Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قربانی کا ترازو ہمیشہ غریب کی طرف کیوں جھکتا ہے؟تحریر: طارق نوید سندھو

    قربانی کا ترازو ہمیشہ غریب کی طرف کیوں جھکتا ہے؟تحریر: طارق نوید سندھو

    ملک نازک موڑ پر ہے تو پھر قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟
    مہنگائی کا بوجھ عوام پر، مراعات کا سلسلہ اشرافیہ کے لیے کب تک؟
    قوم سے صبر کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی اپنی شاہانہ مراعات پر نظر ڈالنا ہوگی

    پاکستان جب بھی معاشی بحران میں گھرا، ایک جملہ فوراً ہماری سماعتوں سے ٹکرایا: ’’ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔‘‘
    یہ جملہ نیا نہیں۔ برسوں سے سنتے آئے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، حکمران بدلتے رہے، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر ’’نازک موڑ‘‘ وہیں کھڑا رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نازک موڑ پر ہر بار سب سے پہلے جس طبقے کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہے، وہ غریب ہوتا ہے۔
    آٹا مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
    بجلی کا بل بڑھے تو غریب پریشان۔
    پٹرول مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
    گیس مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
    ٹیکس بڑھے تو غریب پریشان۔
    دوائی مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
    بچوں کی فیس بڑھے تو غریب پریشان۔
    اور جب معیشت کو سہارا دینے کی باری آئے تو بھی کہا جاتا ہے: قوم قربانی دے۔
    مگر یہاں ایک سوال مسلسل جواب مانگ رہا ہے کہ قوم کون ہے؟
    کیا قوم صرف وہ شخص ہے جو صبح سویرے مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ کسان ہے جو اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ سفید پوش ملازم ہے جو مہینے کی بیس یا تیس تاریخ کو جیب ٹٹولتا ہے کہ اب باقی دن کیسے گزریں گے؟
    اگر قوم یہی لوگ ہیں تو پھر اشرافیہ کون ہے؟

    یہ سوال کسی فرد یا طبقے سے نفرت کا سوال نہیں، بلکہ ریاستی انصاف کا سوال ہے کہ پاکستان کا غریب پہلے ہی اپنی زندگی میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ اس نے اپنی خواہشات قربان کیں، بچوں کے خواب قربان کیے، علاج مؤخر کیا، تعلیم کے اخراجات میں کمی کی، تہوار سادگی سے منائے، سفر محدود کیے اور کئی مرتبہ دو وقت کی روٹی کو بھی ایک وقت تک لانے پر مجبور ہوا۔
    اب اگر اسے پھر کہا جائے کہ ’’ملک نازک موڑ پر ہے، مزید قربانی دو‘‘ تو وہ بے بسی سے صرف اتنا پوچھتا ہے:
    ’’صاحب! میرے پاس اب قربانی دینے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟‘‘

    یہ سوال بہت چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا معاشی المیہ چھپا ہوا ہے۔
    کیا قربانی صرف جیبِ غریب سے نکلے گی؟
    اگر ملک واقعی مشکل میں ہے تو پھر قربانی کا آغاز بھی اوپر سے ہونا چاہیے۔
    حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات کم ہوں۔ سرکاری سطح پر شاہانہ پروٹوکول کا جائزہ لیا جائے۔ غیر ضروری گاڑیاں، مراعات اور اخراجات کم کیے جائیں۔ ریاستی وسائل کے استعمال میں شفافیت لائی جائے۔
    اور سب سے بڑھ کر ایسا ٹیکس نظام قائم کیا جائے جس میں بوجھ صرف تنخواہ دار اور عام صارف کی جیب پر نہ پڑے کیونکہ عجیب صورتحال ہے کہ جس شخص کی آمدن پہلے ہی محدود ہے، اس سے ہر خریداری پر ٹیکس وصول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، جبکہ بڑی دولت اور بڑے معاشی مفادات رکھنے والوں سے حقیقی استطاعت کے مطابق وصولی ایک مشکل مسئلہ بن جاتی ہے۔
    یہ طرزِ حکمرانی عوام کے اندر صرف غربت نہیں بڑھاتا، احساسِ محرومی بھی بڑھاتا ہے۔قوم کو قربانی سے نہیں، دوہرے معیار سے شکایت ہے، پاکستانی قوم قربانی سے نہیں گھبراتی۔
    ہم نے مشکل وقت میں اپنے وطن کے لیے جانیں بھی دیں، مال بھی دیا اور وقت بھی دیا۔ قدرتی آفات ہوں یا قومی بحران، پاکستانی عوام ہمیشہ آگے بڑھے ہیں۔
    مسئلہ قربانی کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کا ترازو ہمیشہ ایک ہی طرف کیوں جھکتا ہے؟
    جب غریب کے گھر کا بجٹ بگڑتا ہے تو اسے صبر کا درس دیا جاتا ہے، لیکن جب مراعات یافتہ طبقے کی سہولتیں کم کرنے کی بات آتی ہے تو نہ جانے کتنے قانونی، انتظامی اور معاشی عذر سامنے آ جاتے ہیں۔
    غریب سے کہا جاتا ہے:
    ’’ملک کے لیے برداشت کرو۔‘‘
    مگر کیا طاقتور سے بھی کبھی اسی لہجے میں کہا جاتا ہے کہ ملک کے لیے اپنی مراعات چھوڑ دو؟‘‘
    اگر کہا جاتا ہے تو پھر عوام کو اس قربانی کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں۔

    پاکستان کو صرف پیسہ نہیں، انصاف چاہیے اور معاشی بحران صرف خزانے میں پیسوں کی کمی کا نام نہیں۔ اصل بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ نظام ان کے لیے مختلف اور طاقتور لوگوں کے لیے مختلف ہے۔
    ریاست اگر عوام سے قربانی چاہتی ہے تو اسے پہلے اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
    عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہو رہا۔
    انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قومی وسائل کسی مخصوص طبقے کی آسائش کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
    انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قانون کمزور کی گردن پر ہاتھ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کا ہاتھ روکنے کے لیے بھی موجود ہے۔اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم نہیں ہے۔
    آخری سوال
    آج سوال یہ نہیں کہ پاکستان مشکل میں ہے یا نہیں۔
    سوال یہ ہے کہ مشکل کا بوجھ کس کے کندھے پر رکھا جا رہا ہے؟
    اگر پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے تو خوشحالی بھی مشترکہ ہونی چاہیے اور مشکلات کا بوجھ بھی۔
    اگر قوم سے قربانی مانگی جا رہی ہے تو قربانی کی پہلی مثال ایوانوں سے آنی چاہیے۔
    اگر سادگی کا درس دیا جا رہا ہے تو سادگی اقتدار کے ایوانوں میں دکھائی دینی چاہیے۔
    اگر ٹیکس مانگا جا رہا ہے تو ٹیکس کا نظام سب کے لیے منصفانہ ہونا چاہیے۔
    اور اگر احتساب کی بات کی جا رہی ہے تو احتساب کا آغاز کمزور سے نہیں، طاقتور سے ہونا چاہیے۔
    کیونکہ غریب اس ملک سے بھاگنا نہیں چاہتا۔
    وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اسے اس ملک میں عزت سے جینے کا حق ملے۔
    وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔
    وہ چاہتا ہے کہ بیماری کی صورت میں علاج ممکن ہو۔
    وہ چاہتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر میں راشن کے لیے بھی کچھ بچ جائے۔
    وہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت اسے غربت سے نکال سکے۔
    اور شاید سب سے بڑھ کر وہ یہ چاہتا ہے کہ جب اسے ’’قربانی‘‘ کا کہا جائے تو اسے یہ بھی دکھائی دے کہ دوسری طرف بیٹھے لوگ بھی کچھ چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان واقعی نازک موڑ پر ہے تو پھر فیصلہ بھی نازک اور تاریخی ہونا چاہیے،

