Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای، رهبرِ سترگِ انقلاب ،تحریر :  پارس کیانی

    آیت اللہ خامنہ ای، رهبرِ سترگِ انقلاب ،تحریر : پارس کیانی

    یکم مارچ 2026ء کا دن معاصر تاریخ کے ان المناک اور فیصلہ کن ایام میں شمار کیا جائے گا جب ایرانی قیادت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای جنگی حالات میں شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس خبر نے ایران ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں ایک گہرا ارتعاش پیدا کیا۔

    دُنیا کی بڑی خبر ایجنسیوں اور ذرائعِ ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کی شہادت 28 فروری 2026ء (ہفتہ) کو ہوئی تھی، جبکہ 1 مارچ 2026ء (اتوار) کو ایران کے سرکاری میڈیا نے باضابطہ طور پر اُن کی شہادت کی تصدیق کر کے اعلان کیا۔ یعنی واقعہ خود 28 فروری کو پیش آیا، اور اس کی سرکاری تصدیق 1 مارچ کو نشر ہوئی۔
    ایک ایسی شخصیت، جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ریاستِ ایران کی فکری، مذہبی اور سیاسی سمت کا تعین کرتی رہی، اچانک تاریخ کا حصہ بن گئی، مگر اپنے پیچھے نظریے، مزاحمت اور استقلال کی ایک طویل داستان چھوڑ گئی۔

    سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو مشہد کے ایک دیندار اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی علوم کی تحصیل کے لیے مشہد اور قم کے علمی مراکز کا رخ کیا، جہاں فقہ، اصول، تفسیر اور اسلامی فلسفہ میں مہارت حاصل کی۔ نوجوانی ہی سے ان کے مزاج میں سنجیدگی، مطالعہ کا شوق اور فکری استقلال نمایاں تھا۔ شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک میں شمولیت کے سبب انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، مگر یہ آزمائشیں ان کے عزم کو مضمحل نہ کر سکیں بلکہ ان کے اندر ایک ایسے قائد کی تشکیل کرتی رہیں جو نظریے پر سمجھوتا کرنا نہیں جانتا تھا۔

    1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نو تشکیل شدہ ریاست کے اہم ذمہ داران میں شمار ہوئے۔ 1981ء میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے، مگر صحت یابی کے بعد دوبارہ قومی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا اور یوں ریاست کے سب سے اعلیٰ منصب کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی۔ اس منصب پر ان کی حیثیت محض ایک سیاسی سربراہ کی نہ تھی بلکہ وہ نظریاتی رہنما اور مذہبی مرجع کی صورت میں بھی جانے جاتے تھے۔

    ان کی قیادت کے دور میں ایران نے عالمی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کیا، مگر ساتھ ہی سائنسی ترقی، دفاعی خود کفالت اور تعلیمی میدان میں نمایاں پیش رفت بھی کی۔ ان کی تقاریر میں قومی خودمختاری، استکبار کے خلاف مزاحمت، اور اسلامی تشخص کے تحفظ پر مسلسل زور دیا جاتا رہا۔ ان کے حامی انہیں رہبرِ معظم، قائدِ انقلاب اور ولیِ امرِ مسلمین جیسے القابات سے یاد کرتے تھے، جو ان کی شخصیت سے وابستہ عقیدت کا اظہار ہیں۔

    ذاتی زندگی میں سادگی، عبادت گزاری، مطالعے سے گہرا شغف اور نوجوان نسل سے خصوصی مکالمہ ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ وہ ادب اور تاریخ کے مطالعے کو فکری بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے اور اپنے خطابات میں فکری استدلال اور دینی حوالوں کا حسین امتزاج پیش کرتے تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور طویل المدتی حکمتِ عملی نے انہیں خطے کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل رکھا۔

