Baaghi TV

Category: متفرق

  • منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    *
    اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی ضروریات کی تسکین کا اہتمام فرمایا۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و شکل عطا فرمائی. اللہ پاک نے انسان کو جن وجوہات کی بنا پر باقی مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے وہ عقل، شعور، فہم و فراست، قوت فیصلہ اور ضمیر ہیں۔ انسان اپنی انہی خوبیوں کے استعمال سے خیر و شر میں تمیز کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو جن چیزوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ایمان، جان اور عقل کی حفاظت سرفہرست ہیں۔ اللہ پاک نے انسان کو عقل، فہم و فراست اور فکر و نظر کی حفاظت کی تاکید فرماتا ہے لہذا اسی حفاظت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے انسان کو اس کی عقل کے بدترین دشمن نشہ کے استعمال سے نہ صرف سختی سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے حرام اور ناپاک عمل قرار دیا ہے۔ دین فطرت، دین اسلام کا ہر حکم میں انسانیت کی فلاح و بہبود پر مبنی ہے لہذا اسلام میں نسل انسانی کے لیے نشے کو حرام قرار دیا جانا کسی صورت بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ممانعت کی حکمت خود اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
    ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاو۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے۔”
    آیت مبارکہ میں نشے کے نسل انسانی کو لاحق بڑے خطرات کا ذکر بہت جامع اور مختصر انداز میں کیا گیا ہے اور اس آیت مبارکہ کی تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ نسل انسانی کو لاحق ایک ایسا خطرہ ہے جو انسان کو ذہنی، جسمانی، روحانی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی الغرض ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
    منشیات کے استعمال کے بے شمار نقصانات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ آپ کی قیمتی جان کے ضیاع کا ہے۔ نشے کی عادت ہلکی نشہ آور شے کے استعمال یا محض سگریٹ نوشی سے شروع ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ طلب کے پیش نظر منشیات کے عادی اس مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ یعنی یوں کہہ لیں کہ نشے کے سفر کا آغاز سگریٹ، پان، بیڑی یا نسوار وغیرہ سے ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے چرس، افیون، ہیروئن، آئس، کوکین اور انجیکشنز تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر تک نشہ انسانی جسم میں اس قدر زہر بھر دیتا ہے جو اسے موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ یوں زندگی کی تسکین کا سفر زندگی کے بدترین انجام پر اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
    نشے کے عادی افراد کی صحت و تندرستی کی صورتحال انتہائی نازک مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ان کا مدافعتی نظام بیماریوں سے لڑنے کی بلکل بھی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے عادی شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، ہائپرٹینشن، کینسر اور امراض قلب جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صحت و تندرستی کی نازک صورت حال نشہ کا نسل انسانی کو لاحق دوسرا بڑا خطرہ ہے۔
    عقل اور شعور وہ کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر انسان کو باقی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی ہے نشہ عقل انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ نشہ انسانی دماغ کو ماوف کردیتا ہے اور وہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد عقل اور شعور سے خالی ہوتے ہیں وہ اپنا اور اپنے خاندانوں کا برا بھلا سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ چونکہ نشہ کے عادی سوچنے سمجھنے اور خیر و شر میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا وہ اخلاقی طور پر انتہائی کمزور اور بدکردار ہوتے ہیں۔ نشہ کرنے کی وجہ سے وہ تمدنی و ثقافتی روایات، اصول معاشرت اور اخلاقیات مکمل طور پر بھلا دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی مختلف معاشرتی خرافات جیسا کہ چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور زنا وغیرہ کا شکار ہوکر معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ کے طور ابھرتے ہیں جن کی بدولت پورا معاشرہ تعفن آلود ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عام انسانوں کی نسبت منشیات کے عادی افراد میں گالم گلوچ اور بدکرداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور پسماندگی منشات کے استعمال کا وہ نقصان ہے جس سے نہ صرف منشیات کے عادی متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام معاشرے پر بھی اس کے گہرے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔
    منشیات کا استعمال جہاں اخلاقی، ذہنی اور جسمانی پسماندگی کا سبب بنتا ہے وہیں یہ انسان کو معاشی طور پر بھی کمزور کر دیتا ہے۔ نشہ کے عادی لوگ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنی منشیات سے وابستہ ضروریات پوری کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو معاملات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ لوگ نشے کی خاطر معاشرے کے دوسرے افراد کے سامنے دست سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے عاجز ہوتے ہیں جس کی بدولت انہیں غربت اور معاشی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسی نکتہ نظر کو قومی سطح پر دیکھا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منشیات کے استعمال کی مد میں سالانہ اربوں روپے ضائع ہو رہے جنہیں اگر کسی مفید کام میں خرچ کیا جائے تو بہتر معاشی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔
    خاندانی نظام نسل انسانی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے مگر نشہ اس بہترین نظام کی تباہی کا ایک بڑا سبب ہے۔ منشیات کے عادی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جنہیں اپنے اہل و عیال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ نشہ ان کے دماغوں کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے جس کی بدولت وہ جھگڑالو اور متشدد مزاج ہوجاتے ہیں۔ عدم برداشت اور بیمار ذہنیت کے یہ لوگ طبعیت میں بھلا کا چڑچڑاپن رکھنے کی وجہ سے ہر وقت اپنے خاندان سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ کئی واقعات میں تو حالات کی سنگینی ایسی صورت اختیار کرتی ہے کہ بات قتل و قتال اور طلاق کی نوبت تک جا پہنچتی ہے۔ ایسے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں منشیات کے عادی بے ضمیر لوگوں نے نشے کی خاطر اپنی اولادوں اور عزتوں تک کو بیچ ڈالا۔
    نشہ معاشرتی بگاڑ اور تمدنی روایات سے انحراف کی بڑی وجہ ہے۔ جب انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی وہ معاشرے میں انتشار اور بے سکونی ہی پیدا کرے گا۔ ان سارے حالات کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نشہ دور حاضر میں نسل انسانی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔ میں باغی ٹی وی نیوز کی پوری ٹیم کو داد تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ ماہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک بھرپور مہم کامیابی سے چلائی اور انسداد منشیات و تمباکو نوشی کے متعلق نوجوانوں کو بہترین انداز میں آگاہ کیا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ایسی صحت مند اور مفید سرگرمیاں حکومتی سربراہی میں جاری رہنی چاہیں تاکہ ہمارا مستقبل یعنی ہماری نوجوان نسل نشے جیسی لعنت سے محفوظ رہے۔

