Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے ہر پلیٹ فارم پہ ڈٹ کر دشمن کے ہر طرح کہ پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا ہے اور آخر دم تک کرتے رہیں گے
    میرے پیارے ہم وطن ساتھیو ہمیں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشک آج ہمارا کوئی نام نہیں، پہچان نہیں لیکن تاریخ آپ کو ہی یاد رکھے گی، آپ کو اپنے بھی یاد رکھیں گے اور آپ کو دشمن بھی یاد رکھے گا. ہمیشہ آپ کو ہی یاد رکھا جائے گا. دشمن کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر خاک میں ملانے والو پاک وطن کے عظیم مجاہدو آپ کو تاریخ ضرور بالضرور یاد رکھے گی. اور جب جب

    جب گمنام سپاہیوں کا ذکر ہوگا جب دشمن کی پراکسی وارز کا ذکر ہوگا، جب فوج کی پشت پہ قوم کے کھڑے ہونے کی بات کی جائے گی. جب آپ کا دشمن کہے گا کہ ہم پاک فوج کا مورال نہیں گرا پائے، جب کہا جائے گا کہ دشمن نے کھربوں ڈالر لگا دئیے مگر پاکستان کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے. جو خود بھی لڑتے رہے اور اپنی قوم کو بھی تربیت دیتے رہے، جب جب دشمن نے چُھپ کر پاکستان کے خلاف کوئی جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تب تب پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نےدن دیکھا نہ رات اور دشمن کا دندان شکن جواب دیا اورہر بار سُرخرو ہُوے.

    جب کہا جائے گا کہ موساد، را، این ڈی ایس، سی آئی اے، ایم آئی سکس اور ایسی سینکڑوں خفیہ ایجنسیوں کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہزاروں آئی ٹی سیلز پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی شکست اُن کا مُقدر بنی تو اُنہیں شکست دینے والے یہی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تھے جو دُشمن کے طاقتور میڈیا سیلز کو چند سو کے انٹرنیٹ پیکجز اور ٹُوٹے پُھوٹے موبائل رکھنے والے چند لوگوں نے شکست دی. جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اِن کے سامنے اپنی شِکست اور بے بسی کا اعتراف کیا.

    تاریخ سنہری حروف میں لکھے گی کہ جب سوشل میڈیا کے وار سے دنیا کے کئی ممالک کئی طاقتیں ڈھیر ہوئیں وہیں پاکستان میں کچھ ایسے بھی سر پھرے تھے جو سارا دن فارغ، ویلے اور اللہ جانے کیا کیا طعنے سن کر خاموشی سے دشمنوں کو ناکام کرتے ہوئے پاکستان کو خانہ جنگی سے بچا گئے. ایک طرف سیاسی منافرت تو دوسری طرف مذہبی تفرقے، صوبائی تعصب، قومیت پرستی، غرض جہاں دُشمن نے داؤ کھیلا یہ ففتھ جنریشن وارئیرز وہاں وہاں موجود رہے.

    تاریخ یار رکھے گی آپ کو آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی آپ کو، کیا ہوا جو ہم گُمنام ہیں، کیا ہُوا جو ہمیں سرکاری ہستیوں کی ملاقاتیں نہیں ملیں، کیا ہُوا کہ ہمیں پہچان نہیں ملی خُدا کی قسم آج پاکستان دُشمن کی چالوں سے جیسے نِکل رہا ہے یہی آپ کا کام آپ کی پہنچان ہے. اِس کا بدلہ اِس کا نام اِس کی پہچان دنیا میں نہیں مگر اِن شاءاللہ اِن شاءاللہ مجھے میرے ربّ کی رحمت سے اُمید ہے کہ وہ ذات ہمیں آخرت میں اِس کا بہترین بدلہ اور ایک بہترین پہچان دے گا جب اِن شاءاللہ تحریکِ پاکستان کے شہیدوں، غازیوں، گُمنام سپاہیوں کے سامنے ہم سر اُٹھا کر آئیں گے، لہٰذا ہمیشہ پاکستان کہ مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہیں جُھوٹے پروپیگنڈے سے نہ تو گھبرانا ہے نہ ہی خوفزدہ ہونا ہے یہ ہائبرڈ وار فیئر جہاں انسان کی سوچ پر ضرب لگاتی ہے وہیں ہمارے عصاب بھی شل ہو جاتے ہیں تو اپنے عصاب پر یقین کے ساتھ جم کر جُھوٹ کا مقابلہ اپنے سچ سے کرنا ہے اور سچ کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی، ہاں یہ ضرور ہے کہ جُھوٹ وقتی اثر رکھتا ہے مگر جب جُھوٹ کے خلاف ہم سچ نہیں بولیں گے سچ نہیں لکھیں گے تو دُشمن کے جُھوٹ کو تقویت ملے گی مگر یہ وقتی ہی رہے گی، ہمیں سچ لکھنا ہے اور سچ نے ہی غالب آنا ہے اِن شاء اللہ.

