Baaghi TV

Category: متفرق

  • سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

    سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
    کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
    ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
    بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
    کرکے کچھ حل نکالے

    ‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
    اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
    بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
    مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
    پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
    سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

    بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
    ‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
    ہے۔
    لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
    حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
    چاہیئے
    اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
    انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
    جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
    انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
    نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
    کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
    سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
    سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
    بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
    غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
    وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
    ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
    جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
    پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
    جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
    ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

    اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
    کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
    سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
    بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
    حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
    پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
    مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
    کو معمول پر لا سکیں.

    @ItzJadoon

  • چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا  کر لیا

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

    کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک جنگلی بندر نے چھوٹے کتے کو اغوا کر کے تین دن تک یرغمال بنائے رکھا۔

    باغی ٹی وی : ملائیشیا میں ایک بندر نے دوہفتوں کے سارو نامی چھوٹے سے پالتو کتے کو پکڑ لیا اور درختوں کے جھنڈ کے پیچھے بجلی گھر کی چوٹی پر یرغمال بنا کر رکھ لیا قریبی رہائشیوں نے کتے کو بچانے کی کوشش میں کئی جتن کئے انہوں نے بندر کو چھوٹے پتھروں اور لکڑی کے ٹکڑوں سےمارا لیکن بندر ٹس سے مس نہ ہوا۔

    تاہم کافی حربے آزمانے کے بعد بندر کو ڈرانے کے لیے اونچی آواز پیدا کرنے کی کوشش میں پٹاخے بجائے گئے پٹاخے بجانے کا منصوبہ کام آ گیا اونچی آواز سے ڈر کے بندر نے کتے کو نیچے پھینک دیا کتے کے نیچے گرتے ہی لوگ اس کے طرف بھاگے اور جھاڑیوں اور درختوں کے جھنڈ میں گرے ہوئے کتے کو ڈھونڈ نکالا۔

    ضروری دیکھ بھال اور چیک اپ کے بعد کتے کوایک مقامی فرد نے اپنے ساتھ رکھ لیا ہے وہاں پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ بندر نے کتے کوکوئی تکلیف نہیں پہنچائی بس وہ اسے لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لپکتا رہا لیکن اس کے باعث کتا بہت تھکا ہوا اور نڈھال دیکھائی دیا سارو نامی اس کتے کو ایک آوارہ کتیا سے چھینا تھا-

    انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا تھا کہ بندر اس کتے کو اپنا دوست یا بچہ سمجھ رہا تھا بعض مقامی رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کی یہ بندر پہلے بھی گھروں سے چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں۔

    ملائیشیا میں ایک اندازے کے مطابق حکومت کو ہر سال بندروں سے متعلق اڑتیس سو سےزائد شکایات موصول ہوتی ہیں ان شکایات کے باعث وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بندروں کو مارنے کے پروگرام پر مجبور ہوا اور 2013 سے 2016 تک ہر سال تقریباً 70 ہزار بندروں کو مارنا پڑا۔
    https://youtu.be/WQC8PPowRds

  • توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل کا مفہوم ہے کہ انسان خود کو عاجز و مجبور اور اللّٰہ تعالیٰ کو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک تسلیم کرتے ہوئے اس ذات واحد پر بھروسہ و یقین کر لے کہ جو کچھ ہوگا باری تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہوگا۔ جب دل میں یہ یقین پختہ ہو جائے تو انسان کا ایمان کامل ہو جاتا ہے۔ انسان تکبر ، غرور اور دنیا کی عارضی شان و شوکت سے کنارہ کشی اختیار کرکے اللّٰہ کی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔ اپنی عقل ، فہم و فراست اور تدابیر کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر صابر و شاکر بن کر زندگی بسر کر سکتا ہے۔
    تاہم اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں توکل علی اللہ کا حکم دیا ہے وہاں انسان کو عقل جیسی نعمت سے نواز کر دیگر مخلوقات سے افضل کر دیا ہے۔ مختلف امور میں رب العالمین نے انسان کو عقل کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے کچھ اختیارات تفویض کیے ہیں۔ جس طرح عقل اور فہم و فراست کے باعث ہی انسان کو عبادات اور نیکیوں کا حکم دیا ہے اور اس بنیاد پر ہی آخرت میں انسان کے لیے جزا و سزا کا تعین بھی کیا جائے گا۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو رزق کے معاملے میں اپنی ذات لا شریک پر توکل کرنے اور آخرت کے متعلق فکر و کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنی دیگر بے شمار صفات کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ تمام جہانوں کی مخلوقات کا رازق بھی ہے اس نے انسانوں کو رزق کی فراہمی بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس لیے انسان کو صرف کوشش کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے سوچ و فکر عطا کی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آخرت کی فکر سے بڑھ کر رزق اور دنیاوی دولت و مال کی فکر میں مبتلا ہیں۔

    دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے توکل پہلی اور لازمی شرط ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی پکار سننے والا ہے جو توکل اور بھروسے سے مانگے اسے مومن اور کافر کی تفریق کے بغیر عطا فرماتا ہے۔ انسان جب خود کو کمزور و ناتواں اور مجبور و بے بس سمجھ کر یہ سوچ بختہ کرکے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگے کہ میرا اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے کوئی مشکل کشا و حاجت روا نہیں ہے، رب کے علاؤہ کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے، میرا رب عطا کرنے والا اور عیبوں پر پردے ڈالنے والا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کے ہاتھ خالی نہیں لوٹاتا لیکن مضبوط بھروسے اور توکل کی ضرورت ہے کہ ذات باری تعالٰی کے در سے ہی حاجت پوری اور اس بارگاہِ الٰہی سے فیض یاب ہوں گا۔

    جس انسان نے اللّٰہ پر توکل اور بھروسہ پختہ کر لیا اس کا ایمان کامل ہوگیا اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنی رضا ، خوشنودی اور توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین

  • انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    جاپان میں پیدا ہونے والے قیمتی انگور کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے سے زائد ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں ایک ایسا انگور بھی پیدا ہوتا ہے جو انتہائی نایاب ہے اس انگور کو مارکیٹ میں روبی رومن کے نام سے جانا جاتا ہے-


    انگور کی اس قسم کو رنگوں کے حساب سے تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ایک گچھے کو اس بار 76 ہزار 174 روپے میں فروخت کیا گیا اور امریکی کرنسی میں یہ رقم 450 ڈالرز بنتی ہے۔

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

    اس انگور کے سائز، ذائقے اور رنگت کی وجہ سے اس کو نایاب سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت عام انگور سے کہیں زیادہ ہے اس انگور کو فروخت سے پہلے انسپیکشن کے لیے لے جایا جاتا ہے جہاں پر فوڈ ماہرین رنگت، ذائقہ اور دیگر چیزوں کو چیک کرنے کے بعد اس کو فروخت کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    جاپان کی یونیورسٹی پرفیکٹورال کے محقق ہیروشی نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا حصے میں انگور کی یہ قسم نہیں پیدا ہوتی اور اسی وجہ سے اس کو انفرادی حیثیت حاصل ہے۔

    حراست میں لیےگئےسینئر صحافی وارث رضا:خود ہی گھرپہنچ گئے

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

  • زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جس نے بہت کم لوگوں کو چھوڑا ہے۔ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کرچکی ہے چاہے وہ بعد ازاں اس سے کنارہ کشی کرلیں۔ نوجوان نسل میں اس کا استعمال قدرے زیادہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ایک نوجوان ہی قوم کا بہ تر مستقبل بنا سکتا ہے اور اسی لیے دیگر ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی تربیت کا اہتمام کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑا ہوکر قوم کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضراثرات سے آگاہ کرنا بچپن سے ہی شروع کردیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزل کی جانب گامزن ہے۔سگریٹ نوشی بیماریوں کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 60لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوکر مر جاتے ہیں۔ان میں سے 6لاکھ کے قریب ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی صرف اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان بیماریوں کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

    دنیا میں اس وقت بھی ایک ارب سے زائد لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے۔
    2018ء میں ایک ہوئی تحقیق کے مطابق تمباکو میں 7ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم 69ایسے ہوتے ہیں جو کینسر و سرطان کا باعث بنتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مضراثرات سے تو آپ سبھی واقف ہی ہوں گے جن میں کینسر، فالج اور امراض قلب وغیرہ ہیں لیکن ایک ایسا نقصان بھی ہے جس سے اکثریت ناواقف ہے اور وہ ہے بالوں سے محرومی۔

    2020ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق 500افراد میں سے 425لوگوں کو بالوں سے کسی نہ کسی حد تک محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 500ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے ان میں یہ شرح 200کے قریب تھی اور اس میں بھی لازماََ دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق نکوٹین اور دیگر کیمیکل بالوں کی گرنے کی شرح کو تیز کردیتے ہیں تاہم انھوں نے اس متعلق مزید تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔لندن کالج یونی ورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی جس میں 1946ء سے لے کر 2015ء تک کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جو دن بھر میں صرف ایک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں امراض قلب کا خطرہ48فی صد ہوتا ہے اور خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 57فیصد پر جاپہنچتی ہے۔اس طرح مردوں میں فالج کا خطرہ25فی صد اور خواتین میں 37فی صد ہوتا ہے۔

    اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ کا کم استعمال کینسر کے خطرے کو تو کم کرتاہے لیکن فالج و امراض قلب کا خطرہ ہنوز موجود رہتا ہے اس کے لیے اس لت سے مکمل جان چھڑوانا ضروری ہے۔
    پاکستان میں اس کا استعمال جہاں بڑھ رہا ہے وہی پر اس کے خلاف معلومات کی آسان فراہمی اور حکومتی اقدامات بھی ماضی سے قدرے بہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ باغی ٹی وی کی جانب سے میڈیائی معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانا قابل تحسین و لائق تقلید ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن سے تمباکو نوشی کی لت سے جان چھڑوانا ممکن ہے تاکہ قارئین اپنے اردگرد سگریٹ نوشی کرنے والوں کو مطلع کرسکیں اور انھیں ابھاریں کہ اس لت سے اپنی جان چھڑائیں تاکہ آنے والی نسل اس کے برے اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔ سب سے پہلے تو مراقبہ کی مشق کرنا ہے جس سے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ گوگل کی ایک تحقیق کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز میں اس لت سے جان چھڑانے کا عزم بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ ورزش کرنے کی عادت سے بھی نکوٹین نامی کیمیکل اپنی مانگ کم کردیتا ہے۔سگریٹ کی بو محسوس کرکے اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بھی افادیت دیتا ہے کیوں کہ دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی پاک طرز زندگی کی طرف لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق دوہفتوں تک وزن اٹھانا بھی فائدہ دیتا ہے۔پالتوجانوروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑواسکتا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق کسی سے بات چیت کرنا بھی 11فیصد تک اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس لت سے جان چھوٹ جاے۔نئے مشاغل کو اپنانا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا بھی آپ کو قابل بناتا ہے کہ آپ اس سے جان چھڑوائیں۔انور شعور کا کہنا ہے کہ
    ؎زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو
    طیور عام یہ پیغام ہر طرف کردیں
    آخر پر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اور اقدامات اسی وقت قابل عمل ہوں گے جب آپ پکا ارادہ کرکے اپنی قوت ارادی کو اس طرف لگادیں گے ورنہ تو مضبوط قوت ارادی کے مالک اس بیماری میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک جان نہیں چھڑواپاتے۔

    ٹویٹر اکاونٹ: @AframirzaDn

  • پیار، پریم اور پریتم ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    پیار، پریم اور پریتم ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ؎من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
    خود میں اتنا ڈوب جا مل جاے گا میت
    ابراہیم اشکؔ کے اس دوہے کے پہلے مصرعہ میں میری نظر ”پی” اور ”پریت” پر ٹھہری ہوئی ہے۔ یہاں ”پی“ سے مراد محبوب اور ”پریت“ سے مراد محبت ہے۔ سنسکرت میں پاکیزہ محبت کے لیے لفظ پری "Pri” ہے اسی سے پریا (محبوب)،پریانکا اور پریا درشنی نام بھی ہے جس کا مطلب نظروں کو لبھانے والی ہوتا ہے۔ لفظ لبھانے کو آگے جاکر دیکھتے ہیں۔ ”پری“ نے ”پریم“ کو جنم دیاپریم کو ہم سراج اورنگ آبادی کے اس شعر میں دیکھ سکتے ہیں۔
    ؎تجھ زلف میں دل نے گم کیا راہ
    اس پریم گلی کوں انتہا نئیں
    اردو زبان میں ایک عام لفظ ہے ”پیار“ یہ بھی پری سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو گیتوں میں جب پیا پکارا جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پری کا ہی روپ ہوتا ہے۔قلی قطب شاہ کیا خوب کہہ گئے ہیں کہ
    ؎پیا باج پیالا پیا جاے نا
    پیا باج یک تل جیا جاے نا
    اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ love کی تو یہ پہلے lew تھا پھر lewbhبنا اور جرمن زبان میں پہنچ کر luboکا پیراہن پہن لیا اور قدیمی انگریزی میں جاکر lufu کا تاج پہن کر love ہوگیا۔ روسی اسے لیوب ”liub” جب کہ جرمن ”lieb” کہتے ہیں۔ انگریزی لغات بتاتی ہیں کہ جرمن لفظ کا ماخذ leubhہے اب اگر سنسکرت کے لفظ لوبھ (محبت، شہوت) پر نظر ماریں تو عقدہ کھلتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تعلق باہمی ہے۔اور پھر اسی سنسکرت کے لفظ سے اردو کا لفظ لبھانابن گیا جس کامطلب لالچ دینا، پرچانا اور پُھسلانا وغیرہ ہے۔ آرزو لکھنوی کا شعر ملاحظہ کیجیے
    ؎معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
    دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
    شپلے اور کلے براون جیسے ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ”پرائی” اور ”پری” کا ”پریا” سے تعلق ہے۔ اب ہمارا گمان ہے کہ پ (P) کی آواز ف (F)سے بدل گئی اور انگریزی کےFree اور جرمن کے Frei بن گئے۔ حضرت انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کو قیمتی ترین سمجھتا ہے اور اسے حتی الامکان آزادی دی جاتی ہے۔ اب اگر ہم جمعہ کی انگریزی Fridayپر نظر ماریں تو اس میں بھی غالب امکان ہے کہ یہی مادہ کارفرما ہوگا۔ویسے انگریزی کا مذکورہ لفظ Freyaسے نکلا ہے جو کہ ایک مفروضے کے مطابق پیار اور خوب صورتی کے دیوتا سے منسلک ہے اور شاید اسی کی وجہ سے انگریزوں کا خیال ہے کہ جمعہ کے روز پیدا ہونے والے بچے کے مقدر میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ پری کے”پ“ کا”ف“ سے بدلنا ہمیں انگریزی کے fray اور frightجیسے الفاظ سے روشناس کرواتا ہے۔ انگریزی میں friendہی ایسا لفظ ملا ہے جو پری کے اصل تک لے جاتا ہے۔ سویڈن کے لوگ دوست کو frande اور پرتگال کے لوگ veiend کہتے ہیں۔ قدیمی انگریزی محبت کرنا کو Freon لکھتے تھے جو کہ Friendکا ماخذ ہے اور یہ سنسکرت کے لفظ پری کے مفہوم سے مجھے توکچھ دور نہیں لگا۔باقی احمد پوری کا شعر پڑھیے کیا بروقت یاد آیا ہے اور ہمیں اجازت دیجیے
    ؎ دوست ناراض ہوگئے کتنے
    اک ذرا آئنہ دکھانے میں

  • کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ کو بتایا تھا کبالہ کیا ہوتا ہے اس کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟ اور آج کے کالم کا عنوان ہے کہ یہ کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟ شیطان کے ان پیروکاروں کو کن علامات سے پہچانا جا سکتا ہے؟ آج کل کے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ڈارک ویب سے کیا تعلق ہے؟اگر ہم صرف پاکستان کی ہی بات کریں تو یہاں آپ کو اصلی اور جعلی بہت سے عاملین نظر آئیں گے اور ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس بہت سے موکل ہیں جن کے ذریعے وہ آپ کی تمام پریشانیوں اور مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔یہ موکل دراصل جنات ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نیک جن ہوتے ہیں اور کچھ بد۔۔۔ بدی کو ماننے والے جنوں کے ذریعے سے کبالہ اور کالا جادو کروایا جاتا ہے۔یہ عاملین کچھ ایسے عمل کرتے ہیں یا آپ کہہ لیں کہ ایسے چلے کاٹتے ہیں، شیطان کی پوجا کرتے ہیں جس کے بعد یہ موکل یا جنات کسی حد تک ان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔ جس کے بعد ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بھی یہ عاملین مسلسل کچھ اس طرح کے کام یا چلے کرتے ہیں تاکہ یہ موکل ان کے کنٹرول سے باہر نہ جا سکیں۔

    ان چلوں کے لئے سب سے پہلے تو یہ عاملین پاک اور ناپاک کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔ پیشاب، پخانہ، نجاست، خون ان کو اس سے گھن نہیں آتی بلکہ اپنے چلوں میں یہ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کالے جادو کے لئے خاص طور پر خون کے ساتھ تعویز لکھے جاتے ہیں۔ تعویزوں میں شیطان کی علامات بنائی جاتی ہیں یا شیاطین کے نام لکھے جاتے ہیں۔ کچھ گنتی کو بھی الٹا سیدھا لکھ کر کچھ کوڈز بنا کر لکھے جاتے ہیں جن کا صحیح مطلب صرف اس شیطان کے پیروکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قرآنی اوراق کو جلایا جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو الٹا لکھا جاتا ہے۔ جادو کے لئے جس انسان پر یہ عمل کرنا ہو اس انسان کے پہنے ہوئے کپڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کالا مرغا، کالا کتا، کالی بلی یا کالی سری بھی جادوئی عمل کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ چاند کی تاریخوں میں مختلف پتلے بنا کر اس پر سوئیاں ٹھوکی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے کاروباروں کو ٹھپ کروایا جا سکے، میاں بیوی والدین اور بچوں کے آپسی تعلقات خراب کروائے جا سکیں۔ لوگوں کی صحت متاثر کروائی جا سکے۔ دولت، طاقت اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔اس کے علاوہ شیطانی علامات کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علامات کو لاکٹ بنا کر گلے میں پہنا جاتا ہے۔ یا جسم پر ان نشانوں کے Tattoos بنوائے جاتے ہیں۔ جیسے شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سینگھ ہوتے ہیں تو جو شیطان کے پجاری ہوتے ہیں یا جو ان کو مانتے ہیں وہ اکثر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اسی طرح کے نشان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکون، پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان یہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان کی پوجا کرنے والوں کا ایک نشان 9/11بھی ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ کبالہ کی قدیم ترین کتابوں میں جادو کے لئے جو کوڈنگ کی گئی تھی اس میں دس کا ہندسہ خدا کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور گیارہ کا ہندسہ شیطان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اب9/11کو اکھٹا لکھ کر یا نشان بنا کر نو اور گیارہ کے درمیان سے دس کو ہٹا کر دراصل یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدا کو نہیں مانتے بلکہ شیطان کی طاقت کو مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    9/11 پر جو حادثہ ہوا اور جس پلاننگ کے ساتھ یہ کیا گیا جس کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی وہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن 9/11کا ہندسہ اس سے پہلے بھی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ Simpson cartoonsکے بارے میں اگر آپ جانتے ہوں تو اس میں بھی اس کا بہت سی جگہوں پر استعمال کیا گیا تھا۔ انگریزی فلموں تک میں اس سائن کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک ہاتھ کا نشان بھی ہوتا ہے جس کی ہتھیلی پر ایک آنکھ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشانات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ قبروں سے کھوپڑی اور ہڈیاں نکال کر ان پر بھی جادوئی عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ہاتھ کی کلائی پر لال رنگ کا دھاگہ باندھتے ہیں۔ اور شیطانی عملیات سے متعلق جتنے بھی سائن ہیں ان کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب اصل میں شیطان کے ساتھ اپنی عقیدت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف کہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ان سے کیا تعلق ہے؟