    28 فروری 2026ء کو جب وہ جنگی کشیدگی کے نازک مرحلے میں قومی فرائض سرانجام دے رہے تھے، اسی دوران پیش آنے والے سانحے نے انہیں شہادت کے رتبے پر فائز کر دیا۔ ایران میں سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا، مساجد اور میدان عوام سے بھر گئے، اور ایک قوم نے اپنے رہنما کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا۔ ان کی شہادت کو ان کے پیروکار قومی وقار، نظریاتی استقامت اور مزاحمتی سیاست کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    تاریخ ہمیشہ شخصیات کو ان کے اثرات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ سید علی خامنہ ای کی زندگی جدوجہد، قیادت اور نظریاتی وابستگی کی ایک مسلسل داستان تھی۔ ان کے فیصلوں سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، مگر یہ امر مسلم ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا اور ایران کی شناخت کو ایک مخصوص فکری قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ آج جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو ایک ایسے رہنما کی تصویر ابھرتی ہے جس نے مشکلات کے طوفان میں بھی استقلال کا چراغ روشن رکھا اور اپنے ماننے والوں کے نزدیک اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔شہید علی خامنہ ای کو تاریخ مزاحمت کی مضبوط روایت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔

  • سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    دارالسلام کی شائع کردہ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما‘‘اپنے موضوع پر ایک منفرد اور خوبصورت کتاب ہے۔اس کتاب کی مقبولیت کااندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بہت کم وقت میں اس کاپہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ یہ کتاب کادوسرا ایڈیشن ہے جسے پہلے ایڈیشن سے بھی زیادہ بہتر انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب ہمیں خانوادہ نبوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔ جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے جو ہمارے لیے چراغِ ہدایت اور مینارئہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ذکرِ خیر دلوں کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ ان سے محبت اللہ تعالی کے قرب کا ذریعہ اور ایمان کی علامت ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں۔وہ سیدسادات میں سے ہیں۔مملکت بحرین کے نامور سکالر ہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ٹی وی پروگرام ہوں یا مختلف کالجوں ، سیمناروں، مساجد اور پبلک مقامات پر اسی موضوع پر بولتے ہیں انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب انھی کی طویل تحقیقی اورعلمی مساعی کا ثمرہ ہے جس میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ’’یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعۂ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’دارالسلام انٹر نیشنل ‘‘ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز آسان اور عام فہم ہے۔ ان شاء اللہ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔

    اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا گیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،نانی دادا ، دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 685روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • جرائم کے خاتمے کی جنگ اور بے گناہ جانوں کا تحفظ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرائم کے خاتمے کی جنگ اور بے گناہ جانوں کا تحفظ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاست کی کامیابی صرف مجرم کے خاتمے میں نہیں، بلکہ ہر بے گناہ جان کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے

    اختیارات سے زیادہ اہم تربیت، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت ہے ورنہ کامیاب آپریشن بھی سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں

    ایک معصوم بچی کی موت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جرائم کے خلاف جنگ میں کہیں شہریوں کی سلامتی تو قربان نہیں ہو رہی؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی (Crime Control Department) کی حالیہ کارروائی میں خطرناک ملزمان کے خاتمے کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ عناصر تھے جن پر سنگین جرائم، ڈکیتیوں اور قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تاہم ریاستی طاقت کی اصل کامیابی صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ جانوں کے مکمل تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ایک آسٹریلوی خاندان کی کمسن بچی کا فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہونا اور خاندان کے دیگر افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سی سی ڈی میں کام کرنے والے اہلکار بنیادی طور پر پنجاب پولیس ہی سے لیے گئے ہیں تو پھر اس نئے ادارے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ کیا اس فورس کے قیام سے قبل اس کے اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کی خصوصی تربیت دی گئی؟ کیا شہری آبادی میں ہائی رسک آپریشنز کے لیے الگ پروٹوکول مرتب کیے گئے؟ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اس ادارے کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایسے بے شمار افسران گزرے ہیں جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔ کئی دہائیوں سے پنجاب پولیس نے دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر وسائل، اختیارات اور جدید سہولیات پنجاب پولیس کے موجودہ ڈھانچے کو ہی فراہم کر دی جاتیں تو کیا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے؟

    حکومتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ادارہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار صرف اختیارات پر نہیں بلکہ تربیت، نگرانی، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت پر ہوتا ہے۔ماضی میں بھی بعض ادارے بڑے دعووں اور بلند مقاصد کے ساتھ وجود میں آئے مگر بعد ازاں ان کی کارکردگی اور طریقہ کار سوالات کی زد میں آ گئے۔ اسی لیے کسی بھی نئے ادارے کی تشکیل کے بعد مسلسل جائزہ لینا اور اس کی خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔یہ واقعہ محض ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص سے بھی جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ ایک غیر ملکی خاندان کے متاثر ہونے کے باعث اس سانحے کی بازگشت آسٹریلیا، یورپ اور دیگر ممالک تک پہنچی ہے۔ ایسے واقعات عالمی سطح پر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور ملک کے مجموعی تاثر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے تدبر اور سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ساتھ ہی یہ بھی جائزہ لے کہ سی سی ڈی کے قیام کے مقاصد، تربیتی معیار اور آپریشنل طریقہ کار کس حد تک مؤثر ہیں۔ ریاست کی قوت کا اصل امتحان صرف مجرموں کے خاتمے میں نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کے مکمل تحفظ میں ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی معصوم جان ریاستی کارروائی کی نذر ہو جائے تو اصلاح اور احتساب کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

  • امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، لیکن مستقل امن صرف عقل، فہم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ تیل کی سپلائی کے راستے بند ہو رہے تھے اور عالمی معیشت ڈوب رہی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سچے امن ساز کا کردار پیش کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا حالیہ امن معاہدہ نہ صرف عالمی سیاست کا رخ بدل رہا ہے، بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش اور کامیاب سفارت کاری کام کرگئی اس پورے امن عمل کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مہینوں کی انتھک محنت اور شاندار حکمت عملی شامل ہے۔ جب دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی تھی، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر تہران، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا ایک مضبوط پل بنایا۔ ان کی اس ‘بیک چینل سفارت کاری’ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کٹر دشمن ایک دوسرے کی شرطیں ماننے اور ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اپنانے پر راضی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین ان کے اس تاریخی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔
    معاہدے کے بڑے نکات اور اثرات پوری دنیا دیکھے گی
    عالمی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روک دیں گے۔ امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں سے اپنے جنگی جہاز ہٹا لے گا۔ اس کے بدلے میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ، یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار واپس کیے جائیں گے۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی میزبانی خود پاکستان کرے گا۔

    پاکستان کے لیے فخر کا مقام ھے کہ دنیا کے طاقتور ملک کے ثالث ھم ہیں
    اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے دنیا میں امن پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف مسلم امہ کی پریشانیاں کم ہوں گی، بلکہ پاکستان کی اپنی معیشت اور پاک-ایران بارڈر پر تجارت کو بھی بہت بڑا فروغ ملے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی قیادت کی اس تاریخی کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا کر امن کا نیا راستہ دکھایا ہے۔
    فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے کر دکھایا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا ہمیشہ زندہ باد رھے گا ۔

  • نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
    پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر ، پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہورہیں ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی مستقبل کی ہے

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
    دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
    چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔

    سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی ،کپاس۔گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ناکہ اپنے مستقبل کو۔

    حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔

    آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
    پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے ۔لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
    ،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک ،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔

  • عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مسلمان ماؤں کا یہ اصول ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو قرآن کی سورتیں سنایا کرتی ہیں والدین بچوں کو خدا کے متعلق تسکین بخش کلمات دہرایا کرتے وہ خدا کے افضل ترین جہانوں میں اپنی اولاد کے لیے جگہ بنایا کرتے ہیں۔خدا کے محبوب ترین بندوں کی محبت و عقیدت سے بچوں کے دل سجایا کرتے تاکہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جائیں ان کے اندررکھی مقدس عبادتیں محبتیں عقیدتیں بھی بڑی ہوتی جائیں والدین بچوں کو اس حقیقت سے آشنا کرواتے ہیں کہ دنیاوی پریشانیوں کا شاہی علاج حقیقی مذہبی عقیدہ ہے۔

    اس حقیقی مذہبی عقیدے کی تربیت میں ڈھلی رُوح پر دنیا کی ہر مصیبتیں تکلیفیں پریشانیاں امتحان غالب نہیں آتے اور بندہ خدا کے بارے میں صاحب یقین رہتا ہے۔میری امی جان گہرا،پائیداراور ابدی یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت کریں اس کے اور اس کے پیغمبر ﷺ کے احکامات کی تعمیل کریں تو اول و آخر سب ٹھیک ٹھاک رہے گا انہوں نے اس عقیدے کے ساتھ حالات زندگی سازگار بنائے رکھے کشمکش اور دل برگشتگی کے تمام سالوں کے دروان کبھی پریشان و مایوس نہیں ہوئیں خدا کے حضور سجدہ شکراور دعائیں بجا لا کر مصائب کو اپنی ایمانی قوت سے کمزور کیا۔

    جو لوگ مذہب اسلام سے انسانی اہمیت کا باب تلاش کرکے نظریہ بنا تے ہیں وہ فرقوں گروہوں جماعتوں کے اختلافات میں دلچسپی لینے کی بجائے مذہب جو کچھ انسانیت کے لیے کرتا ہے اس میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ ناصرف حسین خوش باش عزت و کامیابی سے مکمل زندگی بسر کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ رُوحانی قدروں میں بھی اضافہ کرکے حسین تر اور مطمئن تر کیفیات سے مالا مال کرتا ہے۔ دین اسلام زمین پہ اترنے سے پہلے عالم ارواح میں پیغمبروں کے چشموں سے رضا الٰہی کا آب حیات پی کر آیا ہے جو مجھے زندگی بسر کرنے میں نیا ولولہ، نیا جوش، یقین،امید،جرت، دیتے ہوئے پریشانی خوف ڈر تناؤ اور تشویش دُور کرتا ہے اپنی راہنمائی میں میری زندگی کا مقصد اور راہیں متعین کرتے ہوئے خوشی،مسرت، صحت، تندرستی سے مالا مال کرتا ہے اور ہر قبول کرنے والے کو زندگی کے گرد باداورریتلے صحراؤں کے درمیان امن و تسکین کا نخلستان تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    پہلے لوگ سائنس اور مذہب کی آویزش کے متعلق باتیں کیاکرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے کیونکہ جدیدسائنسی تحقیقی ترقی اور ماہرین علم امراض النفس وہی سکھا رہے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ اپنی اُمت کو بتا چکے ہیں اب توعلمی وسائنسی ترقی پانے والے غیر مسلم بھی تصدیق کرنے لگے ہیں کہ نماز اور مستحکم دینی عقیدہ پریشانیوں،تشویشوں،ڈروں،سمیت اعصابی کشمکشوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے جو شخص حقیقی معنوں میں دین اسلام کا پابند ہوتا ہے وہ اعصابی اور زہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اگر مذہب سچا نہیں ہے تو دنیا بے معنی ہے اور اگر مذہب سچا ہے مگر ماننے والا سچا نہیں ہے تو آخرت بے معنی ہے۔ سچے دین کا سچاماننے والاہی دنیا و آخرت میں فائدہ اُٹھاتا ہے۔ نوے سالہ ایک خاموش متین اور مطمئن شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے؟اس نے جواب دیا۔نہیں،میرا عقیدہ ہے کہ خدائے حقیقی قادر مطلق ہے جب خداہر چیز پرمختار ہے تو آخر میں ہر چیز کا نتیجہ بہترین ہی ظاہر ہوگا پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

    زمانہ جہالت میں انسانی جانوں کو جھوٹے خداؤں پر وار دیا جاتا تھا پھر سچے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک اُس حقیقی دین کی دعوت پہنچائی جو انسانوں کو نوازنے پر مبنی ہے جس نے فراوانی کے ساتھ خوشحال زندگی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے ناکہ انسان مذہب کے لیے۔مذہب کے نا م پر انسانوں کو سولی پہ چڑھانے والوں کا راستہ روکا گیاجھوٹے خداؤں کے پیروکاروں نے گناہوں کی بجائے خوف کا زیادہ استعمال کیاجبکہ خوف کا غلط پہلو گناہ ہی ہے ان خوفزدہ گنہگاروں کوحسین تر،مکمل تر،خوش تر،بلند تر اسلامی زندگی کے علم سے آشنا کرکے زندگیاں بدل دی گئیں۔چند نظریات کو زہنی طور پر قبول کرکے کسی خاص اصول کو اختیار کرنے سے مذہبی پابندی نہیں ہوتی سچا مذہبی بننے کے لیے ایک مخصوص رُوح کا مالک ہونا اور ایک مخصوص زندگی اختیار کرنا ضروری ہے اسی خصوصیت کی بنا پر آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا خدا پر یقین بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