    میں سلام پیش کرتا ہوں سوشل میڈیا پہ اسلام اور وطن عزیز کا دفاع کرنے والے تمام ففتھ جنریشن وارئیرز کو، چاہے وہ لکھاری ہوں، کاپی پیسٹرز ہوں، گرافکس ڈیزائنرز ہوں، ہیکرز ہوں یا رپورٹرز آپ سب اِس پاک وطن کا فخر ہیں اِس لیے یہ بحث چھوڑ کر ہمیں اپنے کام پہ توجہ دینی چاہیے اللہ پاک ہم تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو اور ہمارے سرحدوں پر موجود مُحافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین ثُم آمین
    جزاک اللہ خیرا” کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • پردیس کی زندگی .  تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس کی زندگی . تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس میں اجڑے ہوئے پھرتے ہیں بیچارے کہتے تھے وہاں امیروں میں رہیں گے بات اگر کی جائے تو پردیس کی تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والے لوگ بڑی عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے پردیس کی زندگی جتنی دردناک ہے یہ کوئی پردیس میں رہنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ کس طرح سے رہتے ہیں وہاں میری تو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ اگر میں پردیس میں ہوتی تو کیسے زندہ رہ پاتی اپنوں کے بنا رونا آ تا ہے جب یہ سوچتی ہوں کہ وہ لڑکے جو پاکستان اپنے گھر میں اتنے نازوں سے پلے ہوتے ہیں کہ شائد کبھی پانی کا گلاس بھی خود نہیں لیتے ہوں گے تو پردیس میں وہ بیچارے کبھی تو بنا چائے پانی پیے اور ناشتہ کئے گھر سے نکل جاتے ہوں گے کام کے لیے کہ کہیں دیر سے جانے پر نوکری نہ چلی جائے اور پھر لنچ ٹائم میں ساتھ لایا ہوا باسی کھانا وہ بھی بنا گرم کئے ایک گھنٹے کے بریک ٹائم میں انہوں نے کھانا بھی کھانا ہے نماز بھی پڑھنی ہو آ رام بھی کرنا ہوتا ہے پھر ڈیوٹی سے واپس آ کر خود ہی اپنے لئے کھانا بنانا اور زہن میں یہ خیال ضرور آ تا ہو گا کہ اگر میں گھر ہوتا تو ماں کو آ واز دیتا گھر آتے ہی اور بہن پانی کا گلاس لاتی اور کھانا لاتی۔

    پردیس میں رہنے والے اگربیمار ہوجائیں تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہیں خود ہی سب کرنا پڑتا ہے رابطہ اگر ماں سے ہو بھائی سے ہو بہن سے ہو اور وہ حال پوچھیں تو ایسا محسوس کرواتے ہیں جیسے پرسکون جنت میں رہ رہیں ہیں کوئی پریشانی نہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ پردیس میں رہنے والے اپنوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں یہاں تک کے وہ اپنے گھر والوں کی روٹی پوری کرنے کے اپنی ایک وقت کی روٹی تک قربان کر دیتے ہیں۔ پردیس میں رہنے والوں کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ باہر جا کر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھول گیا ہے تو ایسی پریشانی سے بھری ہوئی زندگی میں وہ خود کو بھول جاتے ہیں تو کسی دوسرے کو کیسے یاد کریں گے۔ پردیس سے واپسی پر انکو کیا ملتا ہے بگڑی ہوئی اولاد، بوڑھی بیوی اور یہ بات کہ آ پ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟ سیونگز کچھ بھی نہیں.

