Baaghi TV

Category: متفرق

  • صنف نازک: ہر روپ میں عظیم

    صنف نازک: ہر روپ میں عظیم

    صنف نازک ہوں مگر میں سرفراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں۔ میں صنف نازک محبت کی علامت۔ میں صنف نازک وفا کا پیکر۔

    صنف نازک۔ عورت۔ معاشرے کا ایک ایسا ستون جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتا۔ 

    یہ کہانی ہے آج کے دور کی۔ اکیسویں صدی کی۔ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ بیٹیوں کی بجائے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ انہیں نسل چلانے کے لیے بیٹے چاہیے۔ اولاد کا اختیار تو رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے رحمت سے نوازے۔ جسے چاہے نعمت عطا کرے۔ ایک عورت آتی ہے ڈاکٹر صاحب کے پاس کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیں کے میری بہو کے صرف بیٹا پیدا ہو۔ ایسا رواج بنا دیا ہے کہ سسرال میں صرف اسی عورت کی پوزیشن مضبوط ہے جو بیٹے کی ماں ہے۔ نسل چلانی ہے۔ نسل چلانے والی بھی ایک عورت ہی ہے نا۔؟ عورت کے بطن سے ہی اولاد جنم لیتی ہے نا۔ تو صرف بیٹوں کا رونا کیوں۔؟

    اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ میں بتاتی ہوں اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو مرد کی تکمیل نہ ہو پاتی وہ ادھورا ہی رہتا، عورت نہ ہوتی تو دنیا نا مکمل ہوتی، عورت نہ ہوتی تو دنیا میں حسن نہ ہوتا۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں رنگینی ہے۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں جذبات و احساسات ہیں۔ مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر عورت نہ ہوتی تو مرد کا وجود بے کار ہوتا اور دنیا میں تخلیق کا عمل نہ ہوتا، نسل نہ بڑھتی، ایک خوبصورت گھر کا تصور نہ ہوتا اور دنیا بالکل بے معنی اور بے رنگ ہوتی۔ کیوں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔

    ہمیں آج یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی ہمارے معاشرے کا ایک مضبوط ستون ہے۔ عورت کے بغیر یہ معاشرہ نامکمل ہے۔ عورت عزت و احترام کا نام ہے۔ عورت والدین کے لیے باعث فخر اور بھائیوں کے لیے باعث عزت ہے۔ عورت صبح کا نور ہوتی ہے۔ عورت رات کا تارا ہوتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی کی دی گئی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت عورت کا وجود ہے۔ گھر ہو یا کاروبار ہر جگہ عورت ایک مضبوط ستون ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کی ذات جو سب سے بڑے مسئلے کا شکار ہے وہ یہ کہ قوت فیصلہ کی طاقت اس کے پاس نہیں۔ 

    سوشل میڈیا پر ایک دوست نے پوسٹ شیئر کی، جس میں اس نے لکھا تھا کہ ” میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ صبح سویرے ماں اٹھایا کرتی تھی کہ ” بیٹا اٹھ جاؤ تمہیں سکول جانا ہے ". جب کچھ بڑا ہوا تو بہن اٹھاتی تھی کہ ” بھائی جان اٹھ جاؤ ناشتا تیار ہے” بھائی جان کیا آج کالج نہیں جانا۔؟ 

    شادی ہوئی تو بیگم کہنے لگی "اٹھ بھی جائیں، آپ نے ڈیوٹی پر نہیں جانا؟”.. کچھ عرصے بعد بیٹی کہنے لگی ” ابو جی اٹھ جائیں، آپ نے مجھے اسکول چھوڑنے جانا ہے”۔ اب بڑھاپے کی عمر ہے اور بہو رانی کہتی ہے ” بابا جی اٹھ جائیں، ناشتا کر لیں، آپ نے دوا وقت پر کھانی ہے”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جس روپ میں بھی ہو عظیم ہے”.

    معاشرے میں اسلام نے عورت کو بہت مقام و مرتبہ اور شرف و اعزاز عطا فرمایا ہے۔ بحیثیت ماں ، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں اعلیٰ و ارفع مقام سے روشناس کرایا ہے۔

    ویسے تو اسلام نے عورت کو ہر لحاظ سے بلند مقام عطا فرمایا ہے لیکن عورت کو ماں کا درجہ دے کر اس کی عظمت میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ عورت ماں کے روپ میں مرد سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے عورت کے قدموں میں جنت رکھ کر اسے عظیم ترین بنا دیا ہے۔

    اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی بہت سے حقوق دیئے ہیں۔ اسلام بحیثیت بیوی عورت کے تمام حقوق کی نگہداشت کرتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ظلم و تعدی سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہیں۔

    اسلام میں عورت کو بحیثیت بہن و بیٹی جو بلند مقام عطا فرمایا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک نہیں چار بیٹیوں کا باپ بنایا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ جب وہ آتیں تو ان کے لیے چادر بچھا دیتے اور ان کو "بضغة منى” یعنی میرے جگر کا ٹکڑا کہتے تھے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ لڑکیوں کا باپ ہونا مؤجب عار نہیں بلکہ مؤجب سعادت ہے۔ اللّٰہ تعالٰی جس سے خوش ہوتا ہے اس کے گھر اپنی رحمت بیٹی کے روپ میں بھیجتا ہے۔

    آج کے زمانے میں بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر اپنے والدین کا سہارا بنی ہوئی ہیں۔ ہر میدان میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    Twitter I’d @alifsheen_5

  • دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں تحریر:تابش عباسی

    دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں جو شاید سب کچھ اپنی خواہشات و محنت کے مطابق حاصل کر لیتے ہیں پر جوں ہی ان کی سانسیں رکتی ہیں لوگ بھی انہیں بھول جاتے ہیں ۔ پر ایک ایسی بھی قسم انسانوں کی موجود ہے جو اپنا آج ، اپنی نسلوں و قوم کے کل پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ، شاید ایسا ہی ایک نام نامور و بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی صاحب (شہید) کا بھی ہے ۔ سید علی گیلانی صاحب نے اپنی محنت و اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کو وہ جلا بخشی ہے کہ سید علی گیلانی صاحب اب ایک شخص نہیں بلکہ آزادی کشمیر کا ایک نا ختم ہونے والی جدو جہد مسلسل کا دوسرا نام بن چکے ہیں –
    سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان سے محبت شاید پیدائش کے وقت سے ہی آپ کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہی تھی –
    سید علی گیلانی صاحب نے دو شادیاں کیں تھی – آپ کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں – آپ کا ایک بیٹا ڈاکٹر جبکہ دوسرا زرعی یونیورسٹی سرینگر میں لیکچرر ہے – آپ کی بیٹیاں اور خاندان کے دوسرے افراد بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں -1953 سے لے کر 2004 تک آپ جماعت اسلامی کے ممبر رہے ، پر 2004 میں ممبر شب سے استعفیٰ دے دیا-اس کے بعد تحریک حریت کی بنیاد رکھی -جون 2020 تک چیئرمین حریت کانفرنس رہے اور اس دورانیے میں بہترین قائدانہ صلاحیتوں سے تحریک کو نئی جلا بخشی- آپ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سوپور حلقہ سے تین مرتبہ ( 1972 ، 1977, 1987) ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے-
    تعلیم کے حصول کے لیے گیلانی صاحب نے لاہور بھی وقت گزارا – تکمیل تعلیم کے بعد ، جموں کشمیر واپس جا کر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس میں عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا –
    1946 میں مولانا سید مسعودی صاحب سے آپ کی ملاقات ہوئی ،جس میں مولانا سید مسعودی صاحب نے آپ کو نہایت ذہین اور محنتی پایا – مولانا صاحب جو اس وقت نیشنل کانفرنس کے سیکرٹری جنرل بھی تھے ، انہوں نے گیلانی صاحب کو جماعتی اخبار ” اخبار خدمت” کا رپورٹر بنایا – مسعودی صاحب نے گیلانی صاحب کی اعلی تعلیم مکمل کرنے میں مالی معاونت بھی کی ، جس کی وجہ سے گیلانی صاحب اردو ، انگلش ، فارسی وغیرہ پر دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے- تعلیم حاصل کرنے کے بعد ، گیلانی صاحب نے پتھری مسجد ، سرینگر میں معلم کی حثیت سے پہلی باقاعدہ نوکری کا آغاز کیا –

    مولانا مودودی کے ایک پیروکار ، صلاح الدین ترابی سے آپ کی قربت تھی ۔ آپ نے مودودی صاحب کی کتب ان سے ادھار لے کر پڑھنا شروع کی اور آہستہ آہستہ جماعت اسلامی کے قریب تر ہوتے گئے ۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو میرے دل میں تھا وہ مودودی صاحب نے کتاب کی شکل میں میرے سامنے لا کھڑا کیا – یوں ، آپ باضابطہ جماعت اسلامی کی طرف راغب ہوئے-
    پھر ، گیلانی صاحب سرینگر سے سوپور کی طرف واپس آ گئے اور انٹر میڈیٹ کالج میں پڑھانا شروع کیا ۔ ان چھ سالوں میں گیلانی صاحب نے جماعت اسلامی کے نصاب کو خوب پڑھا اور ساتھ اپنے شاگردوں کو بھی اس طرف راغب کیا ۔
    1953 میں باقاعدہ طور پر جماعت اسلامی کی رکنیت حاصل کی ۔
    بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
    2007 میں آپ کو کینسر کی تشخیص ہوئی – علاج کے لیے ڈاکٹروں نے انگلینڈ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا ۔ امریکہ نے آپ کو ویزہ شاید ہندوستانی حکومت کے دباؤ میں آ کر مسترد کر دیا اور بہانہ یہ رکھا کہ کشمیر کی تحریک کو پرتشدد بنانے میں گیلانی صاحب کا ہاتھ ہے –
    عمر عبد اللہ ہمیشہ ہی سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے جدو جہد کو وادی میں تشدد اور فوجی کاروائیوں کی وجہ قرار دیتے رہے جبکہ عمر عبد اللہ کے والد فاروق عبد اللہ بھی ہمیشہ گیلانی صاحب کے دل سے پاکستان سے محبت کو مٹانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ۔
    سید علی گیلانی صاحب کو ایک دھچکا اس وقت بھی لگا ، جب 2014 کے عام انتخابات میں انہوں نے کشمیریوں سے انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کا کہا – پر اس الیکشن میں اس کے متضاد وہ ہوا جو گزشتہ 25 سال میں نہ ہوا تھا – 65 فیصد کشمیریوں نے اپنا رائے حق دہی استعمال کیا – ہندوستان اور ہندوستانی میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا کہ کشمیریوں کی اکثریت سید علی گیلانی صاحب سے الگ نظریہ رکھتی ہے اور شاید یہی کشمیریوں کے موجودہ حالات کی ایک وجہ بھی ہے – شاید مرد حق سید علی گیلانی 2014 میں جو مستقبل کے خطرات دیکھ رہے تھے ان کو پوری دنیا میں 2019 میں عملی طور پر ہوتے دیکھا ۔ عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی کو بھی یہ بات ماننا پڑی اور وہ کہہ اٹھے کہ شاید ہمارے بزرگوں کا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ غلط تھا اور یوں سید علی گیلانی اور ان کے نظریہ الحاق پاکستان کی جیت ہوئی ۔2016 میں برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد ، سید علی گیلانی صاحب نے اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا جس میں چھ واضح پوائنٹس دیے گئے کہ کیسے کشمیر کو پرامن رکھا جا سکتا ہے اور کیسے انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جا سکتا ہے-بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صرف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
    12 مارچ 2014 کو جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ و بجلی کا بندش کا ایک واقع پیش آیا ۔جس میں یہ شور برپا ہوا کہ سید علی گیلانی صاحب وفات پا چکے ہیں اور حکومت وقت اس بات کو چھپانے کے لیے ایسے حالات بنا رہی ہے – پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی صاحب زندہ ہیں، بجلی اور انٹرنیٹ کا مسئلہ اس لیے آیا کہ وادی میں برف زیادہ پڑنے سے تاریں بہت سی جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں – تب جا کر کشمیریوں نے سکھ کا سانس لیا اور شکرانے کے نفل تک ادا کے گے –
    2019 پلوامہ حملوں کے بعد ، ہندوستانی حکومت اور میڈیا نے آزادی پسند رہنماؤں خصوصاََ سید علی گیلانی صاحب کو حملے کا ذمہ دار قرار دے کر ایک دفعہ پھر تفتیش شروع کر دی -سید علی گیلانی صاحب کے صاحبزادے نعیم کے مطابق ، یکم ستمبر 2021 کو رات ساڑھے دس بجے (10:30pm) سید علی گیلانی صاحب اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے – وفات کی وجہ کئی دنوں سے مسلسل ہونے والا سخت بخار بتاتا گیا – نعیم علی گیلانی کے مطابق ان کے والد مرحوم کا جنازہ بھی ان سے چھین کر ہندوستانی فوجیوں نے خود دفنایا اور لوگوں کو نماز جنازہ میں آنے سے روکنے کے لیے پوری وادی میں انٹرنیٹ اور امدورفت کے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے ۔ حیدر پورہ میں کرفیو سا سماں تھا ، گویا سید علی گیلانی صاحب کی لاش سے بھی بزدل فوج اور حکومت ڈر رہی تھی -سید علی گیلانی صاحب اس دنیا سے آزادی کشمیر و الحاق پاکستان کا خواب لے کر چل دیے مگر اب ہم سب پر ، انفرادی و اجتماعی طور پر یہ لازم ہے اور گیلانی صاحب کے خون کا قرض ہے کہ اس تحریک کو نہ رکنے دیں نہ آہستہ ہونے دیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو اپنا آپ قربان کر کے بھی اس تحریک کو جلا بخشیں اور انشاء اللہ ، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کی تکمیل کو گیسید علی گیلانی صاحب کو اس نعرے ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کی وجہ سے بطور بانی رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا -سید علی گیلانی صاحب کی نمازِ جنازہ پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی کشمیری موجود تھے وہاں غائبانہ طور پر ادا کی گئی ۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی اسمبلی کے سامنے ، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی –
    سید علی گیلانی مرحوم کے پوتے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی ( صدر کشمیر یوتھ الائنس پاکستان) کا کہنا تھا کہ "سید علی گیلانی ایک بہترین باپ ، بہترین دادا اور بہترین انسان تھے – خود ہندوستانی حکومت و فوج کے مظالم برداشت کرتے رہے پر انہوں نے ہم سب کو اعلی تعلیم دلوائی پر ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کے نعرے کو ہم سے حلف لے کر ہم پر لازم کر دیا کہ ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آزادی کشمیر و تکمیل پاکستان کے لیے حاضر کریں – انشاء اللہ ، ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس نعرے کی محافظ رہینگی –
    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی ایک شخص نہیں ایک تحریک کا نام ہے اور شاید آج کشمیری قوم خصوصاََ جموں و کشمیر کے کشمیری یتیم ہو چکے ہیں
    Take a look at Engr Tabish Abbasi (@Abbasi_Talks): https://twitter.com/Abbasi_Talks?s=08-