    Twitter:
    @DSI786

  • چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر   تحریر : راجہ ارشد

    چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے محلے کی مسجد میں ایک قاری صاحب ہیں جو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں یہی امام مسجد بھی ہیں کل نماز مغرب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھا تھا یوں ہی گپ شپ ہو رہی تھی امام صاحب اور میں ہم عمر بھی ہیں تو بات بڑی گھول کے کرتے ہیں وہ بتانے لگے کہ ۔

    ایک دن میرے پاس آپ کا پورانا پڑوسی آیا رانا امجد نام تھا میرے اس پڑوسی کا اور آج سے 8 یا 10 سال پہلے ہم دونوں ایک ہی بیلڈنگ میں رہتے تھے ۔ رانا امجد صاحب دوسرے فلور پر تھے اور میں گرونڈ پر تھا بس وہاں ہی سلام دعا ہوئی تھی ان سے ۔اس کے بعد میں نے گھر بدل لیا اور کام کاج کے چکر میں ان سے رابطہ بھی کم ہی ہو گیا۔ ابھی کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اتفاق سے میں اور امام صاحب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ سامنے آ گئے۔

    امام صاحب سے تعارف بھی میں نے ہی کرویا تھا خیر امام صاحب نے کہا وہ آپ کے پڑوسی نہیں تھے رانا امجد صاحب۔ میں نے فورن جوابن کہا اللہ خیر کرئے امام صاحب کیا ہوا ان کو ؟

    امام صاحب نے کہا ہوا کچھ نہیں بتا رہا ہوں کہ جب آپ نے ان سے ملوایا تھا اس کے ٹھیک دو دن بعد رانا امجد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور میرے بیٹے نے عجیب و غریب بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ شاید کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے یا جنات کا سایہ ہے ۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نے کہا۔آپ بچے کو میرے پاس بھیجیں دیکھتے ہیں مسلہ کیا ہے۔

