Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا حصول وقت کے ساتھ مشکل ھوتا جا رھا ھے متوسط طبقے کے لیے ممکن نہیں کے سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاۓ ۔ نوجوانوں کو چاھیے کہ ڈگری کے حصول کے ساتھ ساتھ اس طرح کے ہنر سیکھیں جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیروزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں کئی لوگ ، بذریعہ انٹرنیٹ یا شارٹ کورسز، اور آئی ٹی کے ہنر سیکھ کر پیسے کما رھے ھیں۔

    فری لانسنگ:

    آپ فری لانسنگ کے ذریعے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتے ھیں۔ فری لانسنگ کی پہلی شرط کوئی ہنر سیکھنا ہے، جیسے ایس سی او ، ڈیجیٹل مارکٹنگ ، گرافک ڈیزائننگ اور ویب ڈیزائننگ وغیرہ ۔یہ سب آپ گوگل اور یو ٹیوب سے با آسانی سیکھ سکتے ھیں ۔
    آج کل ہر بندے کو اپنی ویب سائٹ اور برانڈنگ چاہیے تاکہ اپنی حریف کمپنی سے بہتر کارکردگی کر سکیں ۔ آپ لوگ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی بھی ہنر سیکھ کر فری لانسنگ کر سکتے ہیں ۔
    آپ لوگ فائیور، اپ ورک اور فری لانسر ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر اپنے ہنر کے مطابق کام اور کلائنٹس ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

    آپ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پراجیکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ شروعات میں آپ کو اپنا پورٹ فولیو بنانا ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ آپ کو کام آتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کلائنٹ کو آپ کا کام پسند آئے گا تو وہ ضرور آپ کو کام دے گا ۔

    یوٹیوب:

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے آپ یو ٹیوب کو بھی اپنا کیرئیر بنا سکتے ھیں۔ جس فیلڈ میں اپ کو دلچسپی ھو اسی کے مطابق چینل بنائیں ۔ یوٹیوب چینل بنانے کے لیے آپ کو یوٹیوب سے ھی کافی معلومات مل جائیں گی ۔

    کاروبار:

    اگر آپ پہلے ہی کوئی آف لائن دوکان چلا رہے ہیں تو اسی کو آن لائن لے آئیے، فیس بک اور ٹویٹر ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے گاہک تلاش کیجیے اور اپنے کاروبار کو بڑھائیے ۔ اگر آپ کے پاس بیچنے کے لیے کوئی پراڈکٹ فی الوقت دستیاب نہیں تو اپنے علاقے کی کسی بھی مشہور پراڈکٹ یا سوغات کو آن لائن بیچنا شروع کر دیں اور وقت کے ساتھ اسے بڑھاتے جائیں۔

    آنلائن ٹیوشن:
    دنیا کے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں جتنے بھی سبجیکٹس پڑھے پڑھائے جاتے ہیں وہی سب آن لائن بھی پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے ۔ آپ بھی آن لائن فیلڈ میں آئیں ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا ۔

    مختلف ھنر:

    اگر آپ کو سلائی، کڑھائی کا ھنر اتا ھے تو آپ بچوں کے کپڑے سلائ کر کے یا عورتوں کے کپڑے ،چادریں کڑھائی کر کے آن لائن ویب سائٹس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، او ایل ایکس وغیرہ پر فروخت کر سکتے ھیں۔

    یاد رکھیں ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت میں نا ھی برکت ھوتی ھے اور نا عزت ۔ کوشش کریں جائز طریقے سے حلال کمائیں وہ چاھے کم ھو اس میں عزت بھی ھے اور برکت بھی ۔

