Baaghi TV

Category: متفرق

  • قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    اگر دیکھاجائے تو ایک قلمکار کا دائیرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار، آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔ یعنی پڑھو اور بھول جاؤ۔ تحریر بے مقصد، غیر دلچسپ، ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اس کو یاد رکھے گا۔ آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس بس کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔ وجہ کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے اب جھوٹ پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحافتی قوانین بنائے ہیں جن میں حقائق پر مبنی خبر ہی نشر کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں قومی سطہ کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی ریٹنگ کے چکر میں ہر خبر کو بریکننگ نیوز بنا کر نشر کرتے ہیں اور اکثر خبریں صرف اِن الفاظ کے ساتھ نشر کی جاتی ہے "ذرائع کہ مطابق” لیکن ذرائع کا نام، اِدارے کا نام، کسی مستند صحافی کا نام لئے بغیر ہی اُس خبر کو سارا سارا دن ساری رات بار بار چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹحیک ہے کسی بھ ایسی ریاست کے لئے جس کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر بھرپور انداز میں مسلط ہو۔؟پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوئے ہُوئے ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے۔ نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھے معاشرہ میں رائج فرسُودہ رسم و رواج اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج کا قلمکار، قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے مُعاشرے میں برائی کو تقویت ملتی ہے مقابلہ بازی میں مدے سے ہٹ کر بحث میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور یہ نا صرف مُعاشرے بلکہ ریاست کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک صحافی جو قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اِس کا نقصان کسے ہوگا یہ جانے بغیر وہ اِس مقابلے میں بل آخر جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتا ہے جو برائی کی پہلی سیڑی ثاب ہوتی ہے اور یہاوہ صحافی اپنے قلم کے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ضمیر کو بھی جھوٹی تسلی دے کر سلانے لگتا ہے۔ مگر حرام کا ایک لُقمہ حلق میں جاتے ساتھ حلال رزق سے چند لمحوں میں قوسوں دُور ہوجاتا ہے۔
    پاکستان اِس وقت ففتھ جنریشن وار جیسی جنگ کی زد میں ہے اور میڈیا اِس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں فیک نیوز کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے جو ریاست مخالف استعمال ہوتی ہے ایسے مشکل حالات میں میڈیا ریاست کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ہمارا میڈیا غیر ملکی ہتھکنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بضد ہے۔

    ‏ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے سچ بولیں اور یہ جاہل کہتے ہیں نہیں ہمیں یہ منظور
    ‏فیصلہ ہونے والا ہے اس قوم نے تباہ ہونا ہے یا ترقی یافتہ عظیم قوم بننا ہے
    اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہم نہیں سدھریں گے تو ہم سے بہتر لوگ آجائیں گے
    احتجاج ہورہا ہے کہ جھوٹ کی آزادی دو یہ وہ گناہ ہے جس پہ اللہ نے خود لعنت فرمائی ہے
    جو گروہ جیتے گا وہ ملک کے مستقبل کا تعین کردے گا۔
    میڈیا میں جھوٹی خبروں اور خواہشات پہ مبنی جھوٹے من گھڑت تجزیوں کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے ۔ صحافی
    عدالتوں میں بہتری اور اصلاحات کے لیئے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے- وکلاء
    الیکشن کمیشن میں بہتری کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے۔ الیکشن کمیشن
    مگر نیا پاکستان کیوں نہیں بنا اس کا جواب عمران خان کو دینا ہو گا۔ بہت خُوب
    جب آپ لوگو جھوٹ نہیں بولیں گے تو آپ کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے
    مگر وہ کہتے ہیں نا چور کی داڑھی میں تنکا
    ان شاءاللہ یہ ہو کر رہے گا۔
    @A2Khizar

  • دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)    تحریر: علی خان۔ 

    دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)   تحریر: علی خان۔ 

    انگریز برصغیر پر سو سال حکومت کے بعد ویسے تو بہت سی یادیں چھوڑ گئے لیکن نظام تعلیم، ڈی سی اور چائے کا مقابلہ کوئی اورچیز  نہیں کرسکتی۔ چین سے چائے کے پودے لا کر برصغیر میں اگانے اور دنیا بھر می بیچنے کے ساتھ ساتھ اہلیان برصغیر کو بھی اس سوغات سے متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل چائے صرف حکیموں کے پاس دوا کے طور پر موجود ہوتی اور بیماروں کو پلائی جاتی۔ یعنی چائے کے ساتھ بھی وہی حال گزرتا کہ کسی منچلے نے کہا کہ غریب کے گھر مرغ دو ہی صورتوں  میں پکتا ہے کہ بندہ بیمار ہو یا ککڑ بیمار ہو۔ خیر برصغیر میں لپٹن چائے کی ترویج ایسے کی گئی کہ شہروں  میں سڑک کنارے اسٹال لگا کر بسکٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ چینیوں کی گرم پانی میں ابلی پتیوں کی جگہ جب دودھ اور چینی ڈال چائے بنائی گئی تو دیسیوں کو یہ خوب بھائی اور ہر گھر میں خوراک کا لازم جزو قرار پائی