    اگلی صبح وہ لڑکا میرے پاس آ گیا وہ نو عمر لڑکا تھا میں نے انتہائی محبت ، شفقت کے انداز میں بات چیت شروع کی تو وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔پھر اس نے بتایا کہ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی ہے جہاں کے رہنے والوں کو دین سے کوئی سروکار نہیں۔ نمازوں کی فکر ہے نہ روزں کی نہ قرآن مجید کی تلاوت نہ دیگر عبادات کی ہمارا گھرانا سر تا پاوں گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔میرے والد نے کبھی نماز نہیں پڑھی وہ کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔

    میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا کہا اس بچے کو امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے والد کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کی اور کہا بیٹا تمارا اپنے والد پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ تم رات کی تنہائیوں میں اپنے اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے والد کی ہدایت کے لیے دعا کرو ۔لڑکے نے بہت ذوق و شوق سے میری باتیں سنی اور اس پر عمل کرنے کا کہ کر چلا گیا۔

    میں نے کہا آچھا پھر امام صاحب کیا ہوا وہ لڑکا دوبارہ کبھی وآپس آیا ؟ امام صاحب نے کہا ہاں ابھی کل کی بات ہے وہ لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔استاد محترم جیسے آپ نے بتایا تھا میں نے اسی طرح کیا جب سارے گھر والے خواب غفلت میں پڑے ہوتے میں اٹھ کر وضو کرتا اور نماز تہجد ادا کرتا اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اتفاق سے میرے والد کہیں سفر پر تھے وہ رات کو تاخیر سے گھر لوٹے تو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرا بیٹا ایک تاریک کمرے میں اللہ سے دعا کر رہا ہے ابو جان نے قریب آ کر سنا تو میں کہہ رہا تھا۔

    اے میرے رب میرے والد کو ہدایت نصیب فرما ۔اے میرے رب ان کے دل کو دین کے لیے کھول دے اور انہیں اہل جہنم میں سے نہ کرنا۔ یا رب تو ہی ہے جو یہ کر سکتا ہے۔
    ابو جان حیران و پریشان کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

    پھر وہ باتھ روم میں گئے اور غسل کیا اور میرے پیچھے نماز پڑھنے لگے انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سے پکا نماز پڑھنے کا عہد کر لیا ۔ لڑکے نے بتایا کہ ابو جان نے مجھے گلے لگایا اور شاید اپنے ہی بیٹے کا اس طرح کا ذوق عبادت دیکھ کر حسرت و ندامت سے زار و قطار روتے رہے۔امام صاحب کی بات ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں نے بھی برسنے کی تیاری کر لی ہو بس سبحان اللہ منہ سے نکلا اور امام صاحب سے اجازت لے کر گھر کو چکا آیا۔

    قارئین دیکھا کس طرح یہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والد اور سارے خاندان کی ہدایت کا باعث بن گیا ۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنی ہدایت سے مالامال کر دیں اور سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم امین یا رب العالمین۔
    RajaArshad56

