Baaghi TV

Category: متفرق

  • مزاحیہ فنکار؟  یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    مزاحیہ فنکار؟ یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    80ء کی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں میں اپنے پیر جمانے کے لئے داخل ہوئی تو اس وقت افغانستان میں موجود ایک مخصوص طبقے نے ان روسیوں کا بھرپورساتھ دیا۔ روس نے بھی ان ضمیر فروشوں کو اپنے عزائم کے لیے خوب استعمال کیا۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر کیمونیسٹ تھا جنہیں آجکل سرخے کا نام سے جانا جاتا ہے۔

    بنیادی طور پر سرخہ جس کا مقصد ہی غلامی ہے انکی ذہنیت مادرپدر آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ لبرلزم کے نام پر مذہبی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے یہ روسیوں کے ساتھ تھے اور اب بھارت کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ انکی حیثیت کسی استعمال شدہ ٹشویپرز کے جیسی ہے۔ یہ پہلے استعمال ہوتے ہیں جیتے جی اور پھر انکی لاشیں بھی اسی دشمن کے ایجنڈے کو سرو کرتیں ہیں جسکے انہیں معاوضے تک نہیں ملتے۔۔۔ حالیہ دنوں میں اسکی ایک مثال بھی ملی۔ شوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جسکے ساتھ یہ تحریر درج کی جا رہی تھی

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1420063152620941323

    ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ ہونے والی یہ تصویر غالباً چھے سال پرانی ہے اور یہ ٹویٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان میں پشتون قوم کو تحفظ کے نام پر چونا لگانے والا منظور پشتیں ہے جس نے نقیب اللہ محسود مومنٹ کو ہائی جیک کر کے اپنے ناپاک ملک دشمن عزائم کو پورا کیا اور خوب پیسے کمائے۔

    یاد رہے کہ جسے بار بار پاک افغان سرخہ گروپ "مزاح نگار” کہہ رہا ہے وہ درحقیقت ہتھیاروں کا شوقین ایک بچہ باز شخص تھا۔ اپنی پچاس سالہ زندگی میں کمال محنت سے جرائم کی دنیا میں بھی اس نے خوب نام کمایا تھا۔ بچوں سے جنسی تعلق استوار کرنے کا شوقین یہ شخص دکھنے میں ہی پرانی بالی ووڈ فلموں کا شکتی کپور لگتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص کی جدید اسلحے کے ساتھ لی گئی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو اسکے کردار کا بخوبی اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں۔۔ یہ اور بات ہے کہ بھارتی چینلز اور این۔ڈی۔ایس کے کابلی بھیڑ اسے مزاح نگار ثابت کرنے پر تُلّے ہوئے ہیں۔۔۔

    یہ شخص جسے آج سے پہلے شاہد ہی آپ نے کبھی دیکھا ہو کو راء اور این۔ڈی۔ایس سوشل میڈیا پر "مشہورِ زمانہ” بتاتے پھر رہے ہیں۔ یہ اتنا ہی مشہورِ زمانہ ہے کہ اسے مشہور کہنے والوں کے قریبی رشتےدار تک اسکے نام سے ناواقف ہیں۔ ویسے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ موصوف نذر محمد الیاس خاشا زوان کے نام سے پکارے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی پارلیمان میں براجمان انہی سرخوں کے ساتھی احباب بھی اسی لائن کو ٹریس کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔۔ محسن داوڑ نامی رکن قومی اسمبلی کے الفاظ میں:

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/mjdawar/status/1420080452984000514

    گویا کہ یہ بھی وہی سکرپٹ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں جو کابل سے انہیں وٹس ایپ کیا گیا تھا۔۔۔ آج سے پہلے ہم نے کبھی محسن داوڑ کے منہ سے اس شخص کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا لیکن اچانک محسن داوڑ کی جانب سے اس نام نہاد مزاح نگار کی شان میں قصیدے اور افغان طالبان کے امن مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔۔

    اگر آپ اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ برائی ہے جو قندھار میں طالبان کے ہاتھوں مار دی گئی ہے اور ہمارے کچھ جاہل لوگ ، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں ، اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