    جیسے ڈی سی نظام پورے برصغیر میں پوری شان و شوکت کے ساتھ چل رہا ہے اسی طرح  چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سندھ میں آپ مہمان کی تمام خاطر تواضع کرلیں لیکن اگر چائے کا نہ  پوچھیں تو مطلب آپ نے گویا مہمان کی خدمت نہیں کی۔ چائے بنانے کی ترکیب اور پیشکش میں کہیں علاقے کے حساب سے تبدیلیاں آئیں تو کہیں معاشرت کے حساب سے۔ گاوں والے پیالوں میں چائے پینے لگے تو شہری بابو ننھی پیالوں میں چسکیاں لیتے ہیں۔ بھارت میں چائے گلاسوں میں پینے کا رواج عام ہے۔ ادرک والی چائے، دارچینی والی چائے، پودینے والی چائے، الائچی والی چائے اور آج کل کی مقبول عام تندوری چائے۔ ان گنت اقسام، پیشکش کے ان گنت طریقے اور معاشرتی مقام سب کا آپس میں کنکشن سا بن گیا ہے۔ کسی کو چائے میں بسکٹ ڈبو کھانا سب سے مزے کا کام لگتا تو کہیں اسے بدتہذیبی اور گنوار پن گردانا جاتا

    برصغیر میں ]ڈی سی اور چائے کی طرح نظام تعلیم اور چائے میں بھی کچھ مشترک روایات ہیں۔ ہمارے وزیراعظم ملک میں رائج کئی درجاتی اور طبقاتی نظام تعلیم کا ذکر کرتے ہیں تو چائے پینے پلانے اور فروخت کرنے میں بھی ایسا ہی مختلف درجاتی نظام رائج ہے۔ اگر نظام تعلیم مدرسوں، سرکاری اور ٹاٹ اسکولوں، گلی محلے کے پرائیویٹ اردو میڈیم اسکولوں، قدرے اچھے پرائیویٹ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کیمبریج و آکسفورڈ گرامر اسکولوں میں تقسیم ہے تو چائے خانے بھی ڈھابوں، روایتی دیسی ہوٹلوں، اچھے ریسٹورنٹوں اور تین چار پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقسیم ہیں۔ آپ کی جیب پر منحصر ہے کہ آپ 20 روپے کپ والی چائے پینا چاہتے ہیں یا دو سو اور بعض صورتوں میں پانچ سو، ہزار اور دو ہزار والی۔ آج کل اس طبقاتی نظام میں اوپن ائیر چائے خانوں کا رواج چل نکلا ہے جو آپ کو چائے کے ساتھ دلچسپ مصروفیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں لڈو، کیرم، لائیو قوالی اور دیگر شامل ہیں۔ اس سب طبقات میں کسی بھی جگہ ذائقے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو بیس یا تیس روپے فی کپ میں مزیدار اور من پسند چائے ملے اور پانچ سو یا ہزار روپے خرچ کرکہ بھی مزہ نہ آئے۔ جیب اور موڈ آپکی چائے کا مقام طے کرتے ہیں۔ بڑی شاہراوں کنارے کچھ ٹرک ہوٹلوں کی چائے اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ پبلک دور دور سے اسکا مزہ لینے آتی ہے۔ 

    جیسے وزیراعظم کو نظام تعلیم میں تقسیم پر اعتراض ہے تو مجھے بھی چائے خانوں کی طبقاتی تقسیم پر اعتراض ہے۔ ماحول اچھا ہونا ضروری ہے لیکن چائے کا ذائقہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ صرف شان و شوکت کی خاطر ان چائے خانوں کا رخ کیا جائے اور مزہ نہ آئے تو دل میں شدید خواہش اٹھتی ہے کہ وزیراعظم کسی روز یہ بھی اعلان کردیں کہ "چائے خانوں میں طبقاتی تقسیم ختم کرکہ یکساں ریٹ کا نفاذ کیا جائے گا”

  • آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    زندگی کو پُرسکون بنانے کے چَکر میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ موت نے بھی ایک دن آنا ہے وہ زندگی کا ساماں کرتے کرتے آخرت کا رونماں ہونا بھول جاتا ہے زندگی میں روشنیاں بکھیرتے بکھیرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مجھے آخروی زندگی کی روشنیاں کیسے حاصل کرنی ہیں ۔انسان پہلے تو کھیل کود میں پھر لطفِ زندگی میں وقت گزار دیتا ہے پھر اُسکو خیال آتا ہے محنت کرکے وہ اپنی زندگی کے آخری دن آرام دہ بنائے ۔

