آج کل چونکہ جدید دور ہے اور ہر کوئی گزرتے وقت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔لڑکے اچھی ملازمت چاہتے ہیں ،دوسروں سے زیادہ كمانا چاہتے ہیں ،خود کو دوسرے سے اچھی پوسٹ پر اور اونچا دیکھنا چاہتے ہیں ۔جبکہ لڑكياں بھی اس ریس میں پیچھے نہیں وه خود کو کسی سے كمتر تسلیم نہیں کر سکتیں ۔لڑکیاں نئے سے نئے ڈیزائن کے اور برینڈیڈ کپڑے پھننا چاہتی ہیں جبکہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
اس زمانے کی بڑھتی رفتار میں کوئی بھی پیچھے نہیں ہے چاہے وه مرد ہو یا عورت ،بوڑھے ہوں یا بچے ۔بچے اچھی تعلیم کے لئے اچھے ادارے جانے کا خواب رکھتے ہیں ۔جبکہ بوڑھے پاركس میں جانے اور واک وغیرہ کرنے میں ٹھیک رهتے ہیں ۔وه بھی نئے دور کی سہولتوں سے آراسته ہونا چاہتے ہیں ۔وه بھی وہیل چئیر اور موبائل فون کی سهولت بروئے کار لاتے نظر آتے ہیں۔ والدین کی خواہش ہے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریں ۔اگر کوئی کھیل کے میدان میں اگے بڑھ رہا ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی وہی کرنے کا کہتے ہیں ۔چونکہ آج کل فیشن کا دور ہے تو کچھ مائیں خود کو زمانے کے برابر دیکھنے کے لئے اپنی بچیوں کو بھی ویسے ہی تنگ لباس خرید کر دیتی ہیں تا کہ وہ کسی سے کم نہ لگیں ۔جب کہ اسلام ہمیں پردے کا درس دیتا ہے ۔یہی کچھ لڑکیاں اپنے انھیں ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے والدین کے خلاف بھی ہو جاتی ہیں اور انہیں اپنا دشمن سمجھتی ہیں ۔
ایک زمانہ تھا میلے لگتے تھے اور وہاں سادے لوگ اپنی اپنی خوشیاں سمیٹتے تھے ۔لیکن اب دعوتیں ہوتی ہیں جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے الگ اور بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔کوئی عورت دوسری عورت کو اپنے سے بہتر برداشت کر ہی نہیں سکتی ۔
پہلے پہلے مائیں اپنے بچوں کو اپنی گود میں تربیت دیتی تھیں لیکن اب یھاں بچا پیدا ہوتا ہے بولنے کے قابل ہوتے ہی اسے موبائل فون تهما دیا جاتا ہے ۔جس سے بچے کی اچھی پرورش نہیں ہو پاتی ۔
رخ کرتے ہیں جدید دور کے ایک بڑےمسئلے کی طرف جسے (fame) کہتے ہیں ۔اسے پانے کے لیۓ کوئی بھی کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔جیسا کہ آپ میں سے کوئی ایسا نہیں جو ٹک ٹاک جیسی بے هوده ایپ سے متعارف نہ ہو یہی کافی نوجوان اپنی لگن اور محنت سے کامیاب ہوئے پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہنر نہ رکھنے پر فحاشی کا سہاره لے رہے ہیں اور بےہوده حر کتیں کرتے دكهائی دیتے ہیں ۔جو کہ باقی نسل کو بھی خراب کر رہے ہیں ۔لڑکے ہوں یا لڑكياں کوئی پیچھے نہیں اس دوڑ میں ۔لڑکیاں الگ الگ طریقوں سے مشہور ہونا چاہتی ہیں جبکہ اپنا پرده تک بھول بیٹھی ہیں ۔وه لڑکیاں جو اسلام کی شہزادياں ہیں وه خود کو مغرب کی پرياں سمجھتی ہیں ۔
جبکہ لڑکے عجیب حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔خدا نے مرد بنایا اپنے خاندان کی رہنمائی کے لیۓ ،عورت کی عزت کے لیۓ ۔مرد کی شان اسکی مونچھیں اور داڑھی ہوتی ہیں ۔مرد کی بارعب آواز پورے گھر میں دهات بٹھائے رکھتی ہے ۔جبکہ آج کل کچھ لڑکے مرد بن کر راضی نہیں اور میك اپ میں خوش رهتے ہیں ۔کئی لڑکے مشہور ہونے کے لئے داڑھی مونچھ ہٹوا کر لپ اسٹک لگانے کو عظیم سمجھتے ہیں اور بڑے بال رکھ کر اپنی مردانگی پر ایک دهبا لگا رہے ہیں ۔جس پر ان کے والدین بھی خاموشی تانے ہوئے ہیں ۔حال ہی کی ایک خبر ہے کہ لاہور میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو ٹک ٹاک جیسے وبال سے دور رهنے کا کہا جس پر لڑکی سے اپنے باپ کو مارا۔مزاحمت کرنے پر باپ نے بیٹی کو كمرے میں بند کیا جس پر بیٹی نے پورے گھر میں آگ لگا دی ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس نشے میں دهت ہو چکی ہے ۔
اب آپ بھی خوب واقف ہیں اس دور سے ۔جس سے ہر عقلمند انسان پناہ چاہتا ہے ۔بے شک اب انسان کے لیۓ ہر کام آسان ہے لیکن یہی کچھ آسانياں ایسی بھی ہیں جو ہمارے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکیں ۔نوجوان نسل کو اپنے اور ملک کے دفاع کے لیۓ وه کام کرنا چاہیے جو دشمن کو پست کرے ناکہ ایسی حركات سے ملک و قوم کا نام برباد کرنا چاہیے ۔اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی میں سرعام منشیات کا استعمال جاری ہے جو کہ ہمارے لیے شرم کا باعث ہے ۔
اس میں کافی ہاتھ والدین کا بھی ہے جو کہیں نا کہیں اپنی اولاد کی تربيت میں كمي چھوڑ دیتے ہیں ۔یا پھر ان پر دھیان نہیں دیتے جس وجہ سے وه بری صحبت میں پڑ جاتے ہیں ۔آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ باہر پرده کر کے نکلنے کو جهالت سمجھا جاتا ہے اور فحاش لوگوں کو ماڈرن ۔بہرحال کوئی بھی انسان دوسرے جیسا نہیں اگر کوئی کہے کہ سب ایک ہیں تو یہ سراسر ناانصافی ہو گی ۔کیونکہ ایک مچهلی پورے تالاب کو گنده کرتی ہے اسی طرح چند ایسے لوگ ہمارے معا شرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی انہیں سمجھائیں کیونکہ باقی نسل پر ان کا منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ یہ ہماری نسل کی بقا کی جنگ ہے جو ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم سب اپنے حصّے کا کام کریں گے تو ضرور اس وبال پر قابو پا لیں گے ۔
Category: متفرق

دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی

بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید
کسی بھی معاشرے کی صحت کے لیے اس میں امانت، دیانت اور شرم وحیا کا پایاجانا بہت ضروری ہے۔ اور یہی عناصر کیسی معاشرے کی ترقی کا سسب بھی بنتے ہیں اور جب یہ عناصر کیسی معاشرے سے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے. جب کوئی قوم یا معاشرہ مالی اور بد فعلی کی راہ روی پہ چل پڑتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہترین مثالیں موجود ہیں.