    پہلے ، یہ ایک ازبکی تھا ، پھر وہ اس پوسٹ کی کمانڈ کررہا تھا ، عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے عظیم آقا کی توہین کرتا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان قوم اس مسخرے کو ناپسند کرتی تھی۔ ایک وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ ٹی۔ٹی۔پی کے دہشتگرد کمانڈروں جیسی شخصیت کا مالک شخص تھا۔

    میرا موقف نہایت صاف اور واضح ہے۔ سوال اس شخص کی معصومیت یا بے گناہی کا نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کا ہے جو اسکو اچھا بنانے کے لیے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ہمارے رکن قومی اسمبلی جناب محسن داوڑ اور دیگر سرخوں کے پاس کیا وجوہات ہیں؟

    @MrWaheedgul

  • ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہمارے معاشرے میں جہاں نفسا نفسی کا دور ہے وہیں ہر بندہ جلد بازی کے چکر میں رہتا ہے ،کوئ امیر ہونا چاہتا ہے تو وہ بجائے محنت کرنے کے سوچتا ہے کہ میں بس کسی طریقے سے جلدی امیر ہوجاوں پھر وہ یقینن جلدی امیر ہونے کے چکر میں غلط کاموں میں پڑجاتا ہے جس سے اسے شائد کچھ وقتی فائدہ ہو لیکن آخرکار ایسی جگہ پھنستا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئ راستہ نہیں بچتا ،اسی طرح ہمارے ملک میں لوگ انصاف کے حصول کے لئے بھی بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس میں عدالت پہنچوں تو جج صاحب میرے حق میں فیصلہ دیئے بیٹھے ہوں
    اسی جلد بازی کے چکر میں اور جن سے دشمنی ہوتی ہے ان کو ذیادہ سے ذیادہ نقصان پہنچانے کے ارادے سے وہ سب سے پہلی غلطی FIRدرج کرواتے وقت کر بیٹھتا ہے
    ایف آئ آر کا یہ اصول ہے جتنی سوچ سمجھ کر اور اصل حقائق ،اور فوری طور پر درج کروائ جائے ،جن ١/٢ لوگوں نے آپ کو نقصان پہنچایا صرف ان کے نام اور بلکل سچے حقائق درج کروانے چاہئیں ،ہمارا جھگڑا کسی ایک بندے سے ہوتا ہے ایف آئ آر میں اس کے مامے،چاچے،تایا،دوستوں ،رشتیداروں سب کے نام دیتے ہیں تاکہ ان کو ذیادہ سے ذیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے حالانکہ معاملہ عدالت جانے کے بعد کافی حد تک اس کے الٹ ہوجاتا ہے
    ایک بات رکھیں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے
    آپ ایف آئ آر میں جتنی من گھڑت کہانیاں لکھیں گے اتنا ہی آپ کا نقصان ہے
    پہلے تو کسی بھی معاملے پر تمام اصل حقائق اور آپ سے جو ذیادتی ہوئ وہ لفظ بہ لفظ درج کروائیں
    کئ بار ایسا ہوتا ہے آپ کے سامنے والی پارٹی بڑی اثر رسوخ والی ہے تو پولیس آپ کی ایف آئ آر درج نہیں کرتی یا ٹال مٹول سے کام لیتی ہے تو آپ فوری طور عدالت جاسکتے ہیں اور عدالت حکم جاری کرے گی کہ ان کی ایف آئ آر درج کی جائے
    ایف آئ آر کے بعد اگر جرم قابل ضمانت ہیں تو کئ لوگ فوری اپنی ضمانت کروالیتے ہیں ،ضمانت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان عدالت سے بری ہوگئے
    اس موقع پر آپ نے ہمت نہیں ہارنی ہوتی اور نا ہی مایوس ہونا ہے بلکہ صبر سے کام لیں اپنے موقف پر جو کہ سچائ پر مبنی ہو پر ڈٹے رہیں تو یقینن آپ کو انصاف ضرور مل کر رہے گا
    کوشش کریں ایف آئ آر درج کرواتے وقت کسی وکیل کو اپنے ساتھ لے جائیں یا درخواست اس سے لکھوالیں تاکہ وہ تمام قانونی پہلووں سے آپ کی بہتر طریقے سے مدد کرسکے ،کیونکہ
    کئ بار کیس کمزور کرنے کے لئے پولیس ایف آئ آر کو کافی کمزور بنادیتی ہے جس کا بھی نقصان یقینن آپ کو ہی بھگتنا پڑتا ہے
    پھر کورٹ میں سارا معاملہ پولیس انویسٹیگیشن /پراسیکیوشن ،گواہاں اور ثبوتوں کی بنیاد پر چلتا ہے
    اور ظاہر سی بات ہے عدالتوں میں ہزاروں کیسز ہوتے ہیں اس لئے ہر کیس چند دنوں میں حل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے لئے حکومت کو عدالتوں /ججز کی تعداد میں یقینن اضافہ کرنے کی ضرورت ہے
    جلد بازی سے ہرگز کام لینے کی کوشش نا کریں
    اگر آپ کا کیس جائز ہے سچ پر مبنی ہے تو تھوڑی دیر ہی سہی انصاف آپ کو ضرور ملے گا