    زندگی کو بہتر بنانے کی تک ودو میں وہ آخرت بہتر بنانے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہے کوئی نہیں جانتا کون سی سانس آخری ہو دنیا کا سب ساماں اِدھر ہی رہ جانا ہے اپنی زندگی میں روشنیاں بھرنے کے چکر میں کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اندھیرے بکھیر رہے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھول جاتے ہیں الّللہ پاک انصاف کرنے والا ہے اور وہ ایک ایک زیادتی کا حساب لینے والا ہے قیامت کا دن مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی سب اللّلہ کے سامنے جواب دہ ہونگے ۔ 

    اگر ہم اپنی زندگی میں دوسروں کی زندگی میں روشنیاں بکھیریں گے تو ہماری آخرت اور ہماری قبر اندھیری نہیں روشنی سے بھری ہوگی۔ ایک انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا سب ساماں کر لیتا ہے پھر جیسے ہی وہ سب پا لیتا ہے اسکو موت آ گھیرتی ہے ساری زندگی وہ اسلیے تھکا کہ میں اپنی زندگی بہترین بنا سکوں مثال قائم کردوں مگر اختتام پہ وہ سب اسکو نصیب ہی نہ ہو پھر کیا ملا اسکو ؟ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں یہی وجہ ہے جب ہم سے ہمارا کوئی اپنا پیارا بچھڑ جائے تو ہم بہت سے سوالوں میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ کاش ایسے ہوتا ویسے ہوتا ۔ ہمارا ذہن یہ قبول نہیں کر پاتا کہ وہ انسان بچھڑ گیا کیونکہ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں ہوتا کہ ایک دن سب نے بچھڑ جانا ہے ۔ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا ۔پر بات وہی ہے ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں اس زندگی کو کیسے گزارنا ہے کیا کرنا ہے یہی سوچتے ہیں ۔ بہت سے خواب بناتے ہیں اور ان خوابوں کی تکمیل کے چکر میں نہ ہم کو اپنا ہوش ہوتا ہے نہ اپنوں کا ۔ بس زندگی کی دوڑ میں بھاگتے جارہے ہوتے ہیں ۔لوگ اتنا کچھ سامان جمع کر لیتے ہیں میں سوچتی ہوں کیا ہم مرنا نہیں ہے ؟ کیا ہمارا حساب نہیں ہونا؟ زندگی بھی گزاریں اور چھوٹے چھوٹے خوابوں کے ساتھ جئیں ۔ خود بھی ایسے جئیں کہ دماغ میں یہ بات موجود ہو کہ ناں جانے کونسی رات آخری ہو ہر وقت خود کو تیار رکھیں اس زندگی کو بھی گزاریں پر آخرت کا ساماں بھی تیار رکھیں ۔ کیونکہ یہ جائیدادیں بنگلے پیسہ گاڑیاں یہ سب آپکے ساتھ نہیں جانا ۔ بلکہ آپکے اعمال نامہ نے جانا ہے اپنے اعمال بہتر بنائیں ۔ کسی کو دکھ نہ دیں کسی کی بدعا نہ لیں کسی بے گناہ کو نہ ستائیں ۔ کسی کی خوشیاں نہ چھینیں دھوکا اور جھوٹ سے پرہیز کریں۔ سب برائیوں سے بچیں ۔ اللّلہ پاک اور اسکی مخلوق کو جائز طریقہ سے راضی رکھیں ۔اللّلہ پاک سب کو زندگی دی اور ہر چرند پرند انسان کو موت کا ذائقہ چکنا ہے موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا رونما ہونا ہے یہ اللّلہ پاک بہتر جانتے ہیں ۔ اللّلہ پاک سَزا وجَزا کا فیصلہ کرنے والا ہے کیا بویا ہمیں وہی کاٹنا پڑے گا ۔ انصاف کا ترازو ہوگا وہاں !! دنیا نہیں جدھر بے گناہ کے پلے بھی سزائیں ڈال دی جاتی ہیں ۔ پُل صراط وہ راہ ہے جو مشکل نہیں پر اسکے لیے ہمارے اعمال اچھے ہونے ضروری ہیں ۔اللّلہ پاک بخشنے والا ہے اس میں کوئی شک نہیں پر انسان کو بھی چاہیے وہ اپنے اعمال بہتر بنائے اور آخرت کی فکر کرے اپنی زندگی میں ہی آخرت کا ساماں کرلیں ۔خوش رہیں خوشیاں بانٹیں بس کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں ۔ کیونکہ اللّلہ پاک اپنے بندوں کے ایک ایک بہتے آنسو کا حساب رکھتا ہے ۔ 
    @Hu__rt7

  • پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دن با دن پاکستان گرم ترین ممالک میں شامل ہوتا جارہا۔ کیا اپنے کبھی غور کیا اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ اتنی گرمی کی شدت کہیں نا کہیں ہماری اپنی غلطی ہے کبھی سوچا ہے کیا ہے وہ غلطی۔ ہم آئے روز درخت اور پیڑوں کو کاٹتے جارہے ہیں جس سے گرمی میں اضافہ ہورہا ہے جس کا سبب صرف ہم ہی ہیں۔

