Baaghi TV

Category: متفرق

  • سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    سعودی عرب میں ایک شہری نے 20 برس سے زائد وقت میں ایک لاکھ سکے جمع کر کے سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے تیار کر ڈالے-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کتے مطابق اس دوران میں سعودی شہری ہشام النجار دنیا کے مختلف ممالک میں گیا تا کہ ان سکوں کو جمع کر سکے سعودی شہری ہشام النجار نے دنیا بھر میں نوادرات اور نایاب کرنسیوں کے نیلامیوں سے ایک لاکھ سے زیادہ سکے جمع کیے۔

    برسبین میں جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا

    العریبیہ کے مطابق النجار کا کہنا ہےکہ سکوں کے ذریعے فن پاروں کی تیاری کا مقصد ان سکوں کو خوب صورت شکل میں محفظ کرنا ہے۔ اس لیے ایسے فن پارے تیار کیے گئے جو دیکھنے والوں کے لیے پُر کشش ہوں۔

    النجار کے مطابق اس نے شاہ سلمان کی تصویر دنیا بھر کے 9 ہزار سے زیادہ سکوں کے ذریعے تیار کی۔ النجار نے مزید بتایا کہ اس کے پاس سکوں سے تیار کی گئیں 40 تصاویر ہیں۔ یہ تصاویر سعودی عرب کے فرمارواؤں اور شہزادوں اور خلیجی ممالک کے شہزادوں کی ہیں۔

    پاکستان نے افغان نجی ائیر لائن کو کابل سے اسلام آباد پروازوں کی اجازت دے دی

    النجار کا کہنا ہے کہ اس آرٹ ورک کے ذریعے وہ دنیا بھر میں سکوں کے ذریعے بنائی گئی سب سے بڑی دیوار نقاشی پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ فن پارہ مکہ مکرمہ یا جدہ یا ریاض یا کسی بھی اور شہر میں ہو سکتا ہے اور النجار اس کے ذریعے گینز بک آف ریکارڈز میں شامل ہونے کا خواہش مند ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا امریکہ سے افغانستان کے 9 ارب ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ

  • کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔ مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔ جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا: "کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہی طریقہ ہے؟” انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا: "یہاں میڈیا آزاد ہے۔” مہاتیر محمد نے جواب دیا: "ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔” ملاقات ختم کر دی گئی۔ وہاں سے ملائیشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملائیشیا میں موجود کاروبار فورا” بند و اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملائیشیا بدر کر دیا جائے۔ حکم پر فوری عمل ہوا۔ جب مہاتیر محمد ملائیشیا پہنچے تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جو ہم نے اکثر کہیں کہیں پڑھا ہوگا سوال یہ ہے کہ میڈیا کو کہاں تک آزاد ہونا چاہیٸے اور کہاں پابند ہونا چاہیٸے ۔ آج کا میڈیا شتر بے مہار ہوا پڑا ہے اور صحافی منہ زور ۔۔کوٸی ہوچھنے والا نہیں۔ جھوٹ، طنز ، غلط بیانی،ذاتیات،چوروں اور لٹیروں کا دفاع میڈیا کا مقصد اور عین عبادت بن چکا ہے سب کچھ کہہ دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کچھ کہنے نہیں دیتے۔۔ ایک ہی گردان سننے میں آتی ہےمیڈیا آزاد نہیں ہے۔ میں نے بہت سوچا آخر یہ کس آزادی کی بات کرتے ہیں۔ہر بات کر دینے کے بعد یہ دکھڑا کہ میڈیا آزاد نہیں حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت چپ چاپ سہہ جاتی ہے لب نہیں کھولتی

    عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔اور عوام خاموشی سے اپنا تماشا آپ دیکھے چلے جارہی ہےاور آگے چلے جارہی ہے۔۔سچ کا کوٸی پرسان حال نہیں اور پھر میڈیا آزاد۔۔۔۔۔۔؟ پھر جھماکا ہوا دماغ میں کوندا لپکا اور بھیدکھلا کہ جناب میڈیا تو واقعی آزاد نہیں ہے۔۔وہ تو غلام ہے دولت کا۔۔مافیا کا۔۔چند دولت مند اشرافیہ کا۔وہ لفافے اور نوٹوں سے بھرے بیگ۔۔قلم انہیں نوٹوں سے تو خریدے جاتے ہیں۔۔زبان پر ان ہی نوٹوں کی ٹیپ ہوتی ہے۔۔لبوں سے اپنی مرضی کے بول بلواۓ جاتے ہیں۔ پھر وفاداری تو غلام کی بنتی ہی اپنے آقا کے ساتھ ہے وطن سے غداری کی کسے پرواہ ہے وطن نے کیا کہنا ہے خاموشی سے تک رہا اپنی بے عزتی بے حرمتی پر خاموش ۔۔وہ دولت نہیں دے سکتا۔وہ باہر ملکوں میں جاٸیداد نہیں بنواسکتا سو چھوڑو اسے اس کا دکھ کون سمجھے کون دیکھے۔ہم نے تو باہر فلیٹس لے لینے ہیں ۔باہر کا موسم انجواۓ کرنا ہے باہر علاج کروا لینا ہے۔یہاں تو بس کماٸی کرنے بیٹھے ہیں۔ کوٸی ملک کو گٹر کہہ دے۔کان بند زبان بند۔۔غلام اُف غلامی۔۔۔ ہاں آخر میں ضرور دو گز زمین لیکر دفن ہو جاٸیں گے اور نام ہوگا جی وطن میں دفن ہوۓ پھر یہ وطن بوجود بےوفاٸی کےاپنی باہوں میں سمیٹ لے گا بات کہاں سے نکلی کہاں جا پہنچی۔۔بات تھی آزادی میڈیا کی۔۔ظلم کی شاید یا جبر کی۔۔ آج افسوس یہ کہتی ہوں۔۔۔ کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا وطن سے غداری کتنا بڑا گناہ ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا تمہاری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اس کی قدر کرو کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کون تمہارا دشمن ہے کون تمہارا سچا دوست ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کہ میڈیا نے جو فحاشی پھیلاٸی ہوٸی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھانی ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو سچ پھیلاتا جھوٹ کو بے نقاب کرتا کاش میڈیا نوٹوں کا غلام نہ ہوتا کاش۔۔۔۔۔کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔

     

    @DimpleGirl_PTi

  • جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

    جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

     مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی

      اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا

     خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں

      یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو”

     بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:

     مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے

      درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں”

     صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ

      سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ

      خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

     13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو

      اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔

     یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی

      نہ کبھی بعد میں لڑی”

     اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد

      خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 

     صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے

      ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی

      جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم 

     میں مشہور تھے

     اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:

     اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں

      اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں”

     چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب

      وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم

      پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر

      و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

     عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں

      صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں

      میں آخری خطبہ دیا:

     والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے

      بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست

      نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں”

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان” تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت” کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی

      دیواریں مثل قلعہ کے تھیں

     کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا

      لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:

     *”لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے

      اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں

      تمہارے لئے دروازہ کھولونگا”*

     اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر

      منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار

      کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں

      چھلانگ لگا دی

     قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا

      یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

     ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا 

     ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور

      پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ 

     کو کاٹ کر رکھ دیا

     *اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ 

     تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر

      رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی

      ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

     کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم

      کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک

      مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک

      پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

     قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے

      پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ

      اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. 

     اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں

      اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں

      کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو

      آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔

    انشااللہ تعالی

    حضور ﷺ

    خاتم النبین

    خاتم المرسلین

    کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ

    اسی میں نجات ھے

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں

    یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

    @SyedUmair95

  • والدین کے لیے پیغام تحریر: ‏ثمینہ اخلاق


    حضرت عبد اللہ بن عمر کا ارشاد ہے: ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔‘‘
    دنیا میں موجود آدھا علم صرف نصیحت کا علم ہے یعنی دوسروں کو ناکامی سے بچانے کا علم، اولاد کی تربیت والدین کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتی ہے۔ تربیت سے محروم بچے کبھی معاشرے کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوتے ابتدائی مرحلہ میں بچے کی ذہن کی زرخیزی کے لیے والدین کے اچھے دوستانہ رویوں کا ہونا بے حد ضروری ہے رویہ جتنا اچھا ہوگا زمین کی زرخیزی اتنی متناسب ہوگی۔ مصنوعی ماحول، منفی سوچ اور دوغلے رویے ذہن کو زرخیزی نہیں پہنچاتے لہذا بچوں کی بہتر تربیت کے لئے جب تک والدین اپنی ذات اور رویوں میں مثبت تبدیلی نہیں لاتے اس وقت تک زمین زرخیز نہیں ہو گی