    دیکھیں یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی نے صرف اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرنی ہے تو وہ مرد کسی عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے موٹروے کیس میں دیکھا اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کوئی ایک مرد یا چند مردوں کا گروہ ایک عورت کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہو جاتے ہے یا زیادتی کے بعد اس کو کسی ویران جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن آجکل آپ کو زیادہ تر ایسے کیسسز سنائی دیں گے جس میں لڑکیوں یا چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی جاتی ہیں پھر ان پر تشدد کرکے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے اور لاش کو بوری یا شاپر میں بند کرکے یا ویسے ہی کچرے کے ڈھیر پر یا کسی سنسان جگہ پھینک دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا جادو سیکھنے والے یا کالا جادو کرنے والے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں پہلے بچی کے ساتھ ناجائز عمل اور زیادتی کی کرتے ہیں پھر شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس بچی کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاص کر وہ قتل جس میں کسی بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے جائیں یا پھر مختلف حصوں کا کاٹ کر الگ کر دیا جائے اس کے علاوہ گردن کو جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایسے چلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ کالے جادو والے عاملین خود بھی شیطان کو خوش کرنے کے لئے یہ کان کرتے ہیں اور آگے اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام کرواتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا مشکل کام نکلوانا ہے یا یہ جادو سیکھنا ہے تو تمھیں بھی یہ سب کرنا ہوگا۔

     

    اس کے علاوہ جو واقعات ہم مردہ عورتوں کی لاش کو نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کے سنتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے مردہ لاشوں اور قبرستان کی ویران جگہوں کو خاص طور پر جادو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرکے شیطانی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ان واقعات کا ڈارک ویب کے ساتھ تعلق بھی دراصل ان شیطانی عملیات کی وجہ سے ہی ہے۔ کیونکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں قوانین بہت سخت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کےSatanic cultوالے لوگ کیونکہ شیطان کے سامنے انسانوں کی قربانی نہیں دے سکتے تو وہ ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں جہاں لوگوں کا قانون کے ہاتھوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور ان کی حکومتوں کے لئے بھی ڈارک ویب تک پہنچنا مشکل کام ہے یہاں سے لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے یہ زیادتی اور قتل کے واقعات کروائے جاتے ہیں اور خود ان کی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو قاتل جتنی زیادہ درندگی کرتا ہے جو کسی بچی کو جتنی بے دردی سے مارتا ہے اس کو اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔اس لئے ہمیں اگر اپنی سوسائٹی کو اس طرح کے واقعات سے بچانا ہے تو ہمیں دراصل اپنے لوگوں کو شیطان کے پجاریوں سے بچانا ہو گا۔ اس طرح کے عاملین سے بچانا ہو گا جو جن نکالنے کے نام پر ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو شرک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

  • چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر

    چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر

    میرا آج کا موضوع ان لوگوں پر ہے جو روزی کمانے کیلئے گلی محلوں میں گھومتے رہتے ہیں،
    اپنا وقت لگاتے ہیں، تپتی دھوپ میں نکلتے ہیں۔ میں بات کر رہی ہوں چھابڑی والوں (Street Hawker) کے بارے میں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
    اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح کوئی انسان برابر نہیں۔
    اللہ نے کسی کو امیر بنایا تو کسی کو غریب
    اللہ امیر کو دے کر آزماتا ہے تو غریب سے لے کر آزماتا ہے۔
    اللہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا خرچ کرتا ہے دوسروں پر،
    اللہ دیکھتا ہے میرا غریب بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔۔
    کوئی اچھا کاروبار کرتا ہے تو کوئی چھوٹا۔
    اسی طرح کچھ ایسے لوگ جو گلی محلوں میں گھوم کر تپتی دوپہر میں بارش میں اپنی روزی کو کمانے نکلتے ہیں،
    جیسے سبزی والا، سموسوں والا، جو سکولوں کالجوں کے باہر ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی حرام روزی نہیں کمارہے یہ اپنی محنت سے حلال رزق کماتے ہیں۔
    لیکن کچھ انکو حقیر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
    کیوں سمجھتے ہیں لوگ ایسا؟؟؟؟
    وہ کچھ ٹائم کیلیے سوچے اگر یہ سبزی والے نہ ہوتے تو گھروں میں کیا بناتے ظاہر سی بات ہے دالیں گوشت وغیرہ،
    لیکن انسان سبزی کے بغیر نہیں رہ سکتا
    تو یہ سب حلال رزق کماتے ہیں اپنے گھر والوں کو پالنے کیلیے۔۔
    چاہے کم ہوتا ہے لیکن جتنا اللہ چاہتا ہے اسے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
    بیشک حلال رزق میں برکت ہوتی ہے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ۔
    اللہ پاک نے ہر انسان کی قسمت میں اسکا رزق پیدا ہوتے ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہم سبکو ایک مقصد کیلیے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اپنی آخرت کو سنوار سکیں عبادت کرسکیں اللہ کا شکرادا کریں۔
    اللہ نے ہر انسان کی قسمت کو بہتر اور بہترین بنایا ہے صرف مسلمان ہی نہیں کافر کے ساتھ بھی
    اللہ پاک ہم سب کو حسن سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔ صرف مسلمان کے ساتھ نہیں ہر انسان کے ساتھ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، امیر ہو یا غریب ہو عربی ہو عجمی ہو یا جو بھی ہے۔
    اللہ کی نظر میں کوئی بھی انسان کمتر نہیں ہے۔ ہم انسان ایک مکھی کے پر جتنا بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے لیکن اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کا مذاق اڑاتے ہیں
    کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
    میری ان سب سے درخواست ہے جو لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان سب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں کہ وہ خود کو نا شکرا بنا لیں۔
    کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،
    اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کو برابر سمجھنے اور مساوی سلوک کرنے والا بنادیں۔
    آمین ثمہ آمین

  • حصّولِ عزت ایک آزمائش  تحریر: یاسر خان بلوچ

    حصّولِ عزت ایک آزمائش تحریر: یاسر خان بلوچ

          عزت زلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء بیدک الخیر کا مالک شہنشاہ مطلق کی ذات ہے۔ لوگ پیسوں کے ساتھ اپنی عزت اور معیار بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، عزت کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اور اپنا سٹیٹس بڑا شو کرنے کیلئے بڑے بڑے رشتوں کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اپنے سے بڑے رُتبے والے سے دوستی رکھتے ہیں۔ عزت کیلئے انتھک محنت رات دن ایک کر لیتے ہیں صبح شام دوڑ لگی ہوتی ہے۔

          یہاں جس کی ایک لاکھ مہینہ کی آمدن ہو وہ سمجھتا کے میں سب سے زیادہ معتبر شخص ہوں مجھے عزت دی جائے میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔ کسی کو کرسی مل جائے وہ سمجھتا کہ عزت مل گئی، اچھی نوکری مل جائے سمجھتا عزت مل گئی، کالا دھندہ چلنے لگ جائے سمجھتے ہے کہ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ نادان سمجھتا ہے جتنی بڑی کوٹھی ہو گی، جتنے زیادہ نوکر چاکر ہوں گے اتنی زیادہ عزت ہو گی پتہ نہیں ہم لوگوں نے عزت کو کیا سمجھا ہوا ہے؟ 

          دراصل عزت میں عزت ملے گی جتنی عزت کرو گے اتنی عزت ملے گی تمہیں سب سے پہلے عزت کا حق ادا کرنا ہے رب العزت کا پھر رب کے نبی کی عزت کا پھر مومنین کی عزت کا  خدا اور اس کے رسول کی آمد کا رسول کے صحابہ کی عزت کرنے کا اگر تم ان سب کی عزت کا حق ادا کر لیتے تو پھر یقین رکھ اپنے رب کریم پر وہ کبھی بھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ اور اگر تو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور بڑی کوٹھی بڑے رتبے اور زیادہ پیسے کے حصول کیلئے دوڑ لگائے گا اور ان کی عزت نہیں کرے گ جن کی عزت تم پر فرض ہے تو یہ بات جان لے کہ وہ ذات تجھے تیرے گھر میں بے عزت کر کے چھوڑے گا۔

          یہاں ہم سب آزمائش میں ہیں۔ اللہ آزمائش کرتا ہے مال و اولاد دے کر، علم دے کر، حسن دے کر، بھوک دے کر، نوکری دے کر، دُکھ دے کر، سکھ دے کر ہر حال میں آزمائشیں ہیں۔ عزت ذلت کے فیصلے موت کے وقت ہوتے ہیں یا پھر آخرت میں ہوں گے۔

          یہاں پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں معزز ہوں عزت والا ہوں تو پھر عزت دار بننے کے جھوٹے خواب کیوں دیکھتا ہے؟ 

          موت کو جتنا زیادہ یاد رکھو گے اتنے زیادہ ذرائع عزت کے رب عطاء کرے گا۔اللہ تیری وہاں سے عزت بنائیں گے جہاں تک تیری سوچ بھی نہیں ہوگی، تیرا وہ مقام ہو گا جس کے تم مستحق ہو گے۔

