں نا آئیں اپنے بچوں کی جلدی شادیاں کروائیں اور اس کام کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی motivate کریں تاکہ ہماری society گناہ اور زنا سے بچ سکے

    آپ ہمت کریں خود سے start کریں اپنے گھر سے start کریں رفتہ رفتہ باقی لوگ بھی آپ کے ساتھ اس نیک کام میں مل جاہیں گے بس آپ کو ہمت کرنا ہو گی

    نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں یہ آپ کی میری اور سبکی زمداری ہے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں.

    اللہ پاک ہم سبکے بچوں کی قسمت اچھی کرے..آمین 

    @ItzJadoon

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:   محمد جاوید

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:  محمد جاوید

    پاکستانی کرنسی نوٹ پہ لکھا ہوا جملہ "رزق حلال عین عبادت ہے”

    یہ جملہ صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ مسلمان کیلئے ایک پورا فلسفہ زندگی ہے.

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایمان والوں کو رزق حلال کی تلقین فرمائی

    اسی طرح متعدد احادیث اور روایات میں سرکار دوعالمﷺ  نے بھی اپنی امت کو حلال اور پاکیزہ رزق تلاش کرنے کمانے کھانے اور کھلانے کی تلقین فرمائی ہے.

    حلال رزق کا انسان کی نشو نماء پہ گھرا بلکہ بہت گھرا اثر ڈالتا ہے

    آج ایک دوست نے اسی حوالے سے ایک واقع سنایا تو پتہ چلا کہ ابھی بھی کس قدر ایماندار لوگ اس جہاں میں موجود ہیں

    واقع کچھ اسطرح ہے.

    کچھ دیر پہلے والد صاحب کو ایک کال آئی۔ میں بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اور یہ کال کسی کسٹمر کی تھی جو کہہ رہا تھا کہ” قریشی صاحب میں صبح آپ کے پاس دکان پر آیا تھا ، میرا ٹوٹل بل آٹھ ہزار روپے کا بنا تھا لیکن میں غلطی سے نو ہزار روپے دے گیا ہوں۔ ہم جب گھر واپس پہنچے تو میری بیگم نے یاد دلایا کہ گھر سے پورے نو ہزار روپے گن کر لے گئے تھے۔ مہربانی کر کے میرا ایک ہزار واپس کر دیجیے” ۔

    والد صاحب نے کہا ” پیسے تو میں نے بھی گن کر ہی دراز میں ڈالے تھے لیکن پھر بھی بھول ہو سکتی ہے۔ میں کنفرم کر کے آپ کو کچھ دیر بعد کال کرتا ہوں” ۔ کال ختم ہوتے ہی والد صاحب نے فوراً بھائی کو کال کی جو اس وقت دکان پر موجود تھے اور کہا کہ دراز میں موجود ٹوٹل رقم گنتی کرو اور کیلکولیٹر اپنے ساتھ رکھ لو۔ رات والے اتنے پیسے دراز میں موجود تھے اور میرے ہوتے ہوئے اتنے کسٹمرز آئے تھے جن کا بل اتنا اتنا بنا تھا۔ اس رقم کا ٹوٹل کرو اور اب دیکھو کہ میرے جانے کے بعد کتنے کسٹمرز آئے ہیں؟ ان کا بل کتنا بنا اسے ٹوٹل کرو۔ اب بتاؤ کہ دراز میں موجود رقم برابر ہے یا کوئی فرق ہے؟ معلوم ہوا کہ اس حساب سے تقریباً نو سو روپے زیادہ ہیں

    یعنی یہ اس بات کی گواہی تھی کہ گاہک ایک ہزار روپے زیادہ دے گیا تھا

    ایک سو روپے کا فرق تو بل میں بھی لگا سکتا ہے یا ممکن ہے کسی کو بل میں ایک سو زیادہ لکھ کے دیا ہو لیکن رعایت میں کسی نے ایک سو نہ دیا ہو  ۔۔