    دنیا کے تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی، مہذب اور اچھی شخصیت کی مالک ہوں، والدین چاہتے ہیں کہ اپنی اولاد کے روزمرہ معمولات اور زندگی سے آشنا ہیں ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ کیسے؟ کیونکہ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ اور غیر ضروری استعمال سے بچوں کی انٹرنیٹ اور موبائل سرگرمیوں کا علم رکھنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے ہے گھر میں رہتے ہوئے بھی والدین سے دوری اور انٹرنیٹ سے دوستی مستی اور کم عمری میں موبائل فون کا استعمال اور اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیت ہی دراصل ہماری نسل کی تباہی کا باعث بن رہی ہے ہے اس عمل سے بچوں میں احساس کمتری، جذباتیت بلوغت سے پہلے یہ اخلاقی انحطاط اور صحت مند سرگرمیاں نہ ہونے سے سے تنگ نظری، عدم برداشت ، انتہا پسندی کا رجحان اور صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ منفی جذبات عام ہونے سے سے اکثر بچے اخلاقی جرائم میں بھی ملوث ہو رہے ہیں۔
    طلبہ اور طالبات کے اندر سر قائد کے اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہے قائد اعظم کا فرمان "ہم جتنی زیادہ تکلیفیں, قربانیاں دینا سیکھیں گے اتنے ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم بن کر ابھریں گے اس قول کی مناسبت سے والدین کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی محض تعلیم و تربیت اچھے انداز میں کریں بچوں کی غذائی ضروریات کا ہمیشہ خیال رکھیں لیکن بے جا خواہشات تو کبھی پورا ہونے نہ دیں۔

    اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت وقت کے ساتھ انہیں اچھا لباس، متوازن خوراک، بہتر رہائش اور ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا بنیادی طور پر والدین کے فرائض میں شامل ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ یہ کوشش کبھی مت کریں کہ ان کے لیے دولت، جائیداد، پلاٹ، بڑے گھر،مہنگی گاڑیاں،ایئر کنڈیشنرز اُنھیں عملی زندگی میں بیکار کر دیں گی اور زندگی کے مددجزر کے لحاظ سے وہ مشکل حالات کو کبھی خندہ پیشانی سے قبول نہیں کریں گے جبکہ زندگی میں مشکلات کا مقابلہ پوری جوانمردی، ہمت، حوصلہ اور صبر سے کرنا ہوتا ہے
    معاشرے میں ہر شخص ذمداریوں کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی امانت سنبھالے ہوئے ہے اگر والدین اپنی امانت کا پاس رکھتے ہوئے اپنی عام داری پوری نہ کریں تو ان کی نااہلی اور غفلت کا خمیازہ اولاد بھگتتی ہے اور ان کی تربیت میں کمی کا خمیازہ پھر پورا معاشرہ سہتا ہے