    میرا سلام ہے ہر اس پردیس میں رہنے والے کو جو اپنی فیملی کو اچھی زندگی دینے کے لئے ان سے ہی دور ہو کہ بیٹھا ہے

    @iam_FoziaCh

  • انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    پاکستان کی براعظم افریقہ کی جانب معاشی سفارت کاری

    پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم کلیدی حصے کے طور پر براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لئے "انگیج افریقہ ” پالیسی کا تصور کیا ہے ” وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    قیام پاکستان سے ہی پاکستان نوآبادیاتی نظام اور امپیریلزم کے خلاف افریقی ممالک جیساکہ مراکش, زیمبیا, اریٹیریا کی جدوجہد کی موثر آواز رہا. براعظم افریقہ کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات ایک اہم سنگ میل ہے. نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک پاکستان بحریہ کی جہازوں پی این ایس اصلت اور مومن نے 8 افریقی ممالک مراکش, کینیا, تنزانیہ, گھانا, نائجیریا, جنوبی افریقہ اور سچلیز کی بندرگاہوں کا کامیاب دورہ کیا. اور اسی عرصہ میں سوڈان اور جبوتی کا بھی کامیاب دورہ کیا گیا. ان دوروں میں پاکستانی عوام کی جانب سے افریقی ممالک کی عوام کے لیے خوراک, فری میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج کی سہولت اور تکنیکی امداد فراہم کی گئ.
    پاکستان افریقی ممالک کی ترقی کے لئے پرعزم ہے.30 جنوری 2020 کو پاکستان کی جانب سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو روزہ پاکستان – افریقہ ٹریڈ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں 100 پاکستانی کمپنیوں سمیت 20 افریقی ممالک سینیگال, مصر, مراکش کے 200 وفود نے شرکت کی. حکومت کی کوشش سے پاک-افریقہ تجارتی حجم 2019 میں باوجود کورونا وباء کے 4.6 ارب ڈالر کو چھو گیا جو 2013-2016 کے درمیان 3 ارب ڈالر رہا تھا.افریقی ممالک جیسا کہ نائجیریا کے نوجوانوں کو پاکستان کی اعلی علمی درسگاہوں تک رسائی پاکستان کی تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی کوششوں کو تقویت ملتی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مصر, سوڈان اور نائجیریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی میدان تک وسعت دے رہا ہے. لیبیا میں دیر پا قیام امن کی خاطر پاکستان کی کوششیں موثر اور یقینی ہے. ایگنج افریقہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے. برسوں سے براعظم افریقہ کے ممالک داخلی اور خارجی انتشار کا شکار ہیں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورت میں امن کے قیام کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں.

    بغیرمعاشی اورسیاسی تعاون کے فروغ کے تعلقات قائم تو رہ سکتے ہیں لیکن موثر اور تعمیری نہیں ہو سکتے.