    اس کے بعد والد صاحب نے کسٹمر کو کال کی اور کہا آپ کا ایک ہزار امانت ہے کسی بھی وقت آ کر لے جائیں۔ کسٹمر نے شکریہ ادا کیا۔ والد صاحب نے یاد دلایا کہ پہلے آپ کا بل نو ہزار روپے کا بنا تھا لیکن پھر آپ نے کہا کہ آٹھ ہزار تک کا کر دیں جس کے بعد آپ کا کچھ سامان کم کیا تھا۔ جب آپ نے رقم دی تو شاید میرے خیال میں نو ہزار ہی چل رہے تھے ورنہ ایسا نہ ہوتا۔۔

    مجھے اس معاملے میں انتہا کا سکون مل رہا تھا۔ کچھ وقت اور محنت سے والد صاحب نے کسی کا بھلا کر دیا اور خود بھی محفوظ رہے کہ کسی کا حق غلطی سے بھی ہمارے پاس نہ آ جائے۔

     حلال کی رقم شاید کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

    یہ جملہ ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی سن رکھا ہے کہ حلال کی کمائی کبھی حرام میں نہیں جاتی 

    حرام کی کمائی ہی حرام کام کی طرف لے جاتی ہے.

    حلال کمائی تھوڑی بھی ہو تو برکت ساتھ لاتی ہے

    اور اگر حرام بہت سارا بھی جمع ہوجائے تو برکت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی

    ہم نے ایسے کئی واقعات پڑھے ہیں کہ زیادہ دولت و حرص کی لالچ نے 

    بہت بڑے بڑے پارسا اور نیک لوگوں کے ایمان بھی بگاڑ دئے

    اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا اثر براہ راست اپنے خاندان میں اپنے بیوی بچوں پر پڑتا ہے

    آجکل جو ماں باپ کی نافرمانی عام ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے انہیں رزق حلال نہیں کھلایا جاتا.

    صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلال کھانے والے کی اولاد کبھی نافرمان نہیں ہوتی.

    @M_Javed_

  • بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    جیسے ہی "امید کی شہزادی” نام سنا جاتا ہے ذہن میں آتا ہے کہ یہ ایک مصری شہزادی کا نام ہے جس کے وجود نے اس وقت کے لوگوں میں امید کی شمع روشن کی ہے۔  اس طرح وہ اس نام سے پکارے جانے لگے۔

    تاہم اس خیال کے علاوہ جو ذہن میں آتا ہے اس شہزادی کی ایک الگ کہانی ہے۔

    آئیے معلوم کریں۔

    بلوچستان کے ریگستانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے؟

    صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں ہیں جو کہ بے مثال ہیں۔  لیکن لوگ کئی جگہوں کی خوبصورتی سے بھی واقف نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی شہزادی بھی نہیں جو چند سال پہلے تک برسوں خاموش کھڑی رہی۔  تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں کھدی ہوئی یہ پتھر کی مجسمہ اب "امید کی شہزادی” کے نام سے مشہور ہے۔

    کراچی سے 190 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے کی شہزادی شاہی انداز میں ملبوس ہے۔  لمبی شہزادی خوبصورت دکھائی دیتی ہے لیکن اسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی چیز کی امید کر رہی ہو۔  اس مجسمے کو 2002 میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے شہزادی کا نام دیا تھا۔  انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور جب انہوں نے ہنگول نیشنل پارک کا دورہ کیا تو انہوں نے شہزادی کو برسوں تک پہاڑی سلسلے میں کھڑے دیکھا۔  اس شہزادی کو دیکھتے ہی یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اس مجسمے کی شہزادی کا نام تجویز کیا جو اس جگہ پر برسوں سے "امید کی شہزادی” کے طور پر موجود ہے۔  امید کی اس شہزادی کا نام ایک بار پھر مقبول ہوا اور یہ مجسمہ جو برسوں سے موجود ہے کو پہچان ملی۔

    اس سے پہلے یہ مجسمہ بحیرہ عرب کے ساحلوں کے قریب خاموشی سے کھڑا تھا ، تیز ہواؤں اور دھول کے طوفانوں کی زد میں آ جاتا لیکن یہ اپنی شناخت کے بغیر ویسا ہی رہتا۔  اس جگہ پر اسفنکس کا ایک اور مجسمہ بھی موجود ہے۔  یہ مصر کے مشہور مجسمہ اسفنکس سے مشابہت رکھتا ہے ، جو اس ویران صحرا میں کھڑی شہزادی کی اکلوتی دوست ہے۔  ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750 سال پرانے اور تاریخی ورثہ ہیں۔ 