    حقوق العباد اور تربیت کے اعتبار سے والدین پر یہ لازم ہے کہ وہ جب تک نوجوانوں کے اندر زندگی کی اعلی اقدار اپنانے کی تڑپ پیدا نہیں ہو گی زندگی جمود سے باہر نہیں نکل سکے گی ماہرین تعلیم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تعلیم کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کے تمام پوشیدہ صلاحیتوں کو فطری جذبوں کے ساتھ بیدار کرنا اور پھر انھیں نشوونما دینا ہے یعنی انسان جو کچھ کرتا ہے وہ کسی تاثر اور جذبے کی بدولت کرتا ہے، بچوں کو روبورٹ کی مانند زندگی گزارنے کے بجائے صحت مند فطری جذبوں کے اظہار کے لئے کھیل اور تفریح اور غیر نصابی سرگرمیاں کے لیے بھرپور مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    بچوں کے ساتھ ہمیشہ مشفقانہ اور خوبصورت لہجے میں بات کریں کیونکہ ایک پرسکون لہجہ سننے والے کے ذہن میں زرخیزی لاتا ہے۔
    بچوں کی ذہنی و جسمانی تندرستی کے لیے صحتمند ماحول،متوازن غذا روزانہ کھیل و تفریح اور جلد سونے اور جاگنے کے اوقات اور بچوں کے دوستوں اور دن بھر کی مصروفیات کا پورا خیال رکھیں۔
    ہر ایسا مشغلہ جو نیا ہو یا پرانا، ہمارے روزمرہ کاموں کے اسٹریس کو کم کرتا ہے اور ہمارے خون اور دماغ میں متحرک ہارمونز کی تعداد کو معتدل اور مناسب رکھتا ہے اور ایک متوازن اور خوشگوار زندگی کا ضامن بنتا ہے بچوں کو معصومیت کے لحاظ سے کارٹون، ڈرامے اور فنون میں دلچسپی کے ساتھ اپنی اولاد کو صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
    اولاد کو قومی مسائل جیسے ماحولیات و آبی وسائل کا تحفظ، صحت و صفائی، کرپشن سے بچاؤ اور معیاری تعلیم کے حصول اور ملکی ترقی کے لئے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کریں

    ‎@SmPTI31

  • آزاد وطن تحریر: تنزیلہ اشرف

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد آزاد ملک بھی حاصل کرنا تھا جہاں دینی ،معاشرتی،تعلیمی آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی رائے کی بھی آزادی حاصل ہو گئی ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہو گا۔سوچ آزاد ہو گی ، انسان آزاد ہو گا۔۔ہم اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے۔۔یہ تھا اصل ملک جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا اقبال نے”۔۔
    "قائد اعظم نے تعبیر دی تھی ان کے اس خواب۔۔ان کا خیال تھا ہم آزاد وطن حاصل کر چکے ہیں جہاں ہم اپنی رائے آزادانہ , بلا خوف کے دے سکتے ہیں۔۔
    لیکن افسوس ہم وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن آزاد وطن،آزاد سوچ حاصل کرنے میں آج بھی ناکام ہیں ہمارا دماغ غلامی کی نا ختم ہونے والی زنجیروں میں جکڑا ہے۔۔۔جسے لبرل ازم نے اور غلام بنا دیا ہے”۔۔
    پاکستان میں کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو لوگوں پر آزادانہ ظاہر کر سکے ۔۔۔کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بات کرتا ہے, اپنا مثبت پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے تو غلام ذہن اس پیغام کو نہیں سنتے! اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے بلکہ اس شخص کے ماضی کو اچھالتے ہیں۔۔
    "پچھلے دنوں! پاکستان کے نامور گلوکار ابرار الحق صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اولاد کی تربیت پر انھوں نے اپنا موقف ظاہر کیا۔۔وہ ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔۔ اس وطن نے انھیں یہ حق دیا ہے کہ وہ آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ان کا پیغام مثبت تھا لیکن ہماری غلامانہ سوچ ۔۔کچھ لوگوں نے ان کی والدہ کی تربیت پر افسوس کیا! تو کسی نے انھیں ذاتی نشانہ بنایا کیا وہ آزاد ملک کے شہری نہیں؟
    ہم کیوں مثبت پیغام دینے والے کو بھی نہیں چھوڑتے اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا وہ واقعی ہی آزاد ملک میں سانس لے رہا ہے”؟ ۔
    "مینار پاکستان لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس پر آپ نے بھی اقرار الحسن کے ویوز سنے ہوں گے۔۔انھوں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے ! اس معاشرے میں تو نے مجھے بیٹی نہیں دی۔۔۔سارا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، بات کی گہرائی جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔۔انھوں نے "اس معاشرے کا "لفظ استعمال کیا تھا یعنی وہ بیٹی کے وجود سے نہیں ،معاشرے میں جا بجا بکھرے ان بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں جو معصوم بچوں کو گدھ کی طرح نوچ کھاتے ہیں۔۔
    اس معاشرے سے کیا انسان کوخوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے ؟
    "ان کی بات کی گہرائی میں نہ اترنے والے اپنی بیٹیوں کو ان بھیڑیوں سے بچانے کے لیے آغوش میں چھپائے پھرتے ہیں”۔۔۔
    "کیا ہمارا معاشرا ایک بیٹی کے لیے محفوظ ہیں ؟”
    پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں ،پھر کسی کو جواب دینے کے قابل بنیں۔۔ایک بندہ اپنی آزادی رائے کا حق استعمال کر رہا ہے آپ کو اس کی بات پسند نہیں آئی تو یہ آپ کی آزاد سوچ ہے۔۔اگلا بھی آزاد ہے۔۔
    اس کے علاوہ حالیہ ہونے والے بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جن میں ایک شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ،”تو ہزاروں لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ وہ ہوتا کون ہے ایک آزاد ملک میں سانس لے کر آزادی رائے کا حق استعمال کرنے والا”۔۔
    ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟
    "آزاد وطن حاصل کرنے سے ذہنوں کی غلامی کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوچ آزاد ہونا ضروری ہے۔۔۔
    سوچ آزاد ہو گی تو معاشرا آگے بڑھے گا نہیں تو ہم جیتے رہیں گے غلامی میں” ۔۔
    "ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں کوئی مثبت بات کرتے ہوئے بھی غلام ذہنوں کی کائی زدہ باتوں سے نہ گھبرائے ۔ہم آزاد ہوں ،اور واقعی میں آزاد ہوں”۔
    پاکستان زندہ باد

  • نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان

    ‏اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
    ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
    نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
    اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
    درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔

    کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
    اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
    قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔


    @FahadRaja6720

  • ہم شرمندہ ہیں آپ سے جناب ڈاکٹر قدیر خان صاحب تحریر…..ہارون خان جدون

    دنیا کے نقشے پر بڑے براعظم ایشاء میں موجود اسلامی جموریہ پاکستان اور اسکے دارحکومت کے قلب میں موجود فیصل مسجد سے چند قدموں کے فاصلے پر مسکراتے چہرے اور آنکھوں عجیب چمک لئے فادر آف پاکستان نیوکلیر ویپن پروگرام کی رہائش گاہ ہے 28 مئی کا وہ دن اور چاغی کی پہاڑیاں گواہ ہیں اس ایٹمی دھماکے کی جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا, بھارت کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں جس ہستی کی بدولت یہ امر نہ ممکن سے ممکن بنا وہ کوئی اور نہیں بلکہ محسن پاکستان محسن قوم و ملت ڈاکٹر قدیر خان ہیں جنہوں نے دنیا عالم میں پاکستان کا لوہا منوايا سب سے پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن اس محسن پاکستان کا نام سنتے ہی بےقرار ہونے لگتی ہے کیوں کہ یہ وہ شخصیت ہے جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا کو اور اپنے ازلی دشمن بھارت کو یہ بتا دیا کے اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے ہمیں دیکھنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑے گی

     پاکستانی عوام آپ جیسے محسن کو اپنے دل میں براجمان خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں سے آپ کی موت کی جھوٹی خبریں چلتی رہی لیکن بقول آپ کے یہ حاسدین کا کام تھا جو ایک انتہای گٹیا فعل تھا

     ریٹنگ کے چکر میں کبھی كبهار خبر گھڑنے والے عوامی مقبول شخصیت کو نشانے پر رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کی موت کی کچی پکی خبر گردش کرنے لگی تو پریشانی بڑھ گی لیکن ساتھ ہی دل اس خبر کی صداقت پر ایمان لانے کو تیار نا تھا

     یہ بھی سچ ہے کے زندگی اور موت اللہ پاک کے بس میں ہے جس نے یہ کائنات بنائی ہے جو ہمارا خالق ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کے بذات خود میڈیا پر اعلان کے وہ حیات ہیں اور اللّه انکو مزید زندگی دے گا اور انکے حاسدین کے جلانے کے لئے، ڈاکٹر صاحب کے اپنے میڈیا پر اس بیان سے قوم کے دل خوشی سے سرشار ہوگے