  • مقصدِ حَیات تحریر:افشین

    ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے جسکو پورا کرنے کے لیے وہ دن رات کوشاں رہتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا. بس ضروری یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصدِ حیات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے چھوٹے بچے کو پڑھائی کا شوق اور کچھ بننے کی اُمَنگ مثلاً ڈاکٹر،انجینیئر اور بہت سے شعبے ہیں جو وہ چاہے بن جائے پر اپنے مقصدِ حیات کو پانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہےکچھ لوگ اپنے مقصدِ حیات سے لا علم رہتے ہیں اور بے مقصد زندگی گزار کے چلے جاتے ہیں کچھ لوگوں کا مقصد دوسروں کو خُوشیاں دینا اور دوسروں کے لیے جینا ہوتا ہے ایسے لوگ ہی حقیقی زندگی کے ہیرو ہوتے ہیں ایسی بہت سے مثالیں پاکستان کی تاریخ اور دورِحاضر میں موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اور مال ومتاع دوسروں کی امداد میں وقف کردی ایسی شخصیات کا نام ہمیشہ سب کے لیے قابل احترام رہتا ہے اور کتابوں کے اوراق میں نمایاں مثال کے طور پہ لکھا جاتا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں اس سے متاثر ہو کے ان جیسا بننے کی خواہش کرتی ہیں.
    جس شعبے میں ہماری دلچسپی ہو اس شعبے میں جانے کے لیے ہم کوشاں رہتے ہیں پر اچھا انسان بننے میں اگر اتنی محنت کریں تو دین و دنیا میں سرخرو رہیں.
    اپنے مقصدِ حیات کو سب سے پہلے جاننے پھر پانے کی کوشش کریں بغیر مقصد کے جینا کوئی جینا نہیں جیسے ارطغرل غازی نے اپنے جینے کا ایک مقصد بنایا اور اس کے لیے کتنی قربانیاں دیں ایسے بہت سے نیک اور بہادر لوگ ہمیشہ کی حیات پا گئے کیونکہ انہوں نے خود سے زیادہ دوسروں کا سوچا خودغرضی کی زندگی آپکو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں دیتی سر اٹھا کے جئیں جیسے قابل محترم ایدھی صاحب نے اپنی ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں وقف کی اور جاتے بھی انکے چہرے پہ مُسکراہٹ تھی اور اپنی انکھوں سے کسی کی اندھیری زندگی میں روشنیاں بکھیر گئے ایسی مثال قابل رشک ہے ایسی قابل محترم شخصیات قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ایسی شخصیات سے ہی تو قومیں آباد ہے اگر دوسروں کا سوچنے والے ناں رہیں تو خود غرض لوگ تو ایک دوسرے کو نوچ کھائیں. آپ سب کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے اور جب تک سانس رواں رہے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ زندگی میں اتنا اطمینان رہے کہ ہم کچھ تو کیا ہے. ایک لڑکی کی جب شادی ہو جاتی ہے وہ سمجھتی ہے بس مقصد ختم ہوگیا مگر شادی کے بعد گھر کو جنت بنانا اور بچوں کی اچھی تربیت کر کے قوم کو اچھے بیٹے دینا ان کو یہ سیکھانا کہ دوسروں کے لیے جینا اور سب کو خوشیاں دینے والے بننا یہ بھی ایک مقصد ہی ہوتا ہے کسی کو بھی اللّه پاک بے مقصد نہیں بھیجا !ایک لاچار انسان یا معذور انسان جب اس دنیا میں رونقیں دیکھتا ہے سب کو کچھ نا کچھ کرتے دیکھتا ہے اس کے دل میں بھی ایک خواہش اُبھرتی ہے کہ میں بھی ایسے کام کروں اکثر خود کو بے مقصد سمجھ لیتے ہیں جیسے کہ میں خود اسکی مثال ہوں مجھے بھی لگا میں اس دنیا میں ویسے آگئ کوئی مقصد نہیں کچھ کر نہیں سکتی پر اللہ پاک بھیجا ہے ضرور مرنے سے پہلے ایسا کچھ کر جاوں گی کہ دنیا کی نظر میں نا سہی اللّه کے آگے سرخرو ہوجاوں گی انشااللّه
    کہنا یہ چاہتی ہوں اپنی زندگی کا مقصد بنائیں خوشیاں بکھیریں !! ناں کہ خوشیاں چھیننے والے بنیں اور ہمت نہ ہاریں اللّه پاک آپکو سب دیا طاقت دی مکمل انسان بنایا آپ دوسروں کا سہارا بنیں انکی آدھوری سے زندگی میں دیے کی مانند اُجالا کریں ۔ تاکہ آپ سب بھی عظیم شخصیات کی طرح مقصد حیات پا لیں !!