    یہاں کیسے پہنچیں؟

    کراچی سے سفر کرنے والے لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔  ہفتے کے آخر میں یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 

    ہنگول نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔ 

    1: ٹور آپریٹر سے بکنگ کروائیں اور پھر آسانی سے یہاں پہنچیں۔

    2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ کا نقشہ گوگل کی مدد سے محفوظ کریں اور پھر یہاں پہنچنے کے لیے گاڑی چلائیں۔ 

    یہاں پہنچنے کے لیے پہلے حب آئیں پھر زیرو پوائنٹ کا سفر کریں۔  مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ، آپ کو کچھ انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس سفر کو یادگار بناتے ہیں اور آپ کو کبھی تھکا نہیں دیتے۔  جب آپ یہ سفر جاری رکھیں گے تو آپ ہنگول نیشنل پارک پہنچ جائیں گے۔

    یاد رکھیں کہ یہ روڈ ٹرپ کچھ جگہوں پر بہت مشکل ہے کیونکہ ہائی وے پر سہولیات کی کمی اس سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔  اپنے ساتھ اضافی ایندھن ضرور لیں تاکہ پٹرول ختم نہ ہو۔  یہاں کوئی میکانکس یا آٹو شاپس نہیں ہیں ، لہذا کچھ کاروں کی مرمت کے اوزار اپنے پاس رکھیں تاکہ انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔  اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی گاڑی اچھی حالت میں ہے اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔  اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ ہو تو یہاں سفر نہ کریں۔ 

    اخراجات اور سامان:

    اگر آپ ٹور آپریٹر بک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو کراچی سے ہنگول نیشنل پارک تک کے سفر کے لیے فی شخص 3500 سے 5000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔  ٹور آپریٹرز دو طرفہ ائر کنڈیشنڈ بسیں استعمال کرتے ہیں۔  ٹور آپریٹرز ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، پانی کی بوتلیں ، سافٹ ڈرنکس ، نمکین اور دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافر بھی فراہم کرتے ہیں۔  اسی طرح جو لوگ خود جانا چاہتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھانا ، سنیکس ، کیمرہ وغیرہ بھی لے جائیں تاکہ وہ شہزادی ہوپ کے ساتھ کھڑے ہو کر یادگار تصاویر کھینچ سکیں۔

    پرنسس آف ہوپ اور ہنگول نیشنل پارک میں آنے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ، لیکن اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔  جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اپنے اور اپنے پیاروں کے نام مجسمے کے قریب دیواروں پر تیز اشیاء یا مارکروں سے لکھتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر جہاں آپ لوگوں کے نام لکھے ہوئے دیکھیں گے جو اس جگہ کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی ورثے کو متاثر کرتے ہیں۔

    بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی مقامات اور تاریخی اعتبار سے اہم ہے۔  کنڈ ملیر ، ہنگول نیشنل پارک ، ہنگلاج ماتا مندر اور شہزادی ہوپ ، اورماڑہ اور گوادر میں کئی سیاحتی مقامات ہیں جنہیں سجایا خوبصورتی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کو یہاں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس ، ہوٹل ، کھانے کی دکانیں ، پٹرول پمپ اور زائرین کے لیے دیگر ضروریات کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہاں سیاحت کو مزید ترقی دی جا سکے۔

    @iHUSB

  • مچھلی کے ٹینک کو کیسے صاف کریں تحریر: محمّد اسحاق بیگ

    میٹھے پانی کے مچھلی کے ٹینک میں ٹینک کے سائز کے لحاظ سے ہفتے میں تقریبا 30 منٹ سے ایک گھنٹہ کام کی ضرورت ہوتی ہے۔

     آپ کو کیا ضرورت ہو گی :

     1) آپ کو ایک صاف 5 گیلن بالٹی کی ضرورت ہوگی جس کے اندر کبھی کیمیکل یا صابن نہ ہو۔