    اس جھوٹی خبر پر ہونا تو یہ چاہیے تھا اسطرح کی لامعنی اور جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے تھا اور سزا دینی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا ہوا نہیں جو افسوسناک بات ہے, موت یوں تو برحق ہے ہر انسان نے ایک نا ایک دن اس فانی دنیا سے جانا ہے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمیں موت کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیوں کے موت کسی بھی وقت کسی بھی جگہ آ سکتی ہے یہ اٹل حقیقت ہے

    البتہ پاکستانی قومکی نظر میں ڈاکٹر قدیر خان ایسی شخصیت نہیں کے جنہیں موت نیست و نابود کر سکے ان جیسے لوگ جو اس ملک کی عزت اور سرمایہ ہیں اور وطن سے محبت کا قرض جو اس انداز میں اتارتے ہیں کے انکے کارنامے انہیں اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی انکو زندہ و جاوید رکھتے ہیں، اس جھوٹی خبر اور اس واقعہ سے جہاں ان کے چاہنے والوں کو صدمہ ہوا ہے وہاں انکے حاسدین کو بھی پتا چل گیا ہو گا کے پاکستانی قوم انکے لئے کتنی فکر مند ہے اور کتنی محبت کرتی ہے

    لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوناک بات یہ ہیکہ حکومت کیطرف سے کوی بھی حکومتی وزیر مشیر اور نماہندہ انکی عیادت کرنے نہیں گیا اور انکو اتنی توفیق نہیں ہوی کہ وہ محسن پاکستان کے پاس جاکر انکا حال حوال پوچھ سکیں انکو حوصلہ دے سکے ڈاکٹر صاحب کا اس ملک اور قوم پر بہت بڑا احسان ہے اگر یہ قوم ساری زندگی بھی لگی رے تو انکا احسان نہیں اتار سکتی ہمارے حکمرانوں کو انکی قدر کرنی چاہیے لیکن افسوس ہمارے حکمران یہ سب بھول چکے ہیں.

    میری اللہ پاک سے دعا ہیکہ اللہ پاک آپکو صحت والی زندگی دے۔۔ آمین 

    @ItzJadoon

  • ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین  فوسل دریافت

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی :نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    این ایچ ایم کی ایک محقق نے اسے نئی نسل قرار دیتے ہوئے اس کا نام ‘سپیکومیلس افر’ رکھا ہے ، جس کا مطلب ہے سپائکس کا کالر اور افریقہ-

    ماہرین کے مطابق جس چیز نے اسے منفرد بنایا وہ فوسل میں پسلیوں کی ہڈیوں میں ملنے والی سپائکس کا ثبوت ہیں جو اینکلوسار کے لیے غیر معمولی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جلد کے ٹشو سے جڑا ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اینکلوسار بکتر بند ڈا ئنوسار کا ایک متنوع گروہ تھا جو 145 سے 66 ملین سال پہلے کے پورے دور میں موجود تھا تاہم ، اس سے پہلے ان کے بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں نئے ملنے والے فوسل کو اس قسم کے ڈائنو سار کے فوسل کی پہلی مثال کہا جاسکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلے ہم نے سوچا کہ نمونہ ایک سٹیگوسار کا حصہ ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے انہیں اسی مقام پر پایا گیا تھا۔ لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر ہم نے محسوس کیا کہ جیواشم کسی بھی پہلےسے موجود نسل کے برعکس تھا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    نمونہ اتنا غیر معمولی تھا کہ پہلے محققین نے سوچا کہ کیا یہ جعلی ہو سکتا ہے ، لیکن سی ٹی اسکینوں کی ایک سیریز نے تصدیق کی کہ یہ ‘حقیقی فوسل’ ہے۔

  • تقدیر تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس 

    @drislamilyas

     

    تقدیر کیا ہے ۔ جب انسان کو سید ھے اور غلط راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس کے لیے

    جزا اور سزا کا نظام بنایا گیا ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو لکھ دیا

    جا تا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے اسی سوال سے اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر تا ہے ۔اگر پیدائش سے پہلے

    ہی لکھا ہوا ہے تو انقیار کیسا اور حساب کتاب کیا۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر ہر چیز لوح محفوظ میں