    ٹویٹر: @Oye_Sunoo

  • رجعت پسندی   تحریر:حُسنِ قدرت

    رجعت پسندی تحریر:حُسنِ قدرت

    زندگی میں ہماری سوچ ہر معاملے کے بارے میں دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی جبکہ مثبت سوچ کا ایک پہلو "رجعت پسندی” ہے جسے ہم آپٹیمزم کہتے ہیں
    رجعت پسندی کا مطلب ہے اگر آپ بہت زیادہ کوشش کرنے کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں تو ہار نہ مانیں اور دوبارہ کوشش کریں اپنا کوشش کرنے کا طرز دیکھیں اور اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو مزید بہتر طریقے سے کوشش کریں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کامیابی کی طرف اپنی جدوجہد جاری رکھیں
    اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اٹل ہے کہ اگر انسان کسی چیز کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے ضرور حاصل کرتا ہے اگر زندگی کے کسی مرحلے میں آپ لوگوں کا ناکامی سے سامنا ہو تو اسکا مطلب ہے کہ ہم سے ہی کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ قانون قدرت ہمیشہ ہے اٹل رہے ہیں
    اکثر لوگوں کو جب انکی کوشش یا خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کا ازالہ کرنے کی جگہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں
    اگر کسی کام کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری کوشش رائیگاں گئی ہے کوشش اور محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی اسکا نتیجہ ضرور نکلتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اسکا شعور نہیں ہوتا
    جیسا کہ ایک انسان کسی کاروبار میں پیسے انوسٹ کرتا ہے اور وہ ڈوب جاتے ہیں تو اگر وہ روتا رہتا ہے دوبارہ کوشش نہیں کرتا تو وہ اسکی ناکامی ہے لیکن اگر وہ انسان اپنے پچھلے کاروبار میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتا ہے نوٹ کرتا ہے کہ اسے خسارہ کہاں اور کس وجہ سے ہوا اور کون سی ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے اسکا کاروبار ڈوب گیا تو وہ جب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے پھر ان پوائنٹس کا خیال کرتا ہے کہ یہ غلطی وہ نہیں دہرائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلی دفعہ اس کا کیا گیا کاروبار بہترین طریقے سے کامیاب ہو اور پہلے سے اسٹیبلش لوگوں سے زیادہ جلدی وہ بہت زیادہ ترقی کرے اور کامیاب بھی ہو
    اگر آپ لوگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہے تو مایوس ہو کر محنت نہ چھوڑیں کیونکہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے یہ بہت بڑی اور کھلی حقیقت ہے ایک سیانے کا قول ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی کے سرے پہ پہنچ کر محنت چھوڑ دیتے ہیں
    یہ بات ماننا یہاں مشکل ہے کہ ہم مثبت طرز عمل اور رجعت پسندی کو اپناتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں خاص کر جو ماحول یہاں بنا ہوا ہے سیاسی،سماجی اور معاشی نظام درہم برہم ہوا ہے لیکن اسکی زمہ داری ہم پہ عائد نہیں ہوتی ہمارا کام بس اپنے حصے کا مثبت کام کرنا ہے
    رجعت پسندی کے ذریعے آپ مثبت سوچ کو اس طرح اپنا سکتے ہیں کہ آپ اس وقت تک محنت جاری رکھتے ہیں جب تک بامراد نہیں ہو جاتے
    کیونکہ چیلنج ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس انعام کے قابل ہیں جو ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے محفوظ کر رکھا ہے
    کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اگر آپ ناکامی کو پاچکے ہیں تو یقیناً بہت جلد کامیابی آپ سے ملے گی
    دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شے سے جذباتی تعلق رکھنا اور اسکے نہ ملنے یا کھو جانے پر اداس ہو جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی محنت کوشش مثبت سوچ (رجعت پسندی) اور دعا سے وہ واپس حاصل کرسکتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    کراچی کے مسائل سیاسی بھی ہیں اور شہری بھی۔ سیاسی مسائل تو انتہائی تشویش ناک حالت کے حامل ہیں لیکن شہری مسائل اگر ارباب اقتدار چاہیں اور نیک نیتی سے اقدامات اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی پہلے جیسا صاف سُتھرا شہر بن جائے روشنیوں کا شہر بن جائے، جب ٹریفک قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔ ایسا نہیں کہ کراچی جنت تھا ہاں، جنت نشان ضرور تھا۔ لوگوں میں خرابیاں تو تھیں، مگر اُنہیں دور کرنے کا شعُور و اِرادہ بھی تھا۔ آج کی طرح ٹریفک کا اژدھام نہیں تھا۔ نصف گھنٹے کا سفر ڈیڑھ سے تین گھنٹے میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔ شہر میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ لوکل ٹرین اور ٹرام بھی چلتی تھی۔ ٹرانسپورٹ مافیا غائب تھی۔ طوفان بدتمیزی کی طرح سڑکوں پر دندناتی منی بسیں، کوچز، چنگچیاں، پریشر ہارن نہ تھے، مسافروں سے بدسلوکی تو حالیہ برسوں کی وجہ ہے جو کراچی کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ اگر شہری مسائل حل کر دیئے جائیں تو کراچی پھر عالمی سطح پر اپنا مقام واپس حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں بات آجاتی ہے ریاست کی کہ جو شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہو اُسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، عمران خان صاحب کی حکومت کو اب خیبرپختون خواہ، پنجاب، کشمیر، بلوچستان، گلگت میں اکثریت حاصل ہے تو اب سندھ کی طرف توجہ دیں کراچی سمیت سندھ کی مظلوم عوام کو بھی جینے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے باقی صوبوں کے لوگ حق رکھتے ہیں تو پھر یہ نظر اندازی کس لئے کیا کراچی کو چند سیاست دانوں نے اپنی جاگیر نہیں بنا رکھا۔؟ اگر ریاستی اِدارے اُنہیں اپنا قبلہ درُست کرنے کا کہیں تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

