Baaghi TV

Category: متفرق

  • پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    روزانہ کی بنیاد پر احتجاج, ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے, مظاہرین سخت نعرے بازی اور دھرنوں کی حکمت عملی سے جب میڈیا اور حکام بالا کی توجہ اپنی طرف مبزول کروانے میں ناکام ہو جائیں تو پرتشدد کاروائیوں کا آغاز کیا جاتا ہے, احتجاجی دھرنوں کی تاریخ اٹھا لیں تو یہ چیز عام ہے کہ جب تک پرتشدد حالات پیدا نہ کیے جائیں مجال ہے اخباری سرخیوں یا ٹی وی ہیڈلائینز یا یوں کہیں سوشل میڈیا کی نیوز فیڈ میں آپ کو جگہ مل سکے, جوں ہی مار دھاڑ کا سلسلہ چل پڑتا ہے تو بڑے نام آپ کے نام کی ٹویٹ بھی داغتے ہیں اور بڑے چینلز آپ کو ہیڈلائن کا حصہ بھی بنانے پر مجبور ہوتے ہیں, یہ ہی ہوا کل جب این ایل ای امتحان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ملک بھر سے پاکستان میڈیکل کمیشن کی بلڈنگ کے سامنے پہنچے, پہلے تو کئی گھنٹے نعرے بازی اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہا لیکن جب کام نہ بنا تو ڈاکٹرز کی جانب روڑ بلاک کرکے دھرنا دے دیا گیا, اس ساری صورتحال میں اب تک ایس پی صدر نوشیروان علی کی سربراہی میں خاموش تماشائی کا ہی کردار ادا کرتی رہی لیکن جب مشتعل ڈاکٹرز کی جانب سے پی ایم سی کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش کی گئی تو پرسکون انداز میں کھڑی اسلام آباد پولیس حرکت میں آگئی اور پھر کیا تھا میدان جنگ کے مناظر تھے, پولیس اہلکاروں کی کوشش تھی کہ کوئی ڈاکٹر پاکستان میڈیکل کمیشن کی عمارت میں نہ گھس سکے تو ڈاکٹرز کے سر پر پی ایم سی کی بلڈنگ میں فتح کا جھنڈا گاڑنے کا جنون سوار تھا, اسی کشمکش میں ڈاکٹرز اور پولیس گھتم گتھا ہوئی, پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو ڈاکٹرز نے بھی بے دریغ اینٹیں برسائیں, اس دوران کئی ڈاکٹر کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئی, آگ کو ہوا دینے کا لمحہ تب آئے جب ینگ ڈاکٹرز کے ایک رہنماء کی جانب سے بیچ بچاؤ کروانے والے ایس پی صدر نوشیروان پر حملہ کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس دوران پولیس افسر کی عینک ٹوٹ گئی اور وردی کو پھاڑ دیا گیا جبکہ ایس پی پولیس زخمی ہوگئے تاہم جوابی کاروائی میں اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹرز کی بھی درگت بنائی گئی, اس ساری صورتحال میں ایس پی پولیس اور ڈاکٹرز کی ہاتھا پائی کی ویڈیو نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ مین سٹریم میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنائی اور افسوسناک واقعہ پر حکام بالا میں بھی غم و غصہ پایا جاتا رہا تاہم معاملات کو نمٹانے کی غرض سے ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات, ایڈیشل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد رانا وقاص, متعلقہ اے سی, قائمقام ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد ملک جمیل ظفر بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے دو مطالبات سامنے رکھ دئیے گئے, پہلا مطالبہ گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا تھا جبکہ دوسرے مطالبے میں نائب صدر پی ایم سی کا استعفی مانگا گیا, شام تک وزارت صحت حکام کی موجودگی میں مزاکرات ہوئے اور بالاآخر گرفتار ڈاکٹرز کو رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹرز نے اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈی سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا اور مریضوں کی خواری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اب ہسپتالوں میں سماں یہ ہے کہ بیماری ساتھ لیے جیب میں چند روپے ڈال کر علاج کی غرض سے ہسپتالوں کا رخ کرنے والے غریب مریض گیٹ پر لگے بڑے بڑے تالے اور ینگ ڈاکٹرز کے نعرے سنتے ہوئے مایوس ہوکر واپسی کا رخ اختیار کر رہے ہیں, اب سوال بس اتنا ہے کہ مانا کہ مطالبات جائز ہونگے, مانا کہ پولیس نے سختی کی ہوگی لیکن اس ساری صورتحال میں اس غریب مریض کا قصور کیا ہے جو ٹیکس دیکر بھی حکومت کی فراہم کردہ بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہوگیا؟؟؟

  • صنعت اور پاکستان    _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت اور پاکستان   _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت کسی بھی ملک کی معیشت کا بنیادی جزو  ہے صنعت کا ارتقاء 1835 سے ہوا دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی صنعت کے ذریعے اپنے ملک کی معیشت میں انقلاب برپا کئے صنعت 1835 میں  برطانیہ سے شروع ہوئی برطانیہ نے ٹیکسٹائل صنعت کا آغاز کیا بعدازاں امریکہ اور یورپ نے اپنی صنعت پر کام کیا اور اپنا لوہا منوایا 1870 میں صنعت کے کام میں تیزی سے اضافہ ہوا

    ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں صنعت کا بہت اہم کردار ہے  عمومی طور پر صنعت دو طرح کی ہوتی ہے چھوٹی صنعت بڑی صنعت ۔