     2) ایک نلی یا بجری صاف کرنے والی چھاننی ۔

     3) قدرتی یا مصنوعی سمندری نمک کا ایک بیگ۔

     میں نے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں ٹینک کو ہر ہفتے اسی دن صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور فلٹرز جو ہر 2 یا 3 ہفتوں میں صاف کیے جا سکتے ہیں۔

     اپنے مچھلی کے ٹینک کی صفائی شروع کرنے سے پہلے آپ کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ٹینک ہے تو اسے ہٹا دیں۔  ہیٹر کو پانی سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ یہ گرم ہے لہذا اسے ہٹانے کی کوشش کرنے سے پہلے کم از کم 20 منٹ تک اسے پلگ ان چھوڑنا یقینی بنائیں۔  پانی ہیٹر پر شیشے کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ ٹوٹ سکتا ہے ، یا گلاس مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔  آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی مچھلی کے ٹینک کے اندر کبھی بھی ہاتھ نہ لگائیں اس بات کو یقینی بنانے سے پہلے کہ ہیٹر نہ صرف بند ہے بلکہ سوئچ بورڈ  سے نکلا ہوا ہے۔  ذرا سی کوتاہی آپ کے لیے ایک جھٹکا لگانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو کہ مہلک ہو سکتا ہے۔

     ہیٹر کے پاس ٹھنڈا ہونے کا وقت ہونے کے بعد آپ ٹینک سے ہیٹر کو محفوظ طریقے سے ہٹا سکتے ہیں یا یہ ہیٹر زیر آب ہے آپ اسے نیچے ٹینک کے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔

     اب جو بھی سجاوٹ آپ نے ٹینک میں رکھی ہے اسے لے لو ، لہذا آپ کے پاس نیچے کی چھوٹی بجری ہے ، اس سے آپ کو کوئی بھی گندگی مل جائے گی جو کہ ان سجاوٹوں نے چھپا رکھی ہے۔  اب اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والا نہیں ہے تو آپ کو اپنی آستینیں اٹھانا پڑیں گی اور اپنے ہاتھوں کو گیلا کرنا پڑے گا۔  آپ کو بجری کو ہلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ گندگی کے درمیان پانی میں داخل ہو جائے ، اور پانی کو چھاننی  سے بالٹی میں نکالنا شروع کردے۔  پانی کو باہر نہ پھینکیں آپ کو فلٹر صاف کرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑے گی۔

     اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والی چھاننی  ہے تو ، پلاسٹک کی ٹیوب کو بجری میں دھکیلیں یہاں تک کہ یہ ٹینک کے نیچے سے ٹکرا جائے ، پھر بالٹی میں ایک سائفون شروع کریں ، ہر سیکنڈ یا 2 بجری کلینر کو ایک انچ یا 2 پر منتقل کریں اور اس عمل کو دہرائیں  آپ نے 15 فیصد ٹینکوں کو ہٹا دیا ہے پانی نے تمام بجری صاف کر دی ہے۔

     اب اس مقام پر آپ ایکویریم فلٹرز صاف کر سکتے ہیں۔  فلٹرز کے اندرونی حصے بیکٹیریا کو بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو مچھلی کے فضلے اور ناپاک کھانے سے پانی میں موجود نائٹریٹس اور نائٹریٹس کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔  اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ان تمام ایکویریم دوستانہ بیکٹیریا کو نہیں مارتے ، ہم فلٹر میٹریل اور سپنج کو گندے پانی میں صاف کرتے ہیں جو  آپ کے ہاتھ بھی بیکٹیریا سے بھرا ہوئے ہیں ۔  ہر چیز کو فلٹرز سے نکالیں اور انہیں گندے ایکویریم پانی کی بالٹی میں کللا کریں ، پھر سپنج کو بالٹی میں ایک دو نچوڑ دیں اور فلٹرز کو دوبارہ جوڑیں ، اور انہیں واپس ٹینک پر رکھیں۔

     اب پانی میں سمندری نمک ڈالنے سے پہلے ٹینک میں شامل کرنا ضروری ہے۔  تمام پانی میں کچھ مقدار میں نمک ہوتا ہے اور مچھلی کے قدرتی افزائش  کو نقل کرنے کے لیے آپ کے ٹینک میں بھی نمک ہونا ضروری ہے۔  ہر 50 گیلن پانی میں تقریبا 1 کپ سمندری نمک شامل کریں۔