    قربانی صرف غریب کی نہیں، سب کی۔بوجھ صرف عوام پر نہیں، صاحبِ اختیار پر بھی احتساب صرف کمزور کا نہیں، طاقتور کا بھی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو قربانی کے ساتھ انصاف بھی چاہیے، کیونکہ انصاف کے بغیر مانگی گئی قربانی قوم کو مضبوط نہیں کرتی، اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔یہ وقت غریب کو مزید دبانے کا نہیں، اسے سہارا دینے کا ہے۔کیونکہ جس قوم کا عام آدمی ٹوٹ جائے، وہ معیشت کے اعدادوشمار میں شاید زندہ دکھائی دے، مگر حقیقت میں اس کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہوتی ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ غریب مزید کتنی قربانی دے سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ اشرافیہ ملک کے لیے کیا قربانی دینے کو تیار ہے؟

  • عورت کی تعلیم ،تحریر : شگفتہ خان

    عورت کی تعلیم ،تحریر : شگفتہ خان

    کوئی بھی معاشرہ ترقی کی شاہراہ پر اس وقت تک گامزن نہیں ہو سکتا جب تک مرد و عورت دونوں کو یکساں طور پر خود مختار نہیں مانتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کے سب رنگ عورت کی وجہ سے ہیں۔ عورت ہر روپ، ہر رشتے میں محبت اور عاجزی کے ساتھ رب کی بہترین تخلیق ہے۔ عورت معاشرے کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بے شک کما کر مرد ہی لاتا ہے مگر گھر ایک جنت تب بنتا ہے۔ جب عورت اسے سجاتی، سنوارتی اور اپنا سمجھتی ہے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ ” ایک مرد کی تعلیم، ایک فرد کی تعلیم ہے اور ایک عورت کی تعلیم سمجھو ایک نسل کی تعلیم ہے۔” ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ اس نے جو بھی سیکھنا ہے ماں سے سیکھنا ہے اگر ماں اچھی تربیت کر رہی ہے تو مطلب وہ معاشرے کو ایک اچھی نسل دے رہی ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو اپنے گھر میں والدین کو دوسروں کی عزت واحترام کرتا ہوا دیکھتا وہ خود بخود ویسا ہی کرتا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ جہاں بھی جائیں گے۔ ایک واضح شناخت رکھیں گے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ تعلیم کا حصول بھی صرف ڈگری کا حصول یعنی کاغذی کاروائی نہ ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ عورت کی تعلیم پوری نسل کی تعلیم ہو تی ہے۔

    عورت چاہے تو نسلیں سنوار دے اور چاہے تو نسلیں اجاڑ دے۔ تعلیم شعور دیتی ہے۔ اچھے برے کی پہچان کرنا سکھاتی ہے۔ پڑھی لکھی با شعور ماں کو پتہ ہوگا کہ وہ زمانے کے لحاظ سے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کیسے کر سکتی ہے۔ بدلتے زمانے کا ساتھ دینے کےلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے خود کو وقت کے سانچے میں ڈھالے اور اس کےلئے لازمی ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ وہ زمانے کے بدلتے اطوار سیکھے گی تو اپنے بچوں کو سکھائے گی۔ بچوں میں ایمانداری، صداقت، ہمدردی، احترام، پاسداری عہد، صبر و تحمل، برداشت، درگزر، مذہبی اقدار، خود اعتمادی، رکھ رکھاو، سلیقہ، شائستگی، کفایت شعاری اور احساس کے جذبے کو پروان چڑھا کر معاشرے کو ایک ذمہ دار شہری دیتی ہے۔ جس عورت کو ان جذبات و احساسات کا خود کچھ علم نہ ہو اس نے دوسروں کو کیا سکھانا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعلیم یافتہ عورت اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرکے ایک ذمہ دار شہری بنا کر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

  • صحت ہمارے ہاتھ میں ہے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

    صحت ہمارے ہاتھ میں ہے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

    ہم روزانہ اسپتالوں کے باہر لگی لمبی قطاریں، کلینکوں میں مریضوں کا ہجوم اور میڈیکل اسٹورز پر بکنے والی ادویات کے ڈھیر دیکھتے ہیں تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید بیماری انسانی مقدر کا حصہ بن چکی ہے یا پھر ہمارا ماحول اس قدر آلودہ ہو گیا ہے کہ بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ مگر ذرا ٹھہریے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے؛ کیا واقعی یہ سب محض قسمت کا کھیل ہے؟ یا پھر ان تمام مسائل کے ذمہ دار ہم خود ہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ ہماری بیشتر بیماریوں کا تعلق کسی بیرونی وائرس سے زیادہ ہمارے اپنے روزمرہ کے رویوں، کوتاہیوں اور نام نہاد جدید طرزِ زندگی سے ہے۔ تندرستی کوئی ایسی نعمت نہیں جو بازار سے خریدی جا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا قیمتی پودا ہے جس کی آبیاری انسان کو خود اپنے فیصلوں سے کرنی پڑتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ صحت مند رہنا کسی اور کی نہیں، بلکہ مکمل طور پر ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

    ہم نے جدید کہلانے کے شوق میں اپنے باورچی خانوں اور دسترخوانوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بازاری مرغن کھانے، تلی ہوئی اشیاء، ڈبے بند غذائیں اور مصنوعی میٹھے مشروبات اب ہماری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ذائقے اور وقتی لذت کی ہوس میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو زہر ہم اپنے جسم میں اتار رہے ہیں، اس کا خمیازہ ہمارے دل، گردوں اور معدے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ قدرت نے موسمی پھلوں، ہری سبزیوں، خالص دودھ اور سادہ دالوں میں جو شفا رکھی تھی، ہم نے اسے پسِ پشت ڈال دیا۔ دن بھر میں چند گلاس صاف پانی پینے کی زحمت تک گوارا نہیں کی جاتی، مگر بوتلیں اور غیر معیاری جوسز دھڑلے سے پیے جا رہے ہیں۔ اگر ہم آج بھی سادگی کی طرف لوٹ آئیں، پلیٹ میں تلے ہوئے کھانوں کی جگہ سلاد اور پھلوں کو جگہ دیں، تو آدھے سے زیادہ امراض تو وہیں دم توڑ دیں گے۔