  • زراعت کے شعبے میں عمران خان کا انقلاب پہلا حصہ تحریر: احمد خان

    پاکستان زراعت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بہترین ملک ہے پاکستان کی تقریبا 60 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے جس ملک کا کسان خوشحال ہو سمجھو وہ ملک خوشحال ہے اس ملک کی معیشت اٹھ جاتی ہے وہ ملک بڑی تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے

    کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بھارت کی معیشت ہم سے بہتر کیوں ہے؟؟ کیونکہ بھارت کی حکومت نے اپنے کسانوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کر کے اپنی برآمدات کو بڑھایا ہے

    اور کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم سب سے بہترین نہری نظام رکھنے کے باوجود بہترین زرخیز زرعی زمین رکھنے کے باوجود اپنی برآمدات کیوں نہ بڑھا سکے؟؟

    کیونکہ ماضی کے تمام حکمرانوں نے جہاں ایک طرف ہمارے کسانوں کو سہولیات سے محروم رکھا تو وہاں دوسری طرف زرخیز زمینوں پر جان بوجھ کر وہ چیزیں کاشت کی گئی جس سے ان کے اپنے ذاتی کاروبار منافع بخش ہوتے گئے اور دیگر فصلوں کی پیداوار کم ہوتی چلی گئی اور یوں آہستہ آہستہ زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    مثال کے طور پر نواز شریف آصف علی زرداری اور جہانگیر ترین جیسے مافیا کی بہت سی شوگر ملز ہیں اس کے متعلق یہ خبر نکل کر سامنے آئی تھی کہ

     انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان کی زرخیز زمینوں پر کماد کی کاشت کر کے پاکستانی زراعت کو تباہ کیا ہے جن زمینوں پر کپاس اور گندم کی زیادہ پیداوار ہونا تھی وہاں انہوں نے کماد کاشت کر کے اپنے ذاتی کاروبار کو فائدہ پہنچایا ہے

    نمبر 2 زراعت

    آپ یہ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان کا یہ اقدام پاکستانی زراعت میں کتنا زبردست انقلاب لے کر آئے گا

    عمران خان نے پاکستانی کسانوں کو جو سہولیات مہیا کی ہیں ان سہولیات کے بعد انشاءاللہ نہ صرف پاکستان کا کسان خوشحال ہو جائے گا بلکہ اس مرتبہ پاکستان میں ریکارڈ فصلوں کی پیداوار بھی ہوگی

    کسان کے لیے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں

    1 کاشتکاری کے لیے کھاد بیج سپرے خریدنا 

    عمران خان نے کسان کے اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے کھاد بیج اور سپرے خریدنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کر دیا ہے یعنی مثال کے طور پر اگر میرے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں کوئی بھی فصل کاشت کروں یعنی گندم یا کپاس تو اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ لے کر میں کوئی بھی فصل کاشت کر سکتا ہوں

    2 کسان کا دوسرا بڑا مسئلہ زرعی آلات خریدنا 

     کسان کو زمینوں اور فصلوں کی کاشت کے لیے مختلف زرعی آلات کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لیکن آپ یہ جان کر بھی حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان نے کسان کا یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے اب کسان بڑی آسانی کے ساتھ دو لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ لے کر اپنے زرعی آلات خرید سکتا ہے

    اور صرف یہی نہیں اگر کسان کو اپنے لئے گھر بنانا ہو تو اسے 20 لاکھ روپے تک کا قرضہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے گھر کے ایک فرد کو بالکل مفت میں حکومت کی جانب سے ہنر مندی بھی سکھائی جائے گی

    اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو لکھنے بیٹھ جاؤں تو کالم ختم ہونے کا نام نہیں لے گا بس اتنا لکھ دیتا ہوں کہ بلوچستان میں تقریبا ایک کروڑ یا اس سے زائد ایکڑ پر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا رہی ہے اور یاد رکھیئے کھانے میں سب سے بہترین تیل زیتون کا ہوتا ہے اور یہ کھانے پینے کے علاوہ بہت سے معاملات زندگی میں استعمال ہوتا ہے

    لیکن شرم تم کو مگر آتی نہیں ایسی سہولیات ملنے کے باوجود بھی لوگ عمران خان کو برا بھلا کہتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اسے حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں 