     اب آپ ٹینک میں پانی ڈال سکتے ہیں ، لیکن آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانی ٹینک میں پانی کے درجہ حرارت کے ایک یا دو ڈگری کے اندر ہے۔  ٹینکوں کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اچانک مچھلی کو صدمے میں ڈال سکتی ہے اور انہیں مار سکتی ہے یا ان کی قوت مدافعت کو کمزور کر سکتی ہے اور انہیں مچھلی کی بیماری میں مدد دے سکتی ہے۔  میں بالٹی کو گرم پانی سے بھرنے اور اسے باقاعدگی سے چیک کرنے کی تجویز دیتا  ہوں جب تک کہ یہ ٹینکوں کا درجہ حرارت جیسا نہ ہو ، پھر آہستہ آہستہ ٹینک میں پانی ڈالیں ، فلٹر اور ہیٹر سیٹ  کریں۔

     فلٹر کی صفائی صرف مہینے میں ایک یا دو بار کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن ٹینک میں پانی ہر ہفتے اسی دن صاف کرنا ضروری ہے

     امید ہے کے میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں کامیاب ہوا ہوں اگر پھر بھی سمجھ نا اے تو آپ رابطہ کر سکتے ہیں ویسے بھی یہ کام الفاظوں میں لکھنا نہایت ہی مشکل ترین ہے ۔

     میں نے کوشش تو کی ہے اب یہ آپ نے بتانا ہے کے میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا پایا بھی ہوں کے نہیں 

     دعاؤں کا طلب گار 

     

     

