Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:محمد ہشام علی ہاشمی

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:محمد ہشام علی ہاشمی

    تاریخِ انسانیت کے طویل اوراق جب بھی پلٹے جاتے ہیں، ان میں کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جو محض روشنائی سے نہیں بلکہ شہیدوں کے مقدس لہو اور غازیوں کے پرعزم پسینے سے لکھے جاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم باب ہوتے ہیں جہاں حق اور باطل، روشنی اور تاریکی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ حق، جو کبھی اپنی بقا کے لیے ظاہری تعداد یا مادی اسلحے کا محتاج نہیں ہوتا، اور باطل، جو ہمیشہ اپنے غرور اور تکبر کے نشے میں چور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک عظیم الشان معرکہِ حق و باطل اس پاک سرزمین پر بھی آیا، جب رات کے اندھیرے میں بزدلی کی چادر اوڑھے، ایک مکار دشمن نے اس خام خیالی کے ساتھ حملہ کیا کہ وہ صبح کا ناشتہ ہمارے شہروں میں کرے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کا واسطہ اس قوم سے ہے جس کے دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں، اور جو میدانِ جنگ میں محض افراد کا ہجوم نہیں رہتے، بلکہ قرآن کی تفسیر کے عین مطابق ’’بنیان مرصوص‘‘ یعنی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جایا کرتے ہیں۔

    وہ ایک خاموش رات تھی جب ہوائیں بھی سہم گئی تھیں۔ بھارت نے اپنے عددی غلبے اور ٹینکوں کے بے پناہ غرور میں اندھا ہو کر بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان کی سرحدوں پر شب خون مارا۔ ان کا گھمنڈ آسمان کو چھو رہا تھا، ان کا خیال تھا کہ یہ نئی نویلی ریاست ان کے آہنی قدموں تلے کچل دی جائے گی۔ اچانک توپوں کی خوفناک گھن گرج نے رات کے سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ آسمان سے آگ اور بارود کی بارش ہونے لگی۔ دشمن کا ٹڈی دل لشکر مستی میں آگے بڑھ رہا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید چند گھنٹوں کی مار ہے اور یہ سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہو جائے گا۔ مگر وہ بدبخت تاریخ کا یہ اٹل سبق فراموش کر بیٹھے تھے کہ جب مٹی کی سچی محبت اور ربِ ذوالجلال پر کامل یقین ایک نقطے پر ملتے ہیں، تو ایک ایسی طاقت جنم لیتی ہے جسے دنیا کی کوئی توپ نہیں توڑ سکتی۔

    جیسے ہی جنگ کا بگل بجا، یہ قوم ایک جسمِ واحد کی مانند جاگ اٹھی۔ ماؤں نے مصلے بچھا لیے، اور اپنے جگر گوشوں کے ماتھے چوم کر دعاؤں کے سائے میں انہیں محاذِ جنگ پر روانہ کیا۔ بوڑھے باپوں کی آنکھوں میں فخر کی چمک ابھر آئی۔ سرحد پر کھڑے ہمارے شیر دل جوانوں نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی دھرتی ماں کی طرف ناپاک قدم بڑھا رہا ہے، تو ان کی رگوں میں دوڑتا خون ابلتا ہوا لاوا بن گیا۔ وہ صرف فوجی نہیں تھے، وہ تاریخِ اسلام کے عظیم ہیروز کے وارث تھے۔ انہوں نے دشمن کی گولہ باری کے سامنے اپنے سینوں کو فولادی سپر بنا لیا اور واقعی ’’بنیان مرصوص‘‘ کی وہ زندہ تفسیر بن گئے جس کا ذکر کلامِ پاک میں کیا گیا ہے۔ ہر خندق ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن گئی، ہر جوان ایک پوری فوج کا ججذبہ سمیٹ کر کھڑا ہو گیا۔

    یہ معرکہ محض توپوں کا نہیں تھا؛ یہ تکبیر کی گونجتی صداؤں اور باطل کے کھوکھلے غرور کے درمیان ایک جنگ تھی۔ بی آر بی نہر کا بہتا پانی گواہ ہے کہ کس طرح وطن کے سرفروش جوانوں نے اپنے جسموں سے بارود باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے پرخچے اڑائے۔ چونڈہ کا میدان دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کا قبرستان بن کر رہ گیا۔ فضاؤں میں ہمارے عقابوں نے وہ کمال دکھایا کہ دشمن کے جنگی طیارے بے بس ہو کر زمین بوس ہونے لگے۔ سمندر کی لہروں پر ہمارے غازیوں نے دشمن کے دلوں پر وہ ہیبت طاری کی کہ ان کے جہاز اپنے ہی ساحلوں پر محصور ہو گئے۔ ہر محاذ پر ایک ہی جنون کارفرما تھا: "یا غازی یا شہید”ہمارے فوجیوں کے پاس وہ روحانی وورثہ تھا جو انہیں ہارنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ایک ایسی دیوار بن چکے تھے جس سے ٹکرا کر دشمن کا ہر حملہ پاش پاش ہو رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والا بزدل دشمن اب دن کی روشنی میں اپنی جانیں بچا کر بھاگنے پر مجبور تھا۔

    حق و باطل کا یہ خون ریز معرکہ بالآخر حق کی ایک شاندار اور فیصلہ کن فتح پر ختم ہوا۔ وہ دشمن جو لاہور میں فتح کا جشن منانے کے خواب دیکھ رہا تھا، اب عالمی برادری کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ پاکستان کے ان غازیوں اور شہیدوں نے دنیا کی عسکری تاریخ کا رخ موڑ دیا اور ثابت کر ددیا کہ حتمی فتح مشینوں سے نہیں، بلکہ غیر متزلزل جذبوں اور رب کی نصرت سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس جنگ نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ پاکستانی قوم کوئی ریت کی دیوار نہیں جسے کوئی تیز جھونکا گرا دے، بلکہ یہ وہ ’’بنیان مرصوص‘‘ ہے جسے گرانے کا خواب دیکھنے والے خود مٹی میں مل جاتے ہیں۔

    آج جب ہم ان شہیدوں کی قربانیوں کو دل میں بساتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ایک ایک قطرہ خون ہم سے کلام کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب تک اس قوم کے دلوں میں اللّٰہ کی محبت اور دھرتی کا عشق زندہ ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم متحد رہیں، اور دشمن کے ہر وار کے سامنے وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہیں۔ یہ پیارا وطن آج بھی ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں ایسا اتحاد پیدا کریں کہ دنیا کو بتا دیں کہ ہم ایک نظریاتی قوم ہیں، اور خدا کی قسم، ہم بنیان مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بسمہ مجید