    ریاست اگر چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ریاست کیا اِن چند سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام اِنسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں۔؟ کیا وہ جینے کا حق نہیں رکھتے۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام کو صحت کی سہُولیات کی ضرورت نہیں ہے۔۔؟ آج پورے پاکستان میں ہسپتالوں میں سب سے بُری حالت سندھ اور کراچی کے ہسپتالوں کی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

    کیا اب بھی پیپلزپارٹی کے وہی 70 سال اور 80 سال کی عمر والے اِس ملک کے 65 فیصد نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔؟ جو خُود لاکھوں روپے کی تنخواہوں کا بل تو سندھ اسمبلی سے پاس کروالیتے ہیں مگر عوام کا کوئی خیال نہیں جو ہر الیکشن میں اپنی الیکشن کمپیئن تو کروڑوں روپے خرچ کر کے جیت جاتے ہیں مگر عوام کو صرف سانس لینے تک رکھ چھوڑا ہے کیا کراچی سمیت سندھ کی سڑکیں اِن کا مُنہ نہیں چڑاتیں ۔۔۔۔ کیسے چڑاسکتی ہیں یہ بے ضمیر لوگ اب اپنی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اب اِن کو قابو کرنے کا وقت ہے اِنہیں لگام ڈالنے کا وقت ہے۔
    وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے احتساب کا جو نعرہ بلند کیا تھا اب اُسے حقیقی طور اُس پرعملدرآمد کرنے کا وقت ہے، اب کراچی سمیت پورے سندھ کے کئی سالوں سے لہو رستے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے خُدارا ہوش کے ناخُن لیں اِن کرپٹ ٹولیوں سے آزاد کروائیں سندھ کی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اب کراچی کو گود لے لیں یا کم سے کم کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں جہاں اگر بارش ہی ہو جائے تو زندگی کسی عزاب سے کم نہیں ہوتی۔

    آج کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں ہے، جہاں سڑکیں سلامت ہوں، نئی کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد سے کلفٹن تک کے راستوں اور سڑکوں کی حالت بیان کرنا مشکل نہیں یہ پورا ملک جانتا ہے تو کیا حکومت کو علم نہیں ہوگا۔۔؟ کوئی علاقہ کوئی محلہ ایسا نہیں ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں اور ملبہ، کیچڑ اور تعفُن نے شہر کو بدصُورت نہ بنا رکھا ہو۔ بس ہلکی سی بارش ہونے کی دیر ہےیہ خُوب صُورت شہر لاوارث محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور اگر پاک فوج مدد کو آجائے تو یہی سیاستدان پاک فوج پر بہتان لگانے اور اُنگلی اُٹھانے لگتے ہیں کہ یہ کام اِن کا نہیں یہ بارڈر پر جائیں اور بے شرموں کی طرح دُشمنوں کی طرح اُن کی زبان بووزراء اور ذمہ داروں کواس سے کچھ غرض نہیں، کراچی کی عوام روتی رہے، سسکتی رہے۔ ہماری بیوروکریسی آنکھیں بند کئے صرف اپنی غرض جو صرف اُن کی لاکھوں روپے میں تنخواہ ہے بس وہیں تک محدود ہے۔ جہاں ضروریاتِ زندگی کی سہولیات تو ہیں ہی نہیں پھر روزگار کا مسلہ ہے جسے سرکاری ملازمتوں میں بھی تعصب اتنا ہے کے ڈومیسائل کا ایشو بنا دیا جاتا ہے یہ سب کیوں ہے کیا یہ جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا۔۔۔! کیا یہ اقدامات ریاست مخالف نہیں ہیں۔؟ کیا لوگوں کو سندھ حکومت خُود تقسیم کر رہی ہے۔۔؟