    @Ishaqbaig___

  • بلوچستان زلزلہ تحریر   ار کے

    بلوچستان زلزلہ تحریر ار کے

    ترجمہ ۔
    "”ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں "” الاسراء ( 59 ) ۔
    چھ اکتوبر کو ایک دوست کی دعوت پر کراچی سے شام چھ بجے کوئٹہ بلوچستان پہنچا۔ پرتکلف عشائیے کے بعد دن بھر کے سفر سے نڈھال میزبان کے کثیر منزلہ بیٹھک ( مہمان خانہ ) کے اوپری منزل میں تقریبا رات گیارہ بجے لیٹا ہی تھا ،کب کیسےانکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔
    ادھی رات کو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے بیڈ کو جھولا دے رہا ہو بِلبِلا کر اٹھا ۔
    بیڈ مسلسل ہچکولے کھارہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ریا تھا اٹھتے ہی موبائل ٹارچ ان کیا تو  ٹائم تین بج کر دو منٹ تھا بیڈ ہی نہیں پورا بنگلہ جھول رہا تھا ۔
    کھڑکیوں اور دروازوں کے کھڑکھڑانے کی خوفناک اوازوں سے اور بھی سہم گیا تھا۔
    مجھے سمجھنے میں زیادہ دیر نا لگی۔ خوف اور زلزلے کی تباہ کاریاں جاننے کے باوجود پژمردگی سےاپنے حواس پر قابو رکھا اور مسلسل ایات الکرسی کاورد کرنے لگ گیا تھا۔
    اتنی دیر میں چند اور مہمان جو نچلی منزل میں ٹھہرے تھے اور میزبان ساتھیوں کا شور سنائی دیا وہ چیخ رہے تھے باہر نکلو زلزلہ ہے۔
    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے  جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی شروع ہو چکی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جاگ کر باہر نکل سکے۔
    مسجدوں میں اعلانات اور اذانیں بھی شروع ہو گئیں۔
    کوئٹہ واسی کافی چوکس تھے یاد رہے مئی 1935 کا تباہ کن زلزلہ بھی رات تین بج کر تین منٹ پر ایا تھا ، جس سے چند ہی سیکنڈ میں کوئٹہ ملیا میٹ ہوا تھا اور 70 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے تھے ،اس کے مقابلے میں موجودہ کوئٹہ کافی گنجان اباد اور خطرناک ہے ۔ کیونکہ کوئٹہ خطرناک فالٹ لائن پر واقع ہے۔
    میں کچھ دیر بیڈ پر ساکت بیٹھا رہا جھٹکے تقریبا رک چکے تھے میں اٹھا وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ ربّ سے اپنے کردہ ناکردہ ،جانے انجانے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہا اور امت رسول ﷺ کی حفاظت و خیریت کی دعائیں مانگتا رہا۔
    اتنی دیر میں دوست اوپر میرے پاس پہنچا اور باہر روڈ پہ نکلنے کی ضد شروع کر دی، میں نے  باہر نکلنے کی حامی بھری اور دوست کے ہمراہ باہر مین روڈ پہ نکل ایا۔
    باہر ا کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ روڈوں پہ جمِ غفیر امڈ ایا تھاہر طرف لوگ ہی لوگ۔خواتین بوڑھے اور بچوں سے روڈ بھرے تھے۔ہر چہرہ خوفزدہ تھا  نفسا نفسی کا عالم تھا سب نوح کناں تھے۔
    ہر ایک کی لبوں پہ ذکر قرانی تھا کچھ با اواز بلند ذکری کلمات پڑھ رہے تھے اور کچھ گڑ گڑا کر اپنی گناہوں کی معافیاں مانگ رہے تھے۔
    ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی لیکن اللہ تبارک تعالی کا کرم خاص تھا کہ موسم زیادہ سرد نا تھا اگر کچھ دن کے فرق سے یہ زلزلہ اتا تو زلزلے کے ساتھ ساتھ سردی کی تباہ کاریاں بھی مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھیں۔
    مں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس پاس پڑوس سے ابھی تک  کسی جانی یا  مالی  نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
    ایک اور بات جو میں نے مشاہدہ کی تھی کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے والےبدعتی لوگ ،  دولت ،شہرت و بلند مرتبوں کے زعم میں مبتلا  گمراہ لوگ ،  سب کچھ بھول کر اپنے عہدوں پیسوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر، بے سر و عالم ایک اللہ کی طرف متوجہ تھے ۔
    فجر کے اذانوں تک اکثر لوگ باہر تھے اذانوں کے بعد بغرض باجماعت  نماز دوست کے ہمرا مسجد کا رخ کیا تو خلاف توقع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
    بے شک ، میرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
    "زُلْزِلَتْ” زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں
    ایک پارسا مسلمان  کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ زلزلے بلاسبب نہیں اتے اور  ان کیلیےزلزلوں کے دنیاوی اسباب سے انکار ناممکن  ہے بلکہ اس کے پیچھے اللہ سبحان تعالی کا حکم کار فرما ہونا ہی سمجھتا ہے۔
    قران و حدیث کی رو شنی میں ،لوگوں کے برے اعمال زنا، سُود اور شراب نوشی کا عام ہونا۔ لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان بُرے اعمال کو نا صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا، رشوت خوری ،حلال حرام کی تمیز  سے مبرا ہوکر صرف دولت جمع کرنا ،زکواۃ نا دینا ،غریبوں یتیموں کے حق پہ ڈاکہ مارنا ہی دراصل زلزلوں  کے اسباب ہیں۔
    اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں
    کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہيں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگۓ ہیں تواللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا ۔ 
    الاعراف ( 97 – 99 ) ۔
    زلزلے آنے پر ہمیں اپنی سر کشی سے گریز کرنا چاہیے اور اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہو ئے زندگی گزاریں گے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے کردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی جائے۔تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہمارا رب غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کیلیے توبہ کے دروازے  ہمیشہ کُھلے رکھتا ہے اور افتیں بھی ٹال دیتا ہے۔تحریر : اے ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله

    ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله


    کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے؟
    جی نہیں معذرت کے ساتھ مجھے جمھور سے اختلاف ہے میری رائے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہیں تھے  اُن کے کچھ ایسے راز جو ہم نہ جان سکے اُن کی کچھ باتیں جو ان کے حیات ہونے کے دوران پسِ پردہ رہیں !
    حدیث نبوی ہے "تیر بنانے والا” تیر پہنچانے والا اور تیر چلانے والا تینوں جنتی ہیں
    قارئین تیر اندازی والوں کے لئیے یہ بشارت کس لئیے ، یہ بشارت اس لئیے نہیں کہ انہوں نے تیر ایجاد کیا بلکہ یہ بشارت اس لئیے ہے کہ انہوں نے اس ایک تیر سے غلبہ اسلام کی کوششیں کی تھیں ۔دین حق کی سر بلندی کے لئیے نعرہ لگانے کا ثمر یہ ملا کہ اس تیر کی تیاری سے لے کر اس کے آخری استعمال تک اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو جنت کی بشارت دے دی گئی
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ایٹم بم نہیں بنایا بلکہ عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرکے دنیائے کفر میں ایک امر حقیقت کے طور پر ثابت کیا
    قارئین یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیائے گفر کی طاقتیں "ایٹم بم "کے زور پر ایک دوسرے زیرو زبر کررہی تھیں اس وقت اسی کا ڈنکہ ہوتا تھا جس کے پاس جس ایٹمی ہتھیار ہوتے تھے
    تاریخ کائنات میں وہ موڑ تھا جب عالم اسلام عالمِ کفر کے زیرنگیں تھااور انہی کے رحم وکرم پر اپنی بقا چھوڑے ہوئے تھے
    تبھی رب کائنات نے پاکستان کی سرزمین کا ایک سپوت چُنا اس وقت اس کے پاس دُنیا کمانے کے لئیے بہت کچھ تھا وہ چاہتا تو اس کی نسلیں عیش کرتی وہ ایک عام انسان نہ تھا بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ سائنسدان اس کو دنیائے کفر کی خدمات کے لئیے بڑا معاوضہ ملتا تھا لیکن اسے جانے کیا سوجھی دنیا کی عیش و عشرت،مال و متاع چھوڑ پاکستان کی جانب چل دیا اور دنیا سے تعلق توڑ عالم اسلام کو ایک عالمی طاقت بنانے کی خواہش لئیے پاکستان میں ڈیرے ڈال دئیے
    قارئین پاکستان کے بارے میں یہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کوئی ملک نہیں یہ رب کریم کا معجزہ ہے اور اس پاک ذات کے رازوں میں ایک راز ہے 27 رمضان کو پاکستان کا قیام بذات خود ایک معجزہ ہے اور سرزمین پاکستان اسی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عالمِ اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنے کھڑی ہے اور جب جب اسلام پرطکچھ مشکل وقت آیا تو پاکستان یا اس کے سپوتوں نے خدمت اسلام کو جہاد سمجھ کر سر پر کفن باندھ کر اسلام کا نام سر بلند کیا
    اسلام کو ناقابلِ فراموش عالمی حقیقت بنانے کے لئیے بھی رب جلال نے سرزمینِ پاکستان اور اس کے مجاہد سپوتوں کا انتخاب کیا اور 6 مئی 1998 کو اقوام عالم نے وہ منظر دیکھا جس کے بعد وہ جان گئے کہ اب اسلام کو تا قیامت کوئی دبا نہ پائے گا
    قارئین یہاں یہ بات قابل فکر و تدبر ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنایا تب سے اب تک دُنیائے کفر اسے "اسلامی بم” کے نام سے جانتی ہے گویا یہ ایٹم بم بنانے کا جو معرکہ تھا وہ کوئی ملکی یا قومی معرکہ نہ تھا بلکہ یہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا یہ حق اور باطل کی تفریق کا معرکہ تھا
    یہ تاریخ اسلام میں مسلمانوں کی دنیوی زبوں حالئ کے باوجود دنیا میں اپنے نام کو قائم و دائم اور سربلند رکھنے کا معرکہ تھا تو یہ معرکہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان ” نے سر کیا اور حق و باطل میں پھر سے حدِ فاصل قائم کردی !
    قارئین اب چلتے ہیں میرے آرٹیکل کے شروع میں دئیے گئے جواب کی جانب اس دلیل پر میں حق پر ثابت ہوا کہ "ڈاکٹرعبدلقدیر خان” قومی ہیرو نہیں بلکہ اسلام کے ہیرو ہیں
    اب یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہم نے رب کے دئیے ہوئے اس معجزے کو پہچان نہ دی ہم نصابی  اور تاریخی کتب میں اسلامی ہیروز کے نام تو پڑھتے رہ گئے لیکن اس مرد مجاہد کی اس کی اصل پہچان نہ دی
    اسلام پہ کئے  گئے اس احسان کو احسان نہ مانا اور اللہ کے اس ولی کے فیض سے محروم رہ گئے
    ہم طارق بن زیاد کوتو یاد کرتے ہیں ہم سلطان صلاح الدیین ایوبی کی بہادری کے ڈنکے توبجاتے ہیں ہم سلطان محمودغزنوی کو امت کا لیڈر تو مانتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے اس جانباز اور درخشندہ ستارے کو کبھی پہچان نہ پائے اب اسے کامیابی کہیے یا ناکامی قومی خوشنصیبی کہیے یا بدنصیبی ۔اخلاقی انحطاط کانام دیں یا اخلاقی عروج کا اسے سزا سمجھیں یا جزا حقیقت یہی ہے کہ رب کریم نے ہم میں ایک اپنا چُنا ہوا بندہ بھیجا اس سے عالم اسلام کی خدمت کاکام لیا ولیوں جیسی گمنام زندگی دی اور اسی خاموشی سےاسے اپنی طرف بلالیا
    ہم نہ تو اس کی خدمات سے فیض لے پائے نا اس ولی اللہ کی پہچان کر اسکی خدمت کا موقع بھی فراہم ہوا
    اللہ پاک مرحوم کوکروٹ کروٹ سکون و بخشش نصیب فرمائے اور ہم جیسے بندہ ناچیز سے بھی عالم اسلام کی سربلندی کے لئیے چھوٹاموٹا کام لےلے تاکہ ہمیں بھی شفاعت کا کوئی ذریعہ نصیب ہو
    آمین
    ستارے تو روز ہی ٹوٹ کر گرتے ہیں
    غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے 💔