    درج ہے تو یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ شب قدر یا شب برأت والے دن فرشتوں کو اگلے سال کا شیڈول دیا جا تا

    ہے کہ اس سال یہ پیدا ہوگا ، ی مرے گا، یہ نیکی کے کام کرے گا، یہ برائی کے کام کرے گا، رزق کی تقسیم

    وغیرہ وغیرہ۔

    در اصل انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اور وہ آزاد ہے کہ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرے یا

    نافرمانی کر کے سزا کا مستحق بنے ۔لیکن اللہ جونقل کل ہے یہ اس کا علم ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان اپنے

    اختیار کو کیسے استعمال کرے گا۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کون کس وقت کیا کام کرے گا۔ قیامت تک کے تمام

    حالات واقعات لوح محفوظ میں درج ہیں لیکن لوح محفوظ تک فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے ۔ شب قد رکو

    آئندہ سال کا شیڈ ول فرشتوں کے حوالے کیا جا تا ہے ۔ اور انسان پورا سال اپنے اختیار سے اپنی زندگی

    گزارتا ہے ۔اورمنکر نکیرلحہ بلح تحریر کرتے ہیں اور وہ وہی اعمال ہوتے ہیں جو انہیں سال پہلے لکھ دیئے گئے

    تھے کہ کون ساشخص کب اور کیاعمل کرے گا۔ یہ اللہ کاعلم ہے جس تک مخلوق کی رسائی نہیں ۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہاتھ کی لکیروں ستاروں سے مستقبل کیسے جان لیتا ہے ۔ کیا

    اس میں بھی کوئی حقیقت ہے۔ جی ہاں یہ بیچ ہے اور یہ نظام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ اور اللہ نے انسان کو علم بھی

    دیا ہے لیکن اس میں کب تبد یلی کردی جائے گی اس کا اختیاراللہ کو ہے اور اےسی تبدیلیاں لوح محفوظ میں درج

    ہیں جس کا علم تلوق کونہیں دیا گیا۔ سورۃ لقمان آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” بیک اللہ کے پاس

    ہے قیامت کاعلم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل

    کیا کماۓ گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ، بے شک اللہ جانے والا بتانے والا ہے ۔

    اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھئی پیدائش سے پہلے پتا چل جا تا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ در اصل اسکا

    معانی جنس نہیں اس کا مطلب ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے اچھا ہے یا برا ہے معاشرے میں کیسا رہے گا

    نقصان والا یا فائدہ دینے والا ۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے قسمت کا حال جانے سے منع فرمایا ہے اس

    لیے ہمیں مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہر وہ کام جس کے کرنے سے ہمارے نبی

    ﷺ نے منع فرمایا ہے اس کو کرنا گناہ ہے ۔ایک اور بات تقذ یرکو نہ ماننے والوں کے لیے ” قیامت کی

    نشانیان بیان کی گئی ہیں اگر انسان کے اعمال سے اللہ پہلے سے باخبرنہیں تو نشانیوں کا جواز ہی پیدانہیں

    ہوتا”۔ غزوہ احد میں ایک دن پہلے رسول ﷺ نے بتادیا تھا کہ فلان اس جگہ مارا جاۓ گا اور فلان اس جگہ

    اور وہی ہوا۔اگر تقدیر میں سب لکھا نہیں ہے تو یہ کسے ہوا مثالیں بے شمار ہیں مگر سمجھدار کے لیے یہ کافی ہیں

    اور نہ مانے والوں کو تو کوئی منانہیں سکتا 

    ڈاکٹر اسلام الیاس

  • 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ  شخص سے شادی

    66 سالہ دلہن کی 79 سالہ شخص سے شادی

    دو عمر رسیدہ جوڑوں نے اپنی مستقبل کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لئے شادی کر لی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ شادی مہاراشٹر کے ضلع سانگلی میں ہوئی۔ جہاں دلہن کی عمر 66 سال ہے اور دلہن کی عمر 79 سال ہے یہ شادی ضلع سانگلی کے میرج میں واقع آستھا بے گھر خواتین سینٹر میں ہوئی۔ جہاں 66 سالہ دلہن شالینی اور 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

    دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےسینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔

    جبکہ 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔

    دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