    لیکن سچ تو یہ ہے جو خدا کا ناشکرا ہو وہ بھلا اپنے محسن کا کیسے شکر گزار ہو سکتا ہے

    @iamAhmadokz 

  • کاہلی کو بدقسمتی کا نام نہ دے تحریر:  آویز

    کاہلی کو بدقسمتی کا نام نہ دے تحریر: آویز

    ہمارے معاشرے میں لوگ جس کام کو نہیں کر سکتے کہہ دیتے ہیں بلکہ ایسا کچھ نہیں ہے ہر محنت کرنے والے کو اللہ اس کا اجر دیتا ہے آپ بھی سچے دل سے ایمان سے محنت کریں اللہ آپ کو آپ کے کام میں ضرور مدد کرے گا وہ معجزوں کا خدا ہے

    ہم میں سے اکثر افراد اپنی ناکامیوں کو اور کاہلی کو قسمت کا نام دیتے ہیں دراصل بدقسمتی ایک باطن ہوتا ہے جو کاہلو کی طرف سے خدا پر لگایا گیا تھا کمزور سوچ رکھنے والا شخص اور سست آدمی میں یہی سوچتا رہتا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کوبن محنت کیے ہی حاصل کرلے دنیا میں ہر ترقی پذیر انسان محنت کرکے ہی اپنی منزل تک پہنچتا ہے جس کی کامیابی پر کاہلوں کو رشک ہوتا ہے جب کہ رب کریم نے بھی کاہلوں کو بھی باصلاحیت پیدا کیا ہوتا ہے 

    کامیاب انسانوں اور دوسرے انسانوں میں صرف ایک نقطے کا ہی فرق ہوتا ہے کامیاب انسان دوسرے انسانوں کی با نسبت لگ سوچتے ہیں بالآخر کامیابی کا سہرا اسے ہی سجایا جاتا ہے جو اس کے قابل ہوتا ہے زندگی میں سب سے مشکل کام کامیاب ہونا ہی ہے جو لوگ حوصلے والے ہوتے ہیں کامیابی کو حاصل کر لیتے ہیں وہ جن میں ہارنے کی ہمت نہیں ہوتی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں کامیابی ایک بات نہیں ہر محنت کرنے والے کو اللہ کامیاب کرتا ہے چاہے جتنا مرضی مشکل راستہ کیوں نہ ہو خدا انسان کی ہر حال میں مدد کرتا ہے اگر آپ سچے دل سے خدا کے ہو جاؤ گے تو وہ آپ کا ہو جائے گا آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دی کھا آپ کے دکھ سکھ میں ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گا جن کی ایک امتحان ہوتی ہے انسان کو اس میں طرح طرح کی مشکلیں پیش آتی لیکن انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے اپنے اللہ پر رکھ کر یقین رکھ کر بس محنت کرنی چاہیے کچھ محنت کا اجر تو اللہ نے دیتا بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کی خامیاں ڈھونڈے لوگوں میں اچھائی دیکھنا سیکھیں ان کے اچھے کاموں کو دیکھنا سیکھیں جب آپ ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں تو خدا بھی آپ کے لئے اچھا سوچتا ہے میں یقین سے کہتا ہوں خدا انسان کو کبھی مایوس دیکھنا پسند نہیں کرتا خدا سے مانگنا چاہیے گلے شکوے شکایتیں نہیں کرنی چاہیے وہ تو دینے والا ہے جو آپ کے لئے اچھا ہو گا وہ آپ کو دے گا اور جو آپ کے لئے اچھا نہیں ہوگا وہ آپ سے چھین لے گا

    انسان سوچتا ہے بعض دفعہ ان وہ اتنی محنت کرتا ہے لیکن خدا اس کے لئے کوئی رستہ نہیں نکال رہا یقین کیجئے اس کے کاموں میں دیر ہے اندھیر نے وہ تو عاجزی کا خدا ہے اگر وہ آپ کے لئے اچھا ہو تو وہ کبھی بھی آپ کو اس چیز کو دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا فرق بس اتنا ہی ہے کامیاب اور ناکام انسانوں کامیاب انسان محنت کر کے آگے جاتے ہیں جب کہ ناکام انسان محنت نہیں کر سکتے بزدل ہوتے ہیں بزدل ہوتے ہیں ہم دعا کرتے ہیں اللہ سب کو سب کی محنت کا اجر دے 

    انسان کے بس میں سب کچھ ہے لیکن وہ اپنے دل پر قابو نہیں پا سکتا اپنی خواہشوں پر قابو نہیں پا سکتا مجھے لگتا ہے انسان کو اپنے دل میں خواہشیں پیدا کرنی چاہیے تاکہ ان خواہشوں کو پورا کرنے کا انسان کے اندر جذبہ ہو تبھی تو انسان کامیاب ہو سکتا ہے یہ مت کبھی سوچیئے گا کہ اب ہمت ہار گئے ہیں ہمت نہ ہارے کامیابی ایک بہت بڑی دولت ہے اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اس دنیا میں اس معاشرے میں صرف کامیاب انسان کی ہی قدر ہے سو معاشرے میں رہنے کے لئے عزت پانے کے لئے آپ کو کامیاب ہونا بہت ضروری ہے اگر آپ ہمت ہار جاؤ گے تو خدا بھی سوچے گا یہ انسان تو خود ہی ہمت ہار گیا ہیں اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو ہمت دے آپ اپنے راستے پر چلیں اس سے طاقت مانگے وہ کبھی آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے 

    @Hi_Awaiz

  • میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!   تحریر ؛ علی خان

    میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!  تحریر ؛ علی خان

    @hidesidewithak

    "پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی، تعاون: حق بناسپتی "۔”تیزرفتاری سے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں مت ڈالیں: تعاون برق موٹرز”۔”تھانہ کورس پارک ایک سو میٹر بائیں جانب، تعاون :کڑک چائے”۔ یہ اور ان سے ملتے متعدد بل بورڈز اور سائن بورڈز آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہر میں ضرور نظر آتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر یہ سمجھنا قاصر ہوجاتا ہے کہ یہ متعلقہ محکمے کی جانب سے مفاد عامہ کے پیغامات ہیں یا پھر ساتھ بتائے کاروبار کے اشتہارات۔  سب سے اچھنبے کی بات یہ ہے کہ ایسے بورڈز اوراشتہار زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پیغامات سے مزین ہوتے ہیں۔  یہ کمپنیاں اور  کاروباری ادارے ایسے اشتہارات کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی یعنی  کاروباری سماجی ذمہ داری  کے  عنوان سے  چھواتے اور لگواتے ہیں۔لیکن  کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟؟؟ 

