Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    "اور وہ سب سے بہترین رزق دینے والاہے۔”
    ہجرت کو مقدرِ زیست بنے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا۔ نئے شہر کی اجنبیت ابھی دل پر پوری طرح طاری تھی۔شہر اور لوگ نئے تھے اور زندگی ایک نئے انداز سے خود کو ترتیب دے رہی تھی۔ انہی دنوں ایک صبح میں کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اچانک ایک چڑا اور چڑیا کھڑکی کے قریب آ بیٹھے۔ ان کی چہچہاہٹ میں جیسے رزق کی خاموش التجا شامل تھی۔کھڑکی پر مضبوط جالی لگی ہوئی تھی اور اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہ تھا، اس لیے بظاہر انہیں کچھ دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جب اللہ کسی کے لیے رزق کا فیصلہ کر دے تو وہ اس کے لیے راستے بھی خود بنا دیتا ہے۔ اچانک میری نظر جالی کے ایک سوراخ پر پڑی۔ میں نے بریڈ کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور احتیاط سے اس سوراخ کے ذریعے باہر ڈال دیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پھدکتے ہوئے آئے اور خوشی خوشی اپنا حصہ لے گئے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا، مگر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر صبح اور عصر کے بعد آتے ہیں اور اپنے ساتھ چند دوسری چڑیوں کو بھی لے آتے ہیں۔ جالی کا وہ چھوٹا سا سوراخ ان کے لیے رزق کا دروازہ بن گیا ہے،ایک ایسا دروازہ جسے میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کھولا۔یہ منظر دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کے نظامِ رزق پر حیران رہ گئی۔ ہم خود بھی غمِ روزگار کے تحت ہجرت کرکے اس نئے شہر میں آ بسے ہیں۔ ہمارے لیے بھی رزق کے دروازے وہیں سے کھلتے ہیں جہاں تک ہماری سوچ نہیں پہنچتی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں انہی بے زبان پرندوں کا رزق بھی ان تک پہنچا دیتا ہے۔

    کتنی عظیم ہے وہ ذات جو آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں کو بھی نہیں بھولتی اور پردیس میں بسنے والے انسانوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتی۔ وہی دل میں خیال ڈالتا ہے اور وہی اسباب مہیا کرتا ہے۔ کبھی جالی کا ایک چھوٹا سا سوراخ اللہ کی رحمت کا وسیلہ بن جاتا ہے، اور کبھی ایک انسان کے ہاتھ اس کی عطا بانٹنے کا ذریعہ۔واقعی، رزق کی تقسیم کا نظام عقل کو حیران اور دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم صرف وسیلہ ہیں، دینے والا تو صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ اس کے خزانے بے شمار ہیں وہ جسے دینا چاہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور جب اپنے بندوں کو نوازتا ہے تو ان کے ذریعے اپنی دوسری مخلوق کا رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ بے شک رازق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    معرکہ حق (بنیان مرصوص) میں شاندار کامیابی کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سپہ سالار چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی دنیا کے بااثر ترین ملٹری سربراہان میں سر فہرست کے اعزاز کے حوالے سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معصوم کتوں کو مارنے کی بے شمار ویڈیوز دیکھی تو تب سے شدید افسردہ ہوں، کئی گھنٹوں سے آنکھیں نم ناک، دل بوجھل اور نیند کوسوں دور ہے۔

    فیلڈ مارشل کی بدولت آج پاکستان دنیا کی افق پر چمک رہا ہے لیکن یہی پاکستان خاص طور پر پنجاب اللہ کی مخلوق کیلئے مقتل بنا دیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ڈی سی شپ بچانے کیلئے معصوم و بے گھر کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگا دیے۔

    جنگ میں بھی جانوروں کو قتل نہیں کیا جاتا، تاریخ انسانی میں شاید ہی کسی نے اتنی سنگدلی سے معصوم و بے گھروں کتوں کو اس طرح اذیت دے کر مارا ہوگا۔پنجاب کے حکمران اور ڈی سیز کی اکثریت زندہ فرعون بنے ہوئے ہیں، حقیقی خدا کو بھول کر خود کو زمینی خدا ڈکلئیر کرچکے ہیں۔ قرآن میں جتنی دفعہ بھی کتے کا ذکر ہوا مثبت انداز میں ہوا، اصحاب کہف کے واقع میں بھی کتے کی وفادری کی وجہ سے اسے جنت کی بشارت دی گئی۔
    فتح مکہ کے موقع پر رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک کتیا اپنے بچوں کودودھ پلارہی تھی، اللہ کے نبیﷺ نے لشکر کو راستہ بدلنے کا حکم دیا اورصحابی جعیل بن سراقہ کو کتیا اور اس کی بچوں کی حفاظت پر متعین فرمایا کہ دس ہزار کا لشکر گزرتے وقت ان کو نقصان نہ پہنچے۔

    ہمارے نبی تو رحمت العالمین ہیں اور انکا حکم ہے کہ جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرو ان کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کریں۔ کیا حکمران اور ضلعی انتظامیہ اللہ کی بے آواز لاٹھی چلنے اور اس کا عذاب آنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فرعونوں کے حال سے سبق نہیں سیکھا؟ ماضی میں کتنے ہی ظالم حکمران و افسران ذہنی مسائل کا شکار ہوکر لاوارثوں کے طرح ہسپتالوں میں مرے تو بہت ساروں نے خودکشیاں کیں جبکہ بے شمار کو اولاد کا دکھ ملا۔ بے سہارا ور بے زبانوں پر ظلم کا بدلہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ہر صورت ملتا ہے۔

    پنجاب اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 قوانین کے مطابق بے گھر کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پالیسی بنائی گئی تھی برتھ کنٹرول کیلئے نیوٹرلائز کیا جائے گا۔ ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔ کتوں کو ویکسینیشن اور رجسٹرڈ کرکے ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے گا برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر لوکل گورنمنٹ، لائیوسٹاک اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟ ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟ڈیٹا اینالسز نکال کر دیکھ لیں قیام پاکستان سے لیکر اب تک کتا کاٹنے کے اتنے کیسز نہیں ہیں جتنے کتا مارمہم سے لیکر اب تک سامنے آئے ہیں،