    @DanialFarooqi27

  • خطے میں امن کیلئے پاکستان  کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    اس بات سے ہر کوئی آشنا ہے کہ بھارت ا فغان سر زمین استعمال کر کے پاکستا ن کے خلاف ہائبرڈ جنگ میں ملوث ہے۔افغانستان میں بیس برس بیٹھ کر بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوششیں کیں۔کبھی داعش کے دہشت گردوں کی مالی مدد کر کے انہیں پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا گیا تو کبھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان قائم کر کے اس میں دنیا بھر سے انتہا پسندوں کو اکھٹا کر کے ان کی مالی معاونت کی جاتی اور انہیں پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا ہدف دیا جاتا تھا۔جب پاکستان نے تحریک طالبان کو کا لعدم قرار دیا، تو بھارت نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ انہیں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پناہ دی۔اب بھی چھ سے سات ہزار کے قریب دہشت گرد جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے، وہ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔پاکستان نے عالمی برادری کو دہشت گردوں کو (را) کی فندنگ کے ثبوت فراہم کئے لیکن عالمی برادری نے بھی اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔چندہفتے قبل لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے پیچھے بھی (را) موجود تھی۔شواہد کے باوجود عالمی برادری نے بھارت کی مذمت تک نہیں کی۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے چند دنوں میں ملک کے طول و عرض پر قبضہ کر لیا ہے۔ حتی کہ پاکستان،چین،ایران ازبکستان اور روس کے ساتھ ملنے والی افغان سرحدوں پر بھی طالبان نے اپنی رٹ قائم کر دی ہے۔ جس کے بعد بھارت نے بندر کی طرح بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔کبھی ایک ملک کے پاوًں پڑتا ہے، تو کبھی دوسرے ملک کے تلوے چاٹتا ہے کیونکہ بھار ت کو نہ صرف افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے بلکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے اسے جو سہولت میسر تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے۔پاک افغان سرحد کے قریب بھارت کے ایکسو پچاس کے قریب قونصل خانے تھے، اس نے جہاں دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی تھی۔لیکن افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد نہ صرف بھارتی سازشیں دم توڑ گئی ہیں بلکہ اس کے پروردہ دہشت گرد بھی اب دم دبا کر بھاگ رہیں ہیں۔بھارت ایک طرف تو افغان طالبان کے ساتھ رابطے استوار کرنے کے لئے تگ ودو کر رہا ہے۔دوسری طرف بھارتی سفیر جے شنکر نے روس اور ایران کے ہنگامی دورے کر کے جلال آباد اور قندھار کے قونصلیٹ کی تالہ بندی پر اظہار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد طلب کی ہے۔اس کے علاوہ جب بھارت اپنے سفارتی عملے کو یہاں سے نکالنے کے لئے آیاتو جہازوں میں اسلحہ لاکر افغان حکومت کو دیا۔جس کا مقصد افغانستان میں امن وامان کو تہہ وبالا کرنا تھا۔گزشتہ ہفتہ بھارت میں غنی حکومت کے سفیر فرید مامونزائی نے کہا ہے؛کہ افغان انٹرا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں طالبان پر بمباری کے لئے بھارتی فضائیہ کی ضرورت پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ؛ بھارتی فضائیہ کی مدد سے طالبان کو شکست دینا ہوگی۔باقی ملکوں کی طرح بھارت بھی اگر خطے میں امن کا خواہاں ہوتا تو وہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دیتا۔ماضی کی غلطیوں کی تلافی لیتا لیکن ہندوستان حقیقت میں
    امن کا حامی نہیں۔

    وہ اب بھی فاتح کے بجائے شکست خورہ عناصر کو تھپکی دینے سے باز نہیں آ رہا۔بھارت کی کوشش ہے کہ وہ ایران شمالی اتحاد ہزارہ تاجک اور ازبک سمیت دیگر قبائل سے ہاتھ ملا کر افغانستان میں فرقہ ورانہ بنیاد پر قتل و غارت شروع کروائے۔ اس صورت میں بھارت کے ساتھ ہزار کے قریب دہشت گردوں اور باقی مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے۔بصورت دیگر امریکا کی طرح بھارت کو بھی بوریا بسترہ گول کر کے وہاں سے کوچ کرنا ہوگا۔طالبان نے گزشتہ ہفتے سپین بولدک کا کنٹرول سنبھالا تو افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر سے تین ارب روپے کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔اس رقم کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں تخریبی کارو ائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو بطور معاوضہ ادا کی جانی تھی۔کیونکہ ماضی میں دہشت گردوں کو ہمیشہ یہی سے پیسہ بھیجا جاتا تھا۔پاک افغان بارڈر پر غنی حکومت کے لئے سب سے بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہاں سے یومیہ نوسو سے ہزار مال بردار ٹرک اور ٹینکر گزرتے تھے جبکہ ساٹھ سے ستر ہزار افراد کی امدورفت بھی ہو تی تھی۔اس کے علاوہ نیٹو فورسز کی بڑے پیمانے پر سپلائی بھی یہاں سے ہوتی تھی۔اس بارڈر پر طالبان کے قبضے سے کابل حکومت کی معاشی تدفین کا بھی آغا ز ہو چکا ہے۔یہاں سے اب روزانہ کی بنیاد پر طالبان ریونیو حاصل کریں گے بلکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی قائم کریں گے۔ پاکستان مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے ایک امن کانفرس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج بر آمد ہونگے۔افغان طالبان تمام ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے میں کوشاں ہیں۔برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی تو ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ؛عالمی برادری کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ لہذا اشرف غنی بھی طالبان سے مل کر ملکی استحکام کے لئے کام کریں تاکہ خطے میں امن کی فضا قائم ہو سکے۔