    چھوٹی صنعت سے مراد ایسی صنعت ہوتی ہے جس میں بیس سے کم لوگ کام کرتے ہوں ، ایسی صنعتیں آپ کو پاکستان میں مختلف مقامات پر نظر آئیں گی جیسا کے کپڑے اور دھاگے کی صنعتیں وغیرہ، ایسی صنعتوں سے علاقہ میں بے روزگار افراد کو روزگار مہیا کیا جاتا ہے اور نوجوان اپنے شہر سے روزگار کے لیےہجرت کرنے سے بچ جاتے ہیں اس سے لوگوں میں ملکی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بھی بڑھتا ہے

    چین بنگلہ دیش امریکہ اور جاپان جیسے ممالک کے لوگ اپنی ضرورت کی اشیاء اپنے ملک میں ہی بناتے ہیں اور اپنے ملک کی بنائی گئی اشیاء کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ پاکستان انڈیا عرب ممالک اور افریقی ممالک مضبوط صنعت نا ہونے کی وجہ سے  اپنی ضروریات کی اشیاء بھی اپنے ممالک سے پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انہیں دوسرے ممالک کی بنائی گئی اشیاء پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے معیشت پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

    بنگلہ دیش نے اپنی صنعت کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائی آج بنگلہ دیش کی صنعت پاکستان کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے  بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کا 28٪ فیصد حصہ صنعت سے آتا ہے   جبکہ پاکستان کی صنعت صرف 17 فیصد حصہ جی ڈی پی میں شامل کرپاتی ہے

    دوسری مثال چائنہ کی سب کے سامنے ہے جو اس وقت دنیا میں نمبر ون معاشی طاقت بن چکا ہے، اس کا مقابلہ اب امریکہ اور روس سے ہے۔ یہ وہی چائنہ ہے جو پاکستان کو 74 کی دہائی میں  رول ماڈل سمجھتا لیکن آج وہ کہاں پہنچ گئے اور ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے چھوٹی صنعتوں پر توجہ دی، اپنے گھروں کو کاروباری صنعتوں میں تبدیل کر دیا یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 60% چیزیں چائنہ کی فرخت ہو رہی ہیں 

      لیکن پاکستان پچھلے 74 سالوں میں اپنی صنعت کے لیے کوئی مؤثر پالیسیاں بنانے میں ناکام رہا ہے

    موجودہ حکومت کی کوششوں اور پالیسیوں سے پاکستان میں کاروں  کی انڈسٹری اور موبائل فونز کی انڈسٹری کا آنا ایک خوش آئند بات ہے جس سے نا صرف ملک کے ریوینیو میں اضافہ ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا امید ہے کہ موجودہ حکومت باقی صنعتوں لیے بھی مؤثر پالیسیاں بنائے۔ خدا میرے ملک کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے۔ آمین۔

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی میڈیا پر اس وقت ایک سٹوری کا بہت زیادہ چرچا ہوا رہا ہے اور وہ ہے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی گرفتاری۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے اس خبر کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟اس کی آڑ میں وہ کون سی اہم خبریں ہیں جن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟کس طرح سے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا اپنی ہی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

    شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو تین اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد آج اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اب سات اکتوبر تک کے لئے ریمانڈ پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے آریان خان کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک کروز شپ پر پارٹی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا۔ ویسے سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدت پسند مودی کے بھارت میں جہاں شراب کی فروخت قانونی ہے وہاں چرس پینے کے الزام میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔
    خیر آریان کی گرفتاری کی اطلاع جیسے ہی سامنے آئی تو سلمان خان بھی فورا شاہ رخ خان کو تسلی دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ جس کے بعد پاپا رازی کی ایک بڑی فوج شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کے باہرنظریں جمائے بیٹھی ہے تاکہ ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے اور ان کی تصاویر بنائی جائیں۔ جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کی سیکیورٹی ٹیم نے بالی ووڈ کے ستاروں کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ وہاں آنے سے گریز کریں۔ لیکن ٹیلی فون پر دپیکا پڈوکون ، کرن جوہر ، روہت شیٹی، سنیل شیٹی سمیت تقریبا تمام ہی اداکار اور اداکارائیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بالی وڈ کے تمام لوگ آریان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ آریان خان کو آج ضمانت مل جائیگی لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ رخ خان کا بیٹا اور اس کو ضمانت تک نہیں مل سکی۔ ویسے تو اس حادثے کے بعد شاہ رخ خان کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ انڈیا میں جب عام مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔ وہ ظلم جس پر شاہ رخ خان کبھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے، خاموش رہتے ہیں بلکہ بعد میں جاکرمودی کے ساتھ دعوتوں میں شریک ہو کر سیلفیاں بناتے ہیں۔ لیکن آج وہ مودی سرکار ان کے کام نہیں آ رہی ان کے بیٹےکو ضمانت تک نہیں دی جا رہی۔ بلکہ اس خبر کو اور زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ صرف بھارتی میڈیا کے آج تک نیوز نے اس خبر پر سو سے زیادہ ٹوئیٹس کئے ہیں۔اب میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟آپ خود سوچیں کہ آریان خان خود کوئی Celebrity
    تو تھا نہیں کہ اس کا اتنا چرچا ہو رہا ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے اس پہلے بھی کئی بالی وڈ شخصیات کے بچے یا خود کامیاب اداکاراور اداکارائیں ڈرگز کے استعمال پر یا دوستوں کے ساتھ ڈرگز پارٹیاں کرنے کے الزامات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ ڈرگز سے متعلق خبر تھی اس لئے اس کو اتنی اہمیت دی گئی تو ایسا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی ہفتے پہلے بھارتی گجرات کے Mundra port پر تقریبا تین ہزار کلو ڈرگز پکڑی گئی تھی جس کی مالیت تقریبا اکیس ہزار کروڑ ہندوستانی روپے بنتی تھی۔ لیکن اس پر یہ پورا بھارتی میڈیا خاموش رہا تھا اس خبر پر اتنی ہزار ٹوئیٹس نہیں ہوئیں تھیں جتنی آریان خان پر خبریں بنا کر ٹوئیٹس کی جا رہی ہیں۔ آریان کے حوالے سے شاہ رخ خان کی پرانی پرانی ویڈیوز کو بھی نکال کر دوبارہ سے وائرل کیا جا رہا ہے۔