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: بسمہ مجید

    انسان جب تنہا ہوتا ہے تو اُس کی قوت محدود، اُس کی آواز مدھم اور اُس کا اثر عارضی ہوتا ہے؛ لیکن جب یہی انسان ایک مقصد، ایک فکر اور ایک جذبے کے تحت متحد ہو جائیں تو وہ ایک ایسی طاقت بن جاتے ہیں جسے تاریخ “بنیانِ مرصوص” کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ “بنیانِ مرصوص” محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جو اتحاد، استقامت اور ایثار کے ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔

    قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہی “بنیانِ مرصوص” کا حقیقی مفہوم ہے۔ ایک ایسی دیوار جس میں ہر اینٹ اپنی جگہ مضبوطی سے جڑی ہو، جس میں کوئی دراڑ نہ ہو، اور جسے کوئی طوفان متزلزل نہ کر سکے۔ یہ مثال ہمیں صرف جنگ کے میدان کے لیے نہیں دی گئی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

    آج کا دور انتشار، خود غرضی اور انفرادیت پسندی کا دور ہے۔ ہر فرد اپنی ذات کے خول میں مقید ہو کر اجتماعی مفاد کو نظر انداز کر رہا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی، کامیابی اور وقار چاہتے ہیں تو ہمیں “میں” سے نکل کر “ہم” کی طرف آنا ہوگا۔ کیونکہ “ہم” ہی وہ قوت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔

    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے سب سے پہلی شرط اخلاص ہے۔ جب تک ہمارے دلوں میں نیت کی پاکیزگی نہیں ہوگی، ہمارا اتحاد محض دکھاوا رہے گا۔ اخلاص وہ بنیاد ہے جس پر اعتماد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اور اعتماد کے بغیر کوئی بھی اتحاد دیرپا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دوسرے پر یقین رکھنا، ایک دوسرے کے لیے کھڑا ہونا، اور ایک دوسرے کی کمزوریوں کو ڈھانپنا ہی اصل طاقت ہے۔

    دوسری اہم صفت قربانی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی بھلائی پر قربان کر دیتی ہیں۔ جب ایک فرد اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر قوم کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو وہ اس دیوار کی مضبوط اینٹ بن جاتا ہے۔ لیکن جب ہر اینٹ اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کرے، تو دیوار کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔ ہماری تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے بنیانِ مرصوص بن کر ناممکن کو ممکن بنایا۔ چاہے وہ آزادی کی جدوجہد ہو یا کسی آزمائش کا وقت، جب بھی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، کامیابی اُس کے قدم چومتی رہی۔ لیکن جب ہم نے اختلافات، تعصبات اور انا کو اپنے درمیان حائل ہونے دیا، تو ہمیں نقصان اٹھانا پڑا۔

    آج بھی ہمیں اسی سبق کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں پھیلتی ہوئی نفرتوں، فرقہ واریت اور تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری طاقت ہمارے اختلافات میں نہیں بلکہ ہماری یکجہتی میں ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بنیانِ مرصوص کی عملی تصویر بننا ہوگا۔

    تعلیم، اخلاق اور شعور اس سفر کے اہم زادِ راہ ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اتحاد کیا ہوتا ہے، دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، اور اجتماعی بھلائی کے لیے کیسے کام کیا جاتا ہے۔ جب ہمارے نوجوان اس شعور کے ساتھ پروان چڑھیں گے تو وہ ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھیں گے جو واقعی بنیانِ مرصوص ہوگی۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بنیانِ مرصوص بننے کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ ہم آہنگی ہے۔ ہر فرد کی اپنی سوچ، اپنی رائے اور اپنی پہچان ہوتی ہے، لیکن اصل کمال یہ ہے کہ ہم ان اختلافات کے باوجود ایک مقصد کے لیے متحد رہیں۔ جیسے ایک دیوار میں مختلف اینٹیں ہوتی ہیں، لیکن سب مل کر ایک مضبوط ساخت بناتی ہیں۔ آخر میں، ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی بنیانِ مرصوص ہیں؟ کیا ہم ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہم اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں ابھی سے خود کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بکھری ہوئی اینٹیں نہ رہیں بلکہ ایک مضبوط دیوار بن جائیں۔ ایسی دیوار جو ہر طوفان کا مقابلہ کر سکے، ایسی دیوار جو حق کی حفاظت کر سکے، اور ایسی دیوار جس پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔

    آئیے عہد کریں کہ ہم نہ صرف لفظوں میں بلکہ عمل میں بھی بنیانِ مرصوص بنیں گے۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے، اور مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جو اتحاد، محبت اور استقامت کی روشن مثال ہو۔ کیونکہ جب ہم واقعی “ہم” بن جائیں گے، تبھی ہم بنیانِ مرصوص کہلانے کے حق دار ہوں گے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:عالیہ رمضان

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:عالیہ رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ہمیشہ سربلند رہیں جنہوں نے اتحاد و یگانگت کو اپنا شعار بنایا۔ جب افراد ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔ “ہم بنیان مرصوص ہیں” ایک ایسا تصور ہے جو صرف الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ اجتماعی قوت، باہمی اعتماد اور استقامت کی عملی تصویر ہے۔

    قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہی “بنیان مرصوص” کا حقیقی مفہوم ہے۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا بنے۔ اگر ایک اینٹ کمزور پڑ جائے تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر معاشرے کا ایک فرد کمزور ہو جائے تو اس کی کمزوری پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    افسوس کہ آج ہم اسی بنیادی اصول سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مفادات، تعصبات اور انا پرستی نے ہمیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہم نے زبان، علاقے، مسلک اور نظریات کی بنیاد پر ایسی دیواریں کھڑی کر لی ہیں جنہوں نے ہمارے اتحاد کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ ترقی اور استحکام کا راستہ باہمی اتفاق اور یکجہتی سے ہو کر گزرتا ہے۔

    اسلام نے ہمیشہ اخوت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ ہمیں سکھایا گیا کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی احساس ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ہمیں اجتماعی قوت عطا کرتا ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

    یہ شعر اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو کوئی طاقت قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔

    تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب مسلمانوں نے اتحاد کو اپنایا تو وہ ناقابلِ شکست قوت بن گئے۔ ان کے پاس وسائل کم تھے مگر ان کے دل ایک تھے، ان کا مقصد واضح تھا اور ان کے قدم ثابت تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔ لیکن جب اختلافات نے جنم لیا تو زوال نے بھی راستہ پا لیا۔

    آج اسی سبق کو دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انفرادی کامیابی عارضی ہو سکتی ہے مگر اجتماعی کامیابی دیرپا ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے سوچنا ہوگا۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ چاہے تو دلوں کو جوڑ سکتا ہے اور چاہے تو نفرتوں کو بڑھا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، گفتگو اور رویوں کے ذریعے مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک اچھا لفظ، ایک مخلصانہ مشورہ اور ایک مددگار رویہ کئی دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔

    “ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کمزور بھائیوں کا سہارا بنیں۔ یتیموں، محتاجوں، مظلوموں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے ہر فرد کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔

    اقبالؒ نے فرمایا:

    منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

    یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل پہچان اتحاد میں ہے۔ جب ہم تقسیم ہو جاتے ہیں تو ہماری طاقت بکھر جاتی ہے، اور جب متحد ہوتے ہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں۔

    اختلافِ رائے فطری ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا دانشمندی نہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کریں۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم “میں” سے “ہم” کی طرف سفر کریں۔ اپنی انا کو چھوڑ کر اجتماعیت کو اپنائیں۔ محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ دیں۔ کیونکہ مضبوط قومیں نفرت سے نہیں بلکہ اتحاد سے بنتی ہیں۔

    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے قول و فعل سے اس پیغام کو زندہ کریں گے۔ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے اور عملی طور پر ثابت کریں گے کہ واقعی ہم بنیان مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیانُ مرصوص ہیں،تحریر: ثروت اقبال

    ہم بنیانُ مرصوص ہیں،تحریر: ثروت اقبال

    قرآنِ مجید کی سورۃ الصف کی ایک آیت دل کے کسی گوشے میں جا کر یقین دلاتی ہے
    كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ
    یعنی وہ ایسے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔

    یہ الفاظ محض منظر نہیں پیش کرتے بلکہ ایک ایسی حقیقت بیان کرتے ہیں جِسے ایک مومن قوم اپنے کردار سے زندہ کرتی ہے۔ "بنیانُ مرصوص” وہ دیوار ہے جس کی اینٹیں جدا نہیں ہوتیں، جو ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں، اور مل کر ایسی طاقت بن جاتی ہیں جسے کوئی طوفان ہلا نہیں سکتا۔
    یہ صرف جسموں کی صف بندی نہیں بلکہ نیتوں کی پاکیزگی اور مقصد کی یکجائی کا نام ہے۔ یہاں "میں” کی نفی ہوتی ہے اور "ہم” کا آغاز ہوتا ہے۔ جو ایک منتشر ہجوم کو ایک مضبوط امت میں بدل دیتی ہے۔

    تاریخِ اسلام اس کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی، وسائل محدود تھے، مگر ان کے درمیان ایسا اتحاد تھا جو انہیں ناقابلِ شکست بنا رہا تھا۔ وہ ایک صف میں، ایک مقصد کے تحت، اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں کھڑے تھے۔ یہی وہ کیفیت تھی جہاں "بنیان مرصوص” ایک عملی حقیقت بن کر سامنے آئی۔
    حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ صفوں کی درستی پر زور دیتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی کامیابی صرف قوت میں نہیں، بلکہ نظم، اتحاد اور ترتیب میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    ہم اسی امت کا حصہ ہیں، اور ہم اسی ملک کے وارث ہیں جو "لا الٰہ الا اللہ” کے نام پر حاصل کیا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ہجرتیں کیں، آزمائشوں کا سامنا کیا لیکن وہ بکھرے نہیں، وہ جڑے رہے۔ وہ ایک مضبوط دیوار بنے رہے ، ایک مثالی اور ایک زندہ "بنیان مرصوص”۔
    آج بھی یہی ہماری پہچان ہے اور یہی ہماری ضرورت بھی ہے۔
    ہم اس وقت حقیقی معنوں میں "بنیانُ مرصوص” بن سکتے ہیں جب ہم اپنے اختلافات کو تقسیم کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھیں، جب ہم اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں، اور جب ہم ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں، نہ کہ بوجھ۔

    پاکستان کی ترقی صرف وسائل یا منصوبوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے دلوں کا جڑنا ضروری ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑیں گے، تب ہی ہم وہ دیوار بن سکتے جس کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔
    ہر فرد اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر ایک اینٹ کمزور ہو تو پوری دیوار متاثر ہوتی ہے اور اگر ہر اینٹ مضبوط ہو تو دیوار ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں خود کو سنوارنا ہوگا، اپنے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا، اور اپنے تعلق کو دوسروں کے ساتھ بہتر بنانا ہوگا۔ تاکہ
    ہم ہجوم نہیں، ایک قوت بنے رہیں۔
    ہم الگ الگ نہیں، ایک ہیں۔ ہم صرف ساتھ نہیں کھڑے، بلکہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہیں۔
    آئیے اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم واقعی ایک مضبوط دیوار ہیں۔
    ہم وہ قوم ہیں جو جڑنا جانتی ہے، سنورنا جانتی ہے، اور آگے بڑھنا جانتی ہے۔
    کیونکہ ہم بکھری ہوئی اینٹیں نہیں
    ہم بنیان مرصوص ہیں۔

    یہ آیت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم کمزور نہیں، منتشر نہیں بلکہ ہم ایک مضبوط اکائی ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جس کی بنیاد ایمان، اتحاد اور اخوت پر رکھی گئی ہے۔
    بنیانِ مرصوص ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔
    اسلامی تاریخ میں جب معرکہ بدر ہوا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے۔
    پاکستان کی تاریخ میں جب پاکستان وجود میں آیا تب بھی ہم بنیان مرصوص تھے اور "معرکہ حق” ہوا تب بھی دنیا نے دیکھا کہ ہم بنیان مرصوص ہیں۔

    اسی اتحاد کی ایک خوبصورت اور مثال ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ جب بھی دنیا کے کسی کونے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ہستی کے احترام کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب بات ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آتی ہے تو امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک صف میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دلوں کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں، زبانوں کے فرق ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان ایک ہی جذبے میں ڈھل جاتے ہیں۔ کوئی مشرق میں کھڑا ہے، کوئی مغرب میں، مگر سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ محبت ہمیں ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ اس وقت امت واقعی بنیان مرصوص کا منظر پیش کرتی ہے۔سیسہ پلائی دیوار کی مانند، جہاں ہر فرد اپنے ایمان، اپنی غیرت اور اپنی محبت کے ساتھ اس دیوار کی ایک مضبوط اینٹ بن جاتا ہے۔ یہ اتحاد اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب معاملہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حرمت کا ہو، تو مسلمان نہ بٹتے ہیں، نہ جھکتے ہیں بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سامنے آتے ہیں۔
    اس وقت پوری امت سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو جاتی ہے، نہ کوئی دراڑ، نہ کوئی کمزوری۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے دل اب بھی ایک دھڑکن میں بندھے ہوئے ہیں، اور ہم آج بھی بنیان مرصوص بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ جب ایک امت دل سے جڑ جائے، تو وہ واقعی سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے اور ایسی دیوار کو کوئی طاقت گرا نہیں سکتی۔
    یہی ہماری اصل قوت ہے کہ ہم صرف حالات کے دباؤ میں نہیں، بلکہ شعور کی روشنی میں بھی ایک ہو سکتے ہیں۔
    جب ہم اپنے ارد گرد خیر کو عام کرتے ہیں، کسی گرتے ہوئے کو سہارا دیتے ہیں، کسی مایوس کو حوصلہ دیتے ہیں، تو دراصل ہم اس مضبوط دیوار کی ایک نئی اینٹ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ خاموش نیکیاں، جو قوموں کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں۔
    ہم وہ دیوار ہیں جسے ایمان جوڑتا ہے اور اخلاص مضبوط بناتا ہے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر : انیلا صفدر

    ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر : انیلا صفدر

    6-7 مئی بروز منگل 2025 کی درمیانی شب یکایک بریکنگ نیوز چلنے لگی ۔ کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ ہر طرف فون اور پیغامات گردش کرنے لگے ۔ کہ سب خیریت ہے ، کہاں حملہ ہوا ، کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا ، کہیں مالی نقصان تو نہیں ہوا۔ ایک دم سے افراتفری کی صورت حال ہو گئی۔

    انڈیا جو قیام پاکستان سے ہی ہمارا ہمسایہ ہونے سے زیادہ اپنی خود ساختہ دشمنی کا حق ادا کر رہا ہے اور پاکستان کو گزند پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس کا ثبوت یہ آج تک ہونے والی چار جنگیں ہیں اور ان کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر آئے دن انڈین کی چھیڑ خانی سے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ نقصان صرف پاکستان کا ہی نہیں ہوتا بلکہ جب انڈین کو منہ توڑ جواب دیا جاتا تو ان کا بھی نقصان ہوتا ہے ۔ اور انڈین اپنی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر نقصان پر پردہ ڈال دیتا ہے ۔آج تک انڈیا سے ہونے والی جنگیں چاہے وہ 48-1947 ہو یا 1965 اور چاہے 1971 کی ہو یا پھر 1999 کار گل کی ، انڈیا نے ہمیشہ یہی دعوی کرتا رہا ہے کہ وہ جیت گیا ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک افواج ہمیشہ ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنے وطن اور عوام کے دفاع میں ڈٹے رہے ۔

    ایک سال قبل جب انڈیا نے 6 مئی کی رات کو پاکستان پر میزائل سے حملہ گیا ۔ تو پاکستان کی ساری فورسز ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہو گئے ۔اور اپنے مکار و عیار دشمن کو دھول چٹا دی ۔ 7-6 مئی 2025 کی رات کو انڈیا اور پاکستان میں شدید مسلح جنگ کا آغاز ہوا۔ جسے انڈیانے ” آپریشن سندور ” کا نام دیا ، پاکستان پر میزائل سے حملہ کر دیا ۔ اور حملے کا جواز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے حملے کو بنایا گیا ۔ جو شدت پسندوں کے حملہ کرنے سے 26 لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اور شر پسندوں کی بجائے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا ۔

    ہمارا دشمن بزدل ہے لیکن عیاری میں اس کوئی ثانی نہیں۔ اس کے میزائل حملوں کو کامیابی سے ناکام کیا گیا۔ اور اسے تنبیہ کی گئی کہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔ لیکن جب وہ باز نہیں آیا تو پاک فوج نے جوابی کاروائی کا فیصلہ کیا ۔اور آپریشن سندور کے مقابلے میں "معرکہ حق کو بنیان المرصوص ” کا نام دیا گیا ۔بنیان المرصوص کا مطلب ہے
    "بہت مضبوطی سے جڑی دیوار”
    ان الفاظ کو قرآن میں استعمال کیا گیا ہے سورہ الصف کی آیت نمبر 4 میں بیان کیا گیا ہے
    "حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں۔ جیسے وہ ( بنیان مرصوص ) یعنی سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں ۔

    ایک طرف جنگی جوش و جذبہ اور دوسری طرف قرآنی آیت سے لئے گئے نام نے فوج اور قوم دونوں میں جوش و ولولے کی نئی روح پھونک دی ہو۔ پاکستان نے انڈیا کے سب حملوں کو ناکام بنایا۔ ہر آنے والا ڈرون زمین بوس کیا گیا ۔ اور وہ رافیل طیارے جو انڈیا نے پاکستان کے لئے ایک دہشت اور خوف کی علامت بنا رکھے تھے ایک یا دو نہیں بلکہ ہمارے شاہینوں نے آٹھ طیاروں کے پرخچے اڑا دئیے۔ جس سے ہماری ائیر فورس کی مہارت اور دیدہ دلیری کا واضح ثبوت دیا ہے ۔ وہ طیارے جن کا نام لے کر دوسروں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ وہ ہوا میں ہی ہوا کر دیئے گئے۔

    انڈیا یہ دعوے کرتا رہا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، بہاولپور، مرید کے اور مظفر آباد میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر میزائل سے حملے کئے۔ جبکہ پاکستان نے ردعمل دیتے ہوئے ان دعووں کی تردید کی اور بتایا کہ سویلین مقامات کو نشانہ بنایا گیا ۔ اسی وجہ سے 26 لوگ اپنی جان سے گئے اور 46 لوگ زخمی ہوئے۔ پاکستان اور انڈیا میں 88 گھنٹوں تک کشیدگی جاری رہی ۔ اس سارے وقت میں ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب پاک افواج یا قوم میں سے کسی کا کوئی جذبہ کم ہوا ہو ۔ انڈیا نے رات کے جس بھی پہر حملہ کیا اسے منہ توڑ جواب ملا ۔ اور جب ان پر بھی جوابی کارروائی کی گئی تو کہیں بھی ہماری ائیر فورس نہیں چوکی۔ ایسے منظم اور مربوط حکمت عملی سے حملہ کیا گیا کہ خدا کی رحمت اور فضل و کرم سے ہم ہر جگہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہی ثابت ہوئے۔

    10 مئی 2025 کو بالآخر عالمی دباؤ اور امریکہ کی ثالثی کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی ۔ اس جنگ کا آغاز تو انڈیا نے کیا لیکن اس کو پایہ تکمیل تک پاک افواج نے پہنچایا۔ اور دنیا پہ ثابت کیا کہ اگر ہم میں اندرونی معاملات پر اختلافات ہیں تو وہ اپنی جگہ ، لیکن جب کوئی میلی نظر سے وطن عزیز کی طرف دیکھے کا تو ہم حقیقی بنیان مرصوص ہیں۔ جن کے وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں اس ملک کا دفاع اور بقا سب سے اولین ترجیح ہے۔ جس پر ہر اختلاف کو بھلا کر ہم ایک ہیں ۔