    اِس بیرونی ایجنڈے کو سندھ حکومت اپنے ہی سندھ میں بسنے والے بشمول کراچی کے لوگوں میں منافرت پھیلانے کا کام کرتے ہُوئے دشمن ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی ناکام کوشش جاری رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ اِن موجودہ حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے یہاں کبھی سندھو دیش تو کبھی جناح پور کا نعرہ بلند کرنا کیا یہ لوگوں کی ذہن سازی نہیں کی جا رہی جب پاکستان ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے وہیں ایسے چُھپے دشمنوں کا صفایا کرنا بھی لازم ہے۔میں نے اللہ کو جان دینی ہے یہ جو کراچی میں ہر روز نیا سیلاب آجاتا ہے اور کراچی کے لوگوں کو اتنا ذلیل و رُسوا کیا جا رہا ہے بلکہ یوں کہیں کے تنگ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کی عوام کے خلاف شدید نفرت بھری جا رہی ہے اور کئی ہزار گُنا شدید نفرت پیدا ہو جائے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اِس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ملک کا سب سے زیادہ کمائی کرنے والا شہر 70 فیصد سے زیادہ ملک کو ٹیکس دینے والا شہرپاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شہر کراچی اِس طرح بے آبرو ہو؟

    اِس طرح رُسوا ہو؟ اُس کے شہریوں کو اِتنا ذلیل کیا جائے تنگ کیا جائے کے وہ ملک سے بغاوت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔!
    آپ کو یاد ہو گا فاروق ستارہر کچھ دن بعد ایک ہی بات کہا کرتا تھا کے کراچی میں یو این او کی فوجیں بلوا کر انتخابات کروائے جائیں اور بھی کچھ وزراء تھے وہ بھی کہا کرتے تھے اور اب بھی حکومت میں کچھ وزراء شامل ہیں جو یہی بات کہا کرتے تھے۔ یہ باقائدہ ایک پلان بنایا گیا تھا کے 2020 تک کراچی کو پاکستان سے علحدہ کیا جائے گا اور اِس میں کئی غیر ملکی ایجنسیز شامل تھیں اور پیپلز پارٹی ساتھ ملی ہُوئی تھی اور اب بھی یہ ایک ہی ہیں۔ جبکہ پاکستان کی گورنمنٹ کا پلان تھا کے کراچی کو ہانگ کانگ بنانا ہے حکومت نے جو کے اِن ظالموں نے وہ نہیں بننے دیا اور کراچی کے حالات مل کر خراب کرتے رہے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے یہ بات آپ ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں۔ اب یہ جو سیلاب اب ہر بارشوں کے سیزن میں کراچی میں آتا ہے یہ پانی جو کراچی کی دکانوں میں کارخانوں میں فیکٹریوں میں ہر چیز کو تباہ و برباد کر رہا ہے اور اربوں روپے کی جو تیار اشیاء ہیں جو بکنے والی پراڈکٹس ہیں سب برباد ہو رہی ہیں سب پانی میں ڈوب جاتاہے، لوگوں کی گاڑیاں ڈب جاتی ہیں ، یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے کے لوگوں میں بغاوت پیدا ہو لوگ خُود کو لاوارث سمجھیں۔ اب پھر بارشوں کا سیزن آنے والا ہے مون سُون کی بارشیں سر پر کھڑی ہیں اب تو ہوش کرلیں کراچی اور سندھی کی عوام ہمارے ہی بھائی ہیں ہمارے ہی جسم کا حصہ ہیں اُن کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں یہ ریاست کے تھنک ٹیک پر لازم ہے کے اِس طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