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے۔ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔

    عدلیہ سے سوال ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں کہ آپ کے حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ سرعام کتوں کو مار رہی ہے، فرعونیت کی اخیر ہے کہ مساجد میں اعلانات کے زریعے شہریوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پالتو کتوں کو گھروں میں بند رکھو ورنہ ضلعی انتظامیہ زہر دے کر مار دے گی۔ کورٹ آرڈر کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں آپ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔

    جناب فیلڈ مارشل آپکی بدولت جس پاکستان کو آج دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں وطن عزیز پاکستان کو بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔ کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو،

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران بے شمار شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے، اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں اور جانبحق بچوں کے ورثاء کو ڈرا دھماکر چپ کروایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ اور زہر سے زخمی ہونے والے شہریوں کی ہلاکتوں او زخمیوں کا ذمہ دار کون؟
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول میں چھت گرنے سے چار معصوم بچے شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ بعض زخمی بچوں کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہر حساس دل کو لہولہان کر دیا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے دعاؤں کے حصار میں اسکول روانہ کرتی ہیں مگر جب واپسی کفن میں لپٹے چہروں کے ساتھ ہو تو یہ صرف ایک خبر نہیں رہتی بلکہ قیامت بن جاتی ہے۔ یہ اس ماں کا نوحہ ہے جس کی گود دس برس بعد ہری ہوئی تھی مگر چند لمحوں کی غفلت نے اس کی دنیا اجاڑ دی۔ کسی گھر میں معمولی سا پلستر بھی اکھڑ جائے تو اہلِ خانہ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں پھر ایک ایسی عمارت، جہاں روزانہ سینکڑوں بچے موجود ہوں، اس کی خستہ حالی اسکول انتظامیہ کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ کیا فیسیں صرف عمارتوں کی زیبائش، اشتہارات اور نام نہاد معیار کے لیے وصول کی جاتی ہیں؟ کیا بچوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میرے شوہرِ محترم کا ڈرائیونگ لائسنس بننا تھا۔ ان سے مختلف ٹیسٹ لیے گئے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ گاڑی چلانے کے اہل ہیں تب جا کر لائسنس جاری کیا گیا افسوس کہ سینکڑوں بچوں کے مستقبل اور جانیں جن اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، ان کے لیے نہ کوئی مؤثر جانچ کا نظام ہے نہ حفاظتی معائنوں کی پابندی، اور نہ ہی کسی غفلت پر فوری احتساب اربابِ اختیار کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے۔ ایسی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو اسکولوں کی عمارتوں، چھتوں، بجلی کے نظام، ہنگامی راستوں اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کریں۔ ہر اسکول کے لیے “سیفٹی سرٹیفکیٹ” لازم قرار دیا جائے، اور جو ادارے حفاظتی اصول پورے نہ کریں، انہیں فوری طور پر بند کر دیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں سال میں کم از کم دو مرتبہ حفاظتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچوں اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں، بلکہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو کل کسی اور ماں کی گود اجڑے گی کسی اور باپ کا سہارا چھن جائے گا اور پھر یہی سوال فضا میں گونجے گا:
    “میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”

  • کیا پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    کیا پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں خاموش ہلچل: کیا بڑی تبدیلی کی تیاری ہو رہی ہے؟

    افواہیں یا حقیقت؟ صدر زرداری، عدم اعتماد اور سیاسی گٹھ جوڑ پر بڑا سوال

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاکستان کے سیاسی افق پر ایک بار پھر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں مختلف چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ کیا ملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی متوقع ہے؟ مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم، صدر آصف علی زرداری کی ناراضی یا ممکنہ استعفیٰ، اور پاکستان پیپلز پارٹی و تحریک انصاف کے درمیان مبینہ سیاسی رابطوں کی خبریں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تاہم اگر زمینی حقائق کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو ابھی تک ایسی کسی بڑی پیش رفت کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے نہ کوئی باضابطہ مسودہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی واضح اعلان ہوا ہے۔ زیادہ تر باتیں سیاسی قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے بھی یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ وہ بعض معاملات پر ناخوش ہیں، مگر ان کے استعفے یا ہٹائے جانے کی باتیں فی الحال محض سیاسی افواہیں محسوس ہوتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کی اہم اتحادی ہے اور اس کے بغیر حکومتی سیاسی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ جہاں تک وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا تعلق ہے تو یہ صرف سیاسی خواہش یا افواہوں سے ممکن نہیں۔اس کے لیے پارلیمانی نمبرز، مضبوط سیاسی ہم آہنگی اور بڑی سطح پر سیاسی مفاہمت درکار ہوتی ہے۔

    پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان ماضی کی تلخیاں اور سیاسی اختلافات کو دیکھتے ہوئے فوری گٹھ جوڑ آسان دکھائی نہیں دیتا، اگرچہ سیاست میں کسی امکان کو مکمل رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت ضرور بڑھا ہوا ہے، اتحادیوں میں اختلافات بھی موجود ہیں، لیکن فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی، حکومتی الٹ پھیر یا صدر کے استعفے کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ صرف سیاسی افواہیں تھیں یا واقعی تبدیلی کی کوئی خاموش تیاری جاری ہے۔

  • بُنیانٌ مَّرصُوص،تحریر: نور فاطمہ

    بُنیانٌ مَّرصُوص،تحریر: نور فاطمہ

    بُنیانٌ مَّرصُوص سے بنیادی طور پر وہ کلمہ ہے جو قرآن پاک کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

    إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ [61:4]
    ترجمہ:-
    "اللہ کو تو پسند ہیں وہ لوگ، جو اس کی راہ میں اس طرح صف بند ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں”

    آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص :-
    آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص، پاکستانی فوج کی طرف سے 2025 کے ہندوستان- پاکستان حملوں کے دوران 10 مئی 2025 کو ہندوستانی فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کے لیے دیا گیا نام ہے۔ یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازعے کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے ہندوستانی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب” کے طور پر تیار کیا تھا۔