    اس کے پیچھے مودی سرکار کی سازش کیا ہے جس میں بھارتی میڈیا بھی پارٹنر بنا ہوا ہے۔دراصل اس واقع کی آڑ میں دو بہت ہی اہم خبروں کو چھپایا جا رہا ہے۔ایک خبر تو یہ ہے کہ بی جے پی پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے روڑکی میں ایک چرچ پرتین اکتوبر کو 200 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اور یہ شر پسند آپ خود جانتے ہیں کہ کون ہو سکتے ہیں۔ یہ شر پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لوگ تھے جن کو مودی سرکار کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ اس حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اور ان ہندو انتہا پسندوں نے فرنیچر، تصویریں اور موسیقی کے آلات وغیرہ بھی توڑ دیے تھے۔ وہ حملہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگاتے جا رہے تھے۔
    اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں پہنچی۔ چرچ انتظامیہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے اب تک کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا مسیحی برادری اور چرچ کے ہی نو افراد کے خلاف کیس درج کر دیا۔ اور ان پر ایک خاتون کو دھمکی دینے اور حملہ کرنے کے الزامات لگا دئیے گئے۔حالانکہ اب چرچ کے قریب ایک گھر کے پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دباو کی وجہ سے اب تک متاثرین کے خلاف درج کرایا گیا کیس منسوخ نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی حملے میں ملوث لوگوں کی شناخت کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیا۔اور اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے ہمیشہ مودی سرکار کے پاس ایک ہی گھسی پٹی وجہ ہوتی ہے۔۔ جو کہ بی جے پی کے ریاستی صدر مدن کوشک نے اپنے بیان میں بتا بھی دی ہے کہ اس چرچ کا استعمال ہندووں کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہو رہا تھا۔ اس واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ دراصل اسی کالونی کے رہنے والے تھے اور چرچ کو مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس لئے انہوں نے یہ حملہ کیا۔حالانکہ اس چرچ کو چلانے والی سادھنا لانس ایک ریٹائرڈ سرکاری اسکول ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب اس چرچ کو اپنی جمع کردہ رقم اور پینشن کے پیسوں سے چلاتی ہیں۔ اور وہاں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوتی رہی جس کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ دوسری خبر جس کو آریان خان کے کیس کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسانوں کو معاملہ ہے۔ یہ ہنگامہ بھی تین اکتوبر کو ہی شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے جس کے بعد انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کسان وہاں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ کیشو پرساد موریہ پہلے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعد میں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچے۔اتوار کو دوپہر ڈیڑھ بجے جب سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل ہوا اس وقت تک وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کسانوں کا احتجاج بھی پر سکون تھا۔ حالانکہ کچھ دن پہلے اجے مشرا نے اپنے بیانات میں کسانوں کو کافی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اجے مشرا کی تین گاڑیوں کا قافلہ تیکونیا کے قریب پہنچا جہاں کسان سڑک روک کر احتجاج کر رہے تھے۔وہاں ان کی کسانوں کے ساتھ گرما گرمی ہوئی اجے مشرا کے ساتھ موجود لوگوں میں سے کسی نے گولی چلائی جو ایک کسان کے سر پر لگی اور اس کے بعد حالات بگڑ گئے۔ جس پر انہوں نے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں بھی ان کی گاڑیوں نے کسانوں کے ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی۔ ایک صحافی بھی اس میں مارا گیا۔ اور کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔اور جب اپوزیشن رہنماوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ان کو بھی زبردستی روکا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لے لیا گیا جس پر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟ پرینکا میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔اس کے علاوہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ تاکہ کوئی وہاں پہنچ کر اصل صورتحال نہ جان سکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کسی طرح کی حمایت کا اظہار کیا جائے۔اب آپ سوچیں کہ انڈیا میں وہ اتنے بڑے واقعات ہوئے جن میں اتنے لوگ مارے گئے لیکن مودی سرکار اور ان کا چہیتا میڈیا صرف شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی خبر میں Interested تھا۔ انڈیا میں کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور Minoritiesکے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ دکھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لئے آریان کو ابھی ضمانت بھی نہیں دی گئی تاکہ ابھی مزید کچھ دن تک میڈیا اسی خبر پر لگا رہے پھر باقی دونوں معاملات دب جائیں گے تو آریان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو یہ ہے مودی سرکار اور ان کے جعلی میڈیا کا اصل چہرہ کہ کیسے سازشیں کرکے اصل واقعات کو عوام کے سامنے آنے سے روکا جاتا ہے۔

