Baaghi TV

Category: متفرق

  • نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    افغانستان حکومت جو آج کل پاکستان کے خلاف نفرت اور پروپیگنڈے پھیلانے اوربےبنیاد الزامات لگانے میں مصروف رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا اور امن کیلئے اپنے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
    چند روز پہلے افغان فوجیوں نے پاکستان سے چترال کے اندو سیکٹر پرپناہ کیلئے 26 جولائی کو درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے بارڈر پر کنٹرول رکھنے کی طاقت کھو گئے تھے جس پر پاکستان نے ہمدردی دیکھاتے ہوئے ضروری ضابطہ کی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں پناہ لینے والے فوجیوں میں پانچ افسراوں سمیت 46 افغان فوجی شامل تھے۔ پاکستان نے ان فوجیوں کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا کہ ہمارے فوجیوں نے آج تک کسی بھی ملک میں پناہ لی ہے اور پاکستان میں تو بلکل نہیں۔ اس بات سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ امن کیلئے کوشا رہتا ہے لیکن افغانستان پاکستان سے نفرت کرنے سے بعض نہیں رہتا۔

    افغان وزیر خارجہ کی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے افغان فوجیوں اور ان کی مہمان نوازی کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردی گئے جس نے افغانستان کے بیانیے کو پورے دنیا کے سامنے بےنقاب کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا
    پاکستان نے ان پانچ افسروں سمیت 46 افغان فوجی 26 جولائی کو باجوڑ کے راستے افغان حکام کے حوالے کردیے اور صرف یہی نہٰں اس سے پہلے 35 افغان فوجی یکم جولائی کو واپس بھیجے گئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی۔
    اس کے بعد بدھ کے دن پاکستان نے پناہ لینے والے مزید پانچ افغان فوجی افغانستان حکام کے حوالے کردیے جو پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کوشش کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر محفوظ راستے کے لیے پناہ حاصل کرنے والے مزید پانچ افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر پانچ بج کر 45 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

    صرف یہی نہیں اس سے پہلے افغانستان کا پاکستان میں سفیر کی بیٹی کی اغواء کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی افغانستان کا پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگانا اور بغیر کسی تحقیقات کے اپنے سفیر کو واپس بلانا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پاکستان سے نفرت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ افغان حکومت بھارت سے اتنا متاثر ہے کہ جو حکم نئی دہلی سے کابل آتی ہے کابل اس کو اسطرح مانتا ہے جیسے افغان اسمبلی میں کوئی نئا قانون منظور ہوگیا ہو اسلئے پاکستان سے نفرت کی یہی حال ہے۔ بھارت اب تک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اب جب افغانستان میں افغان طالبان نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تو یہ سب لوگ ڈر گئے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچائیں گے اور کسطرح پاکستان کو اپنے قابو میں رکھیں گے جس کیلئے راء اور این ڈی ایس نے دن رات ایک کردی ہیں۔ اسلئے راء ایسے کام کررہے ہیں جس سے پاکستان بدنام ہوجائے اور افغان امن عمل کو ناکام ہوجائے۔ افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کا قصہ بھی بھارتی ایجنسی راء کا کام تھا۔ تحقیقات کی بعد یہ بات سامنے آئی تھی کی افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی اس سب ڈرامے کا مقصد پاکستان میں افغان امن عمل کیلئے ہونے والے کانفرنس کو روکنا۔

    افغان حکومت بھارت کی ہاتھوں کی کٹھ پتھلی بن چکی ہے جو ہر وہ کام کررہی ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گری لیسٹ میں رکھنا مودی حکومت کی کامیابی ہے جس کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف کے گری لیسٹ میں رکھا گیا ہے۔ جس سے اگر ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے جس سے پاکستان عالمی دنیا میں بدنام ہوجائے تو دوسرے طرف یہ کہ فیٹف ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو غیر مخفوظ ثابت کرنے کیلئے راء نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
    کچھ دن پہلے افغانستان کے حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستانی عوام نے چمن میں افغان طالبان کا سپین بولدک پاک افغان بارڈر قبضہ کرنے کی خوشی میں ریلی نکالی تھی جو ایک بےبنیا اور منگھڑت الزام تھا تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ لوگ پاکستانی نہیں تھے بلکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین تھے جو افغان طالبان سے محبت کرتے ہیں اور طالبان کو سپورٹ کرنے کیلئے کوئٹہ کے علاقے میں ریلی نکالی تھی۔

