Baaghi TV

Category: متفرق

  • سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    محترم قارئين کرام

     رزق حلال یا زریعہ معاش  ایک ایسی اہم ضرورت ہے جو انسان کی زندگی کا بہترین حصہ یعنی جوانی اس ضرورت کی فکر کھا جاتی ہے۔

    غریب کا بچہ نو عمری میں ہی مزدوری کیلئے نکل پڑتا ہے

    اور امیر کا بچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے

    اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے

    لیکن یہ فرض نہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا

    بلکہ بہت سارے ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو انتہائی غربت میں پڑھے لکھے ہیں

    اسی طرح بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پہ اینٹیں، مستری کے ساتھ مزدوری یا پھر ہنر مند بننے کیلئے کسی ویلڈر یا میکنک کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیاب بننے کیلئے دولت مند یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں 

    بلکہ کامیابی کیلئے ایسے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجاد یا ڈائیرکشن یا پھر پالیسی بنانے کا ماہر ہو

    آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بہت تھوڑی عمر میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور بعض لوگ بڑھاپے تک بھی یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو کچھ لوگ اٹھارہ بیس سال کی عمر میں حاصل کرچکے ہوتے ہیں.

    اسے ہم قسمت کا کھیل تو ضرور کہہ سکتے ہیں

    لیکن قسمت ہمیشہ بنانی پڑتی ہے 

    کامیاب بننے ترقی کرنے اور دولت کمانے کے مختلف طریقے ہیں

    لیکن سب سے بہترین طریقہ جو میں سمجھتا ہوں  وہ

    "سرمایہ کاری” ہے 

    ارسطو کے بقول:

    "دولت کھاد کی طرح ہے جب تک اسے پھیلایا نہ جائے فائدہ حاصل نہیں ہوتا”

    آج کے جدید دور میں سرمایہ کاری کے اتنے پلیٹفارم ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے 

    اور اتنے فراڈ ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

    لیکن تھوڑی سی بھی سرمایہ کاری اگر کسی بہترین جگہ ہوجائے تو چند سالوں میں مالی پریشانیاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکتی ہیں.

    بہت سارے لوگ آنلائن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں 

    یہ کمپنیاں شروع میں اچھا منافع ضرور دیتی ہیں اور بہت سارے لوگ گھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد عین غین ہوجاتی ہیں.

    اب انسان چونکہ لالچ میں آجاتا ہے 

    تو وہ کسی ایسی کمپنی میں اپنی رقم سرمایہ کاری کیلئے لگاتا ہے جو بہت سارا منافع دے رہی ہوتی ہے

    تو وہ اسے واپس نکالنے کی بجائے جب زیادہ منافع دیکھتا ہے تو منافع بھی اسی میں سرمایہ کاری پہ لگا دیتا ہے

    پھر بائینری انکم کے لالچ میں کچھ اپنے مزید ساتھیوں کی سرمایہ کاری بھی شروع کرتا ہے

    اور اتنے میں کمپنی عین غین کرجاتی ہے

    پھر سر میں بازو رکھ کے پریشان بیٹھ جاتا ہے

    اور کبھی بھی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہیں ہوتا

    یہ ایک قسم کے ناکام لوگ ہی ٹھرتے ہیں

    دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انہی طرز کی کمپنيوں میں گھستے ہیں اپنی تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کام کو مزید سمجھتے ہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لیتے ہیں اور منافع شدہ رقم کو سرمایہ بنا کے سرمایہ کاری کرتے ہیں

    یہ ایک ٹیکنیکی ذہن رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اپنا نقصان یا تو ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر ہو بھی جائے تو بہت ہی قلیل نقصان ہوتا ہے اور بہت جلد ایسے لوگ کامیابی کا سفر طے کرلیتے ہیں

    تیسری قسم کی سرمایہ کاری کا تعلق آنلائن کسی شعبے سے نہیں بلکہ براہ راست اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

    اس میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں ہوتی ہیں لیکن جو ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نقصان کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں وہ ناکام ٹھرتے ہیں.

    آنلائن سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اپنی رقم کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینی ہوتی ہے

    جب کہ براہ راست اپنے ہاتھ سے سرمایہ لگانا الگ ہوتا ہے

    جیسے کوئی دکان کھول لی جائے اور اس سے کاروبار شروع کردیا جائے

    اب کاروبار جہاں بھی شروع کیا جاتا ہے وہ وقت اور علاقے کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    اس پر ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر علاقے میں ضرورت کپڑوں کی دکان کی ہو اور بندہ کریانہ جو کہ پانچ ساتھ دکانیں پہلے ہی موجود ہوں کھول لے تو ظاہر ہے کامیاب ہونے میں وقت لگے گا.

    اس موضوع پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے

    مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر آپ بیس ہزار روپے بھی مہانہ کما رہے ہیں تو اس میں دو ہزار ہی سہی لیکن بچت کرکے سرمایہ کاری اپنے کاروبار کیلئے ضرور کریں

    اس سے آپ بھی اور آپکی نسلیں بھی نوکری سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرجائیں گی.