  • دھندہ ہے پر گندا ہے تحریر : نواب فیصل اعوان

    پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ویڈیوز لیکس ہو رہی ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں ۔
    سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہوٸ جس میں الزام عاٸد کیا جا رہا ہے کہ اس نے میڈیا میں ملازمت کے نام پر درجن بھر لڑکیوں سے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں اور فارم ہاٶسز میں زیادتی کی ۔
    مگر سوال یہاں یہ ہے کہ کیا یہ الزامات سچ ہیں ۔؟
    اس سوال کو وقت پہ چھوڑ دیتے ہیں مگر باوثوق ذراٸع کے مطابق محمد زبیر مسلم لیگ ن چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کی پاداش میں ویڈیو لیک کی گٸ ۔
    محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے اور وہ فرانزک آڈٹ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ ویڈیو فرانزک کے بعد جعلی نکلتی ہے تو کیا محمد زبیر کو بدنام کرنے کیلۓ یہ ویڈیو ریلیز کرنے والے اصل مجرمان قانون کی گرفت میں ہونگے یا نہیں ۔؟
    اگر یہ ویڈیو اصلی نکلتی ہے تو کیا پاکستانی ادارے محمد زبیر کو ان درجن بھر خواتین کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج کر کے قانونی کارواٸ کرینگے بھی یا نہیں ۔؟
    محمد زبیر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مریم نواز شریف کے ترجمان بھی رہے چکے ہیں ۔
    بعض ذراٸع کے مطابق اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو اس کے پیچھے مسلم لیگ ن اور خاص طور پہ مریم نواز شریف کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ بارہا میڈیا پہ بتا چکی ہیں کہ ان کے پاس کٸ ملکی نامور شخصیات کی فحش ویڈیوز موجود ہیں اگر ایسا ہے تو جج ارشد ملک کی طرح محمد زبیر ویڈیو لیک کے تانے بانے بھی مسلم لیگ ن اور مریم نواز شریف سے ملیں گے ۔
    ملکی مفاد کو بالاۓ تاک رکھ کر سیاست میں کسی کی مخالفت میں اتنا گر جانا کہ ویڈیوز لیک کر دینا یہ پاکستان کیلۓ بین الاقوامی ہزیمت کا باعث بنے گا ۔
    اگر ایسا ہے تو پاکستان کے اعلی عہدوں پہ فاٸز اور پاکستان کا نظام سنبھالنے والوں کی بھی ویڈیوز نکل آتی ہیں تو یہ پاکستان کیلۓ باعث تشویش ہے کیونکہ ذراٸع کے مطابق ڈارک ویب پہ پاکستانی نامور شخصیات کی ویڈیوز اور تصاویر بیچی جاتی ہیں اگر کسی بھی پاکستانی سیاستدان اینکر ایکٹر سنگر یا دیگر اعلی منصب پہ فاٸز عہدے داران کی ویڈیوز یا تصاویر ڈارک ویب پہ موجود ہیں تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ان کے ذریعے متاثرین کو بلیک میل کر کے اپنے مفادات کیلۓ استعمال کر سکتی ہے ۔
    زرا سوچیں کتنے لوگ ہونگے جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہونگے اور پاکستانی مفادات کو بالاۓ طاق رکھ کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کر رہے ہونگے ۔
    اس وقت پاکستان نازک حالات سے دو چار ہے ایسے میں ان سب چیزوں کا پاکستان میں عام ہونا قابل تشویش ہے ۔
    ملکی اداروں کو اس وقت اعلی سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے یا کسی سیاسی پارٹی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے لوگوں کو بے نقاب کر سکیں اور پاکستان میں ایسے واقعات کے اصل محرکات سے واقف ہو سکیں ۔
    بعض ذراٸع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ویڈیوز کا یہ نا ختم ہونے والا طوفان ہے جو اپنی پوری قوت سے آۓ گا اور اس میں بہت سے مزید لوگ بے نقاب ہونگے ۔
    کیا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔؟
    کیا یہ پاکستان دشمن عناصر کی پاکستان کو بدنام کرنے کی چال تو نہیں ۔؟
    کیا واقعی اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔؟
    یہ سوالات میں آنے والے وقت کیلۓ چھوڑتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ پاک سب کی عزتوں کو محفوظ رکھیں اور پاکستان کو ملک دشمن عناصر کی چالوں سے بچاٸیں آمین

    @NawabFebi

  • آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

    ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

    آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

    اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

    بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

    یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

    گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

    ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

    لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

  • انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم !

    ٧٠ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن انڈیا نے اپنی سوچ کو زرا برابر بھی وسیع نہیں کیا ،انڈیا جو ایک طرف خود کو جمہوریت پسند ملک سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسی انڈیا میں آئے روز اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان کی زبان بندی کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہا ہے ،کبھی بابری مسجد کے معاملے پر تو کبھی گجرات میں مسلمانوں کی بستیاں جلانے کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں ،سمجھوتا ایکسپریس کا واقعہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کی نا ختم ہونے والی داستانیں انڈین پنجاب کے سکھوں پر مظالم ہوں یا اپنے ہندو دھرم کے نیچ طبقے پر جاری مظالم ہوں لیکن سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دنیا انڈیا کے ان مظالم پر بلکل خاموش تماشائ بنی نظر آتی ہے ،کسی مسلم ملک میں اگر خدانخواستہ اقلیت کے بندے سے کسی ذاتی اختلاف پر ،ذاتی دشمنی کی بناء پر دو محلے دار یا دوست آپس میں بھی زرا سے لڑجائیں تو اس مسلم ملک کے خلاف پوری دنیا اکٹھی کھڑی نظر آتی ہے اور سب کو انسانی حقوق کا خیال آجاتا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم وستم پر عالمی دنیا کو نا انسانی حقوق نظر آتے ہیں اور نا ہی کوئ ظلم وستم نظر آتا ہے ،کشمیر میں انڈین مظالم کی سب سے بڑی مثال تو یہی کافی ہے کہ وہاں پر انڈیا نے اپنی ٧ لاکھ سے ذیادہ فوج بھیج رکھی ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ انڈیا کس طرح کے مظالم ڈھارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ،کبھی ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو کبھی ان کے جوان بیٹے،بھائ ،باپ اور شوہر سرعام اذیت دے کر قتل کردیئے جاتے ہیں باقی انڈیا میں تو جب سے مودی کی حکومت آئ ہے تب سے ہر جگہ مسلمانوں پر قیامت برپا کر رکھی ہے ،کہیں قانون نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی ،راہ چلتے مسلمانوں کو بے وجہ ڈنڈا بردار لوگ تشدد کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ان کی آہ و پکار سننے والا کوئ نہیں ہوتا ،مسلمان لڑکیوں کو زبردستی مذھب تبدیل کروانے کی مہم بھی مودی کی سرپرستی میں جاری ہے اور یہ باتیں یہ مظالم دنیا میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عالمی دنیا ستو پی کر سورہی ہے ایسے واقعات کا ١% بھی پاکستان یا دنیا کے کسی ایک مسلم ملک میں ایسا کوئ واقعہ نظر آجائے تو اسے دنیا اس طرح بڑھا چڑھاکر پیش کرتی ہے کہ جیسے یہ مسلم ملک ہی دنیا میں سب سے ذیادہ ظالم ہے باقی ساری دنیا پارسا ہے 

    عالمی دنیا کو اب یہ منافقت چھوڑنی پڑے گی اور انڈین مظالم کے خلاف دنیا کو آگے آنا پڑے گا تاکہ مسلمان چاہے کسی بھی ملک میں ہو وہ بھی انسان ،ان مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دینے پڑیں گے جو دنیا میں کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھنے والے فرد کے لئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اب دنیا کو سختی کرنی چاہیے ورنہ اگر ہر طرف مسلمانوں پر اسی طرح ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا تو یقین کریں  اس کے عالمی دنیا سمیت تمام ممالک پر اور خاص طور پر انسانیت کے بات کرنے والوں پر بڑے گہرے اثرات پڑنے ہیں اور دنیا کسی اور خانہ جنگی طرف چل پڑے گی جس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑسکتا ہے ،اس لئے عالمی دنیا انڈیا کے نا صرف ہاتھ روکے بلکہ انڈیا پر سخت قوانین اور پابندیاں لاگو کی جائیں تاکہ انڈیا جیسے بدمست ہاتھی کو زرا سی لگام ڈالی جاسکے اور مسلمانوں کی نظر میں   عالمی دنیا اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکے ورنہ حالات جس طرف جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے بھیانک ہوتے جائیں گے 

    ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    @MajeedMahar4 

  • منصب کی بےتوقیری  تحریر: آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔

    ۞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

    "۔۔۔۔۔۔۔۔  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    سورة الأنعام 151

    مختلف سیاسی جماعتوں کے بدکار رہنماؤں کی  ویڈیو لیک ہونا معمول بن چکا مگر معاشرے اور ریاست کا اس پر ردعمل انتہائی قابل افسوس ہے ۔بےحیائی کے مناظر پر مبنی ویڈیوز چند روز سوشل میڈیا کا موضوع بحث بنتی ہیں اور پھر یکسر بھلا دی جاتی ہیں نہ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے نہ عدالتیں از خود نوٹس لیتی ہیں اور یوں معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور بدکار پورے طم طراق سے اپنی گندی سیاست کو جاری رکھتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بےحیائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ایسے بدبخت صحافی اور نام نہاد دانشور بےحیائی کے دفاع میں سینہ ٹھونک کر سامنے آجاتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے ترجمان زبیر عمر کی پانچ قابل اعتراض اور فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیوز چینل پرخبریں پڑھتے پڑھتے صحافی بننے والی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر زبیر عمر نے پانچ خواتین کے ساتھ باہمی رضامندی سے بدکاری کی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا ہاں اگر نوکری کا جھانسہ دیکر بدکاری کی گئ تو پھر سوال بنتا ہے۔