    @WaliKhan_TK

  • کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    ‏‎‏کامیابی کا راز ہے خود پر یقین جس کی شروعات اللہ پر یقین سے ہوتی ہے۔
    کامیاب ہونے کا طلبگار تو ہر ایک ہے مگر ساٸنس کی ایجادات نے، انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کر دی ہیں، انسانی ترقی کا راز صرف اور صرف محنت میں ہی ہے۔یہ محنت کا ہی صلہ تھا جس کے ذریعے انسان نے کٸ ایجادات جیسے ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور نٸ ٹیکنالوجی وغیرہ دریافت کیں اس کے برعکس جو قومیں محنت و مشقت نہیں کرتیں وہ پسماندہ رہ جاتی ہیں۔
    کجھ وقت کی محنت ساری زندگی کو پر سکون بنا دیتی ہے اور محنت سے عاری شخص ساری زندگی آرام طلبی کی غرض سے دوسروں کے رحم وکرم پر ہی رہتا ہے اور زندگی بھر ذلت اور رسواٸی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا ہے۔سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لیے منوں مٹی کو کھودا جاتا ہے منوں مٹی کی کھوداٸی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے کھودی گٸ مٹی کو کٸ مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے منوں مٹی کھوداٸی کے باوجود نتاٸج حسبِ توقع نہیں حاصل ہوتے پھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوۓ بغیر کھوداٸی کے کام کو نہایت انہماک سے انجام دیا جاتا ہے اور سونے جیسی دھات کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات قبلِ توجہ ہے کہ جب ہم سونے جیسی دھات کے لیے منوں مٹی کو بغیر کسی نا امیدی کے کھودتے ہیں تو بھلا اپنی شخصیت جو کہ دنیا کی تمام قیمتی اشیا ٕ سے نایاب اور انمول ہے اس کے حصول کے لیے کس طرح نا امیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔زندگی امید کے ساتھ چلتی ہے جو شخص پر امید رہتا ہے اور کوشش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور ہر طرف اجالا ہی اجالا نظر آتا ہے۔مستقبل کو درخشاں کرنے کے لیے حال کے چراغ میں محنت کا تیل ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔انسان قوی ارادوں کے ساتھ دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہاری ہوٸی بازی جیت سکتے ہیں ۔ہم اپنی صلاحيتوں کو بروۓکار لاتے ہوۓ کامیابی کی عظیم مثالیں قاٸم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں صرف اپنے تساہل کو چھوڑنا پڑے گا۔

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    مقامی سطح پر اور عالمی سطح پر پانی کی قلت کی شدت پر زور دینے کے لئے ، عوام کو اس حیران کن اعدادوشمار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔  پوری دنیا میں ہر براعظم متاثر ہوتا ہے ، نہ صرف وہی خطے جو روایتی طور پر خشک ہیں۔  سال کے کم از کم ایک ماہ تک کم سے کم دو ارب افراد متاثر ہوتے ہیں۔  اور 1 بلین سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی یا پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔  یہاں ایک توسیع دی جارہی ہے کہ پانی کی قلت کیا ہے اور اس کے بغیر ہونے کا کیا مطلب ہے۔

    موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ضروری وسائل کی کمی ہے
    پانی کی قلت کو پانی کی قلت ، پانی کے تناؤ ، پانی کے بحران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
    وسائل کی کمی کے علاوہ ، میٹھے پانی تک رسائی حاصل کرنے میں بھی دشواری ہے

    وسائل کی کمی اور پانی تک رسائی کی وجہ سے ، موجودہ وسائل میں مزید خرابی واقع ہوتی ہے

    خشک موسم کی صورتحال کی وجہ سے ، اور  کمی واقع ہوتی ہے

    خاص طور پر ، پانی کی قلت ان علاقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو موجودہ غیر آباد پانی اس کی طلب سے کہیں کم ہے
    سب صحارا افریقہ جیسی جگہوں پر صاف پانی لوگوں کے لئے عیش و آرام کی طرح بن گیا ہے۔  زیادہ تر لوگ سارا دن اس کی تلاش میں گزارتے ہیں ، جو ان کی صلاحیت کو کچھ دوسری چیزوں میں ہاتھ کرنے کی کوشش کو محدود کردیتا ہے۔  سال 2025 تک ، صورتحال اس وقت مزید خراب ہوسکتی ہے جب دنیا کی دوتہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ زمین کا تقریبا 70 70٪ حصہ پانی سے ڈوبا ہوا ہے۔  اس پانی کا صرف 2.5-3٪ ہی تازہ ہے۔  باقی پانی نمکین اور سمندر پر مبنی ہے۔  اس 3 فیصد میٹھے پانی میں سے ، اس میں سے دو تہائی گلیشیرز اور اسنوفیلڈز میں پھنس گیا ہے اور ہمارے استعمال کے لئے دستیاب نہیں ہے۔  اس میٹھے پانی کا باقی ایک تہائی حصہ انسانی استعمال اور اس سیارے پر پوری آبادی کو کھانا کھلانے کے لئے دستیاب ہے۔  اس کے نتیجے میں ، میٹھے پانی – پانی ہم پیتے ہیں ، نہانا نایاب ہے اور کرہ ارض کے تمام پانی کا ایک چھوٹا سا حصہ بنا دیتا ہے۔
    اس وقت تک پانی کی قلت کے عالمی مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس پر بار بار زور دینے کی ضرورت ہے جب تک کہ ہر کوئی اس سے بخوبی واقف ہو اور ذمہ داری کے ساتھ پانی کی بچت کے لئے اپنا کردار ادا کرے ،

  • ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    ‏والدین ایک خوبصورت رشتہ تحریر: ایمن رافع

    کہتے ہیں کہ ہر رشتہ اپنی جگہ انمول اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو گزرے وقت کے ساتھ مزید خوبصورت ہوجاتا ہے اسکی اہمیت ہم کو ایسے ہم ایسے بیان کر سکتے کہ انسان کو جب اپنی جگہ لگا ہوا دانت محسوس ہوتا ہے تب وہ اسکی اتنی قدر نہیں کرتا جتنا تب کرتا جب وہ اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے اور اسکی کمی کو وہ بار بار وہاں انگلی لگا کر محسوس کرتا ہے اور تصدیق بھی کہ وہ واقعی جگہ چھوڑ گیا یا ابھی کوئی امید ہے!!