    آپریشن سندور :-
    مئی 2025 کو ہندوستان نے تین پاکستانی ہوائی اڈوں، نور خان، مرید اور شورکوٹ کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس کا آغاز 7 مئی 2025 کو ہوا۔ بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنہیں آپریشن سندور کا نام دیا گیا۔

    بھارت نے یہ دعویٰ کیا کہ 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی۔ جس میں 28 شہری، جن میں اکثر سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایک موقع بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات، بالآخر 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسلسل کشیدگی کا باعث بنی۔

    بھارت کے مطابق ان کے میزائل حملوں کا ہدف جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے عسکریت پسند گروہ تھے اور کسی پاکستانی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    پاکستان کے مطابق بھارتی حملوں نے شہری علاقوں بشمول مساجد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 31 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہندوستان نے اپنی بری نیت کے ساتھ میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ جس میں نور خان، مرید اور شورکوٹ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے”۔

    اس حملے کے بعد اسلام آباد نے 33 ہلاکتوں کی اطلاع دی اور جوابی کارروائی کا عہد کیا۔ متوازی سرحد پار گولہ باری اور ڈرون حملوں نے 9 مئی تک دونوں اطراف میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور ڈرون حملے شروع ہو گئے۔

    آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص :-
    پاکستان نے 10 مئی کو باضابطہ طور پر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جسے آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص کا نام دیا گیا اور اس میں بھارت کی متعدد عسکری تنصیبات نشانہ بنایا گیا۔ 10 مئی 2025 کو تقریباً 03:45 پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق، پاکستان نے فتح – II بیلسٹک میزائل اور مسلح ڈرونوں کے ساتھ آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص کا اعلان کیا۔

    ان حملوں میں پٹھان کوٹ اور ادھم پور ہوائی اڈوں، آدم پور ایئر فورس اسٹیشن جہاں مبینہ طور پر ایس-400 بیٹری کو تباہ کیا گیا، بیاس اور ناگروٹا میں برہموس ڈپو اور اڑی اور راجوری میں بریگیڈ کی سہولیات پر پاک فضائیہ کی طرف سے حملے کیے گئے۔

    جالندھر میں آدم پور-400 یونٹ پر مبینہ طور پر پاک فضائیہ کے جے ایف-17 لڑاکا طیاروں نے ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کیے تھے، ان حملوں کا مقصد ہندوستان کے جدید ترین فضائی دفاعی ساز و سامان میں سے ایک کو بے اثر کرنا تھا۔

    پاکستان سائبر یونٹ نے دعوہ کیا کہ انھوں نے ہندوستان کے شمالی پاور گرڈ کے حصوں کو غیر فعال کر دیا ہے اور متعدد سرکاری ویب سائٹوں کو ہیک کر لیا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے مشترکہ بیان کے مطابق ہندوستانی پاور گرڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ہندوستانی حکام نے متعدد اڈوں پر "تیز رفتار میزائل حملوں” کا اعتراف کیا لیکن کہا آنے والے زیادہ تر گولہ بارود کو روک لیا گیا، جس سے زمین پر "محدود نقصان” ہوا۔ بھارتی افواج نے یہ بھی کہا کہ ایس-400 کی بیٹری کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ پر بھی تک کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔ تاہم ہندوستانی دعوؤں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    دونوں ممالک میں سول ایوی ایشن ریگولیٹرز نے فضائی حدود کے کئی حصے بند کر دیے۔ پاکستان کی پابندی 10 مئی سے اگلے دن دوپہر تک جاری رہی، جبکہ ہندوستان نے بتیس شمالی ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کر دیں۔

    بجلی کی بندش نے ہندوستانی پنجاب کو متاثر کیا اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے جموں و کشمیر کے کچھ حصوں کو متاثر کیا۔ 10 مئی کی سہ پہر تک 48 اموات کی اطلاع ملی۔ یہ تنازع دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان پہلا ڈرون معرکہ ثابت ہوا۔

    بھارت حکومت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے امریکا سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے کہا کہ بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی اور پاکستان نے نہیں کی۔ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی شرط پاکستان کی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بند کرنائے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے جنگ بندی کے بعد فتح کا دعویٰ کیا۔

    پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی فتح کا دعویٰ کیا اور ایک تقریر میں کہا کہ ” ہم جیت گئے ہیں ”

    پاکستان
    زندہ باد

  • آپریشن بنیان المرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں ،تحریر :مدثر رتو

    آپریشن بنیان المرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں ،تحریر :مدثر رتو

    قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ قومی شعور، اجتماعی حوصلے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لمحات میں آپریشن بنیان المرصوص کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آپریشن صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ جب وطن کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان کی مسلح افواج فولاد کی دیوار بن کر سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال قربانیوں کی روشن علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
    “بنیان المرصوص” عربی زبان کا ایک بامعنی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار”۔ اس نام میں خود ایک پیغام پوشیدہ ہے کہ جب دشمن وطنِ عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو پوری قوم اور اس کے محافظ ایک ایسی متحد قوت بن جاتے ہیں جسے کمزور کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ نام ہمارے اجتماعی اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
    پاکستان کی سرزمین کو قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تہذیبی گہرائی اور غیر معمولی وسائل سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف اوقات میں دشمن قوتوں نے اس کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کبھی سرحدوں پر جارحیت ہوئی، کبھی اندرونی انتشار کو ہوا دی گئی، اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے قومی زندگی کو مفلوج کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ ان نازک حالات میں پاک فوج نے ہمیشہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمت، بصیرت، قربانی اور عوامی اعتماد سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
    آپریشن بنیان المرصوص بھی ایسے ہی ایک مرحلے میں سامنے آیا جب دشمن عناصر ملک کے امن کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ حالات نہایت حساس تھے۔ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ خوف، انتشار اور بے یقینی کے ذریعے پاکستان کے قومی حوصلے کو توڑا جا سکتا ہے۔ مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ پاکستانی قوم کے دل میں وطن کی محبت اور اس کے محافظوں کے لیے اعتماد غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔ چنانچہ پاک فوج نے منظم حکمتِ عملی، بروقت منصوبہ بندی اور جدید عسکری مہارت کے ساتھ ایسی کارروائی کی جس نے دشمن کے منصوبے خاک میں ملا دیے۔
    اس آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی صرف عسکری برتری نہیں بلکہ اس کی باریک منصوبہ بندی تھی۔ پاک فوج نے دشمن کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور حکمتِ عملی کا گہرا تجزیہ کیا۔ انٹیلی جنس اداروں کی بروقت معلومات، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مضبوط نظام اور زمینی حقائق سے مکمل آگاہی نے کارروائی کو انتہائی مؤثر بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قومی مفادات کا بھرپور تحفظ ممکن ہوا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی افواج جدید جنگی تقاضوں، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ذمہ داری کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔
    پاک فوج کی تاریخ کامیابیوں، قربانیوں اور عزیمت سے بھری ہوئی ہے۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے یہ سمجھا کہ پاکستان کو دبایا جا سکتا ہے تو پاکستانی سپاہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ 1971 کے کٹھن حالات، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، قبائلی علاقوں میں امن کے قیام اور داخلی سلامتی کے لیے کیے گئے بے شمار آپریشنز اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پاکستان کی فوج نے ہر دور میں قوم کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیاں اسی تسلسل کی روشن مثالیں ہیں جنہوں نے ملک میں امن کی نئی بنیاد رکھی۔