    غذا کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے جسم کو بالکل بے جان اور جامد بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں آسائشیں دیں، وہیں ہمیں حرکت سے بھی محروم کر دیا۔ ریموٹ کنٹرول، اسمارٹ فون اور گاڑیوں نے چلنے پھرنے کی عادت ہی چھین لی ہے۔ چند قدم کا فاصلہ طے کرنے کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ موٹاپا، بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد اور ذیابیطس جیسی بلائیں ہر دوسرے گھر میں ڈیرے ڈال چکی ہیں۔ کسی بھی انسان کے پاس اتنا وقت تو ہوتا ہی ہے کہ وہ دن بھر کے چوبیس گھنٹوں میں سے محض پچیس یا تیس منٹ اپنے لیے نکال سکے۔ صبح کی تازہ ہوا میں تیز چہل قدمی یا ہلکی پھلکی ورزش دل کی دھڑکنوں کو ترتیب دیتی ہے، خون کی روانی کو بحال کرتی ہے اور انسان کو اندر سے تروتازہ بناتی ہے۔ اس سستی کو توڑنا صرف ایک پختہ ارادے کا محتاج ہے، جو ڈاکٹر کا کوئی نسخہ فراہم نہیں کر سکتا۔

    جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی تندرستی کی ایک بڑی بنیاد ہے، جسے ہم نے راتوں کو جاگنے کی عادت سے داؤ پر لگا دیا ہے۔ بستر پر لیٹ کر گھنٹوں نیلی روشنی بکھیرتی موبائل اسکرینز کو تکتے رہنا اب معمول بن چکا ہے۔ جب جسم کو سات سے آٹھ گھنٹے کی گہری اور پرسکون نیند نہیں ملتی، تو اعصاب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، قوتِ مدافعت جواب دے جاتی ہے اور انسان چڑچڑے پن اور ڈپریشن کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ منفی سوچیں، غیر ضروری حسد اور مقابلہ بازی دل اور دماغ پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ نیند کا وقت مقرر کرنا، اسکرین سے دوری اختیار کرنا اور چند لمحات قدرت کی خاموشی میں گزار کر ذہنی بوجھ کو ہلکا کرنا بھی تو ہمارے اپنے ہی اختیار میں ہے۔

    تمباکو نوشی، چائے و کافی کی زیادتی اور ذرا سے سردرد پر خود ہی اینٹی بائیوٹکس یا درد کش گولیاں نگل لینے کا رواج ایک اور بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ہم بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے اس پر عارضی پردہ ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے کسی جادوئی دوا یا دولت کے انبار کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف شعور، اعتدال پسندی اور خود پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیصلہ اب ہمارے سامنے ہے کہ آیا ہم وقتی آسائشوں اور چٹخاروں کے غلام بنے رہیں اور بعد میں عمر بھر اسپتالوں اور دوائیوں کے محتاج رہیں، یا پھر آج ہی ایک صحت مند، سادہ اور متحرک طرزِ زندگی اپنا کر ایک شاداب زندگی گزاریں۔ کیونکہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس جسم اور جان کے اصل نگہبان آپ خود ہیں، اور تندرستی کا چراغ روشن رکھنا فقط آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

  • قسمت کے کھیل ،تحریر: عائشہ گُل

    قسمت کے کھیل ،تحریر: عائشہ گُل

    "کیا نام ہے بیٹا تمہارا؟” انٹی نے شفقت سے پہلو میں بٹھا کر پوچھا۔ ارم نے بس سر جھکا لیا۔ ایک لفظ نہ آگے، نہ پیچھے۔ خاموشی ہی اس کا جواب بنی۔ جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ مہرون لباس، لمبی قمیض، ہم رنگ ٹراؤزر اور حجاب۔ چہرے پر نور کی پرچھائیاں، آنکھوں میں ہلکا کاجل، لبوں پر سادگی کی براؤن لپسٹک۔ گویا سادگی خود چل کر آئی ہو۔

    پانچ برس بیت گئے تھے۔ ہر بار ایک نئی امید کے ساتھ وہ اس کمرے میں آتی۔ اور ہر بار "نہ” کا جواب لے کر لوٹ جاتی۔ پھر رب کے فیصلے پر سجدہ کر کے خود کو تسلی دے دیتی۔ مگر آج… آج سامنے والے دو ماہ سے پیچھے پڑے تھے۔ "لڑکی دیکھنی ہے۔” بابر کے گھر والے، ارم کے گھر والے۔ کام، کاروبار، حسب و نسب۔ سب موافق۔ اور سب سے بڑی بات، ارم بھی انہیں پسند آ گئی۔ بات بڑھتے بڑھتے منگنی تک پہنچ گئی۔ جمعہ کا دن طے ہوا۔ سب خوش تھے۔ سوائے ارم کے۔ اس کا دل کسی انجانے خوف سے کانپ رہا تھا۔ وہ بار بار بس یہی دعا کرتی: "یا اللہ! حق کو حق بنا کر دکھا، اور اس کی پیروی کی توفیق دے۔”

    سلور میکسی، ہم رنگ حجاب، ہاتھوں میں گلاب کے گجرے اور مہندی کی لکیریں۔ وہ دوست کے گھر سے تیار ہو کر آئی تو لگتا تھا جیسے کوئی حور زمین پر اتر آئی ہو۔ عصر کی نماز پڑھی، اور شہزادیوں کی طرح استقبال ہوا۔ منہ میٹھا ہوا، ہاتھوں میں شگن کے لفافے رکھے گئے۔ اسٹیج پر بیٹھی وہ سب کو مسکرا کر دیکھتی رہی، مگر دل کے کونے میں وہ چٹان جیسا خوف اپنی جگہ قائم رہا۔

    منگنی ہو گئی۔ آنا جانا شروع ہوا۔ تکلفات، لوازمات، مٹھائیاں۔ لیکن جب ارم والے بابر کے گھر جاتے تو وہاں لفظوں سے ٹپکتا ہوا غرور ملتا۔ چائے کے کپ میز پر رکھ کر کہا جاتا: "ہمارا بیٹا تو ماشاءاللہ خود مختار ہے۔ کاروبار کا بادشاہ ہے۔” ارم کے والد بس مسکرا کر سر جھکا لیتے۔ جیسے ارم اور اس کا خاندان کسی شمار میں ہی نہ ہو۔ ارم کا بھائی افان جب دکان پر جاتا تو بابر وہاں نہ ملتا۔ جواب یہی ملتا: "بہت محنتی ہے۔ سارا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔”

    پھر ایک دن افان دکان پہنچا تو سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ دو چار برتن، وہ بھی ادھار کے۔ باقی سارا خلا۔ دیواریں ننگی، شیلف خالی۔ محلے والوں نے کہا: "لڑکا اچھا ہے۔” لیکن اچھائی کے پردے کے پیچھے کیا تھا؟ ادھر بابر والوں نے ضد پکڑ لی۔ "ارم کے محلے میں جا کر اس کے کردار کے بارے میں پوچھیں گے۔ ورنہ منگنی توڑ دیں گے۔ شادی کے بعد بھی چھوڑ سکتے ہیں۔”

    اور پھر اللہ نے پردہ اٹھا دیا۔ کسی جاننے والے نے سچ سامنے رکھ دیا۔ دکان کرائے کی، گھر کرائے کا، کاروبار کا نام و نشان نہیں۔ چھوٹا بھائی ذہنی مریض، جسے کمرے میں بند کر کے کہا جاتا تھا کہ "باہر ملک گیا ہوا ہے۔” حقیقت سامنے آتے ہی ارم کے گھر والوں نے منگنی توڑ دی۔ کہا: "جو آج ہماری بیٹی کی عزت بازار میں اچھال رہے ہیں، کل اس گھر کی عزت کی حفاظت کیا کریں گے؟”