    بلکل اسی طرح کچھ رشتوں کی ایسے ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے اور پاس ہوتے تب انکی اہمیت کا اندازہ نہین ہوتا لیکن جب وہ خلا چھوڑ جاتے تو کوئی اور انکی وہ کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا۔ ان میں ایک خوبصورت رشتہ والدین کا ہے۔ جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں تو ہمارے لیے پریشان ہوتے ہیں انکو فکر ہوتی کہ ہمارے بچے اچھی تربیت کے حامل ہوں۔ لیکن جب بچے بڑے ہوتے ہیں اور ہوش سنبھالتے تو والدین کی بےجا سختی اور پابندی انکو پریشانی لگتی انکو جان کھا جانے جیسی لگتی۔ جن میں اسکول جاو، سپارہ پڑھنے جاو اگر بات مانو گے تو ہی ہر خواہش پوری ہوگی۔
    تب بچوں کو لگتا ہے کہ کوئی کام ہم اپنی مرضی سے کر بھی سکتے یا نہیں۔
    والدین اور بچوں کا تعلق بہت عجیب ہوتا۔ اپنی ہر پسند میں انکی مرضی شامل کرنا،ہر خوشی میں انکو سامنے کھڑے دیکھنا بلکل ایسے ہی جیسے کھیل کے آخری لمحات میں بیٹنگ اور اسی موقع پر انکی پکار۔۔۔

    نالائق ابھی تک مسجد نہیں گئے؟
    اور بچے آگے سے مسجد سامنے ہے چلا جاوگی۔۔

    لیکن جب یہ چلے جاتے ہیں تو انسان کی دنیا کو بلکل ویران کرجاتے، جب بچوں کو انکی پہلی کوئی خوشی ملتی تو سب سے پہلے والدین کا سوچتے کہ انکو بتائیں گے کہ آپکا نالائق بیٹا یا بیٹی بہت کام نکلے مگر جب انکو اپنے پاس نا ہونے کا جھٹکا لگتا ہے کہ”جن کو سچی خوشی ہونی تھی وہی اب ہمارے ساتھ نہیں”

    "ڈھونڈ ان کو اب چراغ رخ زیبا لے کر ”

    اسی وقت ہر خوشی منظر میں دکھ چھوڑ جاتی۔۔۔

    والدین کی ہر وہ بےجا سختی اور پابندی جو ہمیں اس وقت تنگ محسوس ہوتئ ہے اور غصہ دلاتی ہے دراصل وہ ان کا خلوص واخلاص ہوتا ہے جو نا صرف ہمیں نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ ہمارے مستقبل کے لیئے پریشان ہوتے ہیں۔۔ اور ہم کو یہ بات تب سمجھ نہیں آتی جب اولاد خود اپنے بچوں کے سر پر جوتی لے کر کھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔

    اپنے والدین کا خیال رکھیں ، انکی قدر کریں، اور اپنے مصروف وقت میں سے ان کے لیے وقت نکالیں کیوں کہ ان جیسی عظیم ہستی کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔

    ‎@DaughterOfSoil_

  • سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    تھائی لینڈ میں کورونا کے باعث خوراک کی قلت ہے جس کے حصول کیلئے بندروں کے دو گروہ بیچ سڑک ایک دوسرے سے لڑ پڑے ۔

    باغی ٹی وی : العربیہ اردو کے مطابق دارالحکومت بنکاک سے تقریبا 100 کلو میٹر کے فاصلے پر بندروں کے دو گروہ خوراک کے حصول کیلئے گتھم گتھا ہو گئے


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بندروں کا ایک گروہ سڑک کنارے خوراک کے حصول کیلئے پہلے سے موجود تھا جبکہ دوسرے گروہ نے اس پر دھاوا بول دیا ۔

    دوسری جانب برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ کے مطابق خوراک کے حصول کے لیے بندروں کے دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کو خوب مارا پیٹا یہ سارا منظر ایک مصروف شاہراہ پر دیکھا گیا۔ بندر سڑک پر چلنے والی گاڑیوں سے بے نیاز ہو کرایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ بندروں کی لڑائی کے دوران لوگوں کو اپنی گاڑیاں روکنا پڑیں۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ بندر پھل اور خوراک کے حصول کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ کرونا وبا کی وجہ سے تھائی لینڈ میں بندر بھی غذائی قلت کا سامنا کررہےہیں جبکہ بندر بھی اس مسئلے کا شکار ہیں ۔

    جس کے نتیجے میں ان کےدرمیان خوراک کے حصول کے لیے لڑائیاں ہونے لگی ہیں۔ بنکاک کے قریب خوراک کے حصول کے لیے بندروں کی لڑائی چار منٹ تک جاری رہی-

  • سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    بھارتی ریاست راجستھان کے 42 سالہ پُرکھا رام سال کے 365 دن میں سے تقریباً 300 دن سوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام کو ایسی انوکھی بیماری ہے جو ایک ارب لوگوں میں سے صرف ایک ہوتی ہے، یعنی اس وقت زیادہ سے زیادہ بھی ہوئے تو دنیا میں پُرکھا رام جیسے صرف 7 لوگ ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پُرکھا رام کو 23 سال پہلے اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جب وہ سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو 20 سے 25 دن مسلسل سوتے رہتے ہیں اس دوران اُنہیں جگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

    اس مرض کی علامات میں شدید سر درد اور تھکان شامل ہیں یہ بنیادی طور پر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ دماغ میں رسولی ہونے یا چوٹ لگنے سے بھی ہو جاتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام اور اُن کے گھر والے اس اُمید میں جی رہے ہیں کہ اس بیماری کا علاج دریافت ہوجائے اور اُن کی زندگی معمول پر آسکے۔

    جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا علاج تبھی ممکن ہے جب اس کی بنیادی وجہ معلوم ہو سکے۔

  • ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری
    ٹویٹر : @nabthedentist

    پچھلے کالم میں بچوں کے دودھ کے اور پکے دانت آنے اور ان سے جڑی بیماریوں پر سرسری بات کی تھی آج اس کالم میں بچوں کے دانتوں سے جڑے سب سے بڑے مسئلے یعنی ٹیڑھے دانتوں کو ڈسکس کیا جایئگا
    بچوں میں ٹیڑھے دانتوں کے آنے کی کئ وجوہات ھوسکتی ھیں جن میں کچھ پر والدین بے بس اور کچھ کو ٹھیک رکھنا والدین کے بس میں ھوتا ھے کافی ساری وجوہات میں سے کچھ یہاں رکھے دیتا ھوں
    1۔بچوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے یا انکی فیملیز میں کسی کے دانت ٹیڑھے ھونا
    2۔بچوں کا فیڈر یا انگوٹھا منہ میں زیادہ رکھنا اور اس سے تالو کو آگے کی طرف مستقل کھینچتے رھنا
    3۔جبڑے کا چھوٹا ھونا
    4۔نئے پکے دانتوں کا سائز نارمل سے زیادہ بڑا ھونا
    5۔یا دونوں چھوٹا جبڑا بڑے دانتوں کا ھونا
    6۔بچپن میں دودھ کے دانت کسی وجہ سے جلدی نکلوالینا

    الغرض متفرق وجوہات سے دانتوں کا ٹیرھا پن آجاتا اب دانت ٹیڑھے بھی کئ اقسام میں کئ اشکال میں ھوتے جب تک انکو جان نھیں لیتے بطور ڈینٹل سرجن انکا علاج کرنا اور بچے کی فیملیز کو سمجھانا انتہائ مشکل ھوجاتا
    1۔دانتوں کا باھر کی طرف نکلنا
    2۔دانتوں کا ٹھیک ھونا مگر جبڑے کی ھڈی کا باھر کی طرف ھونا
    3۔یا دونوں دانت بھی اور جبڑے کی ھڈی کا باھر ھونا
    4۔دانتوں کا اندر ھونا یا جبڑے کا کافی اندر ھونا یا دونوں کا ھی اندر ھونا
    5۔دانت ٹیڑھے آگے پیچھے اپنی جگہ پر ھی آنا
    6۔دانتوں کی ایک ھی جگہ crowding یعنی رش ڈال دینا
    ٹیڑھے دانتوں کا علاج جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا 11 سال کی عمر یا پھر اسوقت جب canine منہ میں نکلتے اسوقت کیا جاسکتا اس سے پہلے اگر دانتوں کو کسی حد تک ٹھیک رکھنا یا اپنی جگہ پر رکھنا چاہتے تو removable appliance لگا سکتے ٹیڑھے دانت عمر کے کسی حصے میں لگا سکتے میرے پاس کلینک میں 60 سال کے لوگ بھی آکر دانت سیدھے خرواکر جاچکے ٹیڑھے دانتوں کے علاج کے اسوقت کئ قسم کے علاج موجود ھیں
    1۔ کنزرویٹو آرتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ یعنی Braces
    یہ علاج سب سے کامیاب 100 فیصد رزلٹ اور دیر پا ھے اس میں دانتوں پر سٹین لیس سٹیل بریکٹس اور تار لگائی جاتی اور قریبا سال دو سال یا کئ کیسز میں 4 -5 سال تک یہ تار لگائی جاتی ھے پہلے مہینے تین سے چار بار ڈینٹل کلینک پھر ھر ماہ ایک یا دو بار آنا پڑھتا ھے
    2۔کلر لیس آلائنر
    یہ طریقہ کار زیادہ تر پروفیشنل لوگوں میں لگائے جاتے جو دانت سیدھے ھوتا کسی کو دکھانا نھیں چاہتے کیونکہ یہ کلر لیس ھوتے تو لوگوں کی نظروں میں نھیں آتے انکا رزلٹ بھی سو فیصد ھوتا مگر یہ علاج کافی مہنگا اور رزلٹ کافی دیر سے حاصل ھوتا ھے