    @MAkhter_

  • پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان کا اٹم بم اس وقت دنیا اکثر ممالک کو کھٹک رہا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے اس وقت تمام مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جو کسی کے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے۔ اٹم بم بنانا کوئی آسان کام نہیں پاکستان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سارے نشیب وفراز دیکھنے کو ملے پھر جاکر پاکستان اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

    یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا ہر طریقے سے پاکستان کے اوپر پریشر ڈالنے کی کوشش کی گئی کبھی معاشی پابندیوں کی صورت میں تو کبھی سیاسی دباؤ ڈال کر مگر پاکستان نے کبھی ہمت نہیں ہارا البتہ تاخیر ضرور ہوئی مگر اخیر کار 28 مئی 1998 کو پانچ دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔ اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک کے صف میں شامل ہوا جن کے پاس اٹمی قوت ہے ۔ پاکستان کو اس مقام پہ پہنچنے کے لئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا آج میں اپنے کالم میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا کیونکہ اس ناقدری قوم میں بہت ساروں کو معلوم ہی نہیں کہ اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کتنی محنت لگی تھی۔
    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا عندیہ دیا اور سنہ 1953 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ پہ دستخط کیا کہ امریکہ صنعتی اور پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ری ایکٹر کی تعمیر میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

    اس کے بعد پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن کا بنیاد رکھا۔ اب پاکستان کے سامنے یورینیم کو حاصل کرنا تھا۔ 1963میں باقاعدہ طور پر کمیشن بنا کر یورينيم کی تلاش شروع کی پس قدرت بھی پاکستان پہ مہربان ہوئی اور پاکستان نے اخیر کار ڈیرہ غازی خان کے مقام پہ یورینیم کے ذخائر دریافت کیے اور پھر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اس کو نکالنا شروع کیا۔ 

    بھارت کے اٹمی پروگرام کا علم پاکستانی اداروں کو 1965 میں ہی ہوا تھا پھر پاکستان نے اپنی بقا کے لئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش تیز کر دی۔پھر جب پاکستان نے انڈین مداخلت اور "ادھر ہم ادھر تم” والے نعرہ کی وجہ سے 1971 میں جب مشرقی حصہ کھو دیا تب اداروں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت اٹم بم بنانا ہوگا چاغی کے پہاڑں کے دامن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں کے گروپ نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔”گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے”
    بعد میں اس نعرے کو کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ منسلق کیا گیا۔ پھر بھٹو نے بھی گھاس کھائنگے والا نعرے کا ساتھ دے دیا اور اس طرح تیزی سے پاکستان نے کوشش شروع کی۔

    پاکستان نے اپنا پہلا نیو کلیر ريكٹر کینیڈا کی مدد سے 1972 میں لگایا تھا ۔ 1974 میں کسی پریشر کی وجہ سے کینڈا نے مدد کرنے سے انکار کیا اور 1974 میں ہی انڈیا نے ايٹمی تجربہ کیا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا ۔ پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذمداری سونپی گئی پھر ہوا یوں سنہ 1979 امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کر دی اور موقف اپنایا کہ اب پاکستان کا ايٹمی پروگرام پرامن نہیں رہا۔