    ہمارے ملک میں چند سال قبل گرمی کی شدت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتی تھی اور اب اس ملک میں 55 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

    چند سال میں 10 سینٹی گریڈ زیادہ گرمی ریکارڈ ہوئی ہے وہ بھی ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ اس ملک میں شجرکاری کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم لوگ ایسے ہیں درخت کاٹ تو سکتے ہیں فائدے کے لیے لیکن بدقسمتی سے ہم لگاتے نہیں ہے۔

    ملک میں ایسی بہت سے تنظیمیں ہیں جو اج بھی شجرکاری مہم کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ پاکستان Global Warming سے بچ سکیں۔ تمباکو نوشی سے ہماری فضا میں آلودگی آتی ہے اور پھر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیکٹریوں سے آلودہ پانی اور گیس ہوا میں جذب ہوجاتا ہے اور پھر گرمی کی شدت میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے۔

    پاکستان وہ ملک ہے جہاں درخت ہی وہ واحد حل ہے جس سے اپنے ملک کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرسکتے ہیں۔

    زمینین بنجر پڑی ہیں، دریا خالی ہوگئے ہیں جس سے ہمارے ہاں گرمی کا سورج آگ بھڑکاتا ہے۔

    اگر ہمیں گرمی سے خود کو بچانا ہے تو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

    1: گھر کے اندر رہنا اور دھوپ اور انتہائی درجہ حرارت کی نمائش سے گریز کرنا۔

    2: گھر کی سب سے نچلی منزل پر رہنا۔ پیاس نہ لگنے پر بھی کافی مقدار میں پانی پینا۔

    3: ایسے مشروبات سے پرہیز کریں جن میں کیفین شامل ہو۔ ہلکا کھانا کھانا اور بہت زیادہ نمک سے پرہیز کرنا۔

    4: بیرونی کھیلوں کے ایونٹس کو ملتوی کرنا۔ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں کے اندر تنہا نہ چھوڑیں۔

    5: ڈھیلے ڈھالے ، ہلکے وزن اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا جو کہ جلد کا زیادہ تر حصہ ڈھانپ لیتے ہیں۔

    6: چہرے کی حفاظت کے لیے اسکارف یا چوڑی چوٹی والی ٹوپی پہننا۔

    7: سخت کام سے گریز کریں اور دن کے گرم ترین حصے میں کام کرتے وقت بار بار وقفے لیں۔ 

    اگر ہم ان چند چیزوں کا خیال رکھیں گے تو ہم خود کو اور اپنی نسل کو گرمی اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، یہ وہ اہم ترین نقطے ہیں جس کا ہمیں ہمیشہ ہر موسم گرما میں خیال رکھنا چاہے۔

    پاکستان کا سب سے گرم شہر جو کہ سندھ صوبے میں ہے "جیکب آباد” وہ شہر کا نام ہے۔ وہاں ہر سال سخت ترین گرمی پڑتی ہے۔ یہ شہر سندھ اور بلوچستان کے نزدیک ہے۔ پاکستان اور ایشیا کا سب سے گرم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ گرمی فضائی آلودگی اور پانی کی آلودگی اور گیسز کی آلودگی ہر چیز ہمیں اور ہماری نسلوں کو برباد کرنے میں کارآمد ثابت ہورہے ہیں. ہمیں اپنی نسلوں کے لیے اب اٹھ کھڑے ہونا ہوگا کیوں کہ اگر مستقبل محفوظ کرنا ہے بچوں کا تو اس آلودگی سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں ہی تکلیف ہوگی اگئے چل کر تو اس سے قبل ہمیں ایسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔

    انشاءاللہ ایسا وقت بھی آئے گا جس دن پاکستان آلودگی اور ہیٹ ویو سے پاک ہوجائے گا اور پاکستان باقی ملکوں کی طرح ٹھنڈا ملک بن جائے گا جہاں لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا نا زندگیوں کو نا ہی جان کو۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں درخت، پودے لگانے ہونگے اور زہریلی گیس فضا میں پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا اور ہمیں پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کا عزم کرنا ہوگا جس سے پاکستان کا دنیا میں مثبت پیغام جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس ملک میں باہر سے آئیں اور پیارے پاکستان کی سیر کریں۔

    اللہ پاک پاکستان پر اور یہاں کے لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرماتے رہیں اور اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد

    @JaanbazHaseeb

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09

  • قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    ایک دفعہ کا ذکر ہے 

    میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

    @joinwsharif7

  • نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر  تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک۔۔۔ایک مختلف نقطہ نظر تحریر ۔ شفقت مسعود عارف