    ٹریٹمنٹ کے دوران ایک ڈینٹل سرجن لئے جو سب سے مشکل کام ھوتا وہ مریض کو اور اسکی فیملی کو یہ باور کرانا ھوتا کہ ان دانتوں کیلئے سپیس بنانی ھے اور اسکے لئے کم از کم 4 دانت دو اوپر والے اور دو نیچے والے نکالنے ھونگے
    اور ایکبار جب ٹریٹمنٹ ھوجائے تو سب سے اہم مرحلہ دانتوں کو اپنی جگہ قائم اور برقرار رکھنا ھے اسکے لئے ریٹینر لگائے جاتے جو مریض کو کم از کم تین ماہ سے ایک سال تک لگانے پڑتے
    کئ کیسز جن میں جبڑا شامل ھو وہ ان ٹریٹمنٹس سے ٹھیک نھیں ھوپاتا ایسے میں سرجریز کی ضرورت بھی پڑجاتی

  • اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    چین میں 14 سالہ بچہ موبائل فون واپس لینے پر اپنے والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبے انشوئی میں 14 سالہ بچہ والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا اور شکایت درج کرائی کے والد بچوں سے مشقت لینے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے گھر کے کام کرواتے ہیں۔

    تھانے میں موجود افسر کو جب بات سمجھ نہیں آئی تو وہ بچے کو لے کر اس کے گھر پہنچ گئے اور بچے کے والد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ بچہ ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتا ہے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا نہ ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا ہے۔

    پولیس اہلکار نے والد کو بچے پر زیادہ سختی کرنے سے منع کیا اور کہا کہ کچھ دیر کے لیے بچے سے موبائل لینے کا خیال خاصا بہتر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اس لڑکے کو نافرمان قرار دیتے ہوئے اس کے والدین پر اعتراض کیا ہے کہ انہیں بچے کے بگڑنے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہیے تھا لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر بچے نے بدتمیزی کی اور تھانے میں اپنے ہی والد کے خلاف شکایت کردی، تو اس میں بھی والدین کی اپنی لاپرواہی کا دخل ہے۔

  • صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی انسان اور حیوان کے زندہ رہنے کے لئے پانی کی اہمیت کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پانی ہماری زندگی کے لئے بہت اہم ہے اوراس کے بغیر کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پانی زمین پر بہت زیادہ مقدارمیں ہے، دنیا 30٪ زمین اور 70٪ پانی سے محیط ہے۔ پھر بھی میٹھا پانی 3٪ کی بہت کم مقدارمیں ہے۔ انسانی استعمال کے لئے دستیاب میٹھے پانی کی مقدار صرف 0.01٪ ہے ، باقی پانی گلیشیراوربرف میں پابند ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک ارب بیس کروڑ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ میٹھے پانی کا معیاراورمقدار دونوں کم ہیں۔ مزید یہ کہ آبی آلودگی پانی سے متعلق سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ ایک وسیع مسئلہ ہے جو ہماری صحت کو خراب کررہا ہے۔ غیرمحفوظ پانی ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں افراد کی جان لیتا ہے۔ آبی وسائل غیرمستحکم طریقے سے استعمال ہورہے ہیں اور یہ بھی آلودہ ہورہے ہیں۔ پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب نقصان دہ مادے، اکثرکیمیائی مادے آبی ذخائرکو آلودہ کرتے ہیں اوراسے انسانوں اورماحولیات کے لئے زہریلا دیتے ہیں۔

    اس تناظرمیں بلوچستان کو بھی پانی سے وابستہ بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ صوبے کے بیشتر مقامات پر معیار کی خرابی کی وجہ سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس میں دھول کے ذرات، خطرناک آلودگی اور مائکروجنزم کی موجودگی کی وجہ سے پانی سے وابستہ بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ انسانی سرگرمی بنیادی طور پر سطح اور زمینی آلودگی دونوں کے لئے ذمہ دار ہے۔

    صوبے میں پانی کی آلودگی کے سب سے اہم وسائل یہ ہیں:
    ناقص سیوریج نظام ، زہریلے کیمیکلز اور صنعتوں اور اسپتالوں سے آبی گندوں کو ضائع کرنا، ٹھوس فضلہ کی ناقص تلفی، ناقص صفائی اور انتظام ، زراعت اور سطح کا بہاو، بعض اوقات بار بار سیلاب آتا ہے۔ فضلہ گندگی نہ صرف سطحی پانی بلکہ زمینی پانی کے معیار پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ، یہ مادے زیرزمین پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور اسے غیر محفوظ اور انسانی استعمال کے لئے نا مناسب بنا دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، صوبے میں زیادہ تر عوامی پانی ہینڈ پمپ اور پائپڈ نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ متعدد عوامل جیسے کراس کنکشن ، ٹوٹی پھوٹی یا لیک پائپ، خراب شدہ نظام، پانی کی ناجائز فراہمی کی وجہ سے، تقسیم کے نظام میں پانی آلودہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ مقرر کردہ پانی کے معیار کے پیرامیٹرز کی خلاف ورزی اکثر کی جاتی ہے اورشہری علاقوں میں پینے کے پانی کی تقسیم ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ پینے کے پانی میں مختلف آلودگی پھیلانے والوں میں، مائکروبیل آلودگی صوبے میں صحت عامہ کے لئے سب سے سنگین خطرہ ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے اکٹھا کرکے متعدد قسم کی تحقیق کی گئی ہے۔ جس نے پینے کے پانی میں ضرورت سے زیادہ مائکروبیل آلودگی ظاہر کی ہے جس کی اجازت NEQS کی طرف سے مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔

    پورے صوبے میں پانی سے متعلق یہ پریشانی ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے ، اور صوبے کے رہائشیوں کو صحت کے سنگین مسائل درپیش ہیں خصوصا غریب افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال اس کی موت ہوجاتی ہے اور پانی کے خراب معیار کے سبب ہزاروں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ آلودہ پانی کے ساتھ رابطے میں آنے پر اسہال ، ٹائیفائیڈ ، ہیپاٹائٹس، معدے کی بیماریوں، پھیپھڑوں کی بیماریوں، گلے کی بیماریوں، پولیو امیلائٹس، آنتوں کے کیڑے اورجلد میں انفیکشن ہونے کے سب سے عام مسائل ہیں۔

    کچھ علاقوں میں، کلورینیشن (ٹریٹمنٹ پلانٹس اورصفائی ستھرائی کے نظاموں میں پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لئے ایک مشہور طریقہ)، ابلتے ہوئے پانی، فلٹریشن کا استعمال پانی کی جراثیم کشی کے لئے ہوتا ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں ہے اور صرف شہری علاقوں تک ہی محدود ہے کیونکہ لوگوں نے پانی کی صفائی کے لئے یہ عمل بہت کم کیا ہے۔ بدقسمتی سے عوام میں شعور کی کمی کی وجہ سے لوگ گھریلو پانی کے علاج معالجے جیسے کلورینیشن، شمسی ڈس انفیکشن، ابلتے اور گھریلو چھوٹے سائز کے فلٹرزپرعمل نہیں کرتے ہیں۔

    اگرچہ قومی پینے کے پانی کی پالیسی (NDWP) 2009 اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ (PEPA) 1997 کو متعارف کرایا گیا ہے، لیکن ان کا نفاذ قریب صفر ہے۔ پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ کے سیکشن نمبر11 میں ، یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی طرح کے نالے یا کوڑے کو خارج نہیں کرے گا یا اس مقدار میں جو NEQS کی سطح سے بالاتر ہے۔ تاہم ماحولیاتی قوانین کا کمزور نفاذ پانی کے بڑھتے ہوئے آلودگی کے لئے ذمہ دار ہے۔ مزید برآں بیداری کا فقدان، ناقص نگرانی، انتظام، ناکافی بجٹ مختص، علاج کی کمی، فلٹریشن اورڈس انفیکشن کے طریقوں، ذمہ دار حکام کے مابین ہم آہنگی کا فقدان بلوچستان اور مجموعی طور پر پاکستان میں ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کے نفاذ میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔

    لہذا پینے کا پانی رنگ، گندگی، بدبو اور جرثوموں سے پاک ہونا چاہئے۔ یہ جمالیاتی لحاظ سے خوشگوار اور پینے کے لئے محفوظ ہونا چاہئے۔ پینے کے پانی کی تقسیم کے نظام کے علاج اور بحالی کے لئے پینے کے پانی کے معیار کے معیار کو مستقل طور پر قائم کیا جانا چاہئے۔ واٹر اینڈ سیینیٹیشن ایجنسی (واسا) کو نجی اداروں کی مدد سے آبی وسائل کے تحفظ اور آلودگی کو اس کے ماخذ سے کنٹرول کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئے۔ حکومت پانی کے علاج کے لئے پینے کے صاف پانی کے علاج کے پلانٹ لگائے۔ زہریلے پیتھوجینز کو مارنے کے لئے قانون اورقواعد و ضوابط کے مطابق پانی کی تقسیم کے نظام اورکلورینیشن کی مناسب دیکھ بھال کی جانی چاہئے۔

    حکومت ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کو نافذ کرکے سخت کارروائی کرے۔ نیز اگر کسی کو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا ہے تو کسی کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا دی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ اس چھلکے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لئے فعال شرکت کی ضرورت ہے۔ فضلہ کی مناسب تلفی ، گند نکاسی کا مناسب نظام، گندے پانی کا علاج، کم سے کم زرعی اور سطح کا بہاو، مناسب صفائی اور انتظام وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کو آلودگی سے پاک بنانے کے لئے سرکاری شعبے کے ساتھ مقامی لوگوں کے تعاون اور شرکت کی ضرورت ہے۔

    پانی زندگی ہے۔ اور ہمیں آبی ذخیروں کو آلودہ کرکے اپنی زندگی کو نہیں مارنا چاہئے بلکہ ہمیں پانی کی حفاظت کرکے اپنے آنے والے نسلوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔

    @iHUSB

  • نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ایک ایک کرکے اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کے اردگرد کے لوگ اب سامنے آرہے ہیں اور جو انکشافات ہورہے ہیں ۔ اس کے مطابق کوئی شک نہیں ہے کہ ظاہر جعفر ایک وحشی ، بے غیرت اور ظالم انسان ہے ۔

    ۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہر جعفر کے قریبی دوست اس کے اس مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر نے اپنے بھائی حمزہ پر بھی ایک بار گلف اسٹک سے حملہ آور ہو چکا ہے ۔ پھر یہ شخص اپنی ماں پر بھی تشدد کر چکا ہے ۔ برطانیہ میں بھی ایک لڑکی پر تشدد کر چکا ہے جس کے نتیجے میں یہ برطانیہ سے نکالا گیا ۔ ۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہے ۔ اور یہ شخص اتنی شراب نوشی کرتا تھا کہ ہوش کھو بیٹھتا تھا ۔ ۔ اس شخص کی شخصیت ایسی تھی کہ یہ گندے لوگوں میں رہا کرتا تھا ۔ اس کے دوست بھی اسی قماش کے تھے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نور مقدم کی دوست ہیں زہرا ۔۔۔ کو بھی سفاک قاتل گندے میسج کرتا تھا ۔

    ۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو مختلف لوگ اپنے وی لاگز اور صحافی ٹویٹ کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مجھے کسی نیت پر شک نہیں ہے ۔ مگر میرا ماننا یہ ہے کہ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ پاگل ہے ۔ تو ان تمام صحافیوں کو میں یہ کہوں گا کہ جانے انجانے میں ان سے غلطی ہو رہی ہے ۔ ان کو سمجھنا چاہیئے کہ ظاہر جعفر کے دوست اور ماں باپ جو اب بہت صاف ستھرے اور معصوم بن رہے ہیں یہ جان بوجھ کر ایسی چیزیں سامنے لارہے ہیں کہ ظاہر جعفر کو جب عدالت میں کیس چلے تو ریلیف ملے ۔ حالانکہ یہ open and shutکیس ہے کہ ایک معصوم بچی تشدد ہوتا ہے وہ بے دردی سے قتل کر دی جاتی ہے ۔ اور موقع واردات سے مجرم ، قاتل پکڑا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی آلہ قتل بھی برآمد ہوجاتا ہیں ۔ پھر بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس کس چیز کا انتظار کررہی ہے ۔ اور یہ ہی بات نور مقدم کے دوست اور باقی لوگوں کے ذہن میں بھی ہے ۔ کہ اگرچہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن وہ اسے سزا دینے میں تاخیر کر رہے ہیں۔۔ اس روز روز کے ریمانڈ سے کیا ہو گا؟ جب تمام شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف مقدمہ چلائیں تاکہ اسے جلد سے جلد سزا ہو۔۔ یہ بھی اہم چیز ہے کہ پولیس نے ابھی تک دہشتگردی کا مقدمہ اس گھناونے شخص کے خلاف درج نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ معاشرے میں جو اس سے دہشت کی فضا قائم ہوئی ہے ۔ یہ ہونا چاہیے تھا ۔

    ۔ پھر یہ چیز بھی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ جب ظاہر جعفر کو پولیس عدالت لے کر جا رہی تھی تو پولیس والا کہہ رہا تھا کہ بڑا معصوم بچہ ہے ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پولیس کو اس کے خاندان نے کوئی چمک تو نہیں دیکھا دی ہے جو پولیس والے اس سفاک قاتل معصوم بچہ کہہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی جب یہ عدالت میں لایا گیا تو یہ بالکل ٹھیک اور نارمل دیکھائی دیا ۔ کیا پولیس کسی قاتل کے ساتھ ایسا رویہ رکھتی ہے ۔ آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں یہاں تو چھوٹے چھوٹے کیسوں میں پولیس ملزم کی کھال اتار کر رکھ دیتی ہے ۔ تو پھر اس کیس میں کیوں اتنا رحم اور اچھے الفاظ کا چناؤ پولیس کو یاد آرہا ہے ۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔ کیا کہیں اس کیس کو جان بوجھ کر تو نہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جا رہے کہ فائدہ ظاہر جعفر کو ملے سکے ۔ اور لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو بھول جائیں ۔

    ۔ ابھی اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ظاہر جعفر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ وڈیو میں شادی کی ایک تقریب میں ملزم باری باری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ پولیس اس ویڈیو کے ذریعے ملزم کے دوستوں کے اس گروپ سے سے رابطے کی کوشش کرے گی۔ جس سے ملزم کے 27 سالہ نور مقدم کا سفاکانہ انداز میں سر تن سے جدا کرنے کا پس منظر سامنے آ سکے گا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پولیس تو گونگوں سے بھی چیزیں اگلوا لیتی ہے ۔ مجرم ان کے ہاتھ میں اس سے انوسٹی گیشن نہیں کی جا رہی ہے ۔ بلکہ چیزوں کو گول گول گھمایا جا رہا ہے ۔