    پھر جب روس نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا تو امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کی امداد کو پھر سے بحال کیا اور ساری پابندیاں ہٹا دی پھر سویت یونین کو شکست ملی اور امریکہ سپر پاور بنا تو ایک بار پھر پاکستان کے اوپر پابندیاں لگا دی۔ پاکستان نے ان پابندیوں کے باوجود ايٹمی پروگرام جاری رکھا اور جب
    بھارت نے سنہ 1996 میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا۔ پھر 1998 کو جب بھارت نے یکے بعد ديگر دو دھماکے کئے پہلا 11 میں اور دوسرا 13مئی کو تب انڈیا کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور پاکستان کو دھمکانا شروع کیا تب پاکستان کے اندر سے تمام حلقوں کی جانب سے آوازیں انی شروع ہوئی کہ بھارت کو جواب دینا چاے۔

    اس وقت پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا تھا پاکستان کے اوپر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس وقت کی وزیر اعظم نواز شریف دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے مگر فوجی قیادت نے ٹھان لی تھی کہ بھارت کو ہر صورت جواب دینا ہے اب یہ جواب ناگزیر ہوچکا ہے۔
    تب چاغی کے پہاڑوں کو دھماکے کے لیے چنا گیا اور اخیر کار 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایک ساتھ سات دھماکے کر کے دنیا کو یہ بتا دیا کہ اب پاکستان ایک ايٹمی پاور بن گیا ہے اور پاکستان کا دفاع اب بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے اب کوئی پاکستان کو میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور اسطرح پاکستان نہ صرف ساتویں بڑی ایٹمی قوت بنا بلکہ پہلا اسلامی ملک بھی بن گیا جیس کے پاس ايٹمی پاور ہے۔
    ہر سال پاکستان میں 28 مئی کو "یوم تکبیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    اور اسی طرح 1953 سے شروع ہونے والی یہ اٹم بم کی داستان بلا اخیر 28 مئی 1998 کو کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
    ہمیں ان تمام لوگوں پہ فخر ہے جن کی انتھک محنت کی وجہ سے آج ہم دشمن اور دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے اٹھاتے ہیں ۔
    پاکستان زندہ آباد♥

    @I_MJawed

  • امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    افغانستان سے امریکی فوج کے خلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی تیز ترہوگئی طالبان کے کمانڈر کے مطابق افغانستان کے 85فیصد حصے میں طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اسی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان نے افغان فورسسز سے دو ماہ کیلئے مشروط جنگ بندی کی آفر بھی کردی اور اس میں سب سے پہلی شرط چھ سو سے زائد طالبان کی رہائی اور دوسری اہم شرط طالبان کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنا شامل ہے۔

    افغان فورسسز اور افغان حکومت اس وقت صوبائی عمارتوں تک محدود ہو کے رہ گئی ہے۔ ایک ایجنسی کی خبر کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کو روک دیں ترکی کے صدر کے اس بیان کو پاکستان کی عوام نے اچھا نہیں جانا کیونکہ پاکستان میں اکثریتی عوام اسلامی نظام کا نفاظ چاہتی ہے یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی جنگ نفاظ اسلام کی جنگ ہے۔
    اس جنگ میں امریکہ کا کودنا اور پھر کم و پیش بیس سال کے لگ بگ افغانستان میں طالبان سے جنگ جاری رکھنا اور پھر شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی فوج واپس لے جانا عالم اسلام بالخصوص افغان طالبان اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن امریکہ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ہماری جنگ کا مقصد طالبان کو شکست دینا نہیں تھا بلکہ ہمارے اپنے کچھ مقاصد تھے جو حاصل کر لئے گئے ہیں
    اس لئے امریکی فوج کی واپسی ہوئی۔ اب امریکہ کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے اور کیا واقعی وہ ایک مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے جنگ کر رہا تھا ؟ یہ جاننے کیلئے مناسب وقت کا انتظار باقی ہے۔

    @KHT_786

  • باغی ٹی وی . تحریر : محمد طلحہ

    باغی ٹی وی مستند، غیر جانبدار، عوامی حلقوں میں مقبول ایک محبِ وطن چینل ہے، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ملک کے حق میں جو بھی آواز اٹھی ہے، اسکوہرموقع پرسراہا ہے. ویسے تو بیسوں چینل ملک میں اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں، ملک کا نام روشن کررہے ہیں، ملک کے وسیع ترمفاد میں بہت سے چینل پاکستان کے لیے اچھا کام کررہے ہیں، پاکستان کا مثبت پہلواُجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے مسائل کے ادارک کے لیے حتی الامکان کوشش کررہے ہیں، لیکن جس قدراورجس طرح باغی ٹی وی پاکستانیوں کے لیے آواز بنا ہوا ہے پاکستانیت کو پرموٹ کررہا ہے، پاکستان کا مثبت چہرا دنیا کے سامنے اجاگرکررہا ہے اسکی مثال آپ ہے.