    @JavaidHaqqani

  • پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    کیلیفورنیا کی ایک خاتون آرکنساس کے کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک گھومنے آئیں جہاں انہیں اتفاقی طور پر 4.38 قیراط کا پیلے رنگ کا ہیرا ملا جو کہ نایاب ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نورین ویریڈ اور اس کے شوہرمائیکل نے جب کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک سے ایک چمکتا ہوا پتھر اٹھایا تو انہیں بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ یہ 4.38 قیراط ہیرا نکل آئے گا۔

    آرکنساس اسٹیٹ پارکس کے حکام نے بتایا کہ گرینائٹ بے سے تعلق رکھنے والی خاتون نورین ریڈ برگ جمعرات کو اپنے شوہر کے ساتھ پارک کا دورہ کر رہی تھی اور تقریبا 40 منٹ تک کھلے میدان میں جواہرات کی تلاش میں تھیں جب انہیں سطح پر کوئی چمکدار چیز نظر آئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    خاتون نے کہا میں نہیں جانتی تھی کہ یہ ہیرا ہے، لیکن یہ صاف اور چمکدار تھا ، لہذا میں نے اسے اٹھا لیا خاتون کے شوہر مائیکل ڈائمنڈ ڈسکوری سینٹر لے گئے جہاں اس کی شناخت 4.38 قیراط پیلے رنگ کے ہیرے کے طور پر ہوئی۔

    پارک سپرنٹنڈنٹ ہاویل نے کہا کہ ہیرا جیلی بین کے سائز، ناشپاتی کی شکل اور لیمونیڈ رنگ کا ہے جب میں نے پہلی بار اس ہیرے کو خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھا، تو میں نے سوچا ، واہ ، کتنی خوبصورت شکل اور رنگ ہے۔

    پارک انتظامیہ کے مطابق یہاں آنے والوں کو جو کچھ ملتا وہ اس کے مالک ہوتے ہیں 1906 سے اب تک اس پارک سے75ہزار سے زائد ہیرے مل چکے ہیں اس پارک میں آنے والے کچھ لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ملتا لیکن نورین ویریڈ کو ایک گھنٹے میں ہی ہیرا مل گیا۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انتظامیہ نے اس سال 258 ہیرے رجسٹرڈ کیے جو اس پارک سے مختلف لوگوں کو ملے ہیں۔ یوم مزدور2020 پر ، ایک آدمی کو 9.07 قیراط کا ہیرا ملا جو اب تک کا دوسرا بڑا ہیرا تھا۔

    پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نورین اور مائیکل کے آنے سے قبل بارش ہوئی تھی لیکن جس دن وہ پارک آئے اس دن سورج نکلا ہوا تھا بارش سے ہیرے کے اوپر سے مٹی وغیرہ ہٹ گئی اور سورج کی کرنیں پڑنے سے وہ کافی زیادہ چمک رہا تھا یہ واضح نہیں ہے کہ ہیرے کی قیمت کیا ہے۔

    یہ911 ایکڑ پر محیط پارک امریکی ریاست آرکنساس کی پائیک کاؤنٹی میں ہے یہ پارک دنیا میں واحد مقام ہے جہاں سے ہیرے ملتے ہیں اور عام عوام کو یہاں جانے کی اجازت ہے۔

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

  • ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی میں کھدائی کے دوران 11ہزار سال پرانے انسانی اجسام اور سروں کے نقش ونگار ملے ہیں جن میں سے بعض تھری ڈی مجمسے ہیں۔

    با غی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے اس دور کے انسانوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کھدائی کی جگہ سے 250 سے زائد پتھروں پر نقش و نگاری کے نمونے ملے ہیں۔پتھروں پر جانوروں کے اجسام کی نقوش بنائے گئے ہیں ساتھ ہی انسانی مجسمے بھی ملے ہیں۔

    یہ دریافت ترکی کے جنوب مشرقی صوبے کے علاقےکرہانٹائپ میں کی گئی ہے اس علاقے کو ‘ٹا ٹیپیلر’ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جس کا مطلب پتھر کی پہاڑی ہے ، جو 124 میل (200 کلومیٹر) کے رقبے پر محیط ہے۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    یہ علاقہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ والی جگہ گوبکلی ٹیپے کےساتھ ہے گوبکلی ٹیپے 10 ویں صدی قبل مسیح سے متعلق میگالیتھک ڈھانچے کا گھر ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین مندر ہے۔

    اس جگہ پر کھدائی کا کام سب سے پہلے 2019 میں شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں 75 فٹ قطر والی عمارت کی دریافت بھی ہوئی عمارت میں ایک بڑا بیڈروک بھی تراشا گیا ہے اور اس کی گہرائی 18 فٹ تک ہے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