    @afeefarao

  • موضوع اوورسیز پاکستانی  تحریر: تیمور خان

    موضوع اوورسیز پاکستانی تحریر: تیمور خان

     

    @iTaimurOfficial

    میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے ان محب وطن پاکستانیوں کو جنہوں نے مشکل وقت میں اپنی دھرتی اور اپنے پیاروں سے دور رہتے ہوئے اپنی خون پسینے کی کمائی سے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا

    آئی ایم ایف پاکستان کو ترسا ترسا کر ٹکڑوں میں وہ بھی 39 ماہ میں صرف 6 ارب ڈالر دیتا ہے جبکہ میرے ان خوبصورت اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کو صرف 1 سال میں 31 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجی ہیں 29 ارب ریمیٹنسس اور سوا 2ارب ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت پاکستان بھیجے ہیں

    لیکن آپ ظلم کی انتہا دیکھیے

    جو پاکستانی اپنے بیوی بچوں سے اپنے بہن بھائیوں سے دور رہ کر پیسہ کما کر انہیں ڈالروں میں تبدیل کرکے پاکستان بھیجتے ہیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کے ان عظیم احسانات کا ہم کیا صلہ دیتے ہیں؟؟

    سیاستدانوں کی آشیرباد سے قبضہ مافیا ان اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹوں گھروں زمینوں جائیدادوں پر قبضہ کر لیتا ہے

     اور جب یہ اوورسیز پاکستانی اس ظلم پر آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی ان کی آواز نہیں سنتا اگر یہ پاکستان آ کر مافیا کے خلاف اپنا کیس لڑتے ہیں پہلے تو ان کی عدالت میں کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور اگر کوئی چانس نظر آئے تو قبضہ مافیا ان کو قتل کر دیتا ہے

    اوورسیز پاکستانی بیچارے کیا چاہتے ہیں؟؟

    ان کے صرف دو ہی تو مطالبات ہیں ایک یہ کہ ان کی زمینوں پر سے قبضہ چھڑایا جائے اور دوسرا ان کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کو اقلیت سمجھ کر یہ رائے دی ہے کہ ان کو 6 سے 8 مخصوص نشستیں فراہم کر دی جائیں جبکہ عمران خان کا موقف یہ ہے کہ کہ ان اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں رہنے والے دیگر پاکستانیوں کی طرح ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کیلئے جو انسان سب سے بہتر کوشش کر رہا ہے وہ صرف اور صرف عمران خان ہے عمران خان کے علاوہ کسی سیاسی و مذہبی جماعت کو اوورسیز پاکستانیوں کی کوئی پروا نہیں 

    بلکہ آپ احسان فراموشی کی انتہا تو دیکھیں کہ عمران خان سے پہلے کوئی اوورسیز پاکستانیوں کو پوچھتا تک نہیں تھا

    اوورسیز پاکستانیوں کو عزت اور پہچان دینے والا بھی عمران خان ہی ہے اور ان کی خدمات کو سراہنے والا بھی عمران خان ہی ہے

    میں عمران خان سے یہ پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کے ان عظیم اور جان نثار اوورسیز پاکستانیوں کے ان مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے 

    اگر یہ اوورسیز پاکستانی اپنا پیسہ بھیجنا بند کر دیں تو پاکستان کی معیشت تنکوں میں بکھر کر رہ جائے گی اور پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا

    لہذا میرے ان عظیم اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہ کریں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سن کر بروقت حل کریں ورنہ اگر یہ اوورسیز پاکستانی مایوس ہو گئے تو تم سب کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے

    میرے ان اوورسیز پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ان کی خدمات پاکستان میں بیٹھے ہوئے نکھٹوؤں کی ہڈ حرامی سے کہیں بڑھ کر قابل ستائش ہیں

    میں پھر سے اپنے ان خوبصورت پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جیو ہزاروں سال آباد رہو خوشحال رہو.