    سب سے پہلے تو  کارپوریٹ سوشل  ریسپانسبلٹی کا یہاں اطلاق مبہم ہے۔    ملکی  اور بین الاقوامی قوانین  میں سی ایس آر کا مطلب و مفہوم اس علاقے خطے یا ملک کے شہریوں کو معیار زندگی بہتر کرنے میں مدد کرنا  ہے جہاں  متعلقہ کمپنی کام یا کاروبار کر رہی ہو۔اس میں صحت عامہ کی سہولیات فراہمی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ کمپنی کا نام سرکاری اداروں کے ساتھ اشتہاری بورڈوں پر ٹانک دینےسے کونسی سماجی ذمہ دار ی ادا ہوتی ہے ؟یہ حل طلب سوال ہے۔ 

    ایسے اشتہار نہ صرف  سماجی ذمہ داری قوانین کی غلط تشریح ہیں بلکہ بہت سے حوالوں سے  ذاتی فائدے، اثر و رسوخ بڑھانے اور  غیر قانونی کاموں کو جواز دیتے ہیں۔ پہلے تو اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ادارہ جسکا نام محکمہ جاتی بورڈز پر کنندہ ہو سرکاری اہلکاروں کے لیے نو گو ایریا بن جاتا ہے اور وہ اسکی جانب رخ کرنے سے قبل کئی بار سوچتے ہیں چاہے وہاں کتنا ہی غیر قانونی کام ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ اب ایک ٹریفک کانسٹیبل ایسی کمپنی کی گاڑی کا چالان کیسے کاٹے گا جس کی ہر تقریب میں اسکا اعلیٰ افسر شرکت کرتا ہو؟ فوڈ انسپکٹر کے لیے ایسی فیکٹری میں کارروائی کرنا کہاں آسان ہوگا جو شہر میں ہونے والی تمام سرکاری تقاریب میں مفت کھانا فراہم کرتی ہو؟ 

    سرکاری سطح پر ایسی سماجی ذمہ داری سرگرمیاں کوئی اب کی بات نہیں بلکہ دور قدیم میں جب کوئی سرکاری افسر کسی شہر کے دورے پر آتا تو اسکے قیام و طعام اور تفریح کی ذمہ داری مقامی ماتحتوں پر آجاتی۔ پٹواریوں میں ایک مقامی زمینداروں سے دیسی ککڑ اکھٹے کرتا تو دوسرا صاحب اور ہمراہیوں کے لیے نئے بستروں کا انتظام کرتا۔ گرمیاں ہونے کی صورت میں نئے   پنکھوں کا انتظام کرنا بھی انہی سرکاری اہلکاروں کے ذمہ آتا ۔ اس مد میں آنے والی کل رقم صاحب کے ذاتی اکاونٹ میں منتقل ہوجاتی۔ یہی سلسلہ بڑھتے بڑھتے  آج سرکاری اداروں کے بورڈوں تک  پہنچ چکا

    کچھ شہروںمیں   اب پولیس کے گشت کرنے والے دستے کے موٹرسائیکلوں پر بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔  نجی کاروباری  اداروں کی جانب سے  فراہم کردہ موٹرسائیکل انکے عطیے کو نہ صرف شہر بھر میں مشتہر کرتے ہیں بلکہ  قانون اور کاروبار کے مابین قریبی تعلق کا پیغام بھی عوام تک پہنچاتے ہیں۔  ارباب اختیار کو اس سلسلے کا جائزہ لینے  اور حدود متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہاتو کوئی بعید نہیں کسی دن اہلکاروں کی وردیوں کے ایک بازو پر چائے والی کمپنی کا اشتہار کنندہ ہو اور دوسری جانب  بناسپتی گھی کا۔ پولیس موبائل پر آئس کریم ، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور ہیئر آئل کی تشہیر بھی دور کی بات نہیں لگ رہی۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ راہ چلتے  ہیلمنٹ نہ پہننے پر آپکا چالان کاٹا جائے اور چالان کی پرچی پر محافظ ہیلمنٹ بنانے والے کا بطور تعاون کردہ ذکر ہو ۔

  • ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کے حالات بالعموم اور پاکستان کے حالات باالخصوص تبدیل ہوتے گئے۔ دنیا کی نظریں اس تبدیلی کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے حالات پر ٹکی رہی۔

    دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے اور قریبی ہمسایہ ملک افغانستان میں بیک وقت نیٹو امریکہ بھارتیوں سمیت کل ملا کر 50 کے قریب پراکسیز کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں اگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے قبائل اور پھر پشاور سے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا یہ ناسور پورے ملک میں سرائیت کر گیا۔ 

    یہ ناسور اس قدر خطرناک تھا کہ ایک وقت میں پشاور میں لوگ خودکش اور بم دھماکوں کو گنتے تھے کہ اج کے دن ایک ہی روز میں 7 سے 8 دھماکے ہوتے گئے۔۔ حتی کہ کرکٹ جسے جینٹلمین کھیل کہا جاتا ہے اسکو بھی نا بخشا گیا اور سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔۔

    دہشت گردی کے اس بھیڑیے نے پاکستان کو دنیا کے لیے نو گو ایریا بنا دیا جس کی وجہ سے دنیا پاکستان انے سے کتراتی رہی اور یوں سیاحت پاکستان میں نا ہونے کے برابر ہوئی۔۔

    ِبھلا ہو ہماری عوام کا ہماری فوج کا ہماری عسکری نیم عسکری اداروں کا تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا حکومت وقت کا جنہوں نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا مصمم ارادہ کر کے 70 ہزار جانوں کا نزرانہ پیش کر کے بالاخر اس ناسور کو تقریباً ختم کردیا

     اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں لوگوں کا خیال رفتہ رفتہ بدلنے لگا۔ 

    سب سے اچھا اقدام پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد ہوا جس سے دنیا کو دہشت گردی کا خوف ختم کرنے میں بہت مدد ملی۔ اسکے بعد برطانوی جوڑے کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی سیاحت کے فروغ کا باعث بنا۔

    پاکستان ایک زرخیز اور 4 موسم رکھنے والا ملک ہے

     جہاں دنیا کا اٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے سرسبز و شاداب پہاڑ ، کشمیر کی قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں  اور خیبر پختونخواہ کا حسن، سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