    آپریشن بنیان المرصوص کی ایک اہم جہت یہ بھی ہے کہ اس نے قوم کے دلوں میں نئی امید پیدا کی۔ جب کوئی سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو دراصل پورا ملک سکون کی نیند سوتا ہے۔ جب کوئی جوان اپنے خاندان، آرام اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر وطن کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ایک پورے معاشرے کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ یہی احساس پاکستانی عوام کو اپنی فوج کے ساتھ مضبوط رشتہ عطا کرتا ہے۔ یہ رشتہ صرف ادارے اور عوام کا نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا رشتہ ہے۔
    اس آپریشن نے نوجوان نسل کو بھی ایک واضح پیغام دیا کہ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امانت اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ قوموں کی اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں بلکہ ان کے نوجوانوں کا کردار، ان کی فکر اور ان کا عزم ہوتا ہے۔ جب نوجوان اپنے وطن سے محبت کریں، قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں، اور اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیں تو دشمن کی ہر سازش کمزور پڑ جاتی ہ
    یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاک فوج کی کامیابیوں کے پیچھے شہداء کا وہ مقدس لہو شامل ہے جس نے اس سرزمین کو تحفظ دیا۔ کتنے ہی جوان ایسے ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قومی پرچم میں لپٹا ہوا دیکھا، کتنی ہی بہنوں اور بچوں نے جدائی کے دکھ سہے۔ مگر ان قربانیوں نے قوم کے سر کو فخر سے بلند کیا۔ شہداء ہمارے قومی وقار کا روشن باب ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی۔

    آج جب ہم آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قومی سلامتی صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ امانت ہے۔ استاد اپنے قلم سے، مزدور اپنی محنت سے، صحافی اپنی ذمہ داری سے، اور نوجوان اپنے کردار سے وطن کے استحکام میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب پوری قوم متحد ہو جائے تو پاکستان ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپریشن بنیان المرصوص ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ پاک فوج ہمارے قومی وقار، آزادی اور سلامتی کی مضبوط علامت ہے۔ اس کے جوانوں کی جاگتی آنکھوں نے ہمارے خوابوں کو تحفظ دیا ہے۔ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، اپنے شہداء پر ناز ہے اور اپنے وطن سے محبت ہمارا ایمان ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کو مضبوط، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جائے گا۔

  • ہم  بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ.
    ترجمہ: اللہ یقیناً ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ (سورۃ الصف، آیت 4)

    "بنیان مرصوص” کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ قرآنی اصطلاح ایک ایسی مضبوط، متحد اور منظم جماعت کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کے درمیان کوئی دراڑ نہ ہو۔

    بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر کے آپریشن کا نام "سندور” رکھا۔ جواب میں پاکستان نے دن کی روشنی میں 10 مئی 2025ء کو "آپریشن بنیان مرصوص” شروع کیا۔ ٹوئٹر پر دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر امریکہ و یورپ سے پاکستان کو روکنے کی اپیلیں کر رہا تھا، ہر طرف ان کی تباہی جاری تھی۔

    > ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکون
    > نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوتِ للکار نہیں

    آپریشن بنیان مرصوص پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025ء کو بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ایک بڑا جوابی فوجی آپریشن تھا۔ "سیسہ پلائی دیوار” کے معنی رکھنے والا یہ آپریشن 22 اپریل سے 10 مئی 2025ء تک جاری رہنے والی کارروائیوں کا تسلسل تھا۔

    حافظ، نمازی سپہ سالار نے حملے کا وقت بھی سنت کے مطابق صبح سویرے کا چنا۔ اللہ کے نبی ﷺ کی یہی ادا ہوتی تھی حملے کے وقت۔

    اس معرکے میں چیف آف آرمی اسٹاف کی حکمتِ عملی دور اندیشی، برق رفتاری اور مربوط منصوبہ بندی کا مظہر رہی۔ مضبوط انٹیلیجنس، فضائی نگرانی اور سائبر صلاحیتوں کو یکجا کر کے ایسا نظام بنایا گیا جس نے دشمن کی پیش قدمی کو ابتدا ہی میں روک دیا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت پاک فوج نے زمین، فضا اور سائبر محاذ پر بیک وقت جارحانہ اور مؤثر کارروائیاں کیں جنہوں نے دشمن کے اہم ٹھکانوں اور رابطہ نظام کو مفلوج کر دیا۔ جوانوں کی جرات، درست نشانہ بازی اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہر محاذ پر برتری قائم رکھی۔ اس بھرپور جواب نے واضح کر دیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر جارحیت کا جواب فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

    بنیان مرصوص صرف ایک آپریشن نہیں، یہ ایمان والوں کی وہ للکار ہے جو اب قرآنی آیات کی زبان میں گونجے گی۔ آرمی چیف نے تلاوتِ کلام کے بعد دعا کی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے تحت بھارت پر میزائل حملے شروع کیے گئے۔ "بنیان مرصوص” کا مطلب ‘سیسہ پلائی آہنی دیوار’ ہے۔

    پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کی ادھم پور، پٹھان کوٹ ایئربیس اور براہموس اسٹوریج تباہ ہو چکی ہیں جبکہ سائبر اٹیک کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈ ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔

    یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازع کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے بھارتی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب” کے طور پر تیار کیا تھا۔

    > زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    > جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    پاکستان کے شاہین الحمدللہ اس صدی کے وہ زندہ جاوید مجاہد ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

    > میرے دوستوں کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
    > وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا

    دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن میری نمبر ون بدلہ نہیں چھوڑتی، یہ اس کی فطرت میں ہے۔

    > کھلبلی سی مچ گئی ہے کفر کے ایوان میں
    > جان دیکھو آ گئی ہے مومنوں کی جان میں
    > معرکہ ہرگز نہ تھا یہ صرف پاک و ہند کا
    > کفر تھا سارے کا سارا سامنے میدان میں

    مودی نے متکبر اور پرغرور لہجے میں کہا تھا "پاکستان ہم نے توڑا، مکتی باہنی ہم نے بنائی!”
    یقیناً مودی اور پورے بھارت کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ بدلے کا میدان کس کونے میں سجتا ہے۔

    یہ معرکہ صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے دلوں میں جلتی ہوئی ایک ایسی آگ تھی جس نے ہر پاکستانی کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ اس آزمائش کی گھڑی میں قوم کا جذبہ، ماؤں کی دعائیں، بہنوں کے ڈھول، عوام کی محبت اور فوج کے جوانوں کا شوقِ شہادت ایک ایسا باب بن گئے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھے گی۔

    > عزم تھا اور جوش بھی ہاں ولولہ اور ہوش بھی
    > تھا شہادت کا جنوں افواجِ پاکستان میں

    جب بھی وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو سب سے پہلے ماؤں کی دعائیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔ اس معرکے میں بھی پاکستان کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا۔ کسی ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما، کسی نے قرآن سر پر رکھا، کسی نے آنسو چھپاتے ہوئے مسکرا کر کہا: بیٹا! سرحد پر جانا، مگر سر جھکنے نہ دینا۔ یہ دعائیں ہی تھیں جو ہمارے جوانوں کے حوصلے کو فولاد بناتی رہیں۔

    دوسری طرف بہنوں کا جذبہ بھی کسی سے کم نہ تھا۔ گلیوں اور محلوں میں جب جوان رخصت ہوتے تو بہنیں ڈھول کی تھاپ پر ان کی ہمت بڑھاتیں۔ یہ ڈھول کی آواز دراصل قوم کے اعتماد کی آواز تھی جو سپاہیوں کے دلوں میں گونجتی رہی کہ وہ اکیلے نہیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    فوج کے جوانوں کا جوش اور شوقِ شہادت اس معرکے کی اصل طاقت تھا۔ جب کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے تو وہ صرف ایک انسان نہیں رہتا بلکہ ایک عہد بن جاتا ہے۔ ان جوانوں نے ثابت کیا کہ وطن کی محبت ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

    عام عوام نے بھی اس معرکے میں اپنی محبت اور تعاون سے مثال قائم کی۔ کوئی اپنے سپاہیوں کے لیے دعائیں کر رہا تھا، کوئی ان کے لیے کھانا اور امداد بھیج رہا تھا، کوئی سوشل میڈیا پر حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ ہر جگہ ایک ہی آواز تھی: ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔

    اس معرکے نے ثابت کر دیا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبوں سے جیتی ہیں۔ جب ایک طرف جوان سرحد پر کھڑے ہوں اور دوسری طرف پوری قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن جائے تو پھر کوئی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔

    کسی بھی قوم کے لیے اس کی فوج سر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب سر سلامت ہو تو پورا وجود محفوظ رہتا ہے۔ ہماری فوج بھی اسی طرح وطن کی عزت، وقار اور سلامتی کی علامت ہے۔ جب سپاہی سرحدوں پر جاگتے ہیں تو شہروں میں چراغ بے خوف جلتے ہیں، بچے سکون سے سوتے ہیں اور مائیں اطمینان کی سانس لیتی ہیں۔ عوام کو یقین ہوتا ہے کہ ہمارے محافظ بیدار ہیں، اس لیے ہمارا کل محفوظ ہے۔ یہی اعتماد قوم کی طاقت بنتا ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو فوج اور عوام کو ایک مضبوط دیوار کی طرح جوڑ دیتا ہے۔

    یہ لمحے، یہ قربانیاں اور یہ جذبے وقت کے ساتھ مٹنے والے نہیں۔ آنے والی نسلیں جب تاریخ پڑھیں گی تو انہیں بتایا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوری قوم ایک دل، ایک آواز اور ایک پرچم کے نیچے کھڑی ہو گئی تھی۔

    > روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں
    > ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں
    > آگے بڑھنا ہے تو رستہ ہے شہادت والا
    > جہاں دستار نہیں جاتی، ہے سر جاتے ہیں