  • عمر شریف کون تھے   تحریر ذیشان اخوند خٹک

    عمر شریف کون تھے  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏عمر شریف کون تھے
    عمر شریف نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955 کو آنکھ کھولی.
    ان کی عمر تقریباً چار سال کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے ان کا بچپن کا وقت بہت مشکل حالات میں گزرا.
    انہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز 14 سال کی عمر میں سٹیج ڈرامے سے کیا. اسی سٹیج ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر انہیں پانچ ہزار کا انعام اور 70 سی سی موٹرسائیکل میں دیا گیا.
    6 سال بعد انہوں نے آڈیو کیسٹ ڈرامے شروع کئے.
    ان کی مشہوری کا وجہ یہی تھی کہ انہوں نے کامیڈی کی منفرد انداز اپنایا جو کہ لوگوں کو کافی پسند آیا.
    وہ مشہور کامیڈین منور ظریف کے بہت بڑے مداح تھے اور اسے اپنے روحانی استاد مانتے تھے.
    عمر شریف ایک ٹی وی انٹرویو میں منورظریف سے متعلق  انھوں نے کہا کہ ان جیسا آدمی اور فنکار میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، نہ مجھے کوئی ان جیسا اچھا لگا۔ہمارے ملک کے آرٹسٹ بڑے اعلیٰ ہیں لیکن سچ کہتا ہوں منورظریف دنیا میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
    وہ صرف پاکستان کے بہترین اداکار نہیں تھے بلکہ پورے برصغیر کے بہترین کامیڈین تھے. انہوں نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے کافی مشہور شو میں اپنا فن پیش کیا.
    انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی کام کیا مگر ان کی مشہوری کی وجہ سٹیج ڈرامے بنے.
    عمر شریف پاکستان کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جس کے مداح پورے دنیا میں موجود ہے.
    بالی وڈ کے مشہور اداکار ان کے مداح تھے.
    ان کے 40 سالہ کیریئر کے بہترین کارکردگی پر ان کو 10 نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا. بھارت کے مقبول چینل زی ٹی وی نے بے تاج بادشاہ عمر شریف کو زی ایوارڈ سے نوازا.
    عمر شریف نے اپنی کیریئر میں سٹیج ڈراموں میں اداکاری، ہدایت کاری کی. انہوں نے 70 سے زائد اردو ڈرامے کے سکرپٹ لکھے اور ان میں اداکاری کے جوہر بھی خود دیکھائے.
    انہوں نے ایک ڈرامہ میں 400 سے زائد بہروپوں میں نظر آئے.
    انہوں نے زندگی کے 66 بہاریں دیکھ لی اور انہوں نے تین شادیاں کی تھی جس میں انہوں نے 2 کو طلاق دی تھی.
    ان کی زندگی میں بہت مشکل حالات آئے جب ان کی نوجوان بیٹی حرا وفات ہوگئی جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے تھے.
    وہ بہت بیمار تھے جس کی وجہ سے انہوں نے حکومت پاکستان سے علاج کی اپیل کی جس پر وزیر اعظم عمران خان اور سندھ حکومت نے فری علاج کا اعلان کیا اور انہیں ائیر ایمبولینس پر امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا.
    امریکہ منتقلی کے دوران اسکی طبیعت خراب ہوئی جس کے بنا پر اسے جرمنی میں روکنا پڑا. جرمنی کے ہسپتال میں وہ حالق حقیقی سے جا ملے.
    ان کی رحلت کے بعد فضا سوگوار رہی اور عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے غم کا بھرپور اظہار کیا. وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی، شاہد آفریدی، جاوید شیخ اور پاکستان کے مشہور شخصیات نے اظہار افسوس کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا. بالی وڈ کے جانی لیور اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے وفات پر غم کا اظہار کیا.
    جرمنی کے ہسپتال میں میت ورثا کے حوالے کردی جس کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا.
    عمر شریف کے وصیت کے مطابق ان کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دفن کیا جائیگا.

    ٹائٹل 

    ٹویٹر ہینڈل
    ‎@ZeeAkhwand10

  • لڑکی نے اس طرح اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑی کہ خفیہ ایجنسیاں حیران رہ گئیں

    لڑکی نے اس طرح اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑی کہ خفیہ ایجنسیاں حیران رہ گئیں

    لڑکی کے سیلفی کے جنون نے گزشتہ دنوں امریکہ میں ایک آدمی کو اپنی گرل فرینڈ سے بے وفائی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے دی سن کے مطابق اس گرل فرینڈ کو اپنے بوائے فرینڈ پر شبہ تھا کہ اس کا کسی اور لڑکی کے ساتھ تعلق ہے اور وہ اس کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہے تاہم اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    کلوئی نامی اس لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ جان کر خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ بھی حیران رہ گئے اس مقصد کے لیے اس نے انسٹاگرام کی مدد لی۔

    اس نے انسٹاگرام کے ذریعے اپنے بوائے فرینڈ کی موجودگی کی جگہ کے بارے میں معلوم کیا، اس نے ایک ہوٹل سے ایک پوسٹ کی تھی۔ پھر کلوئی نے ایسی تمام لڑکیوں کے انسٹاگرام اکاﺅنٹ کھنگال ڈالے جنہوں نے اس روز اس ہوٹل کو وزٹ کیا تھا اور اسے ٹیگ کرتے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    تاہم ان اکاﺅنٹ کی پوسٹس کو ایک ایک کرکے کلوئی دیکھتی چلی گئی اور پھر ایک لڑکی کے اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں اسے اپنا بوائے فرینڈ نظر آ گیا یوں اس کے ہاتھ اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی کا ایسا ثبوت لگ گیا جس کی وہ تردید نہیں کر سکتا تھا۔

    دی سن کے مطابق کلوئی کی جاسوسی کی یہ کہانی اس کی ایک دوست نے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر لوگوں کو سنائی ہے اس ویڈیو کے کیپشن میں کلوئی کی دوست لکھتی ہے کہ ایم آئی 5یا ایف بی آئی والوں کو میری اس دوست کو بھرتی کر لینا چاہیے ٹک ٹاک پر یہ ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے-

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

  • دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    نیویارک:جین گلینز نامی امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جین گلینز نامی امریکی لڑکی شادی کی تقریب میں کرائے پر ’برائیڈزمیڈ‘ (دلہن کی قریبی سہیلی جو دولہا کے شہ بالے کی طرح شادی میں دلہن کے ساتھ رہتی ہے) بنتی ہے۔

    دی سن کے مطابق جین گلینز نامی یہ امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے جین گلینز نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں بتایا ہے کہ اس نے یہ پیشہ حادثاتی طور پر اپنایا اور اس کی توقع سے کہیں بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا۔