    نیا سال مبارک کے شور میں حقیقت کہاں دفن ہو جاتی ہے اس کے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں کوئی جوش و خروش سے مبارک دیتا ہے تو کوئی اسے غیر اسلامی کہہ کر تنقید و فتوے جاری کرتا ہے

    مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری دونوں طریقہ پر سال و ماہ  کا حساب رکھا جا سکتا ہے اس کا حوالہ سورہ رحمان میں ہے 

    الشمس والقمر بحسبان

    "سورج اور چاند ایک حساب سے ہیں ” یعنی ان کا سائز، لوکیشن وغیرہ کے ساتھ انکی حرکت کی رفتار اور سمت ایک طے شدہ حسابی فارمولا سے ہے اسی فارمولا کے تحت انکی کسی طے شدہ وقت پر کسی جگہ موجودگی کا بالکل صحیح تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اسی وجہ سے ان سے ماہ و سال کا صحیح ترین حساب بھی کیا جا سکتا ہے

    جیسے اصحاب کہف کا عرصہ خواب قرآن میں ہے ا300 سال اور 9 مزید ۔ یہ بڑا مختلف سٹائل ہے بتانے کا۔ لیکن اس کا ایک خاص مقصد و مطلب ہے شمسی  حساب سے دراصل 300 شمسی سال 309 قمری سال  کے برابر ہوتے ہیں جیسے ایک شمسی سال 365.2422 دن کا ہوتا ہے جبکہ ایک قمری سال 354.367 دن کا ہوتا ہے

    اب شمسی سال کو 300 اور قمری سال کو 309 سے ضرب دیں تو دونوں کا حاصل ضرب برابر آتا ہے

    مگر یہاں معاملہ شمسی سال جسے عیسوی سال کہتے ہیں یا قمری سال جسے اسلامی سال کہتے ہیں کی تعداد یا گنتی کا ہے جس کی بنیاد پر نئے سال کی مبارک کا غلغلہ اٹھتا ہے 

    جنوری فروری وغیرہ عیسوی مہینوں کے اپنے نام نہیں بلکہ یہ نام تو گریگورین کیلنڈر سے یونانی دیوی دیوتاؤں کے نام پر پہلے سے چلے آ رہے تھے سال کی شمسی گردش کو 12 پر تقسیم کر کے یہ نام رکھے گئے تھے 

    چونکہ سینٹ پال نے جلا وطنی کے کئی سال یونان میں گزارے اسلئے وہ نا صرف وہاں کے بت پرستوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر ہوا جہاں سورج دیوتا، سورج کا بیٹا اور سورج کی بیگم صاحبہ کی خدائی کا تصور تھا اس پر قسطنطین نامی بادشاہ نے جس نے عیسائیت قبول کر لی تھی اور اس کی ترویج کا فیصلہ کیا تھا انہی مہینوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا

    لیکن اگر یہ سن عیسوی پر منطبق کریں بھی تو عیسائی 25 دسمبر کو عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش مانتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بائبل اور قرآن سے غلط ثابت ہوتی ہے تاہم اس بحث میں پڑے بغیر بھی اگر دیکھیں تو  پھر عیسوی سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہے تو یہ سال 25 دسمبر پر ختم اور شروع ہونا چاہئے جو کہ نہیں ہے 2017 سال اگر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے حساب سے ہو تو وہ تو 25 دسمبر کو ہوئے 31دسمبر کو نہیں اس لئے عیسوی نیا سال یکم جنوری کو تو بنتا نہیں

    اسی طرح قمری سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور سال ہجری رسول اللہ کی ہجرت سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے اسلامی سال بھی کہتے ہیں

    مگر حقیقت یہ بھی بالکل ایسے نہیں ہے کیونکہ ہجرت کا آغاز 26 صفر / 16 جولائی کو ہوا اور یکم ربيع الأول  کو آپ غار ثور سے مدینہ روانہ ہوئے جبکہ قمری مہینے محرم صفر پہلے سے چلے آ رہے تھے اور حج اور تمام حساب انہی مہینوں سے چلتا تھا بلکہ اگر یاد کریں تو ایک طریقہ عربوں میں نسی چلتا تھا جس کے تحت وہ انہی مہینوں کی ترتیب آگے پیچھے کر لیتے تھے چار ماہ تب بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں جنگ و جدل منع تھا اور عرب اپنی جنگوں کیلئے فرض کر لیتے تھے کہ یہ مہینہ محرم نہیں بلکہ صفر ہے اور کسی اور مہینے کا نام محرم رکھ لیتے تھے لیکن مہینوں کے نام یہی تھے  

    اب دیکھیں جب یہ کہا جاتاہے کہ 1438 سال ہجرت کو ہو گئے تو درحقیقت ایسا مکمل درست نہیں ہوتا اس میں دو ماہ کی گنتی کا فرق ہوتا ہے 