    _پاک فوج پائندہ باد
    پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    وطن عزیز پاکستان اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز و محور ہے۔ہمارے ملک کی قومی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد اور یک جہتی کی بدولت ایک سال کے اندر پاکستان کو وہ اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل حاصل نہیں تھا۔پاکستان "معرکہء حق” میں دنیا کے سامنے اپنی حکمت عملی ، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری طاقت کے جوہر دکھا چکا ہے ۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی سرکار نے انتہا پسند ” ہندوتوا” کےزیر اثر ،اپنے تئیں ریاست پاکستان کو غافل سمجھ کر حملہ کردیا ،شہری آبادیوں میں ڈرون بھیجے گئے اور لڑائی کا ماحول بنادیا۔ بھارت کا دفاعی بجٹ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن پھر بھی پاکستان اپنے دشمن کے خلاف چوکنا تھا چنانچہ ساری قوم سبز ہلالی پرچم تلے متحد ، یک جان ہوکر ” بنیان مرصوص ” ( سیسہ پلائی دیوار) بن گئی ۔شہریوں نے بھی اپنے ہتھیار نکالے اور فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر حملہ آور ڈرون گرانے لگے۔ پاک فورسز نے بھارت کا 400-S دفاعی نظام بھی اڑا کے رکھ دیا ۔ دشمن کے سات طیارے مار گراۓ بلکہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے اندر جاکے گجرات اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا۔پاکستانی سوشل میڈیا واریئرز اور لکھاریوں نے اپنے قلم اور کی بورڈز کے ساتھ دفاع پاکستان کے بیانیے کی جنگ لڑی اور اپنی حب الوطنی ، دلیری و مضبوط مؤقف کو دنیا کے سامنے ثابت بھی کر دکھایا،آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں نے سائبر فورس کے طور پر مورچہ سنبھالا اور بھارت کے سائبر سسٹم کو ہیک کرلیا۔ جب فرانس سے خریدے گئے طیاروں رافیل کو پاکستانی پائلٹوں نے بفضلِ الہی مار گرایا تو پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، پاکستانی پائلٹوں کو ” کنگز آف دا سکائیز ” کا لقب دیا گیااور بھارتی وزیراعظم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کرکے جنگ رکوانا پڑی۔

    بھارت کے ” آپریشن سیندور” کو پاکستان کے ” معرکہء حق” نے ” آپریشن تندور” میں بدل دیا ۔ بھارت کو یہ شکست ہضم کرنا مشکل ہوگئی کیوں کہ پوری دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے جب بیان دیا کہ دریاؤں میں پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے تو ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت جواب دیا کہ اگر تم ہمارا پانی بند کروگے تو ہم تمہارا سانس بند کردیں گے!۔ مؤثر حکمت عملی سےعالمی سطح پر پاکستان کا نہ صرف وقار بلند ہوا ہے بلکہ دیگر ممالک پاکستان سے جنگ سیکھنے کی درخواست کر رہے ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر وزراء کے ساتھ مسلمان برادر ممالک کے کئی دورے کیے ہیں ،سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا دفاعی معاہدہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ” محافظ _حرمین شریفین” کے اعلی مقام کے لئے چن لیا ہے۔

    ‏ بھارتی وزیراعظم مودی کا بیان ہے کہ آپریشن سندور بند نہیں ہوا ۔ممکنہ طور پر وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں ہے ۔بھارتی جنگ تین اقسام کی ہوسکتی ہے
    1: نفسیاتی و اعصابی جنگ، سفارتی سطح پر لابنگ یا پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن وغیرہ-
    2: دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے قومی اداروں، فوج اور عوام پر حملے ،دھماکے یا خودکش حملے کروانا-
    3: غلط خبروں ، فیک پروپیگنڈہ اور کردار کشی کی میڈیا وار کے ذریعے بحران برپا کرنا-
    ان حالات میں پاکستانی عوام کو دشمن کی پراکسیز سے ہوشیار رہنے ،حالات حاضرہ سے باخبر رہنے اور اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی برقرار کی ضرورت ہے۔ سنی سنائی باتوں ،افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈہ سے اپنا دامن بچانا ہوگا تاکہ بے خبری میں کسی اپنے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔

    آج سے 78 برس قبل ہمارے آباؤ اجداد نے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے کتنے دریا عبور کئے اور پھر کہیں جا کر وہ اس قابل ہوۓ کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ،اپنے بچوں کو آزاد فضا اور زمین دلا سکیں -ہم نے اپنے رب سے مانگا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین عطا کر جہاں ہم اپنے دین اور اپنے تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں اور رب نے ہمیں وہ خطہ عطا کردیا !

    الحمدللہ،وطن عزیز پاکستان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تحفۂ خاص ہے بہترین زرخیز زمین ،بہترین آب و ہوا،بہترین موسم ،بہترین انسانی وسائل ،بہترین سمندری بندرگاہیں،بلند ترین پہاڑی چوٹیاں ،ہیرے جواہرات اور معدنی ذخائر سے مالا مال پہاڑ ۔اللہ نے ہم پہ اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں ، کمی اگر ہے تو ہماری کوششوں میں ہے کہ ہم نے اپنے وطن کو جس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا ،اس مقصد کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مقصد وطن عزیز پاکستان کو ایک "جدید اسلامی فلاحی ریاست” بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ عدالتیں اپنے فیصلے قرآن وسنت کے مطابق کریں۔ جہاں غریب طبقہ بھی خوش حال ہوسکے ۔جہاں امن وامان قائم ہو ،جہاں کسی کمزور کو کسی طاقت ور سے خطرہ لاحق نہ ہو ۔جہاں معاشرہ خدا خوفی اور انسانی ہمدردی کی اقدار پر چلتا ہو۔جہاں بچوں اور جوانوں کے لئے تعلیم کا حصول ممکن ہو ،جہاں بزرگوں کو سینئیر سیٹیزن وظیفہ ملتا ہو اور انھیں پنشن گھر بیٹھے مل جایا کرے۔ ہسپتالوں میں ہر عام وخاص کو علاج معالجہ کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔یہ تاریخ ساز لمحات ہیں کہ چند سال قبل تک ہمیں ایک ناکام ریاست سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ وطن دنیا بھر کی آنکھ کا تارا بن چکا ہے۔ "پاکستان کو امن کے سفیر” کے طور پر سراہا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا امیج برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کی حالتِ زار پر بھی توجہ دی جائے ،مہنگائی ختم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں،آئی ایم ایف سے قرضے معاف کروائے جائیں ۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز ہمیشہ سلامت رہے اور عالم_اسلام کے دکھوں کا مداوا بھی کرسکے۔آمین۔

    ~ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے!