    جین بتاتی ہے کہ ”جب میں عمر کی 20کی دہائی میں تھیں تو میری سب سہیلیوں کی شادیاں ہو گئیں اور میں ہر شادی میں دلہن کی بہترین سہیلی بنی تھی سہیلیوں کے علاوہ رشتہ داروں اور جاننے والوں میں بھی جس لڑکی کی شادی ہوتی، وہ مجھ سے اپنی بہترین سہیلی بننے کو کہتی۔

    جین کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز میری روم میٹ نے مذاق میں مجھ سے کہا کہ اب تمہیں پروفیشنل ’برائیڈزمیڈ‘ بن جانا چاہیے اس کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کیونکہ اب تک مجھے بھی برائیڈز میڈ بننے کی گویا عادت سی پڑ گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے آن لائن کرائے کی برائیڈز میڈ کا اشتہار دیا تو اگلے چند دنوں میں مجھے درجنوں ای میلز موصول ہو گئیں اور یوں میرے اس پروفیشن کا آغاز ہو گیا جو آج تک کامیابی سے جاری ہے اور میں خاطرخواہ آمدنی کما رہی ہوں۔

    جین کے مطابق شادی کی ان تقریبات میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا، حتیٰ کہ میں دلہن کے لیے بھی اجنبی ہوتی ہوں مگر مجھے اس کی بہترین سہیلی کی اداکاری کرنی ہوتی ہے اور اسی کام کے مجھے پیسے دیئے جاتے ہیں-

  • ہم دنیا سے پیچھے کیوں؟ تحریر:محمد ذیشان رؤف

    عالم اسلام کے عروج کی بات کی جائے تو صدیوں پر محیط سنہرے ادوار پر لکھی گئی تصانیف سے دنیا کی لائیبریریاں بھری پڑی ہیں۔  اور نا ہی یہ بندہ نا چیز اتنی بڑے موضوع کو چند سطروں میں سمیٹنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

    لیکن ساری دنیا کے مسلمانوں کے زوال کی ایک ہی کہانی ہے اور وہ ہے اسلام سے دوری۔

    اور اسی کے بر عکس ہمارے اسلاف کی عروج کی وجہ بھی یہی رہی۔ اسلام پر قائم رہ کر دنیا مسخر کرنے والوں کی نسلوں نے جیسے جیسے اسلامی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی تقلید شروع کی ویسے ویسے زوال پزیر ہوتے گئے۔ اور اب حال یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں ہمارے معاشرے میں کسی کا معیار اگر پرکھا جاتا ہے تو اس کی بنیاد یہ سمجھی جاتی ہے کہ آیا یہ خاندان یا فرد مغربی تہذیب کے کس قدر قریب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید ہی ہماری پروان چڑھتی نسلوں کی ذہنی غلامی کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے عقیدے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ اللہ پر ایمان صرف کتابوں میں پڑھنے کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایمان کی کمزوری ہی کہ وجہ سے ہم حلال و حرام کی تمیز کرنا بھی بھول چکے۔ ہمیں اس بات کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہماری کمائی کن ذرائع سے آ رہی ہے۔ سود کے خلاف اللہ پاک نے خود اعلان جنگ کیا لیکن اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک کا سارا معاشی نظام سود پر چل رہا ہے۔ اسلام کو غالب کرنے کا حکم ہے لیکن ہم محکوم اور مغلوب ہو کر رہنا پسند کر چکے۔ ہمارے سکولوں کے نصاب تک مغرب کی منظوری کے بغیر مرتب نہیں کیئے جا سکتے۔ جہاد اور قتال سے ہم نا آشنا ہو کر رہ گئے۔ اللہ پاک نے بھی ان مؤمنوں کے ساتھ فرشتوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ بحیثیت قوم ہم بکھرے پڑے ہیں۔ فرقہ واریت، ذات پات ہمارے اندر ایک نا سور بن چکی ہے۔ مسلماں ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ معاشرتی برائیاں اس قدر سرایت کر چکی ہیں کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی دوسرا محفوظ نہیں۔ بے ایمانی، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں ہم  بہت اوپر کے نمبروں پر جا چکے ہیں۔ بلکہ ایماندار قوموں میں غیر مسلم ممالک پہلے نمبرز پر ہیں۔

    جب ہر فرد کسی نا کسی دھوکے اور چکر فراڈ میں اپنا ذہن لڑانےمیں لگا ہو ہو پھر اس قوم اور ملک میں سائینس دان، فلاسفر اور موجد پیدا نہیں ہوتے بلکہ چور ڈاکو اور لٹیرے ہی جنم لیتے ہیں۔ پھر ہر بندہ اپنی استطاعت کے مطابق ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک 6 گریڈ کا سرکاری ملازم چند سو روپے سے چند ہزار کی کرپشن کرے گا تو گریڈ 18 سے 20 کا آفسر لاکھوں کروڑوں کی بلکہ موقع ملنے پر اربوں کھربوں روپے کی کرپشن بھی کرے گا۔ یہاں لوٹ مار اور کرپشن سے صرف وہ شخص بچا ہے جسے آج تک موقع نہیں ملا۔ جب  ایسے افراد مل کر معاشرہ اور قوم بنتے ہیں تو پھر وہ دنیا پر حکمران نہیں ہوا کرتے بلکہ غلامی ہی ان کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

    اور اس کی وجہ علامہ محمد اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دی