     ساتھ ہی ساتھ موجودہ حکومت کی سیاحت میں دلچسپی کے باعث ایک بار پھر سے سیاحت نے انگڑائی لی اور مقامی افراد سمیت دنیا نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا اور یوں دہشت گردی کے کالے سائے چھٹ کر سیاحت کا ایک درخشاں اور تابناک مستقبل سورج نمودار ہوا۔

    اس عید الاضحی پر ایک سروے رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 28 لاکھ عوام نے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جہاں انہوں نے 23 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے۔ 

    یہ نوید ہے کہ پاکستان میں سیاحت پاکستان کی معیشت میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ نا صرف اندرونی سیاح بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی مزید بڑی تعداد میں اکر سیاحت کو فروغ دیں۔

    اخر میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی عوام کا پاک فوج کا سیکیورٹی ایجنسیوں کا شہدا کا، جنہوں نے ٹیرارزم سے ٹورازم تک کے سفر میں بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں اج اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔۔

    @Goharspeaks

  • آج کا معاشرہ اور ہم   تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج کا معاشرہ اور ہم تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج ہمارا معاشرہ شدید بے راہ روی کا شکار ہے۔ آج لوگوں نے اچھائی برائی اور حلال و حرام میں تمیز کرنی چھوڑ دی ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق بھلا کر ہر شخص جائز نہ جائز طریقے سے مال حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہم رشوت اور سود جیسی خطرناک اور مہک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ قتل و غارت عام ہو چکی ہے۔ بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اولاد والدین کی نا فرمان ہے ہمیں غور کرنا ہوگا کہ آخر اس معاشرے کے بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صراط مستقیم پر عمل گامزن ہیں۔

    کیا ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے حقوق وفرائض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا پیارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہر طبقے کے لئے رہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو واضح طور پر بیان گیا ہے۔ انسان کی ہر مشکل کا حل بتایا گیا ہے۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اسلام کا پیروکار بننے کے لئے آمادہ ہو۔ اپنا تعلق اپنے رب تعالیٰ سے قائم کرے۔ ہر کام خالص اپنے اللہ عزوجل کے لئے کرے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کے لئے قربان کر دے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری حالت اتنی ابتر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ کے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی مشکل آن پڑتی ہے۔

    گھروں میں نااتفاقیاں ہیں اور ہمارے خاندانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ اس سب کی وجہ صرف اور صرف اسلام سے روگردانی ہے۔ چند لوگ ہیں جو اسلام کہ احکامات کو اپنی زندگی پر لاگو کئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اسلامی تعلیمات کو بس اپنے گھروں تک محدود رکھتے ہیں۔ خود تہجّد چاشت کے پابند ہیں۔ مگر معاشرے کی اصلاح نہیں کرتے۔ اسلامی تعلیمات نے انسان پر صرف اپنی زمہ داری عائد نہیں کی بلکہ اپنے گھر والوں اپنی اولاد، عزیز و اقارب اور اپنے خاندان والوں کی اصلاح کا فریضہ بھی عائد کر رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں سورت البقرہ میں ارشاد فرمایا! تم بہترین امت ہو۔ کیوں کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے منع کرتے ہو۔ اس آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔

    کیوں کہ وہ نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کیا ہم بھلا کا حکم دیتے اور نیکی سے منع کرتے ہیں۔ یقینا نہیں۔۔۔ اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ برائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ جب ایک فرد اپنی اصلاح کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کرے گا۔ تو اس سے ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اور جب ایک معاشرہ صحیح راستے کی طرف چل پڑے۔ تو دھیرے دھیرے اس کے اچھے اثرات پوری قوم میں منتقل ہوں گے۔ اور پوری قوم میں اصلاح کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کا دین برحق ہے۔ اور مرنے کے بعد جزا سزا کے مراحل پیش آنے والے ہیں۔ تو خدا کے لئے اپنی اولاد، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب کو بھی اس مرحلے کے لئے تیار کریں۔ گھروں کو نماز اور تلاوت قرآن سے آباد کریں۔ ان باتوں پر اگر خلوصِ دل سے عمل کیا جائے۔

    تو ہم اپنے معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

    @SanaullahMahsod

  • شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranKBloch

    کہاں سے لکھوں کہاں تک لکھوں میرے دیس کا تو ہر ہر لمحہ تار تار ہے، ہر روز اِک نیا عذاب جس سے ہجوم چیخ اُٹھتا ہے، فیس بک ٹیوٹر سوشل سائٹس پہ خوب واویلا کیا جاتا ہے، اپنے باشعور ہونے کا احساس چیخ چیخ کے دلانے والے اس ہجوم کا ضمیر اندر ہی اندر ہنس رہا ہوتا ہے کیسا چونا لگا رہا ہے لوگوں کو، اس ہجوم کے ہر تماشائی کی مثال اُس مزدور سی ہے جو مالک کو چونا لگانے کے چکر میں ایک ہی سیمنٹ کی بوری چھت پہ لے کے جاتا اور وہی واپس نیچے لے کے آتا صبح سے شام کر دیتا ہے، اس ہجوم کے غریب لاچار کی خود سے ہمدردی اُس مسافر کی سی ہے جو واپسی کا ٹکٹ بھی لے کر ٹرین پہ سوار ہو گیا ہے اور دل ہی دل میں اس خیال سے محضوظ ہو رہا ہے کہ واپسی تو میں نے کرنی نہیں، اس ہجوم کا ایک ایک فرد ملک و ملت سے اتنا وفادار ہے، غریب بے کس پسی عوام کا اتنا درد اس کے اندر سمویہ ہے کے کام کاج سے تھکا ہارا گھر لوٹ کر شام چھ سے رات بارہ ایک بجے تک پوری تندہی سے سوشل میڈیا سائٹس پہ مفکرانہ، مفسرانہ، قرآن حدیث اقوال ذریں پہ مبنی اسلامی پوسٹس کرتا ہے،  وطن سے محبت کے ترانے الاپتا ہے، حکمرانوں کی سمت درست کرواتا ہے، کرپٹ سیاستدانوں کی ماں بہن ایک کرتا ہے، بیوروکریسی کے کالے کارناموں پہ ہزار لعنتیں بھیجتا غریب دکھیاری پریشان عوام کے دکھ کا مداوا کر کے سکون کی نیند سو جاتا ہے کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا الحمداللہ،