    آپ ایک ہزار سال کا کراچی کا ریکارڈ چیک کر لیں کبھی ایسی بارشیں نہیں ہُوئی ں جیسی پچھلے دو تین سال سے ہو رہی ہیں۔ پہلے کراچی میں اگر بارش ہوتی تھی پانی کھڑا ہوتا تھا نکل جاتا تھا مگر اب یہ جنگی حالت ہے یہ باریاں لینے والی پارٹیوں نے بطورِ خاص پچھلے بیس سالوں میں اپنی پلاننگ کہ تحت بڑے بڑے نالے بند کروائے انکروچمنٹ کروا کر مٹی ڈالی نالوں کو تنگ کیا اُوپر مکان بنا لئے غریبوں کو دے دیئے پانی نکلنے کے تمام بڑے راستے بند کر دیئے۔ ریلوے کی ساری ذمینیں بھی ایسے ہی غائب کی گئیں کراچی کی زمین بانٹی گئی، یہ سب ایک پلاننگ کا حصہ تھا اُن دشمن قوتوں کا پلان چل رہا تھا جو کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتی تھیں یہ سب اُن کا کنٹرول تھا اور یہاں کی حکومتیں اپنا مال بنانے کے لئے ضمیر بیچتے رہے ہیں وطن فروش بنے رہے اِن ملک دُشمنوں نے 20 سال لگائے ہیں بہت ہی معصومیت کے ساتھ یہ کام ہوتا رہا اور کراچی کی عوام بیوقوفوں کی طرح منہ اُٹھا کر اپنے حقوق کی جو ٹرک کی بتی اِن سیاہ ستدانوں نے اِنہیں دکھائی اُس کے پیچھے بھاگتے رہے آج انجام ہمارے سامنے ہے پاکستانیو میرے ہم وطنوں میرے سندھی اور کراچی کے بھائی بہنوں ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اِس ففتھ جنریشن وار کو مزاق مت سمجھو کہنے کو یہ مزاق کی بات لگتی ہے "دیوانے کا خواب لگتا ہے "یہ نا ہو کے پانی ہمارے سر سے اُوپر ہو جائے اور پاؤں کے نیچے سے زمین بھی سرک جائے۔ بات بہت لمبی ہو گئی میں صرف اب حکومت سے کہتا ہوں کے ملک کی خاطر کراچی کو بچانے کی خاطر پاکستان کی سلامتی کی خاطر ایک ہی حل ہے کے کراچی کو جلد سے جلد اپنے اختیار کنٹرول میں لے سندھ حکومت نے پچھلے 74 سالوں میں کچھ نہیں کیا تو اب اُن سے کیسی اُمید بس اب اور نہیں اب کراچی کو جینے دو سندھ کو جینے دو اور یہ صرف یا تو ریاست خُود کر سکتی ہے یا فوج کو کراچی کا مکمل اختیار سونپ دیا جائے ۔
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔

  • بغداد کی بربادی اور ہم  تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    بغداد کی بربادی اور ہم تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    تاریخ بتاتی ہے کہ ابوجعفر بن المنصور نے سن 762 میں بغداد کی بنیاد رکھی اور پھر چند ہی دھاہیوں میں اس شہر نے اتنی ترقی پائی کہ برصغیر سے لے کر افریقہ تک کے صاحب ہنر و علم بغداد دیکھنے کے لیے بے چین ہو گۓ
    اور بغداد بھی ایسے صاحب علم کے لیے بے چین رہتا اور باکمال شخصیات کی کتابوں کو ہیرے جواہرات سے تولا جاتا
    بغداد میں عظیم الشان مساجد اور مدارس تعمیر کیے گۓ۔
    اس شہر نے باکمال شخصیات سے محبت کا شرف حاصل کیا جن میں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
    الجبرا کے عظیم بانی الخوارزمی
    فلسفے اور حکمت کے دو عظیم نام الکندی اور الرازی
    مشہور مفکر الغزالی، عربی کے مشہور شاعر ابو نواس، تاریخ دان طبری اور کئی عالمِ دین اسی شہر کے باسی تھے
    لیکن اس شہر کی بربادی کا سبب بھی مسلمانوں کے آپس کے باہمی اختلاف ، تفرقہ بازی اور زاتی مفادات تھے
    کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کا پچاس دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا اس وقت بغداد کے پاس دنیا کے مضبوط ترین قلعے تھے لیکن دل اور ایمان کی ناپختگی نے ان قلعوں کی مضبوطی کو پاش پاش کر دیا۔
    تاریخ خلافت عباسیہ کے خاتمے کی تاریخ کچھ اس طرح رقم کرتی ہے ہلاکوخان نے محاصرے کی ابتداء 29 جنوری 1258   کو کی اور محاصرہ کا اختتام 10 فروری 1258 کو ہوا
    اس وقت خلافت عباسیہ کے سربراہ مستعصم باللہ انتہائی کمزور انسان تھا جب وزراء کے مشورے کے ساتھ وہ ہلاکو خان سے مزاکرات کے لیے گیا تو اپنے ساتھ اپنی اولاد، وزیر بھی ساتھ لے کر گیا
    خلیفہ کے سوا سب کو قتل کر دیا گیا اور منگولوں کی فوج نے شہر میں داخل ہو کر سامنے آنے والے ہر شخص کو تہہ تیغ کر دیا ایک ہی دن میں ہزاروں افراد شہید ہو گۓ ۔ خلیفہ کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ منگولوں کے عقیدے کے مطابق بادشاہ کا خون بہانا بد شگونی سمجھا جاتا تھا سو ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو باندھ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑاۓ تاکہ خون نہ بہے۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کی بربادی کی اہم وجہ مراکش اور ایران کا خلافتِ عباسیہ کا ساتھ نہ دینا تھا
    الغرض بغداد کو ایسے تباہی کیا گیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی
    لیکن اس بربادی میں مسلمانوں کا اپنا حصہ زیادہ تھا علم و فن سے منہ موڑ لیا گیا بادشاہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گۓ جس سے معاشرے کی ترقی پر جمود طاری ہو گیا اور عوام نے لاپرواہی اختیار کر لی
    کیا آج ہم بھی اسی ڈگر پر نہیں چل رہۓ؟
    کیا ہمارے وزراء مشیران عیاشیوں کے بے پناہ دلدادہ نہیں ہو گۓ اور
    کیا ہم (عوام) بھی لاپروا نہیں ہو گۓ
    اور کیا ہماری بربادی کا وقت بھی قریب نہیں آ گیا (خدانخواستہ)
    کیا ہمیں اپنے حکمرانوں کو راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرنے چاہیں اور کرپٹ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنے سے چشم پوشی اختیار کر لینی چاہیے
    سوچئیے گا
    اور مناسب سمجھیں تو آنکھیں کھلی رکھ کر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کریں
    #حبیب_خان

  • ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات  تحریر: زبیر احمد

    ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات تحریر: زبیر احمد

    عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اب بہت بگڑ چکی ہے جس کی بہتری کے لئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں نوشتہ دیوار ہیں جس سے دنیا کا کوئی ملک انکار نہیں کرسکتا۔ آج 2021 میں فضاء میں کاربن کی شدت تقریبا 419 پارٹس فی ملین پہ جاچکی ہے یہ شدت تاریخ میں 300-350 سے زیادہ نہیں تھی مہذب دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس کا حوالہ دیا جاسکے کہ اتنی شدید مقدار میں کاربن فضاء میں موجود رہی ہو۔ آج کی دنیا اس حوالے سے حد سے زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ کوئی ایسا حل نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو واپس بہتری کی طرف موڑ سکیں لیکن ہنگامی اقدامات کے ذریعے مزید تباہی سے بچا جاسکتا ہے اس وقت زمین کا درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو حالیہ کچھ عرصہ میں امریکا، آسٹریلیا اور ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ، بحراوقیانوس اور چین میں آنے والے سیلاب اور پچھلے سال پاکستان بھارت میں ٹڈیوں کا حملہ انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ثبوت ہیں اور اس کے نقصانات ہم دیکھ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ایک جیسا متاثر ہورہے ہیں لیکن یہ مسئلہ ممالک کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے لوگ آج بھی اس کے نقصانات اٹھا رہے ہیں اور زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان ممالک نے معاشی استحکام کے لئے صنعتی ترقی جاری رکھنے کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس وقت دنیا ایک ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے اس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک چاہے ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے، 1994 سے پاکستان میں کاربن کا اخراج 123 فیصد تک بڑھا ہے اور گرین گیسوں کے اخراج میں ہر سال مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو 2030 تک زندگی گزارنے کے لئے ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ پاکستان کو گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے پروگراموں پہ توجہ دینے کے ساتھ ان پہ عملدرآمد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی کہ 2030 تک گرین گیسوں کے اخراج میں 20فیصد تک کمی لائی جائے۔ ملک میں 25فیصد تک جنگلات میں اضافے سے 40فیصد تک کاربن کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
    پاکستان کے سماجی و معاشی حالات پر مجموعی طور پہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات دیکھتے ہوئے عوامی سطح پہ آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سب نے ملکر ماحولیاتی تبدیلی کے ماحول اور معیشت پہ اثرات کو سمجھنا ہے اسی طرح پاکستان ان مشکل ماحولیاتی حالات پر قابو پا سکتا ہے اور پائیدار مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