    یوں نیا سال مبارک کہنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ آپ خواہ مخواہ ایک جھوٹ کو جوش و خروش سے منا رہے ہیں اگر آپ عیسوی یا اسلامی سال سمجھ کر مبارک سلامت کر رہے ہیں تو بس شغل ہی ہے البتہ اگر تعداد کے چکر میں پڑے بغیر آپ شمسی یا قمری سال کے آغاز کی بات کر رہے ہیں تو چل جائے گا

    ایک اور ہات یاد رہے سورج و چاند کے چکر کے مقام آغاز کیا ہے ہمیں نہیں معلوم ۔ یہ آغاز و اختتام بھی ہم نے طے کئے ہیں ہو سکتا ہے یہ آغاز دراصل موسم گرما کے کسی مہینے میں ہوتا ہو جیسے جون میں جب دن بڑے اور گرم ہوتے ہیں کیونکہ سوچیں شمسی نظام اور اس میں زمین جب وجود میں آئے تو درجہ حرارت زیادہ تھا تو کیا پتہ آغاز کا وقت دراصل تب ہوتا ہو جسے ہم اس چکر کا وسط کہتے ہیں

    لیکن اس میں ٹینشن کی کوئی بات نہیں جیسا سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں بس سورج اور چاند کی گردش کو مذہبی جھگڑوں سے نکال دیں یہ اللہ کی تخلیق ہماری سہولت، سمجھ اور تحقیق کیلئے ہیں

  • دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

    برطانوی خاتون نے دو کبوتروں کو گود لیا ہے جن پر سالانہ 4000 برطانوی پاؤنڈ (نو لاکھ روپے) خرچ کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کبوتروں کو غذائیت بخش مہنگے کھانے کھلائے جاتے ہیں الگ کمرہ ہے اور پیمپر نما کپڑوں کی الماری بھی ہے۔ دونوں کے لیے نرم بستر ہیں اور سیر کے لیے بچوں جیسی گاڑی بھی خریدی گئی ہے۔

    ہارر فلمیں دیکھیں اور لکھ پتی بن جائیں

    موس اور اسکائی نامی پرندوں پر ان کی مالکن میسی بے تحاشہ رقم خرچ کرتی ہیں اور انہیں سیر کرانے کے لیے بچوں کو لے جانے والی خاص اسٹرولر گاڑی بھی تیار کی گئی ہے 23 سالہ خاتون میگی کو دونوں کبوتر ان کے گھر کے پاس ملے تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔

    میگی کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے نلکیوں اور ہاتھ سے کھانا دیا اور کئی روز تک دونوں پرندوں کا خیال رکھا گیا اب یہ پرندے ان کے دوست بن چکے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اب یہ دونوں پرندے ایک شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں ان کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور کبوتروں کو ڈھیروں تحفے ملتے ہیں۔

    دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    میگی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگلی کبوتروں کو پرواز کرتے ہوئے چوہے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے پرندوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھاتے رہتے ہیں تاہم میگی کا خیال ہے کہ یہ پرندے بھی کسی دوسرے جانورکی طرح پیارے ہیں اور ان سے محبت کی جانی چاہیئے۔

    میگی نے دونوں پرندوں کے لیے الگ الگ کمرے بنائے ہیں جہاں ان کے کپڑے، کھلونے ، پیمپر نما قیمتی پوشاک اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ ہرپرندے کے لیے دو درجن سے زائد کپڑے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کی قیمت 40 سے 50 ڈالر تک ہے۔

    میگی کے مطابق شام کو وہ تھوڑی دیر پرواز کرتے ہیں اور تازہ ہواخوری کے بعد دوبارہ ان کے پاس آجاتے ہیں شام میں انہیں سیر کے لیے باہر بھی لے جایا جاتا ہے جس کے لیے شاہانہ پردوں والی خاص گاڑی بنائی گئی ہے۔

  • بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

    مازیار بن قارن رئیس طبرستان عبدالّٰلہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا ۔ اُس کے اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ۔ مازیار نے کہا کہ میں براہِ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا ۔ لیکن عبدالّٰلہ بن طاہر کو ادا نہ کروں گا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقارِ گورنری کے خلاف سمجھ کر ناپسند کرتا تھا ۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہِ راست دارالخلافہ میں بھیجتا ۔ اور وہاں سے عبدالّٰلہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ 

    جنگِ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیۓ نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا ۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ ( علاقہ ترکستان ) کو روانہ کردیتا تھا ۔ 

    یہ سامان جو آذر بائیجان سے بھیجا جاتا تھا ۔ خراسان میں ہو کر گزرتا تھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامانِ رسد ، سامانِ حرب اور روپیہ بھجوا رہا ہے تو اُس کو شُبہ ہوا ۔ اُس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ اور تمام سامان اور روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیۓ ہوۓ جا رہے تھے ۔ میں نے اُن کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ہے ۔ کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا ۔ لیکن اُن کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوۓ ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے ۔

    اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کر اُن لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ مگر جو سامان اُن سے چھینا تھا وہ نہیں دیا ۔ اس امر کی ایک خفیہ رپورٹ عبدالّٰلہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا ۔ 

    حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیۓ وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا ۔ جب افشین جنگِ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اُس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقع مل جاۓ گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیۓ بخوبی تیاری کر سکوں ۔ لیکن خلیفہ معتصم نے اُس کو ارمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور اُمیدِ خراسان کا خون ہو گیا ۔

    اس کے بعد ہی جنگِ روم پیش آ گئی افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اُس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالارِ اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا جو اپنے آپ کو افشین کا مدِ مقابل اور رقیب سمجھتا تھا ۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے خلاف مقابلے پر اُبھارا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :۔

    ” دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے بابک بھی اسی دین کی حمایت میں کوشاں تھا ۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا ۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی ۔ اس وقت بھی ایک زریں موقع حاصل ہے وہ یہ کہ تم علم مخالفت بند کر دو ۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیۓ میرے سوا یقیناً کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے ۔ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائینگے ۔ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ ۔ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آۓ گا ۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے ان کے مقابلہ کے لیۓ ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا ۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کُچلو ۔ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا اُبال ہے ۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے۔”

    مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامانِ حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تیار ہو بیٹھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا ۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبدالّٰلہ بن طاہر کی امداد کے لیۓ فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا ۔ مگر افشین کو اُس طرف جانے کا حکم نہیں دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبدالّٰلہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے اُس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اُس کو جیل خانے بھیج دیا ۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے ۔ مازیار کے پاس سے برآمد ہوۓ ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے ۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا ۔ یہ واقعہ سنہ ۲۲۴ کا ہے ۔

    منصور احمد قریشی ( اسلام آباد )

    Twitter Handle : ‎@MansurQr

  • ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

    ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

     

    لفظ ہی ایسا ہے جس کا نام سنتے ہی ایک منفی احساس پیدا ہوتا ہے دنیا کا کوئی ہی ملک یا مذہب ایسا ہوگا جس نے منشیات کے استعمال پر پابندیاں عائد نہ کی ہوں گی باوجود اس کے دنیا میں لوگوں کی ایک ایسی بڑی تعداد موجود ہے جو اس لعنت کے استعمال کا شکار ہے اور اس میں مرد و زن دونوں شامل ہیں جو بھی منشیات کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے وہ پھر جنونی حد تک اسکی طرف مائل نظر آتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی اجیرن بنا دیتا ہے 

    ایسے بے بس اور لاچار ماں باپ بہن بھائی اور بچے میں نے  خود دیکھے ہیں جن کا بیٹا بھائی یا باپ نشے کے استعمال کا شکار تھا جس نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی جس نے خاندان اور معاشرے میں اپنا مقام گرتا دیکھا جس نے اپنے سامنے اپنے بیوی بچوں کی زندگی کو جہنم ہوتے دیکھا اور جس نے معاشرے کی حقارت بھری نظروں اور طعنوں کا بھی سامنا کیا مگر اس سب کے باوجود وہ نشے کی زنجیروں کو توڑ نہ سکا اور موت کے گھاٹ اپنے ہی ہاتھوں اترا میں نے دیکھے ہیں ایسے خاندان اور ایسے بچے جن کا بچپن جن کی جوانی اور حتی کہ بڑھاپا بھی اس ذلت کے طوق کو انکے گلے سے نا اتار پایا کہ یہ تو ایک نشئ کا بیٹا/بیٹی ہے جانے کون سا وہ شخص تھا جس نے اس خباثت کو ایجاد کیا

    دنیا میں آج تک کوئی ملک ایسا قانون یا طریقہ نہیں نکال پایا جس کے نافذ کرنے سے منشیات کا دنیا سے خاتمہ ہو سکے سوائے مذہب اسلام کے اسلام نے شراب کو تمام "جرائم کی ماں” کہا حتی کہ ایک شراب ہی نہیں بلکہ جملہ نشہ آور اشیاء کو ہی حرام قرار دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسکی سزا "حد” مقرر کی 

    جب اسلام نے اس قدر سختی برتی تو پھر کیوں نام نہاد اسلامی ممالک میں بھی اسکی روک تھام نہ ہوسکی کیوں قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات معافیا کے سامنے اسقدر کمزور  اور بے بس دکھائی دیتے ہیں یہ معافیا منشیات کے بنانے سے لیکر اسے بآسانی فروخت کرنے تک آزاد ہیں  ابھی تک اس رؤے زمین پر دو ہی ایسے شہر ہیں جو اس لعنت سے پاک ہیں اور وہ ہیں ‘مکہ مکرمہ’ اور ‘مدینہ منورہ’ جہاں منشیات کی ہوا تک کا گزر نہیں اور یہ مقدس ترین زمینیں اسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں 