    ہم بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں سے شرمندہ، دہشتگردوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی ہونے والوں سے شرمندہ، اے پی ایس کے معصوم فرشتوں سے شرمندہ، بلدیہ ٹاون، ماڈل ٹاؤن، ساہیوال، جیسے کئی سانحوں کی لپیٹ میں آنے والے معصوم لوگوں سے شرمندہ، شاہ رُخ جتوئی کے ہاتھوں قتل ہونے والے  شاہ زیب سے شرمندہ، ایان علی کیس کے تفتیشی کسٹم آفیسر اعجاز چودھری سے شرمندہ، نقیب اللہ، ننھی زینب، صلاح الدین، جیسے ہزار ہا ناحق مارے جانے والوں، وڈیرے سرمایہ داروں کے ہاتھوں مارے جانے والے مظلوموں، مہنگائی، بیروزگاری، انصاف کی عدم دستابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیملیز سمیت خودکشیاں و خود سوزیاں کرنے والوں سے شرمندہ ہیں، ہم ایک ایسا شرمندہ ہجوم ہیں جن کی شرمندگی دکھاوے کے سواء کچھ بھی نہیں، جن کے بیان سالہاسال سے اس فرسودہ نظام اور اس سے مستفید کرپٹ عناصر کے خلاف پورے جوش خروش والے ہوتے ہیں مگر جب ہر ہر بربریت سے بھرپور سانحہ پہ نکلنے کا موقع آتا ہے تو یہی عوام نکلنے والوں کی پکار پہ لبیک کہنے کی بجائے ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھ کر نکلے ہووں پہ ٹھٹھے اور جگتیں کسنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، یہی ہجوم پانچ سال دل کھول کے گالیوں سے نوازنے کے بعد اُنہی کرپٹ ظالم بھتہ، قبضہ مافیا کو الیکشن کے دنوں میں اپنی پلکوں پہ بیٹھتا ہے، لائنوں میں لگ کر اُنہیں اگلے پانچ سال کیلئے کرپشن ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے کا لائسنس دیتا ہے، اے زندہ لاشو تم کب تک شرمندہ ہوتے رہو گے تمہارے مقدر کی گولی تو اس فرسودہ کرپٹ نظام میں تیار ہو چکی بس انتظار کرو  کسی نا کسی دن پولیس کی وین آئے گی اور تمہارے لواحقین پوسٹ مارٹم زدہ لاش وصولنے کیلئے مردہ گھر کے باہر منتظر ہوں گے، بے فکر رہو ایک تلاتم خیز سمندر تمہارے نام پہ ہزاروں لاکھوں پوسٹس کرے گا، ہو سکتا ہے ٹیویٹر پہ ٹرینڈ بھی بن جائے، زندہ تھے تو ٹی وی چینلز پہ لوگوں کی خبریں سنتے تھے پولیس گردی کے نتیجہ میں مرو گے تو ٹی وی چینلز کے بلیٹن، ٹاپ سٹوریز، ٹاک شوز، میں تمہارا نام جگمگائے گا، قوم بن کے بوسیدہ دیمک زدہ کرپٹ نظام کو زمین بوس کرنے کیلئے نکلنے کا کیا فائدہ گولیوں سے چھلنی کر بھی دیے گئے تو نیوز بلٹن میں بس اتنی سی خبر آنی ہے پاکستان کو کرپٹ نظام اور اُن کے چیلوں سے واگزار کرواتے ہوئے دس بیس ہزارافراد شہید

  • صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی کسی بھی شخص کے کے کھانے پینے، کام کرنے، سونے جاگنے اور دیگر تمام امور سے متعلق ہے ۔ یہ انسان کی عادات و خصائل اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف رحجان کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی اللّلہُ تعالی کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے۔ آج کل صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے۔  لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت تباہ اور صحت مندانہ طرز زندگی کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے، پر آسائش زندگی کے حصول کے لیے  دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں لیکن دراصل وہ صحت مندانہ طرز زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    موبائل فون، اور دیگر آلات کے استعمال، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ وغیرہ نے لوگوں کو قدرت اور صحت مندانہ طرز زندگی سے دور کر دیا ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں کمی، تنہائی ڈپریشن وغیرہ کی وجہ ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں، جن کے انسانی جسم پر مضر اثرات ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے دن کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے، ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا، وہی کھانا پینا، جس سے جسمانی سرگرمیاں تو بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا یا اس کے انداز اپنانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔  اگر لوگ چاہیں تو اپنے لئے صحت مندانہ طرز زندگی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کے تعین، کوشش، اور توجہ سے صحت مندانہ طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیں، اچھی روٹین سیٹ کریں اور اسے فالو کریں۔ صاف ستھرے رہیں۔ نفاست پسندی کی زندگی بسر کریں۔ دوست بنائیں، باتیں کریں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی میں یہ شامل ہے کہ آپ خوراک کے معیار پر توجہ دیں۔ ناقص خوراک استعمال نہ کریں۔ غذائیت بخش خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔ جو غذا کھائیں، وہ متوازن ہو اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ چینی، تیز مرچ مصالوں، چکنائیوں اور  مرغن کھانوں سے دور رہیں۔  فاسٹ فوڈز سے اجتناب کریں، یہ مضر صحت ہیں ان کا استعمال کسی بھی صورت صحت مندانہ نہیں ہے۔ پھل، سبزیاں اور دالیں وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ وقت پر کھانا کھانے کا معمول بنائیں۔ بغیر وقت کے کھانا کھانا بھی جسم پر منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ محنت کریں اور حلال کی کمائی کھائیں، محنت سے حاصل کیے گئے حلال رزق کے نوالے آپ کے جسم پر مثبت اثرات رکھتے ہیں۔
    پانی کا استعمال زیادہ سے کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کا استعمال ہمارے لئے کتنا مفید ہے لیکن ہم پانی کے بجائے دیگر مشروبات، کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ مضر صحت ہیں۔ کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال نہ کریں، بلکہ تازہ پھلوں سے کشیدہ رس کے استعمال کو ترجیح دیں۔
    کام کرنے کے اوقات متعین کریں۔ اتنا کام  کریں جو آسانی کے ساتھ کر سکیں، اور آپ کی صحت اجازت دے۔ دن رات کام نہ لگے رہیں اور نہ ہی جرآت سے بڑھ کر کام کریں بلکہ اتنا ہی کام کریں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ یاد رکھیں آپ کام کے لیے نہیں بنیں۔ آپ کا خود پر سب سے زیادہ حق ہے۔
    اچھی اور مناسب نیند لیں۔ بھرپور نیند آپ کو فریش اور تروتازہ رکھتی ہے۔  چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے کی مکمل نیند لیں نیند بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے اور نیند مکمل نہ ہونے کی صورت میں آپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا جیسی خراب عادتوں کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں وقت پر سوئیں، وقت پر اٹھیں۔ اگر آپ وقت پر نہ سوئیں، اٹھیں، یا ناکافی نیند لیں تو چڑچڑا پن،  تھکاوٹ اور سستی مستقبل آپ کی ساتھی بن جاتی ہیں اور آپ کی صحت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلا وجہ کی پریشانیوں اور ٹینشنوں کو زندگی میں جگہ نہ دیں۔ پریشانیاں اور ذہنی دباؤ آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سٹریس کو مینیج کرنا سیکھیں۔ اور مثبت رویہ اپنائیں۔
    مشینوں کے استعمال نے ہمیں بہت سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ آرام طلبی کی زندگی کو چھوڑ دیں، یہی صحت مندانہ طرز زندگی کی قاتل اور دشمن یے۔  ہر وقت پڑے رہنا اور جسمانی طور پر کوئی ہل جل نہ کرنا بہت سی بیماریاں لاتی ہے۔ یہ کاہلی، سستی اور موٹاپا کا سبب بنتا ہے۔ مشینوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہل جل کریں، اور اپنی قوت باہر اعتماد کریں۔ اپنے کام خود کریں۔ کام کاج اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
    روزانہ  مستقل بنیاد پر ورزش کریں۔ اگر آپ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو آپ جسمانی طور پر ہمیشہ فٹ، تندرست اور چاق و چوبند رہیں گے۔ ورزش دل کے لیے بہت مفید ہے اور دوران خون کو رگوں میں رواں رکھتی ہے۔ ورزش کرتے ہوئے ایسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جن سے منفی جذبات اور ذہنی دباؤ دور ہوتا ہے۔ جس کے سبب جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
    اس کے علاوہ چہل قدمی اور ہوا خوری کی عادات اپنائیں۔ ان کے بھی صحت پر خوشگوار اثرات ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
    صحت مندانہ طرز زندگی ایک کلچر ہے، اس میں آپ کے روزمرہ کے طور طریقے شامل ہیں اگر آپ کے انداز و اطوار صحت مندانہ نہیں ہیں، صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینے والے نہیں ہیں تو یقینا آپ برے کلچر کا حصہ ہیں۔ اپنے لیئے صحت منتخب کریں، اور زندگی گزارنے کا بہترین اور صحت بخش طریقہ اپناءیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لیےصحت مندانہ طرز زندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