    (Twitter: @KharnalZ)

  • بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت  8 لاکھ روپے

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

    یورپ کے ملک آئس لینڈ میں ایک ایسی بطخ بھی پائی جاتی ہے جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 5 ہزار ڈالر سے بھی زائد ہے جو پاکستان تقریبا 8 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ہر سال موسمِ گرما میں 400 کے قریب افراد آئس لینڈ سے متصل ایک جزیرے ’برائدروو‘ کی خاک چھانتے ہوئے وہاں ایلڈر پولر بطخ کے گھونسلوں اور اطراف میں ان پروں کو تلاش کرتےہیں۔ پھر ان ریشوں کو کئی مراحل سے صاف کرکے، لحاف اور تکیے بنائے جاتےہیں۔

    ایلڈر پولر بطخ کے پروں سے بنائے گئے تین تکیوں کی قیمت ڈھائی ہزار ڈالر یعنی 4 لاکھ روپے اور ایک لحاف کی قیمت 8 ہزار ڈالر یعنی 13 لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے۔

    قدرت نے بطخ کے سینے سے نیچے یہ پر عطا کئے ہیں جو روئی کے گالوں کی طرح نرم ہوتے ہیں لیکن قدرتی طور پر کوئی بھی ریشہ سردی روکنے میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر بطخ اپنے گھونسلے میں اسے بچھاتی ہے تاکہ اس کے بچے سردی میں جمنے سے محفوظ رہ سکیں۔ پروں کے اس گچھے کو آئیڈرڈاؤن کا نام دیا گیا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ہزار برس سے اس کی تلاش اور فروخت جاری ہے اور ایک کلوگرام خام پرہی ہزاروں ڈالر میں فروخت ہوجاتےہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں چار ٹن کے قریب پر فروخت کئے جاتےہیں اور 75 فیصد برآمدات آئس لینڈ سے کی جاتی ہے۔

    انڈے دینے اور سینے کے موسم میں ان پرندوں کے گھونسلوں کو بالکل نہیں چھیڑا جاتا ہے بلکہ گھونسلے خالی ہوتے ہی ان کی اطراف جمع ہونے والے پروں کے ریشے احتیاط سے جمع کئے جاتے ہیں۔

    تاہم اسے ہرطرح سے معیاری بنایا جاتا ہے اور اگر آپ دو انگلیوں کے درمیان 40 سے 50 گرام پر اٹھاتے ہیں اور ان کا کوئی ریشہ نیچے نہیں گرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت معیاری پرہیں جو ایکسپورٹ معیار کے ہیں۔

    آئیڈرڈاؤن مادہ بطخ سے خارج ہوتا ہے اور 50 سے 60 گھونسلوں سے ہی ایک کلوگرام پرحاصل ہوتے ہیں۔ انہیں خاص طور پر صاف کیا جاتا ہے اور مشین میں دباکر ان کو ایک باقاعدہ شکل دی جاتی ہے۔ کسان ہر گھونسلے کو تلاش کرتے ہیں اور احتیاط سے پروں کو جمع کرتے ہیں۔ ایک گھونسلے سے 15 سے 20 گرام پر ہی مل پاتے ہیں۔

    تاہم خام پروں میں 80 فیصد مقدار، کوڑا کرکٹ، بڑے پروں، گھاس پھوس اور ڈنٹھل کی ہوتی ہے جنہیں صاف کرنا ضرورتی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آئیڈرڈاؤن کو 120 درجہ سینٹی گریڈ پر گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کئی مشینوں سے مزید صفائی کی جاتی ہےاس طرح دنیا کا مہنگے ترین پروں کا انتخاب عمل میں آتا ہے-