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایل دوسرے کا حق چھین لیا اپنے لیے فخر کی بات سمجھا کرتی تھی اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ذریعے انہیں سراط مستقیم پہ آنے کی دعوت دی پر ان پر کوئی اثر نا ہوا، جس کے بعد اللہ پاک نے ان پر چمگادڑ کا عذاب نازل فرمایا اور اس قوم کو تباہ کر دیا.
ایسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جنسی راہ روی کا شکار تھی حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس چیز سے باز رہنے کی تلقین کی پر وہ اس برائی میں دھنستے چلے گئے پھر اللہ پاک نے فرشتوں کی ایک جماعت کو ان کی طرف انسانی شکل میں بھیجا اور قوم لوط نے اس کو بھی اپنی برائی میں شامل کرنا چاہا پر اس سے پہلے وہ کچھ کرتے اللہ پاک کے حکم سے فرشتوں نے پوری بستی کو الٹ کر زمین پہ دے مارا اور پھر آسمان سے پتھروں کی بارش کی جس سے قوم لوط ماری گئی اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے ماننے والوں کو لے کر چلے گئے تھے
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فقط برائی کے ارتکاب سے نہیں روکا بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اور زنا کے قریب نہ جاؤ ‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے”۔
ہمارا پیارے دین اسلام ہر ایک جاندار ہے حقوق سکھاتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کیسی دوسرے کے تو کیا انسان خود اپنی ہم جنس کو بھی اس کے حقوق دینے اور اس کی حفاظت کے لیے تیار نہیں
ہمارا معاشرہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب یہاں ہر کوئی اپنی عزت کی پروا کرتا ہے اور دوسروں کی عزت کا خیال نہیں
یہاں پر عورت کو اب صرف ایک گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے جیسے اپنی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ بھی نہیں
حال ہی میں کچھ ایسے ہی واقعات ہمیں دیکھنے کو ملے جو روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے چاہے وہ قصور کی زینب ہو یا سانحہ موٹر وے، نور مقدم کیس ہو یا سانحہ منار پاکستان ان واقعات سے ہمارے معاشرے کی بس حالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ہم کس طرف جا رہے ہیں
اگر ان واقعات کو نا روکا گیا تو ممکن ہے چند سالوں بعد ہر گھر میں زینب جیسی بچی کی عزت روند دی جائے گی.
ہم سب مسلمان ہیں اور ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں تو ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں ہر عمل کریں اور اپنے معاشرے سے برائی کو ختم کر سکیں
قرآن مجید برائی کو روکنے کے لیے چند اصول بیان کرتا ہے جو ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں
مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں
عورتیں اپنی نگاہوں کو جھکائیں اور اپنے وجود کو ڈھانپیں۔
بے نکاح لوگوں کا نکا ح کیا جائے۔
کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لی جائے۔
ظہر اورعشاء کے بعد اور فجر سے پہلے گھریلو کمروں میں ملازم اور بچے بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔
تہمت لگانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین، اساتذہ، علماء کرام اور ریاست کا فرض بنتا ہے کے وہ اس برائی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں
والدین اپنے بچوں کی اچھی طرح سے پرورش کریں اور انہیں ہر برائی اور اچھائی میں فرق کرنے کا بتائیں اور ان کی مصروفیات ہر نظر رکھیں
اساتذہ کو چاہیے کے وہ اہنا نظام تعلیم اس طرح کا بنائیں کے جو برائی کے خاتمے کا سبب بنے ناکہ اس کو اور زیادہ ہوا دے، اور بچوں کو اس برائی کے مثبت نتائج سے آگاہ کریں
اور یہاں ریاست کا اہم کردار ہوتا ہے کے فحاشی پھیلانے والے ذرائع بند کرے اور وہ اسے قانون بنائے جن میں ملزمان کو جلد از جلد اس کے گناہوں کی سزا دی جا سکے تاکہ دوسرے ان اے عبرت حاصل کریں
اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو یقینا معاشرہ طاہر اور مطہر معاشرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچ کر شرم وحیا والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
آمین !@Durre_ki_jan

حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات) تحریر:تعریف اللہ عفی عنه
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی رح ۱۲۶۸ بمطابق 1851 کو بریلی میں پیدا ہوئے۰ آپ رحمہ اللہ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی رح ایک جید عالم تھے۰
أپ رحمہ اللہ کا شجرہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنه سے جاکر ملتا ہے۰
آپ رح نے قرآن پاک کا کچھ حصہ اور ابتدائی کتابیں مولانا عبدالطیف رح سے پڑھیں۰
ابھی آپ رح قدوری تہذیب وغیرہ پڑھ رہے تھے کہ ۱۲۸۳ میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا ۰آپ رح اس مدرسہ کے پہلے طالب علم بنے۰ ۱۲۸۶ میں آپ کتب صحاح ستہ کی تکمیل کرکےفارغ التحصیل ہوئے ۰ حدیث میں آپ رح کو مولانا قاسم نانوتوی رح مولانا یعقوب نانوتوی رح کے علاوہ قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی رح اور مولانا شاہ عبدالغنی رح سے بھی اجازت حاصل ہے۰آپ رح کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی دارالعلوم دیوبند کا معین مدرس بنادیا گیا ۰ابتدا میں آپ رح کے سپرد ابتدائی تعلیم پڑھانے کا کام کیا گیا ۰لیکن بہت جلد آپ علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونےلگی اور رفتہ رفتہ آپ رح مسلم شریف اور بخاری شریف کی تدریس تک جا پہنچے۰
آپ رح کا زمانہ تدریس چوالیس سال سے زائد ہے۰اس عرصہ میں اطراف اکناف عالم میں اپ رح کے تلاذہ پھیل گئے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۰آپ رح کے ممتاز تلامذہ میں مولانااشرف علی تھانوی رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح،علامہ انور شاہ کشمیری رح ،مولانا حسین احمد مدنی رح،مفتی کفایت اللہ دہلوی رح،مولانا اصغر حسین دیوبندی رح،مولانا عبیداللہ سندھی رح،مولانا اعزاز علی رح،مولاناحبیب الرحمن عثمانی رح اور مولانا عبدالسمیع رح جیسے مشاہیر علم وفضل شامل ہے۰
آپ رح شروع سے ہی نیک اور نیک فطرت تھے۰اس کے ساتھ مولانا محمد قاسم نانوتوی رح کی محبت اور صحبت اور مولانا رشید احمد گنگوہی رح کی توجہات نے آپ رح کو روحانیت کے عرش پر بٹھادیا تھا۰شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے اپ رح کے کمالات علمیہ وروحانیہ سے خوش ہوکر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا۰دربار رشیدیہ سے بھی اپ رح کو یہ نعمت حاصل ہوئی۰حاصل یہ کہ اپ رح علم نبوت ،شریعت ،طریقت اور روحانیت کے مجمع البحرین ہی نہیں بلکہ مجمع البحار تھے۰اپ رح اگر چہ اکثر اوقات تعلیم وتعلم اور تصنیف وتالیف اور مطالعہ کتب میں مصروف رہتے لیکن اور ادووظائف ،ذکر ومراقبہ،اور صلوۃ الیل پر بھی ہر حالت سفر وحضر حتی کہ مالٹا کی طوفانی برفباری میں بھی اپ رح کے معمولات میں فرق نہ آتا تھا۰
انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے مشن کو اپ رح نےکافی اگےتک بڑھایا ۰اپ رح عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے۰اس ضمن میں اپ رح نے تحریک ریشمی رومال شروع کی جس کا مرکز اپ رح نے کابل کو بنایا ۰اپنوں کی سازش اور ریشہ دوانیوں سے تحریک کامیاب نہ ہوسکی تاہم اس نےمسلمانوں میں بیداری کی روح پھونک دی۰_۱۳۳۵ میں انگریزوں نے اپ رح کو گرفتار کرکے مالٹا پہنچادیا ۰ ۱۳۳۸ میں وہاں سے رہا ہوئے اور ہندوستان آئے ان دنوں تحریک خلافت وعروج پر تھی باوجود عمر میں زیادتی اور بیماری کے آپ رح نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا لہذا بیماری میں اضافہ ہوگیا۰اپ رح نے ۱۸ربیع الاول ۱۳۳۹ کو دیوبند میں انتقال فرمایا۰الل. اپ رح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۰اتباع سنت:
حضرت شیخ الہند رح کا معمول تھا کہ وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے تھے۰کسی شاگرد نے عرض کیا،حضرت!بیٹھ کر نوافل پڑھنے کاثواب تو ادھا ہے۰حضرت رح نے فرمایا ہاں بھائی !یہ تو مجھے معلوم ہے مگر بیٹھ کر پڑھنا حضورﷺ سے ثابت ہے اس لیے سنت عمل کو اپنایا۰اپ رح کا معمول رمضان میں تراویح کے بعد سے صبح تک قرآن پاک سننے کا تھا حافظ بدلتے رہتے اور حضرت رح اخیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی پأؤں پر ورم بھی آجاتا تھا۰تو اس پر اپ رح خوش ہوتے کہ (حتی یتورمت قدماہ)کی سنت کی موافقت نصیب ہوگئ۰
زمانہ نظر بندی میں اپ رح اکثر توجہ الی اللہ میں خاموش رہتے یا تسبیح اور ذکراللہ میں مشغول رہتے،عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر اپنے وظائف پڑھتے تھے پھر آرام فرماتے اور دو بجے کے قریب سخت سردی میں اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے نماز تہجد میں مصروف ہوجاتے۰نماز تہجد کے بعد اپنی چارپائی پہ بیٹھ کر صبح صادق تک مراقبہ اور ذکر خفی میں مشغول رہتے جب کہ مالٹا کی سردی مشہورومعروف ہے۰
اللہ تعالی ہمارے اکابرین کی قبروں پر رحمتیں نازل فرمائے۰ اور اللہ ہمارےعلمائےحق کی حفاظت فرمائے اللہ تعالی ہمارے مساجد،مدارس،خانقاہوں،تبلیغی مراکز اور مجاہدیںکی حفاظت فرمائے۰امین ثم امین۰
@Tareef1234

پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟ تحریر اکرام اللہ نسیم
جب 2018 کےجنرل الیکشن کا نتیجہ آتا ہے
پاکستان کے چھوٹے بڑے پارٹیوں کے رہنماء اور لیڈران دنگ رہ جاتے ہیں
بھلا یہ کیسانتیجہ آیا ہے کیونکہ جہاں ایم ایم اے کی تیس سے پچاس سیٹیں بنتی تھی
وہاں انکو صرف 13 سیٹیوں تک محدود کردیا اسی طرح ن لیگ کو اقتدار سے ہٹا کر زمین پر دے مارا
پی پی پی کا صفایہ پنجاب سے کردیا چند سیٹوں تک محدود کردیا
جماعتِ اسلامی کو پورے ملک سے 1نمبر حلقہ سے سیٹ عبد الاکبر چترالی کی صورت میں ملی
یہی حال اے این پی کا بھی تھا جنہیں دیوار سے لگا دیا گیا
ایم کیو ایم کے ساتھ تو سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا
تحریک لببیک پاکستان کے ساتھ وہ گیم کھیلا گیا جو آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں ن لیگ کے ساتھ کھیلا گیا
اب ہر طرح مایوس اور بے چینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ملک کے تمام سیاستدان حیران و پریشاں ہے کہ اتنے کثیر مقدار میں ووٹ کیسے چوری ہوگئے کہ اب ہم کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا
سیاستدانوں کے حس ماؤف ہو چکے تھے چہرے مرجھائے ہوئے تھے
غصے کی آگ دل میں بھڑک رہی تھی زرداری حیران نواز شریف پریشان
اتنے میں پاکستان کے ایک طاقتور ترین سیاست دان سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب آل پارٹی کانفرنس بلاتی ہیں وہاں اسی آل پارٹی کانفرنس کے اندر تمام سیاسی قائدین کو مشورہ دیتے ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اب اگر ووٹ چوروں نے ووٹ چوری کئے
اسکا واحد حل میرے ذہن میں ہیں
وہ یہ کہ کسی بھی پارٹی کے رہنما نے حلف نہیں اٹھانی
ووٹ چوری کو ہم اسطرح روک سکتے ہیں جب یہ تجویز سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان صاحب نے سب کے سامنے رکھی اکثریت پارٹیوں نے اسکے ساتھ اتفاق کیا
مگر ملک کے دو بڑی پارٹیوں ن لیگ پی پی پی نے کہا ہمیں مہلت دیں ہم اسپر سوچیں گے پھر جواب دینگے
جب ان دو پارٹیوں کو آگے سے گٹھ جوڑ اور لالچ کی دلانے کے لئے رابطے ہوئے تو یہی وہ موقع تھا جو اپوزیشن نے ضائع کیا اور ایک چنتخب نمائندے کو عوام پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا
بات آگے بڑھی اے پی سی کا سربراہ بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاست مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنایا گیا پھر جب اے پی سی کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تحریک کا آغاز کیا گیا وہاں بھی پی ڈی ایم کا سربراہ پاکستان کے طاقتور ترین سیاست دان مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنانا پڑا
مولانا فضل الرحمان صاحب الفاظ کے چناؤ کے اعتبار سے تمام سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب ذہانت کے اعتبار سے بھی دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان شجاعت کے اعتبار سے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب کا شمار اس لئے بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہیں کہ انکے پاس سٹریٹ پاور ہے
انکے پاس پچاس ہزار باوردی رضاکاران ہیں جو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مولانا فضل الرحمان صاحب پر جان نچھاور کرنے کے لئے
ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
@realikarmnaseem

عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف تحریر: احسان الحق
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے قوم میں ایک نئی سوچ اور امید پیدا کی ہے. عمران کی انتخابی مہمات میں کی گئی تقاریر، مخالفین پر لگائے گئے الزامات اور نئے پاکستان بنانے کے لئے نعروں اور وعدوں سے پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی. عمران خان کے نعرے اور وعدے اس قدر خوبصورت اور پرکشش تھے کہ پاکستانیوں کی خاصی تعداد سیاسی لحاظ سے عمران خان کی طرف جھک گئی. انتخابی نعروں اور وعدوں کی بنا پر پاکستانیوں نے عمران خان سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیں. عمران خان کی حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ابھی تک عمران خان قوم کی توقعات کے عین مطابق پورا نہیں اترے ماسوائے کچھ شعبوں اور معاملات میں.