    اس مشکل وقت میں جب ٹوئٹرکی طرف سے ویری فائیڈ کا آپشن آن کیا گیا ہے، اسکے لیے آپکا کسی بھی نشریاتی یا پھر صفحاتی ادارے کے ساتھ منسلک ہونا لازمی قراردیا گیا ہے، اس کے لیے لوگ جوق درباغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوتے جارہے ہیں، لوگ غول کی طرح باغی ٹی وی سے اپنی تحریریں شائع کروارہے ہیں، اس کے لیے باغی وی کا کرداراہم ہے.

    مؤرخ اگرتاریخ دہرائے گا یا پھراپنے قیمتی صفحات میں تاریخ کے چند صحافتی پہلواجاگرکرے گا تو یقیناً باغی ٹی وی کا اس میں نام سرفہرست آئے گا، باغی ٹی وی نے عام آدمی کی آوازکومؤثراندازمیں اجاگرکرکے اس عام انسان کا قد بڑھایا ہے. جس طرح تحریریں لکھنے کا جزبہ مانند پڑتا جارہا تھا لوگ سیل فون میں مصروف ہوگئے تھے، نِت نئے کارنامے انجام دے رہے تھے، ایسے میں باغی ٹی وی نے حقیقی طورپرلوگوں میں تحریریں لکھنے کا جزبہ پیدا کیا ہے، لوگ ایک سے بڑھ کرایک تحریرکواپنے اندازمیں اپنے الفاظ میں پرو کر پڑھنے والوں کو محوکررہے ہیں.

    یقیناً اس میں باغی ٹی وی کا کرداراہم ہے، لکھنے کے جذبے کو مانند پڑنے سے بچانے کے لیے باغی ٹی وی جس طرح کام کررہا ہے لوگوں کے درمیان شوق پیدا کررہا ہے وہ یقیناً قابلِ تحسین اورقابلِ ستائش ہے، عام آدمی کو خوشی ہے کہ کوئی تو مستند چینل ہے جو ہماری آواز ہمارے الفاظوں کو تحریروں میں سمو کر لوگوں تک پہنچا رہا ہے.

    میں ذاتی طورپراس خیال سے ہم آہنگ ہوں کہ لوگ دن بدن آئے روز نئی سے نئی تحریریں باغی ٹی وی پرشائع کروارہے ہیں تاکہ انکی آواز مؤثراندازمیں لوگوں تک پہنچ پائے، میں ذاتی طورپرکچھ عرصہ ایک صفحاتی ادارے میں کالم لکھتا رہا ہوں میرا چونکہ تعلق زیادہ ترلکھنے سے ہے، بغدادیّ کا خیالی سے اقتباس کے نام سے میں کئ تحریروں کو لکھ چکا ہوں، مٔجھے جب اپنے جذبے کی جانچ پڑتال کرنا پڑی تومجھے اپنا جذبہ لکھنے کے حوالے سے مانند پڑتا ہوا نظرآرہا تھا، ایسے میں باغی ٹی وی کی طرف سے دلچسپی دیکھتے ہوئے مٔجھے بھی لکھنا پڑا تاکہ میں اپنے لکھنے کے جذبے کو تروتازہ رکھ سکوں.

    آخر میں میری باغی ٹی وی کے لیے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگرچہ باغی ٹی وی ایک اصول پسند ادارہ ہے ہرادارے کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، أنکے اصول و ضوابط اور قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تحریریں لکھیں تاکہ آپکی لکھی ہوئی ہربات میں وزن ہو، عوام پڑھے تودلچسپی ظاہرہو، ایسا نہ ہو کہ آپکی تحریرکو شرفِ قبولیت میسرنہ ہو، عوام ورق کو آگے پلٹیں اورچلے جائیں.