    "شمع کی مانند بنیں چاروں اطراف روشنی بکھیر کے خود پگھل جاتی ہے ”

  • پاکستان اور اووسیز پاکستانی  تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور اووسیز پاکستانی تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور سمندر پار پاکستانی کا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں چند مہینوں سے پاکستان سے ہماری محبت کچھ لوگوں نے اپنے پیمانوں سے ناپنا شروع کر دی
    تھی ہماری محبت لازوال ہے

    جس کا ثبوت

    پچھلے چند مہینوں سے دے رہے ہیں ہیں ہماری صبح بھی پاکستان کے لیے دعا سے شروع ہوتی ہے پچھلے دس مہینوں سے دو ارب ڈالر بھیج رہے ہیں یہ پاکستان سے محبت نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ اووسیز پاکستانیوں کو عمران خان پر اعتماد ہے اور اللہّ کرے عمران خان ہماری توقعات پر پورا اتریں

    یہاں ہر کوئی کروڑ پتی نہیں ہے زیادہ لوگ یہاں مزدوری کرتے ہیں اور اپنی فیملی سے دور ہیں ان کی صبح شام بھی پاکستان ہی ہیں

    یورپ آنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا سمجھنا چاہتا ہے یورپ والے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر آتے ہیں ان کا یہ سفر پاکستان سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ایران

    اور ترکی کا یہ سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے یہاں دوران سفر کوئی کسی کا نہیں ہوتا سوائے اللہ کے کسی کو بھوک پیاس کی فکر نہیں ہوتی ہے بس منزل پرپہنچنے کا جنون ہوتا ہے

    دوران سفر کئی روز تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے اور سر پر چھت آسمان اور بستر زمین ہوتی ہیں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یہ بھی کوئی نہیں پتہ کہ کسی وقت کہیں سے بھی گولیاں سکتی ہے ترکی آنے پر بھی بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے

    ترکی آنے پر کہیں دنوں کا انتظار کیا جاتا ہے ہے کہ کوئی بڑا شپ آئے گا اور یہاں سے آگے لے جائے گا