میرے خیال میں عمران خان کے نعروں اور وعدوں کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہئے. ایسے معاملات جن کا تعلق اقتصادیات اور معاشیات سے ہے جیسا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا وغیرہ اور کچھ انتظامی حوالے سے وعدے تھے جیسا کہ مختلف اصلاحات وغیرہ. پاکستان ایک غریب، ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے. دوسرا سابقہ حکومتوں کے معیشت مخالف معاہدوں، منصوبوں اور قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا، بجلی مہنگی کرنا، ڈالر کا اوپر جانا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا جیسی مجبوریاں سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں اور ان پر مجھے ذاتی طور پر کوئی تشویش نہیں. وعدوں اور نعروں کی دوسری قسم جس کا تعلق انتظام، حکومت، احتساب، آئین سازی، مہنگائی اور اصلاحات سے ہے، ان پر مجھے بہت تشویش ہے کیوں کہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں پیسہ خرچ نہیں ہوتا. جیسا کہ پولیس اصلاحات، اس میں قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا؟ میرے خیال میں کچھ بھی نہیں، مفت میں پولیس اصلاحات ہو جائیں گی.
مجھے عمران خان کے ساتھ جس 10 نکاتی اختلاف ہے، ان دس نکات کا خزانے اور بجٹ سے تقریباً کوئی تعلق نہیں.
عمران خان نے سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے سو دنوں کا حکومتی ایجنڈا پیش کیا تھا. ان سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ان میں ایک وعدہ تھا سرائیکی صوبے کا قیام. آج 1100 دن گزر جانے کے باوجود بھی سرائیکی صوبے کا قیام مکمل نہیں ہوا حالانکہ یہ کام سو دنوں میں کرنے کا وعدہ تھا، خیر ہم تو اس وقت بھی جانتے تھے کہ یہ کام سو دنوں میں کیسے ہو سکتا ہے. صوبے کا قیام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے. کچھ سیکرٹریوں کی تعیناتی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکا. اگر حکومت غیر معمولی تیزی اور کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے دور حکومت میں سرائیکی صوبے کا قیام مکمل کر جائے تو پھر بھی انتخابی حوالے سے الیکشن کمیشن کا کام باقی رہ جائے گا. جس میں صوبائی اور وفاقی حلقہ بندیوں سمیت ایوان بالا کی نشستوں پر بھی کام کرنا پڑے گا. دس نکات میں یہ پہلا نکتہ ہے جس پر اعتراض ہے کیوں کہ اس کا تعلق بھی بہت بڑے بجٹ سے نہیں.
ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ردعمل میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ حکومت میں آتے ہی پولیس کو سیاست دانوں، جاگیرداروں اور حکومتی ارکان کے عمل دخل اور اثر سے پاک کریں گے. پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی. پولیس کو عوام کا خادم بنایا جائے گا. پولیس اصلاحات ابھی تک نہیں ہو سکیں بلکہ مخالفین کا الزام ہے کہ شہباز شریف دور میں پنجاب پولیس کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی. پولیس اصلاحات کرنے کے لئے بھی کسی اضافی رقم کی ضرورت نہیں، مطلب محض انتظامی معاملہ ہے مگر ابھی تک عمران خان اور پنجاب حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے. عمران خان مختصر کابینہ رکھنے کا بھی وعدہ کرکے آئے ہیں. وہ اکثر یورپ بالخصوص برطانیہ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ 15 بندوں کی کابینہ ہوگی. مگر اب وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے مشیر اور وزیر مملکت کی تعداد نصف سینکڑے کے نزدیک ہوگی.
سب سے مقبول نعرہ اور پرکشش اور متاثر کن وعدہ احتساب کا وعدہ تھا. عمران خان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بہت سارے لوگوں سے پیسہ نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا وعدہ کرتے تھے. سیاسی معاملات اور وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کا یا کسی سطح تک احتساب ضرور ہوا ہے مگر جس قدر توقعات وابستہ تھیں ویسا احتساب ابھی تک دیکھنے میں نظر نہیں آیا. متحدہ حزب اختلاف اور حکومت کے کچھ لوگ احتساب کے ریڈار میں ضرور آئے ہیں مگر مقصد سزا دینا نہیں بلکہ قومی پیسہ وصول کر کے واپس قومی خزانے میں جمع کروانا ہے.
مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے. موجودہ حکومت میں مہنگائی سو فیصد سے تین سو فیصد تک بڑھ چکی ہے. معاشی بدحالی عروج پر ہے. موجودہ حکومت کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دوسرا سال کورونا میں گزر رہا ہے مگر مجموعی طور پر حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے. غریب عوام کی قوت خرید جواب دے رہی ہے. اشیائے خوردونوش میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے. مہنگائی یا قیمتوں پر قابو پانا صرف جانچ پڑتال اور سزا جزا سے ہو سکتا ہے. ذخیرہ اندوزوں اور خود ساختہ قیمتوں میں اضافہ کرنے والے مافیا کو راہ راست پر لانے کے لئے بجٹ کی ضرورت نہیں. یہ صرف انتظامی امر ہے.
عمران خان اور موجودہ حکومت کے ساتھ اہم ترین اور شدید ترین اختلافات میں سے ایک اختلاف بے حیائی، فحاشی اور اسلام دشمنی کے متعلق ہے. موجودہ حکومت میں فحاشی اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. مارچ 2018 میں پہلی بار پاکستان میں لبرلز اور اسلام دشمن طلاق یافتہ خواتین نے عورت مارچ منایا. یہ ن لیگ کے دور حکومت میں اور عام انتخابات سے پہلے کی بات ہے. چند درجن آنٹیوں نے شرعی اقدار اور چادر چاردیواری کے خلاف اور عورت کی آزادی کے نام پر متنازعہ جلوس نکالا. اگلے سال 2019 میں ہونے والے عورت مارچ نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے. خواتین کی تعداد، مردوں اور میڈیا کے لوگوں کی شرکت، سوشل میڈیا پر کوریج، انتہائی نازیبا اور شرمناک پلے کارڈز اور نعروں کے لحاظ یہ عورت مارچ انتہائی متنازعہ تھا. مبینہ طور پر ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری ہیں. ہر آئندہ عورت مارچ اسلام دشمنی میں، شرعی اقدار کے مزاق اڑانے میں اور فحش نعروں کے حوالے سے زیادہ متنازعہ اور شرمناک ہوتا ہے. اسلام، اخلاقیات اور شرم وحیا کی ساری حدیں تو رواں سال 2021 کے عورت مارچ میں عبور کی گئیں جب مبینہ طور گستاخانہ پلے کارڈز اور ہم جنس پرستی کی عالمی تنظیم کا جھنڈا لہرایا گیا مگر آج تک عمران خان اور اس کی حکومت اس پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. مجھے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ اس طرح کی تمام اسلام اور اخلاق دشمن سرگرمیوں کی پشت پناہی وزارت انسانی حقوق کر رہی ہے.
عمران خان نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگایا اور ٹھیک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو چلانے کا وعدہ کیا مگر حقائق اس کے برعکس ہیں. عمران خان نے کابینہ کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیا وہ اکثر لبرل ہیں اور ان میں متعدد اسلام کے دشمن ہیں. ایک طرف مدینہ کی ریاست کا نعرہ دوسری طرف لبرل اور اسلام دشمن کابینہ کا انتخاب، اس بات پر بھی مجھے کافی اختلاف ہے.