    معرکہ بنیان المرصوص نے انڈیا کی پیشہ وارانہ مہارت کا نہ صرف پردہ چاک کر دیا ہے بلکہ اقوام عالم میں پاکستان کا نام بحیثیت مضبوط ومربوط افواج کے روشن کیا ہے۔ پاک افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے دنیا کو دنگ کر دیا ہے ۔اللہ ہمارے ملک اور اس کی افواج کا حامی و ناصر ہو۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
    ہم بنیان المرصوص ہیں
    جو وطن کے دفاع کے لئے ہمہ وقت ہمہ تن تیار ہیں۔
    پاکستان زندہ باد
    پاک افواج پائندہ باد

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ایس اے شازِم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ایس اے شازِم

    تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ حق اور باطل کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ وقت بدلتا رہا، کردار بدلتے رہے، طریقے بدلتے رہے، مگر معرکۂ حق ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ کبھی یہ جنگ میدانوں میں لڑی گئی، کبھی عدالتوں میں، کبھی قلم سے، اور کبھی ضمیر کے اندر۔ یہی وہ معرکہ ہے جو انسان کے کردار کا اصل امتحان بنتا ہے۔

    قرآن مجید ہمیں بار بار یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر انجام کے اعتبار سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ باطل وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، اس کے پاس دولت، اختیار اور شور ہو سکتا ہے، مگر اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ حق خاموش ضرور ہوتا ہے مگر مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد انصاف، دیانت اور سچائی پر قائم ہوتی ہے۔

    آخر میں، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حق کا راستہ اگرچہ کٹھن ہے مگر یہی راستہ انسان کو عزت، سکون اور کامیابی دیتا ہے۔ باطل وقتی شور تو پیدا کر سکتا ہے مگر ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتا۔ وقت آخرکار حق کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔

    آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ معرکۂ حق صرف بڑی بڑی جنگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ملازم جب رشوت لینے سے انکار کرتا ہے تو وہ معرکۂ حق لڑ رہا ہوتا ہے۔ ایک صحافی جب سچ لکھنے کی ہمت کرتا ہے تو وہ اس معرکے کا سپاہی ہوتا ہے۔ ایک استاد جب ایمانداری سے نئی نسل کی تربیت کرتا ہے تو وہ بھی حق کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں حق کا ساتھ دینے والے کم اور تماشائی زیادہ ہو گئے ہیں۔ لوگ ظلم دیکھتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔ جھوٹ سنتے ہیں مگر مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ ناانصافی پر دل تو دکھتا ہے مگر زبان خاموش رہتی ہے۔ یہی خاموشی رفتہ رفتہ باطل کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ یاد رکھیے، ظلم صرف ظالم کے ہاتھوں نہیں بڑھتا بلکہ خاموش لوگوں کی بے حسی سے بھی پروان چڑھتا ہے۔

    تاریخ میں جتنے بھی بڑے معرکے ہوئے، ان میں کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کو ملی جنہوں نے حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ واقعۂ کربلا اس کی عظیم مثال ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ حق، صبر اور اصولوں کی بقا کی جنگ تھی۔ وہاں تعداد کم تھی مگر حوصلے بلند تھے۔ طاقت کم تھی مگر سچائی موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود حق کا نام آج بھی زندہ ہے جبکہ ظلم اپنے انجام کو پہنچ چکا۔

    دیکھا جائے تو آج کے انتشار بھرے معاشرے میں اگر کوئی ایک جملہ ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹا سکتا ہے تو وہ ہے؛ "ہم بنیانِ مرصوص ہیں”۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جو ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں قرآن مجید میں دیا گیا کہ اہلِ ایمان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔ ایسی دیوار جس میں نہ دراڑ ہوتی ہے اور نہ کمزوری۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس معیار پر پورا اترتے ہیں؟

    آج ہمارا معاشرہ لسانی، فرقہ وارانہ اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ ہر فرد اپنی ذات کے حصار میں قید ہے اور اجتماعی مفاد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں تو پیش پیش ہیں مگر ایک دوسرے کا سہارا بننے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مضبوط قوم کی علامت نہیں۔
    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے کردار کی پختگی، نیت کی صفائی اور عمل کی یکجہتی ضروری ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہی اصل طاقت ہے۔ جس طرح ایک دیوار کی اینٹیں الگ الگ ہو کر کچھ نہیں ہوتیں، مگر جب وہ جڑ جاتی ہیں تو ایک ناقابلِ تسخیر مضبوطی اختیار کر لیتی ہیں، اسی طرح قومیں بھی اتحاد سے ہی مضبوط بنتی ہیں۔
    ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اس اصول کو اپنانا ہوگا۔ چاہے وہ گھر ہو، تعلیمی ادارہ ہو یا معاشرہ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ایک دوسرے کا بوجھ بانٹیں اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں تو ہم واقعی بنیانِ مرصوص بن سکتے ہیں۔

    معرکۂ حق ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سچائی کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ جو لوگ آسانی، مفاد اور وقتی فائدے کی خاطر اصول چھوڑ دیتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتے ہیں مگر تاریخ میں عزت ہمیشہ اصولوں پر قائم رہنے والوں کو ملتی ہے۔ کردار کی اصل پہچان یہی ہے کہ انسان مشکل وقت میں کس طرف کھڑا ہوتا ہے۔
    معرکۂ حق صرف تقریروں یا نعروں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ اس کے لیے عمل درکار ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اداروں اور معاشرتی رویوں میں انصاف کو جگہ دینی ہوگی۔ اگر ہم چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سچائی اختیار کر لیں تو یہی چھوٹے قدم مل کر بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
    اگر ہم نے سچ میں ترقی کرنی ہے تو ہمیں اپنے اندر اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں یکجا ہو کر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنی ہوگی تبھی ہم پورے یقین سے کہہ سکیں گے۔
    "ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔”

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: زرین زاہد

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: زرین زاہد

    کائنات کا نظام ازل سے حق اور باطل کی پیہم کشمکش کے گرد گھومتا رہا ہے۔ تاریخ کے ہر موڑ پر باطل جب بھی سر اٹھاتا ہے ، وہ اپنے مکر و فریب، مادی وسائل اور عددی برتری کے زعمِ باطل میں مبتلا ہوتا ہے۔ حق کی اصل طاقت مادیت کے انبار میں نہیں ہے ؛ بلکہ اس قلبی جذبے اور روحانی قوت میں پنہاں ہوتی ہے جسے "یقینِ محکم” کہا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ان مجاہدوں اور راہِ حق کے مسافروں کی صفت بیان کرتے ہوئے ایک ایسی جامع اصطلاح استعمال کی ہے ؛ جو رہتی دنیا تک ہمت، شجاعت اور استقامت کا دائمی استعارہ بن گئی ہے۔

    یہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک غازی کے عزم اور ایک مجاہد کے ایمان کا وہ مضبوط ترین پڑاؤ ہے؛ جہاں دنیا کی تمام تر ترغیبات دم توڑ دیتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید کی سورۃ الصف میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں آشکار فرمایا ہے:
    ” انَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ
    ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے؛ جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔“
    اس آیتِ کریمہ میں ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ ہے ؛ جو اپنے نصب العین کی خاطر اس قدر فرض شناسی سے کام لیتے ہیں کہ جذبات کے تمام بندھن توڑ دیتے ہیں۔ وہ مجاہد جو اپنی علیل اور ضعیف ماں، ٹانگوں سے معذور باپ اور حالات کے ستائے مجبور بھائی کو تنہا چھوڑ کر صرف اس لیے نکل پڑتے ہیں کہ پکارِ حق انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ انہوں نے ہر رشتے سے اول اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رکھا ؛ تو خالق کائنات نے بھی انہیں اپنے محبوب اور پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں شامل فرما کر ابدیت بخش دی۔ "بنیانِ مرصوص” ایک ایسا عہدِ وفا ہے کہ جب مجاہد اس کی حقیقت کو پا لیتا ہے ؛ تو اسے ایسی غیبی طاقت عطا ہوتی ہے کہ وہ تنِ تنہا باطل کے سامنے ہمالیہ جیسی استقامت کا مظہر بن جاتا ہے۔ باطل اپنے تمام تر ہتھیاروں کے ساتھ تڑپتا، چیختا اور للکارتا رہ جاتا ہے اور جب حق کی پکڑ میں آتا ہے تو فرار کے راستے ڈھونڈتا ہے؛ مگر یہ دیوار اسے راستہ نہیں دیتی۔

    بنیانِ مرصوص محض اینٹ، پتھروں اور گارے سے تعمیر شدہ کسی دیوار کا نام نہیں ؛ بلکہ یہ وہ قلبی اتحاد ہے ،جہاں انفرادی مفادات، ذاتی خواہشات اور گروہی وابستگیاں ختم ہو کر ایک عظیم اجتماعی مقصد کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ رب العزت کا وہ خاص اشارہ ہے ان جری جوانوں کے لیے جنہوں نے دنیاوی جاہ و حشم، آسائشوں اور گھر بار کے سکون کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا کہ ان کا اللہ سے لو لگانے کا سودا ہو چکا تھا۔ یہ وہ فولادی دیوار ہے جسے نہ تو دنیاوی لالچ کی دیمک چاٹ سکتی ہے اور نہ ہی موت کا مہیب خوف گرا سکتا ہے۔
    آج جب میں نے بنیانِ مرصوص کے عنوان پر قلم اٹھایا ہے، تو میرا ذہن ان عظیم بہادروں کی طرف مڑ گیا ہے ؛ جن کی داستانیں تاریخ کے سینے پر روشنائی سے نہیں ؛ بلکہ خونِ جگر سے لکھی گئی ہیں۔ میں ان غازیوں اور شہداء کا ذکر کیسے نہ کروں ؛ جنہوں نے اپنی رخصتی کے دوسرے ہی دن سہاگن کی چمکتی اور اُمید بھری آنکھوں کو الوداع کہا، اپنے جواں سال بھائی کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھایا، مگر وطن کی پکار سن کر دہلیز سے رخصت ہوتی اپنی لاڈلی بہن کی ڈولی کو مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان کے نزدیک بہن کی جدائی سے بڑا دکھ وطن کی حرمت پر آنے والی آنچ تھی۔

    ان کے ارادے چٹانوں سے زیادہ سخت اور فرض کی پکار ہر خونی رشتے سے بلند تھی۔ اسی صفِ اول کے ایک سپاہی کی داستان روح کو تڑپا دیتی ہے ؛ جس نے اپنی اس معصوم نومولود بچی کو جسے اس نے جگر کا ٹکڑا اور اپنی زندگی کا کل اثاثہ قرار دیا تھا،؛ اپنے ہی ہاتھوں میں دم توڑتے دیکھا۔ اس باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ مگر اس کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ فرض کا تقاضا اتنا اٹل تھا کہ اسے اپنی لختِ جگر کو مٹی کی آغوش میں اتارنے کی مہلت بھی نہ ملی؛ کیونکہ سرحد پر دشمن کی ناپاک آہٹ سنائی دے رہی تھی اور اسے اس "سیسہ پلائی دیوار” کی وہ اینٹ بننا تھا؛ جس پر قوم کی سلامتی کا انحصار تھا۔

    یہی وہ لوگ ہیں؛ جو "بنیانِ مرصوص” کی حقیقی اور عملی تصویر ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے ذاتی دکھ ہیچ اور قومی وقار و ملی حمیت مقدم ہے۔ آج کے اس پر آشوب دور میں ہمیں بھی اسی جذبے، اسی اتحاد اور اسی یقینِ محکم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم فرقوں، لسانیت اور ذاتی مفادات کے حصار سے نکل کر ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیے! حق کا معرکہ صرف بارود اور گولی سے میدانِ جنگ میں ہی نہیں جیتا جاتا؛ بلکہ یہ کردار، گفتار اور استقامت کے میدان میں بھی لڑا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے؛ کہ ہم آج بھی وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی "بنیانِ مرصوص” ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مریم خضر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مریم خضر

    تاریخ کے سنہرے اوراق کو جب جب بھی پلٹا گیا تب تب ہی یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے خواب جو دشمنان اسلام دیکھتے رہے تھے، وہ فضا میں کرچیوں کی مانند ایسے بکھرے ہیں کہ جس کی چبھن کو یاد کر کے آج بھی دشمن کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اگر بات کی جائے اس میدان کی جو "جنگ بدر” میں سجا تھا۔ مسلمانوں کی اتنی قلیل تعداد اور کفار کثیر تعداد کے ہوتے ہوئے بھی بری طرح سے شکست سے دوچار ہوا تھا۔ کفار طاقت کے نشے میں چور ہو کر ایسے لشکر سے ٹکرایا جو مدد خدا اور قوت ایمانی کے بل بوتے پر لڑ رہا تھا۔ حتی کہ معزز فرشتوں کی صفیں بھی اس دن اتری تھیں مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے۔ باطل حق کے سامنے پاش پاش ہو گیا۔ پھر 1965 میں دشمن نے بزدلی کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے رات کے وقت وطن عزیز پر دھاوا بول دیا۔ اسے لگا تھا کہ وطن عزیز کے محافظ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں گے۔ اور وہ صبح کی چائے لاہور میں نوش فرمائیں گے۔ لیکن اسے کیا خبر تھی کہ اس قوم کی مائیں بچپن میں ہی اپنے بچوں کو گھٹی میں وطن سے وفاداری اور شہادت کا درس دیتی آئی ہیں۔ پاکستان جنگی ساز و سامان اور اسلحہ میں دشمن سے کئی گنا کم تھا۔ لیکن ہماری قوم کے جیالوں میں جذبہ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بھارت نے "چونڈہ” کے محاذ پر قابض ہونے کی کوشش کی تو ہمارے نوجوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ان کے ان گنت ٹینکوں کو اڑا دیا تھا اور فتح و نصرت اپنے نام کر لی تھی۔
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
    وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے تم نے