    کتنے

    شرم کی بات ہے کہ آج کے اسلامی ممالک میں منشیات ہر مرد و زن بچے بوڑھے کے لیے بآسانی دستیاب ہیں ہر سکول کالج یونیورسٹی میں یہ معافیا نسلیں خراب کرنے کی خاطر پہنچ چکا ہے عوام کے ٹھیکیدار ایک ایک اڈے سے وقف ہیں اور ایک ایک سہولت کار کو جانتے ہیں مگر افسوس قانون کے ہاتھ اور زبانیں دونوں منشیات معافیا نے خرید رکھی ہیں میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیے جائیں اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کو اسلامی قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں 

  • قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان حاصل کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں
    درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا شروع کردیا گیا تھا کہ ان کا جینا مشکل ہوچکا تھا مسلمانوں کو تصب کی نظر سے دیکھا جاتا تھا حتٰی کہ حالات یہاں تک تھے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انتہا پسند ہندؤں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا ایک انگریز رپورٹر نے برصغیر کے دورے کے بعد اپنے سفر کے حالات یوں بیان کئیے
    "میں جس گلی سے میں جاؤں وہاں مسلمانوں کا خون نظر آتا تھا جہاں مسلمان نظر آتا اسے ذبح کردیا جاتا ”
    نہ بچوں کو دیکھا گیا تھا بوڑھوں کو نہ خواتین جو بھی مسلمان ہوتا اس کا گلا کاٹا جاتا
    آج بھی یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم کیا گیا انگریزوں اور ہندؤں نے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا اور تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا
    مسلمان اپنا ایک الگ ملک چاہتے تھے جہاں مذہبی آزادی ہوتی اس مسئلے پر بہت سارے مسلمان لیڈروں نے اپنی خدمات سرانجام دیں مسلمانوں کو تعلیم کی ترغیب دی اس میں سر سید احمد خان پیش پیش رہے
    اس کارنامے میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (شاعر مشرق) کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں نئے وطن کا خواب دکھایا اور اپنی پرتاثیر شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے جذبے بھی خوب بلند کئیے
    اور پھر آگے مرحلہ آیا اس خواب کو تکمیل تک لانے کا اس عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئیے الله تعالٰی نے قائداعظم جیسے عظیم لیڈر کو چُنا انہوں نے انتھک محنت،بلند حوصلہ ،بہادری اور پختہ اراده کرنے جیسی اپنی اعلٰی شخصیت اور دور نظری کے ذریعے اس عظیم کارنامے کو سرانجام دیا جب پاکستان بننے والا تھا اور آخری مراحل میں تھا تو قائداعظم محمد علی جناح کو ٹی ۔بی (T.B) نے اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے حوصلے کو کوئی چیز پست نہ کرسکی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ڈاکٹر کو سختی سے منع کردیا کہ وه ان کی بیماری کو راز رکھے تاکہ ان کی بیماری کسی کام پر آڑے نہ آئے
    اس سلسلے میں ان کی بہن فاطمہ جناح نے بھی ان کا خُوب ساتھ دیا ان کے شانہ بشانہ کام کیا گھر گھر جاکر عورتوں کو ترغیب دی آخر وقت آ ہی گیا قائداعظم کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی محنت قربانیاں رنگ لے آئیں اور 14 اگست 1947 کو دُنیا کے نقشے پر کلمے کے نام پر بننے والا ہمارا پیارا پاکستان نمودار ہوا ہر طرف خوشی کی لہر تھی
    لیکن پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم محمد علی جناح کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی اور 11 ستمبر 1948کوقائداعظم محمد علی جناح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    اس کے بعد جب بیماری کی خبر عام ہوئی تو جس انگریز نمائندے نے،جس کانام لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا اس نے بیان میں کہا کہ
    "اگر مجھے پتہ ہوتا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 1948 میں فوت ہوجانا ہے تومیں تقسیم کے عمل کو مزید طویل کردیتا اور پاکستان کبھی بھی دنیا کے نقشے پر نہ آتا”
    قصہ مختصر پاکستان بنا لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کے وقت قربانیاں دیں اس ظلم کی الگ داستان ہے
    آج پاکستان نے اپنا مقام حاصل کرلیا ہے آج دُنیا کی بڑی بڑی ایٹمی قوتیں پاکستان سے بات کرنے سے پہلےسوچتی ہیں
    اور ان حالات میں جب پاکستان کو سب لیڈر کھوکھلا کررہےتھےاپنے مفادات کی بنا پر ،اللہ تعالٰی نے پاکستان کو عمران خان جیسا عظیم لیڈر عطا کیا جو کہ پاکستان بنانے والوں کی طرح پاکستان کی خوشحالی کے لئیےاپنی ذات کی فکر کئیے بغیر دن رات محنت کررہا ہے اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئیے کوششیں کررہا ہے تاکہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی دنیا میں عزت ہو
    الله تعالٰی پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
    @Naseem_Khera