    کھدائی کے سربراہ پروفیسر نیکمی کرول نے بتایا ہے کہ ملنے والی نوادرات قدیم گوبکلی ٹیپے سائٹ سے دریافت ہونے والی چیزوں سے ملتی جلتی ہیں جو اسٹون ہینج سے 6000 سال قبل تاریخی لوگوں نے تعمیر کی تھیں۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    کرول نے کہا کہ ان میں انسانوں کے سروں سمیت کئی تھری ڈی مجسمے اور انسانی نقش ہیں ایک خاص طور پر متاثر کن مجسمے میں ایک انسان کو دکھایا گیا ہے کہ وہ تیندوے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رہا ہے جبکہ حملہ آور پوزیشن میں جانوروں کی نقش و نگار بھی پائی گئی ہیں-

    ماہرین کے مطابق مجسموں اور پتھروں پر موجود نقش و نگار سے پتہ چلتا ہے اس دور میں انسان کی فنکارانہ صلاحیتیں مضبوط تھیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    اس سے قبل سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے تھے منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

  • دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    ‏28-01-95)
    بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا

    جب یاد میری آے ملنے کی دعا کرنا 

    ڈںیر نعیم!

    صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 

    یونہی زندگی تمام ہوتی ہے۔

    جب چلنے پھرنے کے قابل ہوۓ تو اس وقت دل میں کوئی خواہش نہ ہوئی تھی سواۓ اس کے کہ کوئی ہمیں اُٹھا کر چلے، کوئی گود میں بٹھائے، کوئی سینے سے لگائے،کوئی ٹافی کھلاۓ تو کوئی دوسری قسم کی مٹھائیاں۔اُس وقت ہماری  تمام تر خواہشات بس اسی حد تک محدود تھی۔آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے اسکول و مسجد جانے لگے۔ پڑھائی سب سے مصیبت زدہ چیز بن کر سامنے آئی۔کبھی قرآن کا پڑھنا کبھی اسکول کی پڑھائی اوپر سے گھر آ کر ابو کی علیحدہ ٹٹیوشن۔ان سب چیزوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ اکثر گھر سے میں باہر رہتا تھا۔کبھی ایک چھت پر،اور کبھی دوسری چھت پر،کبھی ایک درخت کے نیچے سے اوپر پتھر برسا رہے ہوتے تھے تو کبھی دوسرے درخت کے نیچے سے،کبھی ایک گندے نالے میں سیومینگ سے لطف اندوز ہوتے تو کبھی دوسرے گڑ لائن  کے نالے میں اُسوقت کی خواہشات بس اس حد تک محدود ہوتی تھی کہ کوئی پڑھائی شڑھائ کے متعلق کچھ نہ کچھ پوچھے۔مگر پھر بھی پ پٹتے تھے یہ مسلہ اب تک حل نہ ہو سکا۔نیوی جوائن کی تھی کہ پڑھائی سے جان چھٹ جاۓ مگر پتہ چلا کہ صرف اور صرف پڑھائی ہے۔

    "بارش سے پجتے تھے،پر نالے کے نیچے رات آئی”

    جو کہ میرے لئے وہاں جان بنی ہوئی ہے۔اگر بچپن میں کچھ پڑھا ہوتا تو آج اتنی مصیبت  نہ ہوتی اسی لیے دوست یہی وقت ہے کہ کچھ کریں ورنہ کل بڑھاپے میں جب پچھتاوا  ہوگا تو یہی کہیں گے کہ کاش جوانی میں ایسا کر لیا ہوتا۔اس لیے جو کرنا ہے آج کر لو۔خوب مطالعہ  کرو،خوب پڑھو فضول انسانوں اور قصے کہانیوں سے کچھ نہیں بنے گا۔کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے کہ پڑھائی کے بغیر کوئی  چارہ نہیں اس لیے میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

    کارساز میں میری افسری  اچھی جارہی ہے طیب عدل، احمد حفیظ  ،آصف عزیز ،عزیز لعال اور اس قسم کے بہت سارے دوست یہاں ہیلپر   ہیں ہر طرف سے سلیوٹ پڑتے ہیں رعب ودبدباھے کبھی کبھار کارساز کے پارک وغیرہ کی طرف بھی چلا جاتا ہوں خوب یاد کرتا ہوں اپنے بچپن کے دنوں کو کھیلنا کودنا اور لڑنا ،جھگڑنا ،بھاگنا، نہانا ،بارشوں میں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

    اچھا جی خط میں کبھی کوئی کام کی بات بھی لکھ لیا کرو بس فضول باتیں لکھی ہیں تم نے ۔

    ہوئی آنکھ نم اور یہ دل بھر آیا 

    آج وہ ساتھی کوئی بھولا یاد آگیا 

    (30-01-95) 