    ‎@sanaullahakhtar

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ


    ‎@mnasirbuttt

    یوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری زندگی سائنسی تجربات، قوم کے درد اور کمزوروں کا سہارا بنتے گزری لیکن زندگی کے آخری ایام میں بھی قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کا درد ان کے دن میں موجود تھا، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میڈیکل کمیشن، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کو آمنے سامنے دیکھا، متاثرہ سٹوڈنٹس کا دکھ برداشت نہ ہوا اور کمزوری کی حالت میں بھی طلبا کے شانہ بشانہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کو بلاتے ہی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کو لیکر چلیں، میں بھی دیکھتا ہوں اس قوم کے سٹوڈنٹس کے ساتھ میرے ہوتے ہوئے کون زیادتی کرتا ہے، دکھ اس بات کا ہے اور شائد اب ساری زندگی ساتھ چلے کہ قوم کے اس محسن کو بس پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والے پٹیشن پر دستخط کرنے کا ہی موقع مل سکا اور کیس سماعت کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہی ان کا مقررہ وقت آن پہنچا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، آج جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو اس میں انہوں نے پی ایم سی کے کنڈکٹ آف ایگزامنیشن ریگولیشن 2021 کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس پر پولیس کے لاٹھی چارج سے دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور طلبا کو مناسب وقت دیے بغیر امتحان کا نیا سسٹم متعارف کرانا درست نہیں، ایڈووکیٹ وقاص ملک سے بات ہوئی تو انہوں نے واضع کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ینگ ڈاکٹرز کے لیے پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور یوں محسن پاکستان کی آخری دستخط شدہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد کی وقاص ملک ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں شامل صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر فیض اچکزئی اور چیرمین ڈاکٹر حیدر عباسی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایم ڈی کیٹ، این ایل ای سمیت پی ایم سی کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے، دوسری جانب آگ میں تیل کا کام پی ایم سی صدر و نائب صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں تب ہوا جب حکام کی جانب سے یہ کہہ کر پریس کانفرنس چھوڑنے کر جانے کی راہ لی گئی کہ صحافیوں کے تمام سوالات پلانٹڈ ہیں جس پر صحافیوں کی جانب سے بھی خوب اظہار ناراضگی اور شدید احتجاج کیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے پر کس حد تک نظر ڈالتی ہے