    وہ شعر ہے ابنِ جہان کا کہ
    ‏‎اگرتحریر کو شرفِ قبولیت نہیں
    بخشنی تو بتا دیں ہم أردو سرائے
    سے کٔوچ کر جائیں

    @Talha0fficial1

  • اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اورسیز پاکستانی ہر مشکل گھڑی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہيں اس کی تازہ مٽال گزشتہ تين سالوں جب ملک کو انتہائی معاشی چلنجز کا سامنا تھا تو اورسیز پاکستانیوں نے وزيراعظم عمران خان کی کال پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ چاہے ریکارڈ ترسیلات زر ہو ، روشن ڈیجٹل اکاونٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہو اورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی انوسٹمنٹ کر کے ملک کو ڈیفلٹ ہونے سے بچایا، گزشتہ تین سالوں میں ملکی معیشت کو جیسے اورسیز پاکستانیوں نے سہارہ دیا ہے اسکی ماضی میں مثال نہی ملتی ،
    حکومت اور سٹیٹ بینک کے اورسیز کارکنوں کی سہولت کے لئے شروع کیے گئے مختلف اقدامات کی وجہ سے کوڈ 19 وبائی امراض میں درپیش چیلنجوں کے باوجود مثبت نتائج آنا شروع ہو گے ہیں۰

    سٹیٹ بنک اوف پاکستان کے مطابق اس سال 2020-2021 میں پاکستان کو تاریخ کی ریکارڈ ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر وصول ہوی ہیں ۰
    اورسیز پاکستانیوں نے سال 2019-2020 میں ریکارڈ 23.13 بلین ڈالر کی ترسیلات زر بیھجی تھی۰یاد رہے اس سال پا کستان کو گزشتہ سالوں کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ وصول ہوٸ ہیں. پاکستان کو ترسیلات زر کا تقریبأ 60 فیصد خليجی ممالک اور 40فیصد امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور دیگر ملکوں کے اورسيز پاکستانيوں سے وصول ہوتا ہے ۔

    اورسيزپاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی میں اہم حصہ رہے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات کرنا ضروری سمجتا ہوں سابقہ ​​تمام حکومتوں نے اورسیز پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا
    لیکن کسی نے بھی ان وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں موجودہ حکومت نے کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سےاورسیز پاکستانی پہلے کے مقابلے اب زیادہ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں۰

    @iusmanchoudhry

  • برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    کسی بھی ملک کی افرادی قوت یا دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ لوگوں کا روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کو برین ڈرین کہتے ہیں کسی بھی ملک کا سرمایہ اس کے ہنر یافتہ نوجوان ہوتے ہیں پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں جوان سب سے زیادہ ہیں مگر اس کے ساتھ بد نصیب بھی کیوں کے پاکستان کے ہنر یافتہ نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان میں سے سب سے بڑی تعداد ڈاکٹروں کی ہے ایک ڈاکٹر پر ریاست لاکھوں روپے لگتی ہے اور کیا ہی بد قسمتی ہے کے وہ باہر چلا جاتا ہے اس کے بعد انجینر حتی کے الیکڑیشن تک یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی دیکھ رہی ہے اور اس میں ان نوجوان کا کیا قصور جب کسی کو یہ لگے کے نا اس کا یہاں مستقبل ہے کبھی سوچا ہے کے ہماری ریاست ہمارے ٹیکس کے پیسے سے ان کو ہنر دیتی ہے اور وہ اپنے اس ہنر کو باہر جا کر دوسروں کو دیتے ہیں ایک تو ریاست کے پاس وسائل نہیں اوپر سے سونے پر سہاگا کے یہ نظام اتنا گٹھیا اور بدبودار ہو چکا ہے کے جہاں ایک شریف اور ایماندار شخص کا کام کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے ایسے میں کوئ پاگل ہی ہو گا جو یہ کام کرے گا اپنے قیمتی ذہن ہم کھو رہے ہیں پھر ہم روتے ہیں کے ہم ہر چیز میں مغرب سے پیچھے ہیں ایسا نا ہو کے ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے اس پر سوچنا شروع کرو.

    @painandsmile334