    اس وقت کلاس میں انسٹرکٹر  پڑھا رہا تھا اور مجھے نیند آگئی تھی اوپر کا یہ شعر میں نے نیند میں لکھا ہے اپنی اتنی پیاری لکھائی میں لکھا۔ اچھا جی ۔توصیف سے ملاقات ہوئی تھی تمہارے خط کی اس نے بھی تعریف کی ۔یار نعیم  یہ غم نم چھوڑو ،خوشی دیکھا کرو ،مت اتنا سوچو اپنے آپ کو شاعر نہ بناؤ ،دیوانہ نہ بناؤ،  اپنے آپ کو اپنا  اور اپنے ماں باپ کا بناؤ۔تمہارے گھر والوں کو تمہاری بے حد ضرورت ہے۔باقی اور کوئی خاص بات تو ہے نہیں کہ لکھوں تمہاری طرح ادھر ادھر کی جھڑ جھڑ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے اور نہ ہی اب میرا موڈ کرتا ہے اس قسم کی باتیں کرنے کو.یہ فلسفیانہ باتیں کرنے کو اب جی بھی نہیں چاہتا اور نہ ہی اب کی جاتیں ہیں۔

    اچھا جی اب آتے  ہیں  ادھر ادھر  کی باتوں پر  میری بہن ۔۔۔۔۔کی شادی میرے فرسٹ کزن سے ہو گئی ہے اور میری منگنی اگلے سال ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔کی بھی بات تقریبا  ہوگئی ہے۔اب تم سناؤ تمہارا کیا بنا اور شادی کا کیا ہوا؟ اس کی شادی وغیرہ  کب کر رہے ہو   اللہ خیر خیریت سے کرے آمین۔

    آنٹی کیسی ہیں اللہ انہیں بھی صحت مند رکھے آمین ۔

    (25-04-95)

    ڈیر نعیم  یہی وہ خط ہے جو میں نے تمہیں تین چار مہینے پہلے لکھنا شروع کیا تھا لیکن اب جا کر بھیج رہا ہوں کیوں کہ جب اسے میں نے بھیجنا چاہتا تھا تو تب تم ادھر ہوتے تھے۔بہرحال اب فرصت ملی ہے تو پھر لکھنے بیٹھ گیا ہو کراچی میں ویسے تو ہمیں  کچھ کام نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بڑے مصروف مصروف سے لگتے  ہیں۔کیوں کہ دوپہر کو بھی سوتے ہیں اور رات کو بھی اور کلاس روم میں بھی۔اس لیے ٹائم نہیں ہوتا ہمارے پاس کچھ نہ کرنے کو۔

    اچھا جی نئی تازہ بات یہ ہے کہ شاید ہم میں میرے علاوہ گھر والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  پشاور شفٹ ہو جائیں کیونکہ ابو ہوگئے ہیں ریٹائر  اس لیے ان کا ارادہ اپنی زمین وغیرہ کی دیکھ بھال کا ہے تو دیکھو کے ابھی کیا پروگرام بناتے ہیں زاہد بنگلہ دیش سے سری لنکا گیا اور اب تیس اپریل کے بعد ھی پاکستان آئے گا انشاءاللہ۔خالد  خیریت سے ہے فون  وغیرہ تو آتے رہتے ہیں۔اور کوئی نئی تازہ بات نہیں ہے کہ تحریر کرو خوش رہا کرو۔شم نا کیا  کرو نماز پڑھا کرو اور اللہ کا شکر کیا کرو پاک صاف فریش رہا کرو سوچ بچار نہ کیا کرو صبح صبح چیل قدمی کیا کرو اور کوشش کیا کرو کہ رات کو ٹائم سویا کرو۔

    اوکے اب اجازت ہے 

    وسلام تمہارا دوست 

    محمّد اسحاق بیگ ۔

    توڑ دے ہر اک آس کی ڈوری, آنسوؤں میں کیا رکھا ہے۔

    عشق محبت باتیں ہیں بس، باتوں میں کیا رکھا ہے۔

    قسمت میں جو لکھا ہے، وہ آخر ہو کر رہنا ہے۔

    چند لکیریں الجھی سی،اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے۔

    ‎@Ishaqbaig___

  • میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 سے زیادہ اقسام کے پرندے، مچھلیاں اور دوسرے جنگلی جانوروں کی نسلیں اب دنیا سے غائب چکی ہیں تاہم ان میں ایک یا دو کا دوبارہ ظہور ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :ہدہد کا شمار خوبصورت پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ خوشنما رنگوں اور لمبی چونچ والا یہ پرندہ شمالی میکسیکو میں پایا جاتا تھا، جسے اپنے حجم کے لحاظ سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ہدہد کا درجہ حاصل تھا جنگلوں میں بسیرا کرنے والے اس پرندے کی نسل کو اسی وقت خطرہ لاحق ہو گیا تھا جب بڑے پیمانے پر جنگلوں کی کٹائی شروع ہوئی تھی۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    جنگلی حیات کے عہدے داروں نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ سن 1944 کے بعد سے ہدہد کے دیکھے جانے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے بہت کوششوں کے باوجود وہ ان 23 نسلوں کے جانداروں کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب وہ برسوں سے کہیں بھی دیکھے نہیں گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان نسلوں کی معدومی میں آب و ہوا کی تبدیلی کا بڑا حصہ ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آب و ہوا کی تبدیلی کے عمل کو روکنے کے جلد اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جنگلی حیات کی نسلوں کا دنیا سے خاتمہ ایک معمول بن جائے گا-