    اس طرح کی چربی زبانی کی وجہ سے بدکاروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔اور زبیر عمر جیسے بدکار ویڈیو لیک ہونے پر منہ چھپائے کی بجائے اگلے ہی لمحے ٹی وی پر بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔

    اور تو اور ان بدکاروں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی کھلی بےحیائی پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتی ہیں بلکہ اپنے ان رہنماؤں کی سرپرستی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ طلال چوہدری کی تنظیم سازی عابد شیر علی کی فحش گوئی راحیل اصغر کی سرعام بدزبانی اور زبیر عمر کی ویڈیوز پر مسلم لیگ ن نے بطور سیاسی جماعت کو ایکشن نہیں لیا۔ یاد رہے یہ بدکاری زبیر عمر نے نہیں کی بلکہ گورنر زبیر عمر نے کی ہے

     ایک بندہ گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے کیسے مجبور خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ان کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا اور ریاست خاموش رہی ۔ایسے زندیق شخص کو اس منصب پر فائز کرنے والا بھی اس کے جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے

    گناہ کو گناہ نہ سمجھنے والے معاشرے انارکی اور ٹو پھوٹ  کا شکار ہوکر وحشی درندوں کا مسکن بن جایا کرتے ہیں۔

    ہمارے مذہب نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا مقرر کی ہے اور سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت ان تمام ویڈیوز کا فرانزک تجزیہ کروائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو گرفتار کرکے حد لاگو کرے ۔

    آئین کی متعلقہ شق کے تحت ایسے بدکاروں کو سیاست میں حصہ لینے اور میڈیا پر بیان جاری کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے ۔اگر آئین میں اس بدکاری کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں تو حکومت ضروری آئین سازی کرے تاکہ آئندہ کسی کو گورنر جیسے اہم ریاستی اور آئینی عہدہ کو استعمال کرتے ہوئے اسی بدکاری کی جرات نہ ہو سکے۔                             @EducarePak

  • ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟

    خدا جانے کیوں ایک عرصہ ہوا اس ایلیٹ کلاس سے ایک قسم کی گھن آنے لگی ہے۔ ان لوگوں میں کوئی انسانی اقدار، کوئی شرم و حیا نام کی شے نہیں ہوتی۔ مجھے کوئی اخلاقی بھاشن نہیں دینا اور نہ ہی راضی بہ رضا کے معاملات میں دخل در معقولات کا قائل ہوں۔ مگر ایک حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ کچھ معاملات پوشیدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات پر چاہے معاشرہ کتنا ہی مدر پدر آزاد کیوں نہ ہو، ملک مزہبی ہو کہ سیکولر، معاشرتی اور سماجی قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے متعلق وہ اسکینڈلز ہیں جو گاہے گاہے سامنے آتے رہے اور ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا گئے۔ امریکی معاشرہ بھی کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مشرقی روایات کے باب میں کیا عرض کرنا۔

    بھائیو اور بہنو، جو کرنا ہے کرو، کون روکے ہے۔ (ویسے کون نہیں کرتا؟ کچھ ویڈیو میں کرتے ہیں۔ کچھ ویڈیو دیکھ کر کرتے ہیں۔) مگر اس دیدہ دلیری سے، اس بے احتیاطی اور بے باکی سے؟ چور تب تک چور ہے اور باکمال ہے جب تک چوری پکڑی نہیں جاتی۔ چور ہر ممکن احتیاط کرتا ہے کیوں کہ اس کو پتا ہے کہ وہ ایک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایک اوسط درجے کا آدمی یہ دوسرے "معاملات” بھی اسی چور کی طرح چوری چھپے کرتا ہے مگر ایلیٹ کلاس اپنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے باکی کی رو میں ایسی بہہ جاتی ہے کہ نہ معاشرتی حساسیت کی پرواہ، نہ مزہبی قدغنوں کا ادراک۔ نہ انسانی اقدار کا پاس نہ اپنی ساکھ کی پرواہ۔ نہ دوسرے کے خاندان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ اپنے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاق کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زبیر عمر کی ویڈیو ایک تازہ واردات سہی مگر یہ نہ آخری ہے اور نہ پہلی۔  ویڈیوز کی فہرست کافی طویل ہے۔