    ارم ٹوٹ گئی۔ لیکن اس بار آنسو لوگوں کے طعنوں کے ڈر سے تھے۔ اس نے بابر کی تصویر تک نہ دیکھی۔ بس رب کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیا۔ رات کے دو بجے۔ نیند آنکھوں سے روٹھ چکی تھی۔ وہ سجدے میں گر گئی: "یا اللہ! میں یوسف کی طرح کنویں میں ہوں۔ مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ہے۔ اس رات میں میری روشنی بس تو ہے۔ لوگ پتھر ماریں اس سے پہلے مجھے تھام لے۔ میں بے بس ہوں، مگر تیری ہوں۔” روتے روتے آنکھ لگ گئی۔

    اور پھر صبح آئی۔ ایک نئی ارم کے ساتھ۔ ناشتے کی ٹرے ہاتھ میں تھامے وہ بولی: "امی! بس۔ اب یہ بات ختم۔ لوگ کہتے رہیں۔ وہ ہمیں کھلاتے نہیں، ہمارا راشن نہیں ڈالتے۔ یہ ایک برا خواب تھا، جو ٹوٹ گیا۔ اللہ جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے۔ ساری عمر پچھتانے سے بہتر ہے ایک بار کا صبر کر لیا جائے۔” ماں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ "میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ میرا رب ضرور بہتر سے بہترین کرے گا۔ ان شاء اللہ الکریم۔”

    وقت مرہم رکھنا جانتا ہے۔ زخموں پر نہیں تو دل کے زاویوں پر ضرور۔ دو برس بیتے تو ارم کے آنگن میں بہار لوٹ آئی۔ وہی ارم جو کل تک راتوں کو سجدوں میں گم رہتی تھی، آج صبر و رضا کا پیکر بنی تھی۔ "ذیشان صاحب، لیجیے آپ کا امامہ شریف۔” اس کی آواز میں اب وہ کپکپاہٹ نہ تھی جو کبھی منگنی والے دن تھی۔ اب لہجے میں وقار تھا، آنکھوں میں سکون۔ ذیشان نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر امامہ درست کیا اور مسکرا کر کہا: "ماشاءاللہ! آج بھی یہ امامہ آپ کے ماتھے کا نور بن کر چمک رہا ہے، جیسے دعا قبول ہو کر سر پر سج گئی ہو۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتا کہ اس نے مجھے باکردار، باحیا اور علم کی روشنی والی بیوی عطا کی۔” ارم نے نظریں جھکا لیں۔ دل نے سجدہ کیا۔ وہ جب بھی ذیشان کو دیکھتی تو اسے اپنا وہ والا سجدہ یاد آ جاتا۔ وہ رات، دو بجے کا وہ اندھیرا، اور رب کا وعدہ: "میں بہترین فیصلہ کروں گا۔”

    زندگی نے واقعی کروٹ لی تھی۔ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جگہ اللہ نے ایسے محل تعمیر کر دیے تھے جن کی بنیاد یقین پر تھی۔ "چلیں، آج پہلی تراویح ہے۔ دیر نہ ہو جائے۔” ذیشان مسجد کی طرف چل دیا اور ارم نے جائے نماز بچھا لی۔ قرآن کی تلاوت کی گونج گھر میں پھیلی تو لگا جیسے فرشتے بھی سننے آ گئے ہوں۔ اور اگلے برس… اللہ نے ان کی دعاؤں کا صلہ بھیج دیا۔ ان کی گود میں ایک ننھی جان آئی۔ پاکیزہ محبت کی نشانی۔ گویا اللہ نے کہہ دیا ہو: "میں نے تیرے صبر کا سود سمیت لوٹا دیا۔” ارم نے بچے کو گود میں لیا تو بے اختیار لبوں سے نکلا: "سبحان ربی الاعلیٰ”۔ وہی سجدے والا جملہ۔ وہی یقین والا کلمہ۔ کیونکہ اب وہ جان چکی تھی… رب کا انتخاب ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے، ٹوٹ کر اللہ سے جُڑ جائے۔

  • خون کا عطیہ، زندگی بانٹنے کا نام،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    خون کا عطیہ، زندگی بانٹنے کا نام،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    انسانی زندگی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ زندگی کی اہمیت کا حقیقی احساس اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی انسان بیماری، حادثے یا کسی خطرناک طبی مرحلے کے باعث موت اور زندگی کی کشمکش میں ہو اور اس کی زندگی بچانے کے لیے خون کے چند قطروں کی ضرورت پڑ جائے۔ ایسے نازک لمحات میں ایک صحت مند انسان کا عطیہ کردہ خون محض ایک طبی ضرورت نہیں رہتا بلکہ کسی کے لیے زندگی کی نئی امید، ایک ماں کے لیے اپنے بچے کی سانسوں کی واپسی اور ایک خاندان کے لیے خوشیوں کا پیغام بن جاتا ہے۔
    ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں روزانہ ایسے بے شمار مریض موجود ہوتے ہیں جو خون کے منتظر ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں زخمی افراد، تھیلیسیمیا کے مریض بچے، بڑی سرجری سے گزرنے والے مریض اور مختلف پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خون زندگی کی بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ بعض اوقات خون کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث ایک قیمتی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب معاشرے کے باشعور اور درد مند افراد کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں خون عطیہ کرنے کا جذبہ ابھی تک اُس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس کی ضرورت ہے۔ اکثر لوگ صرف اپنے کسی عزیز یا جاننے والے کی ضرورت کے وقت خون دینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ انسانیت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم بلا تفریق اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے ضرورت مند انسانوں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
    خون کا عطیہ دراصل انسانیت سے محبت اور معاشرتی ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔ ایک خون عطیہ کرنے والا شخص شاید یہ نہ جانتا ہو کہ اس کے خون سے کس کی زندگی محفوظ ہوگی، مگر وہ کسی نہ کسی گھر میں امید کا چراغ ضرور روشن کرتا ہے۔ اس کا دیا ہوا خون کسی بچے کے چہرے پر مسکراہٹ، کسی ماں کی آنکھوں میں خوشی اور کسی خاندان کے لیے نئی زندگی کا سبب بن سکتا ہے۔
    ہمارے نوجوان اس عظیم انسانی خدمت میں سب سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان نسل اگر اپنی توانائی اور جذبے کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہوئے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی روایت کو فروغ دے تو معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، فلاحی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ خون کے عطیات کے حوالے سے آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں اور نوجوانوں کو اس عظیم خدمت کے لیے تیار کریں۔
    یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ خون عطیہ کرنا صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی فریضہ ہے۔ ہمیں اپنے شہروں اور علاقوں میں ایسے منظم نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں ضرورت مند مریض کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ رضاکارانہ بلڈ ڈونرز کے نیٹ ورک اور فلاحی تنظیمیں اس سلسلے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے ان کے حل کا حصہ بنیں۔ اگر ہم صحت مند ہیں، دوسروں کے کام آ سکتے ہیں اور ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی انسان کی جان بچا سکتی ہے تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے؟
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ کسی اجنبی کی زندگی بچانے کے لیے بڑھایا گیا ہاتھ انسانیت کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔
    آئیے! ہم عہد کریں کہ ضرورت کے وقت خون عطیہ کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ ہمارے جسم سے نکلنے والا خون کا ایک قطرہ شاید کسی ایسے انسان کے لیے زندگی بن جائے جس کے گھر والے اس کی سانسوں کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوں۔
    خون کا عطیہ صرف ایک عطیہ نہیں، بلکہ زندگی بانٹنے، امید جگانے اور انسانیت کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔

  • بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے، مگر کبھی جاتے بھی نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے، مگر کبھی جاتے بھی نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    زندگی کی سب سے عجیب حقیقت یہ نہیں کہ لوگ ہمیں چھوڑ جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ چلے جانے کے بعد بھی ہمارے اندر رہ جاتے ہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، نئے لوگ زندگی میں آتے ہیں، پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو دل کے کسی خاموش گوشے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔
    ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جدائی صرف جسموں کے درمیان فاصلے کا نام ہے، مگر اصل جدائی تو وہاں شروع ہوتی ہے جہاں یادیں روز ملنے لگتی ہیں۔ کچھ لوگ برسوں سے ہمارے ساتھ نہیں ہوتے، لیکن ایک خوشبو، ایک سڑک، ایک پرانا گیت یا کسی کی ہنسی اچانک ہمیں انہی لمحوں میں واپس لے جاتی ہے جہاں سے ہم بہت پہلے نکل آئے تھے۔

    انسان کا حافظہ عجیب ہے۔ وہ تاریخیں بھول جاتا ہے، مگر احساس نہیں بھولتا۔ اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ آخری ملاقات کس دن ہوئی تھی، مگر یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دل کی کیفیت کیا تھی۔ شاید اسی لیے کچھ رشتے ختم ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوتے، کیونکہ وہ تعلق لفظوں سے نہیں، احساس سے جڑا ہوتا ہے۔ہم اکثر خود کو یقین دلاتے ہیں کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن شاید وقت زخم نہیں بھرتا، وہ صرف انسان کو درد کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ کچھ خالی جگہیں کبھی پُر نہیں ہوتیں، بس ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسکراہٹوں کے پیچھے برسوں پرانی خاموشیاں چھپی ہوتی ہیں جن کا ذکر کبھی کسی محفل میں نہیں ہوتا۔

    لیکن ہر یاد تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ یادیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ہم کبھی دل سے جینا جانتے تھے، کسی پر بےلوث اعتماد کرنا جانتے تھے، کسی کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کر لیتے تھے۔ اگر کوئی شخص آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے تو شاید اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آگے نہیں بڑھے، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہیں بھلایا نہیں جاتا، صرف قبول کیا جاتا ہے۔

    شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ ہر آنے والا ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتا۔ کچھ لوگ ہمیں بدلنے آتے ہیں، کچھ ہمیں سنبھالنے، کچھ ہمیں آئینہ دکھانے، اور کچھ صرف یہ سکھانے کہ ہر ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا تو شاید ہم کبھی مضبوط ہونا نہ سیکھتے۔اس لیے اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص ہے جو برسوں پہلے جا چکا ہے مگر آج بھی کسی خاموش لمحے میں یاد آ جاتا ہے، تو اس یاد سے جنگ مت کیجیے۔ ہر یاد کو بھلانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ یادیں انسان کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ اسے اس کی اپنی کہانی یاد دلاتی ہیں۔

    آخرکار، زندگی صرف ان لوگوں سے نہیں بنتی جو ہمارے ساتھ چلتے رہتے ہیں، بلکہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو راستہ بدل لینے کے باوجود ہمارے اندر کہیں رہ جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے… مگر کبھی جاتے بھی نہیں۔

  • عالمی مہرِ تصدیق اور کشمیر کا مقدمہ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    عالمی مہرِ تصدیق اور کشمیر کا مقدمہ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    تاریخ کے ایوانوں میں بعض لمحات ایسے خاموش طوفان کی مانند وارد ہوتے ہیں جو صدیوں سے بنے بنائے مصنوعی بیانیوں اور ریاستی ہٹ دھرمیوں کو ایک ہی جھٹکے میں ریت کے محل کی طرح ڈھا دیتے ہیں۔ سفارت کاری کا میدان محض شعلہ بیانی یا کاغذ کے ٹکڑوں کی الٹ پلٹ کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اصول، صبر اور تاریخ کے ناگزیر فیصلوں کی وہ بساط ہے جہاں حق کو بالآخر اپنا آپ منوانا پڑتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں صدیوں پرانے استعماری مرکیٹر نقشے کی جگہ رقبے کے درست تناسب پر مبنی نئے معیاری نقشے کی توثیق کے موقع پر ایک ایسا ہی عدیم النظیر منظر دنیا نے دیکھا جس نے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی و سفارتی سیاست کے بند کواڑ جھنجھوڑ کر رکھ دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ارضیاتی شعبے کی جانب سے جاری کردہ اس مستند عالمی نقشے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو کسی بھی ملک کا اندرونی حصہ تسلیم کرنے کے بجائے بدستور ایک بین الاقوامی متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے، اور پاکستان و بھارت کے زیرِ انتظام حصوں کو ایک واضح نقطہ دار لکیر یعنی ڈاٹڈ لائن سے تقسیم کرتے ہوئے یہ قانونی وضاحت بھی درج کر دی گئی ہے کہ اس خطے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ سب سے بڑا تاریخی المیہ یا قدرت کی ستم ظریفی یہ رہی کہ اس نئے عالمی نقشے کی توثیق میں بھارت نے بھی اقوامِ عالم کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہی ہاتھ سے اس دستاویز کے حق میں ووٹ ڈال دیا۔

    جب نیویارک کے وقت کے مطابق ووٹنگ پینل پر سبز بتیاں روشن ہوئیں اور ایک سو چونسٹھ (164 )ممالک کے ساتھ بھارت کی حمایت کا اندراج ہوا، تو درحقیقت نئی دہلی کی جانب سے دہائیوں سے تراشا گیا نام نہاد "اٹوٹ انگ” کا فرسودہ بیانیہ اقوامِ متحدہ کے اسی ایوان میں دفن ہو گیا جہاں سے بھارت کبھی راہِ فرار اختیار کرتا رہا تھا۔ پانچ اگست دو ہزار انیس( 5, اگست 2019 ) کو بھارتی آئین کی دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے(270-45A) پر شب خون مار کر پوری وادی کو کھلی جیل میں بدلنے والے اربابِ اقتدار نے یہ خواب دیکھا تھا کہ جغرافیے کو بندوق کی نوک پر بدلا جا سکتا ہے اور تاریخ کے ماتھے سے کشمیر کا نام کھرچ کر اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر اقوامِ متحدہ کے اس نئے نقشے پر بھارتی دستخط نے یہ ثابت کر دیا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی فریم ورک کسی ملک کے عارضی اندرونی سیاسی جنون کے آگے سرنگوں نہیں ہوتے۔ بھارت چاہے کتنی ہی وضاحتی تاویلیں تراشے یا اسے محض سائنسی رقبے کی درستی قرار دے کر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی سعی کرے، سفارتی حقیقت کی کڑوی گولی یہ ہے کہ عالمی برادری نے مقبوضہ وادی پر بھارت کے یکطرفہ دعوؤں کو رد کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کو ایک بین الاقوامی تنازع کی عارضی لکیر کے طور پر ہی مانا ہے۔