    حال ہی میں دوبارہ دشمن نے "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کئی بار ناکامیوں کا سامنے کرنے کے باوجود دشمن متعدد بار یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس ملک کو مٹا دیا جائے۔ دشمن کی آنکھ میں اسلام کے نام پر بنی یہ ریاست کھٹکتی ہی رہتی ہے۔ لیکن ہماری بہادر فوج نے دشمن کے دانت اس انداز میں کھٹے کئے ہیں کہ اب وہ رہتی دنیا تک یہ زخم یاد کر کے بلبلاتا رہے گا۔ بھارت کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جذبہ ایمانی سے سرشار ہمارے نوجوانوں نے بہادری کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ پوری دنیا داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ جانبازوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن عزیز کی حفاظت کی ہے۔ فضا میں کارنامے سر انجام دیتے ہوئے دشمن کے ان گنت جنگی جہازوں کو مار گرایا ہے۔ تاک تاک کر نشانے لگائے ہیں کہ کوئی بھی نشانہ خطا نہ ہونے پائے۔ دشمن کے وہ جنگی جہاز جن کی دھوم اور شہرت پوری دنیا میں تھی۔ وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے پڑے تھے۔ دشمن کا غرور خاک میں مل گیا تھا۔ پاکستان کی افواج کی فضا میں ہونے والی کاروائی کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ لیکن یہ سب صرف اس وقت تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ مستقبل میں جب بھی کوئی دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی کوشش کرے گا تب ہی اسے یہ باور کروایا جائے گا کہ اس کا پالا کس قوم سے پڑا ہے۔ ایسی قوم کہ جو تلواروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ جو شہادت کو تمغہ سمجھ کر اپنے سینے پر سجاتی ہے۔ جس کے لیے وطن عزیز سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہم "بنیان مرصوص”رہے تھے، رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی کہ "سیسہ پلائی دیوار” جس کو کوئی بھی گرا نہ سکے۔ نوجوان ماؤں اور بہنوں کے آنچل کی لاج رکھتے ہیں۔ قائد سے کیے ہوئے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ جو وطن عزیز ان گنت قربانیوں کے صلے میں ملا اس کی قدر دل کی گہرائیوں سے کرتےہیں۔ دشمن ہمیشہ سے ہی وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ ان جڑوں کی آبیاری میں خون سینچا گیا ہے۔ کیا بھلا کبھی خون کا رنگ بھی پھیکا پڑا ہے؟ بات کی جائے فلسطین کی تو وہاں بھی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ گئی ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے کلمہ حق کی بلندی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ایک مسلمان کرتا ہے۔ انہوں نے باطل کو جس انداز میں للکارا ہے۔ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جس طرح وہ بہادر نوجوان کھڑے ہوئے ہیں یہ کام صرف جذبہ ایمانی ہی کروا سکتا ہے۔ زندگی ان پر تنگ ہو گئی لیکن پھر بھی وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے جذبے سرد نہیں پڑے۔ بلکہ مزید ابھر کر وہ سامنے آئے ہیں۔ اللہ رب العزت پاکستان کی افواج کو سلامت رکھے۔ یہ وہ فوج ہے جس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے۔ اللہ رب العزت اس فوج سے دنیا کی امامت کا بہترین کام لے۔ آمین ثم آمین

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    جنگی معرکے چاہے ہتھیاروں کی مدد سے لڑے جائے یا پھر اپنی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر؛ ہمت، دلیری، پامردی اور عزم و استقلال کی روشن مثالیں پیش کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے! جب بھی باطل قوتوں نے سر اٹھایا ہے۔ حق کے علمبرداروں نے انہیں اپنے زورِ بازو کے دم سے نیست و نابود کیا ہے۔ پاکستان کے ماضی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ایسے بہت سے واقعات صفحہ قرطاس پر بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ جب پاکستانی فوج نے متحد ہو کر ظلم و جبر کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ! اپنے عملی اقدام سے دشمنانِ پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اپنے اس اقدام سے افواجِ پاکستان نے تاریخ میں ہمت و جواں مردی کی کبھی نہ بھلائی جانے والی مثال رقم کی۔

    10 مئی 2025 کا دن بھی پاکستانی تاریخ میں ایک ایسے ہی یادگار باب کے طور پر ثبت ہوا۔ جب افواجِ پاکستان نے بنیان مرصوص "سیسہ پلائی دیوار” کی عمدہ مثال پیش کی۔ 7 مئی سے 10 مئی کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف حصوں پر پے در پے کیے جانے والے حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی۔ جن کے باعث دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدگی اختیار کر گئے۔ ان حالات نے پاکستان کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے سنگین نتائج کا سامنا پوری قوم کو کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایسے میں افواج نے اپنی فوجی طاقت کو استعمال میں لاتے ہوئے ان تمام حالات کے پیشِ نظر وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کی خاطر متحد ہو کر بھارتی حملوں کے منہ توڑ جواب میں آپریشن "بنیان مرصوص” کا باقاعدہ آغاز کیا۔ پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے جب شدت اختیار کر گئے؛ تو اس کے جواب میں پاکستانی فوج نے اپنے دفاع میں اس کاروائی کا آغاز کیا۔ پاکستان نے 10 مئی کو علی الصباح میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں مختلف ایئر بیسز اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا تھا۔ بھارتی فوج کو نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    آپریشن” بنیان مرصوص” جو اپنے نام سے ہی اپنے مقصد کو عیاں کر رہا تھا۔ جس نے دشمن کو ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔ انہیں نہ صرف شکست سے دوچار کیا بلکہ مستقبل کے لیے بھی واضح تنبیہہ کی کہ اگر دوبارہ جارحانہ رویہ اپنایا تو اس کے نتائج پہلے سے کئی گنا زیادہ سنگین اور ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

    اس کاروائی کے ذریعے انہوں نے نہ صرف دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنایا بلکہ یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاعی سسٹم نہ صرف مضبوط ہے بلکہ ہر دم اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام کی بدولت نہ صرف پاکستان کو عسکری کامیابی حاصل ہوئی بلکہ قومی وقار اور خودداری میں بھی اضافہ ہوا۔ قوم کا افواج پر یقین مزید پختہ ہوا۔ پاکستان ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے ایسی آہنی دیوار جسے کوئی بھی عبور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جو یہ کوشش کرتا ہے وہ اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اس کے وجود کا کوئی ذرہ باقی نہیں رہتا۔