    @FarooqZPTI

  • دورہ   نیوزیلینڈ”  تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    دورہ   نیوزیلینڈ” تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ایک ملک جس نے پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کی ہو کے ایک بار پاکستان میں کرکٹ واپس آ جائے ایسے وقت پر جب وہ معاشی طور پر ڈگمگا رہا ہوں جب ہر طرف سے مشکلات در پر ہوں اس وقت کرکٹ کی واپسی کے لیے پی ایس ایل جیسا عظیم ایونٹ کروانا اور آہستہ آہستہ پاکستان میں لے کر آنا تاکہ وہ تمام لوگ جو کرکٹ کے دیوانے ہیں جنہوں نے کئی سالوں سے دوسرے ممالک میں مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر میچ دیکھے یا پھر گھروں میں رہ کر اس امید میں رہے کہ ایک دن ہمارے ملک کے گراؤنڈ بھی آباد ہوں گے۔ ان کے مرجھائے ہوئے دل صرف اور صرف پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پر کھل اٹھے۔ ان لوگوں کے جذبات و احساسات کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سیاسی طور پر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر اپنے ناپاک ارادے کا دھبہ لگانے کے لئے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔

     جب آپ کی ٹیم ایک ہفتہ تک پاکستان میں رہی نہ ہی کوئی خطرہ پیش آیا اور نہ ہی ان کی عزت افزائی میں کمی آئی۔ جسے بڑے پروٹوکول کے ساتھ پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا مگر پھر بھی اگر خطرہ پیش آیا تو صرف میچ سے چند لمحے پہلے ہی کیوں؟ ایک ملک میں جا کر آپ پانچ چھے دن رہیں اور پھر اس کی طاقت و قوت یعنی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے واپس چلے جائیں کیا یہ آپ کو زیب دیتا ہے؟ آپ نے نہ صرف پاکستان کے روشن چہرے اور سبز پاسپورٹ پر اپنی غلیظ حرکت سے دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کی امید کو بھی توڑا ہے۔ آپ نے لاکھوں لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔

     آپ سے پہلے پی ایس ایل میں آپ کی ٹیم کے کھلاڑی ہمارے ہاں کھیل چکے ہیں انہیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اس کو چھوڑیے آپ سے پہلے ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز وغیرہ کی ٹیمیں بھی تو پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ کیا ان کو ذرہ برابر بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

     اس منصوبے میں صرف نیوزی لینڈ ہی نہیں دوسرے ممالک بھی موجود ہیں جو کہ پاکستان کو دن بدن پستی کی جانب دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ان کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ہم مشکلات کا جرآت سے مقابلہ کرنے والی قوم ہیں۔ ہم نےبھی نیوزی لینڈ کا دورہ کیا جب مساجد میں حملے ہوئے یا پھر جب نیوزی لینڈ میں کرونا شدت سے تھا اور ان کی بدانتظامی کے باوجود ہم نے دورہ ختم نہیں کیا۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وقار کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔ اپنی ہمت اور جرات مندی سے ایسی ٹیموں کو میدان میں ہی بتا دیں کہ ہم کون ہیں؟

     ہمارے کرکٹ بورڈ کو مزید بہترین انداز میں پی ایس ایل جیسے ایونٹ کو آگے لے کر چلنا ہوگا تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو ہر جگہ رسوائی نصیب ہو اور اس واقع پر ICC میں بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ الحمدللہ ہمارا یہ ملک پوری دنیا کے لیے ایک محفوظ ملک ہے جس نے اپنی طاقت و قوت کا ہر جگہ مظاہرہ کیا ہے اور کامیاب رہا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی قوت و صلاحیت سے دشمن کی طرف سے ہر آنے والی سازش اور میلی نظر کو پہچانیں اور اس کو ایسا جواب دیں کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو پہچانیں اور بےنقاب کریں جو کہ اس واقعے پر جس میں پاکستان کی عزت پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے خوشی منا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تب خوش ہوتے ہیں جب پاکستان پر وقت آتا ہے خدا ان لوگوں کو ہر جگہ دربدر کرے جس طرح یہ لوگ پہلے ہی ہورہےہیں۔