    اس وقت دنیا بھر میں جنگلی حیات کی تقریباً 902 اقسام ایسی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ معدوم ہونے والی ہیں کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ معدوم ہونے والی نسلوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی 23 نسلوں کے دنیا سے مٹ جانے کا اعلان اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان جانوروں کی صورت حال کی تبدیلی سے متعلق سفارشات کئی برسوں سے التوا میں پڑی ہوئی تھیں اور ان پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی نسل کی بحالی کا حقیقی امکان پیدا ہوا تو ان کے تحفظ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا کرہ ارض معدومی کے بحران سے گزر رہا ہے تاریخی اعتبار سے معدومی کی یہ شرح ماضی کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6

  • غداری اقوام کی تباہی کا سبب تحریر: محمد عمران خان

    قدیم چینیوں نے تاتاریوں کے حملوں سے بچنے کیلئے دیوار چین بنا لی،اس عظیم دیوار کو بنانے کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بیس سے تیس فٹ اونچی اور پندرہ سو میل پر پھیلی یہ دیوار بنانے میں چین کو زمانے لگ گئے، بالآخر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تعمیر معرض وجود میں آئی جس کو دیوار چین کہا جاتا ہے،

    اب سوال یہ ہے کےکیا چین بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا؟ 

    آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دیوار کو بنانے کے بعد پہلے 100 سال میں تاتاریوں نے تین بار چین میں گھس کر چین کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ تاتاریوں کو ایک بار بھی دیوار چین کو پھلانگنے یا توڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،

    جانتے ہو کیوں؟

    اس لئے کہ ہر بار بیرونی دشمن کے لئے دروازے اور کنڈیاں اندر سے کھلیں، تاتاریوں نے محافظوں کو خریدا اور ملک کے اندر غدار پیدا کئے۔

    قدیم چینیوں نے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل دیوار بنانے میں لگا دیے لیکن یہ بھول گئے کہ انسان بھی بنانے سے بنتے ہیں، تراشنا پڑتا ہے، حب الوطنی کی بٹھی سے گزارنا پڑتا ہے، تربیت کے مراحل سے گزر کے انسان تعمیر ہوتا ہے وہ ہی ملک و ملت کے مقدر کا ستارہ بن کے افق پہ چمکتا ہے۔

    ایسے ہی ہم نے پاکستان بنانے میں تو لاکھوں لوگوں کی قربانی دینے سے رتی برابر دریغ نا کیا، ایٹم بم اور جدید ہتھیار بھی بنا لیے، لیکن فرد اور قوم کو بنانے کے لیے ذرا سا کام نا کیا جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ اندر کی غداریوں اور اندر کے ناسوروں سے نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو آج تک اتنا نقصان شاید ہی دشمن کے ہاتھوں ہوا ہو جتنا اندر کے غداروں نے دیا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان کے اہم راز اور دستاویزات لیک ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں تک جا پہنچیں مگر وہ راز لیک کرنے والے شاذونادر ہی تلاش کیے جاسکے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا معروف ترین کیس ڈان لیکس بھی اندر کی غداری پر مبنی تھا جس میں پاکستان کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے اعلیٰ افسر نے راز دشمن کے ہاتھوں فروخت کردیے۔ اسی طرح سابقہ سیاست دانوں نے بھی اپنی اداروں سے چپقلش کے نتیجے میں اہم ترین راز عالمی میڈیا پر اگلے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    اندر کے ناسوروں اور غداروں کے متعلق ہی مسلمانوں کے عظیم لیڈر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا:

    "اندر کے غداروں کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی”

    برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کی غداری سے ہوئی۔ ریاست میسور اور برصغیر کے عظیم جنگجو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیے مگر صرف ایک دوست کی غداری نے ان کی جان سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کو بھی ان کے کمانڈر میر جعفر کی سنگین غداری کی وجہ سے شکست ہوئی اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مغل شہنشاہوں کو بھی اندرونی غداریوں کا سامنا رہا اور ان کی مضبوط اور وسیع تر حکمرانی انگریزوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 

    اسی لیے ایک حقیقی کلمہ گو مسلمان کو یہ کسی بھی حالت میں بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مذہب یا قوم سے غداری کرنے کا سوچے بھی سہی۔ بطور فرد اور بطور شہری ہمیں اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اور وقار کی خاطر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ہمارے فرائض میں شامل ہونی چاہیے کہ اپنے اردگرد اور قرب و جوار پر گہری نظر رکھی۔ کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کریں تاکہ ہماری سلامتی اور وطن کی عزت و آبرو دونوں محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر ہماری بقاء اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی حکمران اس ملک پر مسلط ہوا چاہے وہ سویلین حکمران تھا یا پھر عسکری ہر کسی نے الیکشن سے پہلے یا ملک پر قابض ہونے سے پہلے اس ملک میں انقلاب، تبدیلی کے نعرے لگائے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ بھی اس اسٹیٹس کو کا حصہ بن گئے یا سسٹم نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ بھی اس راہ پر چلیں جو ان سے پہلے حکمرانی کرکے جا چکے تھے۔