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    تمہید: ازل کی پکار اور الٰہی انتخاب
    کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بکھر جانا فنا ہے اور جڑ جانا زندگی ہے۔ خالقِ کائنات نے جب شعورِ انسانی کی بنیاد رکھی، تو اسے ‘ اجتماعیت ‘ کے نور سے منور کیا۔ ” بنیانِ مرصوص ۔یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں مادہ فنا ہو جاتا ہے اور مقصد زندہ رہتا ہے۔ یہ وہ آہنی دیوار ہے جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب حق و باطل کا معرکہ برپا ہو، جب طوفانِ بلا خیز صفوں کو درہم برہم کرنے نکلے، اور جب دشمن کی نگاہیں دراڑوں کی تلاش میں ہوں، تب قدرت پکار کر کہتی ہے:

    بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہیں۔(سورۃ الصف: 4)

    لغوی و اصطلاحی تشریح
    لفظ بنیان بنا سے نکلا ہے جس کے معنی عمارت کے ہیں، اور مرصوص کا مادہ ‘ رصص ہے، جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی چیز یا ایسی چیز جسے جوڑ کر ایک جان کر دیا گیا ہو۔ عربی زبان میں اس اصطلاح کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی دیوار کی اینٹوں کے درمیان پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا جائے تاکہ وہ ایک ٹھوس چٹان بن جائے۔ یہ اصطلاح ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کا دوسرے مومن کے ساتھ تعلق محض سماجی نہیں بلکہ ساختاری (Structural) ہے۔ جس طرح ایک بلند و بالا عمارت اپنی مضبوطی کے لیے ہر ہر اینٹ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بھی ہر فرد کے اخلاص اور ایثار سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی اینٹ اپنی جگہ سے ہٹی یا اس نے کمزوری دکھائی، تو پوری دیوار کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

    تاریخی تناظر: جب دیواریں سربلند تھیں
    تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے خود کو "بنیانِ مرصوص” کے سانچے میں ڈھالا، تو وقت کے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے۔ مواخاتِ مدینہ کی صورت میں جو دیوار کھڑی کی گئی، اس نے ثابت کر دیا کہ خون کے رشتوں سے زیادہ طاقتور ‘عقیدے کا رشتہ’ ہوتا ہے۔ وہ انصار اور مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اپنی انا، اپنی جائیداد اور اپنے قبیلے کی دیواریں گرا کر ایک ایسی آہنی فصیل تیار کی جس کے سائے میں اسلام کا پودا ایک تناور درخت بنا۔

    غزوہ خندق ‘بنیانِ مرصوص’ کی ایک عظیم الشان عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ جب دس ہزار کا لشکرِ کفار مدینہ کے محاصرے کے لیے پہنچا، تو مسلمان تعداد میں کم اور وسائل میں پیچھے تھے، مگر ان کے درمیان جو فکری اور جسمانی اتحاد تھا، اس نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہما نے بھوک اور سردی کی شدت کے باوجود، خندق کھودتے وقت جس یگانگت کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مثال ہے۔ وہاں کوئی سردار تھا نہ کوئی غلام، بلکہ سب ایک ہی مقصد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ خود اس دیوار کی سب سے مضبوط اینٹ بن کر اپنے دستِ مبارک سے پتھر توڑ رہے تھے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ثابت کیا کہ جب ارادے جواں ہوں اور صفیں متحد ہوں، تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔

    بقولِ حکیم الامت علامہ اقبال
    > فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
    > موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    موجودہ دور کا کرب اور فکری انتشار
    آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معرکہِ حق و باطل اپنے عروج پر ہے۔ غزہ کی پکار ہو یا کشمیر کی سسکیاں، ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ "وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ ۔افسوس کہ ہم نے دیوار کی مضبوطی کے بجائے اینٹوں کے رنگ اور نسل پر بحث شروع کر دی۔ ہمیں کبھی قومیت کے نام پر بانٹا جاتا ہے، کبھی لسانی بنیادوں پر دست و گریبان کیا جاتا ہے اور کبھی فرقہ واریت کی آگ میں جھونکا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کو ہمارے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری صفوں میں بدگمانی کے بیج بوئے جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ صرف باہر سے نہیں پڑتی، بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس آہنی دیوار کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے رکھی تھی۔ دشمن اب براہِ راست حملوں کے بجائے ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ہم بنیانِ مرصوص کیوں ہیں؟
    ہم بنیانِ مرصوص اس لیے ہیں کیونکہ ہمارا کلمہ ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہمارا غم ایک ہے۔ ہماری قوت کا سرچشمہ وہ ایمان ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو قوت بخشتا ہے۔

    ہمیں آج پھر سے وہی عزم دہرانا ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی دراڑ نہیں ہوگی، ہماری آواز میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا، اور ہمارا عمل صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوگا۔ اقبال نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
    > بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
    > نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

    عملِ پیہم اور انفرادی ذمہ داری
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ ‘بنیانِ مرصوص’ کیسے بن سکتے ہیں؟ اس کا آغاز کسی بڑے اجتماع سے نہیں بلکہ ہر فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر وہ ایماندار ہے، اگر وہ بااخلاق ہے، اور اگر وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو وہ دیوار مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مساجد اور اپنے گھروں میں نفرت کے بجائے محبت کا درس دینا ہوگا۔ ہمیں وہ سیمنٹ فراہم کرنا ہے جو دلوں کو جوڑ دے۔ جب تک ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری سماجیات قرآن کے اس اصول کے تابع نہیں ہوں گی، ہم محض ایک ہجوم رہیں گے، قوم نہیں بن سکیں گے۔

    اختتام: فتح کا یقین اور عزمِ صمیم
    "ہم بنیانِ مرصوص ہیں .یہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے اس باطل کے خلاف جو ہماری صفوں میں انتشار دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ عہد ہے اس ظلم کے خلاف جو ہمیں تنہا پا کر کچلنا چاہتا ہے۔ معرکہِ حق میں وہی سرخرو ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔

    آئیے! آج ہم عہد کریں کہ ہم وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں گے جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون پاش پاش ہو جائیں گے۔ ہم وہ فصیل بنیں گے جو انسانیت کی محافظ ہو، جو مظلوم کی پناہ گاہ ہو اور جو باطل کے لیے قہرِ الٰہی ہو۔ اگر ہم ایک ہو گئے، تو پھر زمین و آسمان کی کوئی طاقت ہمیں نیچا نہیں دکھا سکتی۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری جیت ہے، ہمارا پیار ہی ہمارا ہتھیار ہے، اور ہماری یگانگت ہی وہ بنیانِ مرصوص ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے۔