    یونان پہنچنے کی امید ہوتی ہے اگر وہ خیر سے کوئی پہنچ جائے تو وہاں کی پولیس سیاسی پناہ گاہوں میں ڈال دیتے ہیں اور روٹی کے لئے لمبی لائنیں اور بہت ہی گندا سسٹم پایا جاتا ہے اگر کوئی کام مل جائیں تو اس کے مقدر اچھے

    اٹلی فرانس اور جرمنی میں آتے آتے بہت وقت لگ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو کہیں یہاں پہنچ نہیں سکتے ۔ مطلب کے راستے میں ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اپنے پچھلے خاندان کو ساری عمر کا رونا بھی دے جاتے ہیں
    دو ہزار پندرہ میں بہت آسانی ہوئی تھی کہتے ہیں ایک ماہ سے کم وقت میں بھی لوگ یہاں پہنچے ہیں

    اٹلی فرانس جرمنی پہنچ جانے پر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی

    یہاں آ کر ایک نیا امتحان شروع ہوتا ہے ہے اور وہ ہی اپنے آپ کو لیگل کرنا

    اپنے آپ کو لیگل کروانے کے لیے کسی کے تو دو تین سال لگتے ہیں اور کئ کو تو دس سال تک کا عرصہ لگتاہے

    پچھلے چند مہینوں سے ہم پاکستانی سیاست میں بہت بحث رہے ہیں کہ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں پاکستانی سیاست کا کیا پتا حالانکہ موجودہ دور میں ان کے اپنے لیڈر بھی اوورسیز کی حیثیت سے لندن میں موجود ہیں پتہ نہیں انکو کیا خوف ہے

    ہمارے چند مطالبات ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ضرور ملنا چاہیے ہمارے ایک موبائل فون پر ٹیکس کے بغیر لانے کی اجازت ہونی چاہیے کرونا سے پروازوں کا مسئلہ بہت چل رہا ہے اس کو فوری حل کرنا چاہیے
    وہاں پاکستان میں موجود اووسیز پاکستانیوں کے لیے ویکسین کا مسئلہ بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے اس کا بھی حل فوری طور پر کرنا چاہیے

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت بہت فائدہ مند ہے لیکن اکثر وہاں پیسے لیتے ہوئے بہت مسئلہ رہتا ہے جیسا کہ ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے اس کی فیملی رقم لینے گئی تو کبھی ایک بینک والے دوسرے بینک اور دوسرے
    والے اسے واپس اسی بینک میں چکر لگواتے رہے
    ‏@sikander037
    #sikander

  • گناہوں پر آٹھ گواہ  تحریر: مدثر حسن

    گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن

    آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)

    وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔

    دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)

    اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔

    تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)

    انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔

    چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)

    انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔

    پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔

    چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)

    ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)

    اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔

    آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)

    ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو

    یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين

    ‎@MudasirWrittes

  • سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جب سے کووڈ آیا ہے اس وقت سے مسلسل سندھ گورنمنٹ اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    ایک طرف سندھ گورنمنٹ پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے روٹی کپڑا اور مکان تو دوسری طرف وہ خود ہی اپنے نعرے کی نفی کرتی نظر آرھی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کووڈ کے شروع دنوں میں ہی اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کروایا تھا، جس کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ اور نہ صرف سراہا گیا بلکہ ساتھ ہی اس کو کئی اور ملکوں نے اپنے اپنے ملک میں نافذ بھی کیا۔
    کووڈ کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت خراب ھوئی اور کئی ملک تو بہت ہی زیادہ قرضدار ھو گئے۔ پر الحمدللہ پاکستان کی معیشت بڑھی وجہ صرف اور صرف اسمارٹ لاک ڈاون تھی۔
    وزیراعظم عمران خان نے شروع سے پالیسی رکھی کے مکمل لاک ڈاون نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان میں غریب دھاڑی دار طبقہ زیادہ ہے اور وزیراعظم کا کہنا تھا کے مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے غریب بھوک سے ہی مر جائے گا۔ اس لیے پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون کیا گیا۔