سنجیدہ ترین اعتراضات اور اختلافات میں ایک اسلام دشمن آئین سازی یا ترمیم سازی بھی ہے. موجودہ ایوان نے اسلام مخالف قانون سازی کی اور کچھ ترمیم کی. جیسا کہ گھریلو تشدد بل یا Domestic violence Bill جس میں بیوی کو شوہر کی اطاعت اور خدمت نہ کرنے کا اختیار دیا گیا، عورت چاہے تو خاوند کو جیل بھی بھیج سکتی ہے. والدین اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے اور تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کر سکتے. کسی بھی جرم یا غلطی پر والدین اپنی اولاد کو گھر سے نہیں نکال سکتے حالانکہ اسلام نے والد کو اجازت دی ہے کہ اگر بیٹا نافرمانی پر اتر کر باغی بن جائے تو والد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر سکتا ہے.
ان دنوں ایک اور متنازعہ مجوزہ آئینی بل زیر بحث ہے جس میں 18 سال سے کم کوئی بھی غیر مسلم شخص اسلام قبول نہیں کر سکتا اور 18 سال سے اوپر اسلام قبول کرنے والے شخص کے لئے سخت طریقہ کار بناتے ہوئے ایسی شرائط اور پیچیدگیوں کی تجویز زیر غور ہے جس سے اسلام قبول کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا. حکومتی سطح پر اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی اس نوعیت کا بل وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس زیر غور اور زیر بحث ہے. اب یہ بھی سنا ہے کہ اس بل کو مسترد کر دیا گیا ہے.
آخر میں سادگی اور یکساں نظام تعلیم کے وعدے ہیں. سادگی پر عمران خان نے اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے سادگی اختیار کی ہے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا. وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر آنے والے اخراجات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے. وفاقی کابینہ اور اراکین، صوبائی حکومت اور اراکین روایتی انداز میں اقتدار کے مزے لے رہے ہیں. بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو سختی سے سادگی والی بات کا عمل درآمد دوسرے ماتحت لوگوں پر بھی کروانا چاہیے.
آخر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کے حوالے سے ہے، کچھ دن پہلے حکومت اور وزارت تعلیم کی جانب سے عملی کام دیکھنے میں نظر آیا حالانکہ یہ کام عمران خان ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا وعدہ کر چکے تھے. حسب معمول اور حسب روایت عمران خان کے اس بہترین کام کی مخالفت کی گئی اور اس وقت مخالفت عروج پر ہے. مخالفین اور مخالفت کی متعدد وجوہات ہیں. سب سے اہم عمران خان کے ساتھ سیاسی اختلاف، دوسرا لبرلز کا گروہ جو ہمیشہ اخلاقیات کے منافی کام کرتا ہے، کچھ نجی تعلیمی ادارے بھی مخالفت کر رہے ہیں، کچھ قوم پرست طبقہ بھی اردو کے بغض میں یکساں نصاب کی مخالفت میں ہے. عمران خان اور وزارت تعلیم مخالفت اور تنقید کے بعد بیک فٹ پر چلی گئے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب والا وعدہ کب، کیسے اور کتنا پورا ہوتا ہے.
@mian_ihsaan
جھوٹی خبروں والے مانگیں مادر پدر آزادی ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر
"خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.”
سورة الروم 41
آزادی اظہار رائے سے مراد انسان کو اپنی بات کہنے بیان کرنے اور لکھنے کی خودمختاری حاصل ہو۔
مہذب معاشروں میں صحافتی اصولوں کا معیار غیرجانبداری تحقیق شدہ مکمل سچ لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہے ۔
پرنٹ میڈیا کے لکھنے والوں کے لئے اصولوں ضوابط ہوتے تھے اورادارتی بورڈز کی نگرانی کی وجہ سے حمید نظامی نذیر ناجی جمیل الدین عالی حسن نثار انور قدوائی جیسے بڑے بڑے نامور کالم نگار اور تجربہ کار سامنے آئے جن کی غیر جانبداری وضع داری کا زمانہ معترف ہے
مگر ہمارے ہاں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو جب کام کرنے کی اجازت دی گئ تو صحافت نے کاروبار کا درجہ حاصل کر لیا اور ناتجربہ کار نئے نئے لوگ چینلوں پر خبریں پڑھتے پڑھتے ٹاک شوز کے میزبان تجزیہ کار اور اینکرز بن گئے۔ بات یہاں تک ہی نہ رکی نوخیز صحافی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن گئے واٹس ایپ پر ہدایت لینے لگے انٹرویو میں پلانٹڈ سوال پوچھے جانے لگے کئ صحافیوں نے تو بزنس آئیکون کے لئے کرائے پر کالم لکھنے کا کام بھی شروع کردیا لاہور کی سڑکوں پر پرانی موٹرسائیکل کا پلگ صاف کرتے نظر آنے والے صحافیوں نے دن دگنی ترقی کی اور فارم ہاوسز کے مالک بن گئے سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے اور بیانیہ کےفروغ کے لئے صحافیوں کا استعمال شروع کیا اور حکومت میں آنے کے بعد من پسند صحافیوں کو پیمرا ہارٹیکلچر جیسے اداروں کا چئیرمین لگایا گیا اور سرکاری عہدوں سے نوازا گیا قلم بکنے لگے ایزی لوڈ صحافیوں کی ایک فوج طفر موج مارکیٹ میں آگئ اور یوں صحافت جیسا مقدس پیشہ تجارت کا درجہ اختیار کر گیا۔ سلسلہ یہی تک نہیں رکا شہرت اور دولت کی ہوس نے پیشہ ور بدیانتوں کا حوصلہ بڑھایا اب یہ ملک اور ملکی اداروں کے خلاف لکھنا اور بولنا شروع ہوگئے سیکورٹی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو ملک دشمن قوتوں نے ہائیر کیا اور ان کے قلم حساس اداروں کے خلاف استعمال ہونے لگے ۔جب ریاستی اداروں نے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف تحقیقات کے کے لئے اقدامات کئے تو آزادی اظہار رائے پر حملے کا بہانہ بنا کر بیرون ممالک پناہ لینا شروع کردیا اور گرفتاریوں کو جبری گم شدگی کا نام دیا گیا۔
یہ مخصوص نام نہاد صحافی ہمیشہ آپ کو اچھے کام کی مخالفت کرتے نظر آئیں گے مذہبی اخلاقی اقدار پر تنقید ملکی مفاد پر تنقید اور جھوٹی خبریں رپورٹیں نشر کرنا انکا وطیرہ ہے اپنے آپ کو بائیں بازو والے لبرلز کہلانا ان کا مشغلہ ہے حالانکہ لبرلز آزاد خیال دوسروں کی رائے کا احترام اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کہ لبرلز اپنی رائے کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی لئے انہیں خونی لبرلز کہا جاتا ہے۔
حکومت نے نظام تعلیم میں طبقاتی تفرئق کو ختم کرنے کے لیے یکساں قومی نصاب متعارف کروایا اس مخصوص اور نومولود صحافتی ٹولے نے نصاب کا جائزہ لئے بغیر ہی صرف اسی بات پر مضامین لکھ مارے کہ پرائمری کی کتب کے سرورق پر بچی زمین پر کیوں بیٹھی ہے حجاب کیوں لیا ہے بچی نے پورے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔اور یوں انہوں نے ایک ایجنڈے کے تحت ایک اچھا کام میں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش کی۔