    مجسمہ حسن و خوبی، ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی ایک بچی کی ماں سے کس لب و لہجے میں بات کر رہی ہے؟ سن کر ایک ابکائی سی آتی ہے۔
    کرنل کی ڈراؤنی بیوی کو کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔
    جسٹس ارشد ملک کی وڈیو آئی جو واشروم میں جا کر دیکھنے کی چیز ہے۔
    عمران خان کے بارے میں ریحام خان کی کتاب میں انکشافات دیکھ لیں۔ اگر کسی نے تہمینہ درانی کی My Feudal Lord پڑھی ہے تو اس کو اس کلاس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      چیئرمین نیب ایک کال میں کس چاؤ سے سر تا پا ایک خاتوں کو چوم رہا ہے۔ اپنا طلال چودھری جو حال ہی میں تنظیم سازی کے لیے گیا اور بازو تڑوا آیا۔ نور مقدم اور اس کا قاتل دونوں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ چوہان ہوئے، مفتی ہوئے کہ شیخ جی ہوئے، سب حریم شاہ نامی حسینہ کی گھنیری زلفوں کے اسیر ہوئے۔ ملک ریاض کی بیٹی ایک ویڈیو میں دو لڑکیوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ہی بنگلے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کہاں تک سنو گے۔ کہاں تک سناؤں۔

    یاد آیا۔ عرصہ ہوا ایک کلپ نظر سے گزری تھی۔ امریکہ میں بسا ایک شخص دہائیاں دے رہا تھا کہ اگر اس کا تعلق مڈل کلاس اور غریب طبقے سے ہوتا تو وہ امریکہ میں کبھی نہ آ بستا۔ آگے چل کر وہ پاکستان کے اس طبقے میں بے غیرتیوں اور بے شرمیوں کی جو طویل لسٹ پیش کر رہا ہے، وہ سننے سے تعلق رکھتی ہیں، لکھنے کی نہیں۔
    تحریر : جواد خان یوسفزئی
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ا یسا پر اسرا مقام ہے جہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں اس جگہ کا نام ڈیتھ ویلی نیشنل پارک رکھا گیا ہے جہاں پتھر اپنی جگہ سے خود بخود سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کے اس خشک ترین مقام میں ایک جھیل کی خشک تہہ میں ایسا ہوتا ہے جسے ریس ٹریک پلایا کا نام بھی دیا گیا ہے ریس ٹریک کی خشک سطح پہ بے جان پتھر خود بخود سرکتے ہیں جس سے ان کے پیچھے ایک ٹریک بن جاتا ہے۔

    2014 میں 2 سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کئی بار یہ بھاری اور بڑے پتھر برف کی پتلی مگر شفاف تہہ میں سورج والے دنوں میں سرکتے ہیں، جسے انہوں نے آئس شوو کا نام دیا سائنسدان جیمز نورس نے اس موقع پر بتایا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دنیا کا وہ مقام جہاں سال بھر میں اوسطاً محض 2 انچ بارش ہوتی ہے، چٹانی پتھر اس طرح سرکتے ہیں جیسے عموماً آرکٹک کے خطے میں نظر آتا ہے۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انہوں نے یہ دریافت حادثاتی طور پر کی تھی، ویسے یہ ان پتھروں کی حرکت کی ہی جانچ پڑتال کررہے تھے مگر انہوں نے ان چٹانوں کو دسمبر میں اس وقت متحرک دیکھا جب وہ وہاں موجود اپنے ٹائم لیپس کیمروں کو چیک کرنے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق ان چٹانی پتھروں کا وزن کئی بار 200 کلو گرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک منٹ میں 15 فٹ سے زیادہ سرک سکتے ہیں، اکثر یہ اپنی جگہ سے کئی کلومیٹر دور تک چلے جاتے ہیں۔