    https://twitter.com/alwaystalat/status/1422357964241899520?s=19

    لیکن سندھ گورنمنٹ شروع سے ہی پی ٹی آئی گورنمنٹ کے خلاف بضد سندھ میں مکمل لاک ڈاون کرتی رھی۔ جس کی وجہ سے آج کراچی کی عوام تڑپ اٹھی۔ آآل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس کے موقع پر فیضان راوت اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور تقریر کے دوران ہی آبدیدہ ھو گئے۔انکا کہنا تھا کے ھم گاڑی بیچ چکے ھم گھر بیچ چکے اب اور کیا بیچیں بتاو۔کیا اب ھم خود کو بیچ دیں۔روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں سے سوال کرتے ھوئے فیضان صاحب نے پوچھا۔

    اگر ابھی بھٹو زندہ ہوتا یا بینظیر زندہ ہوتی تو کیا وہ یہ سب کرنے دیتی۔۔۔ نہیں نہ کیونکہ پیپلز پارٹی جس کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا وہ اب زندہ نہیں اس لیے سندھ حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    جو غریب رکشہ چلا کے یا ریڑھی لگا کے ہر روز اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے اس پر کیا گزرتی ہو گی۔
    لیکن ان سب باتوں کے باوجود سندھ حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔

    @alwaystalat

  • کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    معاشرتی ومعاشی ترقی میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. میڈیا ہمارے معاشرے کی آواز ہے. اور یہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے. میڈیا ابلاغ کا ایک موڈ ہے, اس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. اسکے علاوہ کوویڈ 19 کے بارے میں اور کیسوں کی تعداد سے لے کر ویکسین تک ہر تفصیل کے بارے میں ہمیں آگاہ کررہا ہے.

    حالات سے باخبر رہنا کسی بھی انسان کی بنیادی خواہش ہوسکتی ہے. آج میڈیا کی ترقی دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ کچھ میڈیا چینلز نے سب سے پہلے کی دوڑ میں اصل صحافتی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. میرے خیال میں میڈیا حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کاموں کے اقدامات سے بھی عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا اہم طبقہ ہے. صحافی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں.

    سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحافی ہر عام و خاص کی آ واز ہیں اور اپنے قلم سے عوامی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے مسائل کے حل کے لئے راہ ہموار کرکے ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور اسی کردار کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے. میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن جو معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اسکے لئے مختلف پروگرام نشر کرتا ہے پر مجھے لگتا ہے کسی حد تک معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ میڈیا کا کردار کسی ملک کو سنوارنے یا بگاڑ میں اہم ہوتا ہے.

    مثال کے طور پر گھر میں داخل ہونے کے بعد اکثر لوگ پہلا کام یہ کرتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہیں. اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں میڈیا نے ہر انسان کو باخبر بنا دیا ہے کیونکہ عام انسان بے شک وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو ٹی وی پر خبریں سن لیتا ہے.

    ایک چیز کی داد تو بنتی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حساس سیاسی اور باقی معاملات پر نہایت ذمے داری سے رپوٹنگ کی ہے. چاہے وہ طاقت ور طبقے کی کرپشن ہو یا انسانی حقوق کی بحث یا کہیں بے ضابطگیاں ہو یا 27 فروری بھارت کا ڈرامہ. انکو بے نقاب کیا ہے. ان میں سرفہرست نام مبشر لقمان کا آ تا ہے جو بنا کسی خوف کے, بنا کسی لالچ کے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں. ان کا مشہور ٹی وی پروگرام کھرا سچ ہر خاص وعام کا پسندیدہ پروگرام ہے. کئی چہرے اس پروگرام کے ذریعے انھوں نے بے نقاب بھی کئے. اور سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائے. کئی بار جب وہ سٹوری کرتے ہیں تو ان پر دباؤ بھی آتا ہے کہ ہمارے خلاف رپورٹنگ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ ،مبشر لقمان کا پروگرام کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ ہے جس میں ہر بات کھری ملتی ہے