    وہ کیا محرکات ہیں جو ہر آنے والے حکمران پر حاوی ہو جاتے ہیں الیکشن سے پہلے انقلابی سوچ رکھنے والا لیڈر کیسے اقتدار اعلی ملنے کے بعد اسی آلودہ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا یہ گلا سڑا نظام اب اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے جو بھی آتا ہے وہ اسی بوسیدہ نظام کا یا تو حصہ بن جاتا ہے یا پھر اسی میں سے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہی نکلے گا۔

    تاریخ اٹھا کر دیکھیں فرانس ہو یا ایران دونوں میں انقلاب کے محرکات یکساں تھے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔ نا انصافی اتنی بڑھتی گئی کے لوگوں نے حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور ہتھیار اٹھا لئے۔ کم و بیش  انقلاب کا مفہوم و وجوہات ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔

    وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹس بھی اسی نظام کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ  کھانچے لگانا جانتے ہیں اتنے سالوں سے سسٹم میں رہ کر تمام لوپ ہولز کا پتہ ہے۔ یہ ہی ایک مین وجہ ہے کہ وہ اس نظام کو یا اپنی سوچ کو بدلنا نہیں چاہتے۔ حقیقت میں ہماری بیوروکریسی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے سیاست دان لالچی ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے جال میں پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں اور یوں سیاست دانوں کی لالچ اور حرص کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیورو کریسی اُنہیں آرام سے استعمال کرلیتی ہے اور جب تمام مقاصد حاصل کرلیئے جاتے ہیں تو اُنہیں چلتا کردیا جاتا ہے اور بیوروکریسی وہیں کی وہیں موجود رہتی ہے۔

    میرے خیال میں سیاست دان اگر صحیح معنوں میں مخلص ہو جائیں اور سیاست کو عبادت سمجھ کر عوام کی خدمت کے جذبے سے کام کریں تو انہیں کوئی بیوروکریٹ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس دن بیوروکریسی درست ہوگئی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مثالی ملک بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو وسائل سے مالا مال بنایا ہے۔ قطر، سنگا پور، ہانگ کانگ، ملائشیا اور یو اے ای کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں کی بیوروکریسی کی بدولت ملک دنیا کے نقشے پر اُبھرتے نظر آئے۔

    اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک اس ملک میں لوگ انقلابی سوچ کے حامل نہیں ہوجاتے اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک لوگ خود اپنی قسمت بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتے، ایک فرد واحد کا انقلابی سوچ رکھنے سے کچھ نہیں ہو گا جب تک پوری کابینہ انقلابی نہیں ہو گی۔

    آج کی بڑی مثال موجودہ حکومت ہے، عمران خان نیازی الیکشن جیت کر اس نیت سے حکومت میں آئے تھے کہ ملک کے ہر شعبے اور ادارے میں  رفارمز لائے جائیں گے، شروع کے دو سال بیوروکریسی نے خان صاحب کو سسٹم میں ایسا الجھایا کہ اب تین سال ختم ہونے کو ہیں ابھی تک خاطر ہوا کام نہیں ہو سکتا۔

    حکومت شروع دن سے جب سے اقتدار میں آئی، تب سے بیوروکریسی میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی خواہاں ہے لیکن کیا کریں، معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔

     بیوروکریسی کیوں وزیراعظم عمران خان کو ناپسند کرتی ہے؟ کیونکہ عمران خان نے تہیہ کیا ہے کہ اب ملک ویسے نہیں چل سکتا جیسے پہلے چل رہا تھا، لیکن کیا ملک میں ریفارمز بیروکرسی کے بغیر کیے جا سکتے ہیں? جواب یقینا منفی میں ہو گا۔

    موجودہ حکومت کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات بھی اپنے حلقے کی سیاست کو اسی پرانی نظر سے دیکھتے ہیں جسے ہم تھانہ کچہری کی سیاست کہتے ہیں۔

    لہذا ایک طویل غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب کی نہیں بلکہ انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں مل کر کام کریں۔ اس میں بیوروکریسی، حکمران اور خصوصا عوام کا ذہنی طور پر شامل ہونا ضروری ہے۔