    فتح ہمارا مقدر ہے، کیونکہ ہم حق پر ہیں، اور ہم متحد ہیں-
    *ہم بنیانِ مرصوص تھے، ہم بنیانِ مرصوص ہیں، اور ان شاء اللہ، ہم بنیانِ مرصوص رہیں گے ۔

    اللہ آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

  • بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    سن 2095 کا زمانہ تھا۔ زمین پر ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چکی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا تھا انسانوں کے درمیان دوریاں۔ لوگ اب ایک دوسرے سے ملنے کے بجائے مشینوں پر زیادہ انحصار کرنے لگے تھے۔

    شہر “نیورا” اس جدید دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر تھا۔ یہاں ہر کام روبوٹس کرتے تھے، اور انسان صرف اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر اسکرینوں کے ذریعے زندگی گزارتے تھے۔ باہر کی دنیا میں سناٹا تھا، اور انسانوں کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
    اسی شہر میں ایک 16 سالہ لڑکی، عائشہ، رہتی تھی۔ وہ باقی لوگوں سے مختلف تھی۔ اسے پرانی کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا، خاص طور پر وہ کہانیاں جن میں لوگ مل کر کام کرتے تھے، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
    ایک دن اسے اپنے دادا کی پرانی ڈائری ملی۔ اس میں ایک لفظ بار بار لکھا تھا:
    “بنیانِ مرصوص”
    عائشہ نے حیرت سے سوچا، “یہ کیا ہے؟”
    ڈائری کے ایک صفحے پر لکھا تھا:
    “جب انسان ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، تو وہ ایسی مضبوط دیوار بن جاتے ہیں جسے کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی۔”
    یہ پڑھ کر عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی خواہش پیدا ہوئی کیا آج کے زمانے میں بھی ایسا ممکن ہے؟
    اسی دوران ایک خطرناک خبر پھیلی۔ شہر کے مرکزی سسٹم، جسے “نیوراکور” کہا جاتا تھا، میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ سسٹم پورے شہر کی بجلی، پانی، اور سیکیورٹی کو کنٹرول کرتا تھا۔
    اگر یہ مکمل طور پر بند ہو جاتا، تو شہر میں تباہی پھیل سکتی تھی۔
    حکومت نے روبوٹس کو مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا، مگر یہ خرابی بہت پیچیدہ تھی۔ روبوٹس بار بار ناکام ہو رہے تھے۔
    لوگ اپنے کمروں میں بیٹھے گھبرا رہے تھے، مگر کوئی باہر نکلنے کو تیار نہ تھا۔
    عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ کرے گی۔ وہ شہر کے کنٹرول سینٹر پہنچی، جہاں چند لوگ پریشان کھڑے تھے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔
    عائشہ نے بلند آواز میں کہا،
    “ہم سب مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں!”
    ایک آدمی ہنسا،
    “یہ کام مشینیں نہیں کر پا رہیں، ہم کیا کریں گے؟”
    عائشہ نے جواب دیا،
    “مشینوں میں دل نہیں ہوتا، وہ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکتیں۔ مگر ہم انسان ہیں، اگر ہم اکٹھے ہو جائیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں!”
    اس کی بات سن کر چند لوگ رک گئے۔ ایک انجینئر آگے بڑھا اور بولا،
    “میں سسٹم کو سمجھ سکتا ہوں، مگر مجھے مدد چاہیے ہوگی۔”
    پھر ایک اور لڑکی بولی،
    “میں کوڈنگ جانتی ہوں، میں بھی مدد کر سکتی ہوں۔”
    آہستہ آہستہ لوگ شامل ہونے لگے۔
    کنٹرول سینٹر میں پہلی بار انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ کوئی ڈیٹا چیک کر رہا تھا، کوئی وائرنگ ٹھیک کر رہا تھا، کوئی پلان بنا رہا تھا۔

    شروع میں مشکلات آئیں۔ لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے، کبھی غلطیاں ہوتیں، مگر اب وہ رکنے والے نہیں تھے۔
    عائشہ نے سب کو یاد دلایا،
    “ہمیں بنیانِ مرصوص بننا ہے ایک مضبوط دیوار!”
    یہ الفاظ سب کے دلوں میں ہمت پیدا کرتے۔
    گھنٹوں کی محنت کے بعد انہیں مسئلے کی جڑ مل گئی۔ سسٹم کے ایک حصے میں ایسا وائرس داخل ہو گیا تھا جو روبوٹس کو الجھا رہا تھا۔
    اب سب نے مل کر ایک نیا حل تیار کیا۔ انجینئر نے سسٹم کھولا، کوڈر نے وائرس کو ختم کیا، اور باقی لوگوں نے سپورٹ دی۔
    آخرکار ایک لمحہ آیا جب سب نے سانس روک لی…
    اور پھر سسٹم دوبارہ چل پڑا۔
    پورے شہر میں روشنی پھیل گئی۔ بجلی بحال ہو گئی، پانی کا نظام درست ہو گیا، اور خطرہ ٹل گیا۔

    لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی، مگر اس بار یہ خوشی مختلف تھی۔ یہ صرف کامیابی کی خوشی نہیں تھی، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی خوشی تھی۔
    ایک بوڑھے آدمی نے کہا،
    “ہم نے سالوں بعد آج ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہے… اور ہم کامیاب ہو گئے!”
    عائشہ مسکرائی اور بولی،
    “کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص بن گئے تھے۔”
    اس واقعے کے بعد شہر “نیورا” بدل گیا۔ لوگ اب صرف مشینوں پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے، بات کرتے، اور مل کر کام کرتے۔
    شہر میں دوبارہ زندگی آ گئی تھی۔
    عائشہ نے اپنے دادا کی ڈائری بند کی اور آسمان کی طرف دیکھا۔
    “آپ ٹھیک کہتے تھے… اصل طاقت اتحاد میں ہے۔”
    چاہے زمانہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، انسان کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، تو وہ بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں—ایک ایسی مضبوط قوت جسے کوئی مشکل شکست نہیں دے سکتی۔