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر  

    قرآن سے دوری ہی ہر برائی کی جڑ ہے

    اور پھر ہر برائی مل کر تباہ حال معاشرے کی بنیاد بن چکی اور یہی تباہ حال معاشرے ہمیں کبھی ایک قوم نہیں بننے دے سکتے۔

    جب ہم اپنا موازنہ بحیثیت قوم دوسری اقوام سے کرتے ہیں تو ان کی ترقی اور عروج کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ انھوں نے وہ تمام اسلامی اصول اپنا لیئے جن پر عمل کرنے کا حکم ہمیں تھا۔ وہ تمام غیت مسلم لوگ جھوٹ فراڈ ، دھوکہ دہی اور کرپشن سے دور ہو کر دنیا کی سپر پاور کہلائے جب کہ ہم یہ سب ترک کرتے گئے اور پست ہوتے گئے۔ 

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بڑے عہدے داران کی کرپشن کی داستانیں اپنے بچوں کو سنا کر ان کی ذہن سازی ایک غلط کام کی طرف کرنے کے بجائے اسلام کی نامور شخصیات کے عروج کی داستانیں اور اس عروج تک جانے کا نسخہِ اسلام بتایا کریں تا کہ یہ بد حالی اگلی نسلوں کے ذہنوں سے نکال کر ہی ایک نیا معاشرہ اور قوم تیار کر سکیں۔

  • فخر ملت، شہید ملت  نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

    فخر ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

     

    بات کرتے ہیں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کی، جیسا کہ اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ مہینہ نہ صرف شہید ملت کا ماہ پیدائش ہے بلکہ ماہ وفات بھی ہے۔ آج کی تحریر میں اُن کے کردار، جدوجھد، اور پاکستان کے لیے قربانیوں کا ذکر کریں گے۔ تحریر کے آغاز میں نواب زادہ لیاقت علی خان کی ابتدائی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں ایک نامور نواب گھرانے میں 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی مکمل کی اور ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کرلی۔

    انگلینڈ سے واپسی کے بعد آپ نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر قیادت مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ 1926ء میں میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔

     

    آپ نے نہ صرف اپنا کردار پاکستان کے حصول تک نبھایا بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی اپنی زندگی اس ارض پاک کے لیے وقف کردی۔ تحریک پاکستان کی جدوجھد میں قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے اور آزادی کے بعد اپنا سب کچھ ترک کرکے پاکستان چلے آئے۔ نواب آف کرنال کے ثبوت ہونے کے باعث آپ کے رہن سہن کے ٹھاٹھ باٹھ ایسے تھے کہ جب آپ انگلینڈ تعلیم حاصل کرنے گئے تو آپ کے ہمراہ خانساماں اور ملازمین بھی گئے، آپ کے ہاں ایک وقت کا کھانا چالیس افراد سے کم کا نہ بنا کرتا تھا۔ لیکن پیارے وطن کے حصول کی جدوجھد سے لے کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے تک کی جدوجھد تک آپ نے اپنا آپ فراموش کرکے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ نہ صرف اپنی تمام جائیدادیں پاکستان کو وقف کردیں بلکہ جب آپ وزیر اعظم بنے تو آپ نے سرکاری خزانے کا بےجا استعمال کرنے سے بھی گریز کیا۔ حتٰی کہ تاریخ میں درج ہے کہ نواب خاندان کو غربت کے باعث پھیکی چائے پیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

    نواب لیاقت علی خان کے یہ تاریخی جملے اُن سے اس ملک کی محبت کی  ترجمانی کرتے ہیں،

    1951ء میں یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان نے کراچی میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

     

    "مجھے معلوم نہیں کہ قوم کے اعتماد اور اس کے خلوص کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے، میرے پاس جائیدادیں نہیں ہیں،میرے پاس امرا نہیں ہیں مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ یہ آدمی کے یقین کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ میرے پاس صرف میری زندگی ہے اور وہ بھی پچھلے چار برسوں سے پاکستان کے نام وقف کر چکا ہوں۔ مَیں اس کے سوا اور کیا دے سکتا ہوں،مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دفاع کے لئے قوم کو خون بہانے کی ضرورت پڑی تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہو گا”۔

    اور بیشک تاریخ نے آپ کے ان جملوں کو من و عن سچ ثابت کیا۔ 

    آپ نے بطور وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیراعظم پاکستان، اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا۔

    وہ پزیرائی جو آپ کے پیش کردہ بجٹ کو عوامی سطح پر ملی کو آج تک کسی دوسرے بجٹ کو حاصل نہ ہوسکی۔

    متحدہ برطانوی ہندوستان کے پہلے اور آخری وزیر خزانہ لیاقت علی خان کے 1947-48ء کے بجٹ کو عوام قبول بجٹ کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی تمام پالیسیوں کا رُخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کرنا تھا۔ آپ نے اپنے عمل اور پالیسیوں سے یہ ثابت کیا کہ آپ کو نہ صرف پاکستان سے والہانہ محبت ہے بلکہ آپ کس قدر غریب عوام کا درد رکھتے ہیں۔

     

    پاکستان کا پہلا سیاسی قتل 16 اکتوبر کو ہوا تھا- جو کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا قتل تھا۔ ان کو 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا، آپ کے آخری الفاظ تھے "خدا پاکستان کی حفاظت کرے”.