    حیران کن طور پر کسی انسان نے ان پتھروں کو حرکت کرتے نہیں دیکھا یعنی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا البتہ انہیں 2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے ضرور حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس وقت اس حیران کن معمے کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آئی۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

  • کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    قارئین آج میں ایک بہت اہم موضوع پر لکھنےجارہا ہوں یوں تو میں اپنی تمام تحریروں میں کوشش کرتا ہوں کے میری لکھی گئی تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قلم کی آواز ایوانوں میں سنائی دے جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے ہر جگہ کرونا کا رونا ہے لیکن کرونا جاتے جاتے بھی کراچی کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرتا جا رہا ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کرونا کا نوجوانوں کے مستقبل سے کیا واسطہ تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کرونا کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے بالخصوص کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہا ہے آج میرا جانا اپنے کسی دوست کے پاس ہوا جو کے سندھ پولیس میں بطور ایس ایچ او ملازمت کر رہا ہے میں اس کے پاس بیٹھا خوش گپیاں مار رہا تھا کے اچانک اس دوست کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون کال اٹھاتے ہی کہا سر میں گرفتاریاں کر رہا ہوں جن لوگوں نےکرونا ویکسین نہیں لگوائی دوسری جانب کال پر کوئی اعلیٰ افسر موجود تھا کیونکہ میرا ایس ایچ او دوست اسے سر کر کے مخاطب کر رہا تھا دوسری طرف سے کرونا ویکسین نہ لگانے والوں کے خلافِ 40 ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم صادر فرمایا جا رہا تھا چونکہ میں ایس ایچ او صاحب کے قریب بیٹھا تھا تو مجھے دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو کی آواز سنائی دے رہی تھی اور میرا ایس ایچ او دوست سر سر اور سر بولے جارہا تھا فون کال بندہونےکےبعد میں نے اپنے دوست موصوف سے پوچھا کے یہ کیا چکر ہے 40 ایف آئی آرز کس کی کرنی ہے اور آج ہی کیوں کرنی ہے میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی آج سے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کےخلاف مہم کا آغاز کیا جا چکا ہےاور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملا ہے اور مجھے فوری طور پر حکم ملا ہے کے کم ازکم 40 ایف آئی آرز درج کر کے رپورٹ واٹس کرنی ہے افسران بالا کو یہ تمام باتیں سن کر میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے اپنے ایس ایچ او دوست سے کہا یار یہ تو بہت زیادتی اور ظلم ہو جائے گا کہنے کو تو یہ ایف آئی آر چھوٹی سی ہے لیکن یہ ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دے گی ایک ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ نوجوان کسی باہر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اسلحہ کا لائسنس نہیں بنوا سکتا تو یہ تو بہت بڑا ظلم ہو جائے گا اس سے پہلے بھی آپ کو یاد ہو گا ون وے اور ڈبل سواری پر نوجوانوں کی ایف آئی آرز درج کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا چکا ہے کہنے کو تو یہ تمام ایف آئی آریں ایک چھوٹی سی سیکشن 188کے تحت کاٹی جاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی سی ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرجاتی ہے کرمنل ریکارڈ ڈیٹا بیس پر انٹری کر کے نوجوانوں پر ساری زندگی کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے پوری دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہوں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا جارہاہے خدارا نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے یہ نوجوان مستقبل کا معمار ہیں اس ملک کی باگ دوڑ ان ہی میں سے کسی نوجوان نے سنبھالنی ہے براہِ مہربانی کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلافِ ایف آئی آر کے بجائے اگر جرمانہ کر دیا جائے تو بھی لوگ ویکسین لگوا لیں گے اگر ہم فرض کر لیں کے ایک تھانے میں 40 نہیں 25 ایف آئی آرز روزانہ کی بنیاد پر درج کی جائیں تو کراچی کے 108 تھانہ جات سے 2700 ایف آئی آرز درج کر کے نوجوانوں کو تباہی کی جانب گامزن کر دیا جائے گااس پر نظر ثانی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیاجائے چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا از خود نوٹس لیں اور کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ پونے سے بچائیں۔

    جزاکِ اللہ

    Name:

    Sadiq Saeed | صادق سعید

    Twitter Handle

    @SadiqSaeed

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