    اس ہمہ گیر پیش رفت نے دراصل پاکستان کے اس اصولی، نظریاتی اور اخلاقی موقف پر ایک بار پھر بین الاقوامی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو وہ پچھلی پون صدی سے ہر عالمی پلیٹ فارم پر دہراتا چلا آ رہا ہے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یوں ہی کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار نہیں دیا تھا۔ یہ کوئی روایتی جذباتی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دور اندیشانہ حقیقت تھی جس کا تعلق پاکستان کے وجود، اس کی آبی حیات، اس کے جغرافیائی استحکام اور نظریۂ پاکستان کی تکمیل سے جڑا ہوا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچوں میں جب بھارتی فوجیوں کے بوٹوں تلے انسانی حقوق روندے جاتے ہیں، جب وادی کی ماؤں بہنوں کی چادریں تار تار کی جاتی ہیں اور جب حریت پسند نوجوانوں کے سینوں کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، تو اس کا درد ہر اس پاکستانی کے دل میں جاگتا ہے جس کے وجود میں شہ رگ کی طرح کشمیر دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے سفارتی تنہائی کے طعنے سہے، اقتصادی دباؤ جھیلے، اور عالمی طاقتوں کی چشم پوشی کے باوجود کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ آج جب اقوامِ عالم کے متفقہ نقشے پر کشمیر ایک متنازع اور حقِ استصواب کے طلبگار خطے کی صورت میں تابندہ نظر آتا ہے، تو یہ دراصل کشمیری شہدا کے بہتے لہو اور پاکستان کی مسلسل سفارتی استقامت کا ثمر ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والی اس پیش رفت کی علامتی اہمیت سے زیادہ اس کا عملی اور قانونی اثر گہرا ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعد اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں، نصابی کتب، بین الاقوامی اٹلسوں اور کثیر القومی اداروں کے دستاویزات میں کشمیر کو اسی تناظر میں دکھایا جائے گا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح ہے۔ بھارت نے برسوں تک دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اندرونی قوانین کا سہارا لیا، میڈیا سنسرشپ لگائی اور متنازعہ علاقوں کو اپنے نقشوں میں زبردستی سموئے رکھا، لیکن جب بین الاقوامی فورم پر ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو وہ عالمی برادری کی اجتماعی سوچ کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا اور اس کے اپنے دستخط نے اس کے اپنے ہی بیانیے کا گلا گھونٹ دیا۔ یہ واقعہ خطے میں امن کی بحالی اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندی کا دامن تھاما جائے۔ طاقت کے بل بوتے پر قوموں کی شناخت اور ان کا جغرافیہ نہیں چھینا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ کا نیا نقشہ محض لکیروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نوشتۂ دیوار ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ زندہ ہے، اس کی متنازع حیثیت اٹل ہے اور جب تک کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، جنوبی ایشیا کا یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کے دفاع اور مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت کے عہد پر آج بھی اسی طرح قائم ہے جیسا کہ اس کا تاریخی مقدر تھا

  • ڈیجیٹل دنیا کا فریب،تحریر: ماہ جبین اظہر

    ڈیجیٹل دنیا کا فریب،تحریر: ماہ جبین اظہر

    ایک وقت تھا جب زندگی اتنی تیز رفتار نہیں تھی۔ نہ ہر ہاتھ میں موبائل تھا، نہ ہر لمحہ انگلیوں کی جنبش پر دنیا سمٹ آتی تھی، نہ انٹرنیٹ نام کی کوئی ایسی دنیا تھی جہاں انسان چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے جڑ جائے۔ لوگ کم سہولتوں میں بھی مطمئن تھے۔ رشتوں میں اپنائیت تھی، ملاقاتوں میں خلوص تھا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا احساس دلوں میں زندہ تھا۔ دھوکہ دہی اور فریب اگرچہ اس وقت بھی دنیا کا حصہ تھے، مگر آج کی طرح ہماری روزمرہ زندگی کا لباس نہیں بنے تھے۔

    پھر آہستہ آہستہ موبائل ہماری زندگی میں داخل ہوا، اس کے بعد انٹرنیٹ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا ہماری ہتھیلی میں سما گئی۔ جو کام کبھی گھنٹوں کی محنت سے ہوتے تھے، آج ایک کلک پر مکمل ہو جاتے ہیں۔ آن لائن شاپنگ ہو، دفتری کام، سکول کالج کی پڑھائی یا کھانا پکانے کی ترکیب، سب کچھ انگلی کے ایک اشارے پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور سنیپ چیٹ نے ہماری زندگیوں میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، حتیٰ کہ گھریلو خواتین بھی اس ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن چکی ہیں۔
    بلاشبہ یہ دنیا ہمارے لیے بے شمار آسانیاں لے کر آئی ہے، لیکن ہر آسانی اپنے ساتھ ایک آزمائش بھی لاتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے فریب کے ایسے راستے بھی کھول دیے ہیں جن کا تصور کبھی ممکن نہ تھا۔ آج انسان گھر بیٹھے دنیا سے جڑ سکتا ہے، لیکن اسی رابطے کے ذریعے کوئی اجنبی اس کی زندگی میں داخل ہو کر اسے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    آج ایک فون کال، ایک غلط لنک یا معمولی سی غفلت انسان کو برسوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے محروم کر سکتی ہے۔ کبھی بینک اکاؤنٹ بند ہونے کا خوف دکھایا جاتا ہے، کبھی اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہونے کا پیغام آتا ہے اور کبھی لاکھوں روپے کے انعام کا لالچ دے کر ذاتی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اس کی جمع پونجی چند لمحوں میں ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جعلی ویب سائٹس اور جھوٹے پیغامات پر یقین کر لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

    ڈیجیٹل فریب کا ایک خطرناک پہلو نوجوانوں کی زندگیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر، جعلی شناختیں اور جھوٹی محبت کے دعوے پہلے اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر اسی اعتماد کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ کسی کی تصویر میں ردوبدل کرکے اسے خوف زدہ کرنا، پیسوں کا مطالبہ کرنا اور کسی کی عزت و سکون کو داؤ پر لگا دینا صرف ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کی علامت ہے۔

    سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کو اظہار کا موقع دیا ہے، وہیں دکھاوے کی ایک ایسی دوڑ بھی پیدا کر دی ہے جس میں ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت رخ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ تصویروں میں خوشیاں، کامیابیاں اور آسائشیں نظر آتی ہیں، مگر حقیقت ہمیشہ اس کے پیچھے موجود نہیں ہوتی۔ بعض لوگ دوسروں کی دکھائی ہوئی زندگی کو حقیقت سمجھ کر احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ڈیجیٹل دنیا کا فریب صرف پیسوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچ، احساس اور ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    افسوس تو یہ ہے کہ کچھ لوگ محنت اور حلال روزی کے بجائے فوری دولت کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ دوسروں کی لاعلمی اور اعتماد سے فائدہ اٹھا کر حاصل کیا گیا مال شاید جیب تو بھر دے، مگر ضمیر کو خالی کر دیتا ہے۔ چند لمحوں کی لالچ کسی دوسرے انسان کی برسوں کی محنت برباد کر سکتی ہے۔
    اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف موبائل استعمال کرنا نہیں بلکہ اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ ہر آن لائن دوست قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، ہر پیغام سچا نہیں ہوتا اور ہر خوبصورت تصویر حقیقت کی عکاس نہیں ہوتی۔ اپنی ذاتی معلومات، پاس ورڈز اور ضروری دستاویزات کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے دور نہ بھاگیں، بلکہ شعور کے ساتھ اسے استعمال کرنا سیکھیں۔ کیونکہ مسئلہ موبائل، انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل دنیا نہیں، مسئلہ وہ نیت ہے جو اسے استعمال کرتی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور فریب کا ہتھیار بھی۔
    یاد رکھیے! ہر چمکتی اسکرین روشنی نہیں دیتی، کچھ اسکرینوں کے پیچھے فریب کے اندھیرے بھی چھپے ہوتے ہیں۔ اگر شعور ہماری انگلی تھامنے والا نہ ہو تو یہی ایک کلک، برسوں کی محنت، اعتماد اور سکون ہم سے چھین سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل دنیا میں قدم قدم پر احتیاط، سمجھ داری اور شعور ضروری ہے، کیونکہ جدید دور میں محفوظ وہی ہے جو ٹیکنالوجی کا استعمال تو کرے، مگر آنکھیں بند کرکے اس پر اعتماد نہ کرے۔

  • ایک کلک کا اندھیرا ،تحریر: فاطمہ زہراء

    ایک کلک کا اندھیرا ،تحریر: فاطمہ زہراء

    عصرِ حاضر میں دنیا نے جیسے ہی ارتقا و ترقی کی نئی منزلوں میں قدم رکھا، انٹرنیٹ اور پردۂ سیمیں کا سحر انسانی عقل و شعور پر محیط ہونے لگا۔ ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسانیوں، سہولتوں اور بے شمار امکانات سے آشنا کیا، وہیں اس کے بے احتیاط استعمال نے انسان کے سامنے ایسے مسائل بھی لا کھڑے کیے جن سے چشم پوشی اب ممکن نہیں۔ نوجوان نسل نے اسی مجازی دائرے میں اپنی مسرتوں، آرزوؤں اور تسکین کا ایک نیا جہاں آباد کر لیا ہے۔ یہ وہی دلِ ناداں ہیں جو کبھی اپنی داخلی بے چینی، حسرتوں اور ذہنی اضطراب کی تسکین کے لیے کتاب، کھیل، صحت مند مشاغل اور باہمی میل جول کا سہارا لیا کرتے تھے، مگر آج شب و روز ڈیجیٹل دنیا کے اس پیچیدہ و پُرپیچ جال میں گرفتار ہو کر رہ گئے ہیں۔

    فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ان کے سامنے ایک ایسی رنگین اور سحر انگیز کائنات کا در وا کر دیا ہے جہاں حقیقت کی ٹھوس زمین آہستہ آہستہ قدموں تلے سے سرک رہی ہے اور ایک دلکش سراب کو منزلِ مقصود سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ مجازی دنیا بظاہر دل فریب ہے، مگر اس کی تہوں میں ایسا فریب بھی پوشیدہ ہے جو انسان کو رفتہ رفتہ اپنی ذات، اپنے وقت، اپنے مقصد اور اپنے حقیقی رشتوں سے دور کرتا چلا جاتا ہے۔

    مجازی دوستیوں، فرضی محبتوں اور مصنوعی دلچسپیوں کے اس ناپائیدار فریب میں الجھ کر نوجوان حقیقی رشتوں کی مٹھاس، قربت اور قدر و قیمت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ محض ایک سرسری کلک، ایک غیر محتاط رابطہ یا ایک جعلی شناخت نہ جانے کتنے معصوم نفوس کی زندگیوں کو تاریکی کے سپرد کر دیتی ہے۔ تفریح کے نام پر سجنے والی اس محفلِ فریب نے لاتعداد خاندانوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی چمکتی ہوئی دنیا کے پردے میں ڈیجیٹل فراڈ، جعل سازی، بلیک میلنگ اور فریب کاری کے نت نئے جال بچھائے جا رہے ہیں؛ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روشنیوں سے سجی یہ دنیا اپنے باطن میں ایک زہر آلود جال لیے بیٹھی ہو۔

    اس ڈیجیٹل دنیا کا ایک نہایت خطرناک پہلو آن لائن دھوکا دہی ہے۔ آج جعل سازوں نے فریب کے ایسے راستے نکال لیے ہیں جو بظاہر انتہائی معصوم دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کسی انعام کا لالچ، کبھی ملازمت کی پیشکش، کبھی کسی عزیز کے نام سے ہنگامی پیغام، کبھی بینک یا کسی معروف ادارے کا جعلی لنک اور کبھی واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت۔ صارف سمجھتا ہے کہ وہ محض ایک لنک کھول رہا ہے، مگر اسے کیا خبر کہ بعض اوقات ایک کلک ہنستی مسکراتی زندگیوں کے دروازے پر دستک نہیں دیتا بلکہ ان کے اندر اندھیرا اتار دیتا ہے۔

    واٹس ایپ پر آنے والے نامعلوم گروپ لنکس، غیر مانوس نمبروں سے موصول ہونے والے پیغامات اور مشکوک روابط کو محض تجسس کی بنیاد پر کھول دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی اجنبی کی بھیجی ہوئی فائل، لنک یا ایپ کو بغیر تصدیق کھولنے کے بجائے پہلے بھیجنے والے کی شناخت یقینی بنانی چاہیے۔ اگر کوئی پیغام فوری کارروائی، انعام، رقم، اکاؤنٹ بند ہونے یا کسی ہنگامی صورتِ حال کا خوف پیدا کرکے آپ سے لنک کھلوانے یا معلومات فراہم کرنے کا تقاضا کرے تو یہی عجلت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ معاملہ مشکوک ہے۔
    اپنے بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم، موبائل والٹ، ای میل یا کسی بھی اہم اکاؤنٹ کا پاس ورڈ، پن، او ٹی پی یا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔ محض لوگو، پروفائل تصویر، نام یا کسی ادارے کا حوالہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ سامنے والا واقعی وہی شخص ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔ کسی مشکوک پیغام کی صورت میں متعلقہ ادارے سے اس کے اصل اور معلوم ذریعے کے ذریعے تصدیق کرنا ہی دانش مندی ہے۔

    واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پرائیویسی اور سیکیورٹی سیٹنگز کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دو مرحلہ جاتی تصدیق فعال رکھنا، غیر ضروری گروپس میں شمولیت سے گریز کرنا، نامعلوم افراد کی درخواستوں کو قبول نہ کرنا اور مشکوک روابط یا فائلوں سے احتراز کرنا آج کے دور کی بنیادی ڈیجیٹل احتیاطیں ہیں۔ یاد رکھیے، ہر لنک قابلِ اعتماد نہیں، ہر پیغام سچا نہیں، ہر پروفائل اصلی نہیں اور ہر پیشکش آپ کے لیے نہیں۔اس بے سمت جنون نے نوجوانوں کے تن و من کی توانائیوں کو بھی دیمک کی مانند چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ خواب، آرام، یکسوئی اور سکونِ قلب اس بزمِ مجاز کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلسل اسکرین دیکھنے کے باعث کم سن بچوں میں بھی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ نیند، جسمانی سرگرمی اور صحت مند معمولات ان کی زندگی سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ مائیں، جو کبھی گھر کی تعمیر، شائستگی اور اولاد کی تربیت کا تابندہ محور ہوا کرتی تھیں، وہ بھی بعض اوقات اسی جادوئی شیشے کے سحر میں ایسی گم ہو جاتی ہیں کہ آغوشِ تربیت اور گھریلو ذمہ داریوں سے غافل ہونے لگتی ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بعض ننھے بچوں کی بھوک، خاموشی اور مصروفیت تک اسکرین کی محتاج ہو جاتی ہے۔

    سوشل میڈیا کی چمک دمک میں لائکس، کمنٹس اور توجہ کے حصول کی ہوس نے انسان کو ایک ایسی بے معنی دوڑ میں محبوس کر دیا ہے جس کی کوئی حقیقی منزل نہیں۔ انسان دوسروں کی مصنوعی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، نتیجتاً ذات کے باطن میں اطمینان کے بجائے خلا، اضطراب اور احساسِ محرومی جنم لینے لگتا ہے۔

    یہ مسئلہ اب محض فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی اور اجتماعی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پانچویں نسل کی جنگ، یعنی Fifth Generation Warfare، روایتی جنگوں سے مختلف نوعیت کی جنگ ہے جس میں توپ، ٹینک اور میزائل کے ساتھ ساتھ معلومات، ٹیکنالوجی، نفسیاتی دباؤ، گمراہ کن بیانیے، پروپیگنڈا اور فکری انتشار کو بھی ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد صرف سرحد پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ قوم کے ذہن، اعتماد، اجتماعی سوچ اور اداروں پر یقین کو کمزور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا اس فکری معرکے کا ایک مؤثر میدان بن چکا ہے۔ افواہوں، جعلی خبروں اور افترا پردازی کے اس بپھرے ہوئے بازار میں حق و صداقت کی متوازن آواز اکثر شور میں دب جاتی ہے۔ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں ہزاروں ذہنوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ حقیقت کو ثابت کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک غیر محتاط صارف محض تماشائی نہیں رہتا بلکہ انجانے میں کسی بڑے فکری معرکے کا حصہ بن جاتا ہے۔

    ہمارا وطنِ عزیز بھی اس غیر مرئی معرکے کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ سائبر حملے، زہریلا پروپیگنڈا، جعلی معلومات، فکری انتشار اور مصنوعی بے اعتمادی قومی وحدت اور اجتماعی استحکام کے لیے سنجیدہ چیلنج بن سکتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہی ذرائعِ ابلاغ، اداروں اور ایک دوسرے پر اعتماد کھونے لگے تو دشمن کو باہر سے حملہ کرنے کی ضرورت کم پڑ جاتی ہے؛ انتشار اندر ہی سے راستہ بنا لیتا ہے۔

    لہٰذا ضرورت ٹیکنالوجی سے فرار کی نہیں بلکہ اس کے شعوری استعمال کی ہے۔ نوجوانوں کو محض موبائل سے دور کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو اپنی ذات کا مالک نہیں بلکہ اپنا آلہ کیسے بنایا جائے۔ خبر آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق، مشکوک لنک کھولنے سے پہلے تصدیق، جذباتی مواد پر فوری ردِعمل کے بجائے تحمل اور اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کا شعور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
    یاد رکھیے! پانچویں نسل کی جنگ کا ایک بڑا محاذ انسان کے ذہن کے اندر ہے۔ اور سائبر دنیا کا ایک بڑا ہتھیار ہماری اپنی جلد بازی ہے۔
    کبھی کبھی زندگی بھر کی محنت برباد کرنے کے لیے کسی مجرم کو بندوق کی ضرورت نہیں پڑتی؛ اسے صرف ہماری ایک غلطی، ایک لمحے کی بے احتیاطی اور ایک کلک درکار ہوتا ہے۔
    اس لیے کلک کرنے سے پہلے رکنا، سوچنا اور تصدیق کرنا محض احتیاط نہیں، آج کے ڈیجیٹل عہد میں اپنے آپ، اپنے گھر، اپنی جمع پونجی، اپنے رشتوں اور اپنی ہنستی مسکراتی زندگیوں کی حفاظت ہے۔
    کیونکہ بعض اوقات ایک کلک صرف ایک لنک نہیں کھولتا، وہ ہماری پوری زندگی کا سکون بھی نگل سکتا ہے۔

  • اللّٰہ دیکھ رہا ہے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ دیکھ رہا ہے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ہم لوگ کوئی بھی کام کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ بات بہت کم ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں۔ نماز پڑھتے وقت بھی ہمارے ذہن میں یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں:
    ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔
    سب سے پہلے ہمیں ایک ڈائری بنانی ہے اور اس میں دو کالم بنا کر ایک طرف اپنے نیک اعمال لکھنے ہیں اور دوسرے کالم میں گناہوں کے بارے میں لکھنا ہے۔
    اس طرح سے روزانہ اپنا معمول بنائیں اور ہم خود اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے کندھوں پر دو فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ جنھیں کراما کاتبین کہتے ہیں۔ دونوں فرشتے ہمارے اعمال لکھتے ہیں ـ ایک ہمارے نیک اعمال لکھتے ہیں اور دوسرے گناہوں والے اعمال لکھتے ہیں۔
    فرشتے بار بار موقع دیتے ہیں کہ اب یہ انسان گناہ سے رک جائے گا، توبہ کرے اور جب تک وہ انسان گناہ نہیں کرتا: اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان گناہ کرنے کا سوچتا ہے اور وہ گناہ نہیں کرتا: اس کا ارادہ بدل جاتا ہے۔
    ہماری نیت خالص ہو گی تو ہم سب کاموں کو انجام دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ "حدیث کا مفہوم ہےکہ سارے عمل نیت سے ہیں۔”( بخآری ومسلم)
    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے لیے کتنی محنت اور محبت سے ہمارے اعضاء بنائیں اور ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات میں کتنی ساری نعمتیں عطا کی ہیں۔
    ہم نے ان ساری نعمتوں پر شکر ادا کیا؟
    نعمتوں پر غور وفکر کیا؟
    اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات پر ہم نے
    عمل کیا؟
    نبی کریم محمد ﷺ کی سنتوں پر عمل کیا؟
    ہم نے اپنا محاسبہ کرنا ہےاور دوسروں کو بھی تلقین کرنی چاہیے۔
    زندگی بہت مختصر ہے۔
    کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
    آج سے اپنے اعمال کا جائزہ لیںتے ہیں۔
    ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہےکہ ہم خود پر قابو پانے کی کوشش کریں اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں۔