    مگر مبشر لقمان کھل کر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ جہاں اچھا ہورہا ہو اسکو اجاگر بھی کرتے ہیں. انھوں نے معاشرے کے بہت سارے جرائم کو بےنقاب بھی کیا ہے. مبشر لقمان ہی ہیں جس نے دلیری سے اس بات کا پہلی دفعہ میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر بھارتی شہری ہیں. مبشر لقمان ہی تھے جس نے بھارت کی طرف سے تین پاکستانی شہریوں پر لگنے والے جھوٹے دہشتگردی کے الزام کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے لاہور کی مارکیٹوں میں ایک پروگرام کیا جس کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی. اسی طرح نجم سیٹھی کے ماضی کی جھلک پہلی دفعہ میڈیا پر مبشر لقمان کے پروگرام میں ہی نشر ہوئی تھی.

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اقدامات سے بھی عوام کو باخبر رکھے . ذاتی مفادات کو سائیڈ رکھ کے ملک اور ملک کی سلامتی کے لئے کام کرے تو یقیناً معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گئیں.

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • ‏خوبصورت تحفے  تحریر : محمد نوید

    ‏خوبصورت تحفے تحریر : محمد نوید

    باعث غربت اور معذوری میرے لئے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل تھا تھا میرے پڑھنے کے شوق کو جہاں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا وہاں دوستوں نے اور اساتذہ صاحبان نے بھی میری اچھی حوصلہ افزائی کی جب کبھی حالات انگڑائی لینے لگتے میرے حوصلے کبھی پست ہوتے تو کبھی بلند اللہ پاک مجھے اچھے نیک دل لوگوں سے ملواتا گیا یوں میرا پڑھنے کا شوق زندہ رہا میرا پڑھنے کا شوق اس وقت مزید بڑھ جاتا جب کوئی مجھے کتاب یا پین تحفے میں دیتا یوں تو بہت ساری کتابیں مجھے میرے محسنوں نے مجھے تحفے میں دی جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا شوق ھوا میٹرک مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھ سا گیا
    سکول جانے کے لیے کبھی گدھا گاڑی کا استعمال بھی غلط نہ لگا بس بیٹھ جاتا کہ کسی طرح سکول ٹائم سے پہلے پہنچ جاؤں
    اللہ کے فضل سے میٹرک کر لی لیکن نمبر بہت کم تھے کیوں کے ایک دو دن سکول پیدل جانا پڑجاتا تو اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہو جاتا اسی طرح تعلیم کو جاری رکھے رکھا استاد صاحبان کو بھی میرے جسمانی حالت بارے علم تھا تو انہوں نے بھی شرکت فرما کر مجھے اسمبلی حال میں آنے سے منع کردیا اسمبلی میں کبھی ادھر لڑھکجاتا تو اسمبلی کا نظم و ضبط بگڑ جاتا یوں جو ٹائم اسمبلی میں دینا ہوتا میں استاد صاحب کی کرسی اور جھاڑو پہنچا کرتے گزرتا استاد صاحبان نے مجھے باپ کی طرح شفقت سے نوازا ایک استاد صاحب نے تو میری فیس کا ذمہ اپنے سر لے لیا تو دوسرے استاد نے میری ورزی وغیرہ کے ذمہ لیا اور جوتے تو میں پہن نہیں سکتا تھا
    آج بھی استاد صاحبان اور دوستوں کے احسانات یاد کرکے دل بھر آتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں میرا سہارا نہ بنتے تو میں آج کہاں ہوتا؟میری تمام نوجوانوں سے اپیل ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی آسائشیں موجود ہیں اگر آپ کسی وجہ سے خود تعلیمی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو آپسے اپیل ہے کے اپنے دوستوں اور ان مستحق بھائیوں اور بہنوں کے لئے ہروقت باہیں کھولیں رکھے ان کو کامیاب ہوتا دیکھ یقیناً آپ کو دلی خوشی نصیب ہوگی اور میں اپنے محسنوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھ چکا ہوں اگر آج میں کچھ بول لیتا ھوں کچھ لکھ لیتا ھوں تو یہ سب ان تمام کرم فرماؤں کی محبت کی وجہ سے ھے جہنوں نے میری حوصلہ افزائی کی میرے شوق کو زندہ رکھا

    ‎@naveedofficial_