          اگر ہمیں عزت دار بننا ہے تو ہمیں قرآن مجید اور سیرت مصطفیٰ کو سامنے رکھ کر خود کو دیکھنا چاہیے۔ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہو گا کہ معزز کس طرح ہوتا ہے اور ہم کیا ہیں۔ ہمیں قرآن مجید اور سیرت محمد مصطفیٰ کو آئینہ بنا کر دیکھنا ہو گا۔ اور انہیں کے بتائے ہوئے راستے پر ہی تو ہم عزت حاصل کر سکتے ہیں۔

          @YasirKhanblouch

  • کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ

    کبالہ لیا ہے؟ کبالہ دراصل بابل کی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد شمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر کالا جادو یا Black magicبھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا باہرسے تو بہت رنگین، حسین اور خوبصورت نظر آتی ہیں لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے راز چھپے ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں وہ یہ راز چھپانے کے لئے ہر حد تک چلے جاتے ہیں اس کے لئے چاہے ان کو کسی ایک یا پھر بہت سے انسانوں کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ ان طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطانی پیروکار ہیں اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات اورHypnotismکے ذریعے دماغ اور اس کی سوچوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے اس کے ذریعےAluminatiجو کہ دنیا کا ایک فیصد ہیں شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں اور شیطان انہیں دنیا کو گمراہ کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سمجھاتا ہے جس کو اپنا کر یہ لوگ دولت شہرت اور حکمرانی کے خواب کو پہلے ہی پورا کر چکے ہیں۔

    کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکل میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے بنی اسرائیل تک سے ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اور آپ ہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے جو موجودہ فلسطین میں آباد تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام جن کا قصہ یقینا ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیسے حسد کی بناء پر ان کے سوتیلے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ پاک نے آپ کو مصر کی حکمرانی عطا فرمائی، آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین سے مصر بلوا لیا اور یہ لوگ یہاں آکے آباد ہونے لگے۔
    مصر میں ان دنوں جادو میں عروج کمال پر تھا یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے مثال کے طور پر سامری نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لیئے فرعون کے کہنے پہ بلوائے گئے تھے وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتے تھے۔اس دور کے مصری بادشاہوں کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے جادوگر فرعون کو کبالہ نامی کالے جادو کے ذریعے سے شیطان سے رابطہ کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سکھاتے اور ایسی ایسی ایجادات کرواتے جن کو ابھی تک سائنس سمیت انسانی عقل حیرت سے تک رہی ہے انہی ایجادات میں ایک احرام مصر بھی شامل ہیں، نمرود کے دور کی عجیب ایجادات بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ سے فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران بنی اسرائیل قوم فرعونوں میں رہتے ہوئے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کرنے لگیں۔

    بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کر لی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس کبالہ کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا ۔مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا بچے کچے یہودی مجبورا ہجرت کر کے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پہ حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
    لیکن پھرگیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں ان بچے کچے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نامknight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیرز نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو انknight templarsنے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کر کے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پہ حکمرانی کرنا انknight templars کا مقصد تھا۔ یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہی کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کر کے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ جب عیسائیوں کو ان knight templars کے یہودی ہونے کا پتہ چلا تو انہیں قتل کرنا شروع کر دیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر یہknight templars سکاٹ لینڈ ہجرت کر گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں سے اپنا اثر و رسوخ پورے برطانیہ تک پھیلا دیا۔ یہاں سکاٹ لینڈ میں انknight templars کے یہودیوں نے لوگوں کو طاقت اور دولت کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دیئے کیونکہ وہ لوگوں پر حکمرانی کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیلنے کے تمام تر حربے جان چکے تھے یوں آہستہ آہستہ لوگ دولت اور ان کی سوچ کا شکار ہو کر ان میں شامل ہوتے گئے کیونکہ انسان فطری طور پر دولت اور طاقت ہی چاہتا ہے اور یوں یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128 میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا جس کے نتیجے میں اسknight templarsنامی تنظیم کو تمام یورپی قوانین سے استثنی حاصل ہو گیا اور یہی چیز ان کے طاقت میں اضافے کا باعث بنی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت جلد ہی یہ لوگ دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ جائیدادیں، قلعوں، جاگیروں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے لگے۔

    یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی اس تنظیم کا سربراہ Grand masterکہلاتا ہے اور ان کے نائب ماسٹر کہلاتے ہیں۔ گرانڈ ماسٹر کا حکم ان کے لیئے خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ بیرون ممالک سفر کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ راستے میں ڈاکووں کا خدشہ رہتا تھا انknight templarsنے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔ بعد میں یہی یہودیknight templarsیورپ میں پہلے سے موجود ایک تنظیم میسن گِلز میں شامل ہوگئے اور یہاں کبالہ جادو کے رسومات اور علامات متعارف کروانا شروع کر دیئے۔ کچھ عرصہ بعد میں انknight templarsیہودیوں نےMeson gillsکے ہی اراکین میں سے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اپنا نام بدل کرFree meson رکھ لیا اور یوںFree meson نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزارگی کو فروغ دینا تھا انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔چنانچہ اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس تنظیم نے یورپ میں جنگوں کو بڑھایا اور سودی کاروبار یعنی بینکنگ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف وغیرہ بنا کر دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ کیونکہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ اس کی معیشت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تیر سے دو شکار کر کے مغرب میں جنگ کروا کر مذاہب خاص طور پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مذہبی بیزارگی کو فروغ دیا اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے اپنے ہتھیار بھیج کر اربوں پتی بن گئے۔سترہ سو چھہتر میں اسFree meson نے مل کر ایک نئی تنظیم
    Aluminati قائم کی،Aluminati کے نظریات اور مقاصدFree meson کے جیسے ہی تھے۔ لفظAluminati کا مطلب علم کی روشنی سے معمور ہے۔ سبAluminati خود کو دنیا کے علم میں خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ ان کے سبplans خفیہ رہتے ہیں کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ جو علم ان کے پاس ہے وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہونا چاہیئے اسی لیئے ان کا دین ان کا ایمان ان کا جینا مرنا سب ہیAluminati ہے۔بائیبل میں ابلیس کا نام لوسیفر بتایا گیا ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا علمبردار۔ دراصل شیطان کو لوسیفر تب کی بناء پہ کہا گیا ہے جب وہ اللہ کا فرمانبردار ہوا کرتا تھا لیکن یہ تنظیمیں آج بھی شیطان کو اچھا مانتی ہیں اس لیئے وہ شیطان کو لوسیفر ہی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ لوسیفر ہر چیز کا منبہ ہے خاص طور پہ ساری روشنی اور سارے علوم کا۔ Albert pikeجوکہFree mesons کے فاونڈرز میں سے ایک تھا وہ ایک 33 ڈگری Free mesonتھا جیسے ہمارے ہاں درجہ بدرجہ اولیاء اللہ اور تقوی کے لحاظ سے بڑی بڑی ہستیاں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کے ہاں بھی بتدریج ابلیس کے پجاری ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا درجہ 33 ڈگری کا ہے۔Albert pike کی کتابMorlis and Dogmaآج بھی
    Free mesonکے سٹوڈنٹس کو رہنمائی کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کے کچھ کلمات آپ سے شیئر کرتا چلوں جہاںAlbert Pike لکھتا ہے۔کوئی شک نہیں یہ Lusipher ہی ہے جس کے پاس تمام انوار ہیں تمام روشنیاں ہیں۔ اسی لیئے یہ تمام لوگ کوCurrent bulletسے تشبیہ دیتے ہیں اور اکثر جسم کے مختلف اعضاءپر کرنٹ کے نشان نماTattosبنوا کر پھرتے ہیں۔

    کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Aluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ تیرہ Blood lines یعنی خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہAluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ممبرAluminati
    کے کسی قانون اور رول کی خلاف ورزی کرے تو اسے عبرتناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے۔Aluminatiکی تیرہ نسلوں میں ایک خاندانDavid Philipکا ہے جبکہ ایک خاندانRothus Childکا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial systemاورامریکہ کےFederal Reserves bankکے مالک ہیں ، یہ لوگ80سے 90فیصد کنٹرول دنیا پہ حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں انسان کی آسائش اور آسانی کے لیئے طرح طرح کے فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے مقاصد شیطانیت کوPromoteکرنا ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنی فیلڈ کی مشہور شخصیات کو اپنے دائرے میں ایک حد تک شامل کرتے ہیں یا پھر اپنے ہی لوگوں کو عوام کے درمیان مشہور کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا فلموں کی دنیا وغیرہ ہو یہ اپنے اداکاری کے جوہر دکھا دکھا کر لوگوں کےFavouriteہیرو اور سیاست دان بن جاتے ہیں لوگ انہیں اپنا مسیحہ اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کے چال چلن کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں انہیں سپورٹ کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ شکار جال میں پھنس چکا ہے تب بہت ہی غیر محسوس انداز میں ان کیMind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک پرانا طریقہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ان کو پارٹیز میں بلواتے ہیں نشہ کی لت لگاتے ہیں اور ان پر فل کنٹرول حاصل کرکے ان سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں۔ جو نوجوان ان کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں ان کو مار دیا جاتا ہے ساتھ ہی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گروہ کے سینئر لوگ مزید طاقت حاصل کرنے اور شیطان جس کی یہ پوجا کرتے ہیں اس کو خوش کرنے کے جنون میں اپنے ہی جونئیر پیروکاروں کی بھی بلی چڑھاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی عبادات اور عملیات کرتے ہیں اس کے بارے میں آئندہ آنے والے کالم میں بات کی جائے گی۔