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti 

  • برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    عصر کا وقت تھا فون کی گھنٹی بجی کال اٹھائی تو ماموں زاد مخاطب تھا۔ کہنے لگا عرفان بھائی ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ میں نے کہا یار میں مفتی تو نہیں بہرحال بتاؤ کیا ایشو ہے۔۔؟
    گویا ہوا کہ ایک بچہ جو پیدا ہوا ہو اور اس کی کچھ دیر سانس اور نبض چلتی رہی ہو کیا اس کا جنازہ ہو گا۔۔؟
    میں نے کہا ہاں یار جنازہ تو ہونا چاہیے اس کا حق ہے۔ تو جی ٹھیک کہہ کر کال بند کر دی۔
    تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ اس کی کال آئی تو کہنے لگا کہ عرفان بھائی یہاں سب کہہ رہے ہیں کہ جنازے کی ضرورت نہیں ہے ، بچہ زندہ تھا ہی نہیں، جنازہ رہنے دیں۔۔۔!
    میں نے کہا کہ یار آپ پریشان مت ہوں جنازے کی ترتیب بنا لیتے ہیں۔ تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ مجھے معاملہ تھوڑا گمبھیر لگا تو میں نے پوچھ لیا کہ یار اصل مسئلہ بتاؤ کہ کیوں نہیں جنازہ کرنا چاہ رہے۔۔؟
    میرے اس سوال پر اس کے جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
    کہنے لگا کہ عرفان بھائی سچ تو یہ ہے کہ امی کہتی ہیں کہ "جنازہ کروایا تاں برادری جھلنی پوسی” (جنازہ کروایا تو پوری برادری کو جھیلنا/ برداشت کرنا پڑے گا) جو کہ ہمارے لیے بہت مشکل ہے کیوں کہ مالی حالات خراب ہیں اور کام بھی کوئی خاص نہیں ہے۔
    یقین مانیے اس کے ان الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔ مجھے یوں لگا کہ آسمان سے بجلی برسے یا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں۔۔
    کیوں۔۔؟
    کیونکہ اس کی برادری میں ہوں، اس کی برادری آپ ہیں، اس کی برادری ہم سب ہیں۔
    یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے کہ بندہ فوت بعد میں ہوتا ہے پورے خاندان کےلئے بوریا بستر اور کھانے کی ٹینشن لواحقین کو پہلے لاحق ہو جاتی ہے۔ اور یہ اس کا آخری درجہ ہے کہ آج ایک معصوم جان کو بغیر جنازے کے دفن کیا جانے لگا تھا کہ "برادری جھلنی پوسی”
    بہرحال میں نے اسے کہا کہ پریشان مت ہو، ہم جنازہ پڑھیں گے اور بے شک برادری کو مت پوچھنا، کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی سنت ہے کہ ایک دفعہ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہوا جو ابھی چھوٹا تھا تو آپ نے ان کے گھر جا کر صرف گھر والوں کو شامل کیا اور نماز جنازہ ادا کر لی۔
    اور ہاں اگر برادری کو خبر دینی ہی ہے تو مجھے بتانا میں انتظامات کروا لیتا ہوں۔۔ لیکن اسے اللہ نے سمجھ دی ،میں بھی کچھ دیر میں ان کے گھر پہنچا، کچھ ان کو سمجھایا جو اللہ نے توفیق دی اور پھر ہم نے رات عشاء کے بعد اس کے قریبی ترین تقریبا بیس لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی۔
    معزز قارئین یہ ایک کہانی ہے آپ اگر آنکھیں کھولیں تو ایسی ہی ہزاروں کہانیاں میرے اور آپ کے اردگرد روز رونما ہوتی ہیں ، لوگ مرگ پر پریشان حال ہوتے ہیں کہ کفن دفن تو درکنار برادری کو قورمہ کہاں سے کھلائیں گے۔؟ ان کے رہنے کا کیا بند و بست ہو گا۔۔؟
    خدارا غریب کےلئے موت کوبھی آسان کیجیے ایسا نہ ہو کہ غریب کہیں اس رواج کے ڈر سے اپنے مردے دفنانا ہی نہ چھوڑ دے یا قریب المرگ لوگوں کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کرنا، ایدھی ہومز کے حوالے کرنا یا کسی روڑھی پر پھینکنا نہ شروع کر دیں۔ اور یاد رکھیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس میں میرے اور آپ کے سمیت ہم سب مجرم ہونگے۔ تو آئیے آج سے عزم کیجیے کہ ایک تو کسی بھی مرگ پر گوشت نہ پکے ، پھر آپ اپنی حیثیت میں فوتگی والے گھر سے کھانے کا بائیکاٹ شروع کریں اور تیسرا یہ کہ اس تحریر کو پڑھنے والا ہر فرد اپنی اپنی فیملی ، محلے یا گاؤں میں ایسی کمیٹی بنائے جو لوگوں کو فوتگی کے موقعہ پر سہولیات دے کہ شہر سے باہر سے آئے مہمانوں کا کھانا ، میت کا کفن ، دفن ، قبر کا بند و بست اور ضروری معاملات نپٹانے سے اس فیملی کو بے فکری ہو تا کہ آئندہ کوئی فرد یہ کہہ کر جنازے سے انکار نہ کر سکے کہ "برادری جھلنی پوسی”

  • ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏قلم ایک طاقتور ہتھیار ہے جس سے نہ صرف ظلم و جبر اور جہالت کی تاریکیوں کو دور کیا جا سکتا ہے بلکہ تاریکیوں کو اجالاوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حق اور سچ کے پھلاٶ کو روکنے کےلیے ٹوٸیٹر اور فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پر بھارتی لابی سرگرم ہے، جو محب وطن پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رپورٹ کر کے سسپنڈ کروا رہی ہے۔ بھارتی انٹیلیجنس کی سرپرستی میں کام کرنے والا یہ گروہ، ہر اس شخص کے اکاؤنٹ کے خلاف رپورٹنگ شروع کر دیتا ہے جو اسلام، پاکستان، کشمیر، مسلمانوں کے قتل عام اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے۔ ٹوٸیٹر سمیت تمام سوشل میڈیا ہر اس اکاؤنٹ کو بلاک یا سسپنڈ کر دیتا جس کے خلاف رپورٹنگ ہوتی ہے، جس سے بہت سے پاکستان اور اسلام کے مجاہدوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایک مدت بعد اب ٹوٸٹر نے ویریفیکیشن کا پروسس بحال کیا جس کی وجہ سے ٹویٹر پر آجکل ہر طرف اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کی چہل پہل ہے اور کیوں یہ گہماگہمی نہ ہو؟ گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں اکاٶنٹس بِنا کسی وجہ کے سسپنڈ کردیے گٸے اور بعد ازاں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا تھا کہ آپ نے ایپ کے قوانين کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے اکاؤنٹ لاک یا سسپنڈ کیا جا چکا ہے۔ لیکن اب جیک نے اپنے ٹوٸٹر صارفينز کو اپنا اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ اب ویریفکیشن ایپلی کیشن کے ذریعے ٹوٸٹر صارفين اپنے اپنے اکاؤنٹس کو ویریفائی کرواسکتے ہیں۔ ٹوٸٹر کے نئے قوائد کے مطابق ہراکاؤنٹ کا ایک پروفائل ہوگا جس میں صارف کو اپنی اصلی تصویر لگانی ہوگی، اپنا ای میل یا فون نمبر کنفرم کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ٹویٹر صارف کے اکاؤنٹ سے قوائد و ضوابط کے تحت گزشتہ چھ مہینوں سے کوٸی خلاف ورزی نہ کی گٸی ہو۔ ٹوٸٹر نے صارفین کے لیے چھ کیٹگیریز بنائی ہیں جن میں گورنمنٹ، کمپنیز،برانڈز اینڈ آرگنائزیشنز، خبر رساں ادارے اور صحافی، انٹرٹینمنٹ ، اسپورٹس اینڈ گیمنگ، ایکٹوسٹس اورگنائزرز اور نمایاں افراد شامل ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام شخص ان تمام کیٹگیریز پر کیسا پورا اترے گا؟ کیونکہ بہت سے سارے احباب ایسے ہیں جو کیسی بھی حکومتی عہدے پر نہیں ہیں تو یہ کیٹگیری ان احباب کے لیے نہیں ہے۔ مگر ان تمام کیٹگیریز میں ایک ایسی ہے جس پر ہر کسی کی رساٸی ممکن ہے وہ ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ ہے۔۔۔ ٹویٹر نے اپنے صارفين کے لیے بہت سی رعایت کی ہے۔ اگر آپ صحافی یا کیسی چینل سے آپکا تعلق نہیں بھی ہے تو کوٸی مسٸلہ نہیں، اس کے لیے آپ اچھا لکھاری ہونا ضروری ہے۔ تو اگر آپ اچھے لکھاری ہیں تو اس کیٹگیری ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ پر جا کر ویریفیکشن کے لیے اپیل کرسکتے ہیں۔ بعض لوگ پہلے سے مختلف ساٸٹس میں کالم لکھ رہے ہیں، ان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اس کیٹگیری کے لیے اہل ہیں۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے احباب جو پہلے سے گالم نگار نہیں ہیں اور نہ کسی ساٸٹ سے انکا تعلق ہے، تو انکی بھی آسانی کے لیے ارشاد کرتا چلوں کہ وہ اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنے جذبات اور احساسات کو تحریر کی شکل دیں۔۔۔تحریریں شاٸع کرنے میں مختلف ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ آجکل بہت سی ساٸٹس ایسی ہیں جو تحریریں شاٸع کررہی ہیں، جن میں باغی ٹی وی ، اردو پوائنٹ ، گوبلی اردو اور دیگر نیوز ساٸٹ شامل ہیں جو کیسی بھی حرص و لالچ کے بغیر نٸے لکھاریوں کو سہنری مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے لوگ تحریریں لکھ رہے جس سے معاشرے میں ادب اور زبان سے محبت اور لگاٶ پیدا ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل جو نہ صرف اپنی زبان لکھنا اور بولنا بھولتی جا رہی تھی بلکہ ان میں اپنے ماضی سے لگاٶ اور رکھ رکھاٶ بھی ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں صحافی مبشر لقمان کےچینل باغی ٹی وی، اردو پوائنٹ اور گلوبلی اردو وغیرہ نے نوجوان نسل میں مطالعے اور لکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ حیرت انگیز طور پر اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے اچھے اور بہترین لکھاری سامنے آٸے جو مستقبل میں معاشرے اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ تو ناظرین اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنی تحریریں ان ساٸٹس پر شاٸع کروائيں تاکہ آپ کی الفاظ کی گرفت مظبوط ہو اور آپ آنے والے دنوں میں جہاد بلقلم کر سکیں۔۔۔۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین

    @HamxaSiddiqi