  • پھیپھڑوں  کے کینسر کا عالمی دن  تحریر:  ندرت حامد

    پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن تحریر: ندرت حامد

    دنیا میں جتنی بھی کینسر کی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں پھیپھڑوں کا کینسر ‘ کینسر کی دوسری قسم ہے جو کہ بہت عام ہے ۔پھیپھڑوں کا کینسر مرد و خواتین میں یکساں پایا جاتا ہے اور اموات کی وجہ بنتا ہے ۔ یکم اگست کو ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس میں پھیپھڑوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی اور شعور اجاگر کیا جاتا ہے اس دن معاشرے میں لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔تمباکو سگریٹ اور دیگر نشہ آور ادویات جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کو جنم دیتی ہیں ان کے نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں خلیوں کی ابنارمل گروتھ کا کو کینسر کہا جاتا ہے ۔ اور دنیا میں بہت زیادہ اموات پھیپھڑوں سے کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بعض اوقات خون کے ذریعے یہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔کینسر کوئی براہ راست نہیں لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں جو کہ وجہ بنتے ہیں جس میں تمباکو نوشی سب سے زیادہ عام ہے ۔ تمباکو کے دھویں میں 70 فیصد کارسنجن ہوتے ہیں جو کہ کینسر کی وجہ بنتے ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی کو کینسر ہے جیسے ماں باپ بہن بھائی تو اگلی نسل میں کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
    پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا شخص اس بیماری کا تجزیہ نہیں کر سکتے یہاں تک کہ کینسر آخری مراحل تک پہنچ جاتا ہے ۔یا شدت اختیار کر جاتا ہے ۔ مسلسل کھانسی اور وہ جو طویل عرصے تک رہتی ہے۔ کھانسی سے خون کا آنا سانس میں کمی ۔ سینے کمر یا کندھوں میں درد جو کہ کھانسنے ہنسنے یا سانس لینے کی وجہ سے ہوتا ہے کینسر کی علامات میں سے ہے ۔ مختلف کیسز میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں ۔پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی مراحل میں نشاندہی اور بروقت علاج فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ خود کو اور اپنے پیاروں کو پھیپھڑوں کے کینسر سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔
    اس کا مکمل علاج دریافت ہونے تک اس کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں میں آگاہی پیدا کریں ۔ اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں ۔
    @N_Hkhan

  • کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر:  محمد حماد

    کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر: محمد حماد

    ملک میں کرونا ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور یومیہ کیسز کی شرح 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ماہرین اسے کرونا کی چوتھی لہر قرار دے رہے ہیں۔ کرونا کا ڈیلٹا ویرئنٹ بھی پاکستان میں پہنچ چکا ہے اور خدشہ اس بات کا ہے کہ اگر صورتحال کو جلد قابو نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان میں بھی بھارت جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اب سے چند ہفتوں قبل نیچے جاتے کیسز کے اچانک بڑھنے کی وجہ عوام کی غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کی شرح انتہائی کم ہے۔ ماسک کا استعمال جو کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ایک بہترین عمل ہے اس پر عملدرآمد بھی انتہائی کم نظر آتا ہے۔ مارکیٹوں میں بے تحاشا رش سے نہ صرف سماجی فاصلہ برقرار نہیں رہتا بلکہ دکانداروں اور خریداروں کا ماسک کا استعمال نہ کرنا کرونا کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت اور ادارے ایس او پیز پر عمل کرانے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

    کرونا کے خلاف ویکسینیشن کا عمل بھی ملک بھر میں جاری ہے۔ حکومت کے سخت اقدامات اور پابندیوں کی وارننگ کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے ویکسینیشن سینٹرز کا رخ کیا ہے جس کے سبب وہاں شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ کراچی میں ایکسپو سینٹر میں قائم ویکسینیشن سینٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں عوام کی بڑی تعداد بغیر ایس او پیز اور سماجی فاصلے کے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اسے اداروں کی نااہلی کہیں یا منصوبہ بندی کا فقدان لیکن اندیشہ یہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے بنائے گئے یہ ویکسینیشن سینٹرز حکومتی نااہلی کے سبب کرونا کے پھیلاؤ کا باعث نہ بن جائیں۔

    بلاشبہ احتیاط اور ویکسینیشن ہی کرونا کا پھیلاؤ روکنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز اور اسپتالوں پر آنے والے دباو کے بائث حکومت لاک ڈاون جیسے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر عوام چاہتی ہے کہ وہ اپنے کاروبار جاری رکھ سکے تو انھیں حکومت کی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اپنے اور اپنے ادارے کے تمام افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائیں۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو اس وبا سے محفوظ رکھیں تو اس کا واحد حل ویکسینیشن اور احتیاط ہے۔ ہمیں بطور قوم سنجیدگی اور اتحاد سے نا صرف اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اسے شکست بھی دینی ہے انشاء اللہ۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account