    ۔ پھر پولیس نے ملزم کا بیرون ممالک انگلینڈ اور امریکہ سے بھی کرمینل ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطے کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ اچھی چیز ہے ۔ پر کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ تفصیلات آنے میں کتنے دن لگیں گے۔ حالانکہ نور مقدم کے وکیل آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ نور کے خاندان پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ معاملات کو کورٹ سے باہر
    settle کرلیا جائے ۔ یعنی دیت اور قصاص کے تحت ۔ تو ہماری پولیس کو ذرا اپنے ہاتھ پاؤں تیزی سے چلانے چاہیں ۔ اور اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ اوراس قاتل سے بالکل وہ ہی سلوک کرنا چاہیئے جس کا یہ حق دار ہے ۔ یہ نہیں کہ یہ امیر ، انگریزی بولتا ہے تو ہم اس کو معصوم بچہ کہیں ۔ یہ سفاک قاتل ہے جس نے ساری واردات پوری پلاننگ سے کی ہے ۔ کیونکہ 19 جولائی کو اسکا ٹکٹ تھا امریکہ جانے کا اور یہ ایئر پورٹ گیا بھی وہاں سے یہ واپس آیا اور اگلے دن نور کا قتل کر دیا ۔ ملزم کے گھر سے اس کا پاسپورٹ اور بیرون ملک جانے کے لیے لیا جانے والا ٹکٹ بھی بازیاب ہوا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ملزم ظاہر جعفر کے والد نے گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ وہ نور کے والد کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور وہ ان سے درخواست کریں گے۔ کہ یہ ایک بہت ہی گھناؤنا جرم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو۔

    ۔ بڑی اچھی بات کی ہے مگر یہ ان کو اب کیوں یاد آئی ہے ۔ دراصل ابا جی اب پکڑے گئے ہیں تو بول رہے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا ماں باپ کو ان کا بیٹا کس قسم کا ، کس قماش کا اور کس کردار کا حامل ہے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے دوران بھی گھر کے ملازم باربار کال کرکے بتا رہے تھے ۔ کہ ان کا بیٹا کیا کر رہا ہے ۔ کاش ان معصوم والدین کو اس وقت خیال آیا ہوتا اور یہ اپنے ملازمین کو حکم دیتے کہ بیٹے کو پکڑ کر ذبردستی کسی کمرے میں بند کردیتے ۔ قابو کر لیتے ۔ لڑکی کو کسی طرح گھر سے باہر نکل دیتے ۔ بھاگا دیتے ۔
    ظاہرجعفر اس گھر میں اکیلا تھا اور ملازم چار تھے اور ظاہر کوئی عثمان مرزا جیسا بہت موٹا تازہ بھی نہیں ۔ چار ملازم باآسانی اس کو قابو کر سکتے تھے ۔

    ۔ دوسرا میرا یہ پوائنٹ ہے کہ ظاہر جعفر کی ماں کو جب پتہ چل گیا تھا تو اس نے پولیس کو بلانے کی بجائے کسی اور کو کیوں بلایا ۔ اگر ظاہر جعفر کی ماں نے ہی بروقت پولیس کو اطلاع دی ہوتی اس معصوم بچی کی جان بچ سکتی تھی ۔ کیونکہ اگر ظاہر جعفر کی نشوں کی لت اور باقی تمام ہسٹری کو صحیح مان بھی لیا جائے۔ تو پھر تو یہ چیز ذہن میں آتی ہے کہ ماں باپ کو بالکل معلوم تھا کہ ان کا بیٹا کس حد تک گر سکتا ہے اور کیا کر سکتا ہے ۔ اس لیے میری نظر میں ظاہر جعفر کی ماں باپ بھی کم مجرم نہیں ہیں جو انھوں نے انتظار کیا کہ ایک معصوم پھول کو کچل دیا جائے ۔ ۔ کیونکہ نور دو دن سے ظاہر جعفر کے حس بے بجا میں تھی ۔ اس نے بھاگنے کی بھی کوشش کی ۔ یہ بات بھی ملازموں نے ماں باپ کو بتائی ۔ پھر ان ماں باپ کے دل میں رحم نہیں آیا کہ ان کا بیٹا کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم اور زیادتی کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں جب نور مقدم اور ظاہر جعفر کے مشترکہ دوست نور کو بچانے کے لیے ظاہر جعفر کے گھر پہنچے تو نوکروں نے ان کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ ۔ اس کیس میں اگر ملازمین ہی پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو قتل روکا جا سکتا تھا۔

    ۔ یہ سب اب بڑے معصوم بن رہے ہیں چاہے ظاہر جعفر کے ماں باپ ہوں ، ملازمین ہوں یا ظاہر کے دوست ۔ پر سچ یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے پولیس کو نہیں بتایا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمسایوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پھر پولیس پہنچی ۔ یعنی نہ ملازمین ، نہ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، نہ ہی اس کے دوست حالانکہ ماں باپ اور ملازمین کو پل پل کا پتہ تھا کہ اندر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، ملازمین ، دوست اب سب اپنے آپ کو بہت پاک صاف اور جو معصوم ثابت کر رہے ہیں ۔ میری نظر میں یہ بھی اس گھناونے واردات کاحصہ ہیں کیونکہ یہ چپ رہے ۔ دیکھتے رہے ۔ سنتے رہے ۔ اور قتل ہونے دیا ۔