     

    افسوس کہ آج ہم نے ایسی شخصیت کو فراموش کردیا ہے جن کی وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کی مثالیں لازوال ہیں۔ حال ہی میں سندھ حکومت کی جانب سے ملک کے نامور کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی کو "شہید ملت انڈرپاس” کا نام تبدیل کرکہ اسے عمر شریف کے نام سے منسوب کیا جائے گا جو کہ نہایت ہی غیر مناسب ہے۔ کسی بھی ایسی جگہ کا نام تبدیل کرنا جو کہ محسن ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کے نام سے منسوب ہو ٹھیک عمل نہیں، خان صاحب جیسی شخصیت پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے اور ہم انھیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہوگا۔

     

    @KainatFarooq_

  • ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    تحریر اصغر علی                                                 

                                                 
    اگر آپ ہندوستان کے نقشے کو دیکھیں تو اس کے شمال مشرق میں بنگلہ دیش نیپال بھوٹان اور چین کے درمیان ایک تنگ سی راہداری ہے اس جگہ کا نام سیلیگوری ہے اور اس راہداری  کو اسی جگہ کے نام پر رکھا کیا ہے اس کو سیلیگوری کوریڈور کہتے ہیں یہ تنگ سی رہداری مرکزی بھارت کو اپنی شمال مشرقی  8 ریاستوں سے ملاتی ہے یہ راہداری اتنی  تنگ ہے ہے کہ ایک جگہ پر اس کی چوڑائی صرف 17 سے 20 کلومیٹر رہ جاتی ہیں  اگر کوئی اس راہداری کو بند کر دے تو بھارت کا اسکی ان آٹھ اہم ریاستوں سے  زمینی راستہ کٹ جاتا ہے  اور سمندر سے جانے کے لیے اسے خلیج بنگال کا سہارا لینا پڑے گا اس کے بعد یہ راستہ بنگلہ دیش اور برما سے ہو کر گزرتا ہے بنگلہ دیش سے اس کے تعلقات اچھے نہیں اور برما سے بھی یہی حالات ہے اس لیے بھارت کی یہ سب سے بڑی  جغرافیائی کمزوری کھلائی جاتی ہے بھارت کی ان آٹھ ریاستوں میں اسام اروناچل پردیش سکم منی پور میگھالے ناگا لینڈ تیری پورا اور میزو رام شامل  ہیں ان آٹھ ریاستوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ رقبے کے لحاظ سے یہ ریا ستیں نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے بڑے ملک سے بھی زیادہ رقبے پر محیط ہے جبکہ ان آٹھ ریاستوں کی آبادی  سارے چار کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کوریڈور کو کو بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اس لیے لیے ماہرین اس کو انڈیا کی چکن نک یعنی مرغی کی گردن کہتے ہیں اگر ہم آپ کو بتاتے ہیں کے اس کوریدور کو بھارت کی سب سے بڑی کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت چین کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اس کی بڑی وجہ صبح دونوں ملکوں کے درمیان میں موجود بارڈر میکموہن لائن ہیں جس سے چین نے کبھی اپنا مستقل بارڈر نہیں مانا کیونکہ اسی بارڈر پر موجود ایک ریاست جس کا نام اروناچل پردیس ہے اس کو کو چین بھارت کا نہیں بلکہ اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین اروناچل پردیش ہمیشہ آپنے نقشہ میں ہی دکھاتا ہے اروناچل پردیش فیس بک بھارت کی آن 8 شمال مشرق میں واقع ریاستوں میں سے ایک بہت بڑی ریاست ہے اس ریاست کا رقبہ لگ بھگ آسٹریا اور اردن کے برابر ہے ایسی ریاست کے حصول کے لیے دونوں ملکوں میں جنگ بھی ہو چکی ہے یہ جنگ 1962 میں ہوئی تھی اور اس جنگ میں چین کا پلڑا بھاری رہا اس کے بعد انیس سو سڑسٹھ میں بھی بھارت کی ریاست سکم اور تبت کے بارڈر پر بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں ہنی تنازعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کافی کشیدہ رہتے ہیں  اروناچل پردیش میں موجود بھارتی فوج کو سپلائی لائن اسی تنگ راستے سلیگوری کوریڈور سے ہی ہوتی ہے  اگر چین اور بھارت میں جنگ ہو جاتی ہے تو سلیگوری کوریڈور جیسے تنگ علاقے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے اس کے برعکس کس چین کا سپلائی لائن کاٹنا بہت آسان ہے اسی وجہ سے یہ بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بھارت کو اپنے زیر کنٹرول اور علاقوں میں سے اروناچل پردیش سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے بھارت نے اس کوریڈور کو بچانے کے لیے ادھر اپنی دفاعی پوزیشن انتہائی مضبوط کی ہوئی ہے ہے ادھر اس نے دو جنگی اڈے بنا رکھے ہیں  اور جنگ ہونے کی صورت میں بھارت کو نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنے پڑیں گے  کیونکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے سے یہ کوریڈور بلاک کرنا چین کے لیے بہت مشکل ہوگا چین اپنی فوج اس کوریڈور سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر تبت میں اتار چکا ہے ہے اور وہ اپنی ریاست اروناچل پردیش جس کو اپنا حصہ اور اپنے نقشوں میں دکھاتا ہے اس کے لئے کبھی بھی  ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے اور یہی کمزوری ہندوستان کو آٹھ ریاستوں سے دور کر سکتی ہے                                        

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI