Baaghi TV

Category: متفرق

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ ایک کامیاب انسان اور بطور خاص کامیاب لکھاری کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک جاندار کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

        دراصل مطالعہ ایک نشہ ہے اور جو کوئی اس نشے کا عادی بن جاتا ہے پھر وہ مطالعہ کے بغیر نہیں رہ سکتا،یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ ہماری اکابر واسلاف کی زندگیوں میں ہمیں اس کا واضح عکس ملتا ہے۔کہ وہ بعض اوقات مطالعے میں اس قدر منہمک ہوجاتے کہ پھران کو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں وہ مکمل مستعرق ہوجاتے۔اسی مطالعے کی استعراق میں امام مسلم رح نے ایک مرتبہ اتنے زیادہ کھجور کھائی کہ ان کی معدے نے اس کی گرمائش برداشت نہ کی، چنانچہ اسی سے وفات پائی۔

              لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ میں مطالعے اور کتب بینی کا یہ ذوق تیزی کیساتھ زوال پذیر ہیجس کی وجہ سے ہم اپنے عظمت رفتہ سے دور ہوتے جارہے ہیں بقول شاعر مشرق رح 

    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا نے زمین پر اسمان سے ہم کو دے مارا

         کتب بینی کی عادت وشوق نے ہمیں علوم وفنون سے بہت دور کردیا۔مغرب نے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے انتظارگاہوں تک میں لائبریریاں قائم کیں اس لیے وہاں روز بروز نت نئے تجربات مختلف میدانوں سے آرہے ہیں۔

    مطالعہ کرنا سب سے بڑھ کر کتاب ایک بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کا شوق اور محبت جس کسی کو لگ جائے تو وہ تنہائی کو اپنے لئے ایک نعمت سمجھتا ہے۔

    کتاب بہت عجیب قسم کا دوست ہے. یہ انسان کو بھی ہنساتا ہے اور کبھی رلاتا ہے۔

    یہ کتاب ہی ہے جس کا مطالعہ اگر ایک طرف ہمیں اپنی روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ یہ کتاب ہی تو ہے جو ایک طرف  ہمیں غیروں کے مظالم کی گواہی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ کتاب ہی ہے جو کہ اپنائیت کے ناطے امت مسلمہ سے شکوہ کنا نظر آتی ہے۔ 

    کتاب ہمیں نیک وبد کی تمیز سکھاتی ہے۔ ہم ایک اچھی کتاب کو ایک بہترین استاد کی زیر نگرانی پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات معلوم کرسکتے ہے۔اسی طرح ہم سرور کائنات خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سنت سے باخبر ہو سکتے ہے۔

    دنیا میں کتاب سے دوستی کرنا ہے تو اس کی دوستی آپ کے دل کو ایسے روشنی عطا کردیتے ہے۔ جس سے زندگی بھر آپ اس روشنی سے لطف اندوز ہونگے۔ اس کی جتنا بھی مطالعہ آپ کریں۔ اتنا ہی آپ کی کتاب سے دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیگی۔

                       انسان جب کتاب سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اپنا دوست بناتا ہے تو کتاب کی دوستی انسان کو اپنی صحیح منزل دکھا کر راہ راست پر لاتا ہے۔ خواہ وہ دنیاوی ہو یا اخروی دونوں میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں آج کل بڑا ہو یا چھوٹا کتاب سے تعلق اور اس میں مطالعے کی رحجان پایا جاتا ہے۔ اس نے کتابوں سے دوستی کرکے اس سے اپنے لیے دنیاوی راستے کھول دیے ہیں۔ وہ پستیوں کی راہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے ہیں، صرف اور صرف وہ مطالعے کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔

               بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوستی کرنے اور مطالعے کے شوقین افراد کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اگر ہم نے کتابوں کی سے دوستی قائم کرلی۔ پھر ہم کتاب کی مطالعہ کئے بغیر اپنے آپ کو نامکمل سمجھے گے۔ یہ ہمیں اپنا منزل بتاتے ہیں کہ کیسے آپ اس پستیوں کی تاریک ظلمتوں سے نکل کر اپنی بلند وبالا منزلوں کی طرف جانا ہے۔

                کتاب کی ہر ایک لفظ ہم کو نئے نئے سوچ دیکر علم کے خزانے ہمارے لئے کھول دیتا ہے۔ کتاب ہی ہمیں مشرق سے لیکر مغرب تک، شمال سے لیکر جنوب تک سارے حالات بیان کر کے ہمیں اندھیروں سے نکال کر، اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے. قلم وکتاب سے رشتہ قائم کرنا ہی ہمیں ہمارے اقدار و عظمت کے مینارے دکھاتا ہے۔ کتاب کے بغیر ہماری زندگی میں لطف نہیں ہوگی۔

    اگر مطالعے کے لیے  اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب نہیں کیا گیا تو یہی کتاب بعض اوقات آستین کا سانپ بھی بن سکتا ہے۔مثلاً مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر ایک انسان دین اسلام کا بن سکتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ کتب کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔

         مختصراً یہ کہ مطالعہ ہی ایک ادنیٰ انسان کو معراج تک لے جاتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنے والا شخص قوموں کی تاریخ وثقافت،رسوم ورواج اور تہذیب  کامیابی وکامرانی سے باخبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں اسی انداز سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کتاب اچھے برے میں تمیز کراتے ہیں، اور مطالعہ کرنے والا بندہ تنہائیوں سینہیں گھبراتا بلکہ تنہائی کو یکسوئی سمجھ کر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔

    Twitter | @AdnaniYousafza

  • پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ   تحریر محمد عثمان

    پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ تحریر محمد عثمان

    اندرون سندھ ضلع سانگھڑ تحصیل شہدادپور ٹنڈوآدم روڈ پر واقع ( پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ) 100 سالہ پروجیکٹ ۔ آج سے آٹھ سال قبل دریافت ہونے والا (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ نہ صرف شہدادپور ، بلکہ ملک پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری باب ثابت ہوگا ۔ اس پروجیکٹ کے ساتھ 13مختلف چھوٹی Sui کا لنک جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی 23 مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کا لنک بھی اس پروجیکٹ سے ملا ہوا ہے جو روزانہ ایک بلین کیوبک فِٹ (BCF) گیس پیدا کرتا ہے اور مُلکِ پاکستان کی 22 فیصد گیس(SSGCL) اس پروجیکٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ کو چین  کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس(PPL) پروجیکٹ میں 1793 لوگ ملازمت کرتے ہیں ۔ ضلع سانگھڑ کا شمار سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے ضلع سانگھڑ کے لوگوں کی بڑی تعداد غریب طبقے سے ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا آمدن ذرائع زراعت سے منسلک ہے اور یہاں کے لوگ محنت مزدوری کھیتی باڑی سے گزر بسر کرتے ہیں تو ایسے میں یہ (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ ایک امید کی کرن بن کر آیا تھا کہ اب یہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہوجائے گی 

    اب یہاں  کے لوگ کی بنیادی ضروریات سڑکیں، گٹر لائن، گلیوں، جیسے مسائل بھی حل ہوجائے گے اور یہاں کے لوگوں کو ملازمتیں بھی میسر ہونگی. لیکن ہوا کچھ بھی نہیں سارے مسائل ساری امیدیں خام خیالی ہی ثابت ہوئی.

    اس(PPL) پروجیکٹ کے 1793 ملازموں میں سے صرف 10 فیصد لوگ ہی ضلع سانگھڑ سے لیے گئے ہیں ۔ وہ  بھی حسبِ روایت سفارشات اثروسوخ رکھنے والے لوگ ہیں غریب لوگوں کی زندگیوں میں کوئی آسانی نہیں آئی جو حقوق تھے سانگھڑ کے  لوگوں کے وہ نہیں دیے گئے ۔  پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ بات آئین میں ہے کہ جس جگہ بھی تیل گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے تو اس جگہ یا شہر کے لوگوں کے لیے گیس بجلی فری ہو جاتی ہے اس شہر کی سڑکیں ودیگر تعمیراتی کام کیے جاتے ہیں ۔ اعلی تعلیم کے لیے اسکالر شپ دی جاتی ہے اور زیادہ تعداد میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں مگر یہاں تو سانگھڑ، شہدادپور اور ٹنڈوآدم کے لوگوں کے حقوق دفن کر دیے گئے ان لوگوں کو گیس نہ بجلی اور نہ ہی ملازمتیں دی گئی اگر چند ملازمتیں

    دی گئی وہ بھی صرف وڈیرہ شاہی امیرکبیر سفارشات  کی بنا پر ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانگھڑ شہداد پور اور ٹنڈو آدم کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار  ہیں ان نوجوانوں کو علاقائی کوٹا کی بنیاد پر میرٹ کو مدِ نذر رکھ کر ملازمتیں دی جاتی  ۔   لیکن ہوا یہ کہ اس پروجیکٹ میں ملازمت اسی کو ملی جس کا تعلق وڈیروں سے تھا یا کسی سیاسی جماعت سے تھا۔ مقامی  پڑھے لکھے بیروزگار لوگوں کے حقوق یہاں بھی دفن کر دیے گیے ۔ 10 فیصد چائنہ اور باقی 80 فیصد لوگ سانگھڑ سے باہر صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کی طرف سے لیے گئے ہیں ۔ یہ سراسر نا انصافی ہے مقامی  بےروزگار غریب لوگوں کے ساتھ۔ یہ تو صرف (PPL) کے بارے میں ہورہا ہے. اس کے علاوہ بھی اسی طرز  کے کئی پروجیکٹس سانگھڑ میں چل رہے ہیں اور مختلف گورنمنٹ کے اداروں میں بھی یہی سفارشی کلچر عام ہے ۔ چاہے پھر وہ بلدیاتی ، ادارہ ہو یا گورنمنٹ اسکول و کالج ،  یا گورنمنٹ  ہاسپٹل ۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں تو سفارشی کلچر اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہاں نرسنگ میں ان پڑھ لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں ۔ ان کو انجکشن تک لگانا نہیں آتا ہے ۔ کیا یہ سراسر لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں  ۔میری وزیراعظم صاحب سے  درخواست ہے کہ اندرونِ سندھ میں جو نوجوانان کی حق تلفی ہو رہی اس پر نظرثانی کریں اور اندرون سندھ میں اتنے تیل اور گیس کے ذخائر نکلنے کے باوجود بھی سندھ کے حالات ایسے ہیں خاص طور پر سانگھڑ کے  غریب لوگوں کو ان کا حق دیا جائے  ۔ ملک پاکستان کی بہتری انصاف میں ہیں غریب طبقے کی فلاح وبہبود میں ہے۔ آج مسلمان اسی وجہ سے پیچھے ہیں کہ ہم نے انصاف کے دامن کو چھوڑدیا ہے۔ جب مسلمانوں نے 700 سال تک حکمرانی کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ دوسرا وہ انصاف پسند تھے وہ انصاف کرتے تھے چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ انصاف کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے 700 سال تک حکمرانی کی ۔ اگر ہم ملک کی بہتری اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بھی انصاف کرنا ہوگا ۔ اس انصاف کی وجہ سے ہم نہ صرف غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکال سکتے ہیں بلکہ اس ملک پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں  کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔

    Twitter @Usmankbol

  • دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    امریکا میں 30 سالوں سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پینگوئن "موچیکا ” 31 سال کی عمر میں دنیا کو چھوڑ گیا پینگوئن کو عمر کی وجہ سے اپنے آخری وقت میں بینائی کا مسئلہ درپیش تھا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق "موچیکا ” کی ایک آنکھ میں موتیا اتر آیا تھا اور دوسری آنکھ بڑھاپے سے کمزور تھی لیکن سب سے بڑھ کر وہ چلنے سے بھی معذور ہو چکا تھا جب اسے تکلیف سے نجات نہ مل سکی تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اسے پرسکون موت دینے کا فیصلہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق چڑیا گھر اور ایکوریم میں رہنے والے پینگوئنز میں سے یہ دنیا کا سب سے بزرگ نر پینگوئن تھا 1990 میں اپنی پیدائش کے بعد ہی موچیکا نے لوگوں سے پیار کرنا شروع کردیا وہ لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا اور دوسرے پرندوں کی بجائے انسانی ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے ساتھ رہنا پسند کرتا تھا۔


    لیکن اچانک اس کی صحت بگڑنے لگی ، اسے ادویات دینے کے ساتھ ساتھ لیزر تھراپی سے بھی گزارا گیا لیکن اس کی تکلیف کم نہ ہو سکی۔

    وائلڈ ہمبولڈ پینگوئنز عام طور پر 20 سال کی عمر کے بعد زندہ نہیں رہتے۔ اخبار کے لیے خبر چڑیا گھر سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، موچیکا برسوں کی "سست روی” کے بعد عمر سے متعلقہ کئی بیماریوں میں مبتلا تھی۔ عملہ اسے آرام دہ اور پرسکون اقدامات فراہم کر رہا تھا جیسے روزانہ میلوکسیکم کی خوراک ، ایک غیر سٹیرایڈیل اینٹی سوزش والی دوا ، اس کا پائیدار سمندری غذا ناشتہ اور لیزر تھراپی سیشن۔

    اوریگن چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق موچیکا کی موت کے بعد بھی ان پرندوں کو بچانے کی عالمی کوششیں جاری رہیں گی اس وقت ہمبولٹ نسل کے پینگوئن کے صرف 12000 جوڑے ہی بچے ہیں جو پیرو اور چلی کے ساحلوں پر پائے جاتے ہیں۔

  • بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    ورلڈ بنک کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالوں میں بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی کی سکتی ہے مگر افسوس کی بات یہ کہ دن بدن بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اور ترقی یافتہ ممالک
    میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہےہمارا پاکستان بھی اس مجبوری کی زد میں ہےمعاشرے میں بے روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں اس سے فاقہ طاری ہونا ، بیماری پھیلتی ہے
    پاکستان کے نوجوان طبقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ہمارے وطن ِمیں بے روزگاری کا دور دورا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب لوگ زندگی سے تنگ اور خاندان کے بوجھ سے تنگ آ کر خودکشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔جس کی وجہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اچھے پڑھے لکھے نوجوان ایسے جرائم میں ملوس ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے لئے ایک بد نما داغ بن جاتے ہیں جرائم کی شرح دیکھی جائے تو پڑھے لکھے نوجوان کا تناسب نظر آئے گا یا وہ جن کو نوکریاں نہیں ملتی بوجھ بھی آج کل جس طرف دیکھا جائے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئی جائے تو کئی نوجوان نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اچھی ڈگری لے کر بھی جام کی تلاش میں دربرد کی ٹھوکرے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا لیبل سجائے باہر آتے ہیں۔ اور نوکری کی تلاش میں رہتے ہیں کچھ نوجوان تو اپنی ڈگری سے نچلی سطح پر جام کرتے نظر آتے ہیں کچھ نوجوان دل برداشتہ ہو کر ایسے کام کرنےپر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے خاندان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

    کچھ نوجوانوں کے روزگار نا ملنے کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے رہیتے ہیں اور پھر کسی چھوٹے موٹے کاروبار یا درمیانے درجے کی ملازمت کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔ خواہ مخواہ اپنے معیار کو اونچا کرکے کئی ایسے موقعے نوکریوں کو بھی ضائع کردیتے ہیں یہ کہے کر یہ ہمارے معیار کی نہیں ہے”بہت اچھے“ کی تلاش میں” کچھ اچھے“ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مایوس نوجوان زندگی کی کئی دور میں پیچھے رہے جاتے ہیں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور بے روزگاری ختم کرنے لئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ بے روزگاری کے باعث غربت جنم لیتی ہے اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کی وجہ سے پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہےبے روزگارسے انسان کو شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہوجاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کرسکتا تو اس سے اچھے اور برے کی تمیز کھو دیتا ہے اور ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ بیانک ہوتا ہے غربت اور بے روزگاری ایک ریاست کی سب بڑی کمزوری اور نا اہلی سمجھی جاتی ہے جو ملک نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو پھر اور کیا کرے گا یہی حال ہمارے ملک کا ہے بس وعدے کئے جاتے ہیں روزگار نہیں۔ بیروزگاری اچانک ہی نہیں امڈ آتی۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ وجوہات ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں انفرادی طور پر دور کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ صرف حکومت ہی ہےجو نوجوانوں کو ایسے عوامل پیدا کرے جس سے وہ کام پر لگ سکے سرکاری سطح پر ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات کر سکتی ہے

    نوجوانوں کو چاہئیے کہ یہ صبر کا دامن تھامے رکھے اور اللّٰہ تعالٰپر یقین رکھتے ہو ئے یہ سوچے کہ رزق کا دروازہ اللہ ضرور انشاءاللہ کھولے گا۔ ہمارا ملک تبی ترقی کر سکتا ہے جب زیادہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور وہ اچھا کام کر کے اس ملک کی خدمت کر سکے گئے ہم بس دعا کر سکتے ہیں ہمارے ملک سے ایک بار بے زورگاری کا خاتمہ ہوجائے پھر ہی غربت میں کمی ممکن ہے پھر کوئی انسان بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیاں نہ کرے ۔
    email saima.arynews@gmail.com

  • سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر:  راحیلہ عقیل

    سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر: راحیلہ عقیل

    کچھ سال پہلے تک سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا لوگ صرف ضرورت کے تحت اسکا استعمال کرتے تھے آج ہر ہاتھ میں موبائل ہو اور اس میں سوشل میڈیا کااستعمال نا ہو ناممکن سی بات ہے اناڑی سے اناڑی بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے گیانی بنے ہوتے ہیں تیزی سے ترقی کرتے دور میں جہاں ہر انسان خود کی پہچان بنانے کے لیے خود کو منوانے مقبول کرنے کے لیے اس کوشش میں رہتا ہے جو بھی خبر ویڈیو وائرل ہو پہلے ہمارے اکاؤنٹ سے ہوجاے ہمارے لائکس،فالورز بڑھ جائیں ہمارا نام ہوجاے چاہے پھر وہ خبر جھوٹی ہو یا نازیبا ویڈیوز ہر شخص خودنمائی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ وقت ہی ایسا ہے یہاں گھروں میں ایک دوسرے کو ٹائم دینے کے بجائے کوشش ہوتی جلد از جلد کام ختم کرکے سوشل میڈیا پر وقت گزارا جائے گھروں میں بے سکون، وقت نا دینے کی شکایت، تعلیم پر توجہ نا دینا، کھانے پینے صحت کا خیال نا رکھنا، نیند پوری نا کرنا، یہ سب سوشل میڈیا کی مہربانی ہے ہم اس قدر عادی ہوچکے ہیں کے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے وقت ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کے ہم اپنی نسلوں کو کیا ترغیب دے رہے ہیں یہی تو سیکھ رہے ہم سے بچے اور پھر ہم ہی شکایت کررہے ہوتے ہیں کے بچے بدتمیز ہورہے ہیں بات نہیں سنتے ہم نے ہی تو بچوں سے جان چھڑانے کے لیے انکے ہاتھوں میں موبائل دیے ہیں بچوں کو جس وقت کتابوں کی ماں باپ کی توجہ کی گھومنے پھرنے، لاڈ پیار کی ضرورت ہوتی ہم نے ساری زمہ داری ایک موبائل دلا کر پوری کردی ؟ سوچیے …….

    سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کا گند

    بہت سارے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال سیاسی طور پر کرتے ہیں وہ جماعت کی خوبیاں اور مخالف جماعتوں کی خامیاں گنواتے تھکتے نہیں، کافی بار سنا کے کچھ جماعتیں پیڈ ٹیمز سے کام کرواتی ہیں،گالیاں ، الزامات، دھمکیا، فوج مخالف بیانہ، یہ اکثر جعلی اکاؤنٹس سے ہوتا یا پھر دوسرے ممالک میں آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سکون سے فل اے سی روم میں بیٹھے لوگ یہ کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں ظاہر ہے انکو ڈر خوف تو ہوتا نہیں، پیچھے رہ جاتے ہمدرد کارکنان وہ سارا دن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں ہر طرح سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتے کے کیسے اپنے رہنما کو پارسا ثابت کریں
    میرا ایک سوال ہے ان کارکنان سے ہمدردوں سے
    خدا نا کرے آپ مر گئے آپ کے جنازے پر آپکے رہنما آئیں گے؟ یا وہ دوست آپکے دکھ پریشانی میں آپکو حوصلہ دینگے ساتھ دینگے جن سے آپ سارا دن لڑائیاں کرتے ہوں اپنے رہنماؤں کے لیے ؟ خود فیصلہ کرلیں۔۔۔۔۔۔۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
    آج کے دور میں سوشل میڈیا پاور ہے یہاں دس منٹ میں کسی کے ساتھ ہوئے ظلم پر آواز اٹھاکر حکمرانوں کو جگایا جاتا ہے ارادے ایکشن نا لیتے ہوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اتنے مضبوط ہیں کہ وہ جانتے ہیں انکی آواز سنی جاے گی بلکہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی یہ مثبت پہلو یہ صحیح استعمال ہے کشمیر کی آزادی کی تحریک ہو یا بھارت کے کشمیر میں مظالم، افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو یا امریکہ، بھارت کی چیخیں یہ سب ہمیں سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ کب کون کیا کررہا کہہ رہا ۔۔۔۔ آنے والے وقتوں میں سوشل میڈیا اک نیا رخ لے گا۔۔۔

    ٹک ٹاک
    ایسے ہی کچھ ایپس ایسی بھی ہیں جہاں سوائے گند، غلاظت،بے حیائی،فتنے کے سوا کچھ نہیں ٹک ٹاک” سب ہی جانتے ہیں ٹک ٹاکرز کے آئے روز نئے اسکینڈلز منظرعام پر آتے ہیں جس وجہ سے پاکستان میں فلحال ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔

    یوٹیوب
    یوٹیوب اچھی ایپ ہے اپنے حساب سے چاہیں تو پیسے کمانے کا زبردست طریقہ ہے گھر بیٹھے کافی کام کرتے ہیں لوگ اس پر خواتین کوکنگ، میکپ، سلائی کڑھائی، بیوٹی ٹپس اور بھی کافی چیزیں ہیں جن پر کام کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔
    ہر چیز کے اچھے برے پہلوں ہیں یہ سوچنا ہمارا کام ہے کے ہم نے خود اور اپنے بچوں کو اسکا استعمال کیسے کروانا ہے اور کس عمر میں انکے ہاتھوں میں فون دینے ہیں انکو آزادی دینی ہے ۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • گھر میں داخل ہونے والا چور چوری کی بجائے معافی مانگ کر چلا گیا

    گھر میں داخل ہونے والا چور چوری کی بجائے معافی مانگ کر چلا گیا

    جرمنی میں گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہونے والا چور چوری کئے بغیر مہذبانہ انداز میں معافی مانگ کر واپس چلا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے چھوٹے سے شہر گیوَلزبرگ میں پیش آیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق کئی منزلہ رہائشی عمارت کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے رات گئے چور باآسانی عمارت میں گھس گیا جس کے بعد پانچویں منزل پر جانے کے بعد وہ تیز دھار آلے کی مدد سے گھر کا لاک کھولنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ شور کی آواز سن کر 52 سالہ خاتون باہر نکلیں جو اس وقت گھر میں اکیلی تھیں، خاتون چور کو دیکھ کر گھبرا گئیں کہ وہ کیسے گھر کے اندر داخل ہو گیااور چور کو بھی اندازہ ہو گیا کہ گھر میں خاتون کے علاوہ کوئی موجود نہیں ہے-

    جس کے بعد عجیب واقع رونما ہوا، چور شرمندہ ہوا اور کہا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے، اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تاہم پولیس خاتون خانہ کی شکایت پر چوری کی کوشش کا مقدمہ درج کر کے فرار ہو جانے والے نامعلوم ملزم کو تلاش کر رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو اچانک اپنے سامنے پا کر معذرت کر لینے والا یہ شخص بظاہر مہذب تھا مگر اس بات سے اس کی طرف سے چوری کی مجرمانہ کوشش کی نفی نہیں کی جا سکتی۔

  • انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوطوں کو تو میاں مٹھو اور دیگر انسانی جملے سکھانا سنا اور دیکھا بھی تھا مگر اب بطخ بھی انسانوں کی نقل کرنے لگی ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ بطخیں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بطخوں سے سیٹیاں مارنا سیکھتی ہیں جس سے وہ آپس میں بات کرتی ہیں، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ انسانوں کے درمیان پلنے سے انہیں انسانی آوزیں بھی سکھائی جا سکتی ہیں۔

    آسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق بطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    پانیوں میں آزادانہ گھومنا پسند کرنے والی مسک بطخ آواز سیکھنے اور بولنے کی حیرت انگیز خاصیت رکھتی ہے وہ زیادہ تر قید ہو کر غصے میں یہ الفاظ سیکھ کر اپنے جزبات کا اظہار کرتی ہے۔

  • بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب  نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ ابھر آیا کنڈ ملیر کو بلوچستان کا جادوئی ساحل بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک ابھرنے والا جزیرہ بڑے رقبے پر محیط ہے۔ سمندر میں یہ جزیرے گہرے پانیوں میں جغرافیائی ردوبدل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں تاہم سمندر میں ابھرنے والے یہ جزیرے اکثر وبیشتر ابھرنے کےکچھ عرصے بعد دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

    کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر کا ساحل واقع ہے۔ جہاں، پہاڑ، صحرا اور سمندر ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر اس بستی کے نیچے موجود ہے جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتا ہے۔

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سوشل میڈیا پر کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو یہاں کا پتا دیا ہے اور اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

    کنڈ ملیر کو گذشتہ سال ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی تھی۔

    کراچی کے معروف ساحلوں ہاکس بے، مبارک ولیج اور کاکا پیر کے مقابلے میں یہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور خواتین بھی بے دھڑک سمندر میں اتر جاتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کنڈ ملیر کے قریب ابھرنے والا جزیرہ ساحل کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے ۔ حکام اس جزیرہ کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

  • سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    نئی دہلی: بھارت کے ایک کنویں میں گرنے والی بلی اور چیتے کی لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں چیتے اور بلی ایک کنویں میں گر گئے چیتے نے کنویں کی منڈیر پر پناہ لی تو وہاں پہلے سے ہی ایک بلی موجود تھی۔

    چیتے نے اپنے سے کئی گناہ چھوٹی بلی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو بلی بھی سینہ تان کر کھڑی ہو گئی اور چیتے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا بلی کی اس بہادر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جو دنیا بھر میں لوگون کی دلچسپی کا باعث بن گئی ہے-

    یو اے ای: ایکوریم میں دنیا کا سب سے بڑا سانپ

    چیتے کے کنویں میں گرنے کے بعد مقامی افراد وہاں پہنچ گئے تھے اور وہ کنویں کے دہانے پر کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے جنہوں نے بلی کی بہادری کی ویڈیو اپنے موبائل میں محفوظ کر لی۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی ناسک ڈویژن کے جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر پنکج گرگ کا کہنا تھا کہ چیتا اس بلی کا پیچھا کرتے ہوئے کنویں میں گر گیا تھا جسے کنوئیں سے نکال کر جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے۔