موجودہ حکومت کے تین سالوں میں جھوٹی خبریں اور رپورٹیں نشر کرنے والوں کی تعداد میں بےپناہ اضافہ ہوا کچھ تو اداروں اور ملک دشمنی کے اپنے لا علاج مرض کے سبب چینلز سے بھی نکالے گئے اب ان میں سے اکثر بے روزگار ہو کر یوٹیوب پر بونگیاں مار رہے ہیں۔
یہ نام نہاد صحافی خبر دینے اور رپورٹنگ کی بجائے خود پارٹی بن جاتے ہیں کئ تو مولانا فضل الرحمن کی پرائیویٹ فوج کی یونیفارم پہن کر انقلاب کی رہ تکتے تکتے مایوس ہوکر فاتحہ خوانی بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
جھوٹی خبر دینے والوں کا محاسبہ کرنے کے لیے ہر ملک میں قوانین موجود ہیں صحافیوں کو بھاری جرمانے برطانیہ جیسے آزاد معاشرے میں بھی کئے جاتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے جھوٹی خبریں دینے والے صحافیوں کا محاسبہ کرنے اور میڈیا کے کیمرہ مینوں بیٹ رپورٹرز اور دیگر ورکرز کو کئ کئ ماہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا مالکان کے خلاف قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو نام نہاد نامور صحافی جن کو منہ مانگی قیمت ملتی ہے وہ جھوٹی خبروں اور میڈیا ورکرز کے حق میں بننے والے پاکستان میڈیا اتھارٹی کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے کی مادر پدر آزادی دی جائے تاکہ یہ معاشرے میں اپنی جھوٹی خبروں اور رپورٹنگ کے ذریعے فساد مچاتے رہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہ ہو۔
حکومت وقت سے استدعا ہے کہ اگر اب اس مافیا کو لگام ڈالنے کے ارادہ کر ہی لیا ہے تو اپوزیشن میں بیٹھے ان کے خیرخواہوں کی تنقید کو خاطر میں نہ لایا جائے
اور اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
@EducarePak

صفائی نصف ایمان تحریر: صلاح الدین
اسلام وہ واحد مذہب ہے جو سب سے زیادہ صفائی پر توجہ دیتا ہے اس لیے اسلام میں
صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے مسلمانوںکو صفائی کی اہمیت کا اندازہ اپنے مذہب
سے ہو جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے غیر مذہب صفائی کی اہمیت ہم سے
زیادہ جانتے ہیں اس لیے یورپی ممالک ہمارے ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ صاف
ستھرے ہوتے ہیں۔صفائی انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ صاف ستھرے گھر، گلیاں اور محلے
انسان کے مہذب ہونے کی نشانیاں ہیںصفائی کا خیال رکھنے سے آپ کی فطرت کا پتہ
چلتا ہے۔ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں صفائی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنے
بچوں کوبھی صفائی کی ترغیب دینی چاہیے۔ہماری روزمرہ کی جگہیں جن میں گھر، گلی، محلہ اور کام کاج کی جگہ یعنی دفاتر
دکانوں وغیرہ میں صفائی کا خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہوہاں گندگی نہ پھیلے۔
اپنے گھروں کے آس پاس بھی کچرا نہ جمع ہونے دیں۔ کیونکہ کچرے سے زہریلی گیسیں
پیدا ہوتی ہیں جو کہ انسانیزندگی کے لیے نہایت مضر ہیں۔ہمارے گلی محلوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں لیکن ہم یہ کہہ کر ان جگہوں کی
صفائی نہیں کرتے کہ یہ حکومت کا کام ہےوہی یہاں سے کچرا اٹھائیں گے لیکن سب
کام حکومت پر ہی نہیں چھوڑنے چاہیے یہ گلیاں اور محلے بھی ہمارے ہیں ان کی
صفائیکا خیال بھی ہم نے ہی رکھنا ہے جیسے اپنے زاتی گھر کی صفائی کا خیال رکھتے
ہیں۔ہمیں صفائی کی اہمیت کو ٹھیک طرح سے سمجھنا ہوگا تبھی جاکر ہم ایک مہذب قوم
کہلائیں گے۔ بہت سارے لوگ بس ا ڈوں اورمارکیٹوں میں پبلک ٹوائلٹ ہونے کے باوجود
کھلے میں بیت الخلا استعمال کرتے ہیں جس سے تعفن پھیلتا ہے اور بہت ساری موذی
امراض بھی اس وجہ پیدا ہوتے ہیں۔صفائی کا تعلق صرف آپ کے گھر بار سے ہی نہیں بلکہ آپ کے کھانے پینے کی اشیا اور
برتنوں سے بھی ہے۔ اپنے گھروں کے کچنمیں استعمال ہونے والے برتنوں کو ڈھک کر
رکھیں انہیں روزانہ دھوئیں، پکی ہوئی چیزوں کو محفوظ طریقے سے ڈھک کر رکھیں
تاکہان پر مکھیاں وغیرہ نہ بیٹھ سکیں۔ پھلوں اور سبزیوں کو استعمال سے پہلے
اچھی طرح دھو لیں۔جسم کی صفائی بہت ضروری ہے روزانہ نہائیں، کپڑے دھلے ہوۓ پہنیں، ناخنوں کو
کاٹیں تاکہ ان کے نیچے جمی ہوئی میل سے آپمحفوظ رہ سکیں اگر آپ شیو کرتے ہیں تو
ہفتے میں کم از کم تین بار شیو کریں اور اگر آپ نے داڑھی رکھی ہوئی ہے تو اس
کو بھیہفتے میں ایک بار ضرور صحیح کروائیںاپنے اردگرد کے ماحول پر خاص نظر رکھیں کوئی بھی شخص گندگی پھیلاتا ہوا نظر آۓ
تو اس کی سرزنش کریں۔ لوگوں میں صفائی کیاہمیت کو اجاگر کریں بچوں کو صفائی کا
اہتمام کرنے کی خصوصی تلقین کریںبچوں کو صفائی شعور دینے میں والدین اور اساتذہ
کا کردارخصوصی اہمیت کا حامل ہے۔تن کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے من کی صفائی پر
بھی توجہ دیں کیونکہ من کی صفائی بھی بہتاہمیت رکھتی ہے۔ جب تک ہم خود اپنے آپ
کو تبدیل نہیں کریں گے تو یہ ملک کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔Twitter ID: @S_Tanoli07

ڈنکے کی چوٹ پر تحریر:احمد
جیسے میں اپنی ذاتی زندگی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر گزارنا پسند کرتا ہوں ویسے ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے ملک کی قیادت اور میری قوم بھی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر زندگی گزارے
اللہ تعالی بھی مومنوں کو سر اٹھا کر زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے اور یہ واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو تم بھی وہی زیادتی کرو یعنی اگر کوئی تمہاری آنکھ نکالے تو تم بھی آنکھ نکالو اگر کوئی کان کاٹے تو تم بھی کان کاٹو
یہی وہ اصول ہے میرا جس پر میں زندگی گزارتا ہوں اور آج یہی مشورہ میں حکومت پاکستان کو دینا چاہتا ہوں کہ FATF کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اس کے ہر حکم کو مسترد کر دو
پاکستان کے پاس بے شمار آپشنز موجود ہیں پاکستان کو چاہیے کہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی دنیا کے ضرورت مند ممالک کو فروخت کرکے امداد کی بجائے اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا کرے ایران کے ساتھ کھل کر تجارت کرے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے ان کی مدد کرے ترکی اور شمالی کوریا کو اپنی بہترین میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرے
افغانستان میں طالبان کی ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کرے
اللہ کے شیروں یعنی حافظ صاحب جیسے مجاہدین کو FATF کے جال سے نکال کر کشمیر کے لیے تیار کرے چین کے ذریعے انڈیا کو لداخ میں انگیج کر کے مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کرے
سینٹرل ایشیا کے ممالک یعنی روس آذربائیجان تاجکستان وغیرہ سے بڑے بڑے تجارتی معاہدات کر کے امریکی ایکسپورٹ پر سے انحصار ختم کیا جائے
اور ڈنکے کی چوٹ پر انٹرنیشنل فورم پر Absolutely Not
کا بیانیہ اپنا کر اس راستے پر ثابت قدم رہو
اگر میری ان تجاویز میں سے کوئی ایک بھی تجویز پر ریاست پاکستان اگر عمل کرلے تو پوری دنیا اپنی آنکھوں سے یہ دیکھتے ہوئے تسلیم کرے گی کہ اس روئے زمین پر پاکستان کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے
ایران اور شمالی کوریا کو امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے بلیک لسٹ میں ڈال رکھا ہے
ذرا بتاؤ مجھے کیا شمالی کوریا اور ایران صفحہ ہستی سے مٹ گئے؟؟ بلکل بھی نہیں وہ اب بھی خود مختار ملک ہے
بلکل بھی نہیں یہ ممالک آج بھی اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سر اٹھا کر دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، اِن دو ممالک پر کتنی مشکل پابندی عائد ہوئے لیکن غلامی نہیں کی، مجھے بتاؤ امریکہ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ نے ایران اور شمالی کوریا کا کیا اکھاڑ لیا
اور اگر تم امریکی غلامی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ بلیک لسٹ جیسے ظالمانہ قوانین کے خوف سے اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار پر سمجھوتے کرتے رہو گے تو پھر ساری زندگی تمہاری حالت نہیں بدل سکتی یہاں تک کہ تمہاری موت ہی واقع ہو جائے. (تحریر احمد خان)
@iamAhmadokz

کمر توڑ مہنگائی تحریر: احسان الحق
مہنگائی کے حوالے سے آج کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حسب روایت اور حسب توقع بڑھا دی ہیں. پیٹرول پانچ روپے اضافے کے ساتھ 123.30 کا ملے گا، ڈیزل پانچ روپے اور ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 120.04 میں دستیاب ہوگا. مٹی کا تیل پانچ روپے اور چھیالیس پیسے اضافے کے ساتھ 92.26 میں اور لائٹ ڈیزل آئل پانچ روپے اور بانوے پیسے اضافے کے ساتھ 90.69 میں فروخت ہوگا. مہنگائی، معاشی اور اقتصادی حوالے سے موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ متعدد کام یا ان کے اعدادوشمار یا نرخ ملکی تاریخ میں پہلی بار اور بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ان میں سے چند ایسے کام یا کارنامے ہیں جو یقیناً ملک اور ملکی معیشت کے لئے بہت اچھے ہیں. مہنگائی کے حوالے سے بیشتر ایسے معاملات بھی ہیں جو قوم و ملک اور بالخصوص غریب عوام کی آئے روز کمر توڑ رہے ہیں. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل جو کہ ہمیشہ قیمتوں کے اضافے کی صورت میں ہوتا ہے، موجودہ حکومت نے ماہوار سے تبدیل کر کے پندرہ دن کر دیا ہے. پہلے ہر ماہ کے آخر میں نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا مگر اس حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار دورانیہ تئیس دن سے کم کرکے پندرہ دن کر دیا ہے.
شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو جس ہفتے کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو. روز مرہ استعمال کرنے کی اشیاء اور اشیائے خوردونوش کے نرخ تو باقاعدگی اور تسلسل سے بڑھائے جا رہے ہیں. بجلی کے نرخ بھی ہر دوسرے مہینے بڑھائے جا رہے ہیں. حکومت کا موقف ہے کہ سابقہ حکومت کی ناکام اور معیشت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے. آئی ایم ایف کی بھاری اور کڑی شرائط کے بعد ہمیں قرض ملا، ان شرائط پر عملدرآمد کیلئے قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں. مختلف نئے محصولات کا لگانا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بجلی کے نرخ بڑھانا یہ وہ شرائط ہیں جن پر عملدرآمد کئیے بغیر قرض کی رقم ملنا مشکل ہے. یہاں تک مہنگائی یا بجلی مہنگی ہونے کی سمجھ آتی ہے. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ بھاری بجٹ خرچ کر کے پیٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں. مگر دالیں، گھی، چینی، سبزیاں اور باقی روز مرہ زندگی کے استعمال کی چیزوں میں مسلسل اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے. یہ وہ اشیاء ہیں جو مقامی ہیں. پاکستان میں ہی اگائی یا بنائی جاتی ہیں.
تین سال پہلے کی قیمتیں اور موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے چیدہ چیدہ اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ کر لیتے ہیں. یاد رہے کہ ذیل میں دئے گئے اعدادوشمار اور اشیاء کی قیمتیں علاقوں کے لحاظ سے اوپر نیچے ہو سکتی ہے اور یہ اعدادوشمار سرکاری نہیں. لہذا راقم ان اعدادوشمار اور نرخ ناموں سے بری الذمہ ہے.
تین سال میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 سے 1300 کا ہو چکا ہے. مارچ اپریل 2018 میں 55 روپے فی کلو چینی میں نے خود خریدی تھی. چینی 55 سے 110 یا 115 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے. 135 روپے فی کلو والا گھی اب 335 سے بھی اوپر مل رہا ہے. دال چنا 120 سے 170 کی ہو گئی ہے. دال ماش 200 سے 260، باجرہ 50 سے 100، بڑا چاول 40 سے 80، سیلہ چاول 90 سے 160، لوبیہ 150 سے 220 اور دودھ 80 روپے فی لیٹر سے 130 تک کا ہو چکا ہے. پیٹرولیم مصنوعات کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے ہے. اس لئے ان کی قیمتوں پر زیادہ بات نہیں کرتے. سونے کا نرخ بھی 60 ہزار سے ایک لاکھ پندرہ ہزار سے اوپر ہے. ڈالر بھی اوپر کی طرف جا رہا ہے اور ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. موٹر ویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر، ڈاک خانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچ چکا ہے. بجلی کی قیمتوں نے غریب عوام کو تقریباً آدھ موا کر دیا ہے. تین سال پہلے بجلی کا یونٹ 8 روپے تھا اب 20 سے بھی اوپر کا ہے. رواں ہفتے نیپرا نے ایک بار پھر 1.38 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا. گیس کے سلینڈر پر بھی تین سو فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے. دواؤں کی قیمتیں بھی دوگنا سے تین گنا بڑھ چکی ہیں.
امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. ڈالر بڑھنے سے ملکی قرض پر 1800 ارب کا اضافہ ہوا ہے. یہ بھی موجودہ حکومت میں ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار گرمیوں میں گیس کا بحران پیدا ہوا. پچھلے ہفتے حکومت پاکستان نے دو لاکھ ٹن چینی بیرون ملک سے خریدنے کا معاہدہ کیا. اطلاعات کے مطابق حکومت نے 84 روپے فی کلو کے حساب سے مقامی چینی خریدنے کی بجائے غیر ملکی چینی خریدنے کو ترجیح دی جو فی کلو 123 روپے میں پڑے گی. مطلب تقریباً 38 روپے فی کلو مہنگی چینی خریدی جا رہی ہے. اب اس فیصلے یا مجبوری کے پیچھے کیا عوامل اور محرکات ہیں، ان کی تفصیل میرے پاس فی الوقت دستیاب نہیں.
موجودہ حکومت کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ کچھ کام ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے اور قیمتیں ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں. ملکی تاریخ میں پہلی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ڈالر بڑھنے سے 1800 ارب کا ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا. ایل این جی کی قیمتیں بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں اور حیران کن اور ناقابل یقین طور پر ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم نے گرمیوں میں گیس بحران کا سامنا بھی کیا. بجلی کے بل بھی پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں، آٹے کا نرخ بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے، آٹے کا 20 کلو والا تھیلا تقریباً 1200 سے 1300 کے درمیان مل رہا ہے. غالباً چینی کی قیمت بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے.
دوسری طرف بہتری اور اچھائی کے حوالے سے کچھ ایسے کام بھی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہیں جیسا کہ ایکسپورٹس بلند ترین سطح پر ہیں، کسانوں کو ان کی محنت کے بدلے گندم کا نرخ بلند ترین سطح پر دیا جا رہا ہے، گنے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں، کپاس کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر ہے. غیرملکی زرمبادلہ بھی بلند ترین سطح پر ہے، سمندر پار پاکستانیوں نے ملکی تاریخ کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے قومی خزانے میں تاریخ کا سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا. گزشتہ پچاس سالوں میں ڈیموں کی تعمیر بھی بلند ترین سطح پر ہے مطلب 1967 کے بعد ملک میں قابل ذکر ڈیموں پر کام نہیں کیا گیا. موجودہ حکومت نے متعدد بڑے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے. سی پیک اور دوسرے شعبوں میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے.
آئندہ عام انتخابات میں موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز مہنگائی ہوگی. عام پاکستانی کو س پیک، ملکی قرضوں، گرے لسٹ، خارجہ پالیسی، غیر ملکی قرضے کی واپسی، ایکسپورٹس میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کا کیا پتہ؟ غریب آدمی کے لئے گھی، دالیں، پیٹرول، ادویات، جیسی بنیادی چیزیں ہی سب کچھ ہیں. اگر ان چیزوں کی قیمتوں اور مجموعی طور پر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو تحریک انصاف کو آئندہ عام انتخابات میں جھٹکا لگ سکتا ہے.
@mian_ihsaan

پاکستان کے خلاف معتصب رویہ! تحریر: محمد اختر
قار ئین کرام! جیسا کہ اس بات سے ہر کوئی آشنا ء ہے کہ ان دِنوں دنیا میں بہت سی فہرستیں بنائی گئی ہیں، اور پاکستان کو کبھی بھی متعصب دنیا نے کسی اچھی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ چاہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لحاظ سے ہو یاخطے میں پُر امن کردار کے لیے کوشیشیں۔ یہاں تک کہکرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں مرتب کی جانے والی فہرستوں میں بھی پاکستان کے ساتھ معتصبانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان بہتر کارکردگی اور بہتر نتائج کے باوجود اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر مسائل میں الجھا یا ہوا ہے۔ دنیا ایک بار پھرکرونا وائرس کے حوالے سے انتہائی خطرناک ممالک کو رعایت دینے کے لیے اپنے مفادات اور آسانیاں استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ، ان ممالک پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جنہیں عالمی طاقتیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ برطانیہ نے بھی ایسا ہی جانبدارانہ فیصلہ کیا۔ماضی قریب میں؛ انگلینڈ ڈیلٹا ویرینٹ کا مضبوط گڑھ بھارت کوکرونا وائرس ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کو بہتر حالات اور اعدادوشمار کے باوجود فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد بھی کم ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان میں صورتحال کنٹرول میں ہے باوجود اس کے پاکستان ابھی تک اس فہرست میں شامل ہے،جبکہ دوسری طرف بھارت میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔یہ فیصلہ خالص تعصب پر مبنی ہے۔ کرونا وائرس کیسز کے حوالے سے امریکہ کے بعد ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اموات کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرونا وائرس کے معاملات میں 30 ویں نمبر پر ہے۔ان اعدادوشمار کے بعد اس سرخ فہرست کی کیا حیثیت ہوگی، جہاں 30 ویں نمبر پر آنے والے ملک کو سرخ فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے ملک کو رعایت دی جا رہی ہے۔لہزا، نظر آتا ہے کہ بھارت امریکہ کا ”پیارا” اور فرمانبردار ہے، امریکہ خطے میں امن و امان کو تباہ کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے تاکہ نریندر مودی جیسے دہشت گردوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر سکے اور یہ پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔یہ تمام فہرستیں پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کے مترادف ہیں۔ ان سب کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔یاد رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کوویڈ 19 سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے متاثرہ ممالک کو پاکستان کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے ڈیلٹا ورژن کا گڑھ بھارت کو سرخ فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ جبکہ، پاکستان اب بھی اس فہرست میں شامل ہے حالانکہ پاکستان میں کرونا وائرس کے معاملات ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ کاش! دنیا ان فہرستوں پر شرم محسوس کرے۔قابلِ فہم ہر پاکستانی کا یہ سوال ہے کہ آخر کس کو دھوکہ دیا جا رہا ہے؟یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی جس کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آوازیں اٹھ رہی ہیں؟ یہ دوہرا معیار نام نہاد مہذب دنیا کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق ادارے (ایف اے ٹی ایف) نے بھی پاکستان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اہم نکات پر عمل درآمد کے باوجود، پاکستان پر سختی برقرار رکھی گئی، جبکہ بھارت کے لیے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں نمایاں ہے، متعصب عالمی برادری کا بالکل مختلف انداز ہے۔اس طرح یہ تمام اقساط یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان کو باقاعدہ ایک مزموم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو سی پیک کی وجہ سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، چین کے ساتھ اس کی دوستی اور دوسرا اہم پہلو پرامن افغانستان ہے۔ چونکہ، پاکستان پرامن افغانستان کے حق میں ہے جبکہ متعصب عالمی طاقتیں افغانستان میں امن کے بجائے آگ اور خون کا کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں۔جبکہ پاکستان خطے میں جنگ کے بجائے امن کے حق میں ہے۔اوردوسری جانب بھارت کی موجودہ حکومت ہندوتوا نظریے کے تحت خطے میں امن کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان آگ اور خون کے اس کھیل کی حمایت نہیں کرتا اور اسے اس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔اگرچہ پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے بیس سال تک قربانیاں دی ہیں، لیکن نام نہاد مہذب دنیا پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور اسے امن کے دشمن نریندر مودی کے ذریعے ایک اور عالمی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔
@MAkhter_