    آپریشن کا اختتام ہوتے ہی پاکستان کے مختلف علاقوں سے "اللہ اکبر” کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم نے اپنے جوانوں کے اس جرات مندانہ اقدام کو دل سے سراہا۔ ہر خاص و عام شخص کی آنکھوں میں فوج کے لیے محبت و عقیدت اور فخر کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ عوام نے گھروں، سرکاری دفاتر اور سوشل میڈیا کے استعمال سے محافظوں کی کامیابیوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔غرض! ہر سوں فتح کی خوشی میں جشن سا سماں دیکھنے کو ملا۔ جبکہ دوسری جانب جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا لے کر پاکستان کو نقصان پہچانے والوں کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئی۔ وہ اپنی شکست کو چھپانے کے لیے دلیلیں پیش کرتے رہے۔ انہیں نہ صرف اپنی ہار کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ اپنے ہی ملک و قوم کے سامنے شرمندہ تعبیر بن گئے۔
    پاکستان کا یہ اقدام ہمیشہ ہمارے لیے قابلِ تقلید رہے گا۔ پاکستان کا ہر فرد اس سیسہ پلائی دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ جب تمام اینٹیں متحد ہوتی ہیں تب ہی عمارت مضبوط اور مستحکم بنتی ہے۔

    میدان چاہے جنگ کا ہو یا نفرت کا، رشوت کا ہو یا بدعنوانی کا، قتل و غارتگری کا ہو یا فریب کاری کا، ظلم و جبر کا ہو یا پھر نا انصافی کا؛ ہر فرد اس میدان کو روکنے میں، اس کے خلاف آواز اٹھانے میں بنیان مرصوص ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی حقیقی زندگیوں میں بھی برائی کے تمام عوامل کے خلاف بنیان مرصوص بنیں۔ تاکہ ہم محض کسی خاص موقع پر نہیں بلکہ ہر دن، ہر لمحہ خود سے یہ کہ سکیں "ہم بنیان مرصوص ہیں”۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جان لڑانے اور خطرہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کو جو فوج چاہیے۔ اس میں تین صفحات پائی جانی چاہئیں۔ ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللّٰہ کی راہ میں لڑے اور کسی ایسی لڑائی نہ لڑے جو کسی فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی انتشار میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ مضبوط کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت "سیسہ پلائی سی کی سی ہو۔”

    تاریخ شاہد ہے کہ ذلت ورسوائی ہمیشہ ان کے حصے میں آتی ہے جو پروپیگنڈا اور مادی برتری کے نشے میں بدمست ہو کر حیثیت سے بڑے خواب دیکھنے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہمسایہ ملک نے گزشتہ برس مئی میں کیا۔ پہلے پہلگام کا سانحہ کروایا پھر بنا تحقیق و ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ اسی کو جواز بنا کر 7 مئی 2025 کو رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ جواب میں پاکستان کا آپریشن بنیان المرصوص محض ایک عسکری جواب نہ تھا بلکہ تزویراتی انا کے منہ پر پڑنے والا وہ عالمی طمانچہ تھا جس کی حدت دشمن کے ایوانوں میں برسوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ دشمن کی خام خیالی تھی کہ وہ سرحدوں پر مہم جوئی کرکے مغربی سرحدوں سے فتنۃ الخوارج کو مہرے بنا کر ارض پاکستان کی سالمیت سے کھلواڑ کر لے گا۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ اس سپہ سالار سے ہے جو سید بھی ہے حافظ قرآن بھی ہے۔ جس کے سینے میں قرآن ہو اس کے لشکر کا سکوت کسی مہیب طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس کی ضرب کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
    ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
    چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

    جب سرحد پر فضائیں خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیں اور شب کی سیاہی دشمن کے ناپاک عزائم میں ضم ہو جائے تو ایک آواز گونجتی ہے۔ ایک عہد، ایک قسم اور ایک نعرہ پاکستان زندہ باد۔ یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ایک فوجی کا آخری سانس بن جاتا ہے جو وہ اپنے وطن پر وار دیتا ہے۔ یہ نعرہ ایک پائلٹ کا جگر ہے جو فضا میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ میں اقبال کا شاہین ہوں جو گرنا نہیں جھپٹنا جانتا ہوں۔ ہمارے محافظ دشمن کو بتاتے ہیں کہ یہ پاک دھرتی، یہ شہداء کے خون سے سینچی ہوئی دھرتی، یہ خطہ زریاب، یہ دھرتی لاوارث تو نہ تھی، یہ بزدلوں کا ٹھکانہ تو نہ تھی، یہ سڑک کے کنارے لگے درخت کا پھل تو نہ تھی۔ پھر کیوں میرا ہمسایہ 7 مئی کو رات کے اندھیرے میں اس پر چڑھ دوڑا۔ اس عیار کو یہ معلوم تھا کہ اس کے مذموم اور ناپاک ارادوں کو پاک فوج کے غیور، نڈر، جری اور جذبہ شہادت سے سرشار نوجوان ایک ہی وقت میں خاک میں ملا دیں گے۔

    پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا دشمن کے جدید جنگی نظام کو منجمد کرنے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ان کے چھ رافیل طیارے زمیں بوس کرکے ایسے دانت کھٹے کیے کہ رہتی دنیا تک قند و شیریں اشیا کو منہ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ جن ہتھیاروں پر جن طیاروں پر بھارت کو ناز تھا۔ ہمارے شاہینوں کی مہارت کے سامنے بے بس نظر آئے۔ معرکہ حق نے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
    تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

    معرکہ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے پاکستان کی تقدیر کا رخ موڑ دیا۔ یہ معرکہ عزم و ہمت، حکمت عملی اور دلیر قیادت کا ایسا مظاہرہ تھا جس نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا۔ پاکستان نہ صرف اپنی خود مختاری کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس کی مثال حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے کردار میں آپ کے سامنے ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور نظر انداز کیا جاتا تھا۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ قومیں آزمائشوں میں نکھرتی ہیں اور یہی وہ لمحات ہیں جب پاکستان نے خود کو دنیا کے سامنے منوایا۔ آئیں سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اپنے وطن کی حفاظت کریں گے اور ہر سازش کا ناکام بنا دیں گے۔
    وطن کی خاک گواہ رہنا، ہم نے یہ عہد نبھایا ہے
    ہر دشمن کو للکارا ہے، ہر وار کو ٹھکرایا ہے

    قومیں صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ نظریات، اقدار اور قربانیوں کی امین ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے مقصد، اپنے نصب العین اور اپنی شناخت پر متحد ہو جائے تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور تفرقہ کمزوری کی علامت۔ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” دراصل اسی اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے جو کسی بھی معرکۂ حق میں کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔
    بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