    میں نے جب یقین کے پیالے کو دعا کے ہاتھوں سے خدا کی جانب کیا تو وہ مراد سے بھر گیا اور میں المناک گمراہی پر شرمندہ بھی ہوا کہ میں اپنی ساری کٹھن اور جگر گذار لڑائیاں تنہا ہی سر کرنے میں لگا رہا میں نے دُعا کے ذریعے ہر بات خدا تک کیوں نہیں پہنچائی۔ہماری زندگی کے تاریک لمحات صرف وقتی و عارضی ہوتے ہیں جنہیں دُعا کے ذریعے سہانے اور تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے تلخ حالات کی ذر میں زندگی کے خاتمے تک پہنچنے والی سوچ کو دُعا جینے کی سمت پر ڈال دیتی ہے۔دنیا کے ہر مسلے کا حل مذہبی نقطہ نظرسے مل جاتا ہے۔لوگ اس لیے رُوحانی و جسمانی طور پر بیمار ہوئے کیونکہ وہ اس چیز سے محروم ہوچکے تھے جو ہر زمانے کے زندہ مذہب نے اپنے پیروکاروں کو دی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی صحت یاب نہ ہوسکا جب تک اس نے دوبارہ مذہب سے رجوع نہ کیا۔ایمان خدائی قوتوں میں سے ایک قوت ہے جن کے سہارے انسان زندہ رہتا ہے اور اس کی عدم موجودگی کا نتیجہ شکست اور انحطاط ہوتا ہے۔

    ذکر و ازکار زندگی بخش قوت سے فیض یاب کرتے ہیں وہ ہزاروں مصیبت زدہ رُوحیں جو پاگل خانوں میں چلا رہی ہیں امن و سکون کی زندگی بسر کر سکتی تھیں اگر انہوں نے اپنی زہنی جنگیں تنہا لڑنے کی بجائے اعلیٰ،بلند و برتر خدائی طاقت سے مدد مانگی ہوتی۔ابدی و غیر فانی عظیم رُوحانی حقیقتوں اور سچائیوں کو یاد کرنے سے اعصاب کو سکون جسم کو آرام اور تناظر وسیع ہوتا ہے اپنی قوتوں کو نئی قدریں متعین کرنے میں مدد ملتی ہے

  • پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    یہ ایک باپ کی لکھی ہوئی تحریر کے چند الفاظ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ہماری تپش کو محسوس نہیں کر سکتے، وہ ہماری مشکلات کو کیا سمجھیں گے؟
    بیٹی بار بار پوچھ رہی تھی: بابا بجلی کب آئے گی؟
    میں ہر بار یہی کہتا: بیٹا بس ابھی آ جائے گی۔
    لیکن بجلی نہیں آئی۔ اور میری بیٹی انتظار کرتے کرتے سو گئی۔سخت گرمی تھی۔ پسینے سے وہ ایسی بھیگی ہوئی تھی جیسے ابھی نہائی ہو۔
    یہ صرف ایک باپ کے جذبات نہیں ہر غریب گھر کی کہانی ہے۔ یہاں لوگوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی میں بہت مجبور ہو کر رہنا پڑتا ہے۔اور جن لوگوں کے ہاتھ میں ہمارے فیصلے ہیں وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو اے سی والی گاڑیوں میں جاتے ہیں۔ ان کی میٹنگیں بھی ایسے بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے بجلی کے بل تو معاف ہوتے ہیں۔ ان کے شاندار گھروں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بھی اے سی کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ جن کے عالیشان محلات میں بجلی جاتیہی نہیں ۔انہوں نے تو کبھی گرمی کی تپش محسوس ہی نہیں کی۔تو وہ عوام کے درد کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ اس بچی کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گے؟ وہ ایک باپ کی بے بسی کو کیسے جانیں گے؟کاش! ایک دن کے لیے ہی سہی یہ بڑے لوگ اپنے اے سی بند کر کے ہمارے گھروں میں آ کر بیٹھیں۔ ایک رات یہ اپنی بیٹیوں کو اس گرمی میں سوتا دیکھیں۔ تب انہیں پتہ چلے کہ بجلی جانا صرف "لوڈشیڈنگ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک باپ کا مان ٹوٹنا ہوتا ہے۔ یہ ایک معصوم بچے کے خوابوں کا پگھلنا ہوتا ہے۔
    یہ بجلی نہیں گئی ہمارا سکون چلا گیا۔ بچوں کا بچپن جل گیا۔
    کاش! کوئی تو ہماری تکلیف کو سمجھے۔

  • عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔

    ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔

    اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
    دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
    ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
    (ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!

    وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
    مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
    ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
    یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
